Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 13)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 13)
Tere Liye by Ayat Fatima
آج مہروش کو آويز شاہ کا سرد رویہ سہتے مہینہ ہو چکا تھا۔
اس دن کے بعد کچھ ہی دنوں میں روحان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہو چکی تھی۔
مہروش اب اس کا پہلے سے بھی بڑھ کر خیال رکھنے لگی تھی۔
مگر آویز شاہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ کمرے میں اتے ہی اپنے آپ میں یوں گم ہو جاتا جیسے وہ تو مہروش کو جانتا ہی نہیں ہو۔
مہروش سے اس کا یہ رویہ برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ روزانہ رات کو گھنٹوں بیٹھ کر رویا روتی لیکن آویز سن کر بھی خاموش رہتا۔۔۔
اس کی غلطی کوئی اتنی بڑی بھی نہیں تھی جتنی آویز شاہ اسے سزا دے رہا تھا۔
پچھلے کچھ دنوں سے اسے اپنی طبیعت گری گری محسوس ہو رہی تھی۔
وہ کچھ کچھ اپنی حالت کو سمجھ رہی تھی لیکن سمجھتے ہوئے بھی خاموش رہی۔
اس وقت صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھے وہ ابھی سویا ہوا ہی تھا جب مہروش لون میں واک کرنے کے بعد اندر روم میں آئی۔
ایک بات ان دنوں میں مہروش نے محسوس کی تھی کہ آویز کا رویہ اس سے سرد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اُس سے اپنے کام بھی کروانے لگا تھا۔
وہ بالکل اسے کسی ملازمہ کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا۔
وہ اپنا ہے کام اسی سے کروانے لگا تھا۔
کمرے میں تو اسے مخاطب بھی نہیں کرتا تھا لیکن جب وہ باہر آتے تو وہ اسے مخاطب کرکے اپنا کام کرنے کا کہتا۔
مہروش کا دل بہت اداس رہنے لگا تھا وہ سارا دن سوہا اور روحان کے ساتھ گزارتی۔
لیکن دل پھر بھی اُس کی ناراضگی یاد کرتے زرا بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا۔
کمرے میں اس وقت بالکل گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی جیسے ابھی رات ہو اور پردوں نے کھڑکیوں کو ڈھکا ہوا تھا لائٹ اور لیمپ دونوں ہی آف تھے تو کمرے میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔
مہروش آہستہ سے چلتی ہوئی بیڈ تک ائی اور اپنی جگہ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
وہ کچھ دیر آنکھیں بند کرکے اپنے دماغ کو پرسکون کرنا چاہتی تھی۔
ابھی اسے لیٹے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ کمرے کی خاموش فضا کو الارم کے شور نے توڑا۔
وہ جانتی تھی کہ اب آویز کے اٹھنے کا ٹائم ہو چکا ہے اسی لیے یوں ہی آنکھوں پر بازو رکھے سوتی بن گئی۔
آویز الارم کی آواز پراٹھا کمبل سائڈ پر کرتا وہ اس کی طرف دیکھے بغیر ہی کپڑے لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
پیچھے ایک باغی آنسو مہروش کی پلکوں کی باڑ توڑ کر اس کی رخسار پر بہہ نکلا تھا۔
وہ کو جانتی تھی آویز ناراض ہے۔
اسے فیلحال تو بس ایک ہی حل نظر آ رہا تھا جو اُسے نرم کرتا اسی لیے اس نے آج اُس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ جب نہا کر واش روم سے باہر آیا تو ایک نظر اس کے سوئے وجود پر ڈالی لیکن پھر خود کو قابو کرتا ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوا اور بال بنانے لگا۔
مہروش کچھ لمحے یوں ہی لیٹے چور نظروں سے اس کے پرکشش چہرے کو دیکھتی رہی تھی۔
پھر ہمت کرتی ہوئی آہستہ سے کمبل خود سے ہٹاتے اٹھ اور اس تک ائی۔
آویز شاہ اس کا اٹھنا محسوس کر چکا تھا۔
وہ حیران تھا کہ مہروش اس کے پاس کیوں آئی ہے۔
وہ خاموشی سے ٹائی باندھنے لگا۔
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں آج ڈرائیور کے ساتھ ڈاکٹر کو دکھانے چلی جاؤں ؟”
وہ نظریں جھکائے بھرائی آواز میں بولی تھی وہ اُس کٹھور شخص کے سامنے ہرگز رونا نہیں چاہتی تھی لیکن غم کی وجہ سے اس کی آنکھیں سے آنسو خود بہ خود بہنے لگے۔
آویز اس کی بات پر پل کو پریشان ہوا تھا لیکن پھر دماغ کھٹکتے خود پر پرفیوم چھڑکا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے ڈرایور کے ساتھ کہیں جانے کی خود ہی ٹھیک ہو جائے گی طبیعت۔ خاموشی سے گھر بیٹھو۔”
آویز شاہ سفاکی سے بولا تو مہروش نے پر شکوہ نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
اس کا دل آویز سے یہ سوال پوچھنے کے لئے مچلنے لگا کہ یہ محبت تھی اس کی؟
صرف ایک رات کمرے میں دیر سے آنے کی وجہ سے ڈیڑھ مہینہ ہونے کو آیا تھا اُسے یوں لا تعلق رہتے۔
“میں ۔۔۔۔میں آنٹی یا سوہا آپی کو ساتھ لے جاو گی پلیز مجھے جانے دے میری طبیعت بہت خراب ہے۔”
وہ بمشکل اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تو آویز نے پرفیوم رکھ کر رخ اُس کی جانب کیا۔
اس کا ستہ دیکھ کر کر پل کو آویز تڑپ اُٹھا تھا۔
کیا حالت بنا لی تھی اس نے اپنی ان چند دنوں میں۔
رات دیر تک جاگنے اور رونے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن گئے تھے۔
چہرے کی رنگت بھی گلابی سے زرد ہو رہی تھی۔
آنکھوں میں جو رونق ہر وقت بسیرا کیے رکھتی تھی وہ بھی اب کہیں کھو گئی تھی۔
اس وقت وہ سادہ سے محرون رنگ کے شلوار قمیض کے ساتھ بھوری شال اپنے گرد لپیٹے کئی دنوں کی بیمار لگ رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے تمہاری طبیعت کو؟”
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا۔
ساری ناراضگی ایک طرف لیکن وہ مہروش سے محبت بھی بہت کرتا تھا۔
اپنی وجہ سے اس کی یہ حالت دیکھ کر آویز دل پھٹنے کو آیا۔
“آپ کو اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے کیا ہوا اور کیا نہیں۔ آپ بس مجھے اجازت دے دیں تو میں ڈرائیور کے ساتھ ہسپتال چلی جاؤں”
اس کی فکر پر مہروش کا لہجہ تلخ ہوا۔
“جو پوچھا جائے اسی کا جواب بک بک کرنے کی ضرورت نہیں”
آویز جان بوجھ کر دوبارہ لہجے میں غُصہ لیے بولا۔
مہروش نے دکھ سے ایک نظر اس پر ڈالی پھر تیزی سے بیڈ تک آتی خود پر کمبل ڈالے آنکھیں بند کر گئی۔
اس کا دل چیخ چیخ کر رونے کو چاہ رہا تھا۔
وہ کمبل میں خود کو چھپاتے بنا آواز آنسو بہانے لگی۔
آویز کمبل کے باہر سے بھی اس کے وجود کی کپکپاہٹ محسوس کر رہا تھا۔
آویز پریشانی میں اس تک آیا۔
اُس کے وجود سے نرمی سے کمبل علیحدہ کیا تو اُس کی حالت دیکھتے آویز کا سانس ٹھہر سا گیا۔
وہ الٹی لیٹی تھی دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ ذار و قطار روئے جا رہی تھی۔
جسم ہولے ہولے کپکپا رہا تھا۔
آویز نے ایک بھی لمحے کی تاخیر کیے بغیر اُسے تھام کر سیدھا کیا اور دونوں ہاتھ اُس کی اطراف میں رکھتا اُس پر جھکا۔
“مہروش میری جان بس۔۔۔۔تمہاری حالت خراب ہو رہی ہے اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلیں”
آویز محبت سے چہرہ بلکل اُس کے چہرے کے قریب کیے بولا تو اُس نے سرخ نظروں سے اويز کو دیکھا۔
“آپ۔۔۔آپ مجھ سے ناراض بھی ہیں ناں ؟”
وہ بچوں کے سے انداز میں بولی تو آویز کا دل ایک دفعہ رک کر چلا تھا۔
“نہیں میری جان میں بلکل ناراض نہیں ہوں اپنے بچے سے”
آویز نے اُسے اٹھا کر کہتا کیا اور اُس کی شال بیڈ سے لے کر اُس کے گرد اچھے سے لپیٹی۔
“آؤ چلیں”
وہ اُس کی آنکھیں صاف کرتا اُس کا ہاتھ تھام کر نیچے کی طرف آیا۔
مہروش اُس کی ناراضگی دور ہوتے ہی خوش ہو گئی تھی۔
اس وقت وہ اپنی حالت، آویز کی بے رخی سب کچھ بھول کر صرف اُس کے مان جانے کی خوشی میں گم تھی۔
وہ ڈاکٹر کے پاس ائے تو ڈاکٹر نے اُس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اُس کے شک کو یقین میں بدل دیا۔
وہ تب سے ہی آویز سے نظریں بھی ملا پا رہی تھی۔
عجیب شرم کا احساس ہو رہا تھا اسے جیسے اس سب میں وہ قصوروار ہو۔
وہ دونوں گاڑی میں ائے تو آویز نے گاڑی روڈ پر ڈالتے ہی اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی تھائی پر رکھا۔
مہروش اُس کے عمل پر مزید سرخ ہوتی نظریں باہر روڈ پر گاڑھ گئی۔
“لڑکی تمہیں کیا ہو گیا ہے”
آویز شرارت سے اُس کی طرف دیکھ کر بولا تو اُس نے آویز کو گھور کر دیکھا۔
اُس کی معصومانہ گھوری پر اُس نے ڈرنے کے انداز میں چہرے کا رخ بدلا تھا۔
“آپ۔۔میری ایک بات مانیں گے ؟”
وہ کچھ سوچتی ہوئی آہستہ سے نظریں اٹھا کر بولی تو آویز نے اثبات میں سر ہلایا۔
“مجھے ۔۔۔ میری حویلی۔۔لے جائیں۔۔۔صرف۔۔کچھ دیر کے لیے میں۔۔سب سے مل لوں۔۔۔پلیز”
وہ دکھی سی ہوتی بولی۔
“مہروش میں اس وقت بہت خوش ہوں۔۔۔تو پلیز مجھے غصّہ کرنے پر مجبور نہیں کرو”
آویز نے سنجیدگی سے کہتے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تھی۔
پھر سارا رستہ ہی دونوں نے خاموشی سے کاٹا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ٹائم تھا اور خان ہاؤس میں گہما گہمی مچی تھی۔
آج وہ سب ڈنر کے لئے حبیب خانزادہ کی حویلی میں انوائٹڈ تھے۔
مرحا ارمان کی بے باک حرکتوں پر جھنجلاتی بمشکل جویلری پہن رہی تھی۔
اُس نے آج ریڈ کلر کا پاؤں تو اتا فروک پہنا تھا جس کے ساتھ کا بلیک دوپٹہ اُس نے ابھی بیڈ پر ہی ڈالا ہوا تھا۔
وہ کانوں میں آویزے پہنتی، ارمان کی بولتی نظروں سے ڈسٹرب ہو رہی تھی۔
وہ جانتی تھی ارمان جان بوجھ کر فقط اُسے تنگ کرنا چاہ رہا ہے۔
ارمان اُس کے چہرے پر الجھن کے تاثرات دیکھتا مسکرا دیا۔
“آپ کیوں تنگ کر رہے ہیں مجھے”
وہ جیولری پہننے کے بعد اُس کی طرف مڑتی ہوئی بولی۔
اُس کا خوبصورت سراپا دیکھ کر ارمان کی نظروں میں خمار سا آیا۔
مرحا اُس کی نظروں سے گھبراتی فوراً دوپٹا اٹھا کر اپنے گرد پھیلا گئی۔
وہ اُس کی احتیاطی تدبیر پر مسکراتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔
اُسے قریب اتے دیکھ مرحا نے قدم پیچھے لینے شروع کیے تھے۔
ابھی اُس نے چار قدم پیچھے لیے ہی تھے جب اُسے یہ جان کر دکھ ہوا کہ پیچھے دیوار تھی۔
وہ نظریں جھکائے دیوار سے لگی ارمان کے جذبات کو مزید بڑھاوا دے رہی تھی۔
ارمان نے بلکل اُس کے قریب آ کر اپنے قدم روکے تو مرحا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اُس نے آہستہ سے دوپٹہ مرحا سے الگ کرتے بیڈ پر اچھالا پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کتنی دفعہ سمجھایا ہے اپنا وجود صرف اس کمرے سے باہر چھپایا کرو۔۔۔آئندہ میرے سامنے یہ حرکت کی تو تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں کیا کروں گا”
وہ گھمبیر لہجے میں اُسے سمجھاتا ہوا اچانک ہی اُس کے ہونٹوں پر جھکتے اُن کی نرمی اپنے ہونٹوں سے محسوس کرنے لگا۔
اُس کی حرکت پر اب وہ دونوں ہاتھ اُس کے کندھوں پر رکھتی بلکل اسی کے آسرے پر کھڑی تھی۔
