Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 21)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 21)
Tere Liye by Ayat Fatima
وہ سب حویلی پہنچے تو ہر طرف سناٹا تھا۔
شاید تمام افراد سو چکے تھے۔
وہ سب بھی اپنے اپنے کمروں میں آ گئے۔
مہروش اپنے کمرے میں آئی اور دوپٹا ایک طرف پھینکتی بیڈ پر لیٹ گئی۔
موبائل آن کیا اور وٹس ایپ اوپن کی۔
آویز شاہ کی چیٹنگ میں داخل ہوئی تو اُس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے تکیے میں جذب ہوا۔
وہ اب اُس کا نام لکھنے اور مٹانے میں مصروف تھی۔
مگر دھچکا تو اُسے تب لگا جب ایک میسیج غلطی سے سینڈ ہو گیا۔
آویز کا دیا آن ہونے کی وجہ سے فوراً ڈبل ٹک ہوا تو مہروش کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔
اُس نے میسیج ڈیلیٹ نہیں کیا۔ کِیُونکہ وہ ایک دفعہ اپنی قسمت آزمانا چاہتی تھی۔
جانتی تھی آج سرا سر غلطی اُس کی اپنی تھی۔
اُس نے یونہی عام سے بات کا ایشو بنا لیا تھا۔
آویز نے میسیج سین کر لیا تھا مگر جواب نہیں دیا تو وہ پریشانی سے ہونٹ کاٹنے لگی۔
“ایم سوری۔ “
اُس نے دو لفظی پیغام بھیجا مگر اس بار بھی ریپلائے نہیں آیا۔
مہروش کچھ منٹ یُونہی اسکرولنگ کرتی رہی کہ ممکن ہے اُس کا ریپلائے آ جائے مگر اُس کا ڈیٹا بھی آف ہو چکا تھا۔
وہ موبائل ایک طرف رکھتی کمبل خود پر اوڑھ کر لائٹ بند کرتی اب سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔
پھر اچانک اسے روحان کا خیال آیا تو وہ فکر مند ہوئی۔
وہ پتہ نہیں کیسے سویا ہو گا ؟
کس کے پاس سویا ہو گا ؟
اُس نے کچھ سوچ کر دوبارہ سے سیل اٹھایا اور سوہا کا نمبر ڈائل کیا۔
“اسلام و علیکم آپی”
جیسے ہی اُس کی طرف سے کال پک ہوئی مہروش نے آہستہ آواز میں سلام کیا۔
“وعلیکم السلام سوئی نہیں ابھی تک ؟ “
سوہا نے نرمی سے سوال کیا۔
“نہیں ابھی سونے لگی تھی پھر حان کا خیال آیا تو سوچا آپ سے پوچھ لوں”
“وہ تو آویز لالا کے پاس سو بھی گیا ہے۔ شکر آج اُس نے تنگ نہیں کیا۔ ہمیں تو لگا تمہارے بغیر روئے گا لیکن شاید تھکا ہونے کی وجہ سے جلدی سو گیا۔”
سوہا نے اس کی بات کا جواب دیا تو اُسے کچھ تسلی ہوئی۔
“لالا بتا رہے تھے تمہاری کزنز نے روک لیا تمہیں کہ اب شادی کے بعد ہی واپس جانا ؟”
سوہا کی بات پر وہ تلخی سے مسکرائی۔
شادی کو تو ابھی شروع ہونے میں بھی بارہ دن رہتے تھے۔
یعنی وہ اتنا تنگ تھا اس سے کہ بلکل جان ہی چھڑا لی۔
“ہاں وہ تو پاگل ہیں اس لیے انہوں نے کہہ دیا تمہارے لالا یونہی سیریس لے گئے ہوں گے۔ کل آپ لوگ آؤ گے ناں دعوت پر پھر میں آپ کے ساتھ واپس آ جاؤں گی “
وہ آہستہ سے بولی۔
وہ اب اس لڑائی کو بڑھاوا ہرگز نہیں دینا چاہتی تھی وہ جانتی تھی کہ آویز شاہ مرد ہے اُس کے بغیر رہ لے گا مگر وہ نہیں رہ سکے گی۔
“ہاں ٹھیک۔۔۔ویسے شاید لالا نہیں ائیں گے کل۔ وہ بتا رہے تھے اُن کی کوئی میٹنگ ہے۔ بابا سائیں نے سمجھایا بھی کہ یوں نا جانا مناسب نہیں مگر وہ کہہ رہے تھے وقت نہیں اُن کے پاس۔ تمہیں تو بتا ہی چکے ہوں گے”
سوہا کی بات پر وہ مزید دکھی ہوئی۔
“نہیں ابھی میری اُن سے بات نہیں ہوئی”
وہ دھیمی سی آواز میں بولی۔
“طبیعت بہتر ہے تمہاری ؟”
“جی۔۔۔اب بہتر ہُوں۔ اچھا آپی خدا حافظ اب آپ بھی سو جائیں “
اُس نے بات ختم کرتے موبائل سائڈ پر رکھا اور کمبل سر تک تانتے خاموش آنسو بہانے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ارمان کی آنکھ کھلی تو مرحا روم میں موجود نہیں تھی۔
وہ کتنی بار اُسے کہہ چکا تھا کہ اُس کے اُٹھنے تک بیڈ سے ہلا بھی مت کرے۔
مگر اُس کا بھی مسلہ تھا کہ اُسے زیادہ دیر سونا پسند نہیں تھا۔
وہ کچھ دیر یُونہی کسلمندی سے لیٹا رہا۔
آج اُس نے آفیس نہیں جانا تھا کیونکہ آج کل بہرام کوئی پروجیکٹ کرنے میں لگا تھا۔
وہ آرام سے بیڈ سے اٹھا ایک نظر بکھری بیڈ شیٹ اور کمبل کو دیکھا مگر پھر ایگنور کرتا واشروم کی طرف بڑھا۔
اُس نے جیسے ہی ناب گھمایا دروازہ اندر سے بند ملا۔
یعنی وہ واشروم میں تھی ارمان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ائی۔
“مرحا جلدی باہر آؤ مجھے شاور لینا ہے”
وہ سنجیدگی سے دروازے سے ٹیک لگاتا بولا۔
وہ جو اندر ماربل ٹب میں ببل باتھ لے رہی تھی اُس کی آواز پر گڑبڑائی۔
“مم۔۔میں ابھی نہیں آ سکتی آپ گیسٹ روم کے واشروم میں چلے جائیں”
وہ آہستہ سے بولی تو اُس نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دبائی۔
“کیوں تم اندر ایٹم بم بنانے کی کوشش میں لگی ہو جو باہر نہیں آ سکتی۔ چلو جلدی سے باہر آو مجھے آفیس جانا ہے”
وہ پہلے شرارت اور آخر میں سنجیدگی سے بولا تو مرحا نے غصے سے دروازے کو گھورا۔
“تو چلے جائیں ناں دوسرے واشروم میں”
وہ اِلتجا کرتی ھوئی بولی تھی۔
“دو منٹ کے اندر اندر تم باہر نہیں ائی تو میں پھر جو کروں گا تم سوچ بھی نہیں سکتی”
اُس کی بات پر مرحا نے منہ بنایا۔
“جو کرنا ہے کر لیں میں چالیس منٹ سے پہلے ہرگز باہر نہیں آنے والی”
وہ نڈر لہجے میں بولی تو ارمان نے سر ہلایا۔
اُس نے سائڈ ڈرا سے آ کر واشروم کی دوپلیکيٹ کی اٹھائی اور اطمینان سے چلتا دروازے تک آیا۔
“لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں۔ آنا ہے باہر یا نہیں”
وہ دوبارہ سے بولا تو مرحا نے جھنجلا کر نہیں کہا تھا۔
تبھی جھٹکے سے ارمان نے چابی لوک میں گھمائی تو ٹک کی آواز سے لوک کھلا تھا۔
مرحا ابھی کچھ سمجھ بھی نہیں پائی تھی جب ارمان خانزادہ نے واشروم میں داخل ہو کر دروازہ دوبارہ لوک کیا۔
اُسے دیکھ کر مرحا کے چہرے کی ہوائیاں اڑی تھیں۔
اُس نے شکر کیا کہ ٹب میں جھاگ ہونے کی وجہ سے اُس کا جسم عیاں نہیں ہو رہا تھا بس گردن اور کندھے ہی باہر تھے۔
ارمان کو شرٹ اتارتے دیکھ وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔
“یہ کیا بد۔۔تمیزی ہے۔۔۔۔باہر جائیں۔۔ارمان”
وہ لڑکھڑا کر بولی تو ارمان نے ایک مسکراہٹ اُس کی طرف اچھالی اور ساتھ ہی شرٹ اُتار کر نیچے پھینکی۔
“لیٹس چل بے بی”
وہ ایک آنکھ دبا کر بولا۔
جیسے ہی اُس نے قدم ٹب کی طرف بڑھائے مرحا کا سانس اٹکا تھا۔
وہ تیزی سے ایک کونے سی چپکی۔
“ارمان پلیز میں۔۔ابھی آتی ہُوں باہر۔۔آپ جائیں”
وہ اُس کی طرف دیکھتی بولی۔
“چندہ تین دفعہ پوچھا تھا مگر آپ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔تو میں نے سوچا دونوں میاں بیوی مل کر باتھ لیتے ہیں”
ارمان مسکراتا ہوا ٹب کے بلکل قریب پہنچ چکا تھا۔
وہ آہستہ سے ٹب میں آیا اور مرحا سے تھوڑے سے فاصلے پر دونوں بازو ٹب کے کناروں پر رکھے پھیل کر بیٹھا۔
مرحا اب بلکل ایک سائڈ پر کبوتر کی طرح آنکھیں میچے بیٹھی تھی۔
“کم ہیئر ڈارلنگ”
وہ جان بوجھ کے بوجھل لہجے میں بولا تو مرحا نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
“پلیز ارمان مجھے بہت شرم آ رہی ہے آپ چلے جائیں ناں”
وہ سرخ چہرہ لیے بولی۔
مگر اب ارمان خانزادہ کی نظریں اُس کی ملائم گردن اور دودھیا کندھوں پر تھیں۔
“ارم۔۔۔ان”
وہ بند انکھوں سے بھی اُس کی نظریں خود پر محسوس کرتی جھلس سی رہی تھی۔
ارمان نے آہستہ سے اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے قریب کیا تھا۔
اُس کی حرکت پر وہ بلکل مرنے والی ہونے لگی اس حالت میں اُس کے قریب بیٹھنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
“کیا۔۔۔کر۔۔رہے۔۔ہیں۔ارمان!!!”
وہ اُس سے تھوڑا فاصلہ بناتی بولی تھی۔
جب اُسے ارمان کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس ہوا تو مرحا کا وجود سنسنا اٹھا۔
ارمان خانزادہ اب اُس کی کمر کی نرمی کو محسوس کرتا مدہوش سا ہو رہا تھا۔
“میں۔۔مر جاؤں۔۔۔گی۔۔۔پلیز۔۔۔پیچھے۔ہوں”
وہ لمبے لمبے سانس بھرتی ہوئی ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولی تو ارمان نے اُس کی حالت غیر ہوتے دیکھ لب دانتوں میں دبائے۔
“ریلیکس مرحا”
وہ اُس کی کمر سہلاتا ہوا بولا۔
اب اُس کا مکمل وجود کپکپا رہا تھا ارمان کے تیزی سے اُسے قریب کر کے اُس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیے۔
اُس کی سانسوں میں اپنی سانسیں منتقل کرتے وہ کچھ لمحوں میں ہی پیچھے ہوا تھا۔
“اوکے ایم گوئنگ۔۔۔تم بھی ڈریس اپ ہو کر باہر آ جاؤ”
وہ ٹب سے باہر نکل کر نرمی سے بولا۔
پھر ٹاول لیتا واشروم سے نکلا تو اُس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
کیا تھا یہ شخص۔
مرحا کو تو پل کو لگا تھا وہ سانس نہیں کے لئے گی اُس کی قربت میں۔
اب اُس نے ببل باتھ کے خیال کو بھاڑ میں جھونکا اور اٹھ کر شاور لیا پھر کپڑے پہنتی باہر ائی۔
وہ اُس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ ٹانگیں کپکپا رہی تھیں۔
مگر اُس نے باہر آ کر شکر کیا کہ ارمان کمرے میں موجود نہیں تھا۔
وہ بھی بالوں کو برش کرتی باہر نکل آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا آپ نے آویز اور اذلان انکل کو کال کر دی ؟”
سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے جب مہروش نے ازمیر خانزادہ کی طرف دیکھتے سوال کیا۔
“ہاں بچے کل ہی دونوں کو انوائیٹ کر دیا تھا”
اُنھوں نے اطمینان سے کہا تو اُس نے پریشانی سے اُنہیں دیکھا۔
“جی اچھا”
وہ اہستہ آواز میں کہتی ناشتے پر جھکی تھی۔
شایستہ بیگم اُسے کب سے بریڈ میں کانٹا مارتے دیکھ رہی تھیں۔
“مہروش ناشتہ کرو ٹھیک سے یہ بچوں کی طرح کھیل کیوں رہی ہو”
اُنھوں نے نرمی سے کہا تو سب نے ہے اسے دیکھا۔
وہ پزل سی ہوتی جوس کا گلاس منہ سے لگا گئی۔
“ماما میں جا رہا ہوں۔۔۔۔کوشش کروں گا ٹائم سے آ جاؤں لیکن نہ آ سکا تو جب مہمان پہنچ جائیں آپ مجھے کال کر دیجئے گا”
بہرام کرسی کی بیک سے کوٹ اٹھا کر پہنتا بولا۔
پھر ایک آخری نظر سیرت کے جھکے سر پر ڈالتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“میری بیٹی خوش تو ہے ناں ؟”
ازمیر صاحب سیرت کی طرف دیکھتے محبت سے بولے تو وہ دھیما سا مسکرائی۔
“جی بڑے بابا”
وہ کہتی دوبارہ سر جھکا گئی تو وہ بھی سر ہلاتے باہر نکل گئے۔
“اب تم چاروں ناشتے سے فارغ ہوتے ہی کاموں میں لگو”
“میں زرا ماہر کو کال کر لوں کل کہہ رہا تھا اُسے آج لاہور جانا ہے شاید۔ اب پتہ گیا ہے یا نہیں “
شائستہ بیگم کی بات پر پلوشے نظریں جھکا گئی تو مہروش نے اُسے کہنی ماری تھی۔
“آں ہاں بھئی۔ آپ بھی شرماتی ہیں”
وہ دبی دبی آواز میں بولی تو پلوشے دھیما سا مسکرائی۔
پھر سب ناشتہ کر کے ایسا کاموں میں لگی تھیں کہ سب کچھ بھول گئیں۔
ازمیر خانزادہ نے خاص تلقین کی تھی کہ کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔
ایک تو وہ اپنے بیٹے کی شادی کی خوشی میں دعوت کر رہے تھے دوسرا مہروش کے سسرال والے پہلی بار آ رہے تھے۔
ان چاروں نے خود سے کچھ نہیں بنایا تھا مگر ملازموں سے کام کروانا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔
آخر عصر کے پانچ بجے تک مکمل گھر کی صفائی اور سیٹنگ وغیرہ بھی ہو گئی اور تمام کھانے بھی بن گئے تو سب اپنے کمروں میں تیار ہونے چلی گئیں۔
ارمان حویلی نہیں تھا مرحا نے اُسے کال کر کے جلد انے کا کہا تھا تاکہ وہ بھی تیار ہو جائے۔
ازمیر اور زبیر صاحب حویلی پہنچ کر اب تیار بھی ہو چکے تھے۔
سب کو انویٹیشن چھ بجے کا دیا گیا تھا اس لیے اب سب جلدی جلدی میں لگے تھے۔
نورین اور شائستہ بیگم نے سیرت کو اچھے سے تیار ہونے کا کہا تھا کیونکہ آج کی دعوت سپیشل اُن کی شادی کی خوشی میں ہی رکھی گئی تھی۔
پورے چھ بجے وہ پورے فیملی ممبرز بہرام سمیت لاؤنج میں موجود تھے۔
مہروش بہت پریشان تھی کہ جانے آویز شاہ اُس کے ساتھ کیسا رویہ رکھے۔
اُس نے تو کسی کو بتایا بھی بھی تھا ناراضگی کا۔
لیکن اُسے يہ پریشانی بھی ساتھ تھی کہ اگر وہ آیا ہی نہ تو وہ کتنی شرمندہ ہو گی سب کے سامنے۔
سوا چھ ماہر لوگ پہنچ گئے تو سب نے انتہائی اچھے سے اُن کا استقبال کیا۔
وہ اُن کے خانزادہ کے افراد ہونے کے ساتھ ساتھ اب اُن کی بیٹی کے سسرالی بھی تھے تو پروٹوکول بڑھ چکی تھی۔
سمرین بیگم نے آتے ساتھ ہی پلوشے کو بہت پیار کیا تھا اور اسے اپنے پاس ہی بٹھا رکھا تھا۔
وہ اُس کے لیے کافی فروٹس ، ڈرائے فروٹس اور کپڑے وغیرہ بھی لائی تھیں۔
باقی تینوں کے لیے بھی وہ خود شاپنگ کر کے ائی تھیں۔
کِیُونکہ اُن کی اپنی بیٹی نہیں تھی اس لیے وہ شروع سے ہی ان چاروں سے بہت محبت کرتی تھیں۔
ماہر نے بھی بس ایک محبت بھری نظر اُس پر ڈالی تھی جو پرپل کلر کے شلوار قمیص میں بے حد چمک رہی تھی۔
ماہر کو خوشی اس چیز سے ہوئی تھی کہ اُس نے سر پر دوپٹہ لے رکھا تھا۔
اُس کی پسند کی وجہ سے نورین بیگم ہمیشہ پلوشے کو سر پر دوپٹا کرنے کہا سبق دیتی ہی رہتی تھیں کیونکہ سب ہے ماہر کی احتیاط پسندی سے واقف تھے۔
بات یہ نہیں تھی کہ وہ تنگ نظر تھا۔
بس اسے اپنی ملکیت ڈھکی چھپی پسند تھی۔
ہمیشہ سے جب بھی وہ کالج یہ یونی میں پڑھتا تھا لڑکیاں اُس کی پرسنيلٹی پر فدا تھیں۔
لیکن ماہر کو اس طرح کی لڑکیاں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں جو بس کسی کی ظاہری خوبصورتی سے متاثر ہو کر اپنی تمام حدیں بھول جایا کرتیں۔
جنہیں گھر سے پڑھائ کے لیے اتنی دور دور تک بھیجا جائے وہ کیسے اپنے ہی گھر والوں کی عزت اچھالنے میں لگی ہوتی تھیں۔
ماہر تقریباً بچپن سے ہی پلوشے کو چاہتا تھا۔
وہ جانتا تھا وہ معصوم ہے اس لیے وہ ابھی سے اُسے اُس کی لمٹ ضرور یاد کرواتا رہتا تھا۔
کہ یہ حد ہے جہاں تک تم جا سکتی ہو اور یہ تمہاری حد سے آگے ہے تم نے یہاں تک نہیں انا۔۔
وہ بھی اُس کی ساری باتیں مانتی تھی بغیر کسی بحث کے۔
ماہر کو صرف ایک دفعہ کہنا پڑا تھا کہ تم چادر کر کے حویلی سے نکلا کرو۔
اور وہ ایک دفعہ میں ہی اُس کی بات کو مان گئی تھی۔
اُس دن کے بعد ماہر نے اُسے جہاں بھی دیکھا چادر کے ساتھ دیکھا۔
ماہر کو اُس کی معصومیت اور زمانے کی درندگی کا علم تھا۔
اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنا حسن یوں سر عام عیاں کر کے اپنی نسوانیت، اپنی معصومیت کھو بیٹھے۔
پڑھائی سے ماہر کو کوئی پروبلم نہیں تھا اُسے خود بھی ایجوکیشن میں بہت انٹرسٹ تھا۔
وہ اب صرف اپنی بھی اُس پر نہیں تھونپنا چاہتا تھا۔
ہاں اُس کی الگ کمپنی سے ماہر کو پروبلم تھی تو ہے بات بھی اُسے سمجھا کر اپنے ساتھ کام کرنے پر قائل کر چکا تھا۔
وہ شادی کے بعد اُس پر کے قسم کی کوئی پابندی نہیں لگانا چاہتا تھا کیونکہ تب وہ اُس کے ساتھ ہوتا تو اُسے پردے کی کیا ضرورت۔
جب آپ کا محرم آپ کا محافظ آپ کے ساتھ ہو تو زمانے کی گرم ہوا آپ کو چھو بھی نہیں سکتی۔
اُن کے خاندان میں یہ نہیں ہوتا تھا کہ لڑکیوں کو ڈانٹا جائے کہ یہاں نہیں جانا وہاں نہیں جانا یہ نہیں پہننا وہ نہیں پہننا۔
لیکن جب یہ جنریشن بڑی ہوئی تو ان کے خانزادہ میں یہ سب بھی ہونے لگا تھا۔
کِیُونکہ پہلے کا ماحول بہت سادہ تھا جو آج کل کا ہرگز نہیں تھا۔
اب یہ چاروں یونی جاتی تھیں وہاں کو ایجوکیشن کا دور تھا۔
وہ سب بلاوجہ انہیں ڈانٹا ڈپٹا نہیں کرتے تھے مگر جہاں ضرورت محسوس ہو يہ سب ہے غیرت مند مرد کرتا ہے۔
اب زمانہ جتنا بھی بدلے خنزادوں کی رگوں میں خون تو وہی دوڑ رہا تھا۔
عزت اور غیرت سے بڑھ کر اُن کے لیے اپنی جان بھی عزیز نہیں تھی۔
ماہر اب علی خانزادہ کے پاس بیٹھ چکا تھا۔
وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے جب میر اور سوہا کے پیچھے اُن کی ساری فیملی بھی اندر داخل ہوئی۔
سب نے دوبارہ بھی اتنی ہی پرجوشی سے اُن کا استقبال کیا تھا۔
مہروش کی بے تاب نظریں دروازے پر ہی ٹکی آویز شاہ کا انتظار کر رہی تھیں۔
مگر وہ شاید نہیں آیا تھا۔
وہ بھی زبردستی مسکراتی اٹھ کر سب سے ملی۔
جب سب بیٹھ گئے تو شائستہ بیگم نے مسکرا کر رابعہ بیگم کو دیکھا۔
“آویز اور روحان کہاں ہیں ؟”
اُن کے سوال پر مہروش نے افسوس سے اُنہیں دیکھا۔
کتنی خوش تھیں اُس کی ماما اب کیسے اُس بے رحم کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔
وہ جانتی تھی ابھی اُس کے کان یہی سنیں گے کہ آویز نہیں آ سکا۔
“بھابھی آویز کی کوئی کال آ گئی تھی تو وہ باہر ہی کھڑا بات کر رہا ہے اور روحان بھی اسی کے پاس ہے”
رابعہ بیگم نے بھی جوابی مسکرا کر کہا تو مہروش نے بھی کب کا روکا سانس خارج کیا۔
اُس کی ایک طرف پلوشے بیٹھی تھی اور دوسری طرف مرحا۔
سوہا میر کے پاس بیٹھ چکی تھی اور سیرت شائستہ اور نورین بیگم کے درمیان سر جھکائے بیٹھی تھی۔
مرحا کی نظریں ابھی بھی دروازے پر ہی ٹکی تھیں جب اچانک سامنے اپنے من چاہے انسان کو دیکھ کر اُس کی بے تاب نظروں کی قرار آیا۔
آویز شاہ بلیک شلوار قمیض پر آف وائٹ شال کندھوں پر ڈالے ایک ہاتھ میں موبائل تھامے جبکہ دوسری بازو کو روحان کے گرد لپیٹے سنجیدگی سے آگے آیا۔
ابھی وہ سب سے ملتا کہ اُس کی نظر صوفے سے اٹھتی مہروش اور گئی۔
وہ تیزی سے اٹھتی آویز کے پاس گئی اور ہاتھ آگے بڑھائے تو روحان جلدی سے اس کی گود میں آیا تھا۔
اُسے روحان کی یاد نے بھی شدت سے ستا رکھا تھا۔
اس کی جان بستی تھی روحان آویز شاہ میں۔
سارا دن تو وہ اپنے اسی دوست کے ساتھ گزارتی تھی۔
اب کل رات سے کے کر اب تک کی جدائی اُسے بہت ستا چکی تھی۔
آویز پل کو اُس کے چہرے کی شادابی میں کھویا تھا۔
وہ پینک کلر کے تھری پیس میں بے حد کھلی کھلی لگ رہی تھی۔
آنکھیں ہلکی ہلکی سوجی ہوئی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید نکھار رہی تھیں۔
گلابی بھرے بھرے ہونٹ اتنے تازہ سے لگ رہے تھے کہ اُس کا دل کیا ابھی اُنہیں اپنی شدتوں سے روشناس کروا دے۔
مگر پھر وہ سر جھٹکتے اگے بڑھا باری باری سب سے ملنے کے بعد وہ ایک خالی صوفے پر بیٹھا۔
مرحا بھی بغیر کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے اُس کے پاس آ کر بیٹھ چکی تھی۔
وہ محبت سے روحان کی گالیں چوم رہی تھی۔
سب اس کی محبت دیکھ کر مسکرائے تھے۔
رابعہ اور ندہ بیگم اب سیرت سے چھوٹے موٹے سوال کر رہی تھیں جن کا وہ دھیمی آواز میں جواب دیتی رہی۔
روحان کی نظر جیسے ہی بہرام پر گئی وہ فوراً مہروش کی گود سے اتر کر صوفوں کو پکڑتا چھوٹے چھوٹے قدم لے کر اُس تک پہنچا۔
بہرام نے بھی مسکرا کر اُسے اٹھا کر گود میں لیا اور اُسے پیار کرنے لگا تھا۔
کچھ دیر بعد شائستہ بیگم اٹھ کر کچن کی طرف بڑھیں تو پیچھے باری باری حویلی کی سب لڑکیاں بھی آ گئیں تاکہ اُن کی مدد کروا سکیں۔
آخر میں سیرت نے کچن میں قدم رکھا اور گہری سانس لی۔
“افف مجھے تو بہت شرم آ رہی تھی۔ مجھ سے تو اب مزید وہاں نہیں بیٹھا جاتا سب ہی مجھے دیکھ رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں نے اب نہیں آنا باہر”
وہ آہستہ آواز میں بولی تو شائستہ بیگم نے پلٹ کر اسے دیکھا پھر مسکرا کر اس تک آئیں۔
اور اُس کی گال پر ہاتھ رکھا۔
“ماشاءاللہ میری بیٹی ہے ہی اتنی پیاری خ کوئی نظریں ہی نہیں ہٹا پا رہا۔۔۔ویسے نورین اسے نظر ہی ناں لگ جائے کچھ مرچیں وار دو”
وہ محبت سے بولیں مگر آخر میں فکرمندی سے نورین بیگم کو مخاطب کیا۔
تو انہوں نے بھی سیرت کو دیکھا جو گولڈن شلوار قمیص میں پینک لپسٹک لگائے واقعی نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
“جی بھابھی میں وار دیتی ہوں”
اُنھوں نے مسکرا کر کہا تو سیرت شرما سی گئی اپنی تعریفوں پر۔
“اچھا نا اب بس کریں آپ لوگ مجھے کنفیوز کر رہی ہیں”
وہ سر جھکاتی بولی تو سب ہی ہنسنے لگیں۔
“ماما کی تعریفوں پر یہ حال ہے۔ جب لالا کریں گے تب کیا کرو گی”
مرحا نے اُسے چھیڑا تو سب مسکرائیں۔
سیرت مزید شرمندہ ہوتی چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ چکی تھی۔
“ماشاءاللہ”
شائستہ بیگم نے محبت سے اُسے دیکھتے کہا اور ملزمہ کے ہاتھ میں بریانی کی ٹرے تھمائی۔
“آپ دونوں جائیں مہمانوں کے پاس بیٹھیں ہم کر لیں گی”
مرحا نے شائستہ اور نورین بیگم سے کہا تو وہ سر ہلاتیں باہر آ گئیں۔
سب مرد حضرت اب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے اور عورتیں صوفوں پر ہی بیٹھی تھیں اُن کا کھانا وہیں ٹیبل پر لگایا جا رہا تھا۔
“تم بھی جاؤ اپنے شوہر صاحب کو منانے کی کوشش کرو “
سیرت نے مہروش کو کہا جو سب کسٹرڈ پر پستہ بادام کی گارنشینگ کر رہی تھی۔
“بعد میں منا لوں گی۔ “
وہ سنجیدگی سے بولی تو سیرت میں سر ہلایا۔
پھر تمام ڈشز مہمانوں تک بھجوا کر وہ بھی باہر آئیں۔
“بیٹا آپ لوگ بھی لیں نا”
ندہ بیگم نے اُنہیں یُونہی بیٹھے دیکھ کر کہا تو مہروش نے اگے ہو کر سب کے لیے رائس پليٹس میں ڈالے۔
سب کھانا کھا کر لاؤنج میں اس چکے تھے کیونکہ چائے کا انتظام وہاں کیا گیا تھا۔
ارمان ملازموں کو یہاں آنے سے سختی سے منع کر چکا تھا۔
کیونکہ یہاں سب عورتیں موجود تھیں۔
رات کے ساڑھے نو بجے اذلان شاہ نے ازمیر خانزادہ سے اجازت لی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
میر نے روحان کو اٹھا رکھا تھا وہ اور سوہا سب سے پہلے نکل گئے۔
مہروش اب انگلیاں چٹخاتی پریشان سی بیٹھی تھی۔
آویز شاہ اُسے ایگنور کیے باہر کی جانب بڑھا تو شائستہ بیگم نے حیرت سے اُسے دیکھا تھا۔
اُن کا خیال تھا وہ مہروش کو ساتھ لے جائے گا مگر اُس نے تو مہروش سے پوچھا تک نہیں تھا۔
“آؤ بیٹا چلیں”
رابعہ شاہ مہروش کو دیکھ کر بولیں تو وہ آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
پہلے اس کی غلطی تھی تو اُسے اب آویز کے ریکشن کو برداشت کرنا ہی تھا۔
وہ شائستہ بیگم سے نظریں چراتی سب سے ملی۔
پھر رابعہ بیگم کے ساتھ ہی باہر نکل گئی تھی۔
