Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 01)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 01)
Tere Liye by Ayat Fatima
اس وقت خانزادہ ہاؤس میں خوب ہلا گلا لگا ہوا تھا۔ سب لڑکیاں لاؤنج میں مزے سے بیٹھیں باتوں میں مگن تھیں۔ اس وقت شام کے سات بج رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں سارے مرد حضرات بھی پہنچنے والے تھے۔
اس لیے تمام عورتیں کچن میں لگی کھانے کا انتظام دیکھ رہی تھیں۔
“میں سوچ رہی تھی لالہ اتے ہیں تو ہم اُن سے اجازت لے کر شاپنگ پر چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
پلوشے نے اچانک سے پلین ترتیب دیا تو میہروش جھٹ سے بولی۔
“ہاں ضرور میرا بھی کافی دل کر رہا ہے کہیں باہر جانے کا”
اُس کی بات پر باقی تینوں نے بھی سر ہلائے۔
“مجھے تو نہیں لگتا ارمان لالہ اجازت دیں گے ۔۔۔ لیکن اگر مرحا اُن سے اجازت لے تو پھر تُووو”
سیرت نے مرحا کو تنگ کرتے بات ادھُوری چھوڑی تو مرحا نے اُسے گھورتے ہوئے صوفے سے کشن اٹھا کر اُسے مارا۔
“جی نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں ہی جانا ہے تو خود کو اجازت نہیں تو میری بلا سے گھر ہی بیٹھی رہو”
مرحا نے ہری جھنڈی دکھائی تو اُن تینوں نے اکٹھے اسے گھورا۔
“ٹھیک ہے اگر تم اجازت نہیں لو گی تو ہم تمہیں اپنے ساتھ بھی نہیں لے جائیں گے۔۔۔باقی تم پر ہے شاپنگ کرنی ہے یا نہیں”
پلوشے نے اُسے دھمکی دینے کے ساتھ ہی لالچ دی تو مرحا روہانسی ہو کر انہیں ديکھتی ہوئی بولی۔
“تم سب جانتی بھی ہو اُنہیں میں پسند نہیں ہوں۔۔۔ پھر میں کیسے اُن سے اجازت لوں اور اگر میں اجازت لینے گئی بھی تو اُنھوں نے ہمیں بلکل باہر نہیں جانے دینا۔۔۔ اس لیے تم لوگ خود ہی اُن سے بات کرو۔ وہ تم لوگوں کی کوئی بات نہیں ٹالتے”
اُس کی بات پر تینوں نے افسوس سے اُسے دیکھا۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔
ارمان خانزادہ اُن سب سے بہت پیار کرتا تھا مگر اُسے بغیر کسی وجہ کے مرحا سے شدید قسم کی چیڑ تھی۔
وہ لوگ اب یہ سوچنے میں غلطاں تھیں کے اب کیا کیا جائے۔
کچھ دیر میں باری باری سب مرد لاؤنج میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔ ازمیر خانزادہ نے مرحا کے پاس آ کر ہمیشہ کی طرح اس کے سر پر پیار کیا تو وہ اُن کی محبت پر مسکرائی۔
“کیسا ہے میرا بچہ”
وہ شفقت سے بولے۔
لاؤنج میں داخل ہوتے ارمان خانزادہ نے کوفت سے یہ منظر دیکھا اور آگے بڑھ کر باقی تینوں کو پیار دیتا شان بے نیازی سے صوفے پر برجماں ہو گیا۔
“بابا میں بلکل ٹھیک ہوں آپ بیٹھیں میں پانی لاتی ہوں”
وہ احترام سے کہتی کچن میں چلی گئی تو ازمیر خانزادہ بھی اُن تینوں کو پیار کر کے مسکراتے ہوئے ارمان کے پاس بیٹھے۔
” مرحا بیٹا آ گئے سب ؟ “
شائستہ بیگم نے اُسے گلاس ٹرے میں رکھتے دیکھ پوچھا تو اُس نے اُنہیں دیکھا۔
“جی تائی جان سب پہنچ گئے ہیں “
اُس کے جواب پر شائستہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بھی ٹرے اٹھاتی باہر نکلی۔
