No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
فون کی گھنٹی مسلسل اس کی نیند میں خلل ڈال رہی تھی. بالاخر تنگ آکر اس نے کال اٹینڈ.
سر جی میں نے آپ کو اس نمبر کی تمام تفصیل بھیج دی ہے. آپ دیکھ لیع. حیات نے نیند بھری آنکھوں کو ملتے ہوئے فراز کی بات سمجھنے کی کوشش کی.
کس نمبر کی تفصیل _ بے خیالی میں پوچھتے ہوئے اس نے بیڈ سا ٹیک لگائی. موسم کے اچانک کروٹ لینے پر اس کی طبیعت بھی آج کچھ ناساز تھی ہلکا پھلکا زکام ہو رہا تھا. وہی نمبر جو آپ نے کل مجھے دیا تھا. شاید کسی لڑکی کا ہے. فراز نے مناسب الفاظ ساتھ یاد دہانی کرائی. اچھاااااااا مگر میں یہ تفصیل تو کل مانگی تھی آج نہیں. اب حیات پوری طرح بیدار ہو چکا تھا.
سوری سر وہ میں فراز ابھی بول ہی رہا تھا کہ حیات نے کال کاٹ دی. اچھا تو مس حرا آپ یہاں رہتی ہیں. ایڈیسن تو کافی پوش ایریا کا ہے. مطلب حیات رقم اچھی ملنے والی ہے. حیات نے واٹس ایپ پر نمبر کی تفصیل دیکھتے ہوئے خود کلامی کی. پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے نمبر ڈائل کیا. ایک منٹ تک بیل جاتی رہی مگر کسی نے کال ریسیو کرنے کی زحمت نہیں کی تو حیات نے دوبارہ فون ری ڈائل پر لگاتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھا. حیات گھڑی صبح کے ساتھ بجا رہی ہے. جمائی روکتے ہوئے اس نے لحاف اتارا بیڈ سے نیچے اترا ہی تھا کہ سپیکر سے ایک نیند بھری نسوانی آواز ابھری. ہیلو کون بول رہا ہے …..؟؟ حرا کے پوچھنے پر حیات نے فون کان ساتھ لگایا. ہیلو مس حرا کیسی ہیں آپ …..؟؟ کیا بتاؤں کیسی ہوں …؟؟ ابھی تک تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھی مگر کال اٹینڈ کرنے کے چکر میں پاؤں ٹیبل ساتھ جا لگا ہے. تو 14، 15، 16 جتنے بھی طبق ہوتے ہیں سب کے سب روشن ہو گئے ہیں حالانکہ ہماری لائٹ بند ہے. حرا کی آواز میں مسکینیت تھی. دیکھیں محترمہ میں نے یہ جملہ محاورتاً پوچھا تھا کہ کیسی ہے …..؟؟ مگر آپ نے تو پورا مضمون ہی سنا دیا ہے.حیات سلیپر پاؤں میں ڈالتا ہوا کھڑکی پاس آ کھڑا ہوا. میں نے بھی اخلاق کے دائرہ، مثلث، مربع میں رہتے ہوئے ہی آپ کو جواب دیا ہے. کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی. حرا نے طنز کیا. آپ شاید برا مان گئی ہیں مگر میری بات کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے ایسے فضول جواب کی وجہ سے میرا اچھا خاصا قیمتی وقت ضائع کر دیا ہے. حیات نے پردے پیچھے کرتے ہوئے لان میں دیکھا جہاں سورج کی نرم گرم شعائیں پڑ رہیں تھیں. قیمتی وقت حرا نے زور دیتے ہوئے جملہ دہرایا.
جی ہاں قیمتی وقت میرے پاس فالتو کاموں اور فالتو لوگوں کے لیے وقت نہیں ہوتا. حیات کا انداز جتلانے والا تھا. ویسے تو میں کوئی نشہ نہیں کرتی مگر جس دن صبح صبح چائے نہ پیوں تو دماغ کچھ غیر حاضر رہتا ہے. پھر بھی مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے آپ ریکویسٹ کی کہ آپ مجھے “گڈ مارننگ” کی کال کریں. حالانکہ مجھے حسرت ہے کہ کوئی مجھے روزانہ “گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ” کی کال کرے. حرا نے ایک سرد آہ بھری جس پر حیات سر نفی میں ہلاتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے قریب آ کھڑا ہوا. اگر آپ K ڈرامے اور نمرا احمد کے ناول پڑھنا چھوڑ دیں تو آپ کی کافی حسرتیں کم ہو جائیں گی. پاگل لڑکی آخری لفظ دھیمی آواز میں زیر لب کہا
آپ ہیں کون ……؟؟ جو صبح صبح مجھے بھاشن دے رہے ہیں. ایک تو میری نیند خراب کی اوپر سے مجھے ہی پاگل کہہ رہے ہیں. حرا کو لفظ پاگل سن کر شدید غصہ آیا.
میں سٹی صدر تھانے سے” حیات عالم” بات کر رہا ہوں. برائے مہربانی اپنی کمپلین کی وجہ سے صبح نو بجے تھانے تشریف لائیں. آپ کی انکوائری ہے.
بصورت دیگر سپاہی آپ کے دروازے پر پہنچ جائے گا. اب کی بار حیات عالم نے اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں حکم دیا.
ارے واہ کمال ہو گیا یعنی اب جو بھی کوئی مجھے فون کر کے کہے گا کہ میں حیات عالم بات کر رہا ہوں تو میں یقین کر لوں گی کیوں مجھے اس کا فوبیا ہو گیا ہے …..؟؟
اتنا لالچی انسان ہے وہ کہ سوچ ہے آپ کی بغیر مقصد کے وہ کسی کے سلام کا جواب نہیں دیتا اور وہ اتنی صبح صبح مجھے آدھے گھنٹے کی گڈ مارننگ کال کرے گا.
یعنی حد ہی ہو گئی. پولیس نے کب سے اپنے موٹو کو سنجیدہ لے لیا کہ ” خدمت عوام کی” حرا نے بھرپور قہقہہ لگایا
حرا بی بی!!! میں واقعی ہی ایس پی حیات عالم بات کر رہا ہوں. اگر آج آپ نو بجے تک تھانے تشریف نہ لائیں. تو آپ کی کوٹھی نمبر 504 میں پولیس کا نسٹیبل آئے گا پھر نہ کہیے گا کہ بتایا نہیں تھا. حیات نے دھمکی دی.
آپ کے بتانے یا نہ بتانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی میں ڈرتی ہوں سمجھے _ ایک تو میری صبح صبح نیند خراب کر دی اور دوسرا دھمکی دے رہے ہیں. غصے سے حرا کی آواز اونچی ہوئی. نہ میں دھمکی دیتا ہوں اور نہ ہی میں ڈرتا ہوں. لوگ خود ہی مجھ سے ڈرتے ہیں اور میرے نام کی دھمکیاں دوسروں کو دیتے ہیں. حیات کے لہجے میں ایک غرور تھا. جو بھی ہے مگر میں نے تھانے نہیں آنا. آپ شاید جانتے نہیں ہیں کہ میں کس کی بیٹی ہوں …..؟؟ وردہ یوں بات نہ کرتے. چلو پھر ٹھیک ہے میں بذات خود آپ کے گھر تشریف لاتا ہوں کیونکہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کس کی بیٹی ہیں ……؟؟ حیات نے برش بالوں میں پھرتے ہوئے جواب دیا تو حرا پریشان ہو گئی. آپ کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں …..؟؟ میرے بابا کے بہت بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں. ایک منٹ لگے گا اور آپ کی پیٹی اتر جائے گی. سسپینڈ کر دیے جائیں گے. سمجھ لگی ہرا کے جواب پر حیات مسکرانے لگا
چلیں دیکھتے ہیں کہ کون کتنا بڑا ہے …..؟؟ ویسے مجھے خوشی ہوئی آج تک کسی مرد میں بھی اتنی مت نہیں تھی کہ وہ مجھے یعنی ایس پی حیات عالم کو دھمکی دے سکے.
اور آپ نے اس 15 منٹ میں مجھے دو دفعہ دھمکی دی ہے اور یہ بات میں بھولوں گا نہیں. آپ بھی ٹائم مت بھولیے گا. نو بجے سٹی صدر تھانے میں آنا ہے. حیات نے کہتے ہی کال کاٹ دی.
حمنہ اب حمنہ ہی میری مدد کر سکتی ہے. حرا نے سوچتے ہوئے لحاف زور سے ایک طرف پھینکا.
💰💰💰💰💰
چلو لڑکی اپنی کتابیں کھولو. یوں کیوں اداس بیٹھی ہو. حدید نے حمنہ کو خاموش بیٹھا دیکھ کر پکارا
وہ میرا پڑھنے کو دل نہیں کر رہا. حمنہ نے نظر چراتے ہوئے دھیمی اواز میں کہا
کیوں پڑھنے کو دل کیوں نہیں کر رہا …..؟؟ حدید نے غور سے حمنہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ ایک گڑبڑ ہو گئی ہے. حمنہ نے آہستہ آواز میں بتایا
لڑکی تھوڑی سی تو اونچی آواز نکالو. کم از کم مجھے سنائی تو دے کہ تم کیا کہہ رہی ہو. میں اس سے زیادہ تمہاری طرف جھک نہیں سکتا ورنہ میری کمر میں چک آ جائے گی. حدید نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
اگر میں آپ کو بتا دوں کہ کیا گڑبڑ ہوئی ہے. تو آپ حارث کو تو نہیں بتائیں گے ناااااا وہ ہر وقت مجھ پر غصہ کرتا ہے اور پھر ڈی ایم کو میری شکایت بھی لگا دے گا. پرومس کریں کہ آپ اسے نہیں بتائیں گے.
میں نے کبھی تمہاری کوئی بات اسے نہیں بتائی. وہ میرا بہت اچھا دوست ہے مگر میں ہر بات اسے نہیں بتاتا. اس لیے تم اپنی بات آرام سے مجھے بتا سکتی ہو. حدید کی اتنی نرمی پر حمنہ اسے غور سے دیکھنے لگی
آپ بہت اچھے ہیں. حمنہ، حدید کو غور سے دیکھنے لگی
یہ بات تو مجھے معلوم ہے اور لوگ مجھے بتاتے بھی رہتے ہیں. تم وہ بات بتاؤ جو مجھے معلوم نہیں. چلو شاباش حدید نے پین ہاتھ میں گھماتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
وہ دراصل اس دن شام کو حمنہ نے حیات عالم کی گاڑی ٹکرانے سے لے کر فون کال تک ساری بات حدید کو بتا دی.
حمنہ تم حیات عالم کو جانتی ہو. وہ کتنا خطرناک انسان ہے. مجھے حیرت ہے کہ تم لوگوں نے اس سے پنگا کیسے لے لیا ……؟؟
اس سے تو اچھے خاصے لوگ پنگا لیتے ہوئے ڈرتے ہیں. حدید کے چہرے پر واقعی ہی پریشانی کے آثار تھے. جس نے حمنہ کو مزید خوفزدہ کر دیا.
میں نے کب پنگا لیا ہے. ساری غلطی تو حرا کی ہے. حمنہ نے فوراً مسکین شکل بناتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا. جو خاصہ پریشان دکھائی دے رہا تھا
ایک تو میں تمہاری دوست سے بہت تنگ ہوں. حارث بالکل ٹھیک کہتا ہے اس لڑکی کا اس گھر میں داخلہ بند کر دینا چاہیے. خود تو الٹے کام کرتی ہے اور تمہیں بھی مصیبت میں پھنسا دیتی ہے. حدید نے پین ٹیبل پر پھینکتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی
آپ کچھ کریں نا آپ ہمیشہ میری مدد کرتے ہیں. اس نے بھی جان بوجھ کے کچھ نہیں کیا. بس غلطی ہو گئی ہے. حمنہ کو حرا کے لیے حدید کی سوچ بری لگی
میں تمہارے لیے سب کچھ کر سکتا ہوں. بس تم پریشان نہ ہو. حدید نے حمنہ کو تسلی دیتے ہوئے خود پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
دیکھو یہ معاملہ کچھ گمبھیر ہے اس لیے ہمیں ڈی ایم کی مدد لینی پڑے گی. اس کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا.
کیونکہ وہ بہت لالچی انسان ہے اور صرف یہی ایک اس کا ویک پوائنٹ ہے. اب وہ اچھی خاصی رقم ہم سے لے گا. پھر ہماری جان چھوڑے گا. وہ تو ایسے کیسوں کی تاڑ میں رہتا ہے جس میں اسے کچھ نہ کرنا پڑے اور بہت پرافٹ ہو.
خیر تم پریشان نہ ہو میں ڈی ایم سے بات کروں گا اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتی ہو کہ وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتے. حدید نے مسکراتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا تو وہ پھیکا سا مسکرا دی.
چلو شاباش اب وقت ضائع نہ کرو اور کتاب کھولو. ہم پہلے چیپٹر سے پڑھنا شروع کرتے ہیں. تمہیں پڑھانے کے بعد میں نے اپنا بھی پڑھنا ہے. اب کی بار حدید نے سنجیدگی سے کتابوں کی طرف اشارہ کیا تو حمنہ خاموشی سے کتاب کھولنے لگی
حمنہ میری طرف دیکھو. حمنہ کو اداس دیکھ کر حدید نے اسے پکارا جو بغیر مقصد کے کتاب کے ورق ادھر ادھر پلٹ رہی تھی
کیا بات ہے. اب کیوں پریشان ہو ….؟؟ میں نے کہہ تو دیا ہے کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں اور حارث کو بھی نہیں بتاؤں گا. پھر حدید نے حمنہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا ایک اور بات بھی ہے. میں نے آپ کو اپنا ایک راز بتانا ہے. حمنہ نے نظریں چراتے ہوئے آہستہ آواز میں حدید سے کہا لڑکی جب تم کوئی خاص بات کرتی ہو تو تمہاری آواز گم ہو جاتی ہے. برائے مہربانی اپنا والیم نارمل رکھا کرو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم کیا کہہ رہی ہو ….؟؟ کیوں سمجھ نہیں آتی. آپ کے کانوں کے فیوز اڑ گئے ہیں. حمنہ نے قدرے غصے سے حدید کی طرف دیکھا تو وہ مسکرانے لگا ہاں اتنی آواز چلے گی اب بولو کیا راز ہے. جو تم مجھے بتانا چاہتی ہو. حدید اب سنجیدگی سے حمنہ کی طرف دیکھ رہا تھا. وہ مجھے کوئی پسند ہے. میرے مطلب ہے کہ مجھے کوئی اچھا لگتا ہے. میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ مجھے کسی سے پیار ہو گیا ہے. حمنہ نے جلدی سے کہتے ہوئے نظر جھکا لیں. واٹ حدید کو صحیح معنوں میں 440 واٹ کا جھٹکا لگا. وہ ہمنہ سے ایسی بات کی امید نہیں رکھتا تھا. اگر واقعی ہی حمنہ کسی کو پسند کرتی ہے تو اس کا پلان خراب ہو جائے گا اور وہ یہ ہونے نہیں دے گا.
دیکھو حمنہ تم ابھی بہت چھوٹی ہو. میرا مطلب ہے کہ تمہارے ابھی پڑھنے کے دن ہیں. یہ سب فضول کام ہے. اچھی لڑکیاں ایسے کام نہیں کرتیں. اگر حارث یا ڈی ایم کو پتہ چلا تو انہیں برا لگے گا. حدید نے اپنے جذبات پہ قابو پاتے ہوئے بمشکل نرمی کا مظاہرہ کیا ورنہ اس کا دل حمنہ کا سر توڑنے کا کر رہا تھا.
آپ مجھ پر غصہ کر رہیں ہیں. حمنہ نے جتانے والے انداز میں حدید کی دیکھا اس کی آنکھوں میں شکایت واضح تھی.
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. اچھا چلو مجھے اس کا نام بتاؤ. وہ کیا کرتا ہے. کہاں رہتا ہے. تم اس سے کیسے ملی …..؟؟ حدید نے اب کی بار دوبارہ اپنے نرم لہجے میں لوٹتے ہوئے پوچھا کیونکہ وہ حمنہ کا اعتماد کھونا نہیں چاہتا تھا.
یہ سب آپ کو میں ابھی نہیں بتاؤں گی. بس ابھی میں نے آپ کو صرف اتنا ہی بتانا تھا. حمنہ نے کہتے ہوئے قدرے ناراضگی سے کتاب کھولی اور یونٹ پڑنے لگی جبکہ حدید اسے پر سوچ انداز میں گھورنے لگا
💰💰💰💰💰
سر صبح سے رانا صاحب کی کئی کالز آ چکی ہیں. وہ آپ کو منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہے. بس ان کے بیٹے کو جیل نہیں ہونی چاہیے. فراز نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر لفظ ادا کیے.
نہیں اب میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا. اسے چاہیے کہ اپنے بیٹے کے لیے کسی اچھے وکیل سے رابطہ کرے. حیات نے صاف انکار کرتے ہوئے اپنے سامنے پڑی بلیک فائل کھولی.
مگر سر جی _ جیسے ہی فراز نے بولنا شروع کیا حیات نے انگلی کےاشارہ سے اسے روک دیا. تمہیں یاد ہے میں نے اسے کیا کہا تھا مگر اس نے میری بات نہیں سنی. اب میں نے اس کے بیٹے کے خلاف نہ صرف یہ کہ پکی ایف آئی ار کاٹی ہے بلکہ ثبوت بھی ایسے بنائے ہیں کہ وہ چاہ کر بھی اپنے بیٹے کو سزا سے نہیں بچا سکتا. حیات نے پیپر ویٹ ٹیبل پہ گھماتے ہوئے فراز کی طرف دیکھا فراز میں اپنے لکھے کو کبھی نہیں مٹاتا. میرے لیے میری ذات بہت قابل احترام ہے. جو بات حیات عالم کہہ دیتا ہے میں وہی کرتا ہوں اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتا. چاہے مجھے کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے. اس لیے اب دوبارہ میرے سامنے رانا صاحب یا اس کے بیٹے کا ذکر مت کرنا. حیات کے اس قدر سخت لہجے پر فراز نے معذرت کے ساتھ سر ہاں میں ہلایا اور آفس سے باہر چلا گیا. حرا بی بی اس کا مطلب ہے کہ آپ ضد کی بہت پکی ہیں. فراز کے جاتے ہی حیات نے سامنے لگی وال کلاک کی طرف دیکھا جہاں صبح کے 10 بج رہے تھے. کچھ دیر کرسی پر جھولنے کے بعد حیات نے اپنا موبائل نکالا اور حرا کا نمبر ڈائل کرنے لگا نہیں میرے خیال سے مجھے ڈائریکٹ اس کے والد محترم سے بات کرنی چاہیے. یوں گیم کھیلنے کا مزہ نہیں ائے گا. حیات نے خود کلامی کرتے ہوئے بیل بجائی تو فراز فوراً حاضر ہوا. فراز تمہیں یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے رانا گروپ اف انڈسٹری میں ایک شارٹ سرکٹ ہوا تھا. جس میں کافی لوگ مارے گئے تھے. اس کی فائل نکالو، کسی کا حساب برابر کرنا ہے. یاد کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی جبکہ فراز ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا سر ہم نے اس کیس کے پورے پیسے لے لیے تھے. فراز نے اپنے طور پر یاد دلایا. میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا میں نے کہا ہے کہ اس کیس کی فائل نکالو. حیات کے اس قدر سخت لہجے پر فراز سر ہلاتا باہر چلا گیا آپ میرے باپ کو نہیں جانتے حیات نے جملہ دہرایا.
حرا بی بی تم سے زیادہ میں تمہارے باپ کو جانتا ہوں اور تم کیا میری پیٹی اترواؤ گی. میں نے اگر تیرے باپ کے کپڑے نہ اتروائے نا تو میرا نام حیات نہیں.
دھمکی تو میں کسی کی بھی برداشت نہیں کرتا چاہے کوئی مرد دے یا عورت یا تم جیسی پاگل، بےوقوف لڑکی _ حیات نے سامنے لگی گھڑی پر ٹائم دیکھا جہاں سوئی گیارہ کی طرف جا رہی تھی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
