Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 09,10)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 09,10)
Tere Liye by Ayat Fatima
آویز شاہ نے دونوں بازو اُس کے پیٹ پر باندھے اور تھوڑی اُس کے کندھے پر ٹکائی تھی۔
“طبیعت کیسی ہے؟”
وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا اُس کی سانسیں مہروش کی گردن سے ٹکرا کے اُس کے دل میں حشر برپا کر رہی تھیں۔
“جج۔۔۔جی ٹھیک ہوں”
کوشش کے با وجود بھی اُس کی زبان سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے۔
اُس کے اٹک اٹک کر جواب دینے پر آویز شاہ کی مسکراہٹ بے اختیار تھی۔
وہ جو بڑی شوخ بنی پھرتی تھی اب ساری ہوا نکل چکی تھی۔
آویز نے اُس کی گردن پر شدت سے ہونٹ رکھے تھے۔
کچھ پل یُونہی کھڑے رہنے کے بعد وہ اُس سے الگ ہوا۔
مہروش نے ابھی تک اُس کی طرف چہرہ نہیں کیا تھا تو وہ اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا۔
وہ آگے بڑھا اور بیڈ پر سوئے روحان کی گالیں چوم کر اسے گود میں اٹھاتے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ دوبارہ کمرے میں آیا اب روحان اُس کے پاس نہیں تھا یعنی وہ اُسے رابعہ شاہ کو دے آیا تھا۔
آویز شاہ نے پہلے دروازہ اندر سے لوک کیا پھر مہروش کی طرف پلٹا جو وہیں کھڑی تھی۔
ہاں البتہ چہرہ اسی کی طرف کر رکھا تھا۔
اُس کا خوبصورت نکھرا نکھرا چہرہ دیکھ آویز شاہ پل کو ٹھہرا لیکن پھر آگے آیا تھا۔
مہروش کو سوچنے کا موقع دیئے بغیر آویز شاہ نے اُسے بیڈ پر دھکا دیا تھا اور لائٹ آف کر دی تھی۔
مہروش اس افتاد پر بوکھلا گئی تھی مگر پھر خود کو سمجھاتی بجھاتی یونہی لیٹی رہی۔
آویز نے اُس کی طرف دیکھتے شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے تو مہروش لب چباتی اُسے دیکھنے لگی تھی۔
لائٹ آف تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو ہلکا ہلکا دیکھ سکتے تھے۔
آویز شاہ نے شرٹ اُتار کر دور اچھالی اور مہروش کے برابر میں لیٹا۔
دونوں کی ہی گہری سانسیں کمرے کی خاموش فضا کو سحر انگیز بنا رہی تھیں۔
آویز شاہ نے چہرہ موڑ کر اُس کی طرف رخ کیا تھا۔
مہروش جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہی تھی اُس کے رخ بدلنے پر اپنا چہرہ پیچھے کر گئی۔
آویز شاہ نے اُس کا دوپٹہ اتار کر سائڈ پر رکھا تھا۔
اندھیرے میں بھی مہروش کا نسوانی حسن قیامت ڈھا رہا تھا۔
آویز شاہ کی گہری بولتی نظریں اپنے وجود پر پاتے مہروش آنکھیں سختی سے بند کر گئی تھی۔۔۔
آویز شاہ اوپر ہوتا اُس پر جھکا تھا۔
آہستہ سے اُس کی کانپتی پلکوں پر لب رکھے تو آویز شاہ کو اپنے آپ میں سکون کی لہر دوڑتی محسوس ہوئی تھی۔
“آنکھیں کھولو”
وہ انتہائی نرمی سے بولا تو مہروش نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“نن۔۔نہیں”
وہ گھبراتی ہوئی بولی تھی۔
آویز شاہ اُس کے کانپتے پر مسکرایا تھا۔
نظر اُس کے پھڑپھڑاتے لبوں پر رکی تو آویز شاہ کو اپنے گلے میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے تھے۔
“آ۔۔آویز”
ابھی وہ کچھ بولتی کہ اچانک آویز شاہ بے قابو ہوتا اُس کے لبوں پر جھکا تھا۔
مہروش اُس کی سانسوں میں اپنی اُلجھی سانسیں محسوس کر کے مزید بے چین ہوئی تھی۔
دونوں ہاتھوں میں سختی سے بیڈ شیٹ کو جکڑتے اُس کا جسم ہولے ہولے پھڑپھڑا رہا تھا۔
آویز شاہ کچھ دیر یونہی اُس کی سانسیں خود میں اُتارتا رہا پھر نرمی سے اس کے لبوں کو ازادگی بخشتے پیچھے ہوا تھا۔
مہروش جو سانسیں روکے لیٹی تھی نظر اُس اور پڑتے آویز شاہ نے اُس کے بال چہرے سے پیچھے کیے تھے۔
“سانس لو مہر”
وہ سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے آہستہ سے سانسیں لینا شروع کیں۔
آویز نے دونوں پر کمبل ڈالا۔
آہستہ سے مہروش کی کمر سے ڈوریاں کھولنی شروع کیں تو اُس کی انگلیوں کے سرسراتے لمس سے مہروش کو اپنی کمر جلتی محسوس ہوئی تھی۔
آویز نے تمام ڈوریاں کھول دیں تو اُس کی میکسی اوپر سے بلکل ڈھیلی ہو چکی تھی۔
آویز شاہ نے کندھوں سے پکڑتے میکسی نیچے کی۔
اُس کی سفید چمکتی ہوئی گردن اور کندھے اب آویز شاہ کے سامنے تھے۔
وہ شدت سے اُس کی گردن پر جھکا تھا۔
اُس کی گردن کی نرمی آویز شاہ کو پاگل کر رہی تھی۔
وہ اُس کی گردن کو چومنے کے ساتھ ساتھ دانتوں سے کاٹ بھی رہا تھا۔
مہروش نے ہاتھ سے گردن سہلائی تھی کیونکہ اس کی بیئرڈ سے گردن پر چبھن اور تکلیف ہو رہی تھی۔
آویز شاہ آہستہ آہستہ تمام حدود پار کرتا چلا گیا تھا۔
کھڑکی سے باہر چاند بھی شرما کر بادلوں کی اُوٹ میں چھپ گیا تھا۔
ساری رات آویز شاہ نے اپنے جنون اور شدتوں سے اس نازک جان کو نڈھال کر دیا تھا۔
وہ بھی اُس کی قربت میں دنیا کے تمام غم بھول کر اُس کے نشے میں بہک گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آویز کی نیند کھلی تو مہروش اُس کی بانہوں میں بکھری سی پڑی تھی۔
رات کو اپنی شدتوں پر اُس کا شرمانا اور آویز میں ہی چھپنا یاد کر کے اُس کے لبوں پر مسکراہٹ ائی تھی۔
آویز کی نظر کلوک پر گئی تو دوپہر کے ڈیڑھ بج رہے ہیں اُس نے پریشانی سے گہری نیند میں سوئی مہروش کو دیکھا جو پانچ بجے ہی تھک ہار کر سو پائی تھی۔
آویز کی آج تین بجے ضروری میٹنگ تھی مگر ابھی اُس مومی وجود سے جدا ہونے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
آویز ابھی محبت سے اُس کے چہرے کو دیکھ ہی رہا تھا کہ دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی تھی۔
دستک دینے والے کی بد تہذیبی پر آویز شاہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“مم۔۔مم”
باہر سے روحان کی آواز ائی تو وہ دھیما سا مسکرایا۔
وہ بیڈ سے اٹھنے لگا تو اُس کے ہلنے سے مہروش کی نیند کھلی تھی۔
اپنی حالت دیکھتے اُس نے جلدی سے خود کو کمبل میں چھپایا تھا جبکہ چہرہ شرم و حیا سے بھاپ چھوڑنے لگا تھا۔
نظریں اٹھا کر آویز کی طرف دیکھا جو مسکراتا ہوا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ایسے نہیں دیکھیں ناں”
وہ روہانسی ہوتی بولی تو آویز مسکرا کر اُس پر جھکا اُس کے بالوں پر لب رکھے تو مہروش بھی اُس کی محبت پر مسکرائی تھی۔
“مم۔۔۔بابا”
روحان نے اب الجھن سے اُنہیں پکارا تو دونوں ہی مسکرائے تھے۔
“جائیں بھی وہ پریشان ہو جائے گا”
مہروش اُس کے شرٹ لیس سینے پر دونوں ہاتھ رکھتی بے بسی سے بولی تھی۔
آویز ایک محبت بھری نظر اُس پر ڈالتا دروازے کی طرف بڑھا تھا۔
اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے روحان فریش سا کھڑا تھا۔
آویز نے اُسے اٹھا کر دروازہ پھر سے بند کیا اور اُسے لیے اندر آیا۔
مہروش بھی اُسے دیکھتی مسکرائی۔
آویز نے اُسے پیار کیا پھر بیڈ پر بٹھا کر خود دوبارہ لیٹ گیا تھا۔
اُس نے ایک کلائنٹ سے بات کرنی تھی تو وہ یونہی لیٹا سیل میں مصروف ہو گیا۔
“مم۔۔۔”
روحان رینگ کر مہروش کے پاس آتے باہر کی طرف اشارہ کرتے بولا تھا کِیُونکہ صبح اٹھتے ہی وہ دونوں کھیلا کرتے تھے۔
آج سوہا اور باقی سب نے صبح سے ہی روحان کو بہلائے رکھا تھا تاکہ وہ دونوں آرام کے سکیں۔
مگر جب وہ سنبھلنے میں نہیں آیا تو اُنھوں نے اُسے چھوڑ دیا تھا۔
وہ خود رینگتا رینگتا اُس کے دروازے ٹک آیا تھا اور اب اُس کا ارادہ مہروش کو اٹھا کر کھیلنے کا تھا۔
اُس کی خواہش پر مہروش نے پریشانی سے ہونٹ چبانے شروع کر دیے تھے کِیُونکہ ابھی اُس کی حالت اٹھنے کی ہرگز نہیں تھی۔
آویز نے جب روحان کا اشارہ سمجھا تو اُس نے مسکرا کر شرارت سے مہروش کی طرف دیکھا تھا۔
“حان اب مم اٹھ کر کھیلنے کے قابل نہیں رہیں بے بی آپ بابا ساتھ کھیل لو”
آویز اُس کی آنکھیں میں دیکھتا بولا تو مہروش نے شرم سے نظریں جھکائیں تھیں۔
“کیوں بیگم صحیح کہہ رہا ہوں نا”
آویز نے اُس سے تائید چاہی تو مہروش نے بمشکل اُسے آنکھیں دکھائی تھیں۔
مگر اُس پر مہروش کی آنکھوں کا کیا اثر ہونا تھا۔
آخر تنگ آتے مہروش نے چہرہ بھی کمبل میں ڈھانپا تو آویز مسکراتا ہوا پریشان سے بیٹھے روحان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
“آپ پریشان کیوں ہو رہے ہیں حان۔۔۔مم کی حالت ٹھیک نہیں ہے بے بی بابا تو ٹھیک ہیں آپ کے ساتھ کھیل سکتے ہیں”
جان بوجھ کر مہروش کو سناتے وہ الماری سے شرٹ نکال کر پہنتا روحان کو لیے باہر نکلا تو وہ بھی ہمت کرتی اٹھ کے واشروم بھاگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لیکن میں نے ہمیشہ اُنہیں بہرام اور ارمان لالا کی طرح سمجھا ہے۔۔میں کیسے”
اس وقت وہ تینوں سیرت کے روم میں بیٹھی تھیں۔
شائستہ اور نورین بیگم نے پلوشے کو راضی کرنے کی زمہ داری مرحا اور سیرت کے ذمے لگائی تھی۔
اب بھی وہ دونوں اُسے سمجھآنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ اپنے آپ کو ایسا سوچنے بھی نہیں دے سکتی تھی۔
اُس نے بچپن سے ہی ان تینوں کو ہی بھائیوں جیسا سمجھا تھا۔
وہ کہاں واقف تھی کہ قسمت اُسے ماہر خانزادہ سے ملا دے گی۔
وہ چاہ کر بھی یہ نہیں کر سکتی تھی۔
“وش یار یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ تم سمجھتی تھی انہیں بھائیوں جیسا مگر وہ ہیں تو نہیں نا۔۔۔۔اور اب بڑے بابا اقرار بھی کے چکے ہیں تو کیا تم اُن کی زبان کی لاج نہیں رکھو گی”
سیرت نے اُسے دیکھتے ہوئے اموشنل بلیک میل کیا تھا۔
“لیکن۔۔۔۔۔۔۔میں کیا کروں تم سب مجھے کیوں نہیں سمجھ رہے۔ مم۔۔میں بہرام لالا سے بات کروں گی وہ پکا میری بات نہیں ٹالیں گے وہ بڑے بابا کو بھی منا لیں گے”
پلوشے بے بسی سے بولی تھی تبھی بہرام کا خیال آیا تو اُس کی ساری پریشانی منٹ میں ختم ہوئی۔
“اُمید بھی مت رکھنا اُن پر وہ ماہر لالا کے بہت گہرے دوست ہیں وہ کبھی تمہارا ساتھ نہیں دیں گے۔۔۔بہتری اس میں ہے کہ تم چپ چاپ نکاح کر لو اور یہ جو ریزن تم بتا رہی ہو نا یہ انتہائی فضول ہے”
سیرت نے اُسے ڈپٹا تھا۔
“ہاں وش سیرت ٹھیک کہہ رہی ہے ہے بے وجہ کی ضد چھوڑ دو۔۔۔میں نے بھی تو سب کے کہنے پر خاموشی سے ارمان سے نکاح کر لیا تھا حالانکہ تب میں بہت چھوٹی تھی اور میں جانتی بھی تھی کہ ارمان مجھے پسند نہیں کرتے۔۔۔ماہر لالا تو شاید تمہیں پسند بھی کرتے ہیں۔۔۔تو تمہیں انکار نہیں کرنا چاہیے”
مرحا نے بھی اُسے سمجھایا تھا۔
مگر وہ کسی کی بات پر کان ہی نہیں دھر رہی تھی۔
“اٹھو مرحا ہم نیچے چلیں یہ تو ہے ڈھیٹ۔۔۔جب سب سے ڈانٹ پڑے گی نا تب ہی سمجھ ائے گی اسے ہم کیوں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں”
سیرت افسوس سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تو مرحا بھی اُس کے ساتھ باہر نکلی تھی۔
پیچھے وہ اکیلی بیٹھی رہ گئی تھی۔
اُس کے دماغ میں اب تک یہ بات نہیں بیٹھ رہی تھی کہ ماہر سے اُس کی شادی جائز ہے وہ دونوں کوئی سگے بہن بھائی تو ہیں نہیں۔۔۔
وہ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد جلدی سے اٹھی تھی۔
دوپٹہ اٹھا کر خود پر اوڑھا اور جلدی سے کمرے سے نکلی۔
لمبی راہ داری عبور کر کے وہ آخری دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تھی۔
سامنے بہرام خانزادہ شاید ابھی آفیس سے لوٹا تھا۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا۔
شیشے سے پلوشے کو اندر داخل ہوتے دیکھ وہ مسکرا کر پلٹا۔
جانتا تھا وہ کس وجہ سے اس کے پاس آئی ہے۔
“لالا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”
وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی تو وہ بھی سر ہلاتا اُس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“پہلے آپ وعدہ کریں میری بات مانیں گے”
وہ التجا کرتے ہوئے بولی تھی۔
“اگر بات ماننے کی ہوئی تو میں اپنے بچے کی بات ضرور مانوں گا”
بہرام نے محبت سے کہا وہ اُس کی اگلی بات سے واقف تھا اس لیے پہلے ہی وعدہ نہیں کیا۔
“لالا مجھے ماہر لالا سے نکاح نہیں کرنا۔۔۔وہ بلکل میرے بھائی جیسے ہیں۔ میں نے بچوں سے اُنہیں بلکل بھائی سمجھا ہے تو اب اچانک میں کیسے اُن سے نکاح کر لوں پلیز آپ بڑے بابا سے بات کریں نا”
وہ بے بس نظروں سے بہرام کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔
بہرام کو بھی اُس کے احساسات کا خیال تھا۔
یوں اچانک رشتے کو بدل دینا اُس کے لیے آسان ہرگز نہیں تھا۔
لیکن وہ بھی کیا کرتا اپنے دوست کی محبتِ تو اسے سونپنی ہی تھی۔
“پلوشے آپ کو خود کو منانا پڑے گا گڑیا۔۔۔آپ جانتی ہو نا ماہر نے اپنی خواہش سے رشتہِ مانگا ہے۔ یوں اب اگر ہم اچانک سے انکار کریں گے تو چاچو کیا سوچیں گے “
بہرام نے پیار سے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اُس نے نم انکھوں سے بہرام کو دیکھا تھا۔
“لیکن لالا میں نے ابھی پڑھنا بھی ہے اور اپنا بزنس بھی سٹارٹ کرنا ہے۔۔۔”
اُس نے ایک اور وجہ سامنے رکھی تو بہرام نے ہونٹوں کا کنارا دانتوں میں دبا کر اُسے دیکھا۔
“چندہ آپ کو کس نے روکنا ہے۔۔۔ویسے بھی بابا نے چاچو کو کہا ہے کہ ابھی آپ کی پڑھائی مکمل ہو گی پھر ہی رخصتی کریں گے اور ماہر شادی کے بعد بھی آپ کو بزنس سے نہیں روکے گا پریشان مت ہو”
بہرام کی بات پر اُس نے حیرت سے سر اٹھایا تھا۔
اُسے تو یہی ڈر تھا کہ ماہر اسے کبھی بھی بزنس کی اجازت نہیں دے گا۔
وہ جانتی ماہر لڑکیوں کے لیے بہت پوسیسیو ہے۔
اسی لیے وہ تھوڑا پریشان ہو گئی تھی۔
کِیُونکہ اپنا بزنس کرنا اُس کا بہت بڑا خواب تھا تو وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کے خواب میں کوئی بھی رکاوٹ ائے ، لیکن اب بڑے بابا نے اسے منا لیا تھا تو وہ بھی تھوڑی مطمئن ہوئی۔
“لالا آپ پہلے وعدہ کریں مجھ سے کے ماہر لالا مجھے بزنس کرنے دیں گے “
وہ ہار مانتی آہستہ سے بولی تو بہرام مسکرا کر اُس تک آیا تھا۔
اُس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا پھر نرمی سے خود سے لگایا تو وہ بھی ہنس دی تھی۔
“چندہ اب اُسے لالا مت کہو نا اب تو آپ دونوں کا رشتہ بدل رہا ہے ، جہاں تک بات ہے بزنس سے روکنے کی وہ روکے تو سہی میری گڑیا کو ایسا حشر کروں گا اُس کا کہ زندگی بھر یاد رکھے گا”
بہرام محبت سے بولا تو پلوشے نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا۔
اُسے اپنے لالا کی بات پر مکمل یقین تھا۔
اُسے خود پر سے سارا بوجھ اُترتا محسوس ہوا تو وہ اب دل سے خوش ہو چکی تھی۔
وہ معصوم یہ بات بھی بھلا چکی تھی کہ کچھ دنوں میں اُس کا نکاح ماہر خانزادہ سے رکھ دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سیرت بی بی آپ کو سب بڑے صاحب کے کمرے میں بلا رہے ہیں۔۔۔جلدی سے آ جائیں جی”
ملازمہ سیرت کے کمرے میں آتے ہی بولی تو وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لائی تھی۔
“سب کیوں جمع ہیں وہاں۔۔۔۔کوئی خاص بات ہے کیا۔۔تم نے سنا کچھ”
سیرت جلدی سے کھڑی ہوتی دروازے تک اتے تجسس سے بولی۔
“نہیں بی بی جی میں نے کچھ نہیں سنا مگر کمرے میں سب ہی موجود ہیں تو آپ بھی آ جائیں”
وہ کہتی ہوئی واپس پلٹ گئی تو سیرت بھی بڑے بابا کے کمرے کی طرف ائی۔
وہ دروازہ کھول کر اندر آئی تو تقریباً حویلی کے تمام افراد ہی جمع تھے۔
وہ بھی خاموشی سے صوفے پر نورین شاہ کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
اُسے بہرام خانزادہ کی گہری نظریں خود پر شدت سے محسوس ہو رہی تھیں۔
وہ سب کی موجودگی میں اُس کی بے باک نظروں سے گھبراتی سمٹ سی گئی تھی۔
“میں نے سوچا ہے کہ پلوشے کے نکاح کے ساتھ مرحا کی رخصتی بھی کر دی جائے۔۔۔میں اب اپنی زمہ داری سے جلد از جلد سبکوش ہونا چاہتا ہوں۔ارمان کو بھی اپنی زمہ داری کا احساس ہو گا۔ ویسے بھی مرحا کے دو سمیسٹر ہی رہتے ہیں پھر اس نے گھر ہی بیٹھنا ہے تو رخصتی میں کوئی حرج نہیں”
ازمیر خانزادہ سنجیدگی سے بولے تھے۔
ان کی بات سب کو ہی درست لگی تھی سوائے دو لوگوں کے۔
ایک تھا ارمان خانزادہ
اور دوسری مرحا ارمان خانزادہ
مرحا نے بے بسی سے پاس بیٹھی شائستہ بیگم کا ہاتھ سختی سے جکڑا تھا۔
اُس میں سب کے سامنے بولنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
مگر وہ ابھی رخصتی ہرگز نہیں چاہتی تھی۔
بیشک ارمان آہستہ آہستہ اُس کے ساتھ ٹھیک ہو رہا تھا مگر کیا پتا وہ ابھی ایسا نہ چاہتا ہو۔
شائستہ بیگم نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلایا تھا۔
ارمان نے پہلے ایک نظر اُس پر ڈالی پھر ازمیر خانزادہ کی طرف دیکھا۔
“بابا آپ پہلے بہرام لالا کے بارے میں سوچیں پھر میرے بارے میں کچھ کیجئے گا”
ارمان سنجیدگی سے کہی گئی بات پر مرحا کے ہونٹوں پر آسودہ سے مسکراہٹ ائی تھی۔
یہی تو وہ نہیں چاہتی تھی کہ ارمان سب کہ بیچ اُس کی عزت دو کوڑی کی کر دے۔
وہ کوئی اتنی بھی گری پڑی نہیں تھی کہ پہلے زبردستی اسے ارمان کے نکاح میں باندھ دیا اور اب زبردستی رخصتی کروا رہے تھے۔
“میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا، اپنا فیصلہ سنایا ہے۔۔۔اب تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلے”
ازمیر خانزادہ غصے سے اُسے دیکھتے سختی سے بولے تو وہ خون کے گھونٹ بھرتا خاموش ہو چکا تھا۔
بہت صبر کے باوجود بھی مرحا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔
شائستہ بیگم نے اُس کی آنکھیں جلدی سے صاف کی تھیں تاکہ کوئی دیکھ نہ لے۔
لیکن ارمان خانزادہ دیکھ چکا تھا۔
وہ جانتا تھا اس وقت اُس بیچاری کی کیا فیلنگز ہوں گی۔
بغیر ماں باپ کے وہ آج تک خاموشی اور صبر سے اُن کے ساتھ رہی تھی۔
بیشک سب ہی اُس سے بہت محبت کرتے تھے اُس کا بہت خیال رکھتے تھے مگر ارمان نے کبھی نہیں سنا تھا کہ اُس نے کبھی بھی کسی بھی بات پر کوئی ضد کی ہو۔
سیرت اور پلوشے پھر بھی کبھی کبھار کسی نہ کسی بات پر ضد کر لیا کرتی تھیں مگر مرحا نے کبھی کوئی الگ خواہش نہیں کی تھی۔
ارمان جانتا تھا وہ اُس پر ضرورت سے زیادہ سختی کرتا ہے مگر وہ ہمیشہ اُس کی ہر بات خاموشی سے مان لیا کرتی تھی۔
اُس نے کبھی ارمان کی کسی بات پر بے وجہ بحث نہیں کی تھی۔
جانے کیسے آج ارمان خانزادہ کو افسوس ہوا تھا۔
اتنے لوگ ہونے کے باوجود بھی وہ کتنی اکیلی تھی۔
کون تھا اس کے پاس جس سے وہ اپنی باتیں شیئر کرتی۔
ہر لڑکی کو زندگی کے ہر موڑ پر ماں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر اُس کے پاس ماں نہیں تھی۔
ہر لڑکی کو اپنی ذاتی باتیں کرنے کے لئے بہن کی ضرورت ہوتی ہے، حفاظت کے لیے باپ اور بھائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر مرحا کے پاس ایسا کوئی رشتہ نہیں تھا۔
ایک وہ خود شوہر تھا تو بھی کیسا شوہر تھا۔
کبھی اُس سے پوچھا تو نہ تھا کہ تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتاؤ میں لیتا آؤں۔
تمہیں کہیں جانا ہے تو میں چھوڑ دوں؟
خواہ ارمان خانزادہ نے اپنی بیوی کو ہمیشہ دوسروں کے آسرے پر رکھا تھا۔
لیکن وہ بيچاری پھر بھی اُس سے محبت کرتی رہی۔
ارمان نے بمشکل اُس کے ستے چہرے سے نظریں چرائی تھیں۔
ازمیر خانزادہ نے سنجیدگی سے مرحا کو دیکھا پھر اُسے نظر انداز کرتے زبیر خانزادہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
“میں تم سے باقاعدہ طور پر بہرام کے لئے سيرت کا ہاتھ مانگتا ہوں”
اُن کی بات پر بہرام کے ہونٹوں کی تراش خود بہ خود مسکراہٹ میں ڈھلی تھی۔
جبکہ سیرت اُن کے الفاظ سنتے ہی شرم سے لال ہوئی تھی۔
“جی لالا مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے میں نے تو سیرت کے پیدا ہوتے ہی اُسے بہرام کے لیے سوچ لیا تھا”
زبیر خانزادہ مسکرا کر بولے تو ازمیر صاحب نے سیرت کی طرف دیکھا۔
“سیرت بچے آپ کو کوئی اعتراض ہو تو بتائیں”
اُنھوں نے براہ راست اُسے مخاطب کرتے پوچھا تو اُس نے سے جھکا کے نفی میں سر ہلا کر بہرام خانزادہ کے دل میں اپنے لیے دیوانگی مزید عروج پر پہنچائی تھی۔
“ٹھیک ہے اب میرا یہی فیصلہ ہے کہ پلاشے کے ساتھ ہی بہرام کا نکاح عصر کے وقت ہو گا۔۔۔اور اسی رات کو مرحا کی رخصتی ہوگی۔۔۔اب پیچھے کوئی پانچ دن ہی رہ گئے ہیں تیاریاں شروع کرو کل سے”
ازمیر خانزادہ نے سری بات ختم کی تو وہ سب آہستہ آہستہ اُن کے کمرے سے نکلے تھے۔
مرحا آخر میں اپنے کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ بہت اچانک ہی ارمان اُس کے روم میں آتا اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے ساتھ کھینچتا ہوا اپنے روم میں لایا تھا۔
اسے روم میں لا کر ارمان نے دروازہ لوک کیا تو وہ سانسیں روکے حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
Episode 10
“دروازہ کیوں بند کّک۔۔۔ کیا آپ نے”
وہ گھبراتی ہوئی بولی۔
ارمان خانزادہ نے پلٹ کر اُسے دیکھا جو اس وقت سادہ سے مہرون رنگ کے شلوار قمیض میں بے حد خوبصرت لگ رہی تھی۔
ارمان اُس کے قریب آیا اور اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے بیڈ کے پاس لایا۔
اسے آرام سے ایک سائڈ پر بٹھا کر خود بھی اُس کے پاس بیٹھ گیا۔
“ایم سوری”
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔
مرحا نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا۔
کیا یہ الفاظ ارمان خانزادہ کے لبوں سے ادا ہوئے تھے؟
کیا ارمان خانزادہ بھی مرحا سے معافی مانگ سکتا تھا؟
“کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی”
ارمان شرمندہ سے لہجے میں اُسے دیکھتا ہوا بولا۔
مرحا کو ارمان چاہے جو بھی کہے مگر وہ اُس کے منہ سے یہ الفاظ نہیں سننا چاہتی تھی۔
اُسے اپنے شوہر سے ہر حال میں محبت تھی چاہے وہ اُسے ڈانٹے یا نہیں۔
لیکن ارمان کا لہجہ ہی اُسے بہت کچھ سمجھا رہا تھا۔
مرحا جو ہمیشہ اللہ سے دعا کرتی تھی کہ ارمان کے دل میں اُس کے لیے نرمی ڈال دیں۔
آج اپنی دعا قبول ہونے پر دل میں اللہ کہ ڈھیروں شکر ادا کیا۔
“ارمان آپ معافی کیوں مانگ رہے ہیں۔۔۔آپ شوہر ہیں میرے۔ مجھے ہرگز نہیں پسند کے شوہر بیوی سے معافی مانگیں”
وہ محبت اور احترام سے بولی تھی۔
ارمان نے مسکرا کر اُس کے جھکے سر کو دیکھا کچھ دنوں سے یہ لڑکی اُس کے دنوں کا آرام اور راتوں کی نیند چھین چکی تھی۔
آج اُس کا رونا ارمان سے برداشت نہیں ہوا تو اُس نے جانے کیسے اچانک ہی اپنی انا کو سائڈ پر رکھ کر اُس سے معافی مانگنے کا سوچ لیا تھا۔
“ویسے تو بڑے محبت کے دعوے کیے جاتے ہیں مجھ سے۔۔۔اب اچانک کیا ہوا جو رخصتی کے نام پر ہی رونے لگی میری چھوٹی سی بیوی”
ارمان نے محبت سے اُسے اپنے قریب کرتے ایک ہاتھ اُس کی کمر میں ڈال کر شرارت سے کہا۔
مرحا کی حالت اُس کے قریب ہوتے ہی عجیب سی ہو رہی تھی۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا گویا ابھی سینا چیر کر باہر آ جائے گا۔
“م۔۔جھے ماما۔۔ب۔ابا کی یاد آ گئی تھی”
اُس نے خود ہی سر ارمان کے سینے میں چھپاتے ہوئے بھرائی آواز میں کہا تھا۔
ارمان اُس کے روانگی سے بہتے آنسو اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا۔
“میرے سامنے نام مت لو اُن کا”
ارمان تھوڑی سختی سے بولا تھا۔
اُسے بچپن سے ہی اپنی پھپھو سے نفرت تھی۔
مرحا جانتی تھی اُس کی نفرت کی وجہ اس لیے خاموش ہو جاتا کرتی تھی۔
“تمہاری ماما بھی میری ماما ہیں اور بابا بھی میرے بابا…تو میرے خیال سے تمہیں کسی اور کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں”
ارمان نے سنجیدگی سے اُسے کہا تو مرحا نے آنسو صاف کیے۔
“ارمان پلیز آپ رخصتی ابھی مت کروائیں ۔۔۔۔ بابا کو منع کر دیں میں ابھی تیار نہیں ہوں اس سب کے لیے”
مرحا نے مدد طلب نظروں سے اُسے دیکھتے کہا تو ارمان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“جی نہیں میڈم رخصتی جمعہ کو ہی ہو گی جو تیاری کرنی ہے کر لو”
وہ اُس کے بال سمیٹتے ہوئے بولا۔
مرحا نے ناراضگی سے اُس سے چہرہ پھیر لیا۔
جانے کیوں اچانک ارمان کو آگ سی لگی تھی۔
“مجھے یہ روٹھنا منانا بلکل بھی نہیں بھاتا۔۔۔خیال رکھنا آئندہ اس چیز کا۔ چھوٹی سی بات ہوتی نہیں ہے اور تم بیویاں ناراض ہو جاتی ہو”
ارمان نے اُس کا بازو زور سے پکڑ کر اُس کا رخ اپنی طرف کیا۔
وہ پل میں اپنے جلاد روپ میں آیا۔۔۔
مرحا نے حیرت سے اُسے دیکھا جو بلکل مذاق کے موڈ میں نہیں تھا۔
وہ آہستہ سے سر ہلاتی اُس سے تھوڑی دور ہو بیٹھی تھی۔
جانے کیوں اب اُسے ارمان سے ڈر سا لگ رہا تھا۔
“رات کو میں روم میں آؤں گا سونا مت”
ارمان کی بات پر وہ پریشان ہوئی۔
“کک۔۔۔کیوں۔کسی نے دیکھ لیا تو”
وہ فکر مندی سے بولی تو ارمان نے اُسے گھور کر دیکھا۔
“کسی نے دیکھ بھی لیا تو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔میں خود دیکھ لوں گا کیا کرنا ہے۔ تم بحث مت کرو”
ارمان نے کہا تو اُس نے نا چاہتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
ارمان اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ دن آ ہی پہنچا تھا جس کا اُن سب کو شدت سے انتظار رہا تھا۔
صبح سے حویلی میں چہل پہل سی تھی۔
سب لڑکے بھاگ دوڑ میں لگے تھے۔
اس وقت عصر کے ساڑھے چار بج چکے تھے۔
سب لڑکیاں ہی پالر میں کا چکی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں پلوشے اور سیرت کا نکاح ہونا تھا۔
“بہرام بیٹا جاؤ لڑکیوں کو لے آو دیر ہو رہی ہے”
شائستہ بیگم نے لون میں آ کر بہرام کو مخاطب کیا تو بہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔
ملازمین کو کام سمجھاتا وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
دس منٹ میں ہی اُس کی گاڑی پالر کے باہر مجود تھی۔
اُس نے ایک لیڈی ورکر کو اُنہیں بلانے کہ کہا اور خود گاڑی میں واپس آ کر بیٹھا۔
تبھی اُس کی نظر اُن تینوں پر پڑی تھی۔
بیشک تینوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ کے خوبصورت لگ رہی تھیں۔
سیرت نے گولڈن کلر کا گھرارہ پہن رکھا تھا۔
بہرام کی تو نظریں اُس سے چمٹ ہی گئی تھیں۔
پلوشے آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اور باقی دونوں پیچھے۔
بہرام نے بیک ویو مرر بلکل سیرت کے چہرے پر فٹ کرتے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔
سیرت اُس کی نظروں سے گھبرا کر رخ مرحا کی طرف موڑ گئی تو بہرام کے چہرے پر غُصہ سا آیا تھا۔
اُسے سیرت کی خود سے ذرا بھی بے رخی منظور نہیں تھی۔
بہرام نے اچانک گاڑی کی سپیڈ اس قدر بڑھائی تھی کہ وہ تینوں ہی حیران ہو گئیں۔
بہرام تو ہمیشہ احتیاط سے ڈرائیو کرتا تھا۔
سیرت اُس کے غصے کی وجہ سمجھ کر فوراً سیدھی ہوئی تھی مگر اب بہرام خانزادہ ناراض ہو چکا تھا۔
اُس نے گاڑی آ کر حویلی کے پورچ میں روکی تو وہ تینوں باہر نکلی تھیں۔
ملزمائیں اُن کے لیے پہلے ہی کھڑی اُن کا انتظار کر رہی تھیں۔
وہ تینوں جیسے باہر نکلیں ملازماؤں نے اُن سے سے اُن کے پرس وغیرہ تھام لیے تھے۔
وہ آہستہ سے اندر آئیں تو شائستہ اور نورین بیگم نے اُنہیں اپنے اپنے کمروں میں کا کر کچھ دیر آرام کرنے کا کہا۔
کِیُونکہ کچھ ہی دیر میں نکاح خواہ انے والا تھا۔
وہ تینوں ہی اپنے اپنے کمروں میں آ گئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کافی دیر سے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی شرٹ کی ڈوریاں باندھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اُس کی شرٹ کی بیک بلکل ڈوریوں پر مشتمل تھی۔
اگر وہ ڈوریاں بند بھی کر لیتی پھر بھی اُس کی ساری کمر بلکل واضح تھی۔
اُس نے اور مرحا نے شرم کی وجہ سے پالر میں بھی لیڈی ورکر سے بند نہیں کروائی تھیں۔
پلوشے تھوڑی براڈ ماينڈڈ تھی تو اُس نے اپنی ڈوریاں پالر سے ہی بند کروا کی تھیں۔
اُن تینوں کہ ہی ایک جیسے گھرارے تھے۔ جو مرحا نے پسند کیے تھے۔
وقت کم ہونے کی وجہ سے اُنہیں ایک جیسے ڈریسز ہی لینے پڑے تھے۔
پلوشّے کا آف وائٹ گھرارہ تھا۔
مرحا کا سلور اور سیرت کا گولڈن۔
تینوں ہی اپنے اپنے ڈریسز میں قیامت ڈھا رہی تھیں۔
سیرت نے کافی کوشش کی تھی مگر اُس سے جب ڈوریاں بند نہیں ہوئیں تو اب وہ پریشانی سے کھڑی ہونٹ کاٹ رہی تھی۔
تبھی دھاڑ سے دروازہ کھلا تو وہ بھی جھٹ سے پلٹی۔
بہرام خانزادہ آندھی طوفان بنا اُس کی طرف قدم بڑھانے لگا۔
وہ اُس سے خوف کھاتے جلدی سے پیچھے دیوار سے ٹیک لگا گئی تھی۔
وہ بلکل نہیں چاہتی تھی بہرام ابھی اُس کی کمر دیکھے وہ اُس کے لیے غیر محرم تھا۔
اُس نے نظر اُٹھا کر اُسے دیکھا جو اس تک پہنچ ہی چکا تھا۔
وہ کييول سے ہوليے میں بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
سیرت نے دل ہی دل میں ماشاللہ پڑھا تھا۔
بہرام نے اُس سے ایک قدم کے فاصلے پر رک کر خون خوار نظروں سے اسے دیکھا۔
سیرت تو اُس کی اس قدر سخت نظریں دیکھ کر جلدی سے سے جھکا گئی تھی۔
اب اُس نے کوئی اتنی بھی بڑی غلطی نہیں کی تھی جو بہرام خانزادہ کو یوں آگ لگ گئی تھی۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھ سے نظریں پھیرنے کی۔۔۔۔سمجھتی کیا ہو تم خود کو ہاں”
بہرام برہمی سے بولا۔
وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ایک پل کو بہرام کا دل نہیں کیا تھا اُس سے سخت لہجے میں بات کرنے کا مگر اُسے سیرت پر غصّہ ہی اتنا تھا کہ دل کر رہا تھا اُس کی اس چھوٹی سی حرکت پر زمین آسمان ایک کر دے۔
“بہرام۔۔۔آپ اتنے ہائپر کیوں ہو رہے ہیں۔۔میں نے تو بس یونہی رکھ بدلا تھا”
وہ بيچارجگی سے بولی تو بہرام نے اُسے گھور کر دیکھا۔
“جب میں تمہاری طرف دیکھ رہا تھا تم نے تب ہی رکھ بدلنا تھا ؟”
وہ دوبارہ سے دھاڑا تو سیرت کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے۔
“ایم سوری”
اُس نے دھیمی سے آواز میں ایکسکیوز کیا تو بہرام تھوڑا ٹھنڈا پڑا۔
“آؤ چلیں نیچے”
اُس نے ہاتھ سیرت کی طرف بڑھا کر کہا تو سیرت نے پریشانی سے اسے دیکھا تھا۔
“آ۔۔۔آپ نے کپڑے نہیں چینج کرنے”
اُس نے بہرام کو یاد دلایا تھا۔
“نہیں۔۔۔صرف نکاح ہی تو ہے انہیں کپڑوں میں ہو جائے گا رات کو کپڑے چینج کر لوں گا تم آؤ”
بہرام نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
وہ اب شدید قسم کی شرمندگی کا شکار ہو رہی تھی۔
اگر بہرام کو اپنی پریشانی بتاتی تو اسے غصّہ آ جانا تھا۔
وہ اب اس حال میں نیچے بھی نہیں جا سکتی تھی۔
اس وقت سیرت پر یہ محاورہ بلکل فٹ آ رہا تھا کہ آگے کنواں پیچھے کھائی۔
جب کافی دیر بعد بھی سیرت نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں نہیں دیا تو بہرام نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
اُس کے چہرے پر ٹینشن صاف دکھ رہی تھی۔
“سیرت وٹ ہيپیند۔۔۔از دئیر اینی پروبلم؟”
اُس کے سوال پر سیرت نے مرتے کیا نا کرتے کے حال میں دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو بولو بھی کیا ہوا ہے”
بہرام نے ایک آیبرو اچکا کر اُسے دیکھتے کہا تو سیرت نے بڑی مشکل سے سر اٹھا کر بہرام کی جانب دیکھا۔
“میں۔۔میں آپ کو نہیں بتا سکتی۔۔۔کچھ پرائیویٹ بات ہے۔۔۔آپ پلیز مرحا یہ ماما کو بلا دیں”
اُس نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی۔
“ایسی کی تیسی تمہاری پرائیویٹ بات کی میں کوئی ملازم نہیں لگا تمہارا کہ کسی کو بلا دوں۔۔۔بتانی ہے تو مجھے بتاؤ اپنی پریشانی نہیں تو چلو نیچے”
وہ بے زاری اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولا تو سیرت کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔
کس مصیبت میں پھنس گئی تھی وہ۔۔۔
“بہرام پلیز بات ضروری ہے اور میں آپ سے بھی نہیں کے سکتی”
اُس نے بے بسی اور التجا سے کہا۔
بہرام نے غصے سے اُس کا دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر اُس پر ڈالا اور اُس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچا۔
ابھی وہ دروازہ کھول ہی رہا تھا کہ اُس کا ہاتھ کسی نرم سے چیز سے ٹکرایا۔
بہرام نے جھٹکے سے مڑ کر اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا تھا۔
جب نظر اُس کی کمر پر گئی تو بہرام کا پورا وجود ہی آگ کی لپیٹ میں آیا تھا۔
اُس نے غصے سے نظریں اٹھا کر سیرت کو دیکھا جو اب شرم اور خوف سے سرخ پڑ چکی تھی۔
“وٹ دا۔۔۔”
بہرام نے بمشکل اپنے الفاظ پر قابو پایا اور اُس کا بازو پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا۔
“یہ کیا بے ہودگی ہے”
وہ سختی سے چیخ کر بولا تو سیرت کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اُس کے پاؤں پر گرے۔
“ب۔۔بہرام وہ۔۔”
ڈر کی وجہ سے اُس کی زبان سے الفاظ ہی نہیں ادا ہوئے تھے۔
“اگر ایک چیز پر دھیان نہیں بھی دے پایا میں۔۔۔تو تم نے مجھے یہاں بھی ضرور احساس کروانا تھا کہ میں تمہارے ہر معاملے میں تم پر نظر رکھا کروں۔۔۔۔۔کوئی۔۔کوئی ایک کام تو بندہ عقل سے کر ہی لیتا ہے مگر نہیں سیرت محترمہ میں تو عقل ہے ہی نہیں “
وہ غصے سے کہتا اُسے وہیں چھوڑے باہر آیا تھا۔
سیرت نے اُس کے جاتے ہی سکھ کا سانس لیا۔
کچھ ہی دیر میں پلوشے اُس کے پاس ائی کہ بہرام نے اُسے بھیجا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماما یہ ڈریسز پہننے لائک ہیں جو ان تینوں نے پہن رکھے ہیں”
بہرام آگ بگولا ہوتا اوپر کے پورشن میں بنے لاونج میں آیا تھا جہاں ارمان کے شائستہ بیگم کھڑے کوئی بات کر رہے تھے۔
وہ شدید ترین سرد لہجے میں بولا تو ارمان نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
جبکہ شائستہ بیگم کو اس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا۔
اُنھوں نے مرحا کو سمجھایا بھی تھا کہ یہ ڈریس مت لو مگر اُس کی شادی تھی تو اُنہیں اُسے روکنا ٹوکنا مناسب نہیں لگا تھا۔
پہلے ہی وہ ان دونوں بے حد دکھی رہنے لگی تھی۔ بات بات پر رونے لگتی تھی۔
اُس کے دیکھا دیکھی باقی دونوں نے بھی ضد کر کے سیم ڈریسز کے لیے تھے۔
شائستہ بیگم نے اُنہیں کئی دفعہ یاد دلایا تھا کہ مردوں کے سامنے احتیاط کرنا کسی نے بھی اُن کے ڈریس دیکھ لیے تو اُن تینوں کے ساتھ ساتھ شائستہ بیگم کی بھی ڈانٹ پکی تھی۔
اب بہرام کو غصے میں دیکھ اُنھوں نے پریشانی سے اُن دونوں کو دیکھا تھا۔
یقیناً اب بات پھیلنے ہی والی تھی اور اگر یہ بات ازمیر خانزادہ کو معلوم ہو جاتی تو شائستہ بیگم نے تو اپنی خیر ہی مناتے ره جانا تھا۔
“بہرام بیٹا ٹائم کم تھا تو جو ملا بس لے لیا،اس میں بچیوں کہ کیا قصور”
اُنھوں نے نرمی سے بات سنبھالنی چاہی۔
ارمان اب عجیب نظروں سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“کوئی مجھے بتائے گا کہ یہ کیا کہ رہے ہیں آپ دونوں”
ارمان جھنجلا کر بولا تو شائستہ بیگم نے بہرام کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
لیکن بہرام جس ادر غصے میں تھا اُس نے اُن کے اشارے کو سرے سے نظر انداز کر دیا تھا۔
“جو ڈریسز انہوں میں پہنے ہیں۔ اتنے بے ہدہ اور گھٹیا قسم کے ہیں کہ میرا دل کر رہا ہے یا تو فنکشن کیسنل ہو یا پھر یہ کپڑے بدلیں”
بہرام نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو ارمان کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا۔
“کس نے لینے دیئے اُنہیں۔۔۔ماما آپ لوگ ساتھ تھیں ناں”
ارمان چاہتے ہوئے بھی اپنا لہجہ پر احترام نہیں بنا پایا تھا۔
“بیٹا مرحا کو پسند آ گیا تو مجھے اُسے ٹوکنا اچھا نہیں لگا۔۔۔پہلی دفعہ بچی نے کوئی خواہش کی تھی میں کیسے ٹال دیتی اوپر سے اُس کی رخصتی انے والی تھی ، وہ پہلے ہی بہت اُداس تھی اس لیے میں نے لینے دیئے اُن کی پسند کے کپڑے”
شائستہ بیگم کے لہجے میں اُس کے لیے محبت ہی محبت تھی۔
لیکن وہ یہ بات ارمان کو بتا کر اُس بیچاری کے لئے جو مشکل بنا چکی تھیں وہ ابھی پتہ چلنا تھا۔
ارمان تیزی سے وہاں سے نکلا تو بہرام کو بھی مرحا کی فکر ہوئی۔
وہ ارمان کو جانتا جو تھا جس نے اب جا کر اُسے پتہ نہیں کیا کیا سنانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحا جب سے روم میں ائی تھی بمشکل ہی اپنے آنسو روک رہی تھی۔
آج اس کہ دل بہت اُداس تھا۔
بار بار کسی بھی سونے کو پکار رہا تھا۔
اس وقت میٹو لڑکیوں کے پاس کو بہت قریبی ہونا چاہیے جس کے گلے لگ کر وہ اپنا غم ہلکا کر لے۔
کتنا اچانک ہو گیا تھا يہ سب اُس نے تو ابھی ایسا بلکل نہیں سوچا تھا۔
مرحا نے ٹائم دیکھا تو عصر کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔
ابھی سیرت اور پلوشے کے نکاح ہونے تھے تب تک اسے روم میں ہی رہنا تھا۔
پھر رات کو اس کی رخصتی کا چھوٹا سا فنکشن تھا تب وہ باہر جاتی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی شیشے کے سامنے ائی۔
دونوں ہاتھ کمر پر لے جا کر ڈوریاں باندھنے کی کوشش کی مگر اُس کا ہاتھ پہنچ ہی نہیں پا رہا تھا۔
اُس نے اُنہیں یونہی چھوڑ دیا کہ جب سیرت ائے گی تو اُس سے بندھوا لے گی۔
ابھی وہ وہیں کھڑی تھی کہ ارمان تیزی سے اُس کے روم میں داخل ہوا تھا۔
اُس کی نظریں اپنے لباس پر ہی گڑھی محسوس کر کے مرحا کو کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا۔
اُس کی نظریں ہی بتا رہی تھیں وہ کچھ کھوج رہا ہے۔
ارمان نے اُسے کندھے سے پکڑ کر اُس کا رخ موڑا ہی تھا کہ جب نظریں اُس کی پتلی سفید کمر پر ٹھہریں۔
ارمان کا اندر خون کے شرارے دوڑنے لگے تھے۔
“یہ تم نے پسند کیا ؟”
ارمان کے سوال پر اُسے لگا اُس کی بچی کھچی سانسیں بھی جواب دے جائیں گی۔
اُس کے حلق میں تو جیسے کچھ پھنس سا گیا۔
ارمان نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے دیوار سے لگایا تو کے وہ دونوں بازو کمر پر رکھتی اُسے چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔
اب اُس کا چہرہ دیوار کی طرف تھا اور کمر ارمان کی طرف۔
ارمان نے اُس کی ڈوریاں اپنے ہاتھوں میں لیں اور اُنہیں اتنی سختی سے باندھنے لگا کہ مرحا کی کمر میں شدید تکیلف ہوئی تھی۔
“ارمان۔۔۔پلیز۔۔آرام۔سے۔کریں۔۔مجھے۔۔درد۔ہو۔رہا۔ہے”
وہ اٹکتی ہوئی بولی تھی۔
مگر ارمان خانزادہ نے اپنے پورے زور سے اُس کی ڈوریاں مکمل باندھ دیں۔
“یہی تو میں چاہتا ہوں کہ جب تک تم یہ ڈریس پہنے رکھو تمہیں يہ تکلیف تب تک یاد دلاتی رہے کہ تم نے یہ ڈریس پسند کر کے کتنی بڑی غلطی کی ہے”
ارمان سرد لہجے میں اُس کے کان میں پھنکارہ تو مرحا نے خاموشی سے سے جھکا لیا تھا۔
اُس کی کمر میں واقعی بہت جلن ہو رہی تھی مگر وہ اب ارمان سے بلکل بات کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔
کاش وہ نہ دیکھتا۔۔۔
ارمان نے سنجیدگی سے آگے بڑھ کر صوفے سے اُس کا دوپٹہ اٹھایا اور اُس کے قریب آیا۔
ایک پلو پکڑ کے اُس کے ایک کندھے پر رکھا دوسرے سے کمر کو اچھے سے ڈھانپ کر اُس کے بازو پر لپیٹ دیا۔
“اگر آج تمہارے جسم کا ذرہ سا حصہ بھی میں نے اس دوپٹے سے باہر نکلے دیکھا تو مرحا يہ یاد رکھنا میں وہیں تمہارا وہ حصہ جلا دوں گا”
ارمان کی بات پر مرحا کی آنکھوں سے آنسو گرے۔
ارمان نے اُس کے آنسو دیکھے تو آرام سے اُسے تھام کر بیڈ پر بٹھایا۔
“یہ اپنا رونا دھونا کم کرو۔۔۔اتنی کمزور دل بنو گی تو زندگی نہیں گزار پاؤ گی”
ارمان اُس کے آنسو صاف کرتے سنجیدگی سے بولا۔
“ار۔۔مان م۔۔۔مجھے ڈر لگ۔۔رہا ہے”
وہ پھر سے روتی ہوئی بولی تو ارمان نے اُسے نرمی سے خود سے لگایا۔
“کیوں ڈر لگ رہا ہے”
وہ پیار سے بولا مگر مرحا دونوں ہاتھ اُس کی گردن میں ڈال کر چہرہ اُس کے سینے میں چھپائے آنسو بہائے گئی۔
“مرحا”
ارمان نے اُس کی کمر تھپتھپاتے اُسے پکارا۔
مگر جانے کیوں اُس کا دل بہت گھبرا رہا تھا۔
چاہ کر بھی وہ اپنے آنسو نہیں روک پا رہی تھی۔
ارمان نے پھر سے اُس کی آنکھیں صاف کیں اور اُس کی جھومر کو ٹھیک کیا۔
“کچھ بھی نہیں ہو گا تم ڈرو مت سب ٹھیک ہے۔۔۔اپنی حالت خراب مت کرو بہت پیسے لگے ہیں تمہارے شوہر کے تمہیں چوڑیل سے پری بنوانے میں اب یوں رو گی تو پھر سے اصل روپ میں آ جاؤ گی ڈارلنگ”
ارمان نے شرارت سے کہتے اس کا موڈ بہتر کرنا چاہا۔
مرحا نے تکیہ اٹھا کر اُسے مارا تھا جسے پکڑتا وہ ہنس دیا۔
“چوڑیل ہوں گے آپ میں تو واقعی پری ہوں”
وہ معصومیت سے بولی۔
ارمان نے جھٹکے سے اٹھتے اُس کی گال پر شدت سے لب رکھے تھے ، ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ ارمان خانزادہ اُس کے ادھ کھلے لبوں کا رس چکھتے تیزی سے پیچھے ہوا تھا۔
“اٹھو میک اپ ٹھیک کے لؤ۔۔۔رات کو میں ڈر نہ جاؤں”
ارمان نے پھر سے مذاق کیا تو مرحا نے اُسے گھور کر دیکھا۔
مگر اُس کی معنی خیز نظریں دیکھ کر وہ فوراً اپنی آنکھیں جھکا گئی۔
ارمان بھی مسکراتا ہوا اُس کے روم سے نکلا۔
ابھی اُسے خود بھی تیار ہونا تھا۔