ارمان کو جب اس کی سانسوں کا خیال آیا تو آہستہ سے پیچھے ہٹا۔
مرحا کی گالیں ٹماٹر کی طرح لال ہوتیں دیکھ وہ اُن پر لب رکھ گیا تھا۔
کچھ دیر وہ یُونہی اُن پر لب رکھے کھڑا رہا پھر اُس کی پیشانی چھو کر تھوڑا پیچھے ہوا۔
“نیچے دوپٹے کا خاص خیال رکھنا ، اب لپسٹک ٹھیک کر کے نیچے آ جاؤ میں جا رہا ہوں۔”
ارمان سنجیدگی سے کہتا کمرے سے چلا گیا تو وہ بھی لپسٹک سیٹ کرتی اپنا دوپٹہ اور موبائل لیتی نیچے ائی۔
سب ہی لاؤنج میں اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ اس کر ارمان کے ساتھ کھڑی ہوئی تو شائستہ بیگم نے اگے بڑھ کے دونوں کی نظر اتاری تھی۔
سیرت بھی گرے شلوار قمیض پر وائٹ دوپٹہ کیے بے حد حسین لگ رہی تھی۔
بہرام وہاں موجود نہیں تھا کیونکہ اُسے آفس میں کوئی کام تھا تو اُس نے کہا تھا وہ خود وہاں پہنچ جائے گا۔
اُس کی غیر موجودگی میں سیرت بمشکل ہی مسکرا رہی تھی۔
ورنہ اُس کے بغیر اس کہ دل کہیں لگ ہی نہیں رہا تھا۔
پھر وہ سب ہی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوتے چھوٹی حویلی کے لیے نکلے تھے۔
جو صرف پانچ منٹ کی مسافت پر ہی موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ جیسے ہی چھوٹی حویلی پہنچے سمرین بیگم اور علی خانزادہ دروازے پر ہی اُن کا انتظار کے رہے تھے۔
البتہ حبیب خانزادہ سامنے ہی صوفے پر بیٹھے اپنے خاص ملازم کو کچھ سمجھا رہے تھے۔
علی خانزادہ نے پلوشے کو محبت سے خود سے لگایا تھا۔
“میری بیٹی آج پہلے سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہے”
اُنھوں نے اس مسکرا کر محبت سے کہا تو وہ شرما دی۔
اُسے شرماتے دیکھ مرحا اور سیرت دونوں ہی مسکراہٹ دبا گئی تھیں۔
علی خانزادہ نے اپنے والیٹ سے سارے پیسے نکال کر پلوشے کو زبردستی تھما دیئے تھے۔
وہ پانچ پانچ ہزار کے تقریباً بیس پچس نوٹ تھے۔
“بھائ اتنے پیسے دینے کی کیا ضرورت ہے اس نے کرنے ہیں۔۔۔”
نورین بیگم جلدی سے بولیں۔
باقی سب جا کر صوفوں پر بیٹھ چکے تھے۔
“بھئی کیوں ضرورت نہیں ہے۔۔۔پلوشے بہو ہونے کی حیثیت سے پہلی دفعہ ہمارے گھر ائی ہے تو اتنا تو بنتا ہے میری پیاری سے بیٹی کے لیے”
سمرین بیگم اُسے خود سے لگاتیں لاڈ سے بولیں۔
وہ اُن سب کی محبت پر شرمندہ سی ہوئی تھی۔
نورین بیگم نے مسکرا کر تعصف سے سر ہلایا اور جا کر ایک صوفے پر بیٹھ گئیں۔
سمرین بیگم نے ایک صوفے پر بیٹھ کر پلوشے کو اپنے ساتھ بیٹھایا تو وہ بھی سے جھکاتی بیٹھ گئی۔
“ماہر کہاں ہے ؟ “
ازمیر خانزادہ نے علی خانزادہ سے سوال کیا تو مرحا اور سیرت نے معنی خیزی سے اُس کی طرف دیکھا تھا۔
جو خود اُس کے ذکر پر سرخ سی ہو گئی تھی۔
“آفیس ہے ابھی آ جائے گا کچھ دیر میں”
علی صاحب نے جواب دیا پھر یونہی سب باتوں میں لگ گئے تھے۔
مرحا جو ارمان کے ساتھ بیٹھی تھی اچانک اپنی کمر پر اُس کی انگلیاں رینگتی محسوس کر کے جھٹکے سے اُس کی طرف دیکھا۔
جو سنجیدگی سے حبیب خانزادہ کی بات سن رہا تھا۔
مرحا نے غصے سے اُسے دیکھا۔
اُس نے تھوڑا دور ہونا چاہا تو ارمان کی گرفت مضبوط ہوئی تھی۔
اُس کی حالت دیکھتے پلوشے نے اب بدلہ لینے کی خاطر اُسے دیکھا تو مرحا نے اُسے آنکھیں دیکھا کر نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا۔
اُس کی کافی کوشش کے بعد بھی ارمان نے اُسے نہیں چھوڑا تو مرحا نے اپنی ہیل اُس کی پاؤں پر زور سے کچلی تھی۔
ارمان تکلیف سے کراہا۔
درد کی وجہ سے اُس کی گرفت کمزور پڑی تو وہ تیزی سے اُس کے پاس سے اٹھتی سیرت کے پاس جا بیٹھی تھی۔
