Muhabbat Ki Pehli Baarish By Amna Mehmood Readelle50148 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
میں نے سوچا کچھ اور تھا مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں تمہاری طرح حیوان نہیں ہوں. میں تمہارا بدلہ تمہاری بیٹی سے نہیں لے سکتا مگر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا. گاڑی چلاتے ہوئے حیات نے رانا صاحب کو میسج سینڈ کیا اور موبائل ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوئے سٹرینگ پر مکا مارا.
پتہ نہیں مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے. اچھا خاصا میں انسان تھا. مجھے کوئی چیز اچھی یا بری نہیں لگتی تھی سوائے اپنی گاڑی اور پیسے کے _ مگر آج کل میں بہت فضول باتیں سوچنے لگ گیا. بالوں میں ہاتھ پھیرتے حیات نے خود کو تنبیہ کی تبھی ڈیش بورڈ پہ پڑا اس کا موبائل بچنے لگا بھائی آپ کہاں ہیں. مجھے اپ سے ملنا ہے. فون اٹینڈ کرتے ہی حدید کی آواز سنائی دی. میں وہاں ہی ہوں جہاں ہوتا تھا اور تم کبھی بھی آ سکتے ہو. تمہارے آنے پہر نہ پہلے پابندی تھی اور نہ اب ہے. اس لیے زیادہ اخلاق دکھانے کی ضرورت نہیں. حیات نے روکھے سے انداز میں جواب دیا. آپ بہت بدل گئے ہیں. پہلے تو آپ میری ایک کال پر صدقے واری جاتے تھے اور اب حدید کے لہجے میں گلہ تھا.
میں اب بھی تمہارے صدقے واری ہی جاتا ہوں مگر تمہیں اب محسوس نہیں ہوتا. حیات کے جواب پر حدید کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا.
ویسے ایسی کون سے مجبوری تھی. جو تم نے یوں فون کیا. حیات کو اچانک خیال آیا.
بھائی میں نے شادی کرنی ہے. حیات اس بات کے لیے تیار نہیں تھا. اس لیے اس کا پاؤں بریک پر زور ڈال گیا. جس سے گاڑی جھٹکے سے رکی.
کیا _ حیات کے منہ سے بے ساختہ نکلا ہاں میں نے شادی کرنی ہے. اب آپ بڑے ہیں. تو آپ کو ہی بتاؤں گا ناااااا حدید کی آواز اب پہلے سے قدر آہستہ تھی.
بڑی مہربانی جو تم نے مجھے بتایا. ویسے کیا ڈی ایم مان گیا ہیں….؟؟ تجھ جیسے گدھے سے شادی کرنے کے لیے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے حیات نے طنز کیا. میں گدھا نہیں ہوں. ڈاکٹر ہوں. میری ہاؤس جاب شروع ہونے والی ہے. آپ مجھے ایسے نہیں بول سکتے. حدید کے جواب پر حیات مسکرایا. ہمممممم کیسے کیسے لوگ ڈاکٹر بن گئے ہیں….؟؟ حیات اب نارمل بات کر رہا تھا.
بھائی میں نے آپ سے ڈی ایم کے بارے میں بات کرنی ہے. حیات کا موڈ نارمل ہوتے ہی حدید نے ہمت کرتے ہوئے بات شروع کی.
میں ڈی ایم کے بارے میں کوئی بات نہیں سننا چاہتا. اگر تم نے کوئی اپنی بات کرنی ہے تو سو دفعہ آؤ اور اگر تم ڈی ایم کے وکیل بن کر آنا چاہتے ہو تو میری طرف سے معذرت قبول کر لو. حیات کا لہجہ ایک دم سخت ہوا.
صرف ایک بار میری بات سن لیں دوبارہ ضد نہیں کروں گا. حدید کے دوبارہ کہنے پر حیات خاموش ہو گیا.
بھائی پلیز صرف ایک بار حدید نے دوبارہ دہرایا.
چلو دیکھتے ہیں. گھر آؤ بیٹھ کے بات کرتے ہیں. حیات نے کہتے ہوئے گاڑی گھر کے راستے پہ ڈال دی.
پتہ نہیں گئی بھی ہے کہ نہیں جیسے یہ گاڑی گیٹ پر پہنچی حیات کو حرا کا خیال آیا. گاڑی لاک کرتا مرے مرے قدم اٹھاتا اندر کی طرف بڑھا جہاں مکمل خاموشی کا راج تھا. اس کا مطلب ہے کہ چلی گئی. حیات نے اپنے دل میں سوچا حالانکہ کہتی تھی کہ نہیں جاؤں گی. ایک آس سے روم کا دروازہ کھولا جہاں ہر چیز ترتیب سے پڑی ہوئی تھی اور حرا کا کہیں نام و نشان نہ تھا. کچھ عجیب سا لگ رہا ہے. اس کے بے تکے سوالوں کی عادت ہو گئی تھی. حیات نے خالی صوفے پہ نظر ڈالتے ہوئے موبائل، گاڑی کی چابی وائلٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور کوٹ اتارتا بیڈ پر ہی ٹانگیں لٹکائے نیم دراز ہو گیا. کچھ عجیب سی زندگی ہے میری، ایک ہی روٹین ہے. صبح اٹھ کے تھانے جانا. سارا دن رنگ برنگے لوگوں سے ملنا اور رات کو واپس گھر لوٹنا. جہاں کوئی آپ کا منتظر نہیں. حیات خود کلامی کرتا اٹھ بیٹھا. ابھی وہ اپنے کف لنک نکال ہی رہا تھا کہ باتھ روم کا دروازہ کھلا اور نکھری نکھری سی حرا باہر آئی. تم حرا کو دیکھتے ہی حیات کے ماتھے پر انگنت شکنیں نمایاں ہوئیں.
ہاں میں، کیا ہوا کوئی کام تھا مجھ سے _ لاپرواہ سے لہجے میں کہتی وہ صوفے پر آ بیٹھی. میں نے تمہیں کہا تھا کہ اپنے گھر چلی جانا. حیات نے اس کی طرف مڑتے ہوئے تیکھی نظروں سے دیکھا ہاں تو اپنے گھر ہی ہوں. حرا نے صوفے پر ٹانگیں سمیٹتے ہوئے جواب دیا. یہ تمہارا گھر نہیں ہے. حیات کا انداز جتلانے والا تھا. اچھااااااا حرا نے اچھا پر اتنا زور دیا کہ حیات اپنی نظریں پھر گیا مگر دل کے کسی کونے میں ایک سکون اور اطمینان اتر آیا تھا.
فلحال میں یہاں سے کہیں نہیں جانے والی کیونکہ یہاں میں بہت آرام سے ہوں. دیر سے سو کر اٹھتی ہوں. مجھے کوئی تنگ نہیں کرتا. اپنی پسند کا ناشتہ بنا بنایا مل جاتا ہے. مانگنا نہیں پڑتا. سب سے بڑی یہاں پر جو مجھے سہولت ہے وہ یہ کہ مجھے کوئی کالج جانے پر زور نہیں دیتا.اس لیے میں خوش ہوں. حرا نے اپنی بات کے آخر میں خوش ہوتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا جو دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا.
دیکھو میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتا. میں نے کچھ اچھا نہیں کیا. مجھے یہ ماننے میں شرم محسوس نہیں ہو رہی کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کر گیا ہوں. تمہاری عمر ابھی پڑھنے کی ہے شادی کی نہیں دوسرا یہ کہ میرا مسئلہ تمہارے باپ ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں.
تو یہ کہ مجھھ تمہیں بیچ میں نہیں گھسیٹنا چاہیے. اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم واپس چلی جاؤ. بات سمجھنے کی کوشش کرو. حیات نے اپنے کپ فولڈ کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا تو حرا نے اسے حیرت سے دیکھا
تم نرمی سے بھی بات کر سکتے ہو. حیرت ہے _ حرا کے اس قدر حیران ہونے پر حیات ہلکا سا مسکراتا سر نفی میں ہلانے لگا گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا. تم نے میری شادی کا پورا فنکشن برباد کر دیا ہے اور اب میں تمہاری زندگی برباد کر دوں گی. دوسرا جملہ حرا نے دل میں دہراتے حیات کی طرف دیکھا تمہارے ذہن میں یقیناً اس وقت کوئی الٹے خیالات ہی آ رہے ہوں گے کیونکہ جب تم بولتے بولتے چپ کر جاتی ہو نا تو اس وقت تمہارا شیطانی دماغ چل رہا ہوتا ہے. تمہارا صرف منہ بند ہوتا ہے. حیات نے انگلی سے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا جس پہ وہ ہنسنے لگی. نہیں ایسا کچھ نہیں ہے. میں تو بہت معصوم ہوں. حرا اپنی بات پر خود ہی ہنسی مگر یہ دیکھتے اس کی ہنسی کو سٹاپ لگا کہ حیات بھی مسکرا رہا تھا. کھانا لگواؤں کیونکہ میں بنا تو نہیں سکتی. حرا نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا. جس پہ وہ سر ہلاتا واش روم میں چلا گیا. اتنا بھی برا نہیں ہے. گزارا ہو سکتا ہے. حرا صوفے سے پاؤں نیچے کرتی بند دروازے کو دیکھنے لگی. 💰💰💰💰💰 بولو کیا بولنا چاہتے ہو. حیات نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے حدید سے پوچھا ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے. اندر بیٹھ کر ناسسسس بات کریں. حدید نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا جب کہ ارد گرد ٹھنڈی ہوا سے درخت ہل رہے تھے. نہیں یہیں بتاؤ کہ کیا بات ہے….؟؟ حیات نے ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے جواب دیا. اندر جانے میں کیا مسئلہ ہے…..؟ حدید نے ناراض نظروں سے حیات کی طرف دیکھا میں نہیں چاہتا کہ ہم دونوں کی بات کوئی تیسرا سنے. حیات کا اشارہ حرا کی طرف تھا. جس پر حدید خاموش ہو گیا. وہ تیسرا ہر صورت سن ہی لے گا. آپ جتنا مرضی چھپا لیں.حمنہ جب تک اسے ایک ایک بات نہ بتائے اسے روٹی ہضم نہیں ہوتی. حدید نے کہتے ہیں ہوئے لان میں نظر دوڑائی . تم بات کرو گے یا میں اٹھ کر چلا جاؤ. حیات نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا بھائی میری ڈی ایم سے بہت تفصیل میں بات ہوئی ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ بے گناہ ہیں مگر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ کو کہیں نہ کہیں غلط فہمی ضرور ہوئی ہے. جو تصویر آپ نے ذہن میں بنا رکھی ہے. ویسا نہیں ہوا تھا. حدید نے اپنے طور پر مناسب الفاظ چنے جس سے حیات کا کم سے کم دل دکھے. کمال ہو گیا. تمہیں مجھ سے زیادہ ڈی ای. پہ یقین ہے. تم نے ان کا نمک کھایا ہے اور آج حلال بھی کر دیا. ویسے مجھے تم پر فخر ہے کہ تم نمک حرام نہیں ہو. حیات تعریف کر رہا تھا یا تذلیل حدید کو کچھ سمجھ نہیں آیا. بھائی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو گزر گیا اسے بھول جائیں. وہ تبدیل نہیں ہو سکتا. ڈی ایم اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور کسی حد تک رانا انکل بھی وہ نہیں چاہتے کہ انہوں نے جوانی میں جو غلطیاں کی ہیں وہ ان کی اولاد کو پتہ چلے خاص طور پہ ان کی بیٹیوں کو حدید نے بڑے تحمل بھرے انداز میں گفتگو شروع کی. میں نے اپنی ساری زندگی اس ایک واقعے کی نظر کر دی ہے. تمہیں پتہ ہے میں نے ماں کو روتے ہوئے دیکھا ہے. میں نے ان کا جنازہ دیکھا ہے. پھر میں نے گھر سے نکل کر در بدر کی ٹھوکریں کھائی ہیں. تمہاری طرح نرم گرم بستروں میں نہیں سویا. تم بھول سکتے ہو. میں نہیں بھول سکتا. کبھی کبھی تو مجھے شک ہوتا ہے تم میرے بھائی ہو کہ نہیں. حیات کے لہجے میں بہت دکھ تھا. میں نے کب کہا کہ آپ غلط ہیں. میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس ایک واقعے کو لے کر اپنی زندگی میں اتنی تلخی مت گھول دیں کہ خوشیاں آپ کی زندگی میں داخل ہونے سے ڈریں. مجھے آپ کے لیے برا لگتا ہے. حدید نے فکر مندی سے حیات کی طرف دیکھا تو وہ طنزاً مسکرایا. اگر تمہیں میری ذرا بھی فکر ہوتی یا تمہیں میرے لیے برا لگتا تو تم ڈی ایم کے آگے کھڑے ہو جاتے مگر تم تو ان کے سفارشی بن گئے ہو. کیا ان کی محبت مجھ پر حاوی ہے……؟؟ حدید ذہنی طور پر اس سوال کے لیے تیار تھا. اس لیے خاموشی سے اٹھتا حیات کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا. آپ چاہیں تو مجھ پر غصہ کر لیں. آپ مجھے مار بھی سکتے ہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ گزری باتوں کو بھول جائیں اور ایک خوشگوار زندگی ہمارے ساتھ شروع کریں. حدید نے حیات کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے کہا ہمارے ساتھ سے مراد ؟؟ حیات نے حدید کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
ہمارے ساتھ سے مراد آپ اور حرا، میں اور حمنہ _ حدید مسکرایا تو حیات خاموش ہو گیا. میں حرا کو چھوڑ رہا ہوں. کچھ دیر بعد حیات نے بم پھوڑا. مگر کیوں وہ بہت اچھی لڑکی ہے. یقین مانیں اس کی موجودگی آپ کے لیے اچھی خاصی تھیراپی ہو گی. وہ بھی گھر بیٹھے بٹھائے. یہ جو آپ کو اکیلے پن کی عادت ہے نا یہ بھی ختم ہو جائے گی اور یہ جو آپ کی بور سے پرسنلٹی ہے نا یہ بھی تبدیل ہو جائے گی. حدید کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے. تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا. تم اس کی تعریف کرو مجھے اعتراض نہیں مگر مجھ میں تو کیڑے مت نکالو. اب کی بار حیات غصہ ہوا. سوری میں جو کہنا چاہتا ہوں. وہ کہہ نہیں پا رہا. بس میرا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ آپ پرانی باتوں کو بھول جائیں. جس نے جو بھی زیادتی کی اللہ ہے نا اس پر چھوڑ دیں اور اپنی زندگی کی خوشیوں کو چن لیں. آپ خود ہی تو کہتے ہیں خود نصیبی صرف ایک دفعہ ہی دستک دیتی ہے اور بد نصیبی بار بار حدید نے حیات کا کہا ہوا جملہ دہرایا.
تم واقعی ہی بڑے ہو گئے ہو. اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے. حیات نے حدید کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خالی کپ میز پر رکھا.
شادی بھی میری تب ہوگی نا جب آپ ڈی ایم سے بات کریں گے. حدید نے نیچے سے اٹھتے ہوئے جتلایا.
میں ڈی ایم سے ملنے کبھی بھی اس گھر میں نہیں جاؤں گا. ہاں البتہ تمہیں تمہاری شادی کی مبارکباد دینے ضرور آؤں گا. حیات کے جواب پر حدید مایوس ہوتا خاموش ہو گیا.
چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے. پی لو. حدید کی خاموشی پر حیات نے چائے کی ایک طرف اشارہ کیا.
تو آپ اپنی ضد نہیں چھوڑیں گے. حدید نے تصدیق چاہی.
یہ ضد نہیں ہے. یہ بدلہ ہے. جو میں لے کر رہوں گا. حیات کا لہجہ اٹل تھا.
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی. حدید دکھ سے کہتا ہوا جانے کے لیے مڑا.
رکو اپنی چائے پی کر جاؤ. میرے پاس اتنا فالتو راشن نہیں ہے جو میں ضائع کرتا پھروں. حیات کی آواز پر حدید خاموشی سے پلٹا اور چائے کا کپ اٹھاتا پینے لگا. چائے ختم کرتے ہی وہ اسی خاموشی سے دھیما سا اللہ حافظ کہتا پلٹا جب کہ حیات خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
💰💰💰💰💰
آج کتنا اچھا لگ رہا ہے. ہم سب ایک ساتھ ہیں پھر سے حمنہ نے سب کو ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا دیکھ کر خوشی سے کہا اور خود کرسی گھسیٹتی حارث کے سامنے بیٹھ گئ.
ہاں یہ تو ہے. آج بڑے دنوں بعد ہم سب کو اکٹھا بیٹھنے کا موقع ملا ہے. نتاشا بیگم نے بھی حمایت کرتے حمنہ کے آگے چاولوں کی ٹرے کی جبکہ ڈی ایم مکمل خاموش تھے.
تم دونوں کی ہاؤس جاب شروع ہونے والی ہے نااااا…..؟؟ حمنہ نے پلیٹ میں چاول نکلتے ہوئے حدید اور حارث کی طرف دیکھا.
ہاں ہونے والی ہے. حارث نے جواب دیا جبکہ حدید صرف ڈی ایم کی طرف دیکھ رہا تھا.
چلو تم دونوں سے تو جان چھوٹے گی پھر صرف گھر میں، میں اکیلی بج جاؤں گی. حمنہ نے خوشی سے کہتے ہوئے چاول کا چمچ منہ میں ڈالا
آپ بھی کھائیں نااااا حدید نے ڈی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو خاموشی سے اپنی خالی پلیٹ کو گھور رہے تھے.
میں تم سب لوگوں سے بہت شرمندہ ہوں. کچھ دیر بعد ڈی ایم نے کہا تو سب اپنا کھانا بھول کر انہیں دیکھنے لگے.
یہ بات اور کتنی دفعہ بولیں گے. نتاشا بیگم نے قدر غصے سے ان کی طرف دیکھا.
جب تک مجھے اس بات کا یقین نہیں ہو جائے گا کہ ان سب کا دل میری طرف سے صاف ہے. ڈی ایم نے باری باری سب کی طرف دیکھا
آپ کو کیا ہوتا جا رہا ہے. ہمارا دل آپ کی طرف سے بالکل صاف ہے. گندا کیوں ہوگا. اتنا ڈھیر سارا آپ. نے ہمیں پیار دیا ہے. ہماری ہر خواہش پوری کی ہے. تو آپ ہمارے بارے میں ایسا کیسے سوچتے ہیں….؟؟ حمنہ نے لارڈ سے ڈی ایم کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی.
حدید تمہاری رائے بھی یہی ہے. ڈی ایم نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ویسے بہت افسوس کی بات ہے. میری اور حارث کی کوئی ویلیو ہی نہیں. ہم کہہ رہے ہیں لیکن آپ حدید سے پوچھ رہے ہیں…..؟؟ حمنہ نے گلہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا
میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب دوبارہ سب کے سامنے کہہ رہا ہوں. مجھے آپ سے اور نتاشہ آنٹی سے بہت محبت ہے. گلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. حدید کا لہجے بہت مضبوط تھا کہیں سے بھی جھوٹ کا شبہ نہیں ہوتا تھا.
اور وہ تمہارا بھائی _ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ڈی ایم نے پوچھا. میرا بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ آپ کا بھتیجا بھی ہے اور بہت ضدی ہے. لیکن امید کی جاتی ہے کہ جو مخلوق اس کے گھر میں ہوائی طشتری کے ذریعے پہنچی ہے. وہ اس میں تبدیلی ضرور لائے گی. تب تک ہم انتظار کرنا پڑے گا. حدید کی بات کو سمجھتے ہوئے حمنہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تمہیں شرم نہیں آتی. میری دوست کے بارے میں ایسے کہتے ہوئے. حمنہ نے حدید کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اسکیوز می وہ آپ کی دوست کے ساتھ ساتھ میری بھابھی بھی ہے. حدید نے دوبدوجواب دیا. کبھی وہ حرا کی بھابی تھی اور اب حدید کی __ حارث نے کباب کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے کہا تو حدید نے ایک زوردار مکا اس کی کمر پر رسید کیا.
میرے منہ سے کیوں نکال رہا ہے. پلیٹ سے اور لے لے. حارث نے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اگر تم لوگوں کو برا نہ لگے تو میں اور رانا اس کے گھر چلے جائیں. ڈی ایم کی بات پر سب نے جھٹکے سے سر اٹھاتے ان کی طرف دیکھا
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے. کبھی کبھی جھکنا بھی اچھا ہوتا ہے. ڈی ایم کہتے ہوئے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے.
میرا نہیں خیال کہ آپ کو وہاں جانا چاہیے. اس سے پہلے کہ ڈی ایم اپنی جگہ سے ہلتے حدید کی بات پر رکے.
میں بھائی کا بہت احترام کرتا ہوں مگر میری دلی خواہش ہے کہ آپ ان کے گھر نہ جائے. وہ آئیں گے. بس تھوڑا انتظار کر لیں. حدید کہتا ہے خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگا جب کہ ڈی ایم گہری سوچ میں ڈوب گئے.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
