Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

حدید لیب میں بیٹھا بہت غور سے کوئی رپورٹ پڑھ رہا تھا. جتنی غور سے حدید رپورٹ پڑھ رہا تھا اتنے ہی غور سے حارث، حدید کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا.
خیریت ہے یہ تم نے مجھے کیا آوارہ لڑکوں کی طرح تاڑنا شروع کیا ہوا ہے. میں تمہیں پچھلے 15 منٹ سے نوٹ کر رہا ہوں. پین رپورٹ پہ رکھتے حدید نے آبرو اچکا کر حارث سے پوچھا
میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ انسان کتنا بڑا احسان فراموش ہے. حارث کے جواب پر حدید نے آگے کو جھکتے ہوئے اس کے ماتھے کو ہاتھ لگایا
طبیعت تو تیری بالکل ٹھیک ہے. پر باتیں تو بڑی عجیب کر رہا ہے. حدید کے چہرے پہ پریشانی کے جھوٹے آثار تھے.
میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے مگر میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے کچھ دنوں سے تیری نیت ٹھیک نہیں ہے. حارث کا جملہ اس قدر برساختگی اور سنجیدگی لیے ہوئے تھا کہ ایک منٹ کے لیے حدید کو اس پر سچ کا گماں ہوا
کیا مطلب ہے تیری بات کا _ حدید نے اٹکتے ہوئے پوچھا تو وہ سر ہلاتا داخلی دروازے کی طرف دیکھنے لگا حدید!!! تجھے اب میری کوئی فکر نہیں ہے. چند دن پہلے تو نے کہا تھا کہ تو میرا مسئلہ حل کر دے گا مگر ابھی تک تو نے ایسا کوئی کام نہیں کیا. جس سے مجھے اپنا مسئلہ حل ہوتا دکھائی دے. حارث کے جواب پر حدید کے تنے تاثرات ڈھیلے پڑے میں نے وعدہ کیا تھا تو تجھے مجھ پر یقین ہونا چاہیے کہ میں تیرا کام کر دوں گا. تُو میرا اکلوتا دوست ہے. میں تیرے لیے جان بھی دے سکتا ہوں. حدید نے لاڈ سے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ ونک کی. چھوڑو یہ سرسری وعدے نہیں پورے ہوتے!!!! میں جو ابھی مرجاوں تو مرجاو گے کیا کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان دکھ میں بہترین شاعر بن جاتا ہے. تیرا تو شاعری کا ذوق بہت اچھا ہو گیا ہے. حالانکہ تجھے کبھی بھی لٹریچر سے لگاؤ نہیں رہا. حدید نے شعر پر قہقہ مارتے ہوئے اسے داد دی. خوب مذاق اڑا لے اور قہقہے بھی لگا مگر جب حمنہ ڈی ایم کو تیرے بارے میں بتائے گی تو سوچ اس وقت میں کتنے قہقہے لگاؤں گا. ….؟؟ میں اپنی بہن کو اچھے سے جانتا ہوں جب تک وہ ایک بات تین چار لوگوں کو بتا نہ دے اسے سکون نہیں ملتا. حارث کی دھمکی واقع ہی کمال کر گئی اور حدید سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا چل پھر کچھ ایسا کرتے ہیں کہ حرا کی شادی ایس پی حیات ساتھ ہو جائے اور تیری جان چھوٹ جائے. حدید کے جواب پر حارث نے چونک کر اس کی طرف دیکھا مجھے حیات بھی پسند نہیں ہے. حارث نے منہ بنایا
تو ……؟؟ حدید نے فکرمندی سے اسے گھورا
میں بس یہ چاہتا ہوں کہ میرا حرا سے رشتہ ٹوٹ جائے لیکن اس کا رشتہ حیات ساتھ نہ ہو. وہ اچھا بندہ نہیں ہے. حارث کے جواب پر حدید خاموشی سے ٹیبل پر پین مارنے لگا
جب تو نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ ہی کر لیا ہے تو تیری بلا سے وہ اِدھر جائے اُدھر جائے یہ مر جائے حدید کی بات پر حارث اسے ناگواری سے دیکھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
وہ میری بہن کی بہت اچھی دوست ہے اور میں اپنی بہن کو دکھی نہیں دی سکتا. حارث کے جواب پر داد دیتی نظروں سے حدید نے اسے دیکھا
مجھے تم دونوں بہن بھائیوں کی سمجھ نہیں آتی. ہر وقت ایک دوسرے کو کاٹتے رہتے ہو مگر مجال ہے جو کوئی ایک دوسرے پر بات برداشت کرے. حدید کہتا حارث ساتھ باہر کی طرف چل دیا.
حرا کی مجھ سے منگنی ٹوٹے یا نہ ٹوٹے مگر میں اس کی شادی حیات سے نہیں ہونے دوں گا. حارث نے اٹل لہجے میں کہا
بچے تو ابھی حیات کو جانتا نہیں ہے. ورنہ ایسا نہ کہتا خیر مجھے کیا میں تو تماشا دیکھنے والوں میں سے ہوں. حدید سوچتا حارث ساتھ کینٹین کی طرف چل دیا.
💰💰💰💰💰
یار حمنہ تو ادھر لان میں اکیلی بیٹھی کیا کر رہی ہے. اگر سن باتھ لے رہی ہے تو میں چلی جاتی ہوں. حرا کے پوچھنے پر حمنہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
ارے اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے. جو یوں مجھے دیکھ رہی ہے. حالانکہ ناراض ہونا میرا بنتا ہے. میں نے تجھے پورے کالج میں تلاش کیا اور تو اِدھر دھوپ میں بیٹھی ہے. حرا نے کتابیں گھاس پر پھینکتے ہوئے حمنہ سے کہا اور خود التی پالتی مار کر اس کے برابر بیٹھ گئی
حرا آج میرا موڈ بہت سخت خراب ہے. اس لیے کوئی مذاق نہیں. حمنہ نے انتہائی سنجیدگی سے گھاس کو توڑتے ہوئے جواب دیا تو حرا کا منہ کھل گیا.
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تو اتنی معمولی بات پر مجھے یوں کہے گی. تُو نے میرا دل توڑ دیا ہے. حمنہ نے. مصنوعی دکھ سے کہتے ہوئے اپنی کتابیں سمیٹیں.
یہ معمولی بات نہیں ہے. اس کا مختلف لڑکیوں سے چکر چل رہا ہے. وہ کلب جاتا ہے. شراب پیتا ہے. تجھے پتا ہے میں نے دو دن سے اس کے پاس ٹیوشن بھی نہیں پڑھی. حمنہ نے کہتے ہوئے تیزی سے گھاس توڑنا شروع کی.
حمنہ بی بی!!! آپ اپنی ناکام محبت کی سزا اس بیچاری گھاس کو کیوں دے رہی ہیں …..؟؟ ملک میں آگے ہی اتنی ماحولیاتی آلودگی ہے. زراعت کی الگ بہت بری حالت ہے. اگر کہیں کوئی تھوڑی بہت greenery نظر آ رہی ہے تو اس پر رحم کھائیں. اسے اپنی محبت کی بھیڑ نہ چڑھائیں. حرا نے حمنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکا
تُو نے سنا نہیں
درخت لگائیں، بخت جگائیں. حرا کی باتوں پر حمنہ نے اسے ایک طنزیہ مسکراہٹ سا نوازا.
حرا بی بی!!! جب آپ غصے میں چیزوں کو آگ لگا دیتی ہیں اور تیز میوزک سے ہمارے کانوں کو شدید اذیت پہنچاتی ہیں. تب ماحولیاتی الودگیے پر کوئی اثرات نہیں پڑتے ….؟؟ حمنہ کے پوچھنے پر حرا اپنا سر کھجانے لگی
اچھا دفع کرو. ہم کام کی بات کرتے ہیں. ویسے بھی پڑھی لکھی باتیں ہم دونوں کے منہ سے اچھی نہیں لگتی.
تم بلاوجہ پریشان ہو جب میں نے کہا تھا کہ ہم حدید کی کنڈلی نکال لیتے ہیں. تو اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہو. …..،؟؟
زندگی ویسے بھی بہت بور گزر رہی ہے. کتنے دنوں سے ہم نے کچھ نہیں کیا. کیوں نہ ایک ایڈونچر کریں …..؟؟ حرا نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اسے تجسس سے دیکھنے لگی
ہم کل سے حدید کی جاسوسی کریں گے. یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد وہ کہاں جاتا ہے اور کن لوگوں سے ملتا ہے اور کیا کرتا ہے ….؟؟
ایک ہفتہ جاسوسی کرنے کے بعد سب چیزیں خود بخود کھلتی چلی جائیں گی. کیا خیال ہے ….،؟؟
یقین مان بہت مزہ آئے گا. حرا نے پرجوش انداز میں حمنہ کی طرف دیکھا
بات تو تیری ٹھیک ہے لیکن اگر پکڑے گئے تو بہت بےعزتی ہوگی. حمنہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
پہلی بات تو یہ کہ ہمیں نہیں بلکہ حدید کو شرمندگی ہو گی کیونکہ وہ رنگ ہاتھوں پکڑا جائے گا. دوسرا یہ کہ اگر وہ رنگ ہاتھوں نہ پکڑا گیا تو تیری غلط فہمی دور ہو جائے گی. بس بات ختم
اس میں اتنا سوچنے والی کیا بات ہے …..؟؟ حرا نے کندھے اچکائے جس پر حمنہ سر ہلانے لگی
چل اب یہ بتا کہ تم لوگ ہمارے گھر کب آ رہے ہو ….؟؟ پاپا کہہ رہے تھے کہ اس ویک اینڈ پر منگنی کی رسم رکھتے ہیں.
تجھے پتہ تو ہے کہ وہ پارٹیز کرنے کے کتنے شوقین ہیں. اسی بہانے گھر میں گیٹ to gather ہو جائے گا. اب کی بار حرا نے نارمل انداز میں کہا
یہ تو بہت اچھی بات ہے. میں آج ہی ڈی ایم سے بات کرتی ہوں پھر ہم دونوں شاپنگ پہ چلیں گے. حمنہ نے خوشی سے حرا کی طرف دیکھا
ویسے تیرا بھائی مجھ سے ناراض تو ہوگا _ حرا کی بات پر حمنہ نے سر نفی میں ہلایا تو اس کی ناراضگی کی کوئی پروانہ کر ورنہ وہ تیرے سر چڑھ جائے گا وہ کسی شاعر کا شعر ہے جو میرے خیال سے اس نے خاص طور پر خاوندوں کے لیے ہی لکھا ہوگا کہ
وہ جب بھی ذراروٹھا چپ بیٹھے رھے ھم بھی
اک بار منا لیتے تو پھر روز خفا ہوتا
حمنہ کے شعر پر دونوں ہنسنے لگیں. اس بات سے بے خبر کے آنے والا وقت ان کے لیے کیا طوفان لا رہا ہے ….؟؟
💰💰💰💰💰
جی کہیے میں آپ کی بات بہت غور سے سن رہا ہوں. حیات نے پہلی بار سگریٹ ایش ٹرے میں رکھتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے وکیل صاحب سے کہا
دیکھیے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ بچی کا رشتہ طے پا گیا ہے لہٰذا اب کچھ نہیں ہو سکتا. آپ جتنی رقم مانگیں گے وہ ہم دینے کو تیار ہے. وکیل صاحب نے ٹھہر ٹھہر کر لفظ ادا کیے تو حیات مسکراتا ہوا ٹانگ پر ٹانگ رکھ گیا
وکیل صاحب آپ کس ملک میں پیدا ہوئے ہیں…..؟؟ حیات کا سوال اتنا اچانک تھا کہ وکیل صاحب حیرت سے اسے دیکھنے لگے.
میں نے پوچھا آپ کس ملک میں پیدا ہوئے ہیں…..؟؟ حیات نے دہرایا
ظاہری سی بات ہے ” پاکستان” میں پیدا ہوا ہوں. تبھی آپ کے سامنے ہوں.
ٹھیک _ تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے……؟؟ حیات کا اگلا سوال پہلے سے بھی زیادہ عجیب تھا. حیات صاحب آپ پوچھنا کیا چاہ رہے ہیں…..؟؟ اب کی بار وکیل صاحب کنفیوز ہوئے فی الحال آپ چپ چاپ صرف میرے سوالوں کے جواب دیں. تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے …..؟؟ میں نے لاء کالج سے ہی حاصل کی ہے. ادھر پاکستان میں ہی وکیل صاحب کے جواب پر حیات نے سر ہلایا.
اور کس معاشرے میں آپ پل بڑھ کر جوان ہوئے ہیں…..؟؟
حیات صاحب میں پاکستانی ہوں اور اسی معاشرے میں پل بڑھ کر جوان ہوا ہوں. جس میں آپ ہوئے ہیں. میں کبھی پاکستان سے باہر نہیں گیا. اب کی بار وکیل صاحب پر لہجہ قدرے تلخ تھا.
اچھاااااااااا _ پھر تو آپ نے بہت سارے کیسز ایسے دیکھے ہوں گے اور اگر آپ فیملی ایشو نہیں بھی دیکھتے تب بھی کم از کم کچہری یا پریکٹس کے دوران تو آپ نے ایسے بہت سارے کیسز سنے ہوں گے. جن میں ایک عورت اپنے تین چار بچوں کے ہوتے ہوئے بھی آشنا ساتھ بھاگ گئی ہوگی یا کوئی ایسی عورت جس کے ایک دو بچے ہوں گے اور اس اس کے خاوند نے طلاق دے دی ہوگی. حیات نے کہتے ہوئے وکیل صاحب کی طرف دیکھا جو نا سمجھی سے اسے ہی دیکھ رہے تھے. میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھا. اگر آپ کھل کر بات کریں گے تو ہمارے لیے آسانی ہوگی. وکیل صاحب نے اپنے برابر بیٹھے ہوئے رانا خاور کی طرف اشارہ کیا. بات بالکل صاف ہے مگر آپ لوگ سمجھنا نہیں چاہ رہے. میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دو یا تین بچوں کی ماں کو “طلاق” ہو سکتی ہے. تو آپ کی بھتیجی کی “منگنی” کیوں نہیں ٹوٹ سکتی…..؟؟ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں “منگنی” ٹوٹنا “طلاق” ہونا یا اچانک “بیوہ” ہو جانا
کوئی عجیب بات نہیں ہے. لفظ ” بیوہ” پر حیات نے خاصہ زور دیا تو رانا خاور نے وکیل کی طرف دیکھا.
میرا فی الحال ایسا ارادہ نہیں ہے مگر وقت کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ جب میں کوئی بات ٹھان لوں تو مجھے اسے ہر صورت پورا کرنا ہوتا ہے.
پہلے میں نے آپ سے رقم کی ڈیمانڈ کی تھی. جو آپ نے ٹائم پر پوری نہیں کی. لہٰذا اس اپشن کو تو اب آپ رہنے ہی دیں.
دوسری آپشن میں نے آپ کو یہ دی کہ آپ اپنی بھتیجی کی شادی مجھ سے کر دیں. اس کا ٹائم بھی ختم ہو گیا تو _
تیسری صورت میں مجھے آپ کے بیٹے کا ٹائم بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے. حیات نے عادتاً اپنی کلائی پہ بندی گھڑی کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا.
معذرت کے ساتھ مگر میں اس سے زیادہ وقت آپ دونوں کو نہیں دے سکتا. مجھے تو اس میٹنگ میں خاصی بوریت ہوئی ہے اپ دونوں کا پتہ نہیں لہذا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ “آپ سے مل کر خوشی ہوئی.” حیات کوٹ کا بٹن بند کرتا خاموشی سے اپنی چیزیں ٹیبل سے اٹھاتا پارکنگ کی طرف چل پڑا جہاں فراز اس کا منتظر تھا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
See translation