No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
حرا مجھے تو ڈر لگ رہا ہے. تو نے ضرورت سے زیادہ ہی اُس ایس پی ساتھ بدتمیزی کی ہے. دیکھا نہیں وہ کس طرح ہمیں دیکھ رہا تھا …..؟؟ حمنہ نے جھرجھری لیتے ہوئے حرا کی طرف دیکھ جو مزے سے ڈرائیونگ کر رہی تھی.
یہ جو تیرے چہرے پر اتنی مسکراہٹ ہے نا ناااااا _ اگر لینے کے دینے پڑ گئے تو لگ پتہ جائے گا. ناک رگڑ رگڑ کر معذرت کرنی پڑے گی. حمنہ نے حرا کو ڈرانا چاہا. ان لفظوں کی ادائیگی دشوار ہے مجھے تسلیم، جی، بجا، سہی، منظور. معذرت! حرا کے شعر پڑھنے پر حمنہ نے غصہ سے منہ پھیر لیا. ویسے بڑی ہی کوئی ناشکری لڑکی ہیں آپ ایک تو میں تمہیں حدید کی گاڑی میں سیر کرا رہی ہوں. اوپر سے بجائے یہ کہ تم میرا شکریہ ادا کرو تم منہ بنا کر بیٹھ گئی ہو.
میں نے آپ کو یہ عظیم احسان کرنے کے لیے نہیں بولا تھا. لہٰذا مجھ سے کسی بھی قسم کے شکریہ کی امید نہ رکھیں. بلکہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے گاڑی اور مجھے ہم دونوں کو خیر و عافیت سے گھر پہنچا دیں. حمنہ کا غصہ ہنوز قائم تھا.
مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ تجھے غصہ کس بات پر ہے …..؟؟ ابھی حرا نے اتنا ہی کہا تھا کہ اس کا موبائل بچنے لگا
حدید ہوگا حمنہ نے فوراً ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھاتے ہوئے کہا یہ تو کوئی ان نون نمبر ہے. سکرین پر جگمگاتے ان نون نمبر کو دیکھ کر حمنہ نے موبائل حرا کی طرف بڑھا دیا ہیلو حرا نے سپیکر آن کرتے ہوئے موبائل فون ڈیش بورڈ پر رکھ دیا
ابھی تک تو میں آپ ساتھ بہت نرمی سے پیش آ رہا تھا مگر آج کے بعد آپ مجھ سے یہ امید مت رکھیے گا. سپیکر سے ابھرنے والی آواز پر حمنہ اور حرا نے چونکتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
میں نے تو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نرمی سے پیش آئیں. حرا نے جتلایا
دیکھیں حرا بی بی!! انسان کی یہ فطرت ہے کہ جب وہ کسی سے پہلی بار ملتا ہے. تو نرمی سے بات کرتا ہے. اب کوئی بھی انسان آپ کو پہلی ملاقات میں یہ نہیں کہے گا کہ” ہیلو میں کتا ہوں”.
آپ کا رویہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اگلا بندہ آپ ساتھ کیسا سلوک کرے گا ……؟؟
اور آپ نے آج جو ریسٹورنٹ میں میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے اور مجھے دھمکی دی ہے. وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا کیونکہ میرے لیے میری ذات بہت قابل احترام ہے. حیات حد درجے سیریس تھا.
آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے. ایس پی حیات عالم _ میرے بھی یہی خیال ہے کہ کوئی بھی انسان پہلی ملاقات میں یہ نہیں کہے گا کہ” میں کتا ہوں” مگر وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ “میں ایس پی حیات عالم” ہوں. بات ایک ہی ہے. شٹ اپ جسٹ شٹ اپ حرا کی بات سنتے ہی حیات کا صبر جواب دے گیا اور وہ اتنی زور سے چلایا جس کی شدت کا اندازہ حرا کو بخوبی ہو رہا تھا.
جس طرح کی آپ نے مثال دی تھی. میں نے بھی ویسا ہی جواب دیا ہے. اگر آپ سیدھی بات کرتے تو میں سیدھا جواب دیتی. آپ کو کیا لگتا ہے دوسرے کی بےعزتی کرنے کا ٹھیکہ صرف آپ ہی نے لے رکھا ہے.
صرف پولیس والوں کو گالی نکالنا یا بے عزت کرنا نہیں آتا. ہمارے معاشرے کا ہر شخص اس فیلڈ میں ایکسپرٹ ہے. اندازہ تو ہو گیا ہوگا. حرا نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
حرا بی بی!!! تمہیں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی. میری بات، آج کی تاریخ، اور یہ وقت، لکھ لو کہ تمہیں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی. حیات نے وارننگ دیتے ہوئے کال کاٹ دی.
حرا اب کیا ہوگا ….؟؟ حمنہ نے فکرمندی سے پوچھا
کچھ نہیں ہوگا. یہ شخص انتہائی لالچی ہے. بابا اسے کچھ پیسے دے دیں گے اور یہ چپ کر کے بیٹھ جائے گا. یہ کر بھی کیا سکتا ہے ……؟؟
ہمارے معاشرے میں ایک ایس پی کی اوقات ہی کیا ہے …..؟؟ میرے بابا کے آگے تو اچھے اچھوں کی بس ہو جاتی ہے. حرا نے کہتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی.
💰💰💰💰💰
آسمان کو اچانک گرے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ٹھنڈی میٹھی ہوا کے جو نکیں روح کو تازگی بخش رہے تھے. حدید ننگے پاؤں لان کی گھاس پر چل رہا تھا.
تو کیا لڑکیوں کی طرح گھاس پر چل رہا ہے. حارث نے لان میں داخل ہوتے ہوئے حدید پر طنز کیا اور خود سنگ مرمر کے بنے ہوئے بنچ پر بیٹھ گیا
شکر ہے تو نے یہ نہیں کہا کہ “تو کیا گدھے کی طرح گھاس کھا رہا ہے …..؟؟ ” ورنہ مجھے تجھ سے پوری امید تھی کہ تو کوئی اچھا جملہ نہیں بھول سکتا. حدید حارث کی آواز پر پلٹتا اس کے قریب آیا.
تیرے نزدیک میں نے اچھا جملہ بولا ہے. حارث نے حدید کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر حدید مسکراتا اس کے ساتھ بیٹھ گیا.
اگر سوچا جائے تو اتنا برا بھی نہیں ہے. حدید نے آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے جواب دیا.
اوپر کیا دیکھ رہا ہے …..؟؟
کچھ نہیں بس سوچ رہا ہوں کہ جیسے ہی یہ سمسٹر مکمل ہوگا. ہم سیر کے لیے ناردن ایریا جائیں گے. کتنی خوبصورتی ہے وہاں حدید نے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا.
ہم سے کیا مراد ہے ….؟؟ حارث نے اسے مشکل نظروں سے گھورا تو وہ قہقہ لگانے لگا
ہم سے مراد “میں اور تو” ہے اب تیرے بغیر تو میں کہیں جا نہیں سکتا. حدید نے محبت سے حارث کے کندھے پر ہاتھ رکھا
حدید تو ڈاکٹر بن کر واقعی ہی خوش ہے. مجھے تو ذرا خوشی نہیں. سچ پوچھ تو میں بڑی مجبوری سے پڑھ رہا ہوں. حارث نے بیچارگی سے حدید کی طرف دیکھا تبھی گیٹ پر ہارن کی آواز آئی.
یہ دونوں اب لوٹ رہیں ہیں. حارث نے پریشانی سے گیٹ کی طرف دیکھا جہاں سے اب حدید کی گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی
ہاں دیر تو کر دی ہے. حدید نے بھی اسی سمت دیکھتے ہوئے حارث کے ہاں میں ہاں ملائی
ایک دو میں اس حرا سے سخت تنگ ہوں معصوم. سی بھولی بھالی میری بہن کو اس نے کیا بنا دیا ہے …..؟ حارث نے پریشانی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو حدید سر نفی میں سر ہلاتا پاؤں گھاس پر پھیرنے لگا
تم ایسا کرو کہ ہمارے گھر ہی شفٹ ہو جاؤ. حارث نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا تو ایک منٹ کے لیے خاموشی چھا گئی.
سیریسلی چند لمحوں بعد حرا نے حارث کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تو حارث کو اپنی بات کی نزاکت کا احساس ہوا.
میں نے یہ بات غصے میں کہی ہے. حارث نے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بظاہر سرسری انداز میں جواب دیا
بندہ سچ ہمیشہ غصے میں ہی بولتا ہے. حرا کو اب ایک پوائنٹ مل گیا تھا جسے سب انجوائے کر رہے تھے.
تم تو میرے منہ نہ لگا کرو. حارث کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا. جب کہ حرا مسکراتی ہوئی حدید کو دیکھنے لگی.
آپ ہی اسے کچھ سمجھایا کریں اور کچھ نہیں تو کم از کم اپنا جھوٹا ہی اسے پلا دیں. کیا ہر وقت ولن بنا پھرتا ہے …… ؟ حرا کہتی ہوئی گیٹ کی طرف پلٹ گئی.
کہاں گئی تھی بڑی دیر لگا دی. حرا کے جاتے ہی حدید نے ہمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ ہم ریسٹورنٹ گئے تھے. حراکا کچھ فاسٹ فوڈ کھانے کا دل کر رہا تھا. حمنہ نے جان بوجھ کر پوری بات نہیں بتائی.
حمنہ میری طرف دیکھو. مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ تم کچھ چھپا رہی ہو یا شاید جھوٹ بول رہی ہو…..؟؟
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے. حمنہ نے منع کرتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا.
آپ مجھ پہ شک کر رہے ہیں …..؟؟ حمنہ کو حدید کا یوں کہنا برا لگا
نہیں میں تم پر شک نہیں کر رہا. میں تم پہ ہمیشہ یقین کرتا ہوں. خیر یہ بتاؤ کہ آج پڑھنا ہے یا نہیں حدید نے بات بدلی.
اتنے اچھے موسم میں کون پڑھتا ہے. حمنہ نے اپنے لان میں درختوں کو ہلتا ہوا دیکھ کر جواب دیا تو حدید سر ہلانے لگا
اچھا ٹھیک ہے. ادھر اؤ بیٹھو. میں نے تم سے کچھ پوچھنا ہے. حدید نے حمنہ کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھ گیا.
میں نے بتایا ناااااا کہ ہم ریسٹورنٹ گئے تھے …؟ ؟ حمنہ نے بیٹھتے ہی کہا
چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کہ اس لڑکے کا کیا نام ہے. تم نے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا….؟؟ حدید نے حمنہ کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے پوچھا جس پر وہ نظریں چرانے لگی.
میں نے آپ کو اپنا راز اس لیے نہیں بتایا کہ آپ ہر وقت ہی اس کے بارے میں پوچھتے رہیں. جب میں ضروری سمجھوں گی تو باقی باتیں بھی آپ کو بتا دوں گی. اب آپ دوبارہ اس کے بارے میں نہیں پوچھیں گے. اوکے حمنہ نے انگلی اٹھاتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا او کے حدید نے انگلی تھامتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا دی.
مجھے اپنی چاہتوں سے زیادہ
تیری مسکراہٹ پسند ہے.
💰💰💰💰💰
حیات نے غصہ نکالتے ہوئے اپنے کمرے کا حلیہ بگاڑ دیا تھا. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کرے ……؟؟
زندگی میں شاید پہلی بار اسے کسی نے اتنا غصہ دلایا تھا. اگر وہ کوئی مرد ہوتا تو میں اب تک اس کی ہڈیاں توڑ چکا ہو مگر افسوس کہ وہ ایک لڑکی ہے. حیات نے غصے کی شدت سے کشن اٹھا کر دور پھینکا
لڑکی ہے تو کیا ہوا، چھوڑوں گا تو نہیں میں اسے اسے بھی پتہ چلنا چاہیے کہ اس نے کس سے پنگا لیا ہے …..؟؟
ابھی تک تو میں یہ سب مذاق میں لے رہا تھا مگر آج اس نے حد کر دی. حیات نے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے خود کلامی کی.
کیا کروں کہ مجھے چین آ جائے. کیا کروں کہ اس کا چین چھن جائے ……؟؟ حیاد نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اپنا موبائل تلاش کیا جو سامنے ہی ٹیبل پر پڑا ہوا تھا.
فراز جتنی جلدی ہو سکے رانا گروپ آف انڈسٹری کے مالک سے میری میٹنگ فکس کرو. جتنی جلدی ہو سکے. حیات نے زور دیتے ہوئے کال بند کی یہ سنے بغیر کہ وہ دوسری سائیڈ سے کیا کہہ رہا ہے.
یہ تو میں نے سوچ لیا ہے کہ میں نے اس لڑکی کا کیا کرنا ہے مگر یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ پہلے باپ سے شروع کروں یا بیٹی سے حیات نے جنونی انداز میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کا عکس آئینے میں دیکھا تبھی دروازے پر دستک ہوئی.
آ جائیے.حیات نے خود کو نارمل کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا.
صاحب آپ سے ملنے کوئی مہمان آیا ہے. ملازم نے باآدب لہجے میں بتاتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا.
ٹھیک ہے میں آتا ہوں. آیا کو بولو کہ کمرہ صاف کر ے اور اپنی نگرانی میں صفائی کرانا کوئی ضروری کاغذ ادھر سے ادھر نہ ہو. حیات کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا.
لگتا ہے کوئی زیادہ ہی خطرناک کیس صاحب کو ملا ہے ورنہ اتنی توڑ پھوڑ تو نارملی نہیں کرتے. ملازم نے کہتے ہوئے چیزیں اٹھانا شروع کیں.
جی فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں. حیات نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا
خدمت تو ہم آپ کی کرنا چاہتے ہیں مگر آپ موقع ہی نہیں دے رہے. بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس بندے نے نہایت خوش اخلاقی سے کہا تو حیات آبرو اچکاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا.
وکیل صاحب آپ جانتے ہیں ایک سرکاری افسر کو رشوت کی آفر کرنا کیا معنی رکھتا ہے …..؟؟ حیات کی بات پر وہ بندہ مسکراتے ہوئے سر ہلانے لگا
آپ تو رشوت لینے سے نہیں ڈرتے پھر اس بار کیوں اتنا تکلف برت رہے ہیں …..؟؟
اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ رانا صاحب کے وکیل ہیں. جس کے بیٹے نے ابھی حال ہی میں دو قتل کیے ہیں. حیات نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
جی بالکل میں انہی کا وکیل ہوں لیکن لگتا ہے کہ میں غلط وقت پر آگیا ہوں. آپ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں. وکیل نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے معزرت کی.
نہیں آپ بالکل ٹھیک وقت پر آئے ہیں. پہلے مجھے یہ بتائیں کہ رانا گروپ آف انڈسٹریز کے اصل مالک کون ہے….؟؟؟ حیات کے سوال پر وکیل صاحب چونکیں.
رانا گروپ آف انڈسٹریز کے مالک دو بھائی ہیں. جنھیں ہم چھوٹے رانا صاحب اور بڑے رانا صاحب بولتے ہیں.
بڑے رانا صاحب کا نام تنویر ہے اور ان کی ایک بیٹی ہے جبکہ چھوٹے رانا خاور صاحب ہیں جن کے بیٹے کے لیے میں حاضر ہوا ہوں.
ہممممم _ ٹھیک ہے سمجھوتمہارا مسئلہ حل ہو گیا ہے. بس تم میری بڑے رانا صاحب سے میٹنگ کرا دو. حیات کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جب کہ وکیل صاحب کے چہرے پر والہانہ مسکراہٹ آگئی.
یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے میں کل ہی اپے کی ان ساتھ میٹنگ کروا دیتا ہوں.
چلیں کچھ کھا پی لیں. حیات نے لو ازمات سے بھرے ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وکیل صاحب سے کہا
نہیں بہت شکریہ میں کافی دیر سے یہی کام کر رہا تھا. اب چلتا ہوں. وکیل صاحب خوشی خوشی حیات سے مصافحہ کرتے باہر نکل کے جب کہ حیات ٹانگ پہ ٹانگ رکھے اپنی سوچ پر مسکرانے لگا
حرا بی بی!! اب آپ کو پتہ چلے گا کہ کسی کو مفت مشورہ کیسے دیتے ہیں اور کبھی کبھی مفت مشورہ کتنا مہنگا پڑ جاتا ہے…..؟؟
💰💰💰💰💰
جاری ہے
