Muhabbat Ki Pehli Baarish By Amna Mehmood Readelle50148 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
آج صبح سے ہی بادلوں نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا. سردی کی آمد آمد تھی. ٹھنڈی ہوائیں بھی اپنے زوروں پر تھیں. یوں لگ رہا تھا جیسے آج بارش بہت ٹوٹ کر برسے گی. حرا گلاس وال ساتھ لگی خاموشی سے نیچے لان میں بیٹھے حدید اور حیات کو باتیں کرتا دیکھ رہی تھی.
یہ دونوں بھائی آپس میں ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے کوئی بزنس ڈیلنگ کر رہے ہوں. کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بھائی ہیں. کتنا عجیب سا انداز ہے دونوں کا _ حرا اپنی بات پر خود ہی محظوظ ہوئی. بھلا اس طرح کون بات کرتا ہے. نہ ہنسی نہ مذاق نہ کوئی پیار بھری بات…..؟
حدید تو یوں بیٹھا ہے جیسے کوئی جرم کیا ہو اور حیات صاحب نے تو ہنسنا سیکھا ہی نہیں. یہاں تو مسکراہٹ بھی چہرے پہ آجائے تو غنیمت ہے .
میں نے تو اتنے دنوں میں اس بندے کو خوش نہیں دیکھا. حالانکہ میرے جیسی بیوی کسی نعمت سے کم نہیں. حرا سوچتی ہوئی بیڈ کی طرف مڑی.
کیا مجھے نیچے جانا چاہیے….؟؟ خود سے سوال کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہوئی.
حدید کی تو خیر ہے لیکن اگر اس نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تو مجھے خاصا برا لگے گا. حرا نے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوئے اپنا عکس شیشے میں دیکھا
اگر تم نے اپنی بکواس کر لی ہے تو تم یہاں سے جا سکتے ہو. حیات نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا تو حدید اسے دیکھتا رہ گیا.
یہ آپ کیسے اجنبیوں کی طرح مجھ سے بات کر رہے ہیں…؟ حدید کے لہجے میں دکھ تھا.
جب تم غیروں ساتھ مل جاؤ گے تو مجھے ایسا ہی پاؤ گے. حیات مطمئن سا تھا.
آپ خود غرض ہیں. نہ چاہتے ہوئے بھی گلہ زبان سے پھسلا
میں خود غرض نہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ تم خود غرض ہو. زرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو.
تمہیں “ہمارا” اوہ سوری “میرا” درد یاد ہی نہیں ہے. تو تم میرے لیے اجنبی ہی ہو. تمہیں کوئی احساس نہیں کہ ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا اور کس نے کیا تھا……؟؟
تمہیں صرف اس بات سے غرض ہے کہ تمہاری شادی کسی بھی طرح حمنہ سے ہو جائے اور تم اپنی شادی کے چکر میں چاہتے ہو کہ میں ڈی ایم سے صلح کر لوں. بس اتنی سی بات ہے. حیات کے لہجے میں اتنا طنز تھا کہ حدید خاموش ہو گیا.
اچھا پھر اپ ایسا کریں کہ بدلہ لے لیں تاکہ آپ کو سکون مل جائے. میں آپ کو یوں نہیں دیکھ سکتا. بڑی مشکل سے اپنے جذبات پر ضبط کرتے ہوئے حدید نے کہا
تم اگر مجھے یہ مشورہ نہ بھی دیتے تب بھی میں بدلا تو لے کر رہوں گا. حیات کا لہجہ اٹل تھا.
تو پھر انتظار کس بات کا ہے. آپ اس وقت جوان ہیں. آپ کے پاس طاقت ہے. آپ بدلہ لے سکتے ہیں. پھر لیتے کیوں نہیں…..؟؟
تم مجھے اکسا رہے ہو….؟ حیات کی بات پر حدید نفی میں سر ہلانے لگا
قصہ مختصر بھائی کہ آپ اب بدلہ لینا ہی نہیں چاہتے ورنہ کب کا لے چکے ہوتے. آپ کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں ان کا احترام آج بھی زندہ ہے.
وہ ہمارے بڑے ہیں. یہ بات آپ بھی جانتے ہیں. مجھے نہیں لگتا کہ آپ ڈی ایم پہ کبھی گولی چلا سکیں گے. رہی بات رانا صاحب کی پہلے کا پتہ نہیں مگر اب آپ انہیں تکلیف نہیں پہنچائیں گے.
یہ بات میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کیونکہ اگر آپ نے انہیں تکلیف پہنچانی ہوتی تو آپ ان کی بیٹی کے ساتھ برا سلوک کرتے یا کم از کم اسے اب تک واپس بھیج چکے ہوتے. مگر یہاں ایسے آثار نظر نہیں آ رہے. ہیں. حدید ایک پل کے لیے رکا.
میں اسے واپس بھیج رہا ہوں مگر وہ جاتی ہی نہیں. حیات کے جواب پر حدید نے ہلکا سا قہقہہ لگا
کیا دھکے دے کر نکالا تھا….؟؟ حدید کے سوال پر حیات نے اسے چونک کر دیکھا
تم کہنا کیا چاہتے ہو صاف صاف کیوں نہیں کہتے…..؟؟ اب کی بار حیات نے ڈائریکٹ حدید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنی بیگم صاحبہ اچھی لگنے لگی ہیں اور لگنی بھی چاہیے. ہر انسان کو اپنی بیگم اچھی لگتی ہے.
اب صورتحال یہ ہے کہ وہ اچھی لگتی ہے اس وجہ سے آپ اس کے باپ کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے کیونکہ اگر اسے تکلیف پہنچے گی تو آپ کی بیگم اداس ہو جائیں گی اور اگر وہ اداس ہو جائے گی تو آپ کا بھی دل نہیں لگے گا. حدید کے جواب پر حیات کے اعصاب تن گئے.
تمہیں لگتا ہے کہ میں ایک لڑکی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جاؤں گا….؟؟ حیات نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا حدید نے لا پرواہی سے کندھے اچکائے.
میرے خیال سے تمہیں ابھی یہاں سے چلے جانا چاہیے کیونکہ میرا پارہ تیزی سے اوپر کی طرف جا رہا ہے. حیات کی بات پہ حدید سر ہلاتا کھڑا ہو گیا.
شاید رانا صاحب یا ڈی ایم آپ سے ملنے آئیں. کم از کم مہمان داری کا ضرور خیال رکھیے گا. حدید کہتے ہوئے مڑا.
ہم پولیس والوں سے زیادہ کوئی مہمان نوازی نہیں کر سکتا. ہم مشہور ہیں پورے علاقے میں اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے حیات کی بات کا مطلب حدید بخوبی سمجھ گیا تھا مگر بغیر مڑے وہ اپنی گاڑی میں آ بیٹھا. جب تک گاڑی گیٹ سے نکل نہیں گئی حیات اپنی جگہ پہ کھڑا اسے دیکھتا رہا. پتہ نہیں لوگوں کو کیا تکلیف ہوتی ہے دوسروں کی زندگی میں انٹر فیئر کرنے کی، جب میں کسی کو کچھ نہیں کہتا تو کوئی میرے اوپر تبصرہ کیوں کرتا ہے….؟؟ حیات بولتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا. آؤچچچچچچچ حیات نے جیسے ہی دروازہ کھولا ایک چیخ اس کے کان میں پڑی.
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے بڑے کمرے میں تمہیں یہ دروازہ ہی ملا ہے. چپک کر کھڑے ہونے کے لیے، اب مجھے دروازے کے پار دکھائی نہیں دیتا کہ کون کھڑا ہے….؟؟ دروازہ بند کرتے حیات نے فوراً حرا کی طرف دیکھا جو اپنا ماتھا پکڑے نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی تھی.
اچھا مجھے دکھاؤ زیادہ تو نہیں لگی. حیات نے گھٹنے کے بل اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
پوری زور سے دروازہ مارا ہے. جیسے انسان اپنے دل کی کوئی پرانی حسرت نکالتا ہے. کم از کم ایسے نارمل انسان دروازہ نہیں کھولتا. حرا نے اپنا سر پیچھے کرتے ہیں ہوئے غصے سے حیات کی طرف دیکھا
میں کوئی حسرت نہیں نکال رہا تھا دروازہ کھول رہا تھا. تم نے اگر کوئی ایسی منت مان رکھی تھی تو بتا دیتی. حیات نے کھڑے ہوتے ہوئے طنز کیا.
اور ہاں جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرو. تمہاری وجہ سے مجھے باتیں سننے کو ملتی ہیں.حیات نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے بند آنکھیں بند کیں.
میرا یہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں. میں پہلے بھی بتا چکی ہوں. اب دوبارہ بتا رہی ہوں. حرا نے اپنے ماتھا سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے حیات کو جواب دیا تو وہ گردن اٹھائے اسے دیکھنے لگا مگر اسے دیکھتے ہی وہ ایک دم اٹھ بیٹھا.
تمہارے سر سے خون نکل رہا ہے. جیسے ہی حیات نے یہ کہا حرا نے فوراً اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جو لال ہو رہا تھا. پہلے تکلیف کا اتنا احساس نہیں تھا مگر خون دیکھتے ہی حرا کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں.
دیکھو پلیز چپ ہو جاؤ. رو نہیں میں تمہیں ڈاکٹر پاس لے جاتا ہوں. حیات نے جلدی سے اپنا وائلٹ چابی سائیڈ ٹیبل سے اٹھائی اور حرا کو بازو سے پکڑتا اوپر اٹھانے لگا
میں نے نہیں جانا حرا نے روٹھے سے لہجے میں احتجاج کیا. اچھا ٹھیک ہے. مت جاؤ. میں کونسا ضد کر رہا ہوں. حیات نے کہتے ہوئے حرا کو اپنے ساتھ باہر کی طرف گھسیٹا تو وہ چپ چاپ اس کے ساتھ چلتی باہر لان میں آگئی. اپنا ڈوپٹہ دبا کر ماتھے پر رکھو تاکہ خون زیادہ نہ بہے. گاڑی کا دروازہ کھولتے حیات نے آرام سے حرا کو اندر بٹھایا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی. تبھی آسمان سے ننھی منی بارش کی بوندیں گاڑی کے شیشے پر گرنے لگیں. او شٹ!! یہ بارش نے بھی ابھی آنا تھا. حیات نے فوراً ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تمہیں بارش اچھی نہیں لگتی. ہرا نے حیات کی طرف دیکھا جو پریشانی سے گاڑی ریورس کر رہا تھا. مجھے پتہ ہے تم سب لڑکیوں کو بارش بہت پسند ہے. اس لیے اب مجھے لیکچر مت دینا اور دوپٹہ دبا کے رکھو. حیات کی بات پر حرا چپ چاپ سر ہلانے لگی. یہ بارش اتنی تیز کیوں ہو گئی ہے….؟؟ جیسے ہی گاڑی سڑک پر آئی بارش میں شدت آگئی. حیات جتنا پریشان تھا اس سے کئی گنا زیادہ حرا خوش تھی. تم پاگل تو نہیں ہو، تمہیں پتہ ہے اس بارش کی وجہ سے ہمیں کتنی مشکل پیش آ سکتی ہے. حیات نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کی ہنسی. مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں مشکل پیش آ سکتی ہے. حرا کا انداز اتنا عجیب تھا کہ حیات نے اسے چونک کر دیکھا اور پھر خود بھی مسکراتا ہوا ڈرائیونگ کرنے لگا ہمیں مشکل کیوں نہیں پیش آ سکتی….؟؟ کچھ دیر بعد حیات نے سوال کیا. اب تم اتنے بڑے پولیس افسر ہو پھر بھی ہمیں مشکل پیش آئے تو بڑی شرم کی بات ہے. حرا کے لہجے میں شرارت واضح تھی جس پر حیات سر ہلاتا ونڈ سکرین صاف کرنے لگا کبھی کبھی زندگی میں کوئی بہت معمولی حادثہ آپ کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے. شاید ایسا ہی ان دونوں ساتھ ہونے والا تھا. 💰💰💰💰💰 تمہاری باتوں سے میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ تمہارے مذاکرات بالکل کامیاب نہیں ہوئے. حدید کی خاموشی پر حمنہ نے تبصرہ کیا تو حارث بھی سر ہلانے لگا اب میں کیا کہہ سکتا ہوں. میں نے بہت کوشش کی کہ بھائی راضی ہو جائے اور ماضی کی تلخیوں کو بھول جائیں مگر وہ نہیں مانتے. حدید بہت سنجیدہ تھا ویسے ماضی میں اتنا بھی ظلم نہیں ہوا جتنا تم لوگ رونا رو رہے ہو. حمنہ نے سامنے لگے ٹی وی کو دیکھتے ہوئے کہا تو دونوں نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا. خیر ظلم تو ہوا ہے. اب کوئی مانے یا نہ مانے اس سے پہلے کہ حدید کچھ کہتا ہے حارث نے فوراً جواب دیا.
ظلم صرف میرے ساتھ ہوا ہے یعنی حد ہو گئی پتہ نہیں مجھے کہاں سے اٹھا کر لائے تھے اور کس نے مجھے اتنا بے دردی سے پھینکا تھا. مگر دیکھو میں ایک دن بھی اس بات پر نہیں روئی. حمنہ کے جواب پر حارث خاموش ہو گیا.
پتہ نہیں کیوں پر میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ ڈی ایم ضرور بھائی پاس جائیں گئے. حدید نے خلا میں نظریں دوڑاتے ہوئے پرسوچ انداز میں کہا
جس طرح تم سوچ رہے تھے مجھے لگا تم کہو گے ” انہوں نے نہیں بچنا انہیں لاہور لے جائیں”. ڈاکٹر کے منہ سے عموماً ایسا ہی جملہ سنائی دیتا ہے. حارث نے ہنستے ہوئے کہا
ناممکن ایسا ہو ہی نہیں سکتا میں نہیں مانتی اور تم اپنا ہر وقت کا بغیر ٹکٹ والا تھیٹر کبھی بند بھی کر دیا کرو. حمنہ نے صاف انکار کرتے باؤل میں پڑے پاپ کارن منہ میں ڈالے.
ایسا ہوگا اور بہت جلد ہوگا. حدید نے سر ہلاتے ہوئے تصدیق کی.
چلو فرض کرو اگر ایسا ہو بھی جائے. تو کون سی قیامت آ جائے گی. زیادہ سے زیادہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھیں گے. ایک دوسرے پہ طنز کے تیر چلائیں گے جیسے دونوں ایک دوسرے کے ایکس بوائے فرینڈ رہ چکے ہوں. اس کے بعد وہ اپنے گھر اور ڈی ایم اپنے گھر حارث کے جواب پر حمنہ نے اسے دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا مجھے لگتا تھا حارث کے تم بڑے ہو گئے ہو اور تھوڑی بہت عقل بھی آگئی ہوگی مگر یہاں تو عقل جاتی نظر آ رہی ہے. حمنہ نے ریموٹ سے ٹی وی کی آواز اونچی کی. مجھے یہ ڈر نہیں ہے کہ ڈی ایم وہاں جائیں گے. مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ بھائی ان سے بہت بدتمیزی کریں گے اور اگر وہ ڈی ایم سے بدتمیزی کرتے ہیں تو ڈی ایم کا مان ٹوٹ جائے گا. میں نے دیکھا ہے ان کے لہجے اور آنکھوں میں ایک مان ہے کہ بھائی انہیں براہ راست کچھ نہیں کہیں گے اور اگر وہ رانا صاحب کو کچھ کہتے ہیں تو حرا کا دل ٹوٹ جائے گا جبکہ میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا. حدید بہت فکر منہ دکھائی دے رہا تھا. تم کیوں ان لوگوں کی فکر کر رہے ہو جنہیں تمہاری فکر نہیں. میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور دیکھتے جاؤ کہ کیا ہوتا ہے….؟؟ میرا تو دل کرتا ہے کہ جب ڈی ایم اور رانا انکل، ایس پی سے ملنے جائیں تو ہم بھی انکے ساتھ جائیں. دیکھیں تو صحیح کہ دو پرانے دشمن جب آپس میں ملتے ہیں. تو حقیقی زندگی میں کیا کرتے ہیں….؟؟ موویز میں تو پیچھے بڑا ہی زبردست بیک گراؤنڈ میوزک لگا ہوتا ہے. جو سچویشن جو مزید نکھار دیتا ہے. حمنہ نے پرجوش انداز میں کہا تو حارث نے حدید کی طرف دیکھا حمنہ تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے تم تو بہت سنجیدہ لڑکی تھی….؟؟ اب کی بار حدید نے ڈائریکٹ حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو حارث بے ساختہ ہنسنے لگا کبھی کبھی حدید تم بہت مزاخیاں باتیں کرتے ہو. جیسے ابھی ابھی تم نے کیں. حارث نے ہنستے ہوئے حدید کی طرف دیکھا تو اس نے باپ کارن کا پورا باؤل حارث کی طرف اچھال دیا. دفع ہو جاؤ تم دونوں، میں نے تمہارے ساتھ نہیں بیٹھنا. حارث اپنے کپڑے جھاڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا. تمہاری حرا سے بات ہوئی. کیا کہتی ہے وہ اب کی بار نرمی سے حدید نے حمنہ کی طرح دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں اس نے حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ خوش ہے. حمنہ نے کندھے اچکاتے ہوئے سرسری سا جواب دیا.
حیرت ہے حرا جیسی لڑکی بھائی ساتھ خوش ہے. حدید نے حیرت کا اظہار کیا.
اسے خوش نہیں ہونا چاہیے تھا…..؟؟ حدید کی حیرت پر حمنہ نے بےساختہ پوچھا
میرا مطلب ہے کہ بھائی کافی بور سے انسان ہیں. لڑکیوں کو تھوڑے رومینٹک ہسبینڈ پسند ہوتے ہیں. حدید کہتا ہوا اپنی چیزیں سمٹنے لگا
کیا تم ایک رومینٹک ہسبینڈ بنوں گے….،؟ حمنہ کے سوال پر چیزیں سمیٹتے حدید کا ہاتھوں رکا.
تم نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ تمہیں کیسا ہسبینڈ چاہیے. مطلب وہ کون کون سی خوبیاں ہیں. جو تم اپنے ہسبنڈ میں دیکھنا چاہتی ہو. چیزیں وہیں چھوڑتے حدید نے دل سے سوال پوچھا
مجھے تمہارے جیسا ہسبینڈ چاہیے. میں آج تمہیں اپنا ایک راز بتاتی ہوں. میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھے ایک لڑکا پسند ہے یاد ہے ناااااا حمنہ کے کہنے پر حدید نے ہلکا سا سر ہلایا مگر اس کا دماغ حمنہ کے پہلے جملے پر ہی رکا ہوا تھا تمہیں پتہ ہے وہ شخص کون ہے….؟؟ حرا نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا کون….؟؟ حدید کے منہ سے نکلا وہ شخص تم ہو. میں نے ہوش سنبھالتے ہی صرف تمہیں پسند کیا ہے. اب تمہارے اندر جو بھی خوبیاں ہیں سب مجھے پسند ہیں. حمنہ اقرار کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جب کہ حدید اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا. کتنی عجیب بات ہے کہ جو لڑکی مجھے پسند ہے. میں بھی اسے پسند ہوں یہ احساس کتنا خوشگوار ہے. ہوش میں آتے ہی حدید نے خودکلامی کی. 💰💰💰💰💰 ادھی رات کے قریب حرا کی آنکھ پیاس کی شدت سے کھلی. آنکھیں کھولتے ہی کمرے میں ہلکی روشنی کے باعث اسے اپنے اردگرد کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی. کیا کوئی چیز چاہیے….؟؟ اس سے پہلے کہ حرا اٹھنے کی کوشش کرتی اسے اپنے بیت قریب سے حیات کی آواز سنائی دی. مجھے پیاس لگی ہے. حرا کے کہنے پر حیات نے فوراً قریب پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد دی. چوٹ کی وجہ سے تمہیں بخار ہو گیا تھا مگر اب تمہارا باڈی ٹمپریچر نارمل ہے .پانی پیتی حرا کے ماتھے کو چھوتے ہوئے حیات نے سکھ کا سانس لیا. مجھے امید نہیں تھی. گلاس واپس کرتے ہوئے حرا نے سرسری انداز میں کہا کس بات کی….؟؟ حیات نے اسے لیٹنے میں مدد دی. یہی کہ تم میرا خیال کرو گے. حرا کا رخ حیات کی طرف تھا. تمہاری رائے میرے بارے میں کافی خراب ہے. حیات منہ بناتے ہوئے حرا کے قریب ہی نیم دراز ہو گیا. تو تمہاری رائے میرے بارے میں کون سی بہت اچھی ہے. حرا کے جواب پر حیات مسکرانے لگا جب میں نے تمہیں پہلی بار ہوٹل میں دیکھا تھا. تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم میری بیوی بننے کے قابل ہو. حیات کے جواب پر حرا اس کی طرف جھکی. ہماری رائے ایک دوسرے کے بارے میں کتنی “پرفیکٹ” ہے. حرا کی سرگوشی پر حیات نے اپنے کان پر کھجلی کی. تبھی بجلی کا ایک زور دار کڑکا ہوا تو حرا، حیات ساتھ جا لگی. مجھے گرجتے ہوئے بادل اور چمکتی ہوئی بجلی بالکل اچھی نہیں لگتی. حرا نے حیات میں پناہ ڈھونڈتے ہوئے کہا تو اس نے اسے اپنے حصار میں لے لیا ظاہری سی بات ہے لوگوں کو اپنے جیسی چیزیں کہاں اچھی لگتی ہیں…..؟؟ حیات کے جواب پہ حرا اسے گھورتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تو اس نے اپنا حصار اور مضبوط کر لیا. میرے خیال سے یہ بارش کا موسم ہمارے لیے مشکل کھڑی نہیں کر سکتا. حیات نے کہتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا تو وہ اسے گھورتی خاموش ہو گئی. شاید دونوں پر محبت مہربان ہونے لگی تھی. 💰💰💰💰💰 ڈرائنگ روم میں بلا کی خاموشی تھی. اتنی خاموشی کہ لگتا تھا یہاں کوئی زی روح موجود ہی نہیں ہے. گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی. سب ایک دوسرے سے نظریں چرائے بیٹھے تھے. میرے خیال سے آپ لوگوں کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا. کافی دیر بعد حیات کی آواز نے خاموشی توڑی. لیکن میرے خیال سے ہمیں بہت پہلے یہاں آ جانا چاہیے تھا. ڈی ایم کے جواب پر سب نے حیات کی طرف دیکھا جو کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا. میں آپ لوگوں کو پسند نہیں کرتا اور میرے خیال سے آپ لوگوں کی بھی میرے بارے میں یہی رائے ہو گی. حیات نے جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالتے ہوئے کہا خود سے رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے. پہلی بار حمنہ کے بولنے پر حیات نے اس کی طرف دیکھا گڑیا تم بہت چھوٹی ہو اگر خاموش رہو گی تو مجھے اچھا لگے گا. چھوٹوں کا کام نہیں کہ وہ بڑوں کی باتوں میں بولیں. حیات کی تنبیہ پر حمنہ خاموش ہو گئی جبکہ نتاشا بیگم نے خاصی بےزاری سے حیات کی طرف دیکھا پرانی باتوں کو بھول جاؤ. جو ہو گیا وہ ہم بدل نہیں سکتے. ڈی ایم نے پھر بات کرنا شروع کی. مگر ہم اس کا بدلہ تو لے سکتے ہیں. پہلی دفعہ حیات نے ڈی ایم کی طرف دیکھا. ٹھیک ہے تم بدلہ لے لو. ایسا کرو کہ اپنی پسٹل کی ساری گولیاں میرے سینے میں اتار دو. میں مرنے سے پہلے یہ سٹیٹمنٹ دے دوں گا کہ میں نے خودکشی کی ہے. ڈی ایم کی بات پہ ایک بار پھر خاموشی چھا گئی. ہمیشہ کی طرح آپ خود بچ جائیں گے اور مجھے پھنسا دیں گے. میں ایسا نہیں کروں گا. حیات کے جواب پر حمنہ نے قریب بیٹھی حرا کی طرف دیکھا یہ اتنی مشکل باتیں کیسے کر لیتے ہیں….؟؟ حمنہ نے حرا کے کان میں سرگوشی کی. بالکل ایسے ہی جیسے وہ مشکل کام کرتے ہیں. حرا کے جواب پر حمنہ نے اسے آبرو اچکاتے ہوئے دیکھا. جیسے پوچھ رہی ہو مثلاً مثلاً تیری دوست سے شادی کرنا. کیا یہ مشکل کام نہیں. حرا کے جواب پہ دونوں دبا دبا سا مسکرانے لگیں.
تم میری بیٹی کو طلاق دے دو شاید اس طرح تمہارا بدلہ پورا ہو جائے. رانا صاحب کے یوں اچانک بولنے پر جہاں حرا کی ہنسی کو بریک لگی وہیں حیات کے تاثرات بھی یک دم تبدیل ہو گے.
یہ میرے بدلے کا حصہ نہیں. میں اتنا کمزور بدلہ نہیں لیتا. پہلی بار حیات نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا.
تُو مان یا نہ مان مگر مجھے لگتا ہے کہ تیرا بھائی ” اپنی حرا” پر عاشق ہو گیا ہے. حارث نے حدید کی کان میں نظریں بچاتے ہوئے سرگوشی کی.
یہ “اپنی حرا” کیا ہوتا ہے. کیوں ایس پی کے پسٹل سے گولیاں کھائے گا. صرف حرا ہوتا ہے. حدید نے حارث کا جملہ درست کیا. تو وہ اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھنے لگا
بھائی ویسے تو آپ نے میری کبھی کوئی بات نہیں مانی مگر پھر بھی میں ایک بار پھر التجا کرتا ہوں کہ اس لڑائی جھگڑے کو ختم کر دیں. ڈی ایم ہمارے بڑے ہیں مانا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے مگر وہ شرمندہ بھی تو ہیں. حدید نے سب کو خاموش ہوتا دیکھ کر بات آگے بڑھائی.
ٹھیک ہے میں ایک صورت میں سب بھول سکتا ہوں کہ یہ مجھ سے معافی مانگیں. پتہ نہیں اچانک حیات کے دل میں کیا آئی کہ اس نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے فرمائش کی.
کیا _ رانا صاحب سمیت سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا
کیوں آپ لوگوں کو اردو سمجھ نہیں آتی. میں نے کہا ٹھیک ہے اگر آپ اپنی غلطی پہ شرمندہ ہیں تو آپ لوگ مجھ سے معافی مانگیں مگر معافی دل سے مانگنی ہے اور وہ بھی ایسے انداز میں کہ سیدھا میرے دل پر اثر کرے. حیات نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے نتاشا بیگم کی طرف دیکھا
یہ معافی نہیں مانگیں گے. نتاشا بیگم نے غصے سے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ طنزاً مسکرانے لگا
ایک طرف آپ لوگ کہتے ہیں کہ بدلہ نہ لو. دوسری طرف آپ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے کیے پہ شرمندہ ہیں. تیسرا پھر معافی مانگنے میں کیا مسئلہ ہے…..؟؟ اپنی بات کے آخر میں انتہائی سنجیدگی سے حیات نے سب کی طرف دیکھا. تو سبھی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے.
پاپا بڑے ہیں وہ آپ سے معافی نہیں مانگیں گے. آپ کو شرم آنی چاہیے. ایسے کہتے ہوئے. سب سے پہلے حرا نے مخالفت کی تو حیات نے اسے ٹیڑھی نظروں سے دیکھا
میرے خیال سے ڈی ایم کو بھی معافی نہیں مانگنی چاہیے. حرا کے بعد حدید دوسرا تھا جو مخالفت میں کھڑا ہوا.
اب صورتحال یہ تھی کہ نتاشا بیگم، حرا اور حدید اس چیز کے حق میں نہیں تھے کہ بزرگ حیات سے معافی مانگیں جب کہ حیات کو یہ ساری صورتحال بہت مزہ دے رہی تھی.
ٹھیک ہے میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں. جب بات ختم ہی کرنی ہے تو پھر معافی مانگنے سے کیا فرق پڑتا ہے….؟؟ سب سے پہلے ڈی ایم نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو رانا صاحب نے بھی ان کا ساتھ دیا مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے. ابھی تک تو حیات کو اپنی جیت نظر آ رہی تھی.
ٹھیک ہے پھر مانگیں معافی _ حیات نے اپنی ٹانگیں سامنے پڑے ہوئے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کراس کی تو حرا نے بہت دکھ سے اس کی طرف دیکھا جب کہ حدید نے سر جھکا لیا. نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے. اس سے پہلے کہ رانا صاحب یا ڈی ایم حیات کے اشارے پر اس کے پاؤں کو ہاتھ لگاتے. حمنہ بول پڑی. میں آپ کی بات مانتی ہوں. یہ جانے بغیر کہ آپ میرے کیا لگتے ہیں یا آپ مجھے کیوں پیار کرتے ہیں. تو پھر آج آپ بھی میری بات مانیں گے. اپ ایسا کچھ نہیں کریں گے. جس سے میں آپ سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جاؤں. یہاں تک کہ معافی مانگنے پر بھی نہ مانو. حمنہ نے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا تو یہاں اس کی بس ہو گئی. کیا ہے….؟؟ حیات نے صوفے پہ مکا مارتے ہوئے اپنی ٹانگیں نیچے کیں. اسے ساتھ کیوں لائے ہیں. مجھے سمجھ نہیں آتی اتنے سارے لوگوں کو میرے گھر لانے کی کیا ضرورت تھی. آپ دونوں کا مسئلہ تھا. آپ دونوں آتے…..؟؟ میں نے آپ لوگوں کا انکاؤنٹر نہیں کرنا تھا جو اکیلے آنے سے ڈر رہے تھے.آپ دونوں اکیلے آ سکتے تھے. یوں بارات ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی اور خاص طور پر اس کو حیات نے کھڑے ہوتے ہوئے حمنہ کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جو سر نفی میں ہلا رہی تھی.
آپ پلیز میری خاطر سب ختم کر دیں. پلیز حمنہ نے حیات کی طرف بڑھتے ہوئے کہا جو مسلسل انگلی نہ میں ہلا رہا تھا.
چلیں ان کی جگہ میں آپ کے پاؤں پڑ جاتی ہوں. حمنہ کہتی ہوئی جھکنے لگی تو حیات نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا.
میں نے تمہیں بہت پیار سے پالا ہے. تم ایسا نہیں کر سکتی. حیات نے پیار سے حمنہ کو خود سے جدا کیا تو سب کی جان میں جان آئی.
ایسا نہیں لگتا جیسے جن کی جان اس لڑکی میں ہے اور یہ لڑکی تیرے قابو میں حارث نے شرارت سے حدید کے کان میں سرگوشی کی. حمنہ بلکل ٹھیک کہتی ہے ” تم اپنا ہر وقت کا بغیر ٹکٹ والا ٹھیٹر کبھی بند بھی کر دیا کرو”. حدید کے جواب پر وہ منہ بناتے ہوئے حیات کی طرف دیکھنے لگا آپ میرے کہنے پہ ڈی ایم اور رانا انکل کو گلے لگا لیں پلیز حمنہ کی التجا پر حیات نے سامنے کھڑے دونوں نفوس کو بہت گھور کر دیکھا. جس میں سے رانا صاحب میں تو نہیں مگر ڈی ایم کی آنکھوں میں اسے اپنے لیے صاف اپنائیت اور شرمندگی دکھائی دے رہی تھی. اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا حیات نے آگے بڑھتے ہوئے ڈی ایم کو اپنے گلے لگا لیا تو وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہی رو پڑے اور پھر ایک دم باہر تیز بارش شروع ہو گئی. کافی دیر وہ ایک دوسرے کے گلے لگے رہے. حیات نے نہ چاہتے ہوئے رانا صاحب کو اپنے گلے لگایا اور یہ ملن چند سیکنڈ تھا. جدا ہوتے ہی حیات نے ایک نظر حرا پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی. میں نے حمنہ کے کہنے پر گلے تو لگا لیا ہے لیکن اس سے زیادہ کی مجھ سے امید مت رکھنا. حیات کے کہنے پر سب نے خوشی خوشی اس کی طرف دیکھا. بات یہاں تک پہنچی ہے تو آگے بھی بڑھ جائے گی. حارث نے حدید کے کان میں سرگوشی کی تو وہ سر ہلانے لگے. ویسے آپ کی مہمان نوازی تو دور دور تک مشہور ہے. حدید کی بات پر حیات اسے مارنے کے لیے بڑھا لیکن حمنہ نے روک دیا. تم کم از کم اس گدھے کی کبھی حمایت مت کرنا. حیات نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو حدید نے ہاتھ کے اشارے سے آداب بجا لایا. حرا خوش تھی اپنے باپ اور بھائی دونوں کے لیے _ مگر نتاشا بیگم سخت ناراض تھیں.
برسوں پرانی دشمنیاں اور لڑائیاں ایک پل میں ختم نہیں ہو جاتی مگر آہستہ آہستہ برف پگھلنے لگتی ہے چیزیں دھلنے لگتی ہیں یہی اس خاندان ساتھ بھی ہونے والا تھا سب پہلے جیسا تو نہیں ہو سکتا تھا مگر پھر بھی چھوٹوں نے رشتوں کو بچا لیا تھا.
💰💰💰💰💰
ختم شد
