Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

محبتکیپہلی_بارش

بقلمآمنہمحمود

قسط_نمبر_12

اس وقت کمرے میں بلا کی خاموشی تھی. ہر اک ہی گردن جھکائے بیٹھا تھا.
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ حدید کی سالگرہ والے دن میں ایک بہت بڑی دعوت رکھوں گا ویسے بھی حارث کو ہمیشہ مجھ سے گلہ رہتا ہے کہ میں دعوت نہیں کرتا…..؟؟ ڈی ایم نے کہتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا
بس یہ بات بتانے کے لیے اتنا سسپنس پیدا کیا ہے. ڈی ایم اس عمر میں سٹھیا گئے ہیں. میں سمجھا تھا کہ کچھ خاص ہے…؟ حارث نے حدید کے کان میں سرگوشی کی جبکہ وہ چپ چاپ تھا.
حدید کی سالگرہ ہم اس لیے بھی دھوم دھام سے منانا چاہتے ہیں کہ اس دن ہم دو اہم اعلان بھی کریں گے. ایک حارث اور حرا کی منگنی کا دوسرا _ ابھی ڈی ایم نے اتنا ہی کہا تھا کہ حارث بول پڑا. ڈی ایم یہ سخت زیادتی ہے. زبردستی کی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں. آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی ہے ……؟؟ میں حرا سے شادی نہیں کرنا چاہتا ہوں. حارث نے ایک بار پھر شدید احتجاج کیا. جس پر ڈی ایم نے اسے ایک گھوری سے نوازا. اچھا اگر ہم تمہاری بات مان لیں تو تم بتاؤ تمہاری چوائس کیا ہے …..؟؟ یعنی حرا کے علاوہ تم ہمیں کوئی اور آپشن دو. اگر ہمیں وہ بہتر لگی تو ہم تمہاری منگنی اس سے کر دیں گے. ڈی ایم کے کہنے پر حارث نے پہلے سے زیادہ پریشان کن نظروں سے حدید کی طرف دیکھا. ڈی ایم آپ یقین مانیں مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں. حدید نے خود پر سب کی نظریں مرکوز دیکھتے ہوئے صاف انکار کیا. سالے کمینے!!! تُو دوست ہے یا دشمن کچھ تو ساتھ دے. حارث نے حدید کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی.
پہلی بات تو یہ کہ میں کسی بھی صورت تیرا سالا نہیں بن سکتا کیونکہ میری کوئی بہن نہیں ہے اور اگر ہوتی بھی تو میں تجھے کبھی اپنا بہنوئی نہ بناتا.
دوسری بات یہ ہے پیارے دوست!!! تیرا ساتھ دینے کا مطلب ہے سیدھی سیدھی “خودکشی” اور مجھے حرام موت مرنے کا کوئی شوق نہیں.آسان لفظوں میں کہوں تو تیرے ساتھ دینا مطلب خود کو ذلیل کرانے کے مترادف ہے.
زندگی میں پہلی دفعہ ڈی ایم میری سالگرہ منا رہے ہیں. میرا دماغ خراب ہے کہ میں اپنی خوشی کو خراب کروں. حدید نے صاف انکار کیا.
بڑا ہی کوئی غرض انسان ہے. میں سمجھا تھا کہ تو میرا سچا دوست ہے مگر حارث نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام ہوا کیونکہ حدید آگے سے مسکرا رہا تھا. یار پلیز مجھے رونے والی شکل بنا کر نہ دیکھا کر. میں اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر سکتا. حدید کے کمنٹس پر حارث نے منہ پھلاتے ہوئے دوبارہ ڈی ایم کی طرف دیکھا جو انہی دونوں کو گھور رہے تھے. میرے خیال سے ہم سب باہر چلے جاتے ہیں اور تم دونوں اپنی ضروری باتیں کر لو. میں پھر بات کر لوں گا میری بات اتنی ضروری نہیں ہے جتنی کہ تمہاری باتیں
ڈی ایم کے اس طنزیہ جملے پر پہلی بار حمنہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی جسے وہاں بیٹھے ہوئے ہر شخص نے محسوس کیا.
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رانا صاحب کو بہت جلدی ہے اپنی بیٹی کی منگنی کو پبلکلی اناؤنس کرنے کی. لیکن اب میں سوچ رہا ہوں کہ حارث کی منگنی کی بجائے کیوں نہ ان دونوں کی شادی کر دی جائے…..؟؟
تاکہ روز روز کا ڈرامہ ختم ہو.ڈی ایم کی بات پر حارث کا رنگ پیلا پڑ گیا جب کہ حمنہ اور حدید منہ نیچے کیے ہنس رہے تھے.
ڈی ایم میرا ایک ہی بھائی ہے اور میں نے اپنے بہت سے ارمان نکالنے ہیں. اس لیے شادی کے فنکشن ڈھیر سارے رکھیے گا. حمنہ نے فوراً پرجوش ہوتے ہوئے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا.
ایک ہی بھائی ہے _ تم بڑا اس کے ساتھ اچھا سلوک کر رہی ہو. حارث نے حمنہ کی نقل اتارتے ہوئے غصہ کیا. ڈی ایم آپ چھوڑیں ان دونوں کو یہ ایسے ہی کرتے رہیں گے. آپ یہ بتائیں کہ آپ دوسرا اعلان کون سا کرنا چاہتے ہیں…..؟؟ حدید کی سوئی مسلسل دوسرے اعلان پر رکی ہوئی تھی.
ہاں میں نے سوچا ہے کہ میں حارث کے ساتھ ساتھ کیوں ناااااا حمنہ کی منگنی کا بھی اعلان کر دوں گا…..؟؟ جیسے ہی ڈی ایم نے یہ بات کہی کمرے میں خاموشی چھا گئی.
مگر یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے. بالآخر حدید کی آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا.
خیر اب یہ اتنی چھوٹی بھی نہیں ہے. ویسے بھی میں نے ابھی صرف منگنی کا کہا ہے. شادی اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کروں گا.
میں یہ بات بتانا تو نہیں چاہتا تھا مگر آج رانا صاحب کی کال آئی تھی. وہ بہت پریشان لگ رہے تھے اور جلد از جلد حرا کی شادی یا منگنی کرنا چاہتے ہیں. تو میں انکار نہیں کر سکا. بس میں تم لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا. ڈی ایم فکر مندانہ لہجے میں کہا
پریشان نہ ہوں اپ بتا دیں گے تو کون سا اس نے پریشان ہو جانا ہے…..؟ حمنہ نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا.
حرا کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر آپ نے حمنہ کا ذکر کیوں کیا ہے. کیا اس کے لیے کوئی رشتہ آیا ہے ……؟؟ حدید کو شدید تجسس ہو رہا تھا.
نہیں میں نے پہلے سے ہی اس کے لیے ایک لڑکا دیکھ رکھا ہے اور میں اس لڑکے سے بہت مطمئن ہوں. ڈی ایم کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ حدید شدید پریشان ہو گیا.
ڈی ایم میری شادی کی بات کر کے گئے ہیں تیری نہیں تیرے منہ پر کیوں بارہ بج رہے ہیں. ڈی ایم کے جاتے ہی حارث نے حدید کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا جبکہ حمنہ بھی ان کے پیچھے خاموشی سے باہر چلی گئی. 💰💰💰💰💰 رات کے تقریبا 12 بج رہے تھے. جب ایک پراسرار بائیک دو سواروں ساتھ حیات عالم کی سٹریٹ میں داخل ہوئی. جہاں بلا کی خاموشی تھی. لیکن پوری سٹریٹ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھی. ہر کوٹھی کے باہر خوبصورت بلب جل رہا تھا. دونوں اطراف درختوں نے سٹریٹ کا احاطہ کیا ہوا تھا. جس سے وہ بڑی خوابیدہ منظر پیش کر رہی تھی. بلیک پینٹ اور بلیک ہڈی پہنے دونوں اس وقت موٹر بائیک ایک سائیڈ پر کھڑی کر رہیں تھیں. یار حیا کسی طرح کا “کوئی خطرہ” تو نہیں ہے ناااااا
حمنہ یہ سوال کوئی دسویں بار پوچھ رہی تھی.
کوئی خطرہ نہیں ہے مگر “خطرہ” ہے. حرا نے بائیک سائیڈ پر کرتے ہوئے ہاتھ جھاڑے.
کیا مطلب…..؟؟ حمنہ نے پریشانی سے حرا کی طرف دیکھا تو وہ ہنسنے لگی
حیات عالم بذات خود ایک خطرہ ہے. حرا جواب دیتی آگے چل دی.
حرا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. میں تیرے کہنے پر آ تو گئی ہوں مگر _ حمنہ نے پریشانی سے کہا میں نے ابھی تک جتنی بھی تحقیق کی ہے. اس میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ حیات عالم نے کسی لڑکی کا ریپ کیا ہو. اس لیے تم بے فکر رہو. اس نے ریپ نہیں کیا مگر اس کے ملازموں کا کیا….؟؟ حمنہ کی بات پر حرا نے رک کر اسے دیکھا. زندگی میں پہلی بار تم نے کمال کی بات کی ہے ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ تیرا سر، دماغ کے بغیر ہے. یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا. حرا نے سوچنے کی مصنوعی ایکٹنگ کی زیادہ مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں ہے اور چل جلدی کر آگے ٹائم بہت تیزی سے گزر رہا ہے. اس سے پہلے کہ گھر میں کسی کو خبر ہو جائے اور مجھے صحیح جوتے پڑیں. حمنہ نے حرا کو آگے کی طرف دھکیلا
خوب جوتے تو میں نے سنا تھا مگر صحیح جوتے آج پہلی دفعہ سن رہی ہوں. خیر یہ بھی چلے گا. حرا نے کوٹھی کے سامنے پہنچتے ہوئے بیل بجائی.
پاگل ہو گئی ہے. کیا بیل بجا کر اندر جائے گی…..؟؟ حمنہ نے ھرا کو سائیڈ پر کھینچا
تو تیرا کیا خیال ہے میں کوئی سپر مین یا سپائڈر مین ہوں. جو اڑ کر اندر چلی جاؤں گی یا میرا پرندوں کے خاندان سے تعلق ہے یا مجھ پر کوئی جن عاشق ہے. جو مجھے جادوئی طاقت دے گا.
بی بی!!! میں انسان ہوں. ظاہری سی بات ہے گیٹ کے ذریعے ہی اندر داخل ہوں گی اور کوئی طریقہ مجھے نہیں آتا.
مجھے دیوار پھلانگنے یا ہائی jump کا کوئی تجربہ نہیں ہے. ویسے بھی ہو سکتا ہے اندر کوئی “کتا” ہو. حرا نے مسکراتے ہوئے ذو معنی انداز میں کہتے ہوئے حمنہ سے اپنا بازو چھڑایا تبھی گارڈ میں گیٹ کھلا
وہ ہمیں حیات عالم سے ملنا ہے. ایس پی حیات عالم
انہوں نے ہمیں فون کر کے خود بلوایا ہے. حرا نے پر اعتماد لہجے میں کہا تو گارڈ نے سر سے پاؤں تک دونوں کو دیکھا
آپ ایک منٹ رکیں. میں پوچھ کر بتاتا ہوں. گارڈ دروازہ بند کرتے واپس پلٹا اور پریشان سا دوسرے گارڈ کو دیکھنے لگا
کون ہے…..،؟ دوسرے نے اپنی پسٹل نکالتے ہوئے پوچھا
عجیب بات ہے مجھے صاحب ساتھ کام کرتے 10 سال ہو گئے ہیں. مگر آج تک کبھی کوئی یوں صاحب سے ملنے نہیں آیا. گارڈ خود کلامی کرتا انٹر کام پر حیات کے کمرے کا نمبر ملانے لگا
سلام صاحب!!! دو لڑکیاں آپ سے ملنے آئیں ہیں. کہتی ہیں کہ آپ نے بلوایا ہے. گارڈ نے مؤدب لہجے میں اطلاع دی.
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے. جو میں اتنی رات کو کسی کو اپنے گھر بلواؤں گا. یہ یقیناً کسی دشمن کی سازش ہوگی. آج کل لوگ ایسی ہی چھچھوری حرکتیں کر کے اپنے دشمنوں کو بدنام کرتے ہیں.
کل تک یہ خبر پورے میڈیا پر پھیل جائے گی اور میری بدنامی ہوگی. خبردار جو انہیں اندر آنے دیا تو _ فوراً گیٹ سے چلتا کرو اور ہاں بدتمیزی مت کرنا. حیات نے کہتے ہوئے انٹر کام بند کیا اور خود لحاف سائیڈ پر کرتا قدم قدم چلتا اپنی کھڑکی پاس آن کھڑا ہوا. جس پر دبیز ریشمی پردے پڑے تھے. بی بی، صاحب تو سو گئے ہیں. آپ کو بھی کام ہے ہمیں بتا دیں ورنہ صبح تشریف لائیں. گارڈ نے خوش اخلاقی سے کہتے ہوئے دروازہ بند کرنا چاہا تو حرا نے ہاتھ سے روکا اتنی جلدی کون سوتا ہے…..؟؟ حرا نے حیرت سے پوچھا حرا بی بی!! رات کے ساڑھے 12 بج رہے ہیں اسے جلدی نہیں بلکہ آدھی رات بولتے ہیں. حمنہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی. جبکہ گارڈ انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا. چلیں انھیں یاد سے بتائیے گا کہ حرا احمد آئی تھیں. رانا گروپ آف انڈسٹریز کے مالک کی اکلوتی بیٹی حرا کہتے ہوئے مڑی جبکہ گارڈ کے پریشانی سے اپنے پیچھے کھڑے گارڈ کی طرف دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا اور یہ سارا منظر حیات اوپر سے دیکھ رہا تھا.
کون ہو سکتیں ہیں . آخر ان کو کس نے بھیجا ہوگا…..؟؟ حیات پردے برابر کرتا دوبارہ اپنے بستر پر آ بیٹھا. ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اس کے موبائل پر میسج ٹیون بجی. بے خیالی میں اس نے موبائل اٹھایا مگر میسج پڑھتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے.
آپ جاگ رہے ہیں اور یہ بات میں اچھی سے جانتی ہوں کیونکہ شریف لوگ جلدی سوتے ہیں آپ جیسے نہیں جو دوسروں کی نیند حرام کرتے ہیں ان کی اپنی بھی ہو جاتی ہے.
بہرحال میں نے آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ مجھے آپ کا ایک راز غلطی سے معلوم ہو گیا ہے. اگر آپ نے مجھے ذرا بھی بلیک میل کرنے کی کوشش کی یا میرے راستے میں آنے کی تو میں آپ کا وہ راز فاش کر دوں گی.
نام بتانے کی ضرورت نہیں ہے پہچان تو گئے ہوں گے. ویسے بھی میرا نمبر آپ کے موبائل میں سیو ہے. “گڈ نائٹ” ویسے تو مجھے پورا یقین ہے کہ اب اپ کی نائٹ کم از کم گڈ نہیں رہی ہو گی یہ میسج پڑھنے کے بعد حیات نے میسج پڑھتے ہی پوری طاقت سے موبائل دیوار پر دے مارا. حیات عالم پر اتنا برا وقت نہیں آ سکتا کہ اب یہ چھٹانک بھر کی لڑکی مجھے بلیک میل کرے اور میرا کون سا راز ہے…..؟؟ حیات پوری طاقت سے چیخا اور خود کو نارمل کرنے کے لیے اپنے بالوں میں بے دردی سے ہاتھ پھیرنے لگا حیات یہ بات بھول گیا تھا کہ اس دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی راز ضرور ہوتا ہے جسے وہ دنیا والوں سے چھپانا چاہتا ہے. 💰💰💰💰💰 حمنہ دبے پاؤں ٹی وی لاؤئچ میں داخل ہوئی اور وہاں پر نائٹ بلب کی روشنی میں خالی لاؤئچ کو منہ چڑھاتا دیکھ کر، خاموشی سے دبے پاؤں سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہی تھی کہ کچن سے نکلتے حارث سے ٹکرا گئی. خدا کے لیے اب کسی ڈرپوک ہیروئن کی طرح چیخ مت مارنے لگ جانا. حمنہ نے سر سے ٹوپی اتارتے ہوئے حارث سے کہا تو وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا تم اس وقت اس حلیے میں کہاں سے آ رہی ہو……؟؟ ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے اس نے استفادہ کیا تم یہاں بیٹھ کر تسلی سے پانی پیو اور مجھے اپنی قسمت پر ماتم کر دے دو. کیا قسمت پائی ہے میں نے جب بھی ٹکراتی ہوں اپنے بھائی سے ٹکراتی ہوں. پتہ نہیں وہ کون لڑکیاں ہوتی ہیں جو ہینڈسم اور خوبصورت لڑکوں سے ٹکرا جاتی ہیں. میری زندگی میں تو یہ حادثہ ابھی تک نہیں ہوا. حمنہ نے ریلنگ سے ٹیک لگاتے ہوئے حسرت بھرے انداز میں کہا شرم نہیں آتی اپنے بھائی کے سامنے یوں کہتے ہوئے. حارث نے غصے سے حمنہ کی طرف دیکھا بس کرو وہ بھائی اور ہوتے ہیں جن سے بہنوں کو شرم آتی ہے. مجھے تو تمہیں دیکھ کر صرف غصہ آتا ہے یا شرمندگی ہوتی ہے. حمنہ کیپ ہاتھ پر مارتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی رکو تو صحیح، بتاؤ اس وقت کہاں سے آ رہی ہو وہ بھی اکیلی ورنہ میں ڈی ایم کو تمہاری شکایت کروں گا. حارث نے نیچے کھڑے آواز لگائی.
بے فکر رہو. میں اکیلی نہیں تھی. میرے ساتھ میری بھابھی ماں بھی تھی. ھمنہ نے بغیر مڑے جواب دیا
بھابی ماں مگر کون سی بھابی ماں…..؟؟ حارث سے زیر لب دہرایا کیاااااااا…..؟ تم اس وقت حرا ساتھ تھی. یہ لڑکی تمہیں ایک دن ضرور کسی مصیبت میں پھنسا دے گی. حارث نے پریشانی سے کہا تو حمنہ مڑی . تم مجھے چھوڑو اور اپنی فکر کرو کیونکہ میں اس کی وجہ سے کسی مصیبت میں پھنسوں گی یہ پتہ نہیں مگر تم ضرور اس مصیبت میں پھنس چکے ہو. وہ بھی عمر بھر کے لیے کیونکہ ڈی ایم نے رانا صاحب کو شادی کا بول دیا ہے. ہائے میرے برادر کی دلہن _
حمنہ کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی مگر پھر کچھ خیال آتے ہی پلٹی
پانی میں تھوڑی برف ڈال لو یا پھر روح افزا کی ایک چمچ بھی کم از کم تمہیں اس وقت ٹھنڈے مشروب کی بہت سخت ضرورت ہے کیونکہ میں جانتی ہوں تمہاری رگوں میں خون ابل رہا ہو گا یا پھر اپنے دوست گود میں سر رکھ کےر تھوڑا رو لو. اس سے بھی جان کو سکون ملتا ہے. حمنہ چڑاتے ہوئے چلی گئی جبکہ حارث وہاں کھڑا ریلنگ پر اپنا غصہ نکالنے لگا
💰💰💰💰
جاری ہے.
جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے میں ایک ورکنگ وومن ہوں. ویک اینڈ پر ایک برتھ ڈے پارٹی بھی آ گئی تھی پھر صبح سے لائٹ نہیں تھی. سخت نیند کی حالت میں آپ کے لیے یہ چھوٹی سی ایپی لکھی ہے کیونکہ جو ریڈر مجھے پیار کرتے ہیں. میرا ان کا دل توڑنے کو دل نہیں کرتا لیکن مجبوری ہے. بہت مصروفیت ہے. آپ کی محبت ہے کہ آپ گلہ نہیں کرتے اور ایپی پڑھ کر کمنٹس بھی کر دیتے ہیں. اللہ آپ سب لوگوں کو خوش رکھے اور اپنی امان میں رکھے آمین شب بخیر