No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
کمرے میں اس وقت پانچ لوگ موجود تھے. مگر ایسے محسوس ہوتا تھا. جیسے کوئی ہے ہی نہیں سوائے گھڑی کی ٹک ٹک کے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا.
میں نے تم لوگوں کو اس لیے صبح صبح زحمت دی ہے کہ میں تم سب کو ا ایک سچ بتانا چاہتا ہوں. مجھے پتہ ہے تم تینوں کو وہ سچ ایک جھٹکا دے گا مگر پھر بھی میں اپنے آپ کو اب پل پل نہیں مار سکتا حالانکہ نتاشا بیگم نے مجھے سچ بولنے سے منع کیا ہے. وہ بھی اپنی جگہ کسی حد تک ٹھیک ہیں. ڈی ایم نے نتاشا بیگم کی طرف دیکھا جو مسلسل “نہ” میں سر ہلا رہیں تھیں.
کیا کوئی دھماکے دار خبر ہے…..؟؟ حمنہ نے حسب عادت چہک کر پوچھا تو ڈی ایم نے گردن جھکا لی.
مطلب بات بہت سیریس ہے سنجیدہ ہونا پڑے گا. حمنہ نے قریب بیٹھے حارث کے کان میں سرگوشی کی اور خاموشی سے ڈی ایم کو دیکھنے لگی.
میری اپنی کوئی اولاد نہیں ہے. میں بے اولاد ہوں. تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ میں لاوارث ہوں. ڈی ایم نے انتہائی دکھ اور کرب سے یہ جملہ ادا کیا. تو تاشہ بیگم نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں جبکہ حدید، حارث اور حمنہ ہکا بکا ڈی ایم کی طرف دیکھ رہے تھے.
یعنی ہم دونوں ” لے پالک” ہیں مجھے تو یہ “پالک” کا لفظ ہی بہت برا لگتا ہے. یہ دن بھی ہم نے دیکھنا تھا. حمنہ نے دکھ سے حارث کی طرف دیکھا
اور لڑو مجھ سے جائیداد میں کسی کو کچھ نہیں ملے گا. میرے خیال سے ڈی ایم یہی اعلان کرنے والے ہیں کہ وہ اپنی ساری جائیداد کسی خیراتی ادارے کو دے رہے ہیں. حارث کے جواب پر حمنہ منہ بناتی حدید کی طرف دیکھنے لگی جو اُن دونوں سے بیگانہ صرف ڈی ایم کو دیکھ رہا تھا.
حارث نتاشا بیگم کی اولاد ہے یعنی میرا “سوتیلا بیٹا” مگر میں نے اس کو پیار دیا ہے. ڈانٹتا ضرور تھا مگر میں نے کبھی حارث سے نفرت نہیں کی _ ڈی ایم کی بات نتاشا بیگم سر ہاں میں ہلانے لگیں. جبکہ حارث نے باری باری ڈی ایم اور نتاشہا بیگم کی طرف دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو. جو اس نے سنا ہے وہ بالکل درست ہے. اب ماحول کافی حد تک سنجیدہ ہو گیا تھا. کیا میں بھی آپ کی سوتیلی بیٹی ہوں. حمنہ نے ڈی ایم کی طرف دیکھتے ہوئے سوال پوچھا. جس پر دونوں خاموشی سے اسے دیکھنے لگے. بتائیں نا کیا میں بھی آپ کی سوتیلی بیٹی ہوں…..؟؟ حارث آپ کا سوتیلا بیٹا ہے تو کیا پھر میں نتاشا بیگم کی سوتیلی بیٹھی ہوں……؟؟ حمنہ پہلی دفعہ اداس ہوئی تھی یا ڈی ایم کو لگی. نہیں تم ہم دونوں میں سے کسی کی بیٹی نہیں ہو. ڈی ایم نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا تو پہلی دفعہ حدید کو جھٹکا لگا اس نے حیرت سے ڈی ایم کی طرف دیکھا کیونکہ یہ راز تو وہ بھی نہیں جانتا تھا. پھر میں کس کی بیٹی ہوں…..؟؟ حمنہ کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی. حمنہ تم اس بات کو جانے دو اور بس اتنا یاد رکھو کہ ہم دونوں نے تمہیں بہت پیار دیا ہے اور تمہیں اپنی بیٹی ہی سمجھا ہے. ڈی ایم نے کہتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا تو وہ انہیں ہی دیکھ رہا تھا. حدید، حیات کا چھوٹا بھائی ہے اور میں اچھے سے جانتا ہوں کہ یہ اس سے ملتا بھی ہے. حدید کے لیے یہ بات نئی نہیں ہے مگر حمنہ اور حارث کے لیے ضرور ہو گی. ڈی ایم کی بات پہ حارث نے حدید کی طرف دیکھا جب کہ حمنہ ابھی تک اپنے شاکڈ سے باہر نہیں نکلی تھی ورنہ ضرور کچھ کہتی. حدید میرا بھتیجا ہے. یہ بہت چھوٹا تھا جب حیات گھر چھوڑ کر گیا. میں نے حدید کو اپنے پاس رکھ لیا. میں نہیں چاہتا تھا کہ حیات ساتھ یہ بھی در در کی ٹھوکریں کھائے. ڈی ایم کی بات پر حدید نے گردن جھکا لی. تم تینوں میں سے کوئی بھی مجھے چھوڑ کے جانا چاہے تو جا سکتا ہے. تم اب بڑے ہو گئے ہو. تمہیں میری ضرورت نہیں رہی. اس لیے تم جانا چاہو تو جا سکتے ہو. میں نے اپنی ذاتی جائیداد تو حارث اور حمنہ کے نام کر دی ہے مگر تمہاری والدہ کی تمام جائیداد جوں کی توں تمہارے اور حیات کے نام پر موجود ہے. ڈی ایم کی بات پر کسی نے کوئی رد عمل نہیں دیا تو وہ خاموشی سے دروازے کی طرف دیکھنے لگے جیسے انہیں کسی کا انتظار ہو. میں نے تم سب لوگوں کو سچ خود ہی بتا دیا ہے.مگر سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ میں نے سب سے زیادہ حمنہ کو پیار کیا ہے. مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ تم کس کی بیٹی ہو اور کہاں سے آئی ہو. حیا ت تمہیں کدھر سے لایا تھا مگر میں نے تمہیں اپنی اولاد کی طرح پیار و محبت سے پالا ہے. اس بات کی گواہی نتاشہا بیگم دے سکتی ہیں. ڈی ایم نے حمنہ کے اترے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے نتاشا بیگم سے تصدیق چاہی جو انہوں نے فورا سر ہلاتے ہوئے دے دی. وہ مجھے کہاں سے لائے تھے……؟؟ بہت ہمت سے حمنہ نے یہ سوال کیا. حالانکہ اس کے گلے میں اس وقت آنسوؤں کا پھندا تھا. میں نہیں جانتا بس ایک دن حیات تمہیں کہیں سے اٹھا کر لایا تھا. اس کا کہنا تھا کہ تم اسے راستے میں ملی ہو. ہمارے گھر بیٹی جیسی نعمت نہیں تھی. اس لیے ہم نے تمہیں بہت پیار سے رکھ لیا. تمہیں اپنا نام دیا. اپنی پہچان دی اور تم خود بھی جانتی ہو کہ تمہیں حارث سے بھی زیادہ محبت ملی ہے. ڈی ایم نے حمنہ کے اداس چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلانے لگی. آپ کا مطلب ہے کہ میں ایس پی حیات کو کچرے کے ڈھیر سے ملی ہوں گی. میں یقیناً کسی کی ناجائز اولاد ہوں گی. حمنہ کے چہرے اور لہجے میں بہت دکھ جھلک رہا تھا دیکھو تم اتنی اداس نہ ہو. اتنی اداسی تمہیں اچھی نہیں لگتی. مجھے بھی آج ہی پتہ چلا ہے کہ میں ڈی ایم کو سوتیلا بیٹا ہوں لیکن میں نے تو اس بات کا برا محسوس نہیں کیا. حارث کو حمنہ سے ہمدردی ہوئی. اس نے اپنے طور پہ حمنہ کو تسلی دینے کی کوشش کی. وہ جانتا تھا کہ تسلی دینے میں ناکام ہے مگر پھر بھی وہ تسلی دے رہا تھا. جو گزر جاتا ہے. اسے دہرانا نہیں چاہیے. اس لیے تم اس بات کو چھوڑو کہ تمہیں حیات کہاں سے اٹھا کر لایا تھا. یہ تو میں بھی نہیں جانتا. اس سوال کا بہترین جواب حیات ہی دے سکتا ہے. لیکن میرے خیال سے تمہیں اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تمہیں کتنا پیار دیا ہے. اب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں. ہمیں ایک اچھی بیٹی کی ضرورت ہے.