Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

تم خواہ مخواہ ٹینشن لے رہے ہو. وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گا. وہ اتنا گرا ہوا انسان نہیں ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ بد سلوکی کرے. ہاں اگر کچھ کرے گا بھی تو صرف تمہیں دکھانے کے لیے، تمہیں تکلیف پہنچانے کے لیے مگر تم میرا یقین کرو وہ حرا کو کوئی تکلیف نہیں دے گا. ڈی ایم نے کوئی دسویں بار رانا صاحب کو تسلی دیتے ہوئے یہ جملہ دہرایا جبکہ رانا صاحب گردن جھکائے بالکل خاموش بیٹھے تھے.
تم کچھ بولتے کیوں نہیں، تمہیں میری بات بے اعتبار کیوں نہیں آ رہا ہے. میں نے کہا نا کہ وہ حرا ساتھ کچھ غلط نہیں کرے گا. حرا صرف تمہاری نہیں بلکہ میری بھی بیٹی ہے. میں نے کبھی حرا اور حمنہ میں فرق نہیں کیا. رانا صاحب کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ڈی ایم نے ان کا کندھا ہلایا.
تم اس بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے. اگر حیات نے حرا کو سب سچ بتا دیا تو _ اگر میرے ماضی کے بارے میں حرا کو پتہ چل گیا تو کیا وہ مجھے معاف کر دے گی…….؟؟
میں حرا کی نظروں میں نہیں گرنا چاہتا. اس طرح تو میری ساری زندگی کی محنت ضائع ہو جائے گی. میری زندگی برباد ہو جائے گی. میں اپنی بیٹی کو کھونا نہیں چاہتا. بالآخر رانا صاحب نے لال سرخ ہوتی انکھوں سے ڈی ایم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر نفی میں ہلانے لگے.
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو. آج کل کے بچے بہت پریکٹیکل ہیں. میں نہیں مانتا کہ حرا اس کی بات میں آ جائے گی. وہ میرے خلاف کوئی لفظ نہیں سنتی تم تو پھر اس کے باپ ہو. میرا دل نہیں مانتا کہ وہ حیات کی کسی بھی بات پر ایمان لائے گی. میری مانو تو کچھ تھوڑا سا کھا لو. تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا. میرا بھی سر اب چکرانے لگا ہے. ڈی ایم نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے رانا صاحب سے کہا تو وہ اپنی کنپٹی دبانے لگے.
پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے. میں کیا کروں اگر تم کہو تو میں اس کو فون کر لوں. رانا صاحب نے کہتے ہوئے اپنا فون آن کیا.
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ہے. کیا بے وقوفی کر رہے ہو. وقت دیکھا ہے. کیا ہو رہا ہے….؟؟ ڈی ایم نے رانا صاحب کو ڈانٹتے ہوئے ان کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور دور کھڑے ملازم کو کھانا لانے کا اشارہ کیا.
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں کیا کچھ ہو گیا ہے….،؟ حارث نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا
یقین تو مجھے بھی نہیں آ رہا ہے. حدید نے گہرا سانس لیتے ہوئے زیر لب دہرایا.
چلو جو بھی ہے. اچھا ہی ہے. جان چھوٹی ہر وقت ہمارے گھر میں ہی پائی جاتی تھی. اچھی خاصی میری معصوم سی بہن تھی. اس کو بھی اپنے جیسا بنا لیا لڑاکا حارث نے کہتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جب کہ حدید دور بیٹھی حمنہ کو دیکھ رہا تھا. فی الحال اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو. اس کو اس وقت چھیڑنا بالکل ایسا ہے جیسے 1980 کی دہائی میں بننے والی شبنم کی کوئی فلم دیکھنا. نہ فلم ختم ہوتی ہے نہ شبنم میڈم کا رونا حارث نے کہتے ہوئے ہلکا سا قہقہ لگایا.
حیرت ہے تمہیں اپنی بہن کی کوئی فکر نہیں ہے. حدید کو افسوس ہوا.
اس معاشرے کا یہی المیہ ہے. ہمیں اپنی بہن سے زیادہ دوسروں کی فکر کھائے جا رہی ہوتی ہے. یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ترقی نہیں کر رہی. حارث کے جواب پہ حدید نے اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو وہ ہاتھ پکڑتا مسکرانے لگا.
ٹینشن نہ لو کچھ دیر میں وہ خود ہی نارمل ہو جائے گی. اب کی بار حارث نے بھی ایک نظر حمنہ پر ڈالی.
تو کس قسم کا بھائی ہے ……؟؟ حدید نے طنز کیا.
یہ بات تو کہہ رہا ہے جیسے تو جانتا نہیں کہ وہ کس قسم کی بہن ہے…..؟؟ حارث نے بھی حدید کی نقل اتارتے جواب دیا.
جو بھی ہے خاصہ عجیب ہے. مجھے تم دونوں پر ہی حیرت ہے. میں نے اس طرح کے بہن بھائی اپنی ساری زندگی میں نہیں دیکھے. حدید نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے دوبارہ حمنہ کی طرف دیکھا
چلو شکر ہے کہ تو نے دیکھ لیے. اس پہ تو تجھے شکر ادا کرنا چاہیے بلکہ فخر زیادہ مناسب لفظ رہے گا. اب تو چار لوگوں میں بیٹھ کے بتا سکتا ہے کہ میں نے اس طرح کے بہن بھائی دیکھے ہیں. یہ کہتا ہوا حارث اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا.
اب تو کہاں چل دیا…. ؟؟ حارث کو یوں اٹھتے دیکھ کر حدید نے پوچھا
یہ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے اتنا بڑا بھاشن دیا ہے. تو میرے اندر کا سویا ہوا بھائی جاگ گیا ہے. حارث کہتا ہوا حمنہ کی طرف چل دیا.
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ بھائی کیا کر رہے ہیں اور کیوں اپنی شادی کا مجھے بتایا تک نہیں. کم از کم مشورہ ہی لے لیتے. پوچھ ہی لیتے مجھ سے، مگر نہیں جب دل کیا منہ اٹھا کے شادی کر لی. ایسے ہوتی ہے شادی….،؟ حدید نے کہتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا جہاں تارے اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہے تھے. اتنے افسردہ تو رانا صاحب نہیں ہیں. جتنی تم ہو. حارث نے حمنہ کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے حارث کو دیکھنے لگی. یوں کیوں دیکھ رہی ہو…؟؟ حمنہ کے خاموشی سے دیکھنے پر حارث کو تشویش ہوئی. مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ایس پی حیات نے اس دن ہسپتال میں بھی میرے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور آج بھی مجھے جاتے ہوئے پیسے دے گئے. حمنہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے نوٹ حارث کے آگے کی. ے تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں. یہ کب ہوا…..؟؟ حارث کے پوچھنے پر حمنہ نے ساری بات اسے بتا دی. آخر ایس پی حیات مجھ سے اتنے پیار اور نرمی سے کیوں بات کرتے ہیں. میرا ان کا کیا رشتہ ہے……؟؟ وہ ہمیشہ مجھ سے ایسے بات کرتے ہیں. جیسے وہ مجھے بہت پہلے یا بچپن سے جانتے ہوں. حمنہ نے کھوئے سے لہجے میں کہا اچھا تو تم اس لیے پریشان ہو. پاگل لڑکی میں سمجھیا تمہیں حرا کا دکھ کھائے جا رہا ہے. حارث کہتا ہوا ہنسنے لگا اس کی بھی ٹینشن ہے. پتہ نہیں کیا کر رہی ہوگی…..؟؟ حارث کی بات پر حمنہ مزید اداس ہو گئی. کرنا کیا ہے. حیات صاحب اپنی آخری سانسیں گن رہے ہوں گے. مجھے تو لگتا ہے صبح کے اخبار میں سرخی لگے گی. “ایس پی حیات اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے”. جیسے ہی حارث نے یہ جملہ ادا کیا حمنہ نے جھرجھری لی. کتنا فضول بکتے ہو. حمنہ نے کہتے ہوئے ایک زوردار مکا حارث کی کمر پہ رسید کیا تو دونوں ہنسنے لگے. یہ بہن بھائی بھی عجیب ہیں. دور بیٹھے حدید نے دونوں پر تبصرہ کیا. 💰💰💰💰💰 میں آپ سے ناراض ہوں. مجھے اس بات پر شدید غصہ ہے کہ آپ خواہ مخواہ اس کی ہمدردی اور حمایت کر رہیں ہیں. میں چاہتی ہوں کہ رانا صاحب اس کا برا حشر کریں. آپ بھول گئے ہیں کہ اس نے آپ ساتھ کیا سلوک کیا تھا. آپ کو اس کی ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے. پتہ نہیں کیوں
اس کی سائیڈ لیتے پھر رہے ہیں.
پتہ تب چلے گا جب وہ آپ کو کورٹ کچہری میں گھسیٹے گا. ڈی ایم نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا نتاشا بیگم ان پر پھٹ پڑیں.
میں بہت تھکا ہوا ہوں. آرام کرنا چاہتا ہوں. پلیز خاموش ہو جاؤ یا مجھے اکیلا چھوڑ دو. ڈی ایم نے تھکے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
آپ سب کچھ اتنی آسانی سے کیسے بھول سکتے ہیں. مجھے سمجھ نہیں آتی. ایسا اس میں کیا ہے. جب بھی اسے دیکھتے ہیں. آپ کی حالت خراب ہو جاتی ہے. آپ کی حالت خراب ہو جاتی ہے.
آپ پہلے بھی ایسے ہی تھے. اس کے سامنے آپ کو میری بھی کوئی اوقات نہیں لگتی.نتاشا بیگم کے بولنے پر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں چپ رہنے کا کہا
آپ کی اہمیت ہے تبھی آپ اس گھر میں اپنے بیٹے ساتھ موجود ہیں. اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتی ہیں کہ وہ اس گھر میں موجود نہیں حالانکہ وہ اس گھر پر حق رکھتا ہے. ڈی ایم کے جواب نے نتاشہ بیگم کے غصے کو اور ہوا دی.
ٹھیک ہے پھر آپ اسے رکھ لیتے ہیں. مجھے اور میرے بیٹے کو گھر سے نکال دیتے. بڑے افسوس کی بات ہے آج آپ نے بالآخر طعنہ دے ہی دیا کہ حارث صرف میرا بیٹا ہے. نتاشہ بیگم کہتے ہوئے پلٹتے لگی تبھی ڈی ایم نے تیزی سے ان کا ہاتھ پکڑا
میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا. جو آپ سمجھیں ہیں. میں نے آج تک حارث اور حمنہ میں کوئی فرق نہیں کیا مگر آپ اس بات کو سمجھتی کیوں نہیں کہ وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہے. ہم جو مرضی کر لیں. جو چیز اس کی ہے وہ اسی کی ہے.
اب وہ پہلے کی طرح چھوٹا اور کمزور نہیں رہا. اب ہم کمزور ہیں کیونکہ ہم بوڑھے ہو گئے ہیں. وہ طاقتور ہے کیونکہ وہ جوان ہے اور اس کی خوش قسمتی کہیے یا ہماری بد نصیبی مگر وہ ایک بہت اچھی پوسٹ پر ہے. اس بات کو آپ بھی مان لیں.
میں نے اسی لیے رانا صاحب کو حرا کی شادی حیات سے کرنے دی تاکہ معاملہ رفع دفع ہو جائے. اتنا تو مجھے یقین ہے کہ وہ حرا کو پریشان نہیں کرے گا کیونکہ اس کی تربیت ایسی نہیں ہوئی. وہ ایک بہت اچھی ماں کا بیٹا ہے. جیسے ہی ڈی ایم نے یہ جملہ ادا کیا نتاشہ بیگم نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا.
آپ کا مطلب ہے کہ وہ بہت اچھی ماں کا بیٹا ہے اور حارث گندی ماں کا _ آپ کے دل میں ابھی بھی اس کی ماں کے لیے ایک نرم گوشہ ہے. نتاشہ بیگم کی بات پہ ڈی ایم نے بڑی مشکل سے اپنے اوپر ضبط کا بند باندھا. پرانی باتوں کو ہوا نہ دیں.ایسا کرنے سے آپ اپنے اور میرے سر میں خاک ہی ڈالیں گی. لوگ ہم پر ہنسیں گے. بہتر ہوگا کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر چلے جائیں. ڈی ایم کے کہنے پہ نتاشہ بیگم پاؤں پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ پیچھے ڈی ایم کے چہرے پر ان گنت شکنیں نمودار ہوئیں. میں کیسے بھول سکتا ہوں. میں بھول ہی نہیں سکتا. وہ بھولنے والی باتیں ہی نہیں ہیں. نہ وہ عورت نہ اس کا بیٹا اور نہ وہ سب ڈی ایم نے زیر لب دہراتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ٹیبلٹس نکالی اور پانی کے ساتھ لینے لگے.
اس دن سے آج تک میں کبھی سکون سے نہیں سویا. میں نے اسی لیے حدید کو پالا ہے تاکہ میں اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کر سکوں. ڈی ایم نے کہتے ہوئے تکیہ سیدھا کیا.
(ماضی……..)
دیکھ یار اگر تو اپنی بھابھی کی شادی میرے ساتھ کرا دے. تو میں تیرے بزنس میں تیرا بہت ساتھ دوں گا. یقین مان تو چند دنوں کے اندر اندر اس شہر کے نامی گرامی بزنس مین بن جائے گا. مگر شرط وہی ہے کہ تجھے اپنی بھابی کی شادی مجھ سے کرانا ہو گی. رانا صاحب کی بات پر ڈی ایم خاموشی سے ان کی شکل دیکھنے لگا.
مگر وہ مانیں گی نہیں. وہ تو شہر صرف اپنے بچوں کی خاطر آئیں ہیں اور میں نے انہیں ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ میں نے ان کی گاؤں والی زمین بیچ دی ہے. ڈی ایم کی بات پہ رانا صاحب پھیکا سا مسکرائے.
تو جن بچوں سے وہ بہت پیار کرتیں ہیں. انھیں لے کر ہی بلیک میل کرو کیونکہ میرا دل تمہاری بھابھی پر آ گیا ہے. میں نے اج تک اتنی خوبصورت بیوہ نہیں دیکھی. رانا صاحب نے آنکھ مارتے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا
یار میں تیری شادی ان سے کرا تو دوں مگر تیرا دل عورتوں سے بہت جلدی بھر جاتا ہے. آگے ہی تو دو دفعہ اپنی بیویوں کو طلاق دے چکا ہے. تیرا ریکارڈ اتنا اچھا نہیں ہے. ڈی ایم کے جواب ہر رانا صاحب نے قہقہہ لگایا
ہاں ایسا تو ہے مگر ضروری نہیں کہ اس بار بھی ایسا ہو. مجھے لگتا ہے کہ اس بار مجھے واقعی تیری بھابی پسند آگئی ہے. رانا صاحب کی بات نے پہ ڈیم نے سر ہلایا
کوئی بہت بڑا پلان بنانا پڑے گا. ایسے تو وہ نہیں مانے گی. دوسرا نتاشہ بیگم بھی انہیں پسند نہیں کرتیں تو میں خود بھی چاہتا ہوں کہ وہ اس گھر سے چلی جائیں. ڈی ایم نے سرگوشی نما آواز میں جواب دیا.
پھر تو تجھے میری آفر ضرور قبول کر لینی چاہیے کیونکہ اس طرح تجھے بزنس میں سپورٹ بھی ملے گی اور تیرے گھر میں بھی سکون ہو جائے گا. رانا صاحب کی آفر پر ڈی ایم بہت سنجیدگی سے لان میں کھیلتے ہوئے حدید اور حمنہ کو دیکھنے لگے.
💰💰💰💰💰
کمرے میں ہوتی ہلکی پھلکی کھٹ پٹ سے حرا کی آنکھ کھلی. ایک تو تھکاوٹ تھی دوسرا رات دیر تک وہ حیات ساتھ بحث کرتی رہی تھی. اس لیے وہ کب سوئی. اسے خود بھی پتہ نہیں چلا.
لیکن آنکھ کھلتی ہی جو پہلا منظر اس نے دیکھا وہ یہ تھا کہ حیات یونیفارم پہنے مرر میں بال بنا رہا تھا.
تم اٹھ گئیں……؟؟ حیات کا انداز سوالیہ تھا.
نظر کمزور ہے. فی الحال تو میں لیٹی ہوئی ہوں. حرا کے جواب پر حیات خاموشی سے بال بنانے لگا
اگر اٹھ گئی ہو تو نیچے جا کر ناشتہ کر لینا. ویسے تو مجھے تم سے امید نہیں ہے لیکن پھر بھی میرے آنے تک اپنا ٹی وی سٹیشن بند ہی رکھنا کسی طرح کا کوئی ڈرامہ آن ائیر مت کرنا. میرے ملازم اس چیز کے عادی نہیں ہیں. حیات نے جتلاتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے اپنا وائلٹ اور موبائل اٹھایا
اٹھنے اور جاگنے میں فرق ہوتا ہے. فی الحال میں صرف جاگی ہوں. اٹھی نہیں اور دوسرا تم شرط کی خلاف ورزی کر رہے ہو. حرا نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا تو حیات چیزیں اٹھاتا پلٹا
خلاف ورزی _
حیات کا لہجہ عجیب سا تھا. وہ لفظ دہراتا دروازے کی طرف بڑھا تو حرا سر نفی میں ہلاتی دوبارہ لیٹ گئی.
مجھے خیال آیا کہ تمہاری اس گھر میں پہلی صبح ہے. تمہیں کوئی سرپرائز تو دینا ہی چاہیے. حیات کی آواز اپنے قریب محسوس کرتے حرا نے لحاف نیچے کیا. تو حیات کو اپنی طرف دیکھتے پایا.
تمھارا پورا وجود ہی میرے لیے ایک سرپرائز ہے مگر خوشگوار نہیں. حرا جواب دیتی دوبارہ اپنے اوپر لحاف کرنے لگی جب حیات نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
میرے پاس کچھ ہے تمہیں دکھانے کے لیے، جو میں نے نیچے ٹیبل پر رکھ دیا ہے. امید ہے جیسے مجھے تمہیں اس وقت صبح صبح دیکھ کر خوشی نہیں ہو رہی تو تمہیں بھی وہ لفافہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوگی. حیات نے اپنی بات مکمل کرتے حرا کا ہاتھ چھوڑا.
اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری غیر موجودگی میں کوئی ٹیلی فلم نشر نہ کروں. تو ٹائم پہ گھر واپس آ کر ایک شاندار سا ولیمہ مجھے دینا. ورنہ تمہیں نہ دینے کی لینے پڑ جائیں گے.
دوسرا مجھے سرپرائز بالکل بھی پسند نہیں لہٰذا میں تمہارا سرپرائز قبول نہیں کرتی. اب فورا اپنی شکل گم کرو اور کسی فضول بات پر اصرار مت کرنا ورنہ تمہارے ملازم تو نہیں مگر تم مجھے اچھے سے جانتے ہو. حرا کا انداز وارننگ دیتا تھا.
مجھے تم سے ہمدردی ہے.شاید تمہارے دماغ پہ اثر ہو گیا ہے. جب بندے کو کسی چیز کا صدمہ لگتا ہے تو وہ بالکل تمہاری جیسی حرکتیں کرتا ہے.
خیر اب میں چلتا ہوں اگر کچھ کھانے پینے کو دل کرے تو نیچے تشریف لے جانا. یہاں اوپر تمہیں کچھ نہیں ملے گا. حیات کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا.
مجھے کچھ ملے یا نہ ملے مگر تمہیں شام تک ضرور ایک شاندار سرپرائز ملے گا. حرا کہتی دوبارہ بستر میں لیٹ گئی کیونکہ فی الحال اسے شدید نیند آ رہی تھی. وہ اتنی جلدی اٹھنے کی عادی نہ تھی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے