Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 28)

Tere Liye by Ayat Fatima

پانچ ماہ بعد ۔۔۔۔

مہروش آج صبح اٹھی تھی تو آویز شاہ آفیس جا چکا تھا۔

اُس نے اٹھ کر روحان کو تیار کیا کیونکہ بہرام کی کال آئی تھی وہ روحان کو لینے اس رہا ہے۔

اُسے تیار کر کے اُس کا بیگ پیک کیا پھر اُسے بہرام کے ساتھ حویلی بھیج کر خود لاؤنج میں بیٹھی سب سے باتیں کرتی رہی۔

دوپہر کے ڈھائی بجے وہ کھانا کھا کر روم میں آئی تھی۔

اُس نے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے تاکہ شاور لے سکے۔

ابھی وہ کچھ کرتی کہ اچانک اُس کے پیٹ میں درد کی ٹیس اٹھی تھی۔

اُس کا ساتواں مہینہ ختم ہونے کو تھا اس لیے مہروش نے اس بات کو نورمل لیا اور واشروم کی طرف بڑھی۔

وہ شاور لے کر ائی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں کو برش کیا۔

پھر وہ بیڈ کی طرف ائی خ کچھ دیر آرام کر لے مگر ایک دفاع پھر اُس کے پیٹ میں شدید قسم کا درد اٹھا تھا۔

اس دفعہ تکلیف اُس کے لیے نہ قابل برداشت ہوئی وہ ہمت کرنے کے باوجود بھی پیٹ کو سختی سے پکڑتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔

“آہ۔۔۔ماما”

وہ بلند آواز میں چلائی تھی تاکہ کوئی اُس تک آ سکے۔

اب درد کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو رہی تھی۔

“سوہا۔۔۔آپی”

وہ بمشکل آنکھیں کھولتی دوبارہ چیخی۔

سوہا جو اپنے کمرے میں موجود تھی اُس کی چیخ پر اپنے بیٹے کبیر کو بیڈ پر لٹاتی تیزی سے اُس کے کمرے تک ائی۔

اُس نے جیسے ہے دروازہ کھولا سامنے بید کے پاس وہ پیٹ کو جکڑے لیٹی تھی۔

سوہا تقریباً بھاگ کے اُس تک آئی۔

“کیا ہوا مہروش۔۔۔اٹھی میری جان بیڈ پر بیٹھو”

وہ اُسے سہارا دینے کی کوشش کرنے لگی مگر اُس سے مہروش کو اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔

“تم ۔۔تک آنکھیں کھلی رکھنا میں ماما لوگوں کو بلا کر لاتے ہوں”

وہ اُس کی گال تھپتھپا کر کہتی بھاگ کر نیچے گئی تھی۔

جب وہ واپس ائی تو اُس کے پیچھے ہی گھبرائی ہوئیں ندہ اور رابعہ شاہ بھی اندر ائی تھیں۔

اُس کی حالت دیکھ کر دونوں کو فکرمندی ہوئی کیونکہ ابھی ڈیلیوری کے ٹائم میں تو دو مہینے رہتے تھے۔

“مہروش۔۔میری بچی اٹھو اوپر لیٹو”

ندہ بیگم محبت سے اُس کا بازو تھام کے بولیں تو رابعہ بیگم اور سوہا نے بھی اُسے سہارا دیا۔

آخر وہ تینوں تھوڑی مشقت کے بعد اُسے بیڈ پر لٹا چکی تھیں جس کی چیخیں عروج پر تھیں۔

“سوہا فوراً آویز کو فون کرو اسے ہسپتال لے چلیں”

رابعہ بیگم کی بات پر سوہا تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تاکہ اپنے سیل سے آویز کو کال کر سکے۔

پندرہ منٹ میں ہی وہ ریش ڈرائیونگ کرتا حویلی پہنچا تھا۔

وہ سیدھا اپنے روم میں آیا تو مہروش کی حالت دیکھ کر اُس کا دل تھم گیا۔

مگر وہ آویز شاہ تھا خود کو قابو کرنا اچھے سا آتا تھا اسے۔

وہ اس تک آیا جو اسے دیکھ کر مزید زور زور سے چیخنے لگی تھی۔

آویز نے ایک پل کی بھی تاخیر کیے بغیر اُسے بازووں میں بھرا اور نیچے کی جانب بڑھا۔

اُس کے پیچھے ندہ اور رابعہ بیگم بھی گئی تھیں۔

آویز نے اُسے پچھلی سیٹ پر لٹایا تو ندہ شاہ اُس کا سر گود میں رکھتی بیٹھ گئیں۔

رابعہ شاہ کے بیٹھتے ہی آویز نے گاڑی دوڑائی تھی۔

اُسے فوری طور پر ایمرجیسنی میں لے جایا گیا تھا۔

وہ تینوں اب باہر کھڑے اُس کی خیریت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے باہر آ کر آویز کو اپنے کیبن میں بلایا تو وہ اُن کی طرف آیا۔

“ان کی حالت بہت کریٹیکل ہے۔۔۔ہم وجہ نہیں سمجھ پا رہے مگر ہمیں آج یہ کچھ ہی دنوں میں آپ کی وائف کا ابورشن کرنا ہو گا۔۔ادر وائز ڈیلیوری کے ٹائم ان کی جان کو خطرہ ہے”

ڈاکٹر سنجیدگی سے بولیں تو آویز نے تکلیف سے آنکھیں بند کر کے کھولی تھیں۔

یہ اُس کے لیے شدید مشکل مرحلہ تھا ایک طرف جان سے بڑھ کر پیاری بیوی دوسری طرف اپنی محبت کی نشانی اپنی اولاد اپنا خون۔۔۔

لیکن وہ جانتا تھا اگر اللہ نے چاہا تو یہ نعمت اُسے دوبارہ بھی مل جائے گی مگر وہ مہروش کی جان کا کوئی رسک نہیں کے سکتا تھا۔

وہ ایک منٹ میں ہی اپنے دل و دماغ کو ایک فیصلے پر آمادہ کر چکا تھا۔

“ابارشن زیادہ سے زیادہ کتنے دنوں بعد ہونا ہو گا”

اُس کے سوال پر ڈاکٹر کو تسلی ہوئی تھی اُنہیں اُس کا فیصلہ بہترین لگا۔

“بمشکل ہی دس دن اس سے زیادہ ٹائم ممکن نہیں”

وہ پروفیشنل لہجے میں بولیں تو آویز سر ہلا کر اٹھا۔

“اب انہیں گھر لیے کے جا سکتے ہیں”

اُس نے آہستہ سی آواز میں پوچھا تو ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔

“جی بلکل۔۔۔اُن کا ٹریٹمنٹ کر دیا ہے وہ نورمل ہیں اب آپ انہیں لے جائیں اور کچھ میڈیسن لکھ دیں ہیں میں نے وہ لے لیجئے گا”

ڈاکٹر کی بات پر وہ باہر آیا تھا۔

“کیا ہوا۔۔کیا کہا ڈاکٹر نے”

رابعہ بیگم کے سوال پر اُس نے کرب سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔

“ابارشن کروانا ہو گا اس کا نہیں تو اس کی جان جا سکتی ہے”

وہ اذیت سے بولا تو دونوں ہی تڑپ اٹھی تھیں۔

لیکن وہ اُس کی پریشانی کا خیال کرتے اُسے تسلی دینے لگیں تاکہ وہ مزید پریشان مت ہو۔

“بیٹا سب اللہ کی مرضی ہے جب اُس کی مرضی ہو گی دوبارہ وہ تم دونوں کو اپنی نعمت عطا کے دے گا”

رابعہ شاہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتیں بولیں تو اُس نے سر ہلایا۔

“آپ لوگ گاڑی میں جا کر بیٹھیں میں مہروش کو لے کر آتا ہوں”

وہ کہتا ہوا ایک روم کی طرف بڑھ گیا کیونکہ اُسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔

آویز نظریں چراتا ہوا اُس کے قریب آیا جو سنجیدہ سی لیٹی تھی۔

جبکہ چہرہ جو آج کل بے حد دمک رہا تھا اب وہ بلکل مدھم پڑ چکا تھا۔

آویز اُس کے پاس چیئر گھسیٹ کر بیٹھا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔

اُسے پاس محسوس کر کے مہروش نے فوراً نظریں اس کی طرف کی تھیں۔

“کیا۔۔کہا۔۔ڈاکڑ نے”

وہ آنسو ایک ہاتھ سے صاف کرتی بولی تو آویز نے ہونٹ بھینچ لیے وہ اسے کیسے بتاتا کہ اُس پر کیا قیامت آ چکی ہے۔

وہ تو اُسے خوش دیکھ کے بہت خوش تھا ان دنوں۔

مہروش نے تو خوشی کے مارے بچے کی ساری شاپنگ بھی کر لی تھی۔

آویز نے ذہن جھٹک کر اُسے دیکھا جو اس کے جواب کی منتضر تھی۔

“بلکل ٹھیک ہو تم کوئی سیریس پروبلم نہیں ہے”

آویز نے آہستہ آواز میں اُس سے جھوٹ بولا تھا۔

وہ اُسے تکلیف میں ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

“اور۔۔ہمارا۔۔بے بی ؟؟”

وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی دھڑکتے دل سے بولی تو آویز کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔

“ہمارا بے بی بھی ٹھیک ہے۔۔۔اور اب ہم لوگ حویلی چل رہے ہیں”

آویز بات بدلتے اٹھ کھڑا بس اور دوبارہ اُسے بانہوں میں بھر لیا۔

“کیا۔۔کر۔رہے ہیں۔۔۔میں چل۔۔سکتی۔ہوں”

وہ شرماتی ہوئی بولی تو آویز نے بجھے دل سے بمشکل اُسے گھورا تو وہ بھی مسکرا کے چہرہ اس کیا سینے میں چھپا گئی۔

وہ باہر ائے تو ندہ اور رابعہ بیگم پیچھے بیٹھ چکی تھیں اویس نے اُسے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔

“کیسی طبیعت ہے میری بیٹی کی”

رابعہ شاہ کے سوال پر اُس نے مسکرا کر چہرہ پیچھے موڑا۔

“بلکل ٹھیک ہوں۔۔پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اچانک”

وہ نرمی سے بولی تو آویز نے اُس پر ایک نظر ڈالی۔

“مہر سیدھی ہو کر بیٹھو”

وہ فکرمندی سے بولا تو وہ بھی سر ہلاتے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ حویلی ائے تو آویز اُسے روم میں لایا اب سب اُس کے پاس موجود تھیں تو وہ خود باہر نکلا۔

اس میں سیل نکال کے بہرام کا نمبر ڈائل کیا۔

پھر اُسے سارا معاملہ بتایا تو وہ بھی بے ہے دکھی اور پریشان ہوا تھا۔

آویز نے اُن سب کو بھی اپنی حویلی آنے کا کہا تاکہ شائستہ بیگم ہی مہروش کو ہے سب بتائیں۔

آویز کو یقین تھا کہ وہ ماں تھیں اُسے سمبھال سکتی تھیں۔

بہرام نے کہا تھا وہ سب فوراً آ رہے ہیں۔

آویز سیل کان سے ہٹاتا دوبارہ روم میں آیا جہاں وہ اب ریلیکس سی بیٹھی سب سے باتیں کر رہی تھی۔

آویز کا دل یہ سوچ کے ہی رک سا گیا تھا کہ اس خبر کے بعد اُس کی کیا حالت ہو گی۔

آویز نے آ کر میڈیسن نکال کر اسے پکڑآئیں اور پانی کی بوتل اُسے دی۔

مہروش نے برا سا منہ بنایا مگر پھر مجبوراً اُسے میڈیسن لینی پڑی۔

“امی بہرام لوگ اس رہے ہیں آپ لنچ پر خاص احتمام کیجئے گا”

آویز نے رابعہ بیگم سے کہا تو وہ مسکرائیں۔

“چلو اچھی بات ہے مہروش کا دل بہل جائے گا سب سے مل کر۔۔۔میں ابھی جا کر سب کچھ بنواتی ہوں لنچ کے لئے۔ تم اپنے بابا اور میر کو بھی بتا دو”

وہ کہتی ہوئی اٹھیں تو پیچھے سوہا اور ندہ بیگم بھی اٹھ کر باہر کی جانب بڑھیں۔

آویز اپنی شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھولتا مہروش کی گود میں سر رکھتا لیٹا۔

تو اُس نے مسکرا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کیں۔

“آپ نے بتایا ماما لوگوں کو میری طبیعت کا”

اُس نے سادہ سے لہجے میں پوچھا تو آویز نے سر ہلایا۔

“مہر ایک بات پوچھوں تم سے”

آویز بوجھل سے لہجے میں بولا تو مہروش نے سر ہلایا۔

“اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت تم سے یہ بے بی چھین لیا جائے تو تم کیا کرو گی”

آویز نے بہت ازیت سے یہ سوال پوچھا۔

“پہلی بات کوئی مجھ سے میرا بے بی نہیں چھین سکتا اور آویز اگر کبھی کسی نے مجھ سے میرا بچہ چھینا تو یقیناً میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی مر جاؤں گی۔۔۔”

وہ شدت پسندی سے بولی تو آویز نے آنکھیں سختی سے میچ لی تھیں۔

“لیکن آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟”

وہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تو آویز نے سر نفی میں ہلایا۔

“کچھ نہیں بس ایسے ہی”

وہ آہستہ سے کہتا اٹھ بیٹھ۔

“کہاں جا رہے ہیں”

وہ حیرت سے بولی تو آویز شاہ نے اُسے دیکھا۔

“شاور لینے جا رہا ہوں تم ریسٹ کرو”

“میں کپڑے نکال دیتی ہوں”

وہ کہتے ہوئے اٹھنے لگی تو آویز نے اسے گھورا۔

“مہر آرام کرو چندہ تمہاری طبیعت خراب ہو جاۓ گی”

وہ محبت سے کہتا اٹھا تو مہروش خاموشی سے واپس لیٹ گئی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان پانچ مہینوں میں ان سب کی زندگیوں میں بہت سے تبدیلیاں ائی تھیں۔

پلوشے کی یونی ختم ہونے میں اب صرف پندرہ دن رہ گئے تھے۔

پھر اُسے ماہر کے آفیس ہی بزنس کرنا تھا۔

وہ تو اُس واقعی کے بعد یونی ہرگز نہیں جانا چاہتی تھی مگر اب نے منا بجھا کے اُسے بھیج ہی دیا تھا۔

بہرام نے اُس کے لیے ایک خاص گارڈ ارینج کیا تھا جو یونی میں بھی اُس کا خیال رکھتا۔

البتہ ماہر نے اس بات پر اختلاف کیا تھا کہ کسی غیر مرد کا یوں اُس کے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں مگر پھر وہ بھی خاموش ہو گیا۔

سیرت کے دن بہرام کی قربت و محبت میں بے پناہ حسین گزر رہے تھے۔

مگر آج کل جانے کیوں وہ ابھی تک پریگنینٹ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان سی رہنے لگی تھی۔

اُس نے بہرام سے بھی اپنی پریشانی ڈسکس کی تاکہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائے مگر بہرام نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا تھا۔

کہ جب اللہ نے چاہا یہ بھی ہو جائے گا۔

مرحا کا پانچواں مہینہ چل رہا تھا وہ کافی بھری بھری سی ہو گئی تھی۔

ارمان تو اب اُسے موٹو بلانے لگا تھا جس پر مرحا شدید چڑتی تھی۔

اُس پر ممتا کا روپ حد سے بڑھ کر آیا تھا۔

وہ بلکل گلابی سی گڑیا بن چکی تھی سب گھر والے اُسے دیکھ کر ماشاللہ کہنا نہیں بھولتے تھے تاکہ اُسے نظر نہ لگ جائے۔

ارمان کی محبت دن به دن اُس کے لیے بڑھتی ہی جا رہی تھی۔

سوہا کا اسے مہینے آپریٹ ہوا تھا اور اللہ نے اُسے اور میر کو کبیر کی صورت میں اپنی نعمت سے نوازا تھا۔

کبیر بھی روحان کی طرح بے حد پیارا بچا تھا۔

روحان ابھی بھی بہرام اور پلوشے کے بہت قریب تھا مہروش جائے نہ جائے وہ ڈیلی اُن کی حویلی جاتا تھا۔

اُس نے اب سیرت اور مرحا سے بھی دوستی کر لی تھی مگر باپ کی طرح ارمان اُسے بھی کچھ خاص نہیں بھاتا تھا۔

دوسری طرف ارمان کا بھی یہی حال تھا وہ مرحا کو بھی روحان سے دور رہنے کہا کہتا مگر وہ اُس کی سنتی کہاں تھی۔

حالانکہ ارمان کی بے گناہی ثابت ہو چکی تھی کیونکہ بہرام نے عبید خان کے آگے شرط رکھی تھی قبول کرو گے تو تم بغیر کسی کاروائی کے جیل سے نکال دیئے جاؤ گے۔

تو عبید خان کو تھی بات ٹھیک لگی تھی اُس نے آویز کے سامنے اس بات پر رضامندی دی تو آویز نے اُسے بھون کر رکھ دیا تھا۔

مہروش کو تو سب پہلے ہی پتہ تھا۔

کہ یہ سب اُس کے لالا نے نہیں کیا مگر پھر بھی آویز نے اُسے بتا کر اپنی غلطی کی معافی مانگی تو مہروش نے اسی معافی مانگنے سے منع کر دیا۔

وہ دونوں ہی اپنے رشتے کو قائم رکھنا چاہتے تھے تو کے کو کوئی مسلہ نہیں تھا جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔۔۔۔

اب تقریباً اب کچھ ہی ٹھیک چل رہا تھا مگر اچانک مہروش کی حالات نے سب کے سانس سکھا دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *