No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
حیات نے لاؤئچ میں قدم رکھتے ہی ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں انویلپ/ لفافہ جوں کا توں پڑا تھا.
شکر ہے اس نے اسے کھول کر نہیں دیکھا ورنہ ساری گڑبڑ ہو جاتی. وقت سے پہلے ہی مجھے جواب دینا پڑتا. جیسے ابھی حدید کو دینا پڑے گا.
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈی ایم نے ایسا کیوں کیا ہے…..؟؟ حیات نے کہتے ہوئے لفافہ ٹیبل سے اٹھایا اور روم کی طرف جانے کے لیے پلٹا.
صاحب!! دلہن بی بی نے بہت تھوڑا سا ناشتہ کیا ہے. اس سے پہلے کہ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتا. ملازمہ کی آواز پر پلٹا.
نائس نیم _ دلہن بی بی، حیات زیر لب دہراتا مسکرایا. کوئی بات نہیں انہیں جتنی بھوک تھی وہ اتنا ہی کھائیں گی ناااااا اب ہر کوئی آپ کے صاحب کی طرح نہیں کھاتا. آپ پریشان نہ ہوں. بس جب وہ کچھ کہیں تو انہیں بنا دیا کریں. حیات نرمی سے جواب دیتا کمرے میں داخل ہوا.
خلاف توقع ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تھی. جیسی وہ صبح چھوڑ کر گیا تھا. سوائے حرا کے کیونکہ وہ اس وقت کمرے میں نہ تھی. غیر ارادی طور پر اس نے حرا کی تلاش میں پورے کمرے میں نظر دوڑائی تو ٹیرس کا دروازہ کھلا پایا. دلہن بی بی!! ٹیرس پر ہیں مگر اتنی دھوپ میں وہ ٹیرس پر کیا کر رہی ہے….؟؟ خود کلامی کرتا حیات ٹیرس کی طرف بڑھا تو حرا کو کسی سے فون پر باتیں کرتے پایا. اچھا ٹھیک ہے میں آ کر بات کرتی ہوں. تم زیادہ پریشان نہ ہو. کچھ نہیں ہوا. حرا نے کہتے ہوئے فون بند کیا. پلٹنے پر نظر سیدھی حیات سے جا ٹکرائی جو یونیفارم میں بہت سمارٹ دکھائی دے رہا تھا. تم یقیناً اپنے باپ سے بات کر رہی ہوگی. اس بات کا دھیان رکھنا کہ میں کسی قسم کی بلیک میلنگ میں نہیں آتا. حیات نے کہتے ہوئے کلائی پر بندھی گھڑی اتاری. ہاں جو لوگ دوسروں کو بلیک میل کرتے ہیں. وہ خود بلیک میلنگ میں نہیں آتے. مگر جب برا وقت آتا ہے تو گیدڑ بھی شہر کا رخ کر لیتا ہے یا دوسرے الفاظ میں وہ دلہن بیاہ لاتا ہے. ایک ہی بات ہے دونوں میں اتنا فرق نہیں. حرا کے جواب پر حیات نے اسے آبرو اچکا کر دیکھا اگر تم وہ لفافہ کھول کر دیکھ لیتی. تو اس طرح مجھے جواب نہ دے رہی ہوتی. حیات کہتا ہوا قدم قدم چلتا حرا کے برابر آ کھڑا ہوا کہ اس کے باڈی سپرے کی خوشبو حرا کی سانسوں میں گھلنے لگی. تم اس طرح مجھے ڈرا نہیں سکتے حرا نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا
میں تمہیں اچھا خاصا ڈرا سکتا ہوں. اتنا کہ تمہاری سوچ ہے. مگر فی الحال میں تمہیں ڈرانا نہیں چاہتا. حیات نے حرا کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں کہا جس پر ایک لمحے کے لیے حرا کے تاثرات تبدیل ہوئے.
وہ کیا ہے نااااااا کہ ڈری ہوئی دلہن ولیمے والے دن بڑی عجیب لگتی ہے. اس طرح تو لوگ مجھے ظالم سمجھیں گے اور میں تو بہت اچھا انسان ہوں. حیات نے سیدھا ہوتے ہوئے ذو معنی مسکراہٹ ساتھ کہا تو حرا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا.
ابھی تھوڑی دیر میں بیوٹیشن تمہارا لباس، زیور لے کر آ جائے گی. تم اپنی حسرت پوری کر لینا. میں نے خاص تمہارے چھچھورے پن کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیمرہ وومن کو بھی بلایا ہے. تاکہ تم اپنے ذہن کے مطابق عجیب و غریب انداز میں اپنی تصویریں بنا سکو. آخر تم نے سٹیٹس پر لگانی ہے. حیات کا لہجہ خاصا تپا دینے والا تھا. جس پر حرا نے اپنے غصے کو بمشکل ضبط کیا .
میں نے اپنی دوسری شرط پوری کر دی ہے. ولیمے کا انتظام تمہاری سوچ سے بھی زیادہ اچھا ہے. کھانے سے کئی گنا زیادہ میں نے ڈیکوریشن پہ توجہ دی ہے. بے وقوف لڑکی _ اپنی بات کے آخر میں حیات حرا کو سر سے پاؤں تک حقارت سے دیکھتے ہوئے پلٹا. اگر میں یہ کہوں کہ میں نے وہ لفافہ کھول کر دیکھ لیا ہے تو اس سے پہلے کہ حیات کمرے میں داخل ہوتا حرا کے جملے پر وہ اپنی ایڑی پر پورے کا پورا گھوم گیا.
ناممکن _ یہ وہ لفظ تھا. جو حیات کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا. تمہیں کیا لگتا ہے. لوگوں کو پریشان کرنے کا ٹھیکہ صرف تم ہی نہیں لے رکھا ہے. مسٹر حیات میں تمہاری سوچوں سے زیادہ خطرناک ہوں. تم مجھے بہت ہلکے میں لے رہے ہو. تمہیں لگتا ہے تم ایسی چھوٹے چھوٹے حرکتیں کر کے مجھے غصہ دلاؤ گے اور میں غصے میں آ جاؤں گی. بے وقوف میں نہیں تم ہو. حرا نے اپنی شہادت کی انگلی حیات کی طرف کرتے ہوئے کہا اگر میں لفافہ کھول کر دیکھوں گی تو ڈر جاؤں گی رونے لگوں گے _ شور مچاؤں گی تمہاری کمپلین کروں گی اپنے باپ کے خلاف ہو جاؤں گی…….؟؟ تم عجیب قسم کے انسان ہو. یہ دور ٹیکنیکل ہے. اب لڑکیاں افسانوں اور جذبات میں آ کر کچھ نہیں کرتیں. میں بھی ایک پریکٹیکل لڑکی ہوں. یہ ٹھیک ہے کہ پرٹیکل میں ہمیشہ میرے کم نمبر آتے تھے. جو کہ ایک الگ مسئلہ ہے کیونکہ مجھے کوئی ٹیوشن پڑھانے والا نہیں تھا یہ یوں کہہ لو کہ میں کسی سے ٹیوشن نہیں پڑھتی تھی. مگر پھر بھی میں چیزوں کو حقیقت پر پرکھتی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی سچائی ہے. ( حراجانتی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے مگر وہ حیات سے سچ سننا چاہتی تھی. تو جھوٹ بولنا ضروری تھا.) اپنے آپ کو دل میں تسلی دیتی اس نے حیات کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں تقریباً لہو چھلکانے کو تیار تھیں. اس سے پہلے حرا مزید کچھ کہتی حیات اسے بازو سے پکڑتا کمرے میں اپنے ساتھ گھسیٹا ہوا داخل ہوا. چھوڑو مجھے عجیب پاگل انسان ہو. میرا بازو درد کر رہا ہے. حرا نے حیات سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے تقریباً چیخ کر کہا اگر تم نے اب ایک لفظ بھی اور نکالا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم عورت ہو. میں عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا مگر تمہارا گلا دبا دوں گا. حیات نے بیڈ پر حرا کو پھینکتے ہوئے انتہائی غصے سے کہا تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے لیے سرپرائز ہ. ے میں نے اس سرپرائز کے بارے میں سوال پوچھ لیا تو اتنے غصے میں آنے کی کیا ضرورت ہے. ہمیشہ جھوٹے انسان کو غصہ آتا ہے. ہرا کی بات میں جلتی پر تیل کا کام کیا. حیات جو آگے ہی اپنا غصہ قابو کرتا خود کو کمپوز کر رہا تھا. ایک دم بپھر پڑا. تم اس کمرے سے تھوڑی دیر کے لیے دفع ہو جاؤ ورنہ میں تمہارا حلیہ بگاڑ دوں گا. دھاڑ کے بولتے ہوئے حیات مڑا تو حرا ڈر کے سہم گئی کیونکہ اس وقت اسے حیات سے ڈر لگ رہا تھا. عجیب لڑکی ہو تم خود ایک عورت ہو کر تم کسی عورت کے دکھ کا احساس نہیں کر سکتی. اس سے پہلے کہ حرا کمرے سے باہر نکلتی حیات نے چیختے ہوئے کہا. جو اس وقت کمرے کی چیزوں کو ادھر اُدھر پھینک رہا تھا. جب مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ لڑکی کون تھی یا کون ہے اور کیا ہوا تھا. کس نے کیا تھا. تو میں کیا کہہ سکتی ہوں…..؟؟ حرا نے دروازے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے تسلی سے جواب دیا. یہ جو تم اتنے آرام سے مزے لے کر مجھ سے سوال پوچھ رہی ہو نااااااا اگر تمہاری ماں ہوتی تو تم اتنے سکون سے مجھ سے یہ نہ پوچھ رہی ہوتیں. حیات نے دھاڑتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا جو اب بھی اطمینان سے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی.
غصہ کرنے سے صرف اپنی طبیعت خراب ہوتی ہے یا ان کی جلد پر ہم اپنا غصہ اتارتے ہیں. یہی بات تم مجھے آرام سے کہہ سکتے ہو اور میں بیٹھ کر سن بھی سکتی ہوں. حرا کا اطمینان اب بھی قابل دید تھا. جس پہ حیات اسے خاموشی سے گھورنے لگا
اچھا پھر حرا بی بی!! غور سے سنو تمہارے باپ کی درندگی ہے یہ ساری حیات نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے غمگین لہجے میں کہا اچھا ٹھیک ہے میں نے مان لیا کہ میرے پاپا نے ایسا کیا ہوگا پھر حرا نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا
پھر _ کیا مطلب پھر…..؟؟ حیات کا انداز سوالیہ تھا. پھر یہ کہ تم نے کیا کیا. تم نے اپنی ماں کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا…….؟؟ اور اگر تمہاری ماں کو انصاف مل جاتا اور میرے باپ کو سزا تو دونوں صورتوں میں کیا ہوتا…..؟؟ مجھے اس بات کا جواب چاہیے. کیا تمہارے ماں زندہ ہو جاتی اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس مملکتِ پاکستان میں کسی کا ریپ جو کہ ثابت بھی نہ ہوا ہو. اس پر کسی کو پھانسی کی سزا ہوگی……؟؟ خود قانون کے اتنے بڑے افسر ہو اور اتنا نہیں پتہ کہ اس ملک میں تم جیسے لوگ بکتے ہیں وہ بھی ٹکٹوں پر یوں حرا نے حیات کے آگے اپنا ہاتھ کرتے ہوئے چٹکیاں بجائیں. تو وہ مبہوت سا اسے دیکھنے لگا
میں نے آپ کا دیا ہوا سرپرائز قبول کر لیا تھا. بہت تفصیل سے تمام تصویریں اخبار اور ایف ائی آر دیکھی اور پڑھی ہیں. نہ میری اتنی عمر ہے، نہ تعلیم مگر جتنا مجھے سمجھ آیا ہے تو مجھے میرے پاپا بالکل بے قصور لگے ہیں. ہرا کی بات پر حیات کچھ دیر خاموش رہا پھر قہقت لگاتا اپنی بالوں میں ہاتھ پھرنے لگا.
تم اپنے باپ کی بیٹی ہو. تم نے یہ ثابت کیا. چلو اتنا تو پتہ چلا کہ تم واقع ہی رانا تنویر کی بیٹی ہو. ورنہ مجھے تو شک تھا. حیات نے ہنستے ہوئے آخر میں زہر کند لہجے میں کہا تو حرا کندھے اچکا گئی جیسے اسے پرواہ ہی نہ ہو کہ حیات کیا کہہ رہا ہے.
💰💰💰💰💰
دیکھو پلیز اپنا موڈ ٹھیک کر لو. ہم کون سا بہت اچھے بہن بھائی ہیں. ہم تو شروع سے ہی سوتیلے بہن بھائی لگتے تھے. جو دیکھتا تھا یہی کہتا تھا بلکہ حدید تو ہمیں بہن بھائی ہی نہیں مانتا. ایسی محبت ہے ہم میں شروع سے _ حارث نے حدید کی طرف دیکھتے ہیں ہوئے کہا. وہ دونوں اس وقت حمنہ کو تسلی دے رہے تھے. مجھے اس بات پہ افسوس نہیں ہے کہ تم میرے سوتیلے بھائی ہو. مجھے اس سے نہیں پڑتا. مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میں ڈی ایم کی بیٹی ہوں ہی نہیں. حمنہ کے لہجے میں یہ کہتے ہوئے نمی گھلنے لگی. ویسے تو تجھ کتے کمینے کی شکل دیکھنے کو میرا دل نہیں کر رہا مگر کچھ کر مجھے یہ اداس بالکل اچھی نہیں لگ رہی. حارث نے حدید کے کان میں سرگوشی کی.
حمنہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تم کس کی بیٹی ہو. فرق اس سے پڑتا ہے کہ کیا تمہیں ڈی ایم نے کبھی اپنی بیٹی سمجھا یا نہیں اور تم اچھے سے جانتی ہو کہ ڈی ایم نے تمہیں بہت پیار محبت سے پالا ہے. یہاں تک کہ نتاشہ آنٹی تم سے اتنا پیار کرتی ہیں. حدید نے اپنے ازلی نرم لہجے میں کہنا شروع کیا.
حدید مجھے تم بھی اچھے نہیں لگ رہے. پتہ نہیں کیوں مجھے تم پہ بھی غصہ آ رہا ہے تم. سب آپس میں ملے ہوئے ہو. عجیب طرح کی شطرنج ہے. سمجھ ہی نہیں آ رہی کون سا مہرا کون سی چال چل رہا ہے……؟؟ زندگی میں پہلی بار حمنہ نے حدید کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تو حدید کو اپنے دل میں درد ہوتا محسوس ہوا. کیونکہ اج تک کبھی بھی حمنہ نے اس طرح حدید سے بات نہیں کی تھی.
اس شخص پہ تو مجھے بھی بہت غصہ ہے. میں اسے اپنا دوست کم بھائی زیادہ مانتا تھا مگر اس نے میرے ساتھ غداری کی ہے. دوستی میں غداری کی کوئی گنجائش نہیں. غداری کی سزا ہمیشہ کیا ہوتی ہے…..؟؟ حارث نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
موت غداری کی سزا شروع سے موت ہی چلی آئی ہے. حمنہ کے جواب پر حدید نے خاموشی سے گردن جھکا لی.
اگر تم لوگ سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ وفادار نہیں یا میں نے کبھی بھی تمہیں اپنے کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا ہے تو تم جو چاہو مجھے سزا دے سکتے ہو. اب کی بار حدید نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
ہم تمہیں کیا سزا دیں گے. ہم پاگل ہیں کہ تمہیں سزا دیں. وہ جو تمہارا بھائی ہے وہ آگے ہی میرے بھائی کی منگیتر بھگا کر لے گیا ہے. حمنہ نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا ہے حدید کا پورا منہ کھل گیا.
وہ تمہارے بھائی کی منگیتر نہیں تھی. تمہیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی. حارث اس سے دستبردار ہو گیا تھا. حدید نے فوراً حارث کی طرف اشارہ کیا.
حارث کے دستبردار ہونے سے کیا ہوتا ہے. میں تو اسے حارث کی منگیتر مانتی تھی اور حرا خود بھی اپنے آپ کو حارث کی ننگیتر سمجھتی تھی. بس اتنا کافی ہے. حمنہ کے جواب پر حدید سر ہاں میں ہلاتا خاموش ہو گیا.
تم مجھے اپنے بھائی سے پوچھ کر بتاؤ کہ وہ مجھے کہاں سے لایا تھا. مجھے اپنی پہچان ڈھونڈنی ہے. ہر صورت، مجھے پتہ تو چلے کہ میں کس کی بیٹی ہوں. حمنہ نے بے بسی سے بیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
میں نے تمہارے کہنے سے پہلے ہی بھائی کو کال کی تھی. مگر فی الحال وہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں. حدید نے صاف گوئی سے کام لیا.
ظاہری سی بات ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے. کون کسی کی بات سنتا ہے. حارث کے کہنے پہ حمنہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں کہ میں دکھ، غم اور پریشانی میں ہوں. حارث منہ بند کرو. ورنہ میں تمہارا حلیہ بگاڑ دوں گی. حمنہ نے اپنے پرانے روپ میں لوٹتے ہوئے جواب دیا تو حدید کو کچھ تسلی ہوئی.
حرا شام کو آتی ہے تو پھر بات کرتے ہیں. حدید نے کہتے ہوئے بات ختم کی.
چلو اب سب فریش ہو کر تیار ہو جاؤ کیونکہ رانا صاحب کی کال آئی تھی. شام میں حرا کے ولیمے پر جانا ہے. کچھ دیر کے خاموشی کے بعد حارث نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑتے کہا
میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں تجھ جیسا بے غیرت انسان پہلی دفعہ دیکھا ہے. جو اپنی منگیتر کے ولیمے پر اتنی خوشی اور تیاری سے جا رہا ہے. حمنہ نے کہتے ہوئے قریب بڑا تکیہ حارث کی طرف اچھالا تو وہ ہنسنے لگا
مجھے تمہاری ایسی باتوں سے ذرا بھی غیرت نہیں آتی بلکہ جو تھوڑی بہت ہوتی ہے وہ بھی مر جاتی ہے. حارث نے تکیہ کیچ کرتے حدید کی طرف اچھالا اور خود کمرے سے باہر نکل گیا.
آپ جناب بھی اب تشریف لے جائیں آخر آپ کے اکلوتے بڑے بھائی کا ولیمہ ہے. مذاق تھوڑی ہے. حارث کے جاتے ہی حمنہ نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا.
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تم مجھ سے اتنی ناراض کیوں ہو….؟؟ حدءد نے اٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھا
اس کا جواب بھی میں ہی دوں….،؟ حمنہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ظاہری سی بات ہے. تمہارے علاوہ کون دے گا. تم ناراض ہو تو تم ہی جواب دو گی. حدید کی بات پر حمنہ خاموشی سے بیڈ پر لیتی لحاف اوڑھ گئی.
💰💰💰💰💰
ولیمے کا انتظام شہر کی سب سے بڑی مارکی میں کیا گیا تھا. جس میں شہر کی تمام مشہور شخصیات بلکہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی بڑی تعداد میں بلایا گیا تھا.
حیات بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا. جب کہ حرا نے فروزی رنگ کا کامدار فراک پہنا ہوا تھا. جو ملک کے مشہور ترین ڈیزائنر کے ہاتھ کا ڈیزائن کیا گیا تھا. حرا بلا شبہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی. جیسے آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری ہو.
جس وقت رانا صاحب، ڈی ایم، حمنہ، حارث اور حدید اپنے لوگوں ساتھ جو تقریباً 30 گاڑیوں کے قافلے پر مشتمل تھے وہاں پہنچے تو مارکی میں کافی گہما گہمی تھی. مگر ریسپشن پر خود حیات موجود تھا.
رانا تو اس بات کو مان یا نہ مان مگر یہ ہماری سوچ سے آگے ہے. ہم نے کیا میڈیا والوں کو اپنے ساتھ لانا تھا. یہاں تو پہلے سے ہی بہت میڈیا والے موجود ہیں. ڈی ایم نے مختلف کیمرا مینز کی طرف دیکھتے ہوئے اشارہ کیا تو رانا صاحب نے ہلکا سا سر ہلایا.
بہتر یہی ہوگا کہ فی الحال کسی طرح کی کوئی بات نہ کی جائے اور ایسا ہی ظاہر کیا جائے. جیسے ہم اس شادی سے بہت خوش ہیں اور ہم نے خوشی خوشی اپنی بیٹی اس کو دی ہے. ڈی ایم نے رانا صاحب کے کان میں سرگوشی گی. حیات کی نظر جیسے ہی ان لوگوں پر پڑی وہ باقیوں کو چھوڑ کر ان کی طرف بڑھا.
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ آپ جیسے لوگوں کو مجھے اپنے ولیمے پہ خوش آمدید کہنا پڑے گا. حیات نے طنز بھرےلہجے میں مصافحے کے لیے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا.
رانا صاحب نے کافی بے دلی سے حیات سے ہاتھ ملایا مگر ڈی ایم نے پرجوش انداز میں حیات کو اپنے ساتھ لگا لیا. حیات ڈی ایم سے ایسے بغل گیر ہوا. جیسے اس کو ان سے بہت انسیت ہو. رانا صاحب تو نہیں مگر ڈی ایم کو ملتے ہوئے ایک بار حیات کے تاثرات تبدیل ہوئے پھر وہ نارمل ہو گیا.
تم سے ملنے کو میرا دل نہیں کر رہا. تم ان لوگوں کے ساتھ آئے ہو. حیات نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ کمر پر باندھے.
نہ ان لوگوں کا مجھے اپنے ساتھ لانے کو دل کرتا ہے کیونکہ میں لڑکے والا ہوں. نہ آپ کا مجھ سے ملنے کو دل کرتا ہے کیونکہ میں لڑکی والوں کے ساتھ کھڑا ہوں. مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اصل میں میری جگہ کیا ہے…..؟؟ پہلی دفعہ زندگی میں حدید نے سنجیدگی سے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا تو حیات ہلکا سا مسکرا دیا.
چالاک لوگوں کے ساتھ رہنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ انسان چالاک ہو جاتا ہے. حیات نے حدید کا کندھا ٹائپ کرتے ہوئے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا جبکہ یہ سارا سین میڈیا والوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا.
حرا تیری خواہش کے مطابق یہاں تیاری تو بہت زبردست ہے. حمنہ نے حرا کے پاس سٹیج پر بیٹھتے ہوئے کہا تو ہرا نے سر ہلایا
بہت زبردست ڈیکوریشن ہے. باہر بہت سارے کیمرہ مین ہیں. ہر طرح کا ٹی وی اور اخبار کا نمائندہ یہاں موجود ہے. صبح تو تیری شادی کی خبر سے اخبار بھرا پڑا ہوگا. ٹی وی پر بھی خبر چلے گی. حمنہ کو بتانے پر حرا نے خوشی سے اس کی طرف دیکھا.
میں یہی چاہتی تھی کہ میری شادی بہت وی آئی پی ہو اور کچھ ہے یا نہیں مگر یہ بندہ اپنی بات کا پکا ہے. حرا نے دور کھڑے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اس نے تجھے کچھ کہا تو نہیں اچانک کچھ خیال آتے ہی حمنہ نے حرا کے کان میں سرگوشی کی.
تجھے لگتا ہے کہ اس نے مجھے کچھ کہا ہوگا…..؟؟ حرا کے جواب پہ دونوں کھلکھلا کے ہنس دی.
تم نے کہا تھا کہ مجھے بتانے کے لیے تمہارے پاس کچھ خاص ہے…..؟؟ اب کی بار سنجیدگی سے حمنہ نے پوچھا
میرے پاس خاص نہیں، بہت خاص ہے مگر ان ساری باتوں کا جواب مجھے یا تو پاپا دے سکتے ہیں یا پھر ڈی ایم انکل __ حرا کے جواب پہ حمنہ خاموشی سے صوفے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی.
تمہیں پتہ ہے اب ڈی ایم میرے بھی انکل بن گئے ہیں. حمنہ نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں اپنا جملہ پورا کیا. تو حرا نے اسے چونک کر دیکھا
بری بات پیدا کرنے سے زیادہ پالنے والا محبت کرتا ہے. ایسا نہیں کہتے، ڈی ایم انکل تمہارے پاپا ہیں اور تمہارے پاپا ہی رہیں گے. حرا نے حمنہ کا یاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے اسے تسلی دی. تبھی سٹیج کی طرف حیات کو بڑھتا دیکھ کر حمنہ نے اپنا ہاتھ حرا کے ہاتھوں سے نکال لیا.
مجھے اس شخص سے بھی بہت کچھ پوچھنا ہے کیونکہ یہی مجھے بتا سکتا ہے. جیسے ہی حیات نے سٹیج پر پاؤں رکھا حمنہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی. جبکہ حرا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
کیسی ہو…..؟؟ ہمیشہ کی طرح حیات نے پیار سے حمنہ کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہیں ہوئے پوچھا تو پہلی بار حمنہ نے حیات کا ہاتھ جھٹک دیا.
آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا…..؟؟ حمنہ کی آنکھوں میں انسو تھے.
میرے خیال سے تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ “میں نے تمہارے ساتھ بہت اچھا کیا ہے”. حیات نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے حمنہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ خاموشی سے نیچے اتر گئی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے
