Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

کمرے میں بلا کی خاموشی تھی. وہ ٹیبل لیمپ کی لائٹ کبھی بند کرتا اور کبھی آف _ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس ساتھ کیا ہو رہا ہے…..؟؟ کیا ڈی ایم نے جو کچھ بولا ہے وہ درست ہے مگر حیات بھائی جو ہر وقت کہتے رہتے ہیں پھر اس کا کیا مجھے وہ بھی سچے لگتے ہے اور یہ بھی _ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے. حدید نے اپنا سر نیچے گراتے ہوئے زیر لب دہرایا. میں ڈی ایم کو دکھ نہیں پہنچا سکتا اور حیات بھائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آخر مجھے کیا کرنا چاہیے. کیا مجھے ان دونوں کے درمیان سے ہٹ جانا چاہیے یا ان دونوں کے درمیان صالح کا کردار ادا کرنا چاہیے…..؟؟
یہ دونوں کبھی صلح نہیں کر سکتے. بھلا کبھی آگ اور پانی کی بھی صلح ہوئی ہے. حدید کے اندر ایک سوال و جواب کی جنگ جاری تھی. وہ خود ہی سوال کرتا اور خود ہی جواب دے کے اپنے سوال کو رد کر دیتا. ابھی وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ دروازے پر دستک کے ساتھ ہی دروازہ کھلا
یہاں اکیلے بیٹھے کیا کر رہے ہیں….؟؟ حمنہ نے سوچ بورڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا جبکہ پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا. اچانک تیز روشنی کی وجہ سے حدید کی انکھیں چنیا گئیں. تو اس نے اپنی آنکھوں کے اگے ہاتھ رکھتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
تم ابھی تک سوئی نہیں حدید نے اپنے جذبات اور احساسات پر قابو پاتے ہوئے سوال کیا. اگر میں سو گئی ہوتی تو یہاں پر کیسے موجود ہوتی. حمنہ نے کہتے ہوئے کرسی اپنی جانب گھسیٹی اور حدید سے فاصلہ پر بیٹھ گئی. کیا ڈی ایم نے سچ مچ بہت زیادہ ڈانٹا ہے…..؟؟ حمنہ کو حدید سے ہمدردی ہوئی. نہیں انہوں نے مجھے ڈانٹا نہیں بلکہ ایک کہانی سنائی ہے. جسے سن کر میں اداس اور پریشان ہو گیا ہوں. حدید نے ہمیشہ کی طرح بہت نرمی اور پیار سے حمنہ کو جواب دیا تو وہ مسکرانے لگی. اچھا پھر مجھے بھی وہ کہانی سنائیں. حمنہ کے اپنی گال کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا نہیں تم دکھی ہو جاؤ گی اور میں تمہیں دکھی نہیں کرنا چاہتا. ابھی حدید کے منہ میں یہ الفاظ تھے کہ دروازے سے اندر آتے حارث نے اسے خشمگین نظروں سے گھورا. ہاں تو اسے دکھی نہیں کرنا چاہتا مگر میرے دکھ میں کسی طور پر تیری وجہ سے کمی نہیں آتی. حارث بھی حمنہ کے برابر کرسی لیتا بیٹھ گیا. کیوں اب میں نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ تو اتنا دکھی ہے. حدید نے ہاتھ میں پین پکڑتے ہوئے حارث سے پوچھا تو یہ سب فضول باتیں چھوڑ اور بتا کے کہاں سے بھٹکتا ہوا آیا ہے اور آ کر مجھ سے ملا بھی نہیں. وہ تو مجھے آیا جی سے پتہ چلا ہے کہ تو بڑی سرکار کو حاضری بھی دے آیا ہے. چل اب طوطے کی طرح شروع ہو جا کہ سرکار نے تجھے کیا بولا ہے. حارث نے چٹکی بجاتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ ڈی این نے آپ کو جو کہانی سنائی ہے وہ ہمیں بھی سنائیں. حمنہ نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا کچھ نہیں بس بعض دفعہ ہم کچھ ایسا سنتے ہیں. جس پہ ہمیں یقین نہیں ہوتا. حدید نے حارث اور حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے نظریں چرائیں. کیا سن لیا ہے. جس پہ تجھے یقین نہیں آ رہا. سیدھی طرح بات کر زیادہ لڑکیوں کی طرح مجھے نزاکتیں نہ دکھا. یہ نہ ہو کہ میری نیت تجھ پر خراب ہو جائے اور پھر تجھے اس پر یقین نہ آئے. حارث کی بات پر حدید کا پورا منہ کھل گیا اور اس نے حمنہ کی طرف دیکھا جو ہنس رہی تھی. تم دونوں بہن بھائی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تم دونوں بولنے سے پہلے سوچتے نہیں ہو کہ کیا بول رہے ہو کس کو اور کس کے سامنے بول رہے ہو…..؟؟ حدید نے منہ بناتے ہوئے دونوں پر ایک افسوس بھری نظر ڈالی.
اچھا بات کو بدل مت اور بتا کہ ڈی ایم نے کون سی کہانی سنائی ہے. جسے سنتے ہی تیرا چہرہ اتر گیا ہے. ….؟؟ حارث نے زور دیا.
کچھ نہیں میں نے کہا نا کہ بعض دفعہ ہم کوئی ایسی بات سنتے ہیں. جس پر ہمیں یقین نہیں ہوتا. مثال کے طور پر اگر حمنہ تمہیں پتہ چلے کہ حارث تمہارا سوتیلا بھائی ہے. تو تمہارا ری ایکشن کیا ہوگا…..؟؟ حدید نے نپے تلے لفظوں میں دونوں کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا
لو میرا کیا ری ایکشن ہونا ہے. میں فوراً یقین کر لوں گی. یہ مجھے اپنا سگا بھائی لگتا ہی نہیں ہے. حمنہ نے حارث کے بازو پر مکا مارتے ہوئے جواب دیا. جس پر حارث نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیا.
میں بھی یہ بات بخوشی منظور کر لوں گا کہ یہ میری سوتیلی بہن ہے. اس سے میرے غم اور دکھوں میں کافی کمی آئے گی کہ یہ سوتیلی ہے تو تب میرے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے اگر سگی ہوتی تو ایسا نہ کرتی. یہ سٹیٹمنٹ ہم دونوں کو سیٹسفیکشن دے گی. ان دونوں کی جواب پر حدید حیران پریشان سا دونوں کو دیکھنے لگا
حمنہ کیا تمہیں ذرا بھی میری بات پہ حیرت نہیں ہوئی….؟؟ اب کی بار حدید نھ صرف حمنہ کو مخاطب کیا.
نہیں اس میں حیرت کی کیا بات ہے. جیسے اب تم میرے سوتیلے بھائی ہو جیسے ہی حمنہ نے یہ جملہ ادا کیا حدید کو برے طرح کھانسی کا دورہ پڑا جب کہ حارث قہقہے لگا کر ہنسنے لگا.
زندگی میں پہلی بات تم نے بالکل ٹھیک وقت ہر کہی ہے. حارث نے حمنہ کو شاباش دی تو وہ شکریہ ادا کرنے لگی.
اچھی خاصی بات کا تم دونوں نے مل کےر بیڑا غرق کر دیا ہے. اب مہربانی فرما کر دونوں اپنے اپنے روم میں جاؤ. مجھے نیند آ رہی ہے. حدید نے ٹشو سے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں. مجھے بھی نیند آ رہی ہے مگر میں نے وہ کہانی سننی ضرور ہے. جو آپ کو ڈی ایم نے سنائی ہے. حمنہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
بڑی مہربانی آپ کی
فی الحال تو آپ یہاں سے تشریف لے جائیں. حدید نے نرمی سے حمنہ کی طرف دیکھا جس پر وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی.
آپ جناب اتنا پھیل کر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں…..؟؟ حمنہ کے جاتے ہی حدید نے حارث کو مخاطب کیا.
میں جانتا ہوں کہ بات انتہائی سنجیدہ ہے. اس لیے اب تو سچ سچ مجھے بتا کہ کیا بات ہے. تو حمنہ کو بے وقوف بنا سکتا ہے مگر مجھے نہیں. حارث کے اس قدر سنجیدہ لہجے پر حدید خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور دل میں سوچنے لگا کہ کیا اسے واقع ہی سب کچھ سچ سچ حارث کو بتا دینا چاہیے…..؟؟
میں سونے جا رہی تھی مگر پھر خیال آیا کہ جو بات بتانی آئی تھی وہ تو بتائی نہیں. تم لوگوں کو شاید پتہ نہ ہو مگر میں تمہیں بتاؤں کہ کل حرا اور ایس پی حیات کی منگنی کا فنکشن ہے. اس لیے دونوں وقت پر تیار ہو جانا. تمہیں وہاں اچھی خاصی پیاری پیاری لڑکیاں دیکھنے کو ملیں گی. حمنہ بتاتی ہوئی واپس پلٹ گئی جبکہ حدید نے حیرت سے حارث کی طرف دیکھا. جو بہت خوش دکھائی دے رہا تھا.
کیا حمنہ نے جو کہا ہے وہ بالکل درست ہے…..؟؟ حدید نے حیرت سے پوچھا
سرکار لفظ لفظ میری بہن درست کہہ کر گئی ہے. میرا بس چلتا ہےتو میں یہ تحریر سونے کے قلم سے لکھواتا کہ حرا کی منگنی ایس پی حیات ساتھ ہو رہی ہے. ہماری شرکت اس میں ہمارے لیے ہی باعث افتخار، اطمینان اور خوشی ہے. حارث کے جواب پر حدید نے افسوس سے اسے دیکھا جو بہت خوش دکھائی دے رہا تھا.
💰💰💰💰💰
ہلکے پھلکے میک اپ اور سلور گرے ساڑھی زیب تن کیے. جس پر نفیس چاندی کا کام حرا کے روپ کو چار چاند لگا رہا تھا.
ویسے یہ منگنی کا فنکشن اتنا بھی فضول نہیں ہوتا جتنا مجھے پہلے لگتا تھا. شیشے میں اپنا جائزہ لیتے ہوئے حرا نے حمنہ کی طرف دیکھا
مجھے تو فلحال یہ سارا فنکشن ہی فضول لگ رہا ہے. کیا ضرورت ہے جھوٹ موٹ کی منگنی کرنے کی حمنہ نے جیسے ہی یہ الفاظ ادا کیے حرا نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھا. میں نے تمہیں سچ اس لیے نہیں بتایا کہ تم سات گاؤں اس کا ڈھول پیٹو. حرا نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اسے ڈانٹا جب سب کو اس بات کا پتہ ہے. بزرگوں کو بھی، تمہیں بھی، ایس پی حیات کو بھی، تو پھر کس سے یہ بات چھپا رہی ہو…..؟؟ حمنہ کے سوال پر حرا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا تم کب تک اپنی سیلفیاں لیتی رہو گی……؟؟ حمنہ نے بور ہوتے ہوئے بالآخر پوچھا دیکھو مجھے کیوں ایسے لگ رہا ہے کہ میں بہت خوبصورت ہوں. اس لیے میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنی بہت سی تصویریں بناؤں. کیا تم میرے ساتھ تصویر کھینچانا پسند کرو گی…..؟؟ حرا نے حمنہ کے آگے ہاتھ کرتے ہوئے اسے آفر ماری. نہیں بہت شکریہ!! تم آج اس کے ساتھ تصویر بنانا جسے الو بنا رہی ہو اور وہ تمہیں
حمنہ نے کچھ کہنا چاہا مگر خاموش ہو گئی.
سنو وہ مجھے پیسے یا کوئی انگوٹھی تو دے گا ناااااا _ حرا نے رازداری سے پوچھا میرے حساب سے تو اسے تمہیں کوہ نور ہیرہ دینا چاہیے. اتنی کرپشن کرتا ہے. اتنی رشوت لیتا ہے. ب4ا پیسہ ہو گا اس کے پاس آخر سب قبر میں لے کے جائے گا. حمنہ کے جواب پر حرا کچھ مطمئن ہوئی.
چلو نیچے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے. میرا مطلب ہے کہ کس نے تماشا لگایا ہوا ہے اور کون تماش بین ہے….؟؟ ہم کب تک اس کمرے میں بیٹھے رہیں گے. حمنہ نے بوریت سے اٹھتے ہوئے کہا
سوری فلحال ہم نیچے نہیں جا سکتے. جب تک پاپا نیچے بلا نہیں لیتے. انہوں نے کہا تھا جب تک میں نہ کہوں نیچے مت آنا. حرا نے کہتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
اچھا پھر تم تھوڑی دیر ادھر رکو. میں ذرا نیچے کے حالات جان کر آتی ہوں. حمنہ کھڑی ہوئی تو حرا نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے دوبارہ اپنے ساتھ بٹھا لیا
اس میں نیچے جانے کی ضرورت نہیں ہے. حارث یا حدید کو فون کرو وہ خود ہی بتا دیں گے. حرا کی تجویز پر حمنہ نے حارث کا نمبر ڈائل کیا.
تم ہمیشہ فضول وقت پر مجھے فون کرتی ہو. اچھا خاصا مزہ آ رہا ہے. پلیز ابھی مجھے ڈسٹرب مت کرو. جیسے ہی کال اٹینڈ ہوئی حارث کی عجلت بھری آواز سپیکر سے ابھری.
حارث کے بچے مجھے بتاؤ کہ اس وقت نیچے کی صورتحال کیا ہے…..؟؟ حمنہ نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے موبائل کا سپیکر آن کیا.
کیوں تم اندھی ہو. تمہیں نظر نہیں آ رہا. ٹیرس پہ کھڑے ہو کر نیچے لان کا جائزہ لو. تو تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گی نیچے کی صورتحال لیکن جو بھی ہے میں بہت انجوائے کر آر ہا ہوں.
میری سوچ سے بھی زیادہ یہ ایس پی مزاخیہ ہے. ایسی عجیب و غریب فرمائشیں کر رہا ہے. ایسی تو نئی نویلی دولہن اپنے سسرال آ کر نہیں کرتی جیسے یہ نہ ہونے والا داماد کر رہا ہے. حارث کی بات پر حرا نے حمنہ سے فون چھین لیا.
حارث مجھے بتاؤ کیا بات ہے……؟, حرا نے قدرے پریشانی سے پوچھا
بات کیا ہونی ہے. وہ ایس پی صاحب پھیل کر بیٹھ گئے ہیں. اپنے ساتھ ایک عدد اپنی ہی طرح کا مولوی بھی لائے ہیں اور فرمائش یہ ہے کہ وہ نکاح کر کے جائیں گے.
مگر میں تمہیں ایک راز کی بات بتاؤں. وہ نکاح کر کے خالی جانے والے نہیں ہیں بلکہ دلہنیا بھی ساتھ لے کر جائیں گے. چلو ایک ہی دفعہ قصہ تمام ہوگا. حارث نے مزے لیتے ہوئے اطلاع دی جس پر حرا کا موڈ بگڑ گیا.
یہ کیا بات ہوئی. صرف منگنی کا کہا تھا. اس بندے کی تو وہ مثال ہے. کھڑے ہونے کی جگہ دو بیٹھ میں خود ہی جاؤں گا.
نہیں نہیں حرا بی بی!!! اب تو محاورہ درست کرو. کھڑے ہونے کی جگہ دو. لیٹ میں خود ہی جاؤ گا. وہ صاحب لیٹ گئے ہیں اور ان کو اٹھانے کے چکر میں اور بھی بہت سارے لوگ لیٹ جائیں گے. حارث کی بات پر حرا نے جھرجھری لی.
تمہیں شرم نہیں آتی. اتنی فضول بکواس کرتے ہوئے. اللہ خیر کرے. اللہ نہ کرے کوئی لیٹے. حرا نے نہ میں سر ہلایا.
جس حساب سے وہ بندہ اپنے ساتھ اسلحہ اور بندے لایا ہے. اس سے تو یہی لگتا ہے کہ تمہاری بارات اچھی خاصی دہشت گردوں پر مشتمل ہے. اور اگر اس کے آگے کسی نے چوں چاں کی تو وہ اس کی بولتی بند کر دے گا.
فی الحال تو رانا صاحب اور ڈی ایم اس ساتھ بحث و تکرار کر رہے ہیں لیکن میں ابھی بتا دیتا ہوں کہ حتمی اور آخری نتیجہ اس بندے کے حق میں ہی نکلے گا حالانکہ اس نے دھاندلی کی ہے. یہ بھی مانتا ہوں مگر کیا کریں….؟؟
حرا بی بی!! سوچا تھا اور کچھ نہیں تو تمہاری شادی کے دو تین فنکشن ہی اٹینڈ کر لوں گا. اس بہانے یونی بھی نہیں جانا پڑے گا. مگر افسوس
حارث نے ایک سرد آہ بھری.
میں نیچے آ رہی ہوں. ایسی کی تیسی اس ایس پی کی اس کے ہوش ٹھکانے لگا دوں گی. بڑا آیا نکاح کرنے والا
جب کہا ہے منگنی ہوگی تو منگنی ہی ہوگی. حرا نے غصے سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی.
نہ نہ حرا بی بی!! یہ غلطی تو بالکل نہ کرنا ورنہ یہ حرکت تو جلتی پر تیل کا کام کرے گی. اس لیے جہاں بیٹھی ہو وہاں چپ چاپ بیٹھی رہو. تمہیں دیکھنے کے بعد کون کافر خالی ہاتھ واپس جائے گا….؟؟ حارث نے کہہ ذو معنی انداز میں کہتے ہوئے قہقہہ لگایا.
حارث کے بچے زیادہ سچویشن انجوائے نہ کرو یہ نہ ہو کہ تمہیں لینے کے دینے پڑ جائیں. حرا نے دھمکی دیتے ہوئے کال کاٹ دی.
چل ٹیرس پر چلتے ہیں _ حرا نے موبائل صوفے پر پھینکتے ہوئے حمنہ کو اپنے ساتھ گھسیٹا 💰💰💰💰💰 دیکھو تم اپنی بات سے بدل رہے ہو. میں نے صرف منگنی کا کہا تھا. رانا صاحب نے اب کی بار انتہائی نرمی سے حیات کو مخاطب کیا. جو بلیو کلر کا تھری پیس سوٹ پہننے انتہائی خوبصورت مسکراہٹ لبوں پہ سجائے مطمئن سا ان کے سامنے بیٹھا تھا. آپ بیٹی والے ہیں. میں نہیں چاہتا کہ آپ پر زیادہ بوجھ پڑے. آپ نکاح کریں اور اپنی بیٹی کو دعاؤں ساتھ رخصت کر دیں. . حیات نے رانا صاحب کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے مزے سے کہا مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ بھائی آپ کو اچانک شادی کا اتنا شوق کیسے چڑھ گیا ہے…..؟؟ حدید نے میسج ٹائپ کرتے ہوئے حیات کو سینڈ کیا. بس جب اپنا بھائی بے وفا نکل آئے اور دشمن کی صف میں جا کھڑا ہو. تو انسان کا دل کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک وفا دار بیوی نما ساتھی ہو. حیات نے ریپلائی دیا. جیسے آپ کو تو معلوم ہی نہیں کہ وہ کتنی وفادار بیوی ثابت ہو گی…..؟؟ حدید نے بہت سارے ہنسی والے ایمو جی بناتے ہوئے میسج سینڈ کیا. وہ میرا مسئلہ ہے. تجھے زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں. یہ نہ ہو کہ میں تیری بولتی ابھی بند کر دوں. حیات نے غصے کے ایموجی کے ساتھ ریپلائی دیا تو حدید نے خاموشی سے موبائل پاکٹ میں رکھ لیا. دیکھو بیٹے ابھی میں ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب ہوں. خاور کا بیٹا جیل سے باہر نکل آئے اور بھی کچھ معاملات ہیں. وہ سیٹل ہو جائیں. تو پھر میں اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کروں گا. میری ایک ہی بیٹی ہے اور اسے لے کر میرے بہت سارے ارمان ہیں. لہٰذا تم بھی ہمیں اس وقت پریشان نہ کرو اور جتنی بات ہمارے درمیان ہوئی تھی. اس پر عمل کرو. مہمان بہت زیادہ ہیں. بہتر یہی ہوگا کہ اس معاملے کو فی الحال یہیں ختم کرو. رانا صاحب نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیات سے کہا جب کہ رانا خاور اور ڈی ایم دونوں ہی ان کے ساتھ صوفے پر برا جمال تھے. دیکھیے میرے پاس اس چیز کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر میں آپ کی بات مان لوں تو آپ بالکل ویسا ہی کریں گے جیسا آپ کہہ رہی ہیں. حدید نے اپنے کوٹ کا بٹن کھولتے ہوئے ان کی طرف جھکتے ہوئے کہا میں گارنٹی دیتا ہوں. پہلی بار ڈی ایم نے گفتگو میں مداخلت کی. تو حیات کی آنکھیں چمکنے لگیں. ٹھیک ہے میں آپ کی گارنٹی ماننے کو تیار ہوں مگر _ حیات نے جان بوجھ کر اپنا جملہ ادھورا چھوڑا. جس پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے. مگر کیا ڈی ایم نے حیات کا جملہ دہرایا.
مگر مجھے گارنٹی کے طور پہ آپ سے کچھ چاہیے. اگر آپ اپنی بات پہ پورے اتریں گے تو وہ میں آپ کو واپس کر دوں گا اور اگر آپ اپنی بات پہ پورے نہ اترے تو پھر میں اس چیز کے لیے آپ کو جواب دے نہیں. حیات کی بات پر ڈی ایم سوچ میں پڑ گئے. جس پر رانا صاحب نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں دلاسا دیا.
میں تمہیں کھنہ پل والی زمین نہیں دوں گا. اس کے علاوہ تم جو بھی مانگتے ہو میں دینے کو تیار ہوں. رانا صاحب کے جواب پر حیات کے لبوں کو پھیکا سی مسکراہٹ چھو گئی.
مجھے وہ زمین چاہیے بھی نہیں. میں نے کون سا وہاں اپنا مزار تعمیر کروانا ہے. جو مجھے اتنی زمین چاہیے. حیات کا لہجہ تلخ بھرا تھا.
ٹھیک ہے پھر بولو کیا چاہیے….؟؟ ڈی ایم نے اب کی بار کھلے دل سے آفر دی.
آپ نے کہہ دیا ہے تو مجھے اعتبار آگیا ہے. بہت دیر ہو رہی ہے. میرے خیال سے اگر آپ نے کوئی رسم کرنی ہے تو کر لیں اور اگر صرف اپنے مہمانوں کو انفارم کرنا چاہتے ہیں. تو وہ بھی کر دیں. حیات نے صوفے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنا موبائل نکالا. حیات کے جواب پر جہاں باقی سب حیران تھے وہیں حدید بھی شدید حیرت میں ڈوبا ہوا تھا.
جب وہ آپ کو خود آفر دے رہے ہیں تو آپ بولتے کیوں نہیں. مانگتے کیوں نہیں کہ آپ کو کیا چاہیے….،؟ حدید نے نہ چاہتے ہوئے بھی میسج ٹائپ کیا.
مجھے فی الحال کچھ نہیں چاہیے سوائے “سکون” کے _
میسج کا جواب دیتے حیات اپنا موبائل استعمال کرنے لگا جب کہ رانا صاحب نے کھانا لگانے کا اشارہ دیا.
آپ نے مجھے بہت مایوس کیا ہے. میں نے آپ کی بہت تعریفیں سنی تھی. لیکن آپ تو اتنی اسانی سے مان گے. اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو دلہن لے کر گھر جاتا. حارث نے حیات کے پہلو میں بیٹھنے ہوئے کہا تو حیات مسکرانے لگا.
بے فکر ہو دلہن لے کر ہی جاؤں گا. تمہارے لیے نہیں چھوڑتا. حیات کے جواب پر حارث کی سٹی گم ہو گئی اور وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا.
یہ دونوں آپس میں کیا باتیں کر رہے ہی. ں ٹیرس سے لان میں دیکھتے ہوئے حرا نے حمنہ سے پوچھا
مجھے کیا پتا…..؟؟ حمنہ نے کندھے اچکائے
💰💰💰💰💰