No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
آپ لوگوں نے جو میرے ساتھ کیا ہے. وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا اور یہ مت سمجھیں کہ میں ہمیشہ چھوٹا ہی رہوں گا. میں بڑا ہو کر سب سے پہلے آپ سے بدلہ لوں گا. حیات نے بڑے سے لان میں کھڑے ہو کر کہا
آپ کیوں اس کی بکواس سن رہے ہیں. اسے دھکے دے کر کیوں نہیں نکال دیتے…..؟؟
چار دن فٹ پاتھ پر سوئے گا. تو عقل جگہ پر آ جائے گی. یہاں پیٹ بھر کے کھانا ملتا ہے. گرم بستر میں سوتا ہے. اس لیے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے. نتاشا بیگم نے حقارت سے کہتے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا
میرا کوئی دماغ خراب نہیں ہوا بلکہ آپ لوگوں کی نیت خراب ہو گئی ہے. اور دو وقت کی روٹی دے کر آپ مجھ پر احسان نہیں کرتے.
ان تمام چیزوں کے بدلے آپ نے میرے باپ کی جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے. حیات آج بےقابو تھا.
دیکھا یہ کس طرح بات کر رہا ہے. آپ کچھ بولتے کیوں نہیں. ایک دفعہ پھر نتاشا کی آواز گونجی.
میں یہ گھر چھوڑ کے جا رہا ہوں. اور یہ مت سمجھنا کہ میں کوئی چور اُچکا بن جاؤں گا. بلکہ میں ایک بااثر فرد بن کے دکھاؤں گا. پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ ایک یتیم اور مسکین بچہ کیا کچھ کر سکتا ہے……؟؟ حیات کی دھمکی پر نتاشا بیگم مسکرائیں.
یہ اصل زندگی ہے کوئی فلم یا ناول کی سٹوری نہیں کہ تم یہاں سے نکلو گے تو بہت امیر کبیر شخص بن کر چند سال بعد ہمیں ملو گے. مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں سے نکلنے کے بعد چند دنوں کے اندر اندر تم ایک لاش میں تبدیل ہو جاؤ گے. جیسے ہی نتاشا بیگم نے یہ جملہ ادا کیا ڈی ایم نے اسے سختی سے روکا.
بس کرو _ کیا تماشا لگا رکھا ہے. جینا حرام کر دیا ہے. ڈی ایم نے خشگمین نظروں سے نتاشا بیگم کو گھورا. یہ عورت آپ کے قابو نہیں حالانکہ آپ اس پر اختیار رکھتے ہیں. جس پر آپ اختیار نہیں رکھتے تھے اسے قابو کر رکھا تھا. حیات نے دکھ سے سر نفی میں ہلایا. میں یہ گھر وقتی طور پر چھوڑ کر جا رہا ہوں مگر لوٹ کر جلد آؤں گا. حیات غصے سے کہتا ہوا اندر بڑھنے لگا. خبردار جو گھر میں ایک قدم بھی رکھا. نتاشا بیگم نے حیات کا راستہ روکا. میں اپنا سامان لینے جا رہا ہوں اور اس سے آپ مجھے روک نہیں سکتیں. حیات نے ایک جتلاتی ہوئی نظر ڈی ایم پر ڈالتے ہوئے کہا اپنے بھائی کو بھی ساتھ لیتے جانا. تم دو ٹائم اس کا دودھ پورا نہیں کر سکتے. جب وہ تمہاری ماں کی طرح بلک بلک مرے گا تب پتہ چلے گا کہ ہمارے تم پر اور تمہارے خاندان پر کتنے احسان ہیں. تتاشہ بیگم نے حیات کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا تو حیات کی نظر لاؤنچ میں کھیلتے ہوئے حمنہ اور حدید پر پڑی. میں کیوں اس کو لے کر جاؤں. جب اس کی ماں کی جائیداد پر آپ لوگ عیاشی کر رہے ہیں. تو یہ نہیں پل سکتا. حیات نے مڑ کر جواب دیا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا آپ اس لڑکے کا کوئی بندوبست کیوں نہیں کرتے. اب کی بار نتاشہ بیگم نے چیختے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا تم کیوں خواہ مخواہ ایک آٹھویں کلاس کے بچے سے ٹکر لیتی ہو. وہ تو بے وقوف ہے مگر تم بھی بن جاتی ہو. ڈی ایم نے بریف کیس سائیڈ پر رکھتے ہوئے ٹائی کی نوٹ ڈیلی کی اور کف کے بٹن کھولنے لگے. یہ سب آپ کے ناجائز لاڈ پیار کا نتیجہ ہے. نتاشا بیگم نے غصے سے کہتے ہوئے حمنہ کو اٹھایا اور اپنے روم کی طرف چل دی. حیات نے آنکھوں کو دباتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا. پتہ نہیں کیوں ماضی کی تلخ یادیں آج بھی مجھے اتنا ہی دکھ دیتی ہیں. جتنا اس وقت ہوا تھا. چھوڑوں گا تو میں کسی کو بھی نہیں اتنا وقت میں نے اسی لیے برباد کیا ہے. میں ڈی ایم کے گرد گھیرا بہت تنگ کر دوں گا.
چھوٹے رانا خاور صاحب اپنے بیٹے اور بڑے رانا تنویر صاحب اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے کچھ تو کریں گے. کچھ ایسا جس سے ڈی ایم شکنجے میں آسانی سے آ جائیں. بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے میری بیوہ ماں کو اپنے شکنجے میں لیا تھا. حیات نے سوچتے ہوئے بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگائی.
حمنہ کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے. پیاری ہے اور حدید ساتھ تو اور بھی پیاری لگتی ہے. ماں کی شروع سے خواہش تھی کہ حمنہ اس کی بہو بنی اور میں ماں کی خواہش کا بہت احترام کرتا ہوں. حیات نے سوچتے ہوئے مسکرا کر سامنے لگی تصویر کو دیکھا جس میں ایک خوبصورت عورت تین بچوں ساتھ خوش نظر آ رہی تھی.
اچھے خاصے ہم خوشگوار زندگی گزار رہے تھے کہ پھر وہ منحوس عورت ہماری زندگی میں آ گئی اور صرف خود نہیں بلکہ حارث کو بھی لے آئی. اچانک حیات کے چہرے کے زاویے بدلے جیسے منہ میں کوئی کچھ بد ذائقہ چیز آ گئی ہو.
ڈی ایم کے بڑے سپوٹر رانا گروپ آف انڈسٹریز کے مالک تو امید ہے کہ اب ڈی ایم کےو سپورٹ نہیں کریں گے. بے دلی سے لحاف پیچھے ہٹاتے ہوئے حیات بیڈ سے نیچے اترا. رانا صاحب کا ذکر کرتے ہی حیات کو حرا کا خیال آیا.
حرا بی بی!! تم تو مفت میں ماری گئی. تمہیں کس نے کہا تھا ہماری لڑائی میں کودنے کو _ حیات نے ہمدردی سے کہتے ہوئے مرر میں اپنی شکل دیکھی اور واش روم کی طرف بڑھ گیا. 💰💰💰💰💰 تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ وہ فرزانہ کا بیٹا ہے…..؟؟ رانا صاحب نے دبا دبا سا چیختے ہوئے ڈی ایم سے پوچھا مجھے بھی اسی دن تھانے میں معلوم ہوا تھا. اس سے پہلے میں یہ بات نہیں جانتا تھا. ڈی ایم نے سر جھکاتے ہوئے اقرار کیا. تم جانتے ہو کہ وہ اب کتنا خطرناک بن چکا ہے. ہر بدمعاش سے اس کے تعلقات ہیں. اعلیٰ افسروں سے بھی اس کی اچھی بنتی ہے. کوئی الٹا کام ایسا نہیں ہے جو وہ صفائی سے نہیں کرتا. یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ ایک کرپٹ پولیس افسر ہے مگر کوئی اس پہ ہاتھ نہیں ڈالتا کیونکہ سب کے گھر راشن پانی پورا پہنچتا ہے. رانا صاحب نے اپنے طور پر ڈی ایم کی معلومات میں اضافہ کیا. میں یہ تمام باتیں تم سے بہتر اور پہلے سے جانتا ہوں مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ فرزانہ کا بیٹا ہے. ڈی ایم نے اپنا سر پیچھے صوفے پر گراتے ہوئے کہا تمہیں کم از کم یہ بات مجھ سے تو شیئر کرنی چاہیے تھی. تم جانتے ہو کہ اس نے مجھے کیا آپشن دی ہے…..؟؟ اب کی بار رانا صاحب نے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ڈی ایم نے گردن سیدھی کرتے سوالیہ نظروں سے رانا صاحب کو دیکھا وہ چاہتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دوں یا پھر تمہارے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جاؤں. رانا صاحب کی بات پر ڈی ایم کے چہرے پر ایک زخمی مسکراہٹ آئی. پھر تم نے کیا فیصلہ کیا ہے….؟؟ رانا صاحب نے ڈی ایم کے سوال پر سر نفی میں ہلایا وہ تمہارے ساتھ ساتھ مجھے بھی نہیں چھوڑے گا. اس لیے میرے ذہن میں فی الحال صرف ایک ہی پلان چل رہا ہے کہ میں وقتی طور پر اپنی بیٹی کی اس ساتھ منگنی کر دیتا ہوں. پھر میں اپنی اور حرا کی سیٹ بک کروانے تک اسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر رکھتا ہوں. جیسے ہی ہم دونوں یہ ملک چھوڑ کر جائیں گے تو قصہ بھی ساتھ ہی ختم ہو جائے گا. اپنے طور پہ رانا صاحب نے بات ختم کرتے ہاتھ جھاڑے. تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہیں اتنی آسانی سے ملک سے باہر جانے دے گا. ڈی ایم کے سوال پر رانا صاحب نے گھورتے ہوئے کہا اب اتنا بھی جیمز بانڈ کا رشتہ دار نہیں ہے. میں خاموشی سے نکل جاؤں گا اور اسے خبر بھی نہیں ہوگی. وہ ہمارے ہی ہاتھوں میں پل بھر کر جوان ہوا ہے اور گھر کے بچے کے دانت گنے ہوتے ہیں. رانا صاحب کی بات پر ڈی ایم سر ہلانے لگے میرے خیال سے مجھے کچھ دنوں کے لیے ہسپتال کی تعمیر روک دینی چاہیے. کیا پتہ کب این او سی لے آئے. برے وقت کا پتہ نہیں چلتا. ڈی ایم کی بات پہ رانا صاحب نے اسے تمسخرانا نظروں سے دیکھا بڑی جلدی ڈر گئے ہو رانا صاحب مسکرائے.
ڈرا نہیں صرف احتیاط کر رہا ہوں. میں نے بھی تمہاری طرح ابھی ابھی فیصلہ کیا ہے کہ حارث اور حمنہ کو ملک سے باہر بھیج دوں. میری خیر ہے. وہ لاکھ کوشش بھی کرے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ اس کے پاس ثبوت نہیں ہے. وہ صرف اندازوں سے کام لے رہا ہے. ڈی ایم کی بات پر رانا صاحب نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
تمہیں اس بات کا پکا یقین ہے کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں. جب کہ تم نے گھر میں ہی ایک “سانپ” پال رکھا ہے. جیسے ہی رانا صاحب کے منہ سے یہ جملہ نکلا ڈی ایم کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور وہ ہکا بکا رانا صاحب کو دیکھنے لگے.