اس نے باری باری سب کے آگے ٹرے کی تو سب گلاس اٹھاتے گئے۔ جب آخر میں وہ ارمان کے پاس ائی تو وہ اُسے ایگنور کرتا اپنے سیل میں بزی ہو گیا۔
مرحا بھی خفت سے گلاس لیتی کچن میں ائی۔
سب کھانا کہا رہے تھے تبھی پلوشے ہلکا پھلکا ماحول دیکھتی بولی۔
“بڑے بابا کیا ہم سب شاپنگ پر چلی جائیں ڈنر کے بعد”
اُس کی آنکھوں میں اِلتجا دیکھ کر ازمیر خانزادہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“بیٹا گارڈز کو ساتھ لیتے جانا۔۔۔۔اس ٹائم لڑکیوں کا اکیلے باہر جانا مناسب نہیں”
اُنھوں نے تنبیہہ کی تو وہ چاروں خوشی سے اٹھ کر اوپر تیار ہونے بھاگیں۔
“پاگل ہیں یہ بھی”
نورین بیگم نے اُن کی جلد بازی پر چوٹ کی تو سب مسکراتے ہوئے کھانا کھانے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکرم خانزادہ اور حبیب خانزادہ دونوں بھائی تھے۔ دونوں کو کافی زمینیں وراثت میں ملی تھیں۔ دونوں بھائیوں میں مثالی پیار تھا۔
ہر موقع پر ایک دوسرے کے لیے کچھ بھی کرنے پر تیار رہتے تھے۔
دونوں کی شادیاں والدین کی مرضی سے ہوئیں اور قسمت سے دونوں کی بیویاں ہی اچھی ثابت ہوئیں۔
شادیوں کے بعد دونوں بھائیوں نے احتیاطاً الگ الگ حویلیاں بنوالیں۔
اکرم خانزادہ برے تھے۔ اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ (سب سے بڑے بیٹے ازمیر ہیں جن کی بیوی شائستہ ہیں۔ اُن دونوں کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ سب سے بڑا بیٹا بہرام خانزادہ جو خاندان کا سب سے پہلا وارث ہے اور اب اٹھائیس سال کا ہونے والا ہے۔ اس کے بعد ارمان خانزادہ جو چھبیس سال کا ہے اور آخر میں مہروش جو تئیس برس کی ہے)۔
اُس کے بعد نادیہ اکرم خانزادہ کی اکلوتی بیٹی تھیں جنہوں نے بےپناہ محبت کے با وجود اُن کی عزت کی پرواہ کیے بغیر گھر سے بھاگ کے شادی کی تھی۔۔۔
شادی کے چار سال بعد ہی اُن کی شوہر سمیت موت کی خبر خانزادہ ہاؤس میں پہنچی تھی۔
پھر اُنہیں پتہ چلا کہ اُن کی ایک بیٹی بھی ہے جسے اُس کے خاندان والے رکھنا نہیں چاہتے تو اکرم خانزادہ اُسے بھی حویلی لے ائے تھے۔
ماں کی کی گئی غلطی کا بدلہ وہ اُس نا سمجھ بچی سے کیوں کر لیتے۔
اب بائیس سالہ مرحا بھی حویلی رہ رہی ہے۔
سب سے آخر میں اکرم شاہ کے بیٹے زبیر خانزادہ ہیں جن کی صرف دو بیٹیاں ہیں بڑی بیٹی سیرت چوبیس سال کی ہے اور چھوٹی بیٹی پلوشے بائیس سال کی ہے۔
اب اتے ہیں حبیب خانزادہ کی طرف تو اللہ نے انہیں صرف ایک بیٹے علی خانزادہ سے ہی نوازا تھا۔
علی خانزادہ کی شادی سمرین بیگم سے ہوئی تھی اور اب ماہر خانزادہ اُن دونوں کا اکلوتا چشم و چراغ تھا۔ جو ستائیس سال کا ہو چکا تھا۔
البتہ اب اکرم خانزادہ اور اُن کی بیوی سمینہ خانزادہ حیات نہیں ہیں اور حبیب خانزادہ کی بیوی نور بیگم بھی کینسر کے وجہ سے وفات پا چکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمان اس وقت اپنی جگری دوست احتشام کے ساتھ شکار پر آیا تھا۔ دو دونوں بچپن سے ہی ساتھ تھے۔
احتشام ازمیر خانزادہ کے دوست کا بیٹا ہے جو اُن کی حویلی سے دو منٹ کے فاصلے پر ہی قیام پذیر ہیں۔
وہ دونوں اپنی ہر بات ایک دوسرے سے کہہ دیا کرتے ہیں۔
آج بڑی مشکل سے ارمان اپنے لالہ سے اجازت لے کر جنگل کی طرف آیا تھا۔
“بھابھی کیسی ہیں ؟”
احتشام نے اُسے چھیڑنے کی خاطر کہا اس وقت وہ دونوں بندوقیں لیے جنگل کے بیچ و بیچ پیدل چلتے کوئی شکار ڈھونڈ رہے تھے۔
“بکوآس نہ کر”
ارمان جان چھڑوانے والے انداز میں بولا تو اس نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
“یہ بے وجہ کی نفرت چھوڑ دے یار۔ بیوی ہے تیری”
احتشام نے اُسے سمجھانا چاہا۔
ارمان رک کر اُسے گھورنے لگا تو وہ بھی کان پکڑتا اُس کا بازو تھام کے چلنے لگا۔
ابھی وہ دونوں تھوڑا آگے آئے ہی تھے کے اچانک فضا میں تین تین گولیوں کی آواز گونجی۔
ارمان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اُس کا بھائی اُس کا یار احتشام دل کے مقام پر ہاتھ رکھتا نیچے گرتا چلا گیا۔
ارمان تیزی سے اُس کے پاس آیا۔ اُس کا خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ ارمان نے پاس سا کر اُس کا سر اپنی گود میں رکھا۔
“اح۔۔۔۔احتشام اٹھ یار۔۔۔۔یوں مت کر میرے ساتھ۔۔۔۔۔احتشام ، احتشام”
وہ چلاتا رہا تبھی احتشام نے آخری ہچکی لی اور اُس کا سر ارمان کی گود سے ڈھلک کے نیچے زمین پر گرا۔
ابھی ارمان کچھ سوچتا یا کرتا کے آویز شاہ کافی آدمیوں کے ساتھ بھاگتا ہوا ان تک پہنچا۔
اپنے لاڈلے بھائی کی حالت دیکھ کر اُسے لگا اُس کا دل کسی نے تیز دھار چھری چیڑ دیا ہو۔
اُس کے آدمی اگے بڑھتے احتشام کو اٹھانے لگے۔
آویز شاہ کی نظر نیچے بیٹھے ارمان خانزادہ پر گئی تو وہ غم و غصے سے بلبلاتا اُس تک پہنچا اُسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
“کیوں مارا تم نے میرے بھائی کو۔۔۔۔کیا دشمنی تھی تمہاری اُس سے ۔۔۔۔۔جواب دو مجھے”
آویز شاہ کی دھاڑ پر ارمان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“آویز لالہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔میں کیوں ماروں گا احتشام کو ہم تو بس شکار کے لیئے ائے تھے اچانک گولیوں کی آواز پر میں نے دیکھا تو احتشام نیچے گر رہا تھا۔۔۔۔لالہ میں نے کچھ نہیں کیا آپ غلط سوچ رہے ہیں”
ارمان پریشانی سے اُسے بتانے لگا مگر آویز شاہ ابھی بھی سرخ نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“یہاں تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔تم نے ہے مارا ہے میرے بھائی کو۔۔اب تم بھی تیار رہنا آج نہیں تو کل تم بھی ایسے ہی میرے ہاتھوں مرو گے”
آویز غصے سے کہتا احتشام کے پیچھے گیا۔
جبکہ ارمان پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کے رہ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت خانزادہ ہاؤس میں سب پریشان سے بیٹھے تھے۔ ارمان نے آ کر سب کو آج کا واقع سنایا تو سب ہی ہول اٹھے تھے۔
ایک طرف احتشام کی موت کا صدمہ تھا تو دوسری طرف ارمان پر بیقصور ہوتے ہوئے بھی الزام لگنے کی فکرمندی تھی۔
سب ہی جانتے تھے ارمان ایسا کچھ نہیں کے سکتا۔ لیکن احتشام کے گھر والے ہے بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے۔
اُنھوں نے آج شام پنچایت بیٹھانے کا اعلان کروا دیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ گولیاں ارمان کی بندوق سے ہی چلی ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ تھا۔
لیکن اب وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے نہ چاہتے ہوئے بھی اُنہیں پنچایت میں ہوئے فیصلے کی ہی ماننا تھا۔
ابھی وہ لوگ سوچ بچار کر رہے تھے کہ حبیب خانزادہ کے ساتھ علی اور ماہر خانزادہ بھی اُن کے لاؤنج میں داخل ہوئے۔
“کیا سوچا ہے تم لوگوں نے تینوں میں سے کون سا راستہ چنو گے”
حبیب صاحب صوفے اور بیٹھتے ساتھ ہی بولے۔
سب ہی واقف تھے کے پنچایت اس طرح کے معاملات میں تین رستے فراہم کرتی ہے۔
پہلا خون کا بدلے خون سے یعنی قاتل کو بھی مظلوم کے خاندان والے قتل کر سکتے ہیں۔
دوسرا خون بہا میں قاتل کے گھر سے کسی لڑکی کا مظلوم کے کسی بھائی یا کزن سے نکاح کروا دیا جاتا ہے آگے چاہے وہ اُس کے ساتھ جو بھی سلوک کریں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
اور تیسرا اور آخری رستہ یہ ہوتا ہے کے اگر مظلوم کے گھر والے راضی ہو جائیں تو منہ مانگی رقم لے دے کر ہی مسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
“ہمارا تو یہی ارادہ ہے کسی طرح پیسے لے دے کر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔۔۔۔حالانکہ ارمان نے کچھ نہیں کیا مگر پیسے دینے سے کچھ نہیں ہو گا چلو اس مسلے سے جان چھوٹ جائے گی”
زبیر خانزادہ از حد سنجیدگی سے گویا ہوئے تو علی خانزادہ نے اُن کی طرف دیکھا۔
“میرا نہیں خیال کے اذلان شاہ بیٹے کی موت کو پیسوں میں تولے گا۔۔۔۔یقیناً وہ لوگ ارمان کی جان یا خون بہا میں کسی بچی کا مطالبہ کریں گے”
علی شاہ کی بات پر سب فکرمند ہوئے۔
“میں بیغیرت نہیں ہوں کے اپنی وجہ سے کسی معصوم کی زندگی تباہ کروں۔۔۔۔اگر اُنہیں میری جان چاہیے تو مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے۔۔لیکن میری بیوی یہ بہنوں کا نام بھی اُن کی زبان سے نکلا تو اس دفعہ میں واقعی کوئی قتل کر بیٹھوں گا”
ارمان شاہ غصے سے چیخا تو سب نے ہے چونک کر اُسے دیکھا۔
اُس کی بات پر سب خواتین تو آنسو بہانے لگی تھیں جبکہ مرد حضرات ہمت سے کام لے رہے تھے۔
“تمہیں جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سنا تم نے؟۔۔۔۔ہم کوشش کریں گے وہ رقم پر مان جائیں لیکن اگر وہ نہ مانے تو مجبوراً ہمیں حویلی کی کسی بیٹی کو خون بہا میں دینا ہو گا تم بھی وہاں خاموش رہنا۔ یوں جوان بیٹے کا قتل نہیں کروا سکتے ہم”
ازمیر خانزادہ غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے بولے تو اُس نے سرخ انکھوں سے اُنہیں دیکھا۔
ابھی وہ آگ اُگلتا کے خوبصورت سے نسوانی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔
“بابا مم۔۔۔میں تیار ہوں خون بہا میں جانے کے لیے”
مرحا دل پر پتھر رکھتی بھرائی آواز میں بولی۔ اُسے کہاں برداشت تھی محبوب کی موت۔ اس کی بات پر سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ ابھی کوئی کچھ کہتا کے ارمان خانزادہ آندھی طوفان بنا اس تک پہنچا۔
