No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
آپ مجھ سے ناراض ہیں….؟؟ حدید نے حیات کے قریب بیٹھتے ہوئے رازداری سے پوچھا
نہیں _ یک لفظی اور انتہائی سنجیدہ جواب دیا گیا. پھر آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ کا آج نکاح ہے…؟ حدید کے لہجے میں گلہ تھا. اچھا کیا ایسا ہے حیات نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا
ایسا ہی تھا مگر کچھ دیر پہلے سب تبدیل ہو گیا. پتہ نہیں کیوں….؟؟ حدید نے کندھے اچکائے
اگر تمہیں اتنا شوق ہو رہا ہے تو تمہارا شوق پورا کر دوں. حیات کا انداز سوالیہ تھا.
کیسی باتیں کرتے ہیں کون سا میرا نکاح ہو رہا ہے. جو آپ یوں مجھ سے پوچھ رہے ہیں. حدید شوخ ہوا.
تمہارا بھی کروا دوں….؟؟ حیات کی آفر پر حدید شرارت سے مسکرایا
آپ ایسا کر سکتے ہیں…؟ ؟ حدید نے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا
تم شک ہے حیات بے خد سنجیدہ لگ رہا تھا. سیریسلی _ حدید نے تصدیق چاہی ابھی دیکھو حیات نے کہتے ہوئے اپنا موبائل نکالا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا رانا صاحب تیز قدم چلتے ہیں ہوئے حیات کے قریب آ رکے. جبکہ باقی لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے.
جب ہم نے تمہاری ہر بات مان لی ہے تو پھر اس حرکت کا مطلب….؟؟ رانا صاحب کے چہرے پر غصہ اور فکر دونوں کے آثار نمایاں تھے.
اب کیا ہوا ہے…..؟؟ حیات نے موبائل ہاتھ میں گھماتے ہوئے آرام سے پوچھا. جب کہ حدید دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا.
تم جانتے ہو اچانک رانا خاور کے بیٹے کو کہیں لے جایا جا رہا ہے اور میں اچھے سے جانتے ہوں تم اسے پولیس حملے میں مروا دوں گے. جیسے ہی رانا تنویر نے یہ بات کہی حیات کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ ابھری.
مگر میں تو یہاں ہوں آپ کے سامنے، میں کیا کر سکتا ہوں. حیات نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے صاف انکار کیا.
تم سب کر سکتے ہو بلکہ یہ گیم ہی تم نے کھیلی ہے. رانا صاحب کے الزام پر حیات نے نقلی جمائی لی جیسے اسے نیند آ رہی ہو.
دیکھیں اب آپ مجھ پہ الزام لگا رہے ہیں. حیات پہلے سے بھی زیادہ پرسکون دکھائی دے رہا تھا.
اگر تم نے کچھ نہیں کیا تو پلیز کچھ کرو. رانا صاحب کا لہجہ اچانک التجائیہ ہوا.
ابھی آپ الزام لگا رہے تھے کہ میں نے کچھ کیا ہے. اب آپ کہہ رہیں ہیں کہ پلیززز کچھ کرو. مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ اصل میں مجھ سے چاہتے کیا ہیں…..؟؟ حیات کی معصومیت عروج پر تھی. جسے دیکھتے ہوئے حدید مسکرایا.
اس مشکل وقت میں ہماری مدد کرو. رانا صاحب بہت بےبس دکھائی دے رہے تھے.
میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں….؟؟ حیات نے روایتی انداز میں پوچھا
ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم رانا خاور کے بیٹے کو آزاد کر دو. رانا تنویر کی بات پر حیات سر ہاں میں ہلانے لگا
ہو سکتا ہے. بلکل ہو سکتا ہے. اس دنیا میں کیا نہیں ہو سکتا. آپ حکم کریں. حیاد نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے عاجزی کی انتہا کی جو پاس کھڑے حدید کو بالکل ہضم نہیں ہو رہی تھی کیونکہ یہ سب حیات کی شخصیت کا خاصہ نہ تھا
ٹھیک ہے پھر تم کچھ کرو کچھ ایسا جس سے ہماری زندگی میں سکون آ جائے اور ہم مطمئن ہو جائیں. رانا صاحب کے کہنے پر حیات سر ہاں میں ہلانے لگا
سر آپ کا کام تو ہو جائے گا مگر وہ کیا ہے نا کہ میں گھر سے یہ کہہ کے نکلا تھا کہ شادی کرنے جا رہا ہوں. اب اگر میں خالی ہاتھ گھر جاؤں گا تو مجھے اپنے ملازمین کے سامنے بہت شرمندگی اٹھانی پڑے گی. اپ میری بات سمجھ رہے ہیں ناااااا _ گھوم پھر کے حیات وہیں آ گیا تھا جہاں سے بات چلی تھی. رانا خاور نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا ٹھیک ہے میں اپنی بیٹی سے بات کرتا ہوں. رانا صاحب کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے. میرے خیال سے بھائی آپ کو یہ چچوڑی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی. حدید نے ناگواری سے حیات کی طرف دیکھا میں نے کوئی حرکت نہیں کی. میں تو تمہارے ساتھ کھڑا ہوں. پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے. ابھی پتہ کرتا ہوں. حیات نے کہتے ہوئے اپنے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا. جب آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے. تو پھر آپ کیا کریں گے…..؟؟ حدید کو تجسس ہوا. نہ میں نے پہلے کچھ کیا تھا اور نہ اب کچھ کروں گا. خود بخود ہی ہر چیز سیدھی ہوتی جا رہی ہے. حیات نے شرارت سے کہتے ہوئے موبائل کان ساتھ لگایا جبکہ حدید سر نفی میں ہلاتا رانا صاحب کے پیچھے ہی اندر کی طرف بڑھ گیا. 💰💰💰💰💰 مجھے نہیں پتہ، میرے بھی کچھ ارمان ہیں. میں نہیں مانتی. بھلا ایسے شادی ہوتی ہے. اس طرح شادی کرتے ہیں. میں نے کتنے پلان بنائے تھے شادی کے حرا نے رو رو کے اپنا برا حال کر لیا تھا جبکہ اس کے آس پاس چیزوں کی جو حالت تھی وہ حرا سے بھی زیادہ قابل رحم تھی.
میری بات سمجھنے کی کوشش کرو. یہ شادی ایک مجبوری ہے. حمنہ نے تسلی دی. اس سے زیادہ اس کے پاس تسلی دینے کے لیے کوئی جملہ نہیں تھا.
مجھے تم سب لوگوں کی باتیں سمجھ آ رہی ہیں. میں کوئی بچی نہیں ہوں. لیکن میں نے اس طرح شادی نہیں کرنی. بھلا اس طرح شادی ہوتی ہے. حرا کے بھرپور احتجاج پر حدید کو اس پر بہت ترس آیا.
اچھا دیکھو تم پریشان نہ ہو. ایس پی حیات اتنا برا انسان نہیں ہے. جتنا تم سمجھ رہی ہو. حدید نے بھی اسے اپنے طور پر بہتر تسلی دی.
مجھے ایس پی حیات سے مسئلہ نہیں ہے. اگر کوئی مسئلہ ہوا تو اسے مجھ سے ہوگا مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ میری شادی کسی سے بھی کر دو. مجھے اس شخص سے مسئلہ نہیں. مجھے مسئلہ اپنی شادی سے ہے. شادی اس طرح ہوتی ہے. اس طرح شادی کرتے ہیں. حرا نے ایک دفعہ پھر دھواں دھار طریقے سے رونا شروع کیا جبکہ حارث اسے مسلسل ٹشو مہیا کر رہا تھا اور اب تک چار ڈبے ٹشو کے خالی ہو چکے تھے.
تمہیں ایس پی حیات سے اگر مسئلہ ہے. تو کچھ ٹائم بعد طلاق لے لینا اور اپنی پسند کے کسی بندے سے شادی کر لینا. آج کل طلاق تو فیشن بنی ہوئی ہے. پہلے لوگ ویڈنگ ceremony کرتے تھے. آج کل تو پراپر ڈائیورس ceremony بھی ہو رہی ہے.
اگر تمہاری شادی کا فنکشن دھوم دھام سے نہیں ہو رہا. تو تم اپنے طلاق کا فنکشن خوب زوروشور سے کرنا. حارث کی تجویز پر حرا کے ساتھ ساتھ حمنہ اور حدید کا بھی منہ کھل گیا.
تم اس سے بہتر آئیڈیا نہیں پیش کر سکتے…. ؟؟ حدید نے طنز کیا
نہیں میرے پاس اس سے بھی زیادہ بہترین ائیڈیا ہے. حارث نے حدید کو دیکھتے ہوئے آنکھ ماری. جس پر حدید نے قریب بڑا کشن زور سے اچھال کر حارث کی طرف پھینکا
اگر تمہیں ایس پی حیات سے مسئلہ نہیں ہے تو پھر کس بات سے مسئلہ ہے. کیوں رو رو کر یوں ہلکان ہو رہی یو….؟؟ حدید کے سوال پر وہ ٹیچ یو سے اپنے آنسو صاف کرتی اسے دیکھنے لگی.
مجھے مسئلہ اپنی شادی سے ہے. مجھے یہ مسئلہ نہیں ہے کہ میری شادی کس سے ہو رہی ہے. مجھے مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی ایسے طریقے سے کیوں ہو رہی ہے……؟؟
شوہر جو بھی ہو. اسے خود ہی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے. اس لیے مجھے ایس پی حیات سے کوئی فرق نہیں پڑتا. میں اس کو ٹھیک کر لوں گی مگر مسئلہ پھر وہی ہے کہ شادی ایسے ہوتی ہے…..؟؟ حرا نے ایک بار پھر رونا شروع کیا.
مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ شادی ایسے ہوتی سے کیا مراد ہے….؟؟ حدید نے حمنہ اور حارث کی طرف دیکھتے ہوئے بیچارگی سے پوچھا
دیکھو حدید میری بات غور سے سنو. شادی ایک ہی بار ہوتی ہے. میرا مطلب ہے کہ جو پہلی شادی ہے ناااااا _ اس کی اپنی ہی بات ہوتی ہے. بعد میں اگر آپ دوسری یا تیسری شادی کر لیں. تو اس میں وہ مزہ نہیں ہوتا. جو پہلی شادی میں ہوتا ہے. اب میں تمہیں بتاتی ہوں کہ شادی کیسے ہوتی ہے….؟؟ حرا نے ایک دم اپنا رونا بھولتے ہوئے حدید کو مخاطب کیا تو وہ اسے پھٹی انکھوں سے دیکھنے لگا. شادی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ سب سے پہلے شادی کے کارڈ چھپتے ہیں. تاکہ چار لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اپ کی شادی ہے. اس کے بعد پورے گھر کو لائٹوں سے سجایا جاتا ہے. تیل مہندی کا فنکشن ہوتا ہے. پھر اس کے بعد ڈھولکی پھر بارات اور آخر میں ولیمہ ہوتا ہے. سارے گھر کو سجایا جاتا ہے. فوٹو شوٹ ہوتا ہے. ویڈیو بنتی ہے. سٹیٹس اپلوڈ کیا جاتا ہے اور میری شادی اتنی بور نہیں، نہیں حرا نے اپنی بات کے آخر میں ایک دفعہ پھر زور و شور سے رونا شروع کر دیا تو حدید کو سمجھ آیا کہ سارا چکر سٹیٹس کا ہے.
اب سمجھ آیا کہ حرا بی بی کو اصل میں کیا مسئلہ ہے….؟؟ حارث نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا مگر انداز ایسا تھا کہ سکون مل گیا.
بڑا ہی کوئی کمینہ انسان ہے تو، اگر تجھے یہ بات سمجھ آ رہی تھی تو تُو مجھے بتا سکتا تھا. حدید نے اسے گھورتے ہوئے کہا
میرے بتانے میں اور محترمہ حرا بی بی کے بتانے میں بہت فرق ہے. میں بتاتا تو شاید تجھے اتنا مزہ نہ آتا جتنا اب آیا ہے. حارث نے ایک آنکھ ونک کرتے ہوئے جواب دیا تو حدید نفی میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا.
اب تم کدھر جا رہے ہو….؟؟ حدید کو جاتا دیکھ کر حرا نے پکارا.
میں کوشش کرنے لگا ہوں کہ تمہارے مسئلے کا کوئی بہتر حل نکل آئے. میں ایس پی حیات کو لے کر آتا ہوں. تم اپنی ساری فرمائشیں سوری میرا مطلب یے کہ خدشات گوش گزار کر دو. مجھے امید ہے کہ کوئی بہتر حل نکل آئے گا. حدید کہتا ہے کمرے سے باہر نکل گیا.
اچھا اگر یہ بات ہے تو پھر پاپا سے کہہ دو کہ مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن رو رو کے میرے سر درد کر رہا ہے. ایک اچھی سی چائے تو منگوا دو. حرا کی فرمائش پر حمنہ نے اسے ناراضگی سے دیکھا.
جانتی ہوں تم نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کھایا. حارث ایسا کرو کہ میرے اور حمنہ کا کھانا ادھر اوپر ہی لا دو اور سنو جتنی ڈشز بنی ہیں سب کی سب لانا.
ارے واہ میں کوئی تمہارا نوکر ہوں. میں تو خود تمہارے گھر میں ایک مہمان ہوں. اپنے نوکروں سے کہو نا کہ تمہارا کھانا اوپر لائے. حارث نے ٹشو پیپر کا ڈبہ حرا کی طرف پھینکتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ میں پھر اونچا اونچا رونا شروع کر دوں. حارث مجھ سے ایسے بات نہیں کرو. حرا نے رونے والی شکل بنائی تو حارث خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا.
تمہیں لگتا ہے کہ ایسے بات بن جائے گی. تم کامیاب ہو جاؤ گی. حارث کے جاتے ہی حمنہ نے رازداری سے پوچھا جس پر حرا نے سر ہاں میں ہلایا
💰💰💰💰💰
کمرے میں اتنے سارے لوگ موجود تھے مگر بلا کی خاموشی تھی. سب کے سب بہت غور سے حیات کو دیکھ رہے تھے اور حیات کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے اس موقع پر کیا کہنا چاہیے کیونکہ اس کا پہلے ایسا کوئی تجربہ نہ تھا.
میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آپ نے ایک بہت بڑی مصیبت کو گلے لگایا ہے. آپ کی سوچ ہے کہ یہ لڑکی کتنی بڑی ڈرامے باز ہے. سٹار پلس کے ڈراموں سے زیادہ ڈرامے کرتی ہے. حدید نے حیات کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے کہا
میں نے اس ڈرامے کی کچھ قسطیں دیکھی ہیں. اندازہ ہے مجھے جس انداز میں حدید نے بات کی اسی انداز میں حیات نے اسے جواب دیا. دیکھو بیٹے حرا میری اکلوتی بیٹی ہے اور اس کے کچھ ارمان ہیں. تم وہ پورے کر دو. میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کے دل میں کسی قسم کی کوئی کسک رہ جائے. تم پلیز اس کی فرمائش پوری کر دو. رانا صاحب نے انتہائی شریفانہ انداز میں حیات کو مخاطب کیا تو وہ حرا کی طرف دیکھنے لگا جس کی رو رو کے آنکھیں بہت لال ہو رہی تھی. مگر میں اتنے تھوڑے وقت میں اتنی ساری فرمائشیں پوری نہیں کر سکتا. حیات نے صاف گوئی سے کام لیا تو حرا نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا. آپ لوگ بات سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے. اتنی رات ہو گئی ہے. میں یہ سب چیزیں کیسے مینج کر سکتا ہوں. سوچنے والی بات ہے…؟ ؟ حیات نے رانا صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں نے کب کہا ہے کہ ساری باتیں ایک ساتھ پوری کریں. فی الحال آپ صرف گاڑی سجا دیں. اپنا گھر نہیں تو ایک کمرہ تو سجا ہی سکتے ہیں. منہ دکھائی میں صرف مجھے ڈائمنڈ رنگ دے دیں. باقی کے فنکشن ہم بات میں کر لیں گے. حرا نے سنجیدگی سے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو حیات کی پوری آنکھیں کھول گئیں. بی بی باقی کون سے فنکشن رہ جاتے ہیں….؟؟ حیات کے طنز پر حرا نے ایسے سر ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کہ تمہیں تو بات سمجھ ہی نہیں آ رہی. دیکھو ہم پہلے “ولیمہ” کر لیتے ہیں. اس کے بعد “بارات” کا فنکشن رکھ لیں گے .پھر “تیل مہندی” اور آخر “ڈھولکی” کیونکہ ویڈیو میں کس کو پتہ چلے گا کہ پہلے کون سا فنکشن ہوا تھا……؟؟ پہلے ہم ویڈیو میں مہندی کے ریکارڈنگ دکھا دیں گے. پھر بارات کی اور آخر میں ولیمے کی ___ضروری نہیں کہ شادی ہمیشہ ascending order میں ہو. کبھی کبھی descending order میں بھی ہو جاتی ہے. حرا کی بات پے حیات نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا جب کہ حارث اور حدید کا ہنس ہنس کے برا حال تھا. یہاں تک کہ حارث کی آنکھوں میں آنسو اگئے.
میں نے اپنی زندگی میں پہلا شخص دیکھا ہے جو اپنی ایکس منگیتر کی شادی پر رو رہا ہے. حیات نے حارث پر طنز کیا تو وہ سینے پہ ہاتھ رکھتا اپنے آنسو صاف کرنے لگا.
میرا “دکھ” اتنا بڑا ہے کہ میرا رونا بنتا ہے. حارث کے جواب پہ حدید نے قہقہہ لگایا جبکہ باقی سارے لوگ خاموش تھے خاص طور پہ ڈی ایم پہ بلا کی خاموشی چھائی ہوئی تھی.
یہ اصل میں “خوشی” کہنا چاہ رہا ہے مگر خوشی اتنی زیادہ ہے کہ لفظ الٹ پلٹ ہو رہے ہیں. حدید نے حارث کا جملہ درست کرتے ہوئے حیات کے کان میں سرگوشی کی. تو وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا
نہیں میرے لیے یہ سب ممکن نہیں ہے. سنجیدگی سے حیات نے انکار کیا.
چلو ٹھیک ہے پھر میں اس شادی کے لیے راضی نہیں. پاپا اب آپ گواہ رہنا کہ اس شخص نے “انکار” کیا ہے میں نے نہیں. میں آپ کی نافرمان اولاد نہیں. اب اپ کا مجھ سے کوئی گلہ نہیں بنتا. حرا نے فوراً اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں سب کی طرف دیکھ کر کہا تو ایک منٹ کے دسویں سیکنڈ میں حیات کو پوری کہانی سمجھ آگئی.
(حرا بی بی!! ایسے تو میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گا….؟؟ حیات نے دل میں حرا کو مخاطب کیا جو اب بہت خوش دکھائی دے رہی تھی.)
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے. میں گاڑی بھی سجا دیتا ہوں. کمرہ بھی اور منہ دکھائی جو اس کو چاہیے وہ بھی لے دیتا ہوں. آپ لوگ مجھے صرف تین گھنٹے دیں. حیات نے گھڑی پہ نظر مارتے ہوئے کہا اور سب کی طرف دیکھتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ حعا کا چہرہ ایک بار پھر لٹک گیا.
گیم الٹ گئی ہے. حمنہ نے حرا کے کان میں سرگوشی کی.
جو بھی ہے. میں ہار ماننے والی نہیں ہوں. تم دیکھتی جاؤ کہ میں کیا کیا کرتی ہوں. حرا نے دوبدو جواب دیا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
