Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

EPISODE 13

محبتکیپہلی_بارش

بقلمآمنہمحمود

قسط_نمبر_13

حیات جاگنگ کرتا مسلسل حرا کے بارے میں سوچ رہا تھا. بھلا مجھے ایک معمولی لڑکی سے کیا ڈر ہو سکتا ہے ……؟ ؟
جہاں تک بات راز کی ہے تو میرا کوئی راز ہی نہیں ہے. ڈراموں فلموں نے اج کل کی لڑکیوں کا دماغ خراب کر رکھا ہے. انہیں لگتا ہے کہ اصل زندگی میں بھی یہ وہ تمام چیزیں کر سکتی ہیں. جو ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں.
اب یہ لڑکی مجھے بلیک میل کرے گی. مجھے یعنی ایس پی حیات عالم کو _ ماننا پڑے گا کہ لڑکی میں دم ہے. سیریسلی یہ ایک اپنی نوعیت کا خطر ناک جوک ہے. حیات ہنستا اور اپنی کوٹھی میں داخل ہوا اور لان میں لگے سنگ مرمر کے بینچ پر جا بیٹھا. کندھے پہ پڑا تولیہ اب اس کے ہاتھوں میں تھا.
صاحب جوس ابھی وہ اپنا پسینہ صاف کر ہی رہا تھا کہ نوکر نے حسب عادت با ادب طریقے سے جوس پیش کیا. جسے سر ہلاتے حیات نے تھام لیا. رات گیٹ پر کن کی ڈیوٹی تھی. انہیں میرے پاس لے کر آؤ. حیات نے ایک گھونٹ بھرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ملازم سر ہلاتا فوراً گیٹ کی طرف بڑھ گیا. یہ لڑکی میرے گھر تک آ گئی ہے. کیسی عجیب بات ہے کہ بڑے بڑے بدمعاش بھی میرے گھر تک آنے کی جرات نہیں کرتے. یہ لڑکی ہے اس لیے اسے چھوڑ رہا ہوں. اگر کوئی مرد ہوتا تو اب تک اپنی ٹانگیں کھو بیٹھتا. حیات نے دوسرا گھونٹ بھرتے سوچا جی صاحب آپ نے بلایا. دو باوردی گارڈز اس کے سامنے سر جھکائے حاضر تھے. کل رات گیٹ پر آپ لوگوں کی ڈیوٹی تھی….؟ حیات اب اپنے ازلی لہجے میں بات کر رہا تھا. جی صاحب رات ہم دونوں کی ہی ڈیوٹی تھی. دونوں نے تقریباً ایک ساتھ جواب دیا ہمممممم
حیات نے جوس کا گلاس خالی کرتے ہوئے وہیں بینچ پر رکھ دیا اور خود دونوں کے سامنے کھڑا ہو گیا.
تم نے اتنی رات کو گیٹ کیوں کھولا. فرض کرو اس لڑکی کی جگہ کوئی خودکش حملہ آور ہوتا پھر _ حیات کا انداز تفتیشی تھا. جس سے گھبرا کر دونوں گارڈز نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا. میری طرف دیکھو ایک دوسرے کی شکلیں تو دن بھر تم دیکھتے ہی رہتے ہو اور میری بات کا جواب تسلی بشک دینا ورنہ سزا کے لیے تیار رہنا. اتنی رات گئے تم نے گیٹ کیوں کھولا ……؟ ؟ حیات نے دو قدم آگے کی طرف لیتے ہوئے اپنی بات پر زور ڈالا تو ارد گرد کام کرتے ملازم اسے دیکھنے لگے صاحب وہ لڑکی تھی تو اس لیے کھولا تھا گیٹ اگر کوئی اور ہوتا تو نہ کھولتے. ہم سمجھے شاید کوئی ضرورت مند ہوگی. ایک گارڈ نے ہکلاتے ہوئے وضاحت دی.
جو لباس اس نے پہن رکھا تھا کیا غریب لڑکی وہ لباس خرید سکتی ہے. …..؟ ؟ حیات نے آبرو چکاتے ہوئے پوچھا تو دونوں ہکا بکا اس کی شکل دیکھنے لگے.
تمہیں کیا لگتا ہے. میں نشہ کر کے اپنے کمرے میں پڑا ہوتا ہوں اور مجھے آس پاس کی کچھ خبر نہیں. حیات کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا جس کی نشانی یہ تھی کہ اس کی آواز پہلے سے بلند ہوتی جا رہی تھی.
نہیں صاحب وہ ہم نے لڑکی کی آواز سن کر گیٹ کھولا تھا. وہ کہہ رہی تھی کہ _ دوسرا گارڈ کہتے کہتے خاموش ہو گیا. اس نے ایسا کون سا جادوئی منتر پڑھا تھا کہ تم لوگوں نے فوراً اس کے استقبال میں گیٹ کھول دیا…..؟ ؟ اب کی بار حیات کا لہجہ طنزیہ تھا. صاحب وہ کہہ رہی تھی کہ آپ نے انہیں خود بلوایا ہے. دوسرے گارڈ نے ٹھہر ٹھہر کر جملہ مکمل کیا جس پر حیات ہنستا ہوا شوز سے لان کی گھاس رگڑنے لگا انٹرسٹنگ تم یہاں کب سے جاب کر رہے ہو اور کیا ہر رات کو لڑکیاں میری کال کرنے پر آتیں ہیں. اب تک کتنی لڑکیوں کو تم میرے بیڈ روم میں بھیج چکے ہو….؟؟ انداز ایسا تھا جیسے سامنے والے سے تصدیق مقصود ہو.
بولتے کیوں نہیں. اب زبان تالو ساتھ چپک گئی ہے. تم لوگوں نے کیا مجھے تھرڈ کلاس، اوباش قسم کا پولیس والا پایا ہے. بولو، جواب دو حیات نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگے. صاحب معاف کر دیں، غلطی ہو گئی ہے. وہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ آپ نے بلوایا ہے ہم نے سوچا شاید کوئی کام ہو. اپنی صفائی دینے کے چکر میں وہ ایک بار پھر غلط بول گئے تھے. کام وہ بھی آدھی رات کو مجھے لڑکی سے ہوگا.حیات سر نفی میں ہلاتا ہوا دوبارہ بینچ پر بیٹھ گیا. مجھے “صنف نازک” سے شدید چیڑ ہے. یہ تمام بڑے لوگوں کی بربادی کا سبب بنی ہے. یاد رکھو!!! آج کل لوگ گولی بارود سے اپنے دشمن کو نہیں اڑاتے بلکہ اس کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے اسی” مخلوق” کا استعمال کرتے ہیں. یہ “سوشل میڈیا” کا دور ہے. ہر چیز کمرشل ہو چکی ہے اگر میری ذات پہ ذرا بھی حرف آیا تو میں تم سب کی گردنیں اڑا دوں گا. سمجھے یہ پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں. حیات کہتا اپنا ٹاول بینچ سے اٹھا کر اندر کی طرف بڑھ گیا جب کہ پیچھے گارڈز نے سکھ کا سانس لیا.
💰💰💰💰💰
کمرے میں داخل ہوتے ہی حیات کے کانوں میں اپنے موبائل کے چیخنے کی آواز پڑی. جو پتہ نہیں کب سے اسے مدد کے لیے پکار رہا تھا. تولیہ صوفے پر پھینکتے وہ سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھاتا گرنے والے انداز میں بیڈ پر نیم دراز ہوا.
مگر سکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ کر اس کا موڈ شدید خراب ہو گیا. رات موبائل دیوار ساتھ مارنے کی وجہ سے ٹچ پر بے انتہا دراڑیں پڑ گئی تھیں. بڑی مشکل سے موبائل کو انلاک کرتا میسج کھولا.
جسے پڑھ کر یقیناً اسے خوشی تو نہیں ہونی تھی مگر مجبوری تھی پڑھے بغیر معلوم نہ ہوتا کہ بھیجنے والے نے کیا لکھا ہے……؟ ؟
گڈ مارننگ ایس پی حیات عالم!!! مجھے یقین ہے کہ یہ والی “مورننگ” تو کم از کم “گڈ” نہیں ہوئی ہوگی.
خیر آج تو میں نے آپ کو گڈ مارننگ کا میسج کر دیا ہے مگر ائندہ سے یہ ڈیوٹی آپ کی ہے. بہت سارے گلاب اور ایک مسکراہٹ والے ایموجی کے ساتھ حرا کا میسج پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا.
اچھا تو حرا بی بی!! اپ نے اپنی طرف سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ میرا جینا حرام کر دے گی. حیات نے بمشکل میسج ٹائپ کیا.
کیوں دوسروں کے جینا حرام کرنے کا ٹھیکہ صرف آپ نے ہی لے رکھا ہے….؟؟ ایک سیکنڈ کے اندر ریپلائی آیا جس پر حیات کو شدید حیرت ہوئی.
بی بی!! میں آپ کی طرح ” فارغ” نہیں ہوں. مجھے کرنے کو بہت کام ہیں. آپ سیدھی طرح بتائیں کہ آپ چاہتی کیا ہیں….؟؟ حیات نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا
ٹچ ٹوٹنے کی وجہ سے شاید آپ ٹھیک ٹائپ نہیں کر پا رہے. آپ “مصروف” لکھنا چاہ رہیں ہوں گے مگر ” فارغ” ٹائپ ہو گیا. اب کی بار حرا کے ریپلائی نے حیات کو اچھلنے پر مجبور کر دیا.
آپ کو کیسے پتہ کہ میرے موبائل کا ٹچ ٹوٹا ہوا ہے…..،؟ حیات کا میسج پڑھتے حرا کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی.(تیر بالکل نشانے پر لگا تھا).
ظاہری سی بات ہے. آپ جیسے لوگ جب کچھ نہیں کر سکتے تو اپنا غصہ یا تو “موبائل” پر نکالتے ہیں یا پھر اپنے “ملازموں” پر آدھی رات کو یقیناً ملازم تو کوئی آپ کے کمرے میں نہیں ہو سکتا.ہاں البتہ یہ معصوم ننھا موبائل آپ پاس ضرور ہوگا. حرا کے ریپلائی پر حیات نے اٹھتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا چاہتی کیا ہو…..؟ ؟ حیات کا لہجہ یک دم بدلا شکر ہے آپ اپنے اصلی لہجے میں بات کرنے لگے ورنہ مجھے تو گمان ہو رہا تھا کہ شاید آپ کوئی فرشتہ صفت انسان ہیں. اتنے اخلاق کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ مجھے لگ رہا تھا. میں ایس پی حیات عالم سے نہیں بلکہ کسی مہذب بااخلاق شخص ساتھ چیٹ کر رہی ہوں. خیر آپ کے سوال کا یہ جواب ہے کہ میرے راستے میں اپنی ٹانگ مت اڑائیں اور میری شادی خیر و خیریت سے ہونے دیں.بصورتِ دیگر میں آپ کا “راز” میڈیا پر فاش کر دو گی اور یہ مت سمجھیے گا کہ میں دھمکی لگا رہی ہوں. میں دھمکی نہیں دیتی. میرا کوئی راز نہیں ہے . میں کھلی کتاب ہوں. لہٰذا مجھے بلیک میل کرنا بند کرو. یہ نہ ہو کہ تمہیں لینے کے دینے پڑ جائیں اور میں تمہیں سلاخوں کے پیچھے بند کر دوں. حیات کے لہجے میں شدید سختی اور غصہ تھا. اول تو “حدید” ہی آپ کے لیے کافی ہے لیکن اگر آپ کو یہ نا کافی لگتا ہے تو “کھنہ پل” والی زمین کے بارے میں کیا خیال ہے……؟ ؟ حرا کا ریپلائی حیات کی پوری دنیا گھما گیا. اس طرف تو اُس کا دیھان ہی نہیں گیا تھا. آپ یقیناً میرا میسج پڑھنے کے بعد ریپلائی دینے کے قابل نہیں ہوں گے. میں اس بات کو سمجھ سکتی ہوں. لہٰذا آپ ایک اچھی سی چائے پئیں اور فریش ہو جائیں. آپ سے میری صرف اتنی درخواست ہے کہ میری شادی ہونے تک آپ مجھے باقاعدگی سے صبح گڈ مارننگ کا میسج کریں گے. یہ اس بات کی ضمانت ہوگی کہ آپ میرے راستے میں اپنی ٹانگ نہیں اڑائیں گے. جب تک میری مورننگ گڈ ہوتی رہے گی. میں آپ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا ہوگی. امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور میری بات آپ کو سمجھ آگئی ہوگی. آخر آپ کوئی معمولی انسان نہیں ہیں “ایس پی حیات عالم” ہیں. حرا نے ایک خوبصورت سی ایموجی کے ساتھ اپنے میسج کو ختم کیا. یہ لڑکی میری سوچ سے زیادہ خطرناک نکلی ہے. موبائل ہاتھ میں پکڑے حیات عالم مسلسل اس کے میسجز کو گھور رہا تھا. تبھی ایک اور خوبصورت سامنے میسج سکرین پر جگمگایا محبت یا نفرت کے قانون میں وہ صبح جس میں آپ اپنے پیارے یا دشمن سے “صبح بخیر” نہیں سنتے ہیں ، اگلی صبح تک رات رہتی ہے. اور رات کتنی بھی حسین اور خوبصورت کیوں نہ ہو مگر رات رات ہی ہوتی ہے. اس کا صبح سے کوئی مقابلہ نہیں. اپنی صبح کو بھی خوبصورت بنائیں اور میری بھی “گڈ مارننگ ایس پی حیات عالم”
اففففف
حیات کے منہ سے بے ساختہ نکلا
💰💰💰💰💰
کیا ہے آج یونی جانے کا دل نہیں کر رہا جو یوں بیڈ ساتھ لپٹا ہے. حدید نے واشروم سے نکلتے ہوئے تولیا حارث پر اچھالا
یار مجھے آج تجھ پر بہت رشک آ رہا ہے. تو دنیا کا کتنا خوش نصیب انسان ہے. حارث کی بات پر بالوں میں برش پھیرتے ہوئے حدید نے مشکوک نظروں سے اسے آئینے میں دیکھا
خیریت صبح صبح اتنی تعریف کی جا رہی ہے. جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے. تو تیری اسائنمنٹ لکھی ہوئی ہے. پھر کس خوشی میں جناب یہ سب بول رہے ہیں……؟ ؟ حدید نے برش ٹیبل پر رکھتے ہوئے مڑ کر حارث کی طرف دیکھا
میں تجھے اس لیے خوش قسمت کہہ رہا ہوں کہ تیری کوئی ” بہن” نہیں ہے. اب کی بار حارث نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں کہا تو حدید نے اسے گھورا
” بہن” کا نہ ہونا تیرے خیال سے خوش قسمتی کی علامت ہے. حدید نے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں بالکل!! بہن کا نہ ہونا خوش قسمتی کی علامت ہے. رات کا پورا سین ایک دفعہ پھر حارث کی نظروں میں گھوم گیا.
اچھی بھلی پیاری خوبصورت سی بہن ہے تیری _ حدید کی بات پر حارث نے اسے خون خوار نظروں سے گھورا تو حدید کو اپنی بات کی نزاکت کا احساس ہوا. دوسرے کی بہن ہمیشہ خوبصورت اور پیاری ہی لگتی ہے. حارث کہتا ہوا خاموش ہو گیا. لگتا ہے تیری پھر حمنہ سے لڑائی ہو گئی ہے. حدید چلتا ہوا حارث کے قریب آ بیٹھا لڑائی تو بہت “مختصر” سا لفظ ہے. میں یہ سوچتا ہوں کہ اللہ نہ کرے خدا نخواستہ میرے منہ میں خاک
لیکن اگر میری حرا سے شادی ہو گئی. تو میرا کیا بنے گا…….؟ ؟ حارث کی اتنی مسکین شکل تھی کہ اپنے اوپر کنٹرول کرنے کے باوجود بھی حدید کی ہنسی نکل گئی اور وہ ہنستا ہوا وہی بستر پر لیٹ گیا.
تیرا ہنسنا بنتا ہے کیونکہ نہ تو تیری کوئی “بہن” ہے اور نہ ہی حرا جیسی “منگیتر” _ حارث نے اداسی سے کہا تو حدید کو اس پر بہت ترس آیا. اچھا بتا میں تیرے لیے کیا کر سکتا ہوں……؟ ؟ اپب کی بار حدید نے بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا کیا تو مجھ سے شادی کر سکتا ہے……؟ ؟ جتنی سنجیدگی سے سوال پوچھا گیا تھا اس سے کئی گنا زیادہ سنجیدگی سے حارث نے کہا تو حدید ہکا بکا اسے دیکھنے لگا کیا تو سیریس ہے…..؟ ؟ حدید کے سوال پر حارث پھیکا سا مسکرایا تو حدید کی جان میں جان آئی. میں تو ڈر گیا تھا. حدید نے جھرجھری لی. کیا واقعی…..؟ ؟ حارث نے تصدیق چاہی تو حدید سر ہلانے لگا دیکھ یار میں تیرے لیے تجھ سے شادی تو نہیں کر سکتا لیکن اگر تو چاہے تو میں تجھے اپنا سالا بنا سکتا ہوں اور یہ آفر لائف ٹائم تک ہے. حدید کے کہنے پر حارث نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا مانا کہ میں بے وقوف ہوں مگر اب اتنا بھی نہیں کہ یہ نہ سمجھ سکوں کہ تیری اس آفر سے صرف تجھے ہی فائدہ ہوگا. مجھے تو سرا سر نقصان ہوگا. حارث نے منہ پھلایا نقصان کیسا نقصان….؟؟ حدید کے تاثرات یک دم تبدیل ہوئے جیسے کسی چور کی چوری پکڑی گئی ہو.
کیا ہو گیا ہے. میں نے صرف مذاق کیا ہے…..؟ ؟ حدید کو اچانک اس قدر سنجیدہ دیکھ کر حارث نے اس کے بازو کو تھپکا
کچھ نہیں _ حدید اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا اٹھ گیا. تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی. اچھا تو پھر یہ تیرا آخری فیصلہ ہے کہ تو نے آج یونی نہیں جانا. حدید نے اپنے موڈ کو بہتر کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو حارث نے نہ میں سر ہلایا. میری مان تو یونی چل، وہاں جا کر تیری طبیعت بہل جائے گی. یہاں بیٹھا رہا تو فضول کی باتیں سوچتا رہے گا. حدید نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی ساتھ اپنا موبائل پاکٹ سے نکالتا میسج پڑھنے لگا کس کا میسج ہے…..؟ ؟ حارث کے پوچھنے پہ حدید نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور موبائل دوبارہ پاکٹ میں رکھ لیا. کچھ نہیں بس ویسے ہی کمپنی والے تنگ کرتے رہتے ہیں. حدید نے بات بدلی. اچھا سن آج ڈی ایم کہہ رہے تھے کہ واپسی پہ ہسپتال کا چکر لگا لینا. دیکھتے آنا کام کیسا جا رہا ہے. حارث اپنی ہی ٹون میں بولتا جا رہا تھا جبکہ حدید میسج پڑھنے کے بعد کچھ الجھا الجھا سا تھا. بس میں 10 منٹ میں تیار ہو کر آتا ہوں. اب میں تیرا دل نہیں توڑ سکتا. ویسے بھی میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ اگر آپ کی ٹانگیں سلامت ہیں اور آپ کا دل ٹوٹ گیا ہے. تو پھر بھی چلنا آپ نے ٹانگوں سے ہی ہے. میرا کتنا بھی دل کیوں نہیں ٹوٹا ہوا مگر میں نے ٹانگوں سے ہی چل کے جانا ہے. جو بالکل سلامت ہیں. حارث بیڈ سے اترتا ہوا حدید سے کہنے لگا جس پر وہ بمشکل مسکرایا. اگر حرا نے یہ تمام باتیں حمنہ کو بتا دیں تو _
اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا. حدید نے ہاتھ میں موبائل گھماتے ہوئے کھلے دروازے کی طرف دیکھا
💰💰💰💰💰
جاری ہے