No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
جیسے ہی ان کی گاڑی تھانے کے قریب مجھے پہنچی، انھیں روڈ پر ایمبولنس جاتی ہوئی دکھائی دی.
میرے خیال سے بات بڑھ گئی ہے _ حارث نے ایمبولنس کو دیکھتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا ( بھائی اتنے بے وقوف تو نہیں ہو سکتے کہ کسی کو مار دیں. انہوں نے اج تک ایسا کبھی نہیں کیا ہے تو پولیس والے مگر گولی مجھے نہیں لگتا کبھی چلائی ہوگی……؟؟ حدید نے دل میں سوچتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا)
میرے خیال سے قصہ ختم ہو گیا ہے. ہمیں واپس چلنا چاہیے. حارث کی بات پر حدید اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر نکلا.
آپ کی ہونے والی بیگم کے ابا جی کو یقینا کچھ ہوا ہوگا. نئی نئی رشتے داری ہے کچھ تو خیال کر حدید کے یاد دلانے پر حارث نے اسے دیکھتے ہوئے اپنا سر سٹیرنگ پر رکھا سسرالی رشتہ دار گئے ہسپتال مجھے تو خیال آیا کہ میری اکلوتی بہن حمنہ بھی اس کے ساتھ تھی. حارث نے کہتے ہوئے فوراً گاڑی تھانے کی پارکنگ میں روکی. حارث سے پہلے حدید اتر کر اندر کی طرف بڑھا جتنی دیر میں حارث گاڑی لاک کرتا حدید کے پیچھے جانے لگا اسے حدید باہر آتا دکھائی دیا.
حمنہ اندر نہیں ہے. وہ حرا ساتھ ہسپتال چلی گئی ہے. حدید نے کہتے ہوئے گاڑی کافرنٹ ڈور کھولا.
ہے تو یہ میری بہن مگر مجھ پر نہیں گئی. حارث سر نفی میں ہلاتے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا.
مجھے اسی چیز کی خوشی ہے کہ وہ تجھ پر نہیں گئی حدید نے کہتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی ہونٹوں پر رکھی. تو نے کیوں بیوہ جیسی شکل بنا لی ہے. رانا صاحب سے کیا تیرے بھی کوئی ذاتی تعلقات تھے….؟؟ حارث نے اس قدر سنجیدگی سے سوال پوچھا کہ حدید کو پہلے تو سوال کی نوعیت سمجھ ہی نہیں آئی مگر پھر اس نے ایک زوردار مکا حارث کے مارا. سوچ سمجھ کے بولا کر، جو منہ میں آتا ہے. بولتا رہتا ہے. حدید نے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے ناراضگی سے کہا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میری بہن کو ہو کیا گیا ہے. کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ ہسپتال جانے کی حارث نے اپنے دھیان میں کہتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی.
اور مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ بھائی کو کیا ہو گیا ہے…..؟؟ اچھے طریقے سے رانا صاحب اور ڈی ایم کی فیملی کو جانتے ہیں. پھر بھی انہوں نے ایسا کیا کیا ہے اور کیوں…..؟؟ حدید اپنے خیالوں کی دنیا میں بری طرح الجھا ہوا تھا کہ ایک خیال جھمکے سے اس کے دماغ میں آیا.
نہیں بھائی کبھی بھی اتنی گھٹیا حرکت نہیں کر سکتے. اپنے خیال کو اس نے خود ہی بری طرح جھٹکتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تو اس کا سر ونڈو کے شیشے سے جا ٹکرایا.
ڈاکٹر حدید!! کیا ہو گیا ہے. اتنا صدمہ…..؟؟ مجھے رانا صاحب پسند تھے مگر میں بلکل اپنے ہوش میں ہوں اور آپ جناب جو ہمیشہ مجھے اپنی تنقید کا نشانہ بناتے تھے کیوں گاڑی کی تباہی مچانے پر تلے ہوئے ہیں. حارث نے حدید کی طرف دیکھتے اس پر طنز کیا.
اب یہ معاملہ میڈیا میں اوچھلے گا. حدید نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ہر اس کی طرف دیکھا
ہماری بلا سے حارث نے کندھے اچکائے. یار تیرے میں واقع ہی “غیرت” نام کی کوئی چیز نہیں ہے. حدید نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے تصدیق چاہی تو وہ ہنسنے لگا نہیں آج کل کا زمانہ ہی ایسا ہے. جتنی واحیات اور بےہودہ چیز ہوتی ہے. وہ اتنی ہی سوشل میڈیا پر جا کر رینکنگ کرتی ہے. خیر میرے خیال سے اسی ہسپتال آئیں ہوں گے. تھانے کے قریب ترین ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی روکتے ہوئے حارث نے اپنے خیال کا اظہار کیا اور دونوں بیک وقت گاڑی سے باہر نکلے. تو جا کے پتہ کر اور پھر مجھے انفارم کریں. حارث نے ڈیش بورڈ پر بیٹھتے ہوئے حدید سے کہا منگیتر نہ سہی بہن کے لیے ہی اندر تشریف لے آئیں. حدید کی بات پر حارث نے اپنے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے سینے پر باندھے. اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ ” بہن” کے نام سے میں ایموشنل ہو جاؤں گا. تو تیری “غلط فہمی” ہے. حارث نے کہتے ہوئے جیکٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالا اور اسے دیکھنے لگا جب کہ حدید کچھ دیر اس کو گھورتا رہا اور پھر اندر کی طرف بڑھ گیا. 💰💰💰💰💰 حرا پلیز پریشان نہ ہو. سب ٹھیک ہو جائے گا. حمنہ پچھلے 15 منٹ سے مسلسل حرا کو تسلی دے رہی تھی. جس کی آنکھیں لال سرخ اور لب خاموش تھے. مگر وہ دور کھڑے حیات کو بری طرح گھور رہی تھی. اگر بابا کی طبیعت خراب ہونے میں اس شخص کا ہاتھ ہوا. تو میں اسے چھوڑوں گی نہیں. حرا نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا (وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ تم اسے چھوڑو نہ) حمنہ نے دل میں سوچا. مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے. تم خواہ مخواہ ایس پی حیات پر غصہ کر رہی ہو. پچھلے 15 منٹ سے وہی بیچارہ تو لگا ہوا ہے اگر یہ شخص ہمارے ساتھ نہ ہوتا. تو ابھی تک انکل کی اتنی ٹریٹمنٹ نہ ہوتی جتنی ہو رہی ہے. حمنہ نے نا چاہتے ہوئے بھی حیات کی حمایت کی. اگر یہ شخص نہ ہوتا تو بابا کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہی نہ پڑتی. حمنہ نے اپنی آنکھیں صاف کیں. مجھے لگتا ہے کہ اس شخص نے برے طریقے سے بابا کو ٹارچر کیا ہوگا. جس کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی. حرا کے اظہار خیال پہ ہمنہ نے سر نفی میں ہلایا. خواہ مخواہ کی بدگمانی بری بات ہے. تم نے دیکھا نہیں جب ہم تھانے گئے تھے تب یہ تھانے میں موجود نہیں تھا. یہ شخص ہمارے سامنے آیا تھا. تو اس نے انکل کو کیسے ٹاپکچر کیا…..؟؟ حمنہ کی دلیل پر حرا نے غصے سے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا. مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تمہیں اچانک اس شخص سے کیا ہمدردی ہونے لگی ہے…..؟؟ حرا کے لہجے میں واضح غصہ تھا. میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ تم نیگٹو مت سوچو. ہمدردی تو مجھے صرف تم ہی سے ہے. حمنہ نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنی وضاحت دی. میرے خیال سے تمہیں اب گھر چلے جانا چاہیے. وہ تمہارا کزن تمہیں لینے آیا ہے. حرا نے حدید کو آتا ہوا دیکھ کر کہا تو حمنہ نے بھی پلٹ کر دیکھا. یہ یہاں پر کیسے آ گیا…..؟؟ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی حدید ان دونوں کے سامنے آن کھڑا ہوا. خیریت رانا انکل کی طبیعت ٹھیک ہے ناااااا حرا کو پریشان دیکھ کر حدید نے اپنے ازلی نرم لہجے میں حرا سے پوچھا تو وہ منہ موڑ گئی.
اسے کیا ہوا…..؟؟ حدید نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا.
حرا کو لگتا ہے کہ ابھی حمنہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ حرا نے اس کی بات کو اچک لیا.
مجھے لگتا نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ تم سب لوگ آپس میں ملے ہوئے ہو. مشکل وقت میں کوئی کسی کے کام نہیں آتا. تم سب کو ایسا لگتا ہے کہ میرے بابا نے کوئی غلط کام کیا ہے.
ایسا کس نے بولا حدید نے حرا کی بات پر اس کی طرف دیکھتے ہوئے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا جب کہ حمنہ کو شدید دکھ پہنچا جس پر وہ خاموشی سے سر جھکائے ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی.
تم نے اپنے چاچو کو اطلاع نہیں کی _ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حدید نے دوبارہ پوچھا. وہ اندازہ کرنا چاہتا تھا کہ بات کہاں تک پھیلی ہے…..؟، نہیں میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا. اب کی باری حرا کے لہجے میں نرمی اور دکھ تھا. اچھا تم پریشان نہ ہو. میں پتہ کرتا ہوں کہ انکل کی طبیعت کیسی ہے….؟؟ حدید نے حیات کی پشت کو دیکھتے ہوئے حرا کو تسلی دی اور اس کی طرف بڑھ گیا. ایک نمبر کا سالا ڈرامے باز ہے. کچھ نہیں ہوا اسے ہر چیز اس کی بالکل نارمل ہے. بی پی بھی معمول کے مطابق ہے. صرف اس نے تھانے سے نکلنا تھا اور کچھ نہیں. حیات نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ تھا جس کی وجہ سے اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا.
بھائی آپ نے کیا کیا ہے…؟ ؟ حدید نے نرمی سے حیات کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا. تو حیات نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
اگر میں نے کچھ کیا ہوتا تو اب تک صورتحال کافی مختلف ہوتی. تم اتنے آرام سے مجھ سے نہ پوچھ رہی ہوتے اور اگر دوبارہ کسی نے یہ سوال مجھ سے پوچھا تو میں سچ مچ کچھ کر بیٹھوں گا. تم سب لوگوں نے مل کے میرا دماغ خراب کر دیا ہے. حیات نے اپنا سارا غصہ حدید پر نکال دیا جبکہ قریب کھڑا فراز ہکا بکا دونوں کی گفتگو سن رہا تھا.
سر اب ہمارے لیے کیا حکم ہے…..؟؟ فراز نے ہچکچاتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا تو وہ خاموشی سے حدید کو دیکھنے لگا
💰💰💰💰💰
پھر آپ نے کیا سوچا ہے…..؟؟ حیات نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھا جب کہ رانا صاحب اسے بہت غور سے دیکھ رہے تھے.
تم یوں میری عزت کو سرعام نہیں اچھال سکتے. رانا صاحب کی بات پر حیات نے مسکراتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھی.
میں کسی کی عزت کو بھی سرعام اچھال سکتا ہوں. ہاں البتہ میں اپنی عزت کو اچھالنے نہیں دیتا اگر آپ اپنی بیٹی کو میری عزت بنا دیں. تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس پہ کسی کو بھی انگلی نہیں اٹھانے دوں گا. حیات کا رویہ ایسا تھا کہ رانا صاحب کے تن بدن میں آگ لگ گئی.
تم سیدھی طرح بات کرو کہ تمہیں کیا چاہیے. یوں ڈرامے بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے. رانا صاحب نے اب کی بارگرجدار آواز میں کہا تو حیات نے ہنستے ہوئے اپنی ٹانگ نیچے رکھی اور جھک کے انہیں دیکھنے لگا
کیوں ڈرامے کرنے کا حق صرف آپ کو ہی حاصل ہے. آپ کو لگا کہ آپ کے یوں ڈرامہ کرنے سے مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے.
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے والے مر گئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ میں اپنی بات سے نہیں پھرتا. اگر اپ نے اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے نہ کی تو میں وہ فوٹیج میڈیا پر دے دوں گا.
اصولاً اب آپ کو سچ مچ کا ہارٹ اٹیک آ جانا چاہیے. ورنہ آپ کی عزت کی دھجیاں بکھر جائیں گی. حیات کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تو رانا صاحب نے پر سوچ انداز میں اسے دیکھا.
اس کے علاوہ کوئی اور آپشن _ اب کی بار رانا صاحب کے لہجے میں نرمی تھی. جسے محسوس کرتے ہی حیات جاتے جاتے پلٹا. ہاں ایک اور آپشن بھی ہے اگر تم ڈی ایم کے خلاف گواہی دینے کو تیار ہو جاؤ تو میں تمہاری بیٹی سے دستبردار ہو جاؤں گا. حیات کی بات پر رانا صاحب نے اسے نا سمجھی سے دیکھا میرے خیال سے آپ دونوں بہت عرصے سے ایک دوسرے کے بہت گہرے اور قریبی دوست ہیں. لہٰذا آپ کو ڈی ایم کے کرتوتوں کا تو بخوبی علم ہوگا اور یہ بھی پتہ ہوگا کہ وہ جس زمین پہ ہسپتال بنا رہے ہیں وہ ابھی حیات نے اتنا ہی کہا تھا کہ رانا صاحب کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گزرے.
میرے خیال سے آپ میری بات سمجھ گئے ہیں _ حیات نے کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے. تمہارا اس زمین سے کیا تعلق ہے….؟؟ رانا صاحب کو اپنی آواز کسی کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی. میرے خیال سے آپ یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ تمہارا اس زمین کے وارثوں سے کیا تعلق ہے….؟؟ حیات کی بات پر انہوں نے بےیقینی سے اسے دیکھا تو وہ مسکراتا ہوا پلٹا. آپ کی بیٹی کا رو رو کے برا حال ہے. ایسا کریں کہ فلحال اسے لے کر اپنے ساتھ گھر چلے جائیں. اور آرام سے بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آپ کو اپنا “دوست” زیادہ پیارا ہے یا “بیٹی” پھر جو چیز زیادہ پیاری ہے اس کے بارے میں سوچیں. حیات کہتا ہوا دروازہ کھولنے لگا تم فرزانہ کے بیٹے ہو. جیسے ہی رانا صاحب کے منہ سے یہ جملہ نکلا حیات کا ہاتھ ہینڈل پر ہی کانپ گیا مگر وہ منہ سے کچھ نہ بولا اور اپنے جذبات کو قابو کرتا ہوا دروازہ کھول کے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ پیچھے رانا صاحب کی حالت بے پانی کے مچھلی جیسی تھی. 💰💰💰💰💰 اپنے باپ کو گھر لے جاؤ اور خود بھی گھر آرام سے بیٹھو. میں صرف ایک ہی موقع دیتا ہوں دوسرا میری ڈکشنری میں نہیں ہے. حیات نے حرا کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے اسے مخاطب کیا. میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں. تم نے مجھے جتنا کمزور سمجھا ہے نا میں اتنی ہوں نہیں حرا کی آواز میں بہت غصہ تھا.
میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے نہ چھوڑو. حیات کا انداز طنزیہ تھا.
ویسے ایک بات بتاؤں تم مجھے چھوڑ بھی نہیں سکتی. جب تک میں نہ چاہوں.حیات نے مسکراتے ہوئے گردن نہ میں ہلائی اور سر جھکا لیا.
تم حرا نے شہادت کی انگلی حیات کی طرف کرتے ہوئے کہا
آپ اچھے اور پڑھے لکھے گھرانے کے لوگ دوسروں کو عزت سے بلاتے ہیں. حیات جواب تو حرا کو دے رہا تھا مگر توجہ ساری دور کھڑی حمنہ پر تھی. ناجانے اس کے دل میں کیا سمائی کہ وہ خاموشی سے چلتا ہوا حمنہ کے قریب جا کھڑا ہوا.
تم بہت جلدی بڑی ہو گئی ہو یا وقت جلدی گزر گیا ہے. خیر جو بھی ہے اپنا خیال رکھا کرو اور غلط کام میں دوست ہی کیوں نہ ہو ساتھ نہ دیا کرو. حیات نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ حمنہ کے سر پر رکھا تو وہاں پر موجود تینوں نفوس نے اسے انتہائی حیرانگی سے دیکھا جب کہ حیات حمنہ کے بال سہلاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا.
یہ کیا تھا….؟؟ سب سے پہلے حرا کو ہوش آیا. جس پر حدید شانے اچکا گیا. تبھی سپیکر پر رانا صاحب کے نام کی اناؤنسمنٹ ہوئی تو تینوں نے روم کی طرف دوڑ لگا دی.
پتہ نہیں یہ اندر کیا کر رہے ہیں. اگر اب تک رانا صاحب فوت ہو گئے ہوتے تو اچھی خاصی پارکنگ میں رش لگ جانی تھی. پھر یہ ابھی تک باہر کیوں نہیں نکلے….؟؟ حارث نے اپنی ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے خود کلامی کی تبھی سامنے سے آتا ہوا حیات اپنی گاڑی کی بجائے اس کی طرف بڑھنے لگا
اب اسے کیا تکلیف ہے. یہ کیوں مجھ سے گلے ملنے کو بے تاب ہو رہا ہے……؟؟ حارث نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا
اچھے اور شریف لوگ اپنی بہنوں کا خیال رکھتے ہیں اور جو بھائی اپنی بہنوں کا خیال نہیں رکھتے ان کی بہنیں زمانے کا نشانہ بن جاتیں ہیں. اگر کبھی فرصت ملے تو میری بات پر غور کرنا. زندگی ” پیانو” پہ بجنے والا گیت نہیں ہے. حیات نے کہتے ہوئے حارث کے کندھے کو ٹیپ کیا تو حارث نے اپنا کندھا تیزی سے پیچھے کرتے ہوئے اسے حیرت سے دیکھا جس پر حیات ہنستا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا.
میرے تو منہ پہ لکھا ہے. “آؤ مجھے بے عزت کرو”. ایک حدید تھوڑا تھا جو اس نے بھی بہن کا بھاشن دینا شروع کر دیا ہے. حارث سر نفی میں ہلاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
