Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ڈرائیو کرتے ہوئے جو چیز حارث کو بہت پریشان کر رہی تھی. وہ یہ تھی کہ ڈی ایم آج حد سے زیادہ پریشان لگ رہے تھے. حالانکہ وہ معمولی باتوں پہ پریشان نہیں ہوا کرتے تھے.
ڈرائیو کرتے بار بار بیک مرر میں وہ ڈی ایم کو پچھلی سیٹ پہ بیٹھا ہوا دیکھ سکتا تھا. جو پریشانی سے کبھی اپنے ماتھے پہ انگلیاں پھیرتے _ کبھی بالوں میں ہاتھ پھیرتے کبھی بلاوجہ کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ٹائم دیکھنے لگ جاتے کبھی شیشے سے باہر جھانکتے کبھی بے بسی سے ٹیک لگا لیتے.
آپ اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں. کیا واقعی ہی کوئی پریشانی والی بات ہے. میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہے کیونکہ رانا انکل گھنٹے ڈیڑھ میں ویسے ہی باہر آ جائیں گے اور جو حشر وہ اس “حیات” کا کریں گے یہ سوچ کر بھی روح کانپتی ہے. حارث نے پتہ نہیں ڈی ایم کو تسلی دی یا اپنے دل کو مگر برابر سیٹ پہ بیٹھے حدید نے اسے بہت غور سے دیکھا
آپ جناب کیوں اتنی محبت سے مجھے دیکھ رہے ہیں. حارث نے آبرو چکاتے ہوئے حدید سے پوچھا جبکہ ڈی ایم مسلسل خاموش تھے.
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے. حدید نے بمشکل جواب دیا جب کہ اس کے تاثرات اس کے لہجے ساتھ مل نہیں رہے تھے.
پتہ نہیں کیوں مجھے معاملہ کچھ اور لگتا ہے …..؟؟ کافی دیر بعد ڈی ایم کی گھمبھیر آواز گاڑی میں گونجی. تو حارث جو حدید کے ساتھ مستی کرنے کے موڈ میں تھا ایک دم سنجیدہ ہو گیا.
کیا مطلب میرا مطلب ہے کہ جو دکھتا ہے وہ ہے نہیں. ڈی ایم نے اتنا کہتے اپنا موبائل پر کچھ ٹائپ کیا اور خاموشی سے دوبارہ آنکھیں بند کرتے سیٹ ساتھ ٹیک لگا لی. کیا ہمیں میڈیا کو اطلاع کرنی چاہیے ……؟؟ کچھ دیر بعد حارث نے سوال کیا کیوں مجرے کی اطلاع کرنی ہے..؟ بے خیالی میں حدید کے منہ سے یہ جملہ پھسلا جس پر حارث نے اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ ایسے جملے استعمال کرنا حدید کی شخصیت کا خاصا نہ تھا. میرا نہیں خیال کہ میڈیا کو اطلاع کرنی چاہیے خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بن جائے گا اور سنو تھانے میں ہونے والی تمام گفتگو گھر جا کر حرا سے مت کرنا. وہ بچی پریشان ہو جائے گی. ڈی ایم کو اچانک حرا کا خیال آیا. پہلی بات تو یہ کہ وہ “بچی” نہیں ہے کیونکہ اس کے ہاتھ سے کوئی ” بچتا” ہی نہیں اور دوسرا وہ پریشان ہوتی نہیں بلکہ کرتی ہے. حارث کے جواب پہ ڈی ایم نے نفی میں سر ہلایا. حمنہ سے کہنا کہ آج اسے ادھر ہی روک لے. گھر جا کر کیا کرے گی. ڈی ایم کی بات پر حارث ہنسنے لگا تھا وہ اپنے گھر جاتی کب ہے…..؟؟ حارث کی بات پر حدید میں بھی مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا یہ واحد لڑکی ہے جس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اپنے سسرال میں پیدا ہوئی. وہاں پلی بڑھی، جوان ہوئی اور اس نے اس گھر کو شروع سے ہی اپنا گھر سمجھا
حارث کے کہنے پہ ڈی ایم دوبارہ اپنے موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگے جس پہ حدید کو شدید تجسس تھا کہ وہ اس وقت کس سے کیا بات کر رہیں ہیں مگر وہ پوچھ نہیں سکتا تھا.
حدید تم آج زمین پر گئے تھے. ہسپتال کا کام کہاں تک پہنچا ہے….؟؟ اچانک ڈی ای
کے سوال نے حدید کو پریشان کر دیا.
نہیں میں کچھ دنوں سے نہیں گیا. حدید نے جھجکتے ہوئے جواب دیا
تمہیں جانا چاہیے تھا. میں چاہتا ہوں کہ تمہارا فائنل ہوتے ہی تم ہسپتال کا چارج سنبھال لو. پریشانی مت لو. میں ہوں ناااااا تمہارا لائسنس میں جلد از جلد بنوا دوں گا. ڈی ایم کے کہنے پہ حدید نے سر ہلایا میرے بارے میں کیا حکم ہے…..؟؟ حارث نے شرارت سے پوچھا تمہارا نکاح نامہ جلد از جلد بن جائے گا. ڈی ایم کے جواب پر اس کا منہ بند کیا جبکہ حدید نے اپنی مسکراہٹ دبائی. ویسے دونوں میں ہی کچھ خاص فرق نہیں ہوتا سوائے ایکسپائری ڈیٹ کے لائسنس کی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے اور حارث نے کہتے ہوئے بیک مرر میں دیکھا زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے اگر بیوی کے اچانک ڈیتھ ہو جائے تو نکاح نامہ پورے کا پورا ہی ایکسپائر ہو جاتا ہے وہ بھی ہمیشہ کے لیے تم ایک ڈاکٹر ہو. اپنے ٹیلنٹ کو استعمال کرو. حدید کے جواب پر ڈی ایم جو اپنے کام میں مصروف تھا انہوں نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھا کر اس کی پشت کو دیکھا.
لگتا ہے حدید کو تھانے کی ہوا لگ گئی ہے. کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے. یہ کہتے ہوئے حارث نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی اور موڑ کاٹتے ہوئے وہ اپنی باتوں میں یہ اندازہ ہی نہ کر سکا کہ ابھی ان کے پاس سے حرا کی گاڑی گزری ہے.
💰💰💰💰💰
فراز کافی رات ہو گئی ہے. اب میں چلتا ہوں ان کا خیال رکھنا. انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اور اگر کوئی بھی ان سے ملنے آئے تو پہلے مجھ سے بات کر لینا. حیات نے کہتے ہوئے ٹیبل سے اپنی چیزیں سمیٹنا شروع کی.
سر اگر برا نہ لگے تو ایک بات پوچھوں ….؟؟ فراز نے انتہائی سنجیدگی سے سوال کیا.
ہاں پوچھو اتنا تکلف کیوں کر رہے ہو….؟؟ حیات نے پاکٹ میں موبائل رکھتے ہوئے گاڑی کی چابی اٹھائی.
سر آپ کو اس لڑکی میں اتنی دلچسپی کیوں ہے…..،؟ ابھی فراز کے منہ سے پورا جملہ بھی ادا نہیں ہوا تھا کہ حیات نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا
میرا مطلب ہے کہ وہ لڑکی آپ کے لیے اتنی اہم کیوں ہے. مجھے اتنا عرصہ ہو گیا ہے. آپ ساتھ کام کرتے ہوئے. مگر میں نے آپ کو کبھی اس طرح کسی میں انوالو ہوتے ہوئے نہیں دیکھا.
کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ کی نظر رانا گروپ آف انڈسٹریز پر ہے. حیات جو بہت سنجیدگی سے حیات جو بہت سنجیدگی سے فراز کی بات سن رہا تھا اس کی آخری بات سمجھتے ہوئے کھلکھلا کے ہنس پڑا اور شاید اس سال میں وہ پہلی بار یوں ہنسا تھا.
فراز میں بہت لالچی انسان ہوں. تم نے میرے بارے میں بالکل ٹھیک اندازہ لگایا ہے مگر سوچو کہ اس ملک پاکستان میں کیا وہ واحد امیر کبیر انسان ہے. حیات کا ہنسنا اور پھر ایک دم سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لینا فراز کے لیے بہت کنفیوزنگ تھا.
مجھے نہ دلچسپی لڑکی میں ہے
نہ رانا صاحب میں اور نہ ہی ان کے بزنس میں _ حیات نے کہتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے. تو پھر سر فراز نے تجسس کے مارے پوچھا
فراز جب میں جا رہا ہوں تو مجھے پیچھے سے آواز مت لگایا کرو. مجھے بہت برا لگتا ہے. حیات نے کہتے ہوئے آفس کا دروازہ کھولا اور باہر کی طرف چل دیا. جبکہ تھانے کا عملہ آج حیات کے رویے پہ عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا جسے اس نے جاتے ہوئے بخوبی سنا.
شب غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ملا ہو جیسے برسوں بعد کوئی _ آنکھیں موندے وہ سیٹ سا ٹیک لگائے خاموشی سے اپنے میڈیا پلئیر پر ناہید اختر کی غزل سن رہا تھا. بہت عرصے بعد آج تمہیں دیکھا ہے. یقین مانو ذرا خوشی نہیں ہوئی. مگر افسوس اس بات کا ہے کہ میں تمہارا گریبان نہیں پکڑ سکتا. رشتہ ہی کچھ ایسا ہے کیا کروں ……؟؟ حیات اپنے خیالوں میں پتہ نہیں کس سے محو گفتگو تھا کہ اچانک پارکنگ میں گاڑی کے ٹائروں کی چڑچڑا ہٹ نے اس کی سوچوں میں خلل ڈالا اور مجبوراً اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے باہر دیکھا جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو سوچا تھا کہ کوئی لاابالی سی لڑکی ہے مگر نہیں میرا اندازہ تمہارے بارے میں غلط ثابت ہوا ہے اور یہ بھی ” پہلی” بار ہوا ہے. حیات اپنی سوچ پر ہنسا جب کہ حرا اور حمنہ گاڑی سے نکلتی اندر تھانے کی طرف بڑھ گئیں. یہ لڑکی جتنا مرضی شور مچائے اسے رانا صاحب سے نہیں ملنے دینا اس سے پہلے کہ فراز کی کال آتی. حیات نے ٹیکسٹ کرتے ہوئے موبائل ڈیش بورڈ پہ رکھ دیا اور دوبارہ آنکھیں موندتے ہوئے سیٹ ساتھ ٹیک لگا لی. جتنی مرضی کبوتر آنکھیں بند کر لے بلی کا خطرہ نہیں ٹلتا. حیات خود کلامی کرتے ہوئے سیدھا ہوا.
آج تو کچھ زیادہ ہی تھکاوٹ ہو گئی ہے اور لگتا ہے کہ ابھی ایک معرکہ باقی ہے. چلو حیات میاں زندگی میں کبھی کبھی ایسے دن بھی آتے ہیں. خود کلامی کرتے اس نے سٹیرنگ پر ہاتھ رکھا اور گاڑی سٹارٹ کی.
پتہ نہیں کیوں آج میرے اندازے اتنے غلط ثابت ہو رہے ہیں حالانکہ اب تک اس لڑکی کو آندھی طوفان کی طرح باہر آ جانا چاہیے تھا. گاڑی ریورس کرتے ہوئے ایک آخری نظر حیات نے تھانے کے گیٹ پہ ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی.
دیکھیں بی بی!! آپ ہمیں سختی پہ مجبور نہ کریں. میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ آپ فی الحال ان سے نہیں مل سکتی ہے. یہ صاحب کا آرڈر ہے یا تو آپ کے پاس عدالت کے وارنٹ ہوں اور یا پھر آپ صبح ہونے کا انتظار کریں. فراز کوئی دسویں بار یہ بات دہرا رہا تھا جب کہ حرا باضد تھی.
آپ کے ایس پی کہاں ہیں. اسے بلاؤ. اگر دس منٹ تک تم نے ایس پی کو نہ بلایا اور تم لوگوں نے مجھے میرے بابا سے نہ ملنے دیا. تو تمہاری سوچ ہے کہ میں کیا کروں گی…..؟؟ حرا کا غصہ سوا نیزے پر تھا جبکہ حمنہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی.
ہم صاحب کو نہیں بلا سکتے. فراز نے معذرت کی جب کہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے.
او کے آپ صاحب کو مت بلائیں مگر مجھے میرے بابا سے ملنے دیں. اگر آپ نے مجھے میرے بابا سے نہ ملنے دیا. تو ابھی اسی وقت میں میڈیا پر پوسٹ ڈالوں گی کہ آپ لوگوں نے میرے بابا کو زبردستی تھانے میں بند کر رکھا ہے اور مجھے ان سے ملوانے کے لیے بلوا کر میرا ریپ کیا ہے. سوچیں پھر آپ کا کیا حشر ہوگا…..؟؟
حرا کی دھمکی نے فراز کے 14 طبق روشن کر دیے. وہ لڑکی دیکھنے میں جتنی چھوٹی تھی. اس سے ایسی بات کی امید وہ نہیں کر سکتا تھا. جبکہ حمنہ اپنی جگہ ہقہ بکا اسے دیکھ رہی تھی.
دیکھیں بی بی!!! اپ بیٹھ جائیں. میں صاحب سے بات کرتا ہوں. فراز نے حرا کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے پاکٹ سے موبائل نکالا اور جوں کا توں حرا کا پیغام حیات کو سینڈ کر دیا.
حیات ماضی میں گم ابھی اپنے گھر کی دہلیز پر پہنچا تھا اس سے پہلے کہ وہ ہارن دیتا اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی.
اس لڑکی سے کچھ بھی امید کی جا سکتی ہے. اسے ذرا احساس نہیں کہ وہ کس بات کی دھمکی دے رہی ہے……؟؟ بے وقوف پاگل لڑکی حیات میسج پڑھتے ہی گاڑی ریورس کرنے لگا میں آ رہا ہوں. تم اس لڑکی کو میرے آفس میں بیٹھاؤ اور خیال رکھنا کہ وہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرے. حیات نے میسج سینڈ کرتے بے دردی سے اپنا موبائل ڈیش بورڈ پر پھینکا اور فل سپیڈ سے گاڑی تھانے کی طرف موڑ دی. 💰💰💰💰💰 تم گھر میں ہوتی ہو اور تمہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ بچیاں کہاں ہیں…..؟؟ حد ہے لاپرواہی کی
ڈی ایم نے نتاشہ بیگم پر چیختے ہوئے پوچھا اور یہ بات حارث اور حدید کے لیے انتہائی حیران کن تھی. آج سے پہلے انہوں نے کبھی ڈی ایم کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا.
ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو دونوں اپنے کمرے میں ہی موجود تھیں. تاشہ بیگم کی آواز بہت ہلکی تھی.
تو پھر اب کہاں گئیں. زمین کھا گئی یا آسمان _ بیگم تمہیں شاید معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہے. اگر حرا کو کچھ ہو جاتا ہے تو ہم رانا صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے. کچھ بھی ہو سکتا ہے. کچھ بھی ڈی ایم نے اونچی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے ہارث کی طرف دیکھا جبکہ نتاشا بیگم بھی پریشان سی صوفے پر بیٹھ گئیں.
حارث ایسا کرو کہ دونوں بچیوں کی لوکیشن چیک کرو. موبائل تو ان کے پاس ہی ہوں گے. ڈی ایم کے کہنے پر حارث نے پاکٹ سے موبائل نکالا جبکہ حدید پریشان کھڑا سب کی طرف دیکھ رہا تھا.
حدید تمہارا کیا خیال ہے وہ دونوں کہاں گئیں ہوں گی. کم از کم یہ مت کہنا کہ ” تھانے” جس خدشے کا اظہار حدید کرنا چاہ رہا تھا اس سے ڈی ایم نے اسے روک دیا.
کیا کہہ سکتا ہوں. ویسے اتنی بے وقوفی کی امید تو نہیں ہے ان سے
حدید نے کہتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر پریشانی تھی.
تمہیں کیا ہوا….؟؟ ڈی ایم نے حارث کی طرف دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا.
ان دونوں کے موبائل کی لوکیشن یہی کی ہے. حارث نے تھکے سے انداز میں کہا
مطلب وہ موبائل گھر چھوڑ کر گئی ہیں. حدید نے بات پوری کی.
افففففف _ ایک میرا دل آگے ہی بہت پریشان ہیں اور اوپر سے ان بچیوں نے کیا بے وقوفی کی ہے……؟؟ حارث فون کرو ان کی فرینڈز کو، پتہ کرو کہ وہ کہاں گئی ہیں…..؟؟ نتاشا بیگم نے اپنا سر پکڑتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا آپ کی بیٹی کی اکلوتی فرینڈ اس کے ساتھ ہی ہے. اس کے علاوہ اس کی اس “کرہ ارض “پر کوئی فرینڈ نہیں. حارث کے لہجے میں طنز تھا یا غصہ نتاشا بیگم سمجھ نہ سکیں. بھائی آپ کو حرا، حمنہ کے بارے میں کوئی انفارمیشن ہے. میرا مطلب ہے کیا وہ تھانے میں ہیں اگر ہیں. تو پلیز انہیں وہیں روک کے رکھیں. میں آتا ہوں. حدید نے سب سے نظر بچاتے ہوئے حیات کو میسج کیا. انکل آپ پریشان نہ ہوں. میں اور حارث انہیں تلاش کرتے ہیں. آپ آنٹی پر غصہ نہ کریں. حدید نے محبت سے ڈی ایم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو انہوں نے اس کے کندھے کو ٹیپ کیا. ویسے یہ موقع تو نہیں ہے مگر میرے خیال سے اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ جس کو آپ بچی کہہ رہے تھے. وہ کتنی خطرناک ہے. حارث کہتا ہوا حدید کے ساتھ لاؤنچ سے باہر نکل گیا. جب کہ ڈی ایم نتاشہ بیگم کے برابر بیٹھ گئے. مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بچیاں یوں گھر سے نکل جائیں گی. بیگم نے دھیمی آواز میں اپنی غلطی کا اقرار کیا. “میں نے آج اسے دیکھا ہے” ڈی ایم نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا تو نتاشا بیگم چونکیں.
کس کو…..؟؟ بےساختہ ان کے منہ سے نکلا مگر ڈی ایم کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جسے دیکھتے ہوئے وہ نظریں جھکا گئی.
وہ بہت بدل گیا ہے. وہ ویسا نہیں رہا جیسا کبھی ہوا کرتا تھا. اس کی آنکھوں میں اجنبیت ہے. ڈی ایم نے تھکے سے انداز میں انتہائی آہستہ آواز میں ٹھہر ٹھہر کر بتایا.
آپ بھول جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی ہمارا نہیں تھا. نتاشا بیگم کا انداز جتلانے والا تھا.
مگر وہ اجنبی بھی نہیں ہے. آپ بھی بھول جاتی ہیں. ڈی ایم بھی جتلاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے.
💰💰💰💰💰
تمہیں احساس ہے کہ تم نے کس چیز کی اور کس کو دھمکی دی ہے اور اس دھمکی کا کیا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے……؟؟؟
اپنی عمر دیکھی ہے تم نے، کیا تمہیں ایسی باتیں زیب دیتی ہیں. اگر اس تھانے کی حدود میں تمہارے ساتھ کچھ بھی رات کے اس پہر ہو جائے. تو تم اس قابل نہیں بچوں گی کہ اسے میڈیا پہ ڈال سکو.
کیونکہ تمہارے وجود میں اتنی ہمت ہی نہیں رہے گی کہ تم پہلے ویڈیو بناؤ اور پھر اسے میڈیا پہ اپلوڈ کرو. بلکہ میرے حساب میں تو اس سے واقعے کے بعد تمہاری لاش کسی گمنام علاقے سے ملے گی.
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہاری شناخت بھی نہ ہو سکے. لہٰذا آج کے بعد کسی کو بھی ایسی دھمکی دیتے ہوئے سو بار سوچنا.
کچھ تھکاوٹ تھی، کچھ پریشانی حیات کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں. پہلی بار حرا کو حیات سے خوف محسوس ہوا تھا.
میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا. حرا نے کچھ ہچکچاتے ہوئے جواب دیا.
تم فی الحال اپنے باپ سے نہیں مل سکتی. میری ڈکشنری میں “نہیں” کا مطلب “نہیں” ہی ہوتا ہے اور دوسرا شریف گھرانوں کی بچیاں تو دور بچے بھی اتنی رات کو تھانے میں قدم رکھتے ہوئے ڈرتے ہیں.
مجھے حیرت ہے کہ تمہاری تربیت کیسی کی گئی ہے اور خاص طور پہ تم تمہارا نام حمنہ دین محمد ہی ہے ناااااا حیات نے جیسے ہی ہمنہ کا پورا نام لیا. حمنہ نے انتہائی حیرت سے اس کی طرف دیکھا کیا. کیونکہ اس کے بابا جو سارے ہی ڈی ایم پکارتے تھے.
دین محمد صاحب نے اپنی بیٹی کو نہیں بتایا کہ زمانہ کیسا ہے…..؟؟ حیات اب براہ راست حمنہ سے الجھ رہا تھا.
بات کو بدلیں مت. مجھے اپنے بابا سے ملنا ہے اور مل کر ہی جانا ہے. ہر قیمت پر حرا نے کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کی. تو حیات نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا. ہر قیمت پر کا مطلب جانتی ہو…..؟؟ حیات کے پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ حرا نے دو قدم پیچھے لیے.تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی. مجھے آپ جیسے پولیس افسر سے کسی شرافت کی امید نہیں. لہٰذا آپ
اس سے پہلے کہ حرا مزید کچھ بولتی حیات کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا مگر حرا کے گال پر پڑنے سے پہلے ہی رک گیا.
ایک سیکنڈ لگے گا مجھے تمہارا دماغ جگہ پہ لانے میں مگر مجھے مجبور نہ کرو. میں وہ کام کروں جو میں نے اب تک کبھی نہیں کیا. حیات نے وارننگ دیتے ہوئے موبائل پر میسج ٹائپ کرنا شروع کیا.
وہ پاگل لڑکی تھانے میں ہی ہے مگر مجھے حیرت ہے کہ اس کے ساتھ موجود حمنہ دین محمد پر ہے. اگر میں بدلہ لینے پر آؤں تو پتہ ہے میں کیا کچھ کر سکتا ہوں…..؟؟
مگر میں گھٹیا طریقے سے بدلہ نہیں لیا کرتا. ہو سکے تو میرا یہ میسج دین محمد تک پہنچا دینا اور ان کو آ کر تھانے سے لے جاؤ. ورنہ میں کچھ غلط کر دوں گا. حدید کو میسج سینڈ کرتے ہوئے حیات نے موبائل ٹیبل پر پٹخا.
مجھے بابا سے ملنا ہے. حرا نے ایک دفعہ پھر حیات کو مخاطب کیا.
میرے خیال سے مجھے تمہارے منہ پہ ٹیپ لگا دینی چاہیے. کیا کہتی ہو اس بارے میں _ حیات نے حرا کی طرف قدم بڑھائے تو حرا نے الٹے قدم حمنہ کی طرف لیے. انسان کو وہ غلط قدم اٹھانے ہی نہیں چاہیے. جو اسے واپس لینے پڑے. حیات نے حرا کے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا تبھی پھولی سانسوں ساتھ فراز اندر داخل ہوا. اب تمہیں کیا ہوا ہے…..،؟ حیات نے ناگواری سے فراز کی طرف دیکھا سر وہ وہ سر جی!!! فراز نے ایک نظر حرا کی طرف دیکھا جس پر حیات کے ماتھے پر انگنت سلوٹیں ابھریں.
بول بھی دو. کس کو موت آئی ہے. تم سب نے آج قسم کھا رکھی ہے مجھے پریشان کرنے کی. حیات نے گلے کا بٹن کھولتے ہوئے پوچھا
سر جی وہ رانا صاحب بے ہوش ہو گئے ہیں. جیسے ہی فراز کے منہ سے یہ جملہ ادا ہوا حرا کے ساتھ ساتھ حیات بھی اپنے پاؤں پر گھوم گیا
💰💰💰💰💰
جاری ہے.