Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 08)

Tere Liye by Ayat Fatima

مرحا کو بیٹھے کچھ ہی وقت ہوا تھا جب ملازمہ ایک ٹرے تھامے اُس تک ائی۔

“بی بی جی یہ ارمان صاب کا ناشتہ”

وہ بولی تو نہ چار اسے اٹھنا ہی پڑا۔ اس نے ٹرے ملازمہ سے لی اور گہری سانس بھرتی سيڑيھوں کی جانب بڑھی۔

وہ ارمان کے روم میں داخل ہوئی تو وہ صوفے پر بیٹھا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔

مرحا نے دیکھا موقع اچھا ہے تو اس نے جلدی سے ناشتہ اُس کے سامنے پڑی ٹیبل پر رکھ دیا۔

ابھی وہ واپس جانے ہی والی تھی کے اُس کا ہاتھ کسی کی مضبوط گرفت میں آیا۔

اُس کا سانس گویا سینے میں ہی اٹک گیا تھا۔

وہ آہستہ سے پلٹی اور ارمان کی طرف دیکھا۔

ارمان نے اُسے آنکھوں سے ہی پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔

وہ بھی خاموشی سے چلتی صوفے پر اُس کے پاس ہی آ بیٹھی۔

مرحا نے نظریں اٹھا کے ارمان کے چہرے کو دیکھا جو سنجیدگی سے بات کرنے میں مگن تھا۔

“ہمم۔۔۔جیسے ہی ٹائم ملتا ہے میں آتا ہوں تمھارے پاس۔۔۔ہاں یار تم جلد سے جلد کچھ کرو میں بس اس جھنجھٹ سے جان چھڑانا چاہتا ہوں”

وہ بہت بے زاری سے بولا تھا۔

“ہاں بلکل۔۔۔خیر تم سے بعد میں بات ہو گی خدا حافظ”

اُس نے بات ختم کرتے ہی فون سائڈ پر رکھا اور اُس کی طرف دیکھا تھا۔

مرحا اُس کی گہری نظریں خود پر پا کر لب چباتی ہوئی آنکھیں جھکا گئی۔

“محبت کرتی ہو مجھ سے ؟”

ارمان کے ڈائریکٹ سوال پر اُس نے آہستہ سے نظریں اٹھا کر اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔

اُسے حیرت ہوئی تھی ارمان کے اس سوال پر۔

جانتی تھی اگر وہ نہ کہتی تو بھی ارمان خانزادہ نے اُسے بد کردار کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے محبت نہیں کرتی اس کا مطلب کسی غیر مرد سے کرتی ہو گی۔

وہیں دوسری طرف وہ ہاں کہتی تو بھی ارمان نے اسے ہی بد کردار کہنا تھا کہ وہ کسی مرد کو شادی سے پہلے دل میں کیوں رکھتی ہے۔

مگر مجبور تھی کوئی جواب تو دینا ہی تھا۔

اُس نے ارمان کو دیکھا جو مضطرب سا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

مرحا نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔

پھر ارمان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اُس کے لیے تمسخر کا تاثر نمایاں تھا۔

“جو بھی میں کہوں وہ کر سکتی ہو ؟”

وہ پھر سے بولا تو مرحا نے حیرت سے اُسے دیکھا پتہ وہ اس سے کیا کروانا چاہ رہا تھا۔

“جی میں کر سکتی ہوں”

وہ دھیمی سی آواز میں بولی تو ارمان نے سر ہلایا۔

“تم مہروش سے اپنا تعلق ختم کر لو”

ارمان نے سنجيدگی سے کہا تو مرحا نے چونک کر اُسے دیکھا۔

“ار۔۔مان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔میں کیوں کروں ایسا ۔۔ وہ میری بہت اچھی دوست ہے”

وہ لڑکھڑاتی ہوئی بولی تو اچانک ارمان کی آنکھوں میں خون اُترا تھا۔

ارمان نے اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سختی سے اپنے قریب کیا اور اُس کی انکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ دیں۔

اُس کی اس حرکت پر مرحا کا دل دھک دھک کرنے لگا تھا اُسکی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں جھکا گئی تھی۔

جبکہ جسم ہولے ہولے کپکپا رہا تھا۔

“تم ایسا اس لیے کرو گی کیوںکہ میں، تمہارا شوہر اُس سے اپنا رشتہ ختم کر چکا ہوں تو تم بھی اُس سے کوئی تعلق نہیں رکھو گی بات ختم”

وہ اُس کے چہرے کے بلکل قریب اپنا چہرہ کیے اٹل لہجے میں بولا تو مرحا نے بمشکل نظریں اٹھا کے اِسے دیکھا تھا۔

“ارمان آپ۔۔آپ کی بہن ہے وہ۔۔۔ آپ کا غُصہ وقتی ہے کچھ دنوں تک ہی اتر جائے گا ایسے میں۔۔۔میں کیسے تعلق ختم کر لوں اُس سے”

وہ بہت مشکل سے ہمت کرتی بولی تھی۔۔۔۔

“یہی محبت تھی تمہاری ؟”

ارمان طنزیہ نظروں سے اُسے دیکھتا بولا تھا۔

اُس کی بات پر مرحا کے دل کو کچھ ہوا۔

وہ اُس کی محبت اور شک کر رہا تھا اور وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی۔

“نہیں ارمان میں سچ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن”

“محبت میں یہ لیکن ویکین کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ لوگ تو محبوب پر جان وار دیتے ہیں تم صرف ایک لڑکی کو نہیں چھوڑ پا رہی”

ارمان اُس کی بات درمیان نے ہے کاٹتا افسوس سے بولا تو مرحا نے نظریں جھکا لیں۔

وہ جان بوجھ کر اُسے اُموشنل بلیک میل کر رہا تھا۔

“ٹھیک ہے۔۔۔ جب تک آپ خود نہیں کہیں گے میں مہروش سے بات نہیں کروں گی”

وہ ہار مانتی بولی تھی۔

اُس کی بات پر ارمان ہلکا سا مسکرایا۔

اچانک ہی ارمان نے اُسے نرمی سے خود سے لگایا تو وہ حیران ہوئی تھی۔

یہ اُس کی زندگی میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ ارمان خانزادہ نے اُسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

دونوں کے دل ہی ایک دوسرے کی قربت میں زور زور سے دھڑک رہے تھے۔

دو منٹ بعد ارمان کو اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا تو آرام سے اُسے علیحدہ کیا۔

“آپ۔۔۔آپ کا ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے آپ ناشتہ کر لیں۔۔میں چلتی ہوں”

وہ جلدی سے کہتی ہوئی باہر نکلی تو وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

اُس کے روم سے نکلتے ہی مرحا نے گہرے گہرے سانس بھرے تھے۔

اُس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا ہو ہی نہیں رہی تھی دل بھی جیسے سرشار ہو گیا تھا۔

وہ جانتی تھی جب ارمان کا غصّہ ٹھنڈا ہو گا تو وہ مہروش سے بھی ٹھیک ہو جائے گا۔

اسی لیے اسے اس بات کی ٹینشن ہرگز نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہروش کو ابھی ڈاکٹر ڈرپ لگا کر گیا تھا۔۔۔

ارمان کے جاتے ہی وہ سخت بخار میں تپنے لگی تھی۔

پھر آویز شاہ اُسے روم میں لایا تھا اور ڈاکٹر کو بلایا۔

ڈاکٹر نے کہا تھا ٹینشن کی وجہ سے اسے بخار ہو گیا ہے تو اب اسے پریشانیوں سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔

سب ہی اُس کے کمرے میں موجود تھے روحان اُس کے بلکل پاس اُس کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا۔

“بیٹا کیا پریشانی لی ہے آپ نے”

نورین شاہ فکرمندی سے اُسے دیکھتی ہوئے بولیں۔

اُس نے نم انکھوں سے ایک نظر آویز شاہ کو دیکھا تھا اور پھر اُن کی جانب متوجہ ہوئی۔

“کچھ نہیں آنٹی بس ایسے ہی۔۔۔۔”

اُس سے کوئی بات نہیں بن رہی تھی اس لیے خاموش ہو گئی۔

“مہروش اب احتیاط رکھنا بچے کوئ پریشانی ہوتی ہے تو آویز سے شیئر کیا کرو یوں دماغ پر سوار کرو گی تو بیمار پڑ جاؤ گی”

رابعہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم کر محبت سے کہا تو اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔

“جی آنٹی”

وہ دھیمی سی آواز میں بولی۔

اُن سب نے بھی زیادہ کریدنا مناسب نہیں سمجھا اور اُسے پیار کرتے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

سوہا روحان کو بھی ساتھ لے گئی تھی کیونکہ میر آفیس تھا تو وہ اکیلی روم میں بے زار ہو گئی تھی۔

اُن کے جاتے ہی آویز شاہ اُس کے پاس آ بیٹھا تھا۔

“لالا نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ آویز ۔۔۔ مم۔۔میں کیا کروں ؟ سب نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ سب نے۔۔۔ میں کیسے زندہ رہوں گی “

وہ آویز کے کندھے پر سے رکھتی رو پڑی تھی۔

آج اُسے اپنا آپ بہت اکیلا محسوس ہو رہا تھا۔

کون تھا اس کا اپنا ؟

کیا اُس کی قربانی کم تھی جو وہ لوگ ابھی بھی اُس سے خوش نہیں تھے۔۔۔

“مہروش میں ہوں ناں تمھارے پاس میری جان۔ اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے تمھیں کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں ہے جہاں تک اس ارمان خانزادہ کی بات ہے تو اسے بھول جاؤ تم وہ اگر تم سے تعلق ختم کر چکا ہے تو تمہیں بھی اُس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے”

آویز نے محبت سے اُس کے گرد باہیں پھیلا کر اُسے سمجھایا تھا۔

“آپ۔۔۔ آپ مجھے حویلی لے جائیں نا میں سب کو منا لوں گی۔۔مجھ۔۔۔مجھ سے اب اُن سب کے بغیر نہیں رہا جا رہا آویز مجھے لگتا ہے میرا سانس رک جائے گا”

وہ پھر سے روتی ہوئی بولی تو آویز نے اُسے خود سے الگ کیا اور اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا۔

“مہروش میں چاہوں گا تم میرے سامنے اُن سب میں سے کسی کا ذکر بھی مت کرو۔۔۔میں نفرت کرتا ہوں تمہاری فیملی سے شدید نفرت”

آویز شاہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا۔

“آویز پلیز صرف ایک دفعہ ملوا دیں۔۔۔پھر میں آپ کو کبھی ۔۔۔۔۔ تنگ نہیں کروں گی پلیز آویز میری آخری بات۔۔۔مان لیں”

وہ گڑگڑاتی ہوئی بولی تو آویز نے تڑپ کے اُس کی آنکھوں پر لب رکھے۔

“مہر ضد مت کرو۔۔۔طبیعت خراب ہو رہی ہے تمہاری میڈیسن لے کر سو جاؤ”

آویز آہستہ سے اٹھتا اُس کی میڈیسن نکالنے لگا تھا۔

جبکہ وہ اب نم انکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ جانتی تھی وہ اس کی بات کبھی نہیں مانے گا اس لیے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

آویز نے قریب آ کر اسے میڈیسن پکڑائیں تو اُس نے خاموشی سے کے لیں پانی پینے کے بعد وہ آرام سے بیڈ اور لیٹ گئی تھی۔

آویز نے لائٹ آف کی اور خود بھی اس کے پاس لیٹا۔

نرمی سے اُسے قریب کر کے اُس کا سے اپنے بازو پر رکھا تو وہ ضبط کھوتی اُس کی گردن میں چہرہ چھپائے رونے لگی۔

آویز نے اُس کی حالت سمجھتے ہوئے اُسے رونے دیا تھا۔

وہ ساتھ ساتھ اُس کی کمر بھی تھپتھپاتا رہا تھا۔

“بس مہروش۔۔۔بس کرو میری جان”

وہ اُسے تکیے پر لٹاتا خود اُس اور جھکا تھا۔

وہ اُس کے اتنے قریب تھا کے دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے لبوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

آویز شاہ سے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔

اُس نے جھک کر نرمی سے اُس کی آنکھوں کو چوما۔

اُس کے لمس میں اتنی نرمی اور سکون تھا کہ مہروش اپنے غم بھول کر اُس کے لمس میں کھو گئی تھی۔

آویز نے دونوں ہاتھ اُس کے گرد رکھے تھے۔

وہ اُس کی آنکھوں سے ہٹتا اُس کی ٹھوڑی پر لب رکھ چکا تھا۔

مہروش سے تو سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔

اُس کی ہلکی ہلکی بیئرڈ کے بال مہروش کی تھوڑی پر چبھن کا باعث بن رہے تھے۔

ابھی مہروش اسے رکنے کا کہتی ہی کہ اچانک آویز شاہ نے اُس کے گلاب جیسے ہونٹ اپنے عنابی لبوں میں لیے۔

وہ شدت سے اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا۔

مہروش کی سانسیں رک سی گئیں تو اُس نے زور زور سے آویز شاہ کی پیٹھ پر مکے مارے۔

مگر آویز اُس کے ہونٹوں کی نرمی اور مٹھاس میں اس طرح مدہوش ہو چکا تھا کہ اس نازک جان کی مزاحمت اُس پر کوئی اثر ہی نہیں کر رہی تھی۔

جب کافی کوشش کے بعد بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا تو مہروش کو اپنی موت بلکل قریب نظر آئی۔

جب آویز کو اُس کا وجود بلکل ساکت ہوتا محسوس ہوا تو وہ نرمی سے اُس سے علیحدہ ہوا تھا۔

وہ سینے پر ہاتھ رکھتی لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی مگر اُسے سانس نہیں آ رہا تھا۔

اچانک اُس نے آویز شاہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے خود پر جھکایا تھا۔

اُس کے لب اپنے لبوں سے جوڑتے وہ تیزی سے اُس کی سانسیں خود میں انڈيلنے لگی تھی۔

اُس کی اس حرکت پر آویز تو دل سے سرشار ہو اٹھا۔

جب مہروش کی سانسیں بحال ہوئیں تو اُس نے سرتکیے پر گرایا تھا۔

“آ۔۔۔آپ بہت۔۔گندے۔۔ہیں آویز۔۔۔۔کوئی ایسے ۔۔۔بھی۔۔کرتا۔ہے۔۔۔۔ابھی ۔۔ میں۔۔مر۔۔جاتی۔تو”

وہ اکھڑتی سانسوں کے بیچ شکوہ کرتی ہوئی بولی تھی۔

“اچھا میں گندہ ہوں اور جو تم نے ابھی کیا ہے کیا وہ ٹھیک تھا”

آویز شاہ ایک آنکھ دبا کر شرارت سے بولا گی مہروش نے اسے پیچھے دھکا دیا۔

“مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ سے۔۔۔کتنے ٹھرکی ہیں آپ”

وہ غصے سے بولی تو آویز شاہ کا قہقہہ فضا گونجا تھا۔

“بات کرنی ہے یا نہیں وہ بعد میں دیکھیں گے ابھی تو تم کل رات کا انتظار کرو میڈم”

آویز نے اُسے یاد کروایا تو مہروش کا چہرہ بھاپ چھوڑنے لگا تھا۔

وہ جلدی سے کمبل خود پر ڈالتی آنکھیں موند گئی تو آویز مسکراتا ہوا اٹھ کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت خانزادہ ہاؤس میں سب ہی لاؤنج میں موجود تھے سوائے ارمان خانزادہ کے وہ ابھی تک گھر ہی نہیں آیا تھا۔

ابھی وہ سب ڈنر کر کے چائے پی رہے تھے۔

لڑکیاں ایک طرف بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔

مرد حضرات کاروبار کی ڈسکشن میں مصروف تھے، نورین اور شائستہ بیگم اپنی باتیں کر رہی تھیں۔

تبھی ازمیر خانزادہ کا فون بجا تو انھوں نے يس کر کے کان سے لگایا۔

“چاچو آ رہے ہیں فیملی کے ساتھ”

وہ فون رکھ کر شائستہ بیگم کی طرف دیکھتے بولے تو وہ سر ہلاتی کچن کی طرف گئیں تاکہ چائے وغیرہ کا انتظام کروا لیں۔

“اس وقت کیوں اس رہے ہیں کوئی خاص بات ہے کیا”

زبیر خانزادہ ازمیر صاحب کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے بولے۔

“بتایا نہیں کچھ بس اتنا کہا کہ ہم سب آ رہے ہیں”

وہ لا علمی سے بولے تھے۔

دس منٹ بعد ہی وہ سب پہنچ گئے تھے۔

سب لوگ لاؤنج میں ہی جمع تھے۔

ملازم چائے وغیرہ رکھ کر جا چکے تھے۔

بہرام اور ماہر ساتھ ہی بیٹھے تھے۔

“دیکھا میرا کمال “

ماہر مسکراتا ہوا آہستہ آواز میں بولا تھا جبکہ نظریں تھوڑی دور بیٹھی پلوشے پر تھیں۔

“ہمم۔۔تو تو بڑا تیز نکلا۔ ابھی تک جو کام میں بھی نہیں کر سکا تو نے کچھ دنوں میں ہی کر دکھایا”

بہرام اُس سے متاثر ہوا تھا شاید۔

“بس اب تیری فیملی نکاح کے لیے مان جائے۔۔۔مزہ تو تب ہے نا”

ماہر خانزادہ پریشانی سے بولا تھا۔

نظریں ابھی بھی اُس نازک سے لڑکی پر تھیں جو اب خود پر نظروں کی تپش پاتی پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔

اُس کی حرکت پر جہاں ماہر مسکرایا وہیں بہرام میں اسے گھورا تھا۔

“تجھے شرم نہیں آ رہی میرے سامنے میری بہن کو یوں بے ہودگی سے تاڑتے ہوئے”

بہرام غصے سے بولا تو ماہر نے منہ بنا کر نظریں پھیری تھیں۔

“ایسے دوست ہوں تو قسم سے دشمن کی ضرورت ہی نہیں”

ماہر ناراضگی سے بولا تو بہرام نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“نکاح کے بعد چاہے جیسے بھی دیکھنا لیکن ابھی خود پر قابو رکھو “

بہرام سنجیدگی سے بولا تو ماہر نے اسے دیکھا ۔

“اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔جو سیرت کے بازو تک پکڑ لیتے ہو، بچی بیچاری کتنا ڈر جاتی ہو گی یہ کبھی سوچا ہے”

ماہر نے جل کر اسے اُس کی حرکتیں یاد دلائیں تو بہرام نے ایک محبت بھری نظر سیرت پر ڈالی۔

“میری مرضی میں جو بھی کروں اور تجھے بچی کی فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ابھی تو تُو اپنی فکر کر کے بابا کیا جواب دیتے ہیں”

بہرام نے اُس کا دھیان بٹایا تو وہ واقعی پریشانی سے علی خانزادہ کی طرف دیکھنے لگا تھا۔

“اللہ خیر کرے”

وہ دل ہی دل میں بولا۔

“زبیر آج ہم یہاں کسی خاص مقصد کے لئے آئے ہیں”

حبیب خانزادہ نے بات شروع کی تو تمام افراد ہی خاموش ہو گئے تھے۔

سب ہی تجسس سے اُن کے بولنے کہ انتظار کرنے لگے۔

“کیسا مقصد چاچو”

زبیر خانزادہ نے الجھ کر اُنہیں دیکھا تھا اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔

“دراصل ہم ماہر کے لیے پلوشے کا ہاتھ مانگنا چاہتے ہیں۔۔۔تم لوگوں کو کوئی اعتراض ہے تو بتاؤ”

اُن کی بات تھی کہ بم جو پلوشے پر پھوٹا تھا۔

اُس نے بے یقینی سے ماہر کو دیکھا تھا جو اسی کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

پلوشے نے تیزی سے نظریں پھیر لیں۔

اُس سے اب مزید یہاں بیٹھنا دشوار ہو رہا تھا تو وہ جلدی سے اٹھتی کمرے کی طرف بڑھی تھی۔

سب ہی اُس کے فطری شرم کا سوچ کر مسکرائے تھے۔

“نہیں چاچو شاید میں پلوشے کے لئے ماہر سے اچھا لڑکا کبھی ڈھونڈ نہ پاتا۔۔۔میری طرف سے ہاں ہے آپ بڑے لالا سے پوچھ لیں انہیں کوئی اعتراض تو نہیں “

زبیر خانزادہ مسکراتے ہوئے بولے تو سب ہی ازمیر خانزادہ کو دیکھنے لگے۔

“مجھے کیا اعتراض ہونا ہے بھلا۔۔۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور مجھے یقین ہے پلوشے بھی ہماری بات سے انکار نہیں کرے گی”

ازمیر خانزادہ کی بات پر ماہر کا دل کر رہا تھا اٹھ کر جھومنا شروع کر دے۔

“اگر تم لوگ چاہو تو نکاح کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔۔۔ رخصتی بعد میں ہو جائے گی”

علی خانزادہ کی بات پر دونوں بھائیوں نے سر ہلائے۔

“اصل میں پلوشے ابھی چھوٹی سی ہے اور اُس کا خواب ہے اپنی خود کی کمپنی ایسٹبلش کر کے بزنس کرنا۔۔۔اُس کے ابھی تین سمیسٹر رہتے ہیں پھر ہی اُسے بزنس کی ڈگری ملے گی۔کچھ دنوں تک ہم اُس کی کمپنی کی کنسٹرکشن شروع کروانے ہی والے ہیں۔۔۔ اس لیے بیشک ہم لوگ نکاح ابھی کر لیں مگر رخصتی دو ڈھائی سالوں تک ہی ممکن ہے”

ازمیر خانزادہ نے اُنہیں تفصیل سے تمام بات سے اگاہ کیا۔

اُس کی الگ کمپنی اور بزنس کا سوچ کر ماہر کے اندر آگ سی بھڑک اٹھی تھی۔

“بڑے بابا۔۔۔اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں آفیس میں مردوں کے بیچ گھوما کریں گی ؟”

ماہر سنجیدگی سے بولا تھا جبکہ سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔

بیشک وہ لوگ خانزادے تھے مگر انھوں نے اپنی بیٹیوں اور کبھی بے جا پابندیاں نہیں لگائی تھیں۔

وہ سب خود بھی اپنی حدود سے اچھی طرح واقف تھیں تو سب کو ہی ان چاروں پر ہمیشہ سے ہی یقین رہا تھا۔

مگر یہ بات بھی سب ہی جانتے تھے کہ ماہر لڑکیوں کے معاملے میں کس قدر سخت ہے۔

سمرین بیگم تو شکر ادا کرتی تھیں کے اُن کی کوئی بیٹی نہیں ہے اگر ہوتی تو ماہر تو اُسے سات پردوں میں چھپا دیتا۔

“ماہر بچے جب آپ کا اپنا کردار صاف ہو نا تو آپ صاف ہی رہتے ہیں۔۔۔مجھے پلوشے پر یقین ہے اسی لیے اُسے اجازت دی۔ ارمان اور بہرام بھی خیال رکھا کریں گے اُس کی کمپنی کا۔۔۔بیٹا اب ہم یوں بچیوں کو قید تو نہیں کر سکتے نا”

ازمیر خانزادہ نے نرمی سے اُسے سمجھایا تھا۔

“میں جانتا ہوں وہ بہت معصوم اور پاک ہے مگر آپ باہر کے ماحول سے واقف تو ہیں ہی بڑے بابا۔۔۔کوئی بھی لڑکی بری نہیں ہوتی مگر لوگوں کی باتیں اُسے معاشرے میں برا بنا ہی دیتی ہیں”

اس نے پھر سے اپنا پوائنٹ آگے کیا۔

“بیٹا آپ تینوں ہو گے نا اُس کے ساتھ تو کسی میں ہمت نہیں ہو گی اُس پر کوئی بات کرنے کی۔۔۔ویسے ہم کوشش کریں گے کہ وہ ہماری کمپنی میں ہی اپنا بزنس کرنے پر تیار ہو جائے”

زبیر خانزادہ نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو اُسے مزید بحث کرنا مناسب نہیں لگا۔

ماہر سر ہلاتا خاموش ہو گیا۔۔۔ جبکہ دماغ غصے سے پھنک رہا تھا۔

“میرے خیال سے اسی جمع کو نکاح رکھ لیتے ہیں”

علی خانزادہ نے بات ختم کرتے ہوئے سب کہ دھیان اس طرف دلوایا تھا۔

“بلکل۔۔۔جمع کا دن بہت با برکت ہوتا ہے تو وہی ٹھیک رہے گا”

ازمیر خانزادہ اُن کی تائید کرتے ہوئے بولے۔

سب ہی اس فیصلے سے خوش نظر آ رہے تھے۔

مرحا اور سیرت تو نکاح کا سنتی خوش ہو گی تھیں بہت عرصے بعد اُن کی حویلی میں کوئی فنکشن بننے جا رہا تھا۔

مگر پھر مہروش کی غیر موجودگی کا سوچتے سب ہی اُداس ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آویز شاہ اُسے تنبیہہ کر کے آفس گیا تھا کہ وہ شام تک روحان کو رابعہ بیگم کے کمرے میں چھوڑ دے اور خود اچھے سے تیار ہو کر اُس کا انتظار کرے۔

مہروش کی صبح سے ہی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی۔

پورے جسم میں جیسے کرنٹ سا لگ رہا تھا اویز شاہ کی دہکتی قربت کا سوچتے ہی اس کی جان لبوں پر آ رہی تھی۔

شام ہو چکی تھی۔

مہروش نے اورنج کلر کی میکسی پہنی تھی جو پاؤں تک آ رہی تھی۔

بال پیچھے کھلے چھوڑ دیئے، ہلکا میک اپ اور لبوں پر سرخ لپسٹک لگا کر وہ کوئی حور ہی لگ رہی تھی۔

میکسی کا اوپر سے بہت ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے مرحا بہت الجھن کا شکار ہو رہی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ کھلے کھلے کپڑے ہی پہنا کرتی تھی مگر آج اُسے یہی ڈریس پہننا اچھا لگا تھا مگر پہن کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔

اُس کا جسم اس قدر واضح ہو رہا تھا کہ وہ شرم سے خود کو خود بھی نہیں دیکھ پا رہی تھی۔

بڑا سا سرخ دوپٹہ اُس نے اچھے سے اپنے گرد لپیٹ رکھا تھا۔

اب اُسے واحد مسلہ یہ تھا کہ وہ روحان کو رابعہ شاہ کے پاس کیسے چھوڑ ائے۔

وہ اُسے یوں تیار دیکھ کر کیا سوچتیں۔

اُسے ایک نظر بیڈ پر بیٹھے کھلونوں سے کھیلتے روحان پر ڈالی۔

پھر سب کچھ بھولتی اُس کے پاس ائی۔

“کیا کل لا اے ماما کا بے بی”

وہ اُس کے گال کھینچ کر لاڈ سے بولی تو روحان نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

پھر کھڑا ہوتا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اُس کے قریب آیا جو بیڈ کے بلکل پاس کھڑی تھی۔

روحان نے محبت سے اُس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اُس کی گال پر کس کی تو مہروش نے بھی اُس کی چھوٹی سی ناک چومی۔

“با۔۔بابا”

اُسے اچانک اپنے باپ کی یاد نے ستایا تو وہ اسے پکارنے لگا تھا۔

مہروش کو بھی اُس کا خیال آیا تو دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا جیسے جیسے وقت قریب آیا رہا تھا اسے اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی۔

وہ سوچوں میں گم بیڈ پر بیٹھی تو روحان بھی اُس کی گود میں لیٹ گیا تھا۔

مہروش نے اٹھ کر اُس کا فیڈر بنایا اور پھر اُسے گود میں لٹا کر اُسے دودھ پلانے لگی۔

وہ جلدی سو جاتا تھا اس لیے کچھ ہی دير میں اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

مہروش نے خالی فیڈر سائڈ اور رکھا اور اُسے بیڈ پر لیٹا کر اُس کی پیشانی چوم کر پیچھے ہوئی۔

اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر مہروش نے سانس تک روک کی تھی۔

وہ خوشبو سے ہی انے والے کو پہچان گئی تھی ۔

آویز شاہ اُسے رخ موڑ کر کھڑے دیکھ مسکرایا۔

پھر اپنا کوٹ اور ٹائی صوفے پر پھینکتا پیچھے سے ہی اُسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *