No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی بھی ایک اچھا ڈاکٹر بن سکتا ہوں. حارث نے بیچارگی سے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو لیپ ٹاپ پر کچھ سرچ کرنے میں مصروف تھا.
اچھا ڈاکٹر تو بہت دور کی بات ہے مجھے تو لگتا ہے کہ تم ایک ڈاکٹر بھی نہیں بن سکتے. حمنہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بآواز بلند اپنی رائے دی تو دونوں نے اس کی طرف گھور کر دیکھا
خوبصورت لوگوں کو نظر جلدی لگ جاتی ہے اس لیے مجھے ذرا احتیاط سے دیکھا کرو. حمنہ کی بات پر حدید نے مسکراتے ہوئے دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا جب کہ حارث اسے ابھی بھی مسلسل گھور رہا تھا.
تم کیا ہمارے کمرے میں منہ اٹھا کر آ جاتی ہو. حارث نے غصے سے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ کمرہ آپ کا نہیں بلکہ حدید کا ہے اور وہ مجھے اپنے کمرے میں آنے سے منع نہیں کرتا. کیوں حدید میں آپ کے کمرے میں آ سکتی ہوں نااااااا _ حمنہ کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی حدید اس سے نظریں چرا گیا. یہ کمرہ نہ میرا ہے اور نہ تمہیں یہاں آنے کے لیے اجازت کی ضرورت ہے. حدید نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے جواب دیا تو حارث کا موڈ خراب ہو گیا. کتنی بار بولا ہے کہ حدید تم سے بڑا ہے اسے حدید بھائی بولا کرو. یہ حدید کیا ہوتا ہے …..؟؟ حارث کا موڈ بگڑا ہوا تھا. جب سے اللہ نے مجھے تم جیسا بھائی دیا ہے. میرے دل میں دوسروں کو بھائی بولنے کی حسرت نے خودکشی کر لی ہے. لہٰذا میں حدید کو بھائی نہیں بول سکتی. وہ خالی حدید ہی ٹھیک ہے. حمنہ نے حارث کو چڑاتے ہوئے جواب دیا.اب دونوں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے. ایک تو تم دونوں فوراً ہی لڑنے مرنے پر اتر آتے ہو. حدید نے دونوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہوئے فاصلہ بنایا. میں تو حدید کو بلانے آئی تھی. اسے DM بلا رہے ہیں. حمنہ نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا مجھے مگر کیوں ……؟؟ حدید نے اپنے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے حمنہ سے تصدیق چاہی. مجھے لگتا ہے کہ DM تیرا سگا باپ ہے اور میں اس کی سوتیلی اولاد ہوں. جا بھائی عیش کر، ہمیں تو وہ دیکھنا پسند نہیں کرتے اور تجھے آنکھ کا تارا بنا کر رکھا ہوا ہے. حارث کے لہجے میں واضح جلن تھی. خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے. چل دونوں مل کر دیکھتے ہیں کہ کیا معاملہ ہے …..؟؟ حدید نے محبت سے حارث کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا جسے حارث نے پرے کر دیا اگر یہ نہیں تھامتا تو کیا میں آپ کا ہاتھ تھام سکتی ہوں ……؟؟ حمنہ کے سوال پر دونوں کو ہی حیرت کا شدید جھٹکا لگا جو منہ میں آتا ہے. بولتی رہتی ہو. اب تم چھوٹی نہیں ہو. سوچ سمجھ کر بولا کرو. حارث نے ڈانٹا تو وہ منہ بناتی باہر نکل گئی. جب کہ حدید اپنا سر کھجانے لگا 💰💰💰💰💰 کیا بات ہے. جناب کا موڈ خاصا خراب لگ رہا ہے. ابھی تھوڑی دیر پہلے تو اچھا خاصا تھا. اب کیا ہوا. کیا پھر حارث سے لڑائی ہو گئی ہے ……؟؟ حمنہ نے جیسے ہی ٹیرس پر قدم رکھا برابر والے ٹیرس پر موجود حرا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی. تو بہت خوش قسمت ہے کہ تیرا کوئی بھائی نہیں ہے. یقین مان حدید اتنا اچھا ہے. میری اتنی پرواہ کرتا ہے. اس نے آج تک کبھی نہیں مجھے ڈانٹا. اچھا ہوتا حارث کی جگہ اگر حدید میرا بھائی ہوتا تو حمنہ نے منہ بناتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا جو اپنے ٹیرس کی ریلنگ ساتھ لگے اسے ہی دیکھ رہی تھی.
ہائے مجھے تو اتنی حسرت ہے کہ کاش میرا کوئی بھائی ہوتا. خیر چھوڑ میرے ذہن میں ایک بڑا زبردست پلان آیا ہے. یقین مان اس سے تیری طبیعت بالکل فریش ہو جائے گی. حرا نے کہتے ہوئے اپنے ٹیرس سے حمنہ کے ٹیرس پر چھلانگ لگائی
حرا کسی دن تو اسی طرح ضائع ہو جائے گی. میں نے کتنی بار کہا ہے کہ یوں چھلانگ نہ لگایا کر _ حمنہ نے فکر مندی سے ہیرا کی طرف دیکھا جو اب اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھی. کچھ نہیں ہوتا. چل اندر کمرے میں چلتے ہیں. حرا لاپروائی سے کہتی ہوئی حمنہ کو لے کر اندر داخل ہوئی. میرے ذہن میں یہ آئیڈیا آیا ہے کہ کیوں ناااااا ہم تھانے فون کر کے ایس پی حیات کی کمپلین کریں. حرا نے بستر پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا ایک تو ہم نے اس بیچارے کی گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے. اوپر سے ہم اس کی کمپلین کریں. ہم ایسا کرتے اچھے لگیں گے. ہمیں تو اس سے معذرت کرنی چاہیے. حمنہ نے فوراً ائیڈیا کو مسترد کیا. یار کیا ہے تھوڑی دیر شغل میلا رہے گا ……؟ حرا نے کہتے ہوئے اپنے موبائل پر تھانے کا نمبر ڈائل کیا. دوسری بیل پر کال ریسیو کر لی گئی. کون کہتا ہے کہ ہماری پولیس جلدی رسپانس نہیں کرتی. دوسری بیل پر تو آج تک کسی نے میرا فون ریسیو نہیں کیا اور انہوں نے اٹھا لیا ہے. حرا نے مائک پر ہاتھ رکھتے ہوئے حمنہ کے کان میں سرگوشی کی. ہیلو السلام علیکم یہ سٹی صدر تھانہ ہے میرا مطلب ہے کہ آپ سٹی صدر تھانے سے بات کر رہے ہیں …..؟؟ حرا نے موبائل کا سپیکر آن کرتے ہوئے مزے سے پوچھا جی بی بی یہ سٹی صدر تھانہ ہی ہے. بتائیے آپ نے کس کی کمپلین کرنی ہے. دوسری طرف سے ایک انتہائی خوبصورت مردانہ آواز سپیکر سے ابھری. آواز تو بہت خوبصورت ہے. یہ پولیس والوں کی آواز کب سے اتنی پیاری ہوگی ……؟؟ یہ لوگ تو خاص بدتمیز ہوتے ہیں. گالیاں وغیرہ نکالتے ہیں. تمیز کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں. حرا نے ایک بار پھر مائک پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی رائے دی جس پر حمنہ سر ہلانے لگی وہ مجھے آپ کے ایک افسر کی کمپلین کرنی ہے. حرا نے سنجیدگی سے کہا دیکھیں بی بی آپ نے جو بھی کہنا ہے ذرا جلدی کہیں. یہ تھانہ ہے کوئی FM اسٹیشن نہیں. اپ کی بار دوسری طرف کی آواز میں تھوڑی سختی تھی تھانہ ہے تو اسی لیے کال کی ہے. ایف ایم والے تو اتنے مصروف ہیں. اب تو اتنے ان کے نخرے ہو گئے ہیں وہ تو اب کال اٹھاتے ہی نہیں ہیں. حرا نے فوراً اپنا دکھ شیئر کیا. کیا آپ نے یہ بتانے کے لیے کال کی تھی …..؟؟ نہیں نہیں میں نے آپ کو یہ نہیں بتانا تھا بلکہ میں نے آپ سے یہ کہنا تھا کہ آپ کے ایک پولیس افسر میرا مطلب ہے بڑے والے پولیس افسر سر عام رشوت لیتے ہیں.
اچھاااااااااا حرا کی بات پر اب کی بار مخالف آواز میں قدرے تعجب اور تجسس تھا.
جی بالکل آپ کے وہ ایک ایس پی ہے ناااااا کیا نام ہے اس کا زندگی نہیں نہیں میرا مطلب ہے حیات ایک تو لوگ اج کل اپنے بچوں کے نام بھی عجیب سے رکھتے ہیں نہ پتہ چلتا ہے لڑکے کا ہے اور نہ لڑکی کا اب یہ کوئی نام ہوا بھلا حیات …..؟ اچھا تو آپ کو ایس پی حیات سے ایشو ہے. انہوں نے آپ سے کس کیس پر رشوت لی ہے …….؟؟ بی بی آپ کون بات کر رہی ہیں. اپنا نام بتائیں تاکہ میں آپ کے نام کے ساتھ آپ کی کمپلین لکھ لوں ……؟؟ دراصل انہوں نے کل شام کو ہماری گاڑی کو ٹکر ماری تھی اور ان کا کوئی سپاہی ہمیں دھمکی دے رہا تھا کہ آپ جانتی نہیں ہیں. یہ ایس پی حیات کی گاڑی ہے وغیرہ وغیرہ حرا حیات کی کمپلین کرتے ہوئے بہت خوش تھی جب کہ حمنہ اسے مسلسل داد دیتی نظروں سے دیکھ رہی تھی. بی بی آپ کو یقین ہے کہ انہوں نے آپ کی گاڑی کو ٹکر ماری تھی ……؟؟ اب مخالف آواز کافی خوش اور مطمئن محسوس ہو رہی تھی. ہاں جی مجھے پورا یقین ہے کہ انہوں نے ہی میری گاڑی کو ٹکر ماری تھی. نشے میں ہوں گے. کیا نشے میں مخالف آواز ایک دفعہ پھر حیرت میں ڈوب گئی.
ہاں جی نشے میں ہی ہوں گے. یہ بڑے لوگ نشہ کر کے مہنگی گاڑی لے کر روڑ پر نکلتے ہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو ٹکر مار سکیں. آج کل یہ فیشن بن چکا ہے.
بی بی میں نے آپ کی پوری کمپلین سن کر نوٹ کر لی ہے اور امید ہے کہ اعلیٰ حکام اس پہ ایکشن بھی لیں گے.
برائے مہربانی اب آپ مجھے اپنا نام بتائیں تاکہ میں آپ کے نام کے ساتھ آپ کی کمپلین فائل کر سکو.
دفع کریں نام میں کیا رکھا ہے. آپ ایسا کریں کہ نامعلوم افراد کے نام سے کمپلین لکھ دیں. کتنی ساری وارداتیں ہوتی ہیں بلکہ میرے حساب میں تو پولیس کی آدھے سے زیادہ 90 پرسنٹ وارداتیں نامعلوم افراد کے خلاف ہی درج ہوتی ہیں. آپ یہ کمپلین بھی نامعلوم فرد کے نام سے درج کر لیں. آپ کا بہت شکریہ
کوئی بات نہیں پولیس کا کام ہی عوام کی خدمت کرنا ہے. مخالف آواز نے انتہائی خوش اسلوبی سے خوش امدید کہا گیا.
سر ویسے آپ کا کیا نام ہے …..؟؟ حرا نے فون بند کرنے سے پہلے پوچھا
حیات حیات عالم یک لفظی جواب آیا اور ساتھ ہی کال کٹ گئی. جواب سنتے ہی چند منٹ کے لیے حمنہ اور حرا پر سکتہ طاری ہو گیا. مجھے چند منٹ کے اندر اندر اس نمبر کی ساری معلومات چاہیے. حیات نے فون کریڈٹ پر رکھتے ہی آرڈر دیا جبکہ خود کرسی ساتھ ٹیک لگا کر جھولنے لگا لڑکی دلچسپ ہے مگر ہے بے وقوف جانتی نہیں کہ کس سے ٹکر لے رہی ہے اب اس بے وقوف کی وجہ سے اس کا باپ تو گیا.
سر جیسا آپ کا حکم _ مگر یہ نمبر کس کا ہے ……؟؟ حوالدار کے پوچھنے پر حیات نے رک کر اس کی طرف دیکھا جس پر وہ نظریں چرا گیا میں ایک بات ایک دن میں دو دفعہ نہیں کہتا لہٰذا ایک دفعہ ہی سنا کرو. حیات کہتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا. 💰💰💰💰💰 آپ نے بلوایا تھا کوئی خاص بات حدید نے مودبانہ انداز میں ڈی ایم کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا جب کہ حارث دور صوفے پر بیٹھ گیا جسے ڈی ایم نے واضح محسوس کیا.
نہیں کوئی خاص بات نہیں تھی. بس ویسے ہی بلوایا تھا. کبھی کبھی لائبریری بھی آ کر بیٹھ جایا کرو. یہاں رنگ برنگی کتابیں ہیں. اپنی ڈاکٹری سے ہٹ کر بھی کچھ پڑھ لیا کرو. مطالعہ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے. ڈی ایم اس وقت اپنی لائبریری میں موجود تھے.
جی بہتر جو آپ کا حکم _ حدید نے ہمیشہ کی طرح فوراً بات مانتے ہوئے جواب دیا. تو ڈی ایم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی. یہ میرے گدھے کو کیا ہوا ہے. یہ کیوں اتنا اکھڑا اکھڑا لگ رہا ہے …..؟؟ ڈی ایم نے حارث کو چھیڑا آپ کو میں گدھا ہی لگتا ہوں. بڑے افسوس کی بات ہے. کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کو ایسے بھی بلاتا ہے. آپ نے کبھی حدید کو تو ایسے نہیں بلایا. حارث نے فورا گلہ کیا تو حدید سر جھکائے مسکرانے لگا حدید تمہاری جیسی حرکتیں نہیں کرتا. خیر چھوڑو اپنی پڑھائی پر توجہ دو. میں نے تم دونوں کے لیے بہت کچھ سوچ رکھا ہے. میں ایک زبردست ہسپتال بنواؤں گا. یہ میرا ایک خواب ہے. جیسے ہی ڈی ایم نے یہ جملہ ادا کیا حدید کے چہرے پر موجود مسکراہٹ خود بخود سمٹ گئی اور آنکھوں میں عجیب سے تاثرات ابھرے. آپ جانتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹری میں کوئی دلچسپی نہیں. صرف آپ کے کہنے پر ڈاکٹر بنا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ مجھے کیوں زبردستی ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں …..؟؟ میں پیانو بجانا چاہتا ہوں. میرا دل کرتا ہے کہ میں بڑی بڑی جگہوں پر پیانو بجاؤں جیسے سپین کے الحمرا ہال میں جیسے ابھی حارث بول ہی رہا تھا کہ ڈی ایم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کا کہا
میرے پاس تمہاری فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ہے. حدید بیٹا آپ دونوں اپنی جلد از جلد ہاؤس جاب کریں تاکہ میں آپ لوگوں کو سرپرائز دے سکوں. ڈی ایم کی بات پر حدید پھیکا سا مسکرایا
سرپرائز تو میں بھی آپ کو دینا چاہتا ہوں. حدید کے جملے میں کچھ ایسا تھا کہ حارث اور ڈی ایم نے چونک کے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرانے لگا
میرا مطلب ہے کہ آپ نے مجھے اتنی محبت دی ہے کہ میرا دل کرتا ہے کل میں بھی آپ کو ایک اچھا سا سرپرائز دوں. حدید نے مسکراتے ہوئے بات کو ٹالا
تمہاری طرف سے میرے لیے یہی بہت بڑا سرپرائز ہوگا کہ تم حمنہ کو پڑھا دیا کرو. وہ آج کل اپنی پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہیں لے رہی اگر تم پڑھاؤ گے تو مجھے یقین ہے کہ وہ دل لگا کر پڑھے گی کیونکہ وہ تمہاری کوئی بات نہیں ٹالتی. جیسے ہی ڈی ایم نے یہ بات کہی حارث کے پھر تاثرات بگڑ گئے.
نہ میں نے آپ کو کبھی پہلے انکار کیا ہے اور نہ اب کروں گا. آپ بے فکر رہیں. آج سے حمنہ کی پڑھائی کی ذمہ داری میرے سر ہے. حدید محبت سے ایک کہتا اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اسکے خیال سے ڈی ایم نے جس لیے بلایا تھا وہ کام ہو گیا تھا.
ٹھیک ہے اب تم جاؤ اور ارام کرو. حارث تم یہیں رکو. حدید کے ساتھ حارث کو جاتا دیکھ کر ڈی ایم نے اسے پکارا. تو وہ رک گیا مگر پلٹا نہیں جبکہ حدید خاموشی سے لائبریری سے باہر نکل آیا.
کیوں ہر وقت اتنے ناراض ناراض اور غصے میں رہتے ہو ….؟؟ ڈی ایم چلتے ہوئے حارث کے قریب آئے
مجھے حمنہ کا حدید کے قریب آنا بالکل بھی پسند نہیں اور میں جتنی کوشش کرتا ہوں کہ حمنہ، حدید سے دور رہے. آپ اتنا ہی ان دونوں کو قریب کر دیتے ہیں. حارث نے مناسب لفظوں میں اپنی شکایت پیش کی جس پر ڈی ایم مسکرانے لگے
دیکھو تم ابھی بہت چھوٹے ہو. ان معاملات میں نہ پڑو کیونکہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے کیونکہ نہ تمہاری اتنی عمر ہے اور نہ تجربہ ڈی ایم نے حارث کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
مجھے نہیں معلوم کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں …..؟؟ حدید بہت اچھا انسان ہے. وہ میرا بہت اچھا دوست ہے مگر پھر بھی مجھے اس کا حمنہ کے قریب آنا بالکل پسند نہیں. حارث نے منہ بناتے ہوئے باپ کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے.
مجھے خوشی ہوئی کہ تم حمنہ کے لیے اتنے کانشئس ہو مگر بے فکر ہو میں تمہارا باپ ہوں کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا. ڈی ایم نے حارث کا کندھا ہلاتے ہوئے پر سوچ انداز میں سامنے لگے کیلنڈر کی طرف دیکھا
کیا دیکھ رہے ہیں ……؟؟ حارث نے ڈی ایم کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے پوچھا
یہی کہ اگلے مہینے حدید کی سالگرہ ہے ناااااا ڈی ایم کے سوال پر حارث نے سر ہاں میں ہلایا تو وہ مسکرانے لگے.
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے. حدید نے شیشے کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے
یہ حمنہ نامی چڑیا ہی تمہارے زوال کا باعث بنے گی. تم دیکھتے جاؤ کیسے میں تمہاری بیٹی کو تمہارے ہی خلاف استعمال کروں گا اور تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے کیونکہ اگر تم میرا کچھ بگاڑو گے تو تمہاری بیٹی کا بھی کچھ نہیں بچے گا. حدید نے شرٹ اتارتے ہوئے سوچا
رات تو کالی ہے مگر سیاہ نہیں. اس میں سیاہی میں بھروں گا. حدید نے مسکراتے ہوئے لائٹ آف کر دی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
