Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

محترمہ آپ کی انفارمیشن میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ میں آپ کے لیے مرا نہیں جا رہا. مجھے صرف قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے. ورنہ میرا بس چلے تو تمہیں کسی ایسے سیارے پر چھوڑ آؤں کہ تم تو تم تمہاری اوازے بھی اس گھر تک نہ پہنچے. حارث نے آتے ہی جارحانہ انداز میں حرا کو جواب دیا جبکہ حدید نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
حارث تم تھوڑی دیر کے لیے اپنی بولتی بند نہیں کر سکتے. میں بات کر رہی ہوں نااااااا _ حمنہ نے حارث کو گھورتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا دیکھو حمنہ میں تمہاری خاطر مصیبت کو تو گلے لگا سکتی ہوں مگر تمہارے بھائی کو نہیں حرا کے چہرے پر صاف شرارت ظاہر تھی جبکہ یہ جملہ حارث اور حدید کو حیران کر گیا.
دیکھا یہ کتنی بے شرم لڑکی ہے اور ابھی تم کمرے میں مجھے دلائل دے رہے تھے. کہ اس سے شادی کرنے کے بعد میرے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے.
ڈیئر اس سے شادی کرنے کے بعد میرے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ میرے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا. حارث نے حدید کی طرف مرتے ہوئے کہا
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی ہے. اگر تم دونوں ایک دوسرے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہو تو انکار کر دو. بحث کیوں کر رہے ہو …..؟؟ حدید نے نرمی سے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے حل بتایا.
ارے واہ یہ کیا بات ہوئی …. ؟؟ تم نے تو سارا کام ہی خراب کر دیا. میں آدھے گھنٹے سے دونوں کو اس رشتے کے لیے راضی کر رہی ہوں اور تم کہتے ہو کہ اگر نہیں کمفرٹیبل تو نہ کر دیں. حمنہ نے غصے سے حدید کی طرف دیکھا جس پہ وہ ایک لمبا سانس خارج کرتا خاموش ہو گیا.
میرے خیال سے حدید بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے. ہمیں اپنے بڑوں کو اس رشتے کے لیے ” نہ” کر دینی چاہیے کیونکہ میں اس لڑکی کے ساتھ بالکل بھی کمفرٹیبل نہیں ہوں.
مجھے پہلی دفعہ حارث کی بات بالکل ٹھیک لگی ہے. حرا نے حارث کی ہاں میں ہاں ملائی تو حمنہ کا چہرہ بجھ گیا.
زیادہ اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے. میں تمہارے لیے چاند جیسی بھابھی لاؤں گا. حارث نے کھڑے ہوتے ہوئے حمنہ کی کو تسلی دی.
اور یہ چاند جیسی بھابھی چاند سے کون لائے گا ……؟؟ حمنہ کے سوال پر حرا دانت نکالنے لگی.
تم اپنے لیے کسی چاند کو تلاش کرو. میں اس کے لیے چاند جیسی بھابی لے ہی آؤں گا. حارث کہتا ہوا ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا. تو حدیث بھی جانے کے لیے کھڑا ہوا.
آپ تو بیٹھیں. آپ کدھر چل دئیے. حرا نے حدید کو روکنا چاہا.
جس طرح آپ کو ہر وقت اپنی دوست کی فکر رہتی ہے. بالکل ویسے ہی میں حارث کے لیے پریشان ہوتا ہوں.
ایک تو اس گھر میں کوئی بھی اس کی سنتا نہیں. تو بس میں ہی اس کے پاس ایک آخری آپشن بچتا ہوں. اگر میں بھی اس کو نہیں سنوں گا تو اس کا کیا بنے گا …..،؟ حدید نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کندھے اچکائے
اگر آپ بھی اس کی نہیں سنیں گے تو وہ انسان کا بچہ بن جائے گا. حمنہ کے جواب نے پر حدید نے اسے گھورتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا.
حارث کو بگاڑنے میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے. حمنہ نے حدید کو جاتا دیکھ کر گلہ کیا
اور آپ کو بگاڑنے میں ڈی ایم کا بہت بڑا ہاتھ ہے. حدید حساب برابر کرتا ڈرائنگ روم سے باہر چلا گیا.
اب حرا نے آبرو اچکاتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا اک دفعہ پھر کروں گی کوشش
میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں. حمنہ کے جواب پر حرا نے اپنا سر پیٹ لیا.
💰💰💰💰💰
اس وقت رانا تنویر کا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا. آج ان کے لان میں بہت گہما گہمی تھی کیونکہ انہوں نے باربی کیو پارٹی رکھی تھی. ہر پارٹی کی طرح اس میں بھی ڈی ایم اور اس کی پوری فیملی انوائٹ تھی.
یار پتہ نہیں ڈی ایم کو کیا مسئلہ ہے. وہ کیوں نہیں گھر پر پارٹی رکھتے ……؟؟ ہمیشہ ہوٹل کو ترجیح دیتے ہیں. حالانکہ مجھے گھر میں الگ ہی مزہ آتا ہے. .
مجھے ایک بات رانا صاحب کی بہت اچھی لگتی ہے. کہ یہ بہت کھلے دل کی مالک ہیں. بہت مہمان نواز ہیں. حارث نے پلیٹ کو باربی کیو سیخ سے بھرتے ہوئے خوش دلی سے حدید کی طرف دیکھا تو وہ پھیکا سا مسکراتا ادھر ادھر دیکھنے لگا
اگر تجھے رانا صاحب اتنے پسند ہیں تو تُو نے حرا کے رشتے سے انکار کیوں کیا ……؟؟ حدید نے قدر تعجب سے حارث کی طرف دیکھا تو اب مسکرانے کی باری اس کی تھی.
مجھے رانا صاحب پسند ہیں. ان کی بیٹی نہیں اور ہمارا معاشرہ اور مذہب مجھے رانا صاحب شادی کرنے کی اجازت نہیں دے گا. حارث ابرو اچکاتا ہوا قریب پڑےی چیئر پر بیٹھ گیا.
وہ کیا ہے ناااااا کہ میں زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا اس لیے بیٹھ گیا ہوں. برا مت محسوس کرنا حارث نے منہ میں بوٹی رکھتے ہوئے کہا تو حدید سر ہلاتا اردگرد کا جائزہ لینے لگا تبھی اس کی نظر دور کھڑی حمنہ پر پڑی.
تم ادھر اکیلی کھڑی کیا کر رہی ہو وہ تمہاری سہیلی کہاں ہے. …؟؟ حمنہ جو اپنے دھیان میں کیاری کو دیکھ رہی تھی حدید کی آواز پر چونکی.
اسے رانا انکل نے بلایا ہے. شاید کوئی ضروری بات کرنی ہے. حمنہ نے اداس سے لہجے میں جواب دیا.
تو اس میں اتنی اداسی والی کون سی بات ہے. جو یوں منہ لٹکا لیا ہے …..؟؟ حدید نے حمنہ کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا.
اداسی کی بات ہے ناااااا _ وہ حرا کا رشتہ کرنے لگے ہیں. جب کہ ڈی ایم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ حرا کی شادی حارث ساتھ ہوگی. حمنہ کہے جواب پر حدید کچھ لمحے خاموش ہو گیا. کیا واقعی ہی ڈی ایم نے ایسے کہا تھا…..؟؟ حدید نے اپنا شک ختم کرنے کے لیے دوبارہ پوچھا تمہیں میری بات پہ یقین نہیں ہے. ڈی ایم نے مجھے بولا تھا کہ حرا کی شادی حارث ساتھ ہی ہوگی. حارس اچھا انسان ہے تھوڑا سا شور مچانے کے بعد بات مان لیتا ہے. یاد نہیں پہلے ڈاکٹری کے لیے بھی اس نے کتنا شور مچایا تھا کہ میں یہ نہیں پڑھوں گا. میں یونیورسٹی نہیں جاؤں گا. بھوک ہڑتال بھی کی تھی لیکن پھر کیا ہوا. ….؟؟ فائنل ایئر میں پہنچ گیا ناااااا حمنہ نے جیسے یاد دلایا.
ہممممم ایسا تو ہے. حدید نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا
پھر اب تم کیا کرو گی…..؟؟ حدید نے کھوئے سے لہجے میں پوچھا
تماشا حمنہ کھل کر مسکرائی.
میں سمجھا نہیں حدید نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا. تھوڑا انتظار کر لیں. سب سمجھ آ جائے گی. بس میں حرا کے آنے کا انتظار کر رہی ہوں. حمنہ نے لاؤنچ کے داخلی دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا. حمنہ میں نے تم سے ایک بات کرنی تھی. فرض کرو کہ اگر میں کبھی کسی مشکل میں پھنس جاؤں تو کیا تم میری مدد کرو گی. میرا مطلب ہے کہ اگر کبھی مجھے تمہاری ضرورت پڑی تو تم میری مدد کو آؤ گی …..؟؟ حدید نے حمنہ کی طرف جھکتے ہوئے رازداری سے پوچھا بھلا یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے. آپ ہر وقت ہر کسی کی مدد کرتے ہیں. ڈی ایم کی مدد کرتے ہیں. تو ہم بھی آپ کی مدد کریں گے حمنہ کے اس معصومیت بھرے جواب پر حدید تلخ سا مسکرایا. بعض دفعہ وہ لوگ ہماری مدد نہیں کرتے جن کی ہم کرتے ہیں. خیر چھوڑو!!! کچھ کھا پی لو کب تک اس کا انتظار کرتی رہو گی ….؟؟ حدید کے کہنے پر حمنہ سر ہلانے لگی تبھی اندر سے حرا آتی ہوئی دکھائی دی. رانا انکل کیا کہہ رہے تھے…..؟؟ حرا کو دیکھتے ہی حمنہ نے بے تابی سے پوچھا کچھ نہیں بابا تمہارے بھائی کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے تھے. حرا نے مزے لیتے ہوئے ہاتھ سینے پر باندھے جبکہ حمنہ اور حدید دونوں ہی اسے غور سے دیکھنے لگے. مانا کہ تمہاری ہونے والی بھابی بہت خوبصورت ہے مگر کیا تم لوگ مجھے نظر لگاؤ گے …..؟؟ جیسے ہی حرا نے یہ لفظ ادا کیے حمنہ نے خوشی سے چیخ مارتے ہوئے اسے گلے لگا لیا مجھے پورا یقین تھا کہ ڈی ایم تمہیں میری بھابی بنا کر چھوڑیں گے. انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا. حمنہ کے کہنے پر حدید نے مڑ کر حارث کی طرف دیکھا جو مزے سے باربی کیو ساتھ انصاف کر رہا تھا. بچے تیرے ساتھ تو بہت بڑی ناانصافی ہو گئی ہے. حدید مسکراہٹ دباتا اس کی طرف چل دیا. 💰💰💰💰💰 ہاں فراز بولو اور کچھ اچھا بولنا. حیات نے سگریٹ انگلیوں میں دباتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھا سر آپ کو بتانا تھا کہ حرا بی بی کی منگنی ہو گئی ہے. فراز نے ڈرتے ڈرتے اطلاع دی. میرے خیال سے شادی بیاہ کی خبر تو خوشی سے دیتے ہیں مگر تم مجھے ایسے دے رہے ہو جیسے کوئی مر گیا ہو. حیات نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے جواب دیا. سر یہ حرا بی بی وہی ہے میرا مطلب ہے کہ
ابھی فراز نے اتنا ہی کہا تھا کہ حیات نے اس کی طرف لال ہوتیں آنکھوں سے دیکھا
رانا تنویر کی بیٹی ہے ہ نا نااااااا _ میری یاد اتنی خراب نہیں ہوئی کہ تم مجھے بار بار یاد کراؤ کہ کون کیا ہے ……؟؟ تم جا سکتے ہو. تم اور تمہارے تمام جاننے والے سب بالکل بیکار ہیں اور مجھے بیکار لوگ پسند نہیں. کوشش کرنا کہ چند دنوں تک مجھے اپنی یہ شکل مت دکھانا. کیونکہ مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی. اچھا خاصا میرا کام چل رہا تھا مگر تم نے ایسی نظر لگائی ہے کہ ایک مہینے سے کوئی کیس ہاتھ نہیں لگا. حیات نے انگلیوں سے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے افسوس کیا. سر میں جاؤں …..؟؟ فراز نے جانے کے لیے اجازت طلب کی. میرے حساب میں تو تمہیں اب تک چلے جانا چاہیے تھا. میں تو تمہیں جانے کا بول چکا ہوں. حیات کے منہ سے جیسے یہ الفاظ نکلے فراز فوراً کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ حیات اپنی چیئر پر جھولنے لگا ویسے حرا بی بی تمہیں مبارکباد دینا تو بنتی ہے. حیات نے مسکراتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا اور حرا کا نمبر ڈائل کیا. حیات کی خوش نصیبی تھی کہ دوسری بیل پر کال اٹینڈ ہو گئی. ہیلو کال اٹینڈ ہوتے ہی حرا کی خوبصورت آواز سپیکر سے ابھری.
آپ کو منگنی مبارک ہو. میرے خیال سے میں پہلا انسان ہوں جس نے آپ کو منگنی کی مبارک باد دی ہے. حیات نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کہا
پتہ نہیں آپ کو اپنے بارے میں اتنی غلط فہمی کیوں ہے …..؟؟ مجھے ہزاروں لوگ مبارک باد دے چکے ہیں. آپ کتنے نمبر پر آتے ہیں مجھے یہ یاد بھی نہیں. حرا نے لاپرواہی سے جواب دیا تو حیات مسکرانے لگا
آپ کو حیرت نہیں ہوئی کہ مجھے آپ کی منگنی کا کیسے پتہ چلا….؟؟ اب کی بار حیات کے لہجے میں تجسس تھا
نہیں اس میں حیرت کی کیا بات ہے …..؟؟ چھوٹے لوگ عموماً اور پولیس والے خصوصاً بڑے لوگوں کی کھوج میں رہتے ہیں. حرا نے کندھے اچکائے
خیر ایسا تو نہیں ہے. کم از کم میں نہیں مانتا. میں نے آپ کو اس لیے منگنی کی مبارکباد دی ہے تاکہ آپ مجھے بھی خوش دلی سے مبارکباد دے سکیں. وقت اور دن نوٹ کر لیں. حیات نے فون بند کرنے سے پہلے آخری فقرہ ادا کیا.
میری مانیں تو آپ ابھی منگنی نہ کریں. کیا پتہ زندگی کا خواہ مخواہ خرچہ کریں گے. آگے آپ کی مرضی ہے. حرا نے طنز کیا اور اس سے پہلے کہ حیات کال کاٹتا وہ فون بند کر چکی تھی.
خاصی بتمیزززز ہے. شاید جانتی نہیں کہ آج کل لوگوں کی منگنیاں کہیں اور ہوتیں ہیں اور شادیاں کہیں اور _ حیات نے کچھ سوچتے ہوئے ایک اور نمبر ڈائل کیا. 💰💰💰💰💰 حارث کے بچے تو نے کیا شور مچا رکھا ہے. میں یہ شادی نہیں کروں گا..؟ مجھے یہ شادی نہیں کرنی ہے…؟ ایسی حرکتیں لڑکیوں کو زیب دیتی ہیں لڑکوں کو نہیں. حارث کو بیڈ پہ کھڑا دیکھ کر حمنہ نے ڈانٹا جبکہ حدید اور نتاشا بیگم بھی بیڈ کے گرد کھڑے اسی کی طرف دیکھ رہے تھے. اگر آپ لوگوں نے میری زبردستی شادی کرنے کی کوشش کی. تو میں پنکھے ساتھ لٹک جاؤں گا. حارث نے دھمکی دی. حارث میں تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے وہ بات نہیں کہتے جو کر نہیں سکتے. میں بچپن سے تمہاری یہ دھمکی سنتی آئی ہوں. آج تم مجھے پنکھے ساتھ لٹک کر دکھاؤ. حمنہ نے غصے سے حارث کو چیلنج کیا جبکہ تاشہ بیگم اور حدید پریشانی سے حمنہ کی طرف دیکھنے لگے. ماما کچھ نہیں ہوتا اس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ یہ پنکھے ساتھ لٹکے. یہ تو بس ساتھ نہیں لٹک سکتا. اتنا ڈرپوک ہے. یہ پنکھے کے ساتھ کیا خاک لٹکے گا. حمنہ نے مذاق اڑایا میں پنکھے ساتھ اس لیے نہیں لٹکتا کہ کہیں پنکھا گر نہ جائے. اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں ڈرپوک ہوں. حارث نے حمنہ کو جواب دیتے ہوئے نتاشہ بیگم کی طرف دیکھا بیٹے جو بھی بات ہے آرام سے بیٹھ کر کرتے ہیں. یوں تماشہ کرنے کا کیا فائدہ. …؟؟ نتاشا بیگم نے پیار سے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گیا جب کہ ابھی تک رسی اس کے ہاتھ میں ہی تھی. ماما مجھے یہ شادی نہیں کرنی. مجھے وہ لڑکی بالکل پسند نہیں ہے. حارث نے 100 بار کہی ہوئی بات دوبارہ دہرائی. تو حمنہ ہنسنے لگی. یہ جو لڑکے شادی سے پہلے اتنا تماشہ کرتے ہیں ناااااا جیسے آپ کا بیٹا کر رہا ہے. یہی بعد میں ہر جگہ اپنے موبائل کے سٹیٹس پر، گاڑی کے پیچھے، اپنے واٹس ایپ پر، انسٹاگرام پر، غرض ہر جگہ پر شادی کے بعد My wife is my life کا سٹیٹس لگاتے پھرتے ہیں. حمنہ نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا تو حدید بھی مسکراتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل پر جا بیٹھا.
ماما یہ مجھے خودکشی کرنے پر اکسا رہی ہے. اس سے پہلے کہ میں کچھ غلط کر بیٹھوں. اسے کہیں میرے کمرے سے نکل جائے. حارث نے شدید احتجاج کیا.
حارث تم ساری رات بھی لگے رہو تو کچھ غلط نہیں کرو گے کیونکہ تمہیں اپنے آپ سے بہت محبت ہے اور ماما کو تم سے اور مجھے حرا سے بات سمجھ آئی.
اس کو بولتے ہیں Love chain جیسے سائنس میں food chain ہوتی ہے. حدید میں نے بالکل ٹھیک مثال دی ہے ناااااا _
اپنی بات کے آخر میں حمنہ نے حدید سے تصدیق چاہی تو وہ سر ہاں میں ہلا گیا.
تو میرے ساتھ ہے یا اس کے حارث نے حدید کو سر ہلاتا دیکھ کے غصے سے اس کی طرف تکیہ پھینکا. جسے اس نے کیچ کر لیا حارث یہ سٹائل بہت پرانا ہو گیا ہے. اگر تم نے مارنا ہی ہے تو ٹیبل لیمپ اٹھا کے مارو.حمنہ کی بات پر حدید نے اسے چونک کر دیکھا تم لوگ یہ فضول کی بحث بند کرو اور اپنے اپنے کمرے میں جاؤ. میں ڈی ایم سے بات کروں گی. نتاشا بیگم نے تسلی دینے والے انداز میں حارث کی طرف دیکھا ماما آپ ڈی ایم سے کوئی بات نہیں کریں گی. حرا ہی اس گھر بلکہ اس کمرے میں دلہن بند کر آئے گی اور وہی حارث کو ٹھیک کرے گی. یہ میرا آخری فیصلہ ہے. حمنہ نے انگلی اٹھاتے ہوئے اپنی بات مکمل کی. کیا مجھے کبھی اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کی اجازت ملے گی…..؟؟ حارث نے انتہائی مسکین شکل بناتے ہوئے باری باری تینوں کی طرف دیکھا. خوابوں میں 100 پرسنٹ مستقبل میں 50 پرسنٹ اور فی الحال زیرو پرسنٹ _ اور کوئی سوال یا میں جاؤں …..؟؟ حمنہ کے پوچھنے پر حارث کے سر غصے سے بیڈ ساتھ لگایا کیا ضرورت تھی اس مصیبت کو پیدا کرنے کی میں اکیلا ہی کافی نہیں تھا ….؟؟ حارث نے اپنا غصہ نتاشہ بیگم پر نکالا جب کہ حمنہ مسکرانے لگی
💰💰💰💰💰
جاری ہے.