No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
حیات بہت بیقراری ساتھ لان میں ٹہل رہا تھا. ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اس کو چھو کر مزید بےقرار کر رہے تھے. جس کی وجہ سے اس کے کندھوں پہ بڑی براؤن کلر کی شال اس کی جسم ساتھ رہ رہ کر ٹکرا رہی تھی.
کبھی وہ رک جاتا ،کبھی اپنے کلائی پہ بندھی مہنگی گھڑی میں ٹائم دیکھتا . جب کسی چیز کا انتظار ہو تو گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور دل کی دھڑکن کی دگنی _ نگاہیں بے ارادہ گیٹ کی طرف اٹھتی اور مایوس پلٹ آتیں. دو تین چکر لگانے کے بعد بالآخر حیات نے مایوس ہو کر اپنی جیب سے موبائل نکالا اس سے پہلے کہ وہ کسی کا نمبر ڈائل کرتا گیٹ پر ہوتی ہارن کی آواز نے اس کی توجہ اپنی جانب دلوائی تو اس کے چہرے پر اطمینان اترا. گیٹ کھلتے ہی زن سے گاڑی اندر داخل ہوئی. حیات نے گاڑی کی طرف قدم بڑھائے. گاڑی رکتے ہی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھلا اور حدید اپنی پوری آن بان ساتھ گاڑی سے باہر نکلا ڈاکٹر حدید تم بہت انتظار کراتے. ہو پھر کہیں جا کر تمہاری دید نصیب ہوتی ہے. اسی طرح دیر کیا کرو گے تو مریض کیسے ٹھیک ہوں گے ……؟؟ حیات نے حدید کو گلے لگاتے ہوئے گلہ کیا تو وہ مسکرانے لگا
ایس پی حیات عالم آپ ایسا کام نہ کیا کریں. جس کی وجہ سے مجھے آپ سے ملنے میں دیری ہو. حدید نے حساب چکاتے ہوئے جواب دیا. تو حیات محبت سے اس کے گرد اپنا بازو حائل کرتا لاؤنچ کی طرف چل دیا. اتنے سارے کھانے میں کیسے کھا سکتا ہوں …..؟؟ حدید نے ڈائنگ ٹیبل پر نظر ڈالتے ہوئے خوشی سے کہا کھا نہیں سکتے تو کم از کم چکھ ہی لو. سب کے سب تمہارے پسندیدہ ہیں. حیات نے حدید کے لیے کرسی نکالتے ہوئے جواب دیا اور خود سربراہی کرسی پر بیٹھ گیا. آپ مجھے بہت پریشان کرتے ہیں. حدید نے دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا میں، میں تمہیں پریشان کرتا ہوں. حیات نے کھانا حدید کے آگے کرتے ہوئے تصدیق چاہی.
جی بالکل!!! آپ ہی مجھے پریشان کرتے ہیں.
چلو اسی بہانے تم مجھے ملنے تو آ جاتے ہو. اب کی بار حیات نے اپنی پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے جواب دیا.
آپ پلیز ایسا نہ کریں. حدید نے حیات کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے التجا کی.
میں چاہ رہا تھا کہ ہم پہلے سکون سے کھانا کھا لیتے لیکن اگر تم نہیں کھانا چاہتے تو چلو بات کر لیتے ہیں حیات نے کھانا چھوڑتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا.
آپ یہ کیوں کر رہے ہیں…،؟؟ حدید کے پوچھنے پر حیات نے آبرو اچکایا
پلیزززززز _ اب یہ ناسمجھی کا ڈرامہ نہ کریں. میں جانتا ہوں کہ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں …..؟ ؟ حدید نے چڑتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ چھو گئی. ایک تو میں تمہاری خواہش پوری کر رہا ہوں اوپر سے تم مجھ سے ناراض ہو رہے ہو. ہر وقت تم ہی نے رٹ لگائی ہوتی ہے. “شادی کر لیں شادی کر لیں” اب اگر کرنے لگا ہوں تو کیا مسئلہ ہے……؟؟
تمہیں مجھ سے زیادہ حارث پیارا ہے. حیات کے لہجے میں جیلسی تھی.
مجھے حارث سے بھی زیادہ اس کی بہن پیاری ہے. حدید کا انداز اور جواب ایسا تھا کہ حیات قہقہ لگانے پر مجبور ہو گیا.
کمینے دوست کی بہن پر نظر رکھتا ہے.. حیات نے سرگوشی نما آواز میں پوچھا
کسی کی منگیتر پر نظر رکھنے سے تو یہ بہتر ہے. حدید کا انداز ہنوز قائم تھا.
یہ بات یوں سرعام بتانے والی نہیں مگر چلو اب بتا دو کہ تمہارا پلان کہاں تک پہنچا ہے……؟؟ اب کی بار حیات نے سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی جیسے وہ حدید کی بات سننے کے لیے بالکل فارغ ہو.
پلان تو بالکل ٹھیک جا رہا تھا لیکن اب آپ نے گڑبڑ کر دی ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپ کا اس فیملی ساتھ کیا مسئلہ ہے….؟؟
حرا آپ کے مزاج کے بالکل برخلاف ہے. مجھے نہیں لگتا کہ وہ آپ ساتھ اچھی لگے گی. میرا مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں کی جوڑی بالکل مس میچ ہے. لہذا اپنا ارادہ بدل دیں.
ویسے تو حارث بھی اس رشتے کے لیے خوش نہیں مگر یہ حمنہ کی خواہش ہے. تو میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کی خواہش میں ٹانگ نہ اڑائیں. حدید نے کہتے ہوئے ایک ناراض نظر حیات پہ ڈالی تو وہ مسکراتا ہوا آگے کو جھکا
مطلب تم چاہتے ہو کہ میں صرف تمہاری محبوبہ کی خواہش کی خاطر ہتھیار ڈال دوں اور وہ جو چھٹانک بھر کی لڑکی نے میری بےعزتی کی ہے. وہ میں برداشت کر لوں. حیات نے اپنی بات کی آخر میں سنجیدہ چہرہ بنایا تو حدید اس کی طرف دیکھنے لگا.
آپ اپنی بےعزتی کا بدلہ کسی اور طرح بھی لے سکتے ہیں. یہ انوکھا طریقہ آپ کے دماغ میں کیسے آیا. جب کہ آپ نہ ڈرامے دیکھتے ہیں، نہ ناول پڑھنے کا شوق ہے اور نہ ہی آپ کی ایسی کمپنی ہے. حدید بضد تھا.
میں نے لوگوں کو محبت میں تاج محل بناتے تو سنا تھا مگر پہلی بار اپنی محبوبہ کی خاطر پولیس سے پنگے لیتا دیکھ رہا ہوں. حیات کہ طنز پر حدید نے کچھ بولنے کے لیے اپنا منہ کھولا ہی تھا تو حیات نے اسے انگلی سے خاموش کرا دیا.
پہلے کھانا کھاؤ اور اس کے بعد بات کرتے ہیں. لیکن تم جانتے ہو کہ میں اپنے ارادوں کا پکا ہوں. جب میں ایک بار کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں. تو پھر میں اس سے ہٹتا نہیں اور جیسا کہ تم نے بولا ہے حارث بذات خود بھی اس رشتے میں دلچسپی نہیں رکھتا. تو بس پھر بات ختم حیات کے کہنے پر حدید خاموشی سے کھانا شروع کرنے لگا. تم صرف اس لیے آئے تھے….؟ کھانا کھاتے ہوئے حیات نے پوچھا نہیں آپ کو کچھ بتانا بھی تھا. حدید نے کہتے ساتھ ہی اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے اور پاکٹ سے موبائل نکالتے ہوئے ایک تصویر حیات کے آگے کی جسے دیکھتے ہی اس کے تاثرات پتھریلے ہو گئے. 💰💰💰💰💰 مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم اتنی پریشان کیوں ہو. حمنہ کو ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں چکر کاٹتے دیکھ کر حارث نے پوچھا میں پریشان ہوں. آخر قیامت والے دن اللہ ہم سے پوچھے گا کہ ایک بندہ جو ہمارے گھر میں رہتا تھا وہ کیا کرتا پھرتا تھا. ہم نے اسے غلط کاموں سے کیوں نہیں روکا. تو ہم کیا جواب دیں گے ….؟؟ حمنہ نے رکتے ہوئے حارث کو جواب دیا جس پر حارث اسے حیرت سے دیکھنے لگا واہ حمنہ بی بی!!! تم نے تو کمال کر دیا. ایک بندہ جو تمہارے گھر میں رہتا ہے. تمہیں اس کے معاملے میں اللہ سے ڈر لگ رہا ہے اور یہ جو تمہارے ساتھ پیدا ہوا تمہارا اکلوتا بھائی ہے. تمہیں اس کے معاملے میں اللہ سے ڈر نہیں لگتا. حارث نے منہ چڑھاتے ہوئے حمنہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا پہلی بات تو یہ کہ تم میرے ساتھ نہیں پیدا ہوئے دوسرا تمہارا معاملہ بالکل ٹھیک ہے. میں نے تمہارے لیے ایک زبردست لڑکی پسند کی ہے. لہٰذا اپنا منہ بند رکھو اور پتہ کرو کہ تمہارا دوست اب تک گھر واپس کیوں نہیں آیا…..؟؟؟ حمنہ نے حارث کے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ میرا” دوست” ہے میری” اولاد” نہیں جس کا میں پتہ کروں. دوسرا وہ میرے سے کئی گنا زیادہ تیز ہے. تم بے فکر رہو. اس کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہو سکتا. ہاں البتہ وہ کسی کو حادثے کا شکار بنا سکتا ہے. حارث منہ بناتا اپنے روم کی طرف چل دیا حارث کے بچے رکو نااااااا مجھے چھوڑ کے کہاں جا رہے ہو….؟؟؟ حمنہ کی آواز پر حارث بےدلی سے مڑا. یا سچ مچ حدید کا کوئی چکر وکر ہے یعنی وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہے. حمنہ نے سنجیدگی سے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ آئی دیکھو حمنہ میں تمہیں یہ بات بتانا تو نہیں چاہتا تھا مگر سچ یہ ہے کہ حدید کے بہت ساری لڑکیوں ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اور وہ شراب، چرس، شیشہ اور پتہ نہیں کیا کچھ پیتا ہے. اپنی بات کے آخر میں حارث نے افسوس سے سر ہلایا جب کہ حمنہ کا منہ حیرت سے کھل گیا. یہ جھوٹ بول رہا ہے. میں ایسا نہیں ہوں. حارث کے بچے تجھے تو میں چھوڑو گا نہیں. تو ایک نمبر کا احسان فراموش ہے. حدید نے لاؤئچ میں قدم رکھتے ہی تردید کی. حدید کی آواز پر حمنہ نے پلٹ کر اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے ایک انتہائی افسوس بھری نگاہ ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ حدید اسے آوازیں دیتا ہے رہ گیا. یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے. کیا ضرورت تھی اتنی فضول بکواس کرنے کی. حمنہ کے جاتے ہی حدید نے حارث کا بازو مروڑ لیا ضرورت تھی، بہت ضرورت تھی، میری جان!!! سب تجھے بہت اچھا اور پارسا سمجھتے ہیں. میں نے سوچا کیوں نہ موقع کا فائدہ اٹھایا جائے اور تھوڑی سی تیری مٹی بھی پلیت کر دی جائے. حارث نے آہ بھرتے ہوئے جواب دیا. تھوڑی سی کے بچے تو نے تو ساری مٹی پلیت کر دی. اب اس معاملے کو تو ہی سلجھائے گا. ورنہ میں تیری ہڈیاں توڑ دوں گا. حدید نے کہتے ہوئے ایک زوردار مکا حارث کی کمر پر رسید کیا. ٹھیک ہے پھر تو پہلے میرا مسئلہ حل کر تاکہ تجھے میری تکلیف کا اندازہ ہو. حارث نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے اسے سہلایا ٹھیک ہے میں تیرا مسئلہ حل کر دیتا ہوں مگر یاد رکھ اگر یہ بات حمنہ نے ڈی ایم کو بتائی. تو پھر میں تیرا وہ حشر کروں گا کہ تو مجھے یاد رکھے گا. حدید نے کہتے ہوئے دکھ سے حمنہ کے روم کی طرف دیکھا 💰💰💰💰💰 یارررررررر پاپا چاہ رہے تھے کہ منگنی کا ایک مشترکہ فنکشن ہو جائے تاکہ سب لوگوں کو اس رشتے کا پتہ چل جائے. حرا نے کال رسیو کرتے ہوئے کہا
بڑے افسوس کی بات ہے. کال میں نے کی ہے تو اصولاً بولنے کا حق بھی مجھے حاصل ہونا چاہیے. حمنہ نے دکھی آواز میں گلا کیا.
کال تم کرو یا میں بات تو ایک ہی ہے. مگر تمہیں کیا ہوا ہے. تم کیوں اتنی جذباتی ہو رہی ہو….؟؟ حرا نے اب کی بات قدر تعجب سے پوچھا
اگر تم میری کمی محسوس کر رہی ہو. تو ٹیرس کا دروازہ کھولو. میں ایک منٹ میں تمہارے پاس پہنچ جاتی ہوں. حرا نے فوراً آفر دی جسے حمنہ نے قبول کرتے ہوئے کال کاٹ دی اور دروازہ کھولنے چل دی.
اتنی جلدی تو اللہ دین کے چراغ کا جن بھی حاضر نہیں ہوتا. جتنی جلدی میں حاضر ہو جاتی ہوں. جیسے ہی حمنہ نے دروازہ کھولا اگے حرا موجود تھی.
میں بہت پریشان ہوں. میں نے کبھی ایسے سوچا بھی نہیں تھا. دیکھنے میں تو وہ بہت شریف لگتا ہے. مگر حمنہ نے کہتے ہوئے رونا شروع کیا کیا مطلب دیکھنے میں شریف لگتا ہے مگر کون کیا تم حارث کی بات کر رہی ہو. حارث نے کوئی چاند چڑھایا ہے. تم لوگوں نے کہیں اپنا کرپٹ لڑکا میرے متھے تو نہیں مار دیا.
ہائے اللہ میری تو قسمت پھوٹ گئی. میں تو مشرقی لڑکی ہوں. اب تمہارا بھائی جیسا بھی ہے. مجھے اسی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے. یہاں سے اب میرا جنازہ ہی نکلے گا. حمنہ سے زیادہ حرا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے رونا دھونا شروع کر دیا.
خدا کے لیے چپ کر جاؤ. کیوں ایسے شور ڈال رہی ہو. ایک نمبر کی ڈرامے باز ہو. حارث نے کچھ نہیں کیا. حمنہ نے حرا کو یوں روتا دیکھ کر فوراً چپ کرایا.
اچھا تو پھر تم کس کی بات کر رہی تھیں….؟؟ حرا نے فوراً دلچسپی سے حمنہ کی طرف دیکھا تو وہ سر نفی میں ہلانے لگی
حرا بی بی!!! تیرے کتنے چینل ہیں….؟؟ حمنہ کہتے ہوئے تھکے سے انداز میں بیڈ پر اوندھی منہ گری.
تم مجھے چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ ہوا کیا ہے…..؟؟ اب کی بار حرا نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا تو حمنہ ایک بار پھر بیڈ میں منہ چھپائے رونے لگی
دیکھو حمنہ اب یہ میلو ڈرامہ بند کرو اور بتا بھی دو کہ کیا ہوا ہے. کہیں نائب والوں نے تمہارے ڈیڈی کو پکڑ تو نہیں لیا…..؟؟؟ اچانک حرا کے ذہن میں ایک اور خیال آیا.
اللہ نہ کرے. حرا تم کیا فضول بکواس کرتی جا رہی ہو. تمہیں میرے گھر کے ہی افراد ملے ہیں. اب کی بار حمنہ نے بیٹھتے ہوئے غصے سے حرا کی طرف دیکھا
تو پھر تم ایک ہی دفعہ میں بتا کیوں نہیں دیتی کہ کس کی بات کر رہی ہو…..؟؟ حرا نے تکیہ گود میں رکھتے ہوئے پوچھا
میں حدید کی بات کر رہی ہوں. حمنہ نے نظریں جھکاتے ہوئے آہستہ آواز میں بتایا
حدید نے کیا کیا ہے. وہ تو انتہائی شریف انسان ہے. جیسے زرافہ شریف ہوتا ہے. ہم نے شروع سے پڑھا ہے کہ زرافہ ایک صلح جو جانور ہے وہ کسی کو کچھ نہیں کہتا. حرا نے فوراً ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے بچپن میں پڑھا مضمون کی چند لائنیں دہرائی.
حرا کی بچی!!! میں “زرافے” کی نہیں “حدید” کی بات کر رہی ہوں. حمنہ نے غصے سے حرا کی طرف دیکھا
ایک ہی بات ہے. مجھے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں لگتا. دونوں ہی ہینڈسم ہیں، دونوں ہی لمبے ہیں، دونوں ہی معصوم ہیں اور دونوں ہی شریف ہیں. حرا نے اپنی بات کی وضاحت دی.
نہیں ایسا نہیں ہے. حمنہ نے روتے ہوئے حارث کی تمام باتیں دہرا دیں. جس پر حرا کا منہ کھل گیا.
دیکھنے میں تو حدید ایسے نہیں لگتا. میرا کہنے کا مطلب ہے کہ اس کے منہ پر اتنی فٹکار نہیں ہے. جتنی ایسا کام کرنے والوں کے چہرے پر ہوتی ہے. لیکن خیر تم فکر نہ کرو. میں اب تمہاری ہونے والی بھابھی ماں ہوں. میں سب دیکھ لوں گی.
ایک منٹ لگے گا. مجھے حدید کی کنڈلی نکالتے ہوئے. بس تم مجھے ایک دن کا ٹائم دے دو اور یہ رونا دھونا بند کرو. حرا کے کہنے پر حمنہ نے فوراً اپنے مصنوعی آنسو صاف کیے.
شاباش چل اب جا کر میرے کھانے پینے کے لیے کچھ لے کر آ. آخر میں منگنی کے بعد پہلی بار تیرے گھر میرا مطلب ہے میرے کمرے میں ائی ہوں. حرا کے کہنے پر حمنہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی.
ہم محبت بھی سہ نہیں پائے
فیض کہتے تھے اور بھی دکھ ہیں
حمنہ کو جاتے دیکھ کر حرا نے زیر لب دہرایا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے
