No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
حمنہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی کتاب کے صفحے پلٹ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ساتھ ہی وہ کھلا. آنے والے کو دیکھ کر وہ منہ پھلائے بیٹھی.
کیا بات ہے _ اتنے دنوں سے پڑھنے کیوں نہیں آ رہی …..؟؟ حدید نے جان بوجھ کر یہ سوال کیا حالانکہ اس کا جواب وہ جانتا تھا. میں گندے لوگوں سے نہیں پڑھتی. حمنہ نے منہ بناتے اپنی کتاب گود میں رکھی. اچھا تو تمہیں حارث کی بات کا یقین ہے. حدید نے بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھتے ہوئے حمنہ سے پوچھا حارث کبھی بھی اتنا بےہودہ مذاق نہیں کر سکتا. ہحمنہ کا جواب سچ مچ حدید کو پریشان کر گیا. دیکھو تمہیں ایک بار تو مجھ سے پوچھنا چاہیے بلکہ مجھے میری صفائی کا ایک موقع تو دینا چاہیے. حدید نے دوستانہ لہجہ اپناتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا تم واشنگ مشین ہو. جو مجھے صفائی دو گے ……؟؟ گو کہ حمنہ کا انداز خاصہ نارمل تھا لیکن حدید کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی. نہیں واشنگ مشین تو نہیں ہوں مگر آپ کا گیسٹ تو ہوں نااااااا اور میرا یہ حق بنتا ہے کہ مجھے اپنی صفائی میں بولنے کا حق دیا جائے. حدید کہ اس قدر محبت بھرے لہجے پر حمنہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حارث اس دن جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ صرف بکواس ہی تھی. حقیقت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں. حمنہ کی بات پر حدید سر ہلانے لگا
اچھا چلیں اگر ایسا ہے تو میں کل سے پڑھنے آؤں گی. حمنہ کے فوراً مان جانے پر حدید کو تھوڑا شک ہوا.
کیا تم واقعی ہی مجھ سے راضی ہو گئی ہو. تمہارا دل اب میری طرف سے صاف ہے. حدید نے اٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں میرا دل اپ کی طرف سے بالکل صاف ہے. آپ نے تو واشنگ مشین سے بھی زیادہ اچھی صفائی کی ہے. حمنہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
چلو ٹھیک ہے. ویسے بھی مجھے اج کچھ کام تھا. کل پھر پڑھنے آ جانا. حدید یاد دہانی کراتا کمرے سے باہر نکل گیا. تو حمنہ نے لپک کر اپنا موبائل فون سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا اور حرا کو میسج سینڈ کیا.
کچھ لوگ آپ سے ناراض ہیں کیونکہ آپ کو اس طرح تکلیف نہیں پہنچ رہی. جس طرح وہ سوچتے تھے کہ آپ ہوں گے. برائے کرم انہیں مایوس کرنا جاری رکھیں. حمنہ کے کمرے سے نکلتے ہوئے حدید کا سامنا حارث سے ہوا تو وہ وہیں رک کر اس پر طنز کرنے لگا
کیا مطلب ہے اس ساری بکواس کا حارث نے ناگواری سے حدید کی طرف دیکھا
یہ بیان میرا نہیں بلکہ نیلسن منڈیلا کا مشہور قول ہے اور آج مجھے تجھے دیکھ کر پتہ نہیں کیوں یاد آ گیا.
تجھے بغیر وجہ کے کچھ یاد نہیں آتا. سیدھی طرح بول کیا بات ہے ….؟؟ حارث نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے پوچھا
حمنہ کی غلط فہمی میں نے دور کر دی ہے اور دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی کوشش مت کرنا. ایک بار تو میں نے برداشت کیا ہے مگر دوسری بار حدید نے وارننگ دیتے ہوئے اپنی انگلی حارث کی طرف کی. دوسری بار سے کیا مراد ہے. میں تو جب تک ہو سکا یہ کوشش بار بار کرتا رہوں گا. حارث نے حدید کی انگلی پکڑتے ہوئے اسے جھٹکا دیا. بہت ہی کوئی ڈھیٹ انسان ہے. حدید کہتا ہوا سیڑھیاں اترنے لگا جب کہ حارث، حمنہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا. میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ حدید سے فاصلے پر رہو مگر تم نے پھر بھی حارث میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے غصے سے کہتے ہوئے ہمنہ کی تلاش میں نگاہیں ادھر ادھر دوڑائیں تو پورے کمرے کو خالی پایا یہ کیا حدید تو کہہ رہا تھا کہ وہ حمنہ سے بات کر کے آ رہا ہے. اس کا مطلب ہے کہ وہ حارث بیٹے تم اس کے ہاتھ الو بن گئے ہو. حارث نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ دیر سوچا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا.
💰💰💰💰💰
حرا مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے اگر حدید کو ذرا بھی شک ہو گیا تو مجھے بڑی شرمندگی ہوگی. ہمنہ نے پریشانی سے گاڑی کے باہر دیکھتے ہوئے کہا تو حرا مصنوعی ہنسی ہنسنے لگی.
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تم کب سے اتنی ڈرپوک ہو گئی ہو. صبر کرو ابھی کچھ منٹوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا. حرا نے حدید کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے جواب دیا.
حرا یار حدید کی گاڑی سے فاصلہ رکھو. اسے شک پڑ گیا تو اچھا نہیں ہوگا. بنا بنایا کھیل خراب ہو جائے گا. حمنہ کے وارن کرنے پر حرا نے گاڑی کی سپیڈ کم کر دی.
ویسے تمہیں آتے ہوئے کسی نے دیکھا تو نہیں ….؟؟ اب کی بار حرا نے سنجیدگی سے پوچھا
نہیں میں ٹیرس کے راستے سیدھی تمہارے گیراج میں لینڈ کی ہوں کریش لینڈنگ ان یو مائی ڈیئر حمنہ نے شرارت بھرے لہجے میں کہا تو دونوں ہنسنے لگیں. ابھی دونوں اپنی کارکردگی پر خوش ہو ہی رہی تھی کہ اچانک حرا کا موبائل بجنے لگا حرا نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے سپیکر آن کیا اور موبائل ڈیش بورڈ پر رکھ دیا. ارے یہ تو کمال ہو گیا. آپ نے تو مجھے کہا تھا کہ میرا نمبر بلاک کر دیں گی مگر حیات عالم کا نمبر بلاک کرنا اتنا آسان نہیں ہے. دوسری جانب سے ایس پی حیات کی آواز پوری تاب سے ابھری تو حرا کے ماتھے پر کئی شکنیں نمودار ہوئیں. میرا خیال تھا کہ آپ میں اتنی تو ” غیرت” ہوگی کہ میری دھمکی پر آپ دوبارہ کال نہ کرتے مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ لفظ “غیرت” کا ” پولیس” والوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا. حرا کے جواب پر حیات ہنسنے لگا کچھ لوگ اپنا نام ” حیات” رکھ لیتے ہیں جبکہ اصل میں وہ ” واہیات ” ہوتے ہیں. کم از کم انہیں اپنے نام پر نظر آسانی کرنی چاہیے بالکل ویسے ہی جیسے ایک کرپٹ پولیس والے پر اعلیٰ حکام کو نظر ثانی کرنی چاہیے. حرا کے جواب کو حیات نے بہت انجوائے کیا. دیکھنے سے تو مجھے اندازہ نہیں ہوا تھا مگر تمہارا سینس آف ہیومر تو بہت اچھا ہے. حیات نے حرا کو داد دی. ویسے آپ کی جگہ اگر کوئی غیرت والا شخص ہوتا تو مجھے داد دینے کی بجائے گالیاں دیتا. حرا نے اپنے طور پر حیات کی تصحیح کی. آپ مجھ سے گالیاں کھانا چاہتی ہیں…..؟؟ حیات کا لہجہ سوالیہ تھا. کچھ عرصہ پہلے تک میرا خیال تھا کہ میری آواز میں بہت دم ہے میں کسی کو کہیں بھی ہرا سکتی ہوں کیونکہ میں ایک طاقتور خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور میرے آگے کوئی بول نہیں سکتا. مگر اب آپ سے ملنے کے بعد میری سوچ میں تبدیلی آگئی ہے. اب میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ملک خداداد پاکستان کا کوئی بھی شخص ایک پولیس والے سے زیادہ اچھا بھونک نہیں سکتا. حرا کے لہجے میں شدید تلخی اور اکتاہٹ تھی. میں اسے تعریف ہی سمجھوں گا کیونکہ میں نیگیٹو نہیں سوچتا. حیات کے جواب پر حرا کال کاٹنے ہی لگی تھی کہ اس کے جملے پر ٹھٹکی. اصل میں مجھے یہ خوش فہمی ہونے لگی تھی کہ آپ شاید مجھ سے ملنے آ رہیں ہیں کیونکہ آپ کی لوکیشن میرے گھر کے بہت قریب ظاہر ہو رہی ہے. جیسے ہی حیات کی آواز گاڑی میں گونجی حرا نے حیرت سے حمنہ کی طرف دیکھا. (کبھی کبھی تو مجھے موبائل فون بنانے والے کو بہت دعائیں دینے کا دل کرتا ہے) ہرا نے زیر لب کہتے ہوئے کال کاٹ دی اور سب سے پہلے موبائل کی لوکیشن بند کی. تبھی حدید کی گاڑی ڈیفنس روڑ پر چڑھی. حرا گاڑی روک دے اور پہلے میری بات سن. حمنہ نے فوراً چیختے ہوئے حرا کو گاڑی روکنے کا کہا ہو سکتا ہے حدید، حیات کے گھر ہی جا رہا ہو کیونکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتی ہے ایک دفعہ ڈی ایم یہی بات کر رہے تھے کہ ایس پی حیات کا گھر ڈیفنس روڈ پر ہے. حمنہ کی بات پر حرا نے سر نفی میں ہلایا ناممکن حدید کا کیا لینا دینا ایس پی حیات ساتھ_ وہ تو بہت شریف النفس اور سیدھا سادہ سا انسان ہے اور پھر کب سے تمہارے گھر رہ رہا ہے. میں نہیں مانتی کہ ایسا کچھ ہے. حرا نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی. دیکھو ایسا کرو گوگل پر ایس پی حیات کے گھر کا ایڈریس نکالو. حمنہ نے دوبارہ سٹیرنگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے حراکو روکا تو وہ سر نفی میں ہلاتی موبائل فون پر ایس پی حیات کے گھر کا ایڈریس سرچ کرنے لگی مگر رزلٹ دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے کیا ہوا. …؟؟ حمنہ نے بےتابی سے پوچھا دیکھا یہ حدید کا بچہ ایس پی کے گھر ہی جا رہا ہے. میں نے اکثر ڈراموں اور فلموں میں دیکھا ہے جو گھر کا سب سے بیسٹ بندہ ہوتا ہے. وہی آخر میں ولن نکلتا ہے. مگر ایک بات ہے آج کل ولن بہت ہینڈسم آ رہے ہیں. حمنہ نے سر ہلاتے خود کو داد دی جب کہ حرا کے چہرے پر فکر مندی کے آثار تھے. نہیں ایس پی حیات کے گھر کا ایڈریس ڈیفنس روڈ کا نہیں ہے بلکہ حرا نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
اگر ایڈریس ڈیفنس روڈ کا نہیں ہے تو پھر تو اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہے. حمنہ نے ریلیکس ہوتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا
اس کے گھر کا ایڈریس وہاں کا ہے جہاں ڈی ایم ہسپتال بنوا رہیں ہیں. حرا کے جواب نے حمنہ کو سچ مچ شاکڈ کیا.
کہیں ایسا نہ ہو کہ حدید ہمارے کسی دشمن کا بیٹا ہو اور وہ ہمارے گھر رہ رہا ہو تاکہ بعد میں ہمیں نقصان پہنچا سکے. ہحمنہ نے ڈراموں کی سٹوریز کو فالو کرتے ہوئے اندازہ لگایا. جس پر حرا دبارہ گاڑی سٹارٹ کرتی حدید کو فالو کرنے لگی
برائے مہربانی تھوڑی دیر کے لیے اپنا منہ بند رکھو. یہ حدید کی گاڑی کہاں گئی ہوگی…..؟؟ سیکٹر میں داخل ہوتے ہی حرا نے اندازے سے ایک سٹریٹ میں گاڑی موڑی تو تھوڑے فاصلے پر حدید کی گاڑی پارک نظر آئی.
اس کی گاڑی باہر کیوں کھڑی ہے. یہ اپنی گاڑی گھر کے اندر کیوں نہیں لے کر گیا…..؟؟ حمنہ نے حدید کی گاڑی کو دیکھتے ہوئے خود کلامی کی.
کیونکہ اس کی گاڑی بہت گندی ہے. اس لیے انہوں نے اندر آنے نہیں دی ہوگی. حرا کے جواب پہ حمنہ منہ بنانے لگی
ٹھہرو میں چک کر کے آتی ہوں کہ گھر کے باہر کس کے نیم کی نمبر پلیٹ لگی ہے. ھرا کہتے ہوئے سیٹ بیلٹ کھولنے لگی تو حمنہ نے اسے روک دیا.
خود جانے کی کیا ضرورت ہے. آگے سے گاڑی گھما لو. میں دیکھ لیتی ہوں کہ گھر پر کس کی نیم پلیٹ لگی ہے.
شکر ہے تم نے بھی کوئی ڈھنگ کی بات کی. حمنہ کے جواب پر حرا نے گاڑی تیزی سے آگے نکال کر اسے موڑنے لگی تو کوٹھی پر “حیات عالم” کے نام کی نمبر پلیٹ دیکھتے ہی دونوں کے ہوش اڑ گئے.
جس بات کو وہ ابھی تک مذاق میں لے رہیں تھیں وہ اب بھیانک حقیقت بن کر ان کے سامنے تھی.
💰💰💰💰💰
اچھا تو پھر آپ نے کیا سوچا ہے …..؟؟ نتاشہ بیگم نے ڈی ایم کو چائے پکڑاتے ہوئے پوچھا
وہی جو شروع سے ہم دونوں نے سوچ رکھا ہے. ان کا انداز خاصا پر اعتماد تھا.
میں تو کہتی ہوں کہ ایک بار حمنہ سے بھی پوچھ لیں. کیا پتہ اسے کوئی اور پسند ہو ….؟؟ نتاشہ بیگم اپنے دل کی بات زبان پر لے لائیں.
اسے ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ اس نے کیا کھانا ہے اور کیا پہننا ہے. تو وہ اپنے لائف پارٹنر کے بارے میں ہم سے بہتر کیسے سوچ سکتی ہے ….؟؟ بیگم آپ بھی کبھی کبھی کمال ہی کرتی ہیں. ڈی ایم نے نتاشہ بیگم کی بات کو رد کیا.
پھر بھی میں چاہتی تھی کہ آپ ایک دفعہ اس سے پوچھ لیتے. تتاشا بیگم اپنی بات پر باضد تھیں.
چلیں میں آپ کی خواہش پوری کیے دیتا ہوں. آپ اسے بلوائیوں. میں آپ کے سامنے اسے اس رشتے کے بارے میں بتاتا ہوں. دیکھیے گا وہ آگے سے کچھ نہیں کہے گی. جس پر نتاشا بیگم سر ہلانے لگیں.
میں نے سوچا ہے کہ میں ایک بڑی پارٹی رکھوں گا. جس میں حرا اور حارث کے ساتھ ساتھ حمنہ اور حدید کی منگنی کا بھی اعلان کیا جائے گا.
حدید گھر کا بچہ ہے. بہت سمجھدار اور فرمانبردار بھی ہے. اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے. مجھے یقین ہے وہ ہمارے بزنس کو خوب پھیلائے گا.
ویسے بھی میں نے اس کی ڈاکٹری پر ڈیڑھ کروڑ اس لیے نہیں خرچہ کہ وہ ایک گورنمنٹ ہسپتال میں معمولی ڈاکٹر لگے. آپ جانتی ہیں کہ اس کے پیچھے کیا راز ہے …..؟؟ ڈی ایم کے کہنے پہ نتاشا بیگم خاموش ہو گئیں.
ٹھیک ہے پھر رانا صاحب کو بھی انفارم کر دیں کہ ہم دونوں بچوں کی منگنی کا اعلان حدید کی برتھ ڈے والے دن کریں گے. نتاشہ بیگم کے جواب پر مسکراتے ہوئے ڈی ایم نے چائے کا گھونٹ بھرا.
بیگم مجھے آپ کی سب سے اچھی بات یہی لگتی ہے کہ آپ بات مان جاتیں ہیں. ابھی وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ ڈی ایم کا موبائل بچنے لگا
ہیلو رانا صاحب!!! بڑی عمر ہے آپ کی. ہم ابھی آپ کا ہی ذکر کر رہے تھے. ڈی ایم نے انتہائی خوش اخلاقی سے کال اٹینڈ کرتے ہوئے نتاشہ بیگم کی طرف دیکھا مگر دوسری طرف سے کیا کہا گیا جس پر ڈی ایم کے تاثرات یک دم تبدیل ہوئے اور انہوں نے غصے سے چائے کی پیالی سائٹ ٹیبل پر رکھی.
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں ….؟؟ ڈی ایم نے اتنی اونچی آواز میں غصے سے پوچھا کہ نتاشہ بیگم ڈر گئیں کیونکہ ایسا صرف تب ہوتا تھا جب کچھ ڈی ایم کی مرضی کے خلاف ہو.
چلیں ٹھیک ہے میں دیکھ لیتا ہوں. کچھ دیر بعد ڈی ایم نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی.
بیگم آپ جلدی سے تینوں بچوں کو میرے پاس سٹڈی روم میں بھیجیں یہ کہتے ہوئے ڈی ایم سٹڈی روم میں چلے گئے جبکہ نتاشہ بیگم ہکا بکا رہ گئیں.
💰💰💰💰💰
جاری ہے