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں. تو نے اپنی قبر خود کھودی ہے. حدید کو گھر میں رکھ کر تجھے حیات کے ساتھ ہی اسے گھر سے نکال دینا چاہیے تھا. رانا صاحب کی بات پر ڈی ایم کا رنگ بالکل پھیکا پڑ گیا جیسے کسی نے انھیں موت کا پروانہ تھما دیا ہو. نہیں حدید میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا. ڈی ایم کو اپنی آواز کسی کھائی میں سے آتی ہوئی سنائی دی. وہ حیات کا بھائی ہے. فرزانہ کا بیٹا، تو یہ بھول رہا ہے. رانا صاحب کی یاد دہانی پر ڈی ایم کھڑے ہوئے مگر ان کے بدن میں واضح کپکپاہٹ تھی. حدید میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتا. وہ میرے سامنے آنکھ بھی نہیں اٹھاتا. وہ کبھی میرے خلاف نہیں جا سکتا. ڈی ایم پتہ نہیں خود کو تسلی دے رہے تھے یا رانا صاحب کی بات کی تردید کرنا مقصود تھا مگر ان کے الفاظ ان کی باڈی لینگویج کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے. 💰💰💰💰💰 بس بھی کر، اب اتنا غصہ کیوں کر رہی ہے…..؟؟ حمنہ نے حرا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اسے محبت سے دبایا. میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گی. یہ دو ٹکے کا پولیس والا اپنی آپ کو سمجھتا کیا ہے. اوقات کیا ہے اس کی اس جیسے کئی میرے بابا کے پیچھے ہاتھ جوڑ کے چلتے ہیں. حرا نے انتہائی غصے سے کہتے ہوئے پاس پڑے شو پیس کو اٹھا کر زمین پر مارا. جس سے وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا.
تم نے اپنے کمرے کی حالت بگاڑ دی ہے. دیکھو جگہ جگہ گند پھیلا پڑا ہے. حمنہ نے ایک نظر بے ترتیب کمرے کو دیکھتے ہوئے کہا
میرا بس نہیں چل رہا کہ میں جا کےر اس کا سر پھاڑ دوں. باتیں کیسی کرتا ہے. جیسے خود بڑا شریف ہو. حرا نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا.
اچھا ناااااا بس کرو اور چائے پیئو. اگر کہتی ہو تو جوس بنوا دیتی ہوں. اس طرح غصہ کرنے سے تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی. حمنہ نے ایک بار پھر تسلی دینے کی کوشش کی.
سوری مجھے تم پہ غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا مگر میرا دماغ کام نہیں کر رہا. حرا کو اچانک اپنے رویے کا احساس ہوا.
کوئی بات نہیں مگر مجھے حدید کے سامنے تمہارا یوں بولنا واقعی برا لگا تھا. خیر حمنہ نے سر جھکاتے ہوتے کہا اور وہ کیا کہہ رہا تھا. تمہارے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہ تم بہت جلدی بڑی ہو گئی ہو یا جلدی وقت گزر گیا ہے. اس بات کا کیا مطلب _ حرا کو حمنہ کے سر جھکانے پر ہسپتال والا سین یاد آیا. اس بات پر تو مجھے بھی حیرت ہے کہ اس دن مجھے ایسا کیوں بولا یا میرے ساتھ اس نے ایسا کیوں کیا….؟؟ حمنہ نے ناسمجھی سے حرا کی طرف دیکھا بہت ہی کوئی شاطر انسان ہے. حرا نے کہتے ہوئے اپنے آس پاس موبائل کو ڈھونڈا. جو اسے سائیڈ ٹیبل پر پڑا مل گیا. اب تم کیا کرنے لگی ہو….؟؟ حمنہ نے حرا کے ہاتھ سے موبائل چھیننے کی ناکام کوشش کی. میں اس کمینے پولیس والے کو میسج کرنے لگی ہوں. حرا نے کہتے ہیں ہوئے ڈائلنگ پیڈ کھولا تو حمنہ نے اس سے موبائل چھین لیا تمہارا تو سچ مچ دماغ خراب ہو گیا ہے. بار بار وہ ہمیں بخشے گا نہیں. حمنہ نے اسے ڈرانا چاہا اسے تو اب اللہ ہی بخشے گا کیونکہ میں بخشنے والی نہیں. حرا نے دوبارہ اس کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے اس کا نمبر ڈائل کیا جب کہ حمنہ اسے مسلسل روک رہی تھی. اس کی قسمت اچھی ہے کہ اس نے فون نہیں اٹھایا. حرا نے فون بند کرتے ہوئے بستر پر پھینکا اس کی قسمت کا پتہ نہیں لیکن ہماری قسمت واقعی ہی اچھی ہے کہ اس نے فون نہیں اٹھایا. حمنہ نے تشکر بھری نظروں سے حرا کو دیکھا تو وہ ناراضگی سے رخ موڑ گئی. 💰💰💰💰💰 تم یہاں اتنی سردی میں بیٹھی کیا کر رہی ہو….؟؟ حدید جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا حمنہ کو یوں اکیلا لان کی سیڑھیوں پر بیٹھا دیکھ کر رک گیا. مجھے سردی نہیں لگ رہی. حمنہ نے روٹھے سے لہجے میں جواب دیا. تو حدید مسکراتا ہوا اس کے قریب ہی کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا. کیا بات ہے حارث ساتھ لڑائی ہو گئی ہے یا ابھی تک حرا میڈم تم سے ناراض ہیں…..؟؟ حدید نے ہمیشہ کی طرح بہت نرمی اور پیار سے پوچھا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ دوسروں کی زندگی میں خواہ مخواہ مداخلت کیوں کرتے ہیں….،؟ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے حمنہ نے اپنا رخ حدید کی طرف موڑا. کس نے تمہاری زندگی میں مداخلت کی ہے……،؟ حدید کے پوچھنے پر حمنہ سامنے لان میں دیکھنے لگی بتاؤ نا کس نے تمہیں تنگ کیا ہے….،؟ حدید کے نے دوبارہ زور دیتے ہوئے پوچھا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایس پی حیات ساتھ کیا مسئلہ ہے….؟؟ حمنہ کی بات پر حدید گہرا سانس لیتا اپنا سر کھجانے لگا ہو سکتا ہے کہ ایس پی حیات کی بھی تم لوگوں کے بارے میں یہی رائے ہو. حدید کے جواب پہ حمنہ اسے گھورنے لگی. میرا مطلب ہے کہ تم میں سے بھی شاید کسی نے اسے بہت ستایا ہو…..؟؟ ہم میں سے ہم اسے کیسے ستا سکتے ہیں….؟؟ حمنہ نے اپنے سینے پہ انگلی رکھتے ہوئے پوچھا
ہم میں سے مراد ہے کہ ہم میں سے یعنی اس پورے گھر میں جتنے بھی افراد رہتے ہیں ان میں سے حدیدصاف صاف ڈی ایم کا نام تو نہیں لے سکتا تھا لہٰذا بات کو گھمانے پھرانے لگا
سیدھی طرح بولو نا مجھے تمہارا یہ میڈیکل نسخہ سمجھ نہیں آ رہا. حمنہ کی معصومیت پر حدید مسکرا دیا.
تمہیں تو کچھ بھی سمجھ نہیں آتا. آج کتنے دن ہو گئے ہیں اور تم پڑھنے بھی نہیں آئی. حدید کو اچانک اس کے تعلیمی حرج کا احساس ہوا.
میرا پڑھنے کو بالکل دل نہیں کرتا. حمنہ منہ بناتے ہوئے بتانے لگی جیسے کوئی نئی بات ہو.
تم بہت نالائق ہو کچھ دیر بعد حدید نے کہا تو حمنہ کا موڈ مزید بگڑ گیا.
میں نالائق نہیں ہوں. بس میری تعلیم میں دلچسپی نہیں ہے. ہر بندے کی اپنی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور تعلیم میری فیلڈ نہیں. حمنہ کی بات پر حدید نے اسے حیرانگی سے دیکھا
پھر تمہاری فیلڈ کیا ہے….؟؟
میری فیلڈ ہے “بدلہ بدلہ” لینا میری فیلڈ ہے. حمنہ نے پتہ نہیں کس سینس میں یہ بات کی مگر حدید نے اسے بہت غور سے دیکھا. کیا ہوا تم کیوں اس طرح گھور رہے ہو…؟؟ حمنہ نے مسکراتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جب کہ اس کے ذہن پر بہت سے منظر ایک ساتھ لہرانے لگے سیریسلی _حدید بےیقین تھا. جب کہ اس کی بات پر حمنہ ہنستی چلی گئی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
