Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

دوستی میں انائیں کیسی جناب؟
آپ کہیں تو قدموں میں بیٹھ جائیں.
لان میں قدم رکھتے ہی حدید کو حارث کے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر حرا نے جملہ کسا جس پر دونوں نے بیک وقت مڑ کر پیچھے دیکھا
ارے اس کے تو ہونٹ سے خون نکل رہا ہے. حمنہ نے دیکھتے ہی اونچی آواز میں کہا
چلو جی کوئی ایک مصیبت ہے _ حمنہ کی بات بے حارث نے کمر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا. بھائی کے لیے بالکل ہمدردی نہیں اور دوسروں کے دکھ اسے دور سے ہی نظر آ جاتے ہیں. مانا کہ میں تمہارا سوتیلا بھائی ہوں مگر حارث نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ حمنہ نے اسے انگلی کے اشارے سے چپ ہونے کا کہا
جب تم میرے سگے تھے تب کون سا میں تم پر پھول برساتی تھی جو اب بار بار سوتیلے کی رٹ لگا رکھی ہے. حمنہ نے حارث کے قریب رکتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا
اور اس کے منہ پر “کیچپ” کس نے لگایا ہے یا سچ مچ تم نے کچھ کیا ہے…..؟؟ حمنہ نے گھاس پر بیٹھے حدید کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے لاپرواہی سے پوچھا
یہ “کیچپ” نہیں ہے آپ کے بھائی نے مجھے مارا ہے. جس کی وجہ سے میرا خون نکل رہا ہے. حدید نے بے دردی سے اپنے ہونٹ صاف کرتے ہوئے جواب دیا. تو سارے ہی اس کے قریب نیچے گھاس پر بیٹھ گئے.
تم نے کب سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا ہے…..،؟ حرا نے حارث کی طرف دیکھا
جب سے تمہاری شادی ایس پی سے ہوئی ہے. حارث کے جواب پہ حمنہ اور حرا نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا
یعنی تم میں تھوڑی بہت غیرت موجود ہے. حمنہ نے آنکھیں نکالتے حارث سے تصدیق چاہی.
نہیں اس بات کا غیرت سے کوئی تعلق نہیں ہے. اس “سالے” نے مجھ سے جھوٹ بولا جس کی وجہ سے اس نے مار کھائی ہے. حارث نے ناراض نظر حدید پر ڈالی.
میں نے کتنی بار کہا ہے کہ میں تیرا “سالا” نہیں ہوں بلکہ _ حمنہ کی طرف دیکھتے اگلا جملہ منہ میں ہی روک لیا. جس پر حارث دبا دبا مسکرایا. تم یہاں پہ کیا کر رہی ہو. تمہیں بھائی نے کیسے آنے دیا…. ؟؟ حدید کو اب حرا کی موجودگی کا احساس ہوا تھا. کیا مطلب کیسے آنے دیا. میرا جب دل کرے گا میں آؤں گی. جب دل کرے گا میں جاؤں گی. حرا نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے اجڑ کر کہا تو وہ مسکرانے لگا لگتا ہے بھائی بیوی کے حق میں خاصے نرم واقع ہوئے ہیں. ورنہ اپنی تو ہر وقت ہی حدید نے کہتے اپنی شرٹ درست کی.
یار بیوی تو بڑوں بڑوں کے کس بل نکال دیتی ہے. یہ ایس پی کس کھیت کی مولی ہے. حارث کے آنکھ دباتے حدید کی طرف دیکھا
جو بھی ہے. میں فی الحال تمہارے پاس ایک کام سے آئی ہوں. دیکھو مجھے سچ جاننا ہے. حرا کی آواز پر سب خاموشی سے اسے دیکھنے لگے.
کیا مطلب…..؟؟ حدید نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا
مطلب یہ کہ تمہاری والدہ کی موت کیسی ہوئی تھی…..؟؟ سنجیدگی سے کہتے حرا نے حدید کے تاثرات نوٹ کیے جو حیات سے یکسر مختلف تھے. شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ حدید نے ماں کو بہت قریب سے نہیں دیکھا تھا. حرا نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے خیالات کی نفی کی.
پتہ نہیں بھائی نے کبھی مجھے صحیح بتایا نہیں. حدید نے نظریں چراتے جواب دیا.
دیکھو اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم میرے باپ کا نام لو گے اور مجھے برا لگے گا تو ایسا نہیں ہے. میں نے صرف سچ جاننا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ سچ تم مجھے بتاؤ. حرا کے اس قدر سنجیدہ لہجے پر سب نےاسے بہت غور سے دیکھا
تم بھائی سے پوچھ لینا. وہ مجھ سے بہتر جانتے ہیں. حدید اپنے کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا.
ہم تمہارے ہی “اعزاز” میں نیچے بیٹھے تھے. حارث نے حدید کو کھڑے ہوتا دیکھ کر طنز کیا.
میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ لوگ نیچے تشریف رکھیں. ویسے بھی مجھے آپ جناب نے گھاس پر گرا تھا میں اپنی کوئی پرانی خواہش کی تکمیل نہیں کر رہا. حدید کے جواب پر سب نے اسے ایک کڑی گوری سے نوازا.
تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے. تم مجھے کچھ نہیں بتاؤ گے. حرا نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑے.
وہ جو آپ کے شوہر نامدار ہیں ناااااا ان کو سب پتہ ہے. لہٰذا مجھ سے بحث کرنے کی بجائے ان سے بات کرو. اگر دم ہے تو….؟؟ حدید کا لہجہ چیلنجنگ تھا. دم کی تو تم بات ہی نہ کرو. حرا نے آبرو اچکاتے ہوئے بہت کچھ جتلایا جس پر حمنہ اور حارث نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا ہمیں تمہارے ٹیلنٹ پر پورا یقین ہے. حارث نے بھرپور انداز میں حرا کو سراہا. میں نے کبھی بھی نتاشہ آنٹی کو اپنے ساتھ زیادتی کرتے نہیں دیکھا. میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ حارث کی ماما ہیں اور حارث میرا بہت اچھا دوست ہے. یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ انہوں نے مجھے بہت پیار دیا ہے مگر بھائی کی رائے اس سے بہت مختلف ہے. اپنے جملے کے آخر میں حدید نے حارث سے نظریں چرائیں. مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر پاپا نے تمہاری ماما کے ساتھ کوئی زیادتی کی تھی تو کیوں مطلب تمہاری ماما کیسے میرے پاپا سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں. بس مجھے یہ معمہ حل کرنا ہے. حرا نے بے بسی سے گھاس پر پاؤں مارتے ہوئے نیچے دیکھا
تم ایک کام کرو تم یہ سب باتیں ڈی ایم سے پوچھ لو. اچانک حدید کے ذہن میں آئیڈیا آیا.
نہیں میں بابا کو پریشان نہیں کرنے دوں گی. حمنہ نے فوراً حدید کے خیالات کی نفی کی. تو وہ ایک گہرا سانس خارج کرتا خاموش ہو گیا.
میں ایسا کرتی ہوں کہ نتاشا آنٹی سے پوچھ لیتی ہوں. حرا کہتی تیزی سے لان سے نکلتی چلی گئی.
اب یہ ماما کا موڈ برباد کرے گی. حارث نے حرا کی پشت کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا.
💰💰💰💰💰
دیکھو حیات تمہیں جو بھی کہہ رہا ہے. بالکل جھوٹ بول رہا ہے. یقین مانو ایسا کچھ بھی نہیں. جیسا وہ کہتا ہے. نتاشہ بیگم نے انتہائی محبت سے حرا کے بال پیچھے کرتے ہوئے اسے جواب دیا.
پھر اس کی ماما کی ڈیتھ کیسے ہوئی تھی…..؟؟ حرا کے سوال پر وہ خاموشی سے سامنے لگی پینٹنگ کو دیکھنے لگیں.
مجھے زیادہ تو یاد نہیں مگر میرے خیال سے وہ سیڑھیوں سے گری تھی اور سر پر گہری چوٹ آنے کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی تھی. نتاشہ بیگم کے لہجے میں حرا کو ذرا بھی جھوٹ کی رمق محسوس نہیں ہوئی یا تو وہ بہت اچھی ایکٹر تھی یا وہ بلکل سچ بول رہی تھیں. حرا کے لیے جج کرنا مشکل ہو رہا تھا.
مگر حیات کا کہنا تو یہ ہے کہ “آپ لوگوں نے مل کر اس کی ماں ساتھ زیادتی کی اور پھر ان کا قتل کر دیا”. حرا کے ایسے کہنے پر جھٹکے سے نتاشا بیگم نے اس کی طرف دیکھا.
یہ کیا کہہ رہی ہو…..،؟ ان کا لہجہ اس بات کی صاف گواہی دے رہا تھا کہ ان کے علم میں یہ باتیں نہیں.
ایسا کچھ نہیں ہوا تھا. میری بات کا یقین کرو. ایسا کچھ بھی نہیں تھا. بھلا ڈی ایم ایسا کیسے ہونے دے سکتے تھے…..؟؟
وہ ان کی بھابھی تھی اور رشتے میں ان کی کزن بھی لگتی تھیں. میں نہیں مانتی کہ ڈی ایم اس حد تک گر سکتے ہیں. کبھی بھی نہیں ایسا نہیں ہوا تھا. نتاشا بیگم نے ایک سانس میں بہت ساری باتیں بول دیں.
مگر حیات کے پاس کچھ ثبوت ہیں. حرا نے ناجاتے ہوئے بھی اس لفافے کے بارے میں نتاشہ بیگم کو بتا دیا.
اففففف اس لڑکے نے کیا کچھ اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے. ایف ائی آر اس نے اپنی مما کے قتل کی درج کرائی تھی اور مقدمہ بھی چلا تھا. مگر کچھ بھی ثابت نہیں ہوا تھا. لہٰذا عدالت نے کیس خارج کر دیا تھا.
پھر حیات کے ساتھ کیا مسئلہ ہے….؟؟ حرا کہ سوال پر نتاشا بیگم نے اپنے انگلی میں گولڈ کی رنگ گھماتے ہوئے پرسوچ انداز میں اس کی طرف دیکھا.
وہ مجھے پسند نہیں کرتا کیونکہ اس کی والدہ مجھے پسند نہیں کرتی تھیں. حارث میرے پہلے شوہر کی اولاد سے ہے. حیات کو شروع سے حارث سے چڑ تھی. حارث عمر میں حیات سے بہت چھوٹا تھا. اسے ایسے لگتا تھا کہ حارث کے اس گھر میں آ جانے سے ڈی ایم حیات کو پیار نہیں کریں گے.
حیات اس خاندان کا پہلا بیٹا تھا تو سب کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ وہ ڈی ایم کی انکھوں کا بھی تارا تھا مگر جب حارث اس گھر میں ایا تو وہ حیات سے چھوٹا تھا اور تھا بھی بہت پیارا تو ڈی ایم نے اسے بہت پیار دیا. بعض دفعہ حارث کی وجہ سے حیات کو ڈانٹ پڑ جاتی ہے اور یہ بات حیات کے لیے ناقابل قبول تھی.
پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ چڑھنے لگا. میرے خیال سے حیات کی نفرت کی یہی وجہ ہے. اس کے علاوہ کوئی اور بات میرے ذہن میں نہیں آتی کیونکہ حمنہ سے تو وہ بہت پیار کرتا تھا اور ابھی بھی کرتا ہے. نتاشہ بیگم کے جواب پر حرا گردن جھکاتے ہوئے خاموش ہو گئی.
آپ کو لگتا ہے کہ بابا بے قصور ہیں….؟؟ حرا نے امید بھری نظروں سے نتاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
بالکل مجھے پورا یقین ہے کہ تمہارے باپ نے کچھ نہیں کیا. نتاشا بیگم کے جواب پر حرا نے سکھ کا سانس لیتے اوپر کی طرف دیکھا.
اللہ کرے ایسا ہی ہو. حرا دل میں کہتی آنکھیں بند کر گئی. اس کا ذہن بہت الجھ گیا تھا. وہ جس سے بھی بات کر رہی تھی وہی اسے سچا لگ رہا تھا.
تم پریشان نہ ہو اور مجھ پر یقین رکھو. نتاشہ بیگم نے محبت سے حرا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے تسلی دی. نتاشا بیگم ہمیشہ ہی حرا کو بہت پیار کرتی تھیں.
آپ نے ہمیشہ مجھے بہت محبت دی ہے. آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں. حرا نے نتاشا بیگم کے گلے میں اپنی باہیں ڈالتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ مسکرانے لگیں. تبھی حرا کا موبائل بجنے لگا
لگتا ہے وہ گیٹ پر آ گیا ہے. حرا نے سکرین پر حیات کا نمبر جگمگاتا دیکھ کر دل میں سوچا.
اچھا آنٹی میں اب چلتی ہوں. حرا نے کھڑے ہوتے ہوئے نتاشا بیگم سے کہا تو وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگیں.
میرا خیال تھا کہ تم کچھ دن رہو گی.
مگر فی الحال میرا ایسا کوئی خیال نہیں تھا. حرا نے مسکراتے ہوئے انہیں اپنے گلے لگایا.
حیات کی باتوں پہ زیادہ کان مت دھرنا. وہ باتوں کو بہت ڈرامائی انداز میں بیان کرتا ہے. وہ شروع سے ہی بہت جذباتی ہے. چیزوں کو ضرورت سے زیادہ سیریس لیتا ہے اور اس کے اندر ایک وحشی پن بھی ہے. نتاشہ بیگم کی باتوں پر حرا سر ہلاتی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی.
💰💰💰💰💰
میں نے ابھی بابا ساتھ ڈنر کرنا ہے. لہذا ابھی آپ تشریف لے جائیں یا حسب عادت تماشا لگا لیں. اوپن چوائس ہے. حرا نے میسج ٹائپ کرتے ہوئے حیاتکو سینڈ کیا اور خود اپنی پورشن کی طرف چل دی.
آؤ بیٹی کدھر رہ گئی تھی. میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں…..؟؟ رانا صاحب نے حرا کو دیکھتے ہی کھڑے ہوتے ہوئے کہا
بس وہ باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کتنا وقت گزر گیا. حرا نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
میں نے تمہارے پسند کی سب چیزیں بنوائی ہیں. رانا صاحب اسے اپنے ساتھ لیتے ہوئے ڈائننگ روم میں داخل ہوئے. جہاں فرائی مچھلی کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی.
ہائے پاپا!! آپ کو پتہ ہے نا کہ مجھے مچھلی کتنی اچھی لگتی ہے. حرا نے پرجوش لہجے میں کہتے ہوئے اپنے لیے کرسی نکالی. تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی.
تم لوگوں کے ہاں داماد کو کھانے کی آفر مارنے کی کوئی رسم نہیں ہے. حیات کا میسج پڑھتے اس نے سامنے بیٹھے اپنے باپ کی طرف دیکھا. جن کے چہرے پر خوشی چمک رہی تھی. وہ انہیں اداس نہیں کرنا چاہتی تھی.
ہمارے ہاں داماد کو بہت عزت دی جاتی ہے مگر اس کے لیے داماد کا داماد ہونا ضروری ہے. حرا نے جواب دیتے موبائل ٹیبل پر رکھا اور رانا صاحب کے ہاتھ سے مچھلی کی ٹرے پکڑی.
پاپا آپ بھی کھانا شروع کریں. حرا کا اب سارا دیھان موبائل سکرین کی طرف تھا. تبھی حیات کی طرف سے اسے سوالیہ نشان موصول ہوا.
من پسند داماد _ ایک خوبصورت ایموجی ساتھ جواب دیتے حرا نے کھانا شروع کیا. کون ہے…..؟؟ رانا صاحب نے حرا کو مصروف دیکھتے ہوئے پوچھا حمنہ ہے. حرا کہتی دوبارہ کھانے لگی. پانچ منٹ میں باہر آ جاؤ ورنہ تم مجھے نہیں جانتی مگر تمہارا باپ مجھے بہت اچھی طرح جانتا ہے. پانچ منٹ کا مطلب صرف پانچ منٹ ہے. حیات کے اگلے میسج نے حرا کو سچ مچ پریشان کر دیا. بڑی مشکل سے اس نے اپنے منہ میں رکھی مچھلی کی بوٹی حلق سے نیچے اتاری. وہ اپنے باپ کو مطمئن کر کے جانا چاہتی تھی مگر اب یہ ناممکن دکھائی دے رہا تھا. نپکن سے ہاتھ صاف کرتے وہ بہانہ سوچنے لگی. 💰💰💰💰💰 اداس ہو حمنہ کے قریب بیٹھتے ہوئے حدید نے نرمی سے پوچھا.
نہیں
یک لفظی جواب دیتے وہ دوبارہ کارپٹ کو گھورنے لگی. تم اتنی اداس کیوں رہتی ہو. تم ایسے بالکل اچھی نہیں لگتی. حدید کے کہنے پر اس نے نظر اٹھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا. تم بھول کیوں نہیں جاتی. وہ سب جو تم نے سنا ہے. حدید نے حمنہ کی دل جوئی کرتے ہوئے اسے تسلی ہے. میں خوش رہنے کی بہت کوشش کرتی ہوں. میرا دل کرتا ہے کہ میں شرارتیں بھی کروں. حارث کو تنگ کروں مگر پھر خیال آتا ہے کہ میرا ان لوگوں اور ان چیزوں پر کوئی حق نہیں ہے. حمنہ کا لہجہ غمگین تھا. پتہ نہیں میرے ماں باپ کیسے تھے جنہوں نے مجھے یوں پھینک دیا. انہیں مجھ پر ذرا بھی ترس نہیں آیا. حمنہ کے پوچھنے پر حدید نے اسے بہت گہری نظروں سے دیکھا جس کے لہجے اور آنکھوں میں پہلی بار نمی واضح تھی. تم ان لوگوں کی فکر کر رہی ہو جنہوں نے تمہیں چھوڑ دیا تھا اور ہم لوگوں کی تمہیں ذرا پرواہ نہیں جو تمہارے لیے پریشان ہیں. حدید کی بات پر حمنہ پریشان ہو گئی. تم لوگ میری اپنے نہیں ہو. حمنہ نے کہتے ہوئے اپنا رخ پھیر لیا. اچھااااااا _ تم نے بتایا تھا کہ تمہیں کوئی بہت پسند ہے. اسے تو تم اپنا مانتی ہو گی. چلو اسے ہی بتا دو. شاید وہ تمہیں ہم سے بہتر تسلی دے یا اسی کے صدقے ہم سے اچھے طرح بات کر لو کیونکہ ہم لوگ تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں. حدید کے کہنے پر حمنہ گردن موڑتے ہوئے اسے دیکھنے لگی.
یک طرفہ محبت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا. اگر بندے نے خوار ہونا ہو تو محبت کرے اور اگر ذلیل ہونا کا بھی شوق ہو تو یک طرفہ کرے. حمنہ سنجیدگی سے کہتی اٹھنے لگی تو حدید نے اسے پکارا
وہ کون ہے. مجھے اس سے ملنا ہے. حدید کی آواز پر حمنہ کے قدم اپنی جگہ جم گئے.
کیوں…..؟؟ مڑتے ہوئے حمنہ نے تیز لہجے میں پوچھا
مجھے تمہاری پسند دیکھنی ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ تمہارے قابل ہے بھی یا نہیں. حدید نے اپنی جیکٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کیا
نہیں تم نے ان دونوں باتوں کی خاطر اس کا نہیں پوچھا بلکہ تم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ شخص مجھے میرا ماضی جان کر اپنانا چاہے گا بھی کہ نہیں. حمنہ کہ جواب پر حدید کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں.
تم کیسے اتنا نیگیٹو سوچ لیتی ہو. تم ایسے تو نہیں تھی. حدید کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا.
میں سب جانتی ہوں. ایسا ہی ہے. مگر مجھے ریجیکشن پسند نہیں. حمنہ نے کہتے ہیں ہوئے آنکھیں زور سے بند کر کے کھولی تو ان میں لال ڈورے نمایاں تھے.
مجھے اس کا ایڈریس دو. حدید نے اپنا موبائل حمنہ کی طرف کرتے ہوئے کہا
مجھے اس کا ڈریس نہیں معلوم . حمنہ کے جواب پر حدید نے اسے گھور کر دیکھا
چلو نمبر ہی دے دو. حدید نے اصرار کیا.
یاد نہیں ہے. حمنہ نے بہانہ بنایا.
اب تم جھوٹ بول رہی ہو. دوبارہ اپنا موبائل جیب میں رکھتے ہوئے حدید نے جتلایا.
تمہاری مرضی جو بھی سمجھو. حمنہ کندھے اچکاتی پلٹنے لگی.
ڈی ایم کی خواہش ہے کہ میں تم سے شادی کروں مگر میں تم سے زبردستی نہیں چاہتا. اگر تم کسی کو پسند کرتی ہو. تو مجھے بتا دو. میں جتنی تمہاری مدد کر سکا اتنی ضرور کروں گا. حدید کی بات پر ایک دفعہ پھر جاتے جاتے حمنہ پلٹی.
فرض کرو کہ وہ شخص ” تم” ہو. پھر تم کیا کرو گے…..؟؟ حمنہ کو اپنی آنکھوں میں کانچ چبھتا ہوا محسوس ہوا.
میں بہت خوش ہوں گا اور فوراً تم سے شادی کر لوں گا. حدید نے چہرے پر دل فریب مسکراہٹ سجاتے ہوئے جواب دیا. کچھ دیر سنجیدگی سے حمنہ اسے دیکھتی رہی اور پھر تیزی سے پلٹتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
حیرت ہے ہم جیسے بھی ٹھکرائے گئے
ہم جیسے تو سینوں سے لگا نے کے لیۓ تھے.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.