بے شک تم ایک بہت اچھی بیٹی ہو. ڈی ایم نے بہت نرمی اور محبت سے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کی آنکھیں رونے کو تیار تھیں. تم ہماری بیٹی ہو. یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا. نتاشا بیگم نے جلدی سے حمنہ کی طرف بڑھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا. وہ حمنہ کے ساتھ خود بھی آبدیدہ ہو گئی تھیں. یہ تو زیادتی ہے. مجھے تو آپ نے دلاسا نہیں کیا حالانکہ میرے لیے بھی یہ خبر نئی ہے. حارث نے نتاشا بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے ڈی ایم سے گلہ کیا. تو وہ اتنی پریشانی میں بھی مسکرانے لگے. میں جانتا ہوں. تم بہت بہادر ہو. تم اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اداس اور پریشان نہیں ہو گے. ڈی ایم کے جواب پر حارث خاموشی سے حدید کو دیکھنے لگا. یہ دوستی کے نام پہ دھبہ ہے. اس نے مجھے اصلیت نہیں بتائی. حارث نے غصے سے حدید کی طرف دیکھا جو ڈی ایم کو دیکھ رہا تھا. مجھے صرف اس بات کا جواب چاہیے کہ میری ماں کو کیا ہوا تھا…..؟؟ میں نمک حرام نہیں ہوں. میں ہمیشہ آپ کا وفادار رہوں گا اور اسی گھر میں رہوں گا. یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا. آپ نکالیں گے تب بھی نہیں جاؤں گا. مگر مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے. بہتر ہوگا کہ تم اس سوال کا جواب اپنے بھائی سے پوچھو کیونکہ اس سوال کا جواب دینے کی میں ہمت نہیں رکھتا. ڈی ایم نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا. 💰💰💰💰💰 . یار پلیز ایک دفعہ میری بات سن لے. حدید کوئی چوتھی بار حارث کو بلا رہا تھا. مگر وہ اس کی کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا. آج تُو میرے دکھ کا اندازہ نہیں کر سکتا. مجھے ایک ساتھ کئی جھٹکے ملے ہیں. میں سوتیلا ہوں حمنہ میری کچھ نہیں لگتی میرا دوست جو مجھے بھائی کی طرح عزیز تھا. وہ ایس پی حیات کا بھائی ہے.
کتنی عجیب بات ہے. جس کے ساتھ میں اپنی سب باتیں کر لیتا تھا. یہاں تک کہ ایس پی حیات اور حمنہ کو کوس بھی لیتا تھا اور وہ آگے سے خاموشی سے مجھے سنتا تھا. مجھے لگتا تھا شاید وہ میرے ساتھ بہت محبت کرتا ہے. جو یوں خاموشی سے میری باتیں سنتا ہے.
مگر حقیقت یہ نہیں تھی. بلکہ حقیقت اس کے برعکس تھی. وہ میری باتوں پر ہنستا تھا. میں کتنا بے وقوف اور گدھا ہوں. حارث نے کہتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا جب کہ حدید اسے بہت پریشان کن نظروں سے دیکھ رہا تھا.
حارث تم بالکل غلط سوچ رہے ہو. مجھے بھی بہت ساری باتوں کا علم نہیں تھا اور ابھی بھی نہیں ہے. بس اتنا پتہ تھا کہ حیات میرے بڑے بھائی ہیں. حدید نے کہتے ہوئے حارث کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو حارث نے ہاتھ جھٹک دیا.
مجھے تمہارے منہ سے کچھ نہیں سننا. کچھ بھی نہیں. فحال تم یہاں سے چلے جاؤ. مجھے اتنا دکھ اس بات کا نہیں کہ حمنہ میری بہن نہیں یا میں ڈی ایم کا سوتیلا بیٹا ہوں. مجھے صرف اس بات کا دکھ ہے کہ تم نے مجھے اپنا دوست نہیں سمجھا.
تمہیں مجھ پہ بالکل ترس نہیں آیا. تم مجھ سے اپنے دل کی باتیں کر سکتے تھے. جیسے میں تم سے کرتا تھا. مجھے تم پہ بہت اعتبار تھا. تم نے میرا اعتبار توڑا ہے. حارث نے مڑتے ہوئے حدید کی آنکھوں میں دیکھا
تم اتنی سنجیدہ باتیں کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ہو. کم از کم میرے حارث نہیں لگ رہے. حدید نے سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے حارث سے کہا
میں تمہارا حارث ہوں بھی نہیں اور عام حالات میں تو میں تمہیں بندر لگتا ہوں. حارث جتلاتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا.
حارث کے جاتے ہی حدید نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے اس پر میسج ٹائپ کیا اور حیات کو سینڈ کر دیا.
بھائی مصروف ہوں گے. پتہ نہیں میرا میسج کب پڑھیں گے. میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں. میرا دل بہت بوجھل ہو گیا ہے. حمنہ کے بارے میں تو بھائی نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا تھا. حدید نے نرم گھاس پر چلتے ہوئے دل میں سوچا تبھی اس کا موبائل زور سے بجنے لگا
خیریت ہے ایسی کون سی دھماکے دار خبر ہے. جو تمہیں ایک دن میں مجھے دو بار فون کرنا پڑا…..؟؟ کال اٹینڈ کرتے ہی حیات کی آواز سپیکر سے ابھری.
بھائی آپ کو حمنہ کہاں سے ملی تھی یا آپ نے ڈی ایم سے جھوٹ بولا تھا. آپ نے مجھے اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا. اب بتائیں نا حمنہ آپ کو کہاں سے ملی تھی…..،؟ حدید کے یوں اچانک پوچھنے پر حیات کے گرد وقت تھم سا گیا اور اسے اپنی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دینے لگیں.
آپ بولتے کیوں نہیں. جواب دیں ناااااا _ حدید نے کان سے موبائل ہٹاتے ہوئے سکرین کو دیکھا جس پر کال مسلسل چل رہی تھی. دو تین بار حیات کو پکارنے پر کال کٹ گئی. اب یہ کیا ہوا……؟؟ حدید نے ناگواری سے موبائل سکرین کو گھورا. ابھی وہ سکرین کو دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ ایک دم روشن ہو گئی اور اس پر حیات کالنگ لکھا آیا. تم سے یہ سب بکواس کس نے کی ہے. میرا مطلب ہے کہ تم نے یہ بات کس سے سنی ہے……؟؟ اب حیات کا لہجہ سنبھلا ہوا تھا. یہ بات ڈی ایم نے کہی ہے. اس لیے جھوٹ نہیں ہو سکتی. انہوں نے ہم سب کو اپنے پاس بلایا تھا اور بتایا کہ حارث ان کا سوتیلا بیٹا ہے. میں آپ کا بھائی ہوں اور حمنہ کو آپ کہیں سے اٹھا کر لائے تھے. حدید کے جواب پہ ایک دفعہ پھر خاموشی چھا گئی. فی الحال اس بات کو یہیں رہنے دو. اس بارے میں پھر بات کرتے ہیں. حیات نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی. سرپرائز تو آج میں نے رانا صاحب کو دینا تھا مگر میں تو خود ہی سرپرائز ہو گیا ہوں. حیات نے کہتے ہوئے موبائل اپنے ہاتھوں میں گھمایا تو اس کا دھیان حرا کی طرف گیا. او شٹ کہیں ایسا نہ ہو کہ حرا وہ لفافہ کھول لے. حیات کہتا ہوا تیزی سے اپنی چیزیں سمیٹتا آفس سے نکلا.
💰💰💰💰💰
اچھا تو یہ بات ہے حرا نے کہتے ہوئے بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگائی اور نیم دراز ہو گئی. تمہیں میری باتیں سن کر حیرت نہیں ہوئی …..؟؟ حمنہ کے پوچھنے پر حتا پھیکا سا مسکرائی. اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں نے ابھی ابھی کیا دیکھا ہے. تو “حیرت” بہت چھوٹا لفظ رہ جائے گا. حرا کے جواب پر حمنہ اپنا رونا بھولتی اس کی بات پر غور کرنے لگی. کیا تمہیں حیات نے مارا ہے…..؟؟ حرا نے انتہائی رازدلانہ لہجے میں پوچھا اس کی مجال کہ مجھے مارے اور تمہیں لگتا ہے کہ میں مار کھا لوں گی…..؟؟ حرا نے طنزاً ہنستے ہوئے پوچھا تو پھر تم نے ایسا کیا دیکھا….؟؟ حمنہ کے اصرار کرنے پر حرا نے انویلپ سے چند تصویریں نکالتے ہوئے بیڈ پر ترتیب دیں. ٹھہرو میں تمہیں ابھی کچھ سکرین شارٹ بھیجتی ہوں. مجھے یقین ہے کہ تم میں اتنی عقل تو ہوگی کہ تم کہانی کے ٹکڑے مکمل کر سکو کیونکہ میں بیان نہیں کرنا چاہتی. حرا نے کہتے ہوئے کال بند کی. ان تصویروں کی پکچر بنائی. ساتھ ایک پرانی اخبار کا پیس بھی موجود تھا اور شاید ایک ایف آئی ار کی کاپی بھی ان تمام کا پی ڈی ایف بناتے حرا نے حمنہ کو سینڈ کیا.
میرے خیال ہے کہ ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد تم اپنا دکھ بھول جاؤ گی کیونکہ یہ دکھ زیادہ بڑا ہے. مجھے حیات سے ہمدردی ہو رہی ہے اور تمہیں ڈی ایم انکل سے سمجھ نہیں آ رہی دونوں میں سے معصوم کون ہے اور مظلوم کون……؟؟ ہمیں کس کا ساتھ دینا چاہیے اور کس کا نہیں. اس بات کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے. فی الحال میرا سر چکرا رہا ہے. میں نے چند نوالے ناشتہ کیا ہے اور مجھے نیند بھی آ رہی ہے. حرا نے اپنا وائس نوٹ حمنہ کو سینڈ کرتے ہوئے موبائل بے دردی سے بیڈ پر پھینکا اور ساری چیزیں سمیٹتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھیں. خود اڑی ترچھی بستر پر لیٹ گئی. پتہ نہیں وہ کتنی دیر میں آئے گا. وہ آئے گا تبھی ان سوالوں کا جواب ملے گا. مجھے ان تمام سوالوں کا جواب جلد سے جلد چاہیے. حرا نے بیڈ شیٹ ہاتھوں سے نوچتے ہوئے اونچی آواز میں خود کلامی کی. پھر لمبے لمبے سانس بھرتے خود کو نارمل کیا اور دوبارہ اپنا موبائل پکڑتی رانا صاحب کا نمبر ڈائل کرنے لگی. کال پہلی بل پر ہی اٹینڈ ہو گئی. بابا حرا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ دوسری جانب سے رانا صاحب کی بے قرار آواز سنائی دی.
حرا تم کیسی ہو. تم ٹھیک ہو. تم نے ناشتہ کیا ہے. تم نے مجھے اتنی دیر سے کیوں کال کی……؟؟ اتنے ڈھیر سارے سوال یکے بعد دیگر انہوں نے پوچھے. جو ان کی محبت اور بے قراری کا ثبوت تھے.
ہاں میں ٹھیک ہوں. میں نے آپ کو اسی لیے کال کی تھی کہ میں آپ کو بتا دوں. آپ پریشان نہ ہوں. پھر رانا صاحب کو تسلی دیتے حرا نے کال بند کر دی.
سمجھ نہیں آ رہی کہ کس سے پوچھو اور کیسے…..؟؟ حرا نے اپنی کن پٹی کو دباتے ہوئے سوچا تبھی اسے گیٹ پر حیات کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا.
حرا بی بی!! جلدی کر اس سے پہلے کے گیم ساری خراب ہو جائے. حرا نے جلدی جلدی لفافے کو ترتیب دیتے ہوئے دوبارہ اسی انداز میں لفافہ بند کیا جیسے حیات بند کر کے گیا تھا اور خود لمبے سانس لیتی صوفے پر بیٹھ کر ایل ای ڈی آن کرنے لگی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے
