No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناشتے کی میز پر مکمل خاموشی تھی. سب اپنا اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف تھے. سوائے حمنہ کے جو وقفے وقفے سے حارث کو دیکھ رہی تھی.
ماما ایک بات پوچھوں ….؟؟؟ حمنہ نے سنجیدگی سے نتاشا بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بریڈ پر جیم لگاتی سر ہلانے لگی.
سیانے کہتے ہیں کہ جب کوئی لڑکی بہت لڑے جھگڑے یا بالکل خاموش ہو جائے تو اس کی شادی کر دینی چاہیے لیکن اگر یہی دونوں کام کوئی لڑکا کرے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے. …..؟؟ حمنہ کے سوال پر حدید مسکراتے ہوئے چائے پینے لگا جبکہ حارث نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
آپ دیکھ رہے ہیں یہ ہر وقت میرے بارے میں بکواس کرتی رہتی ہے اور کوئی اسے کچھ نہیں کہتا. میری اس گھر میں کوئی عزت نہیں ہے. کوئی میری بات نہیں سنتا. حارث نے غصے سے ناشتہ چھوڑتے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا
دیکھ رہا ہوں اور یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ حمنہ کہتی تو بالکل ٹھیک ہے. ڈی ایم کے جواب پہ حمنہ نے باقاعدہ قہقہ مارا.
ایک بات ہے آپ کی حسِ مزاح کمال کی ہے. ڈی ایم سچ میں آپ سپر انسان ہیں. حمنہ نے ڈی ایم کو داد دی جو انہوں نے بہت خوش اسلوبی سے رسیو کی.
آپ دونوں آج مجھے بتا ہی دیں کہ آپ نے مجھے کہاں سے اٹھایا تھا …..؟؟ کیونکہ کم از کم میں آپ کی اولاد نہیں ہوں. حارث نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا نتاشہ بیگم کا موڈ خراب ہو گیا.
کتنی بار بولا ہے کہ مذاق کو مذاق کی حد تک لیا کرو. یوں بڑی بڑی باتیں نہ بولا کرو. ظاہری سی بات ہے تم ہماری اولاد ہو تو اس گھر میں پائے جا رہے ہو. یہ کوئی بتانے والی بات ہے. آئندہ اگر تم نے ایسے بولا میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی. نتاشا بیگم نے ناشتہ چھوڑتے ہوئے جواب دیا.
پھر آپ اسے کچھ کہتے کیوں نہیں ہیں ….؟؟ حارث نے حمنہ کی طرف اشارہ کیا جو مزے سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھی.
کیا کہیں اسے وہ بالکل ٹھیک کہتی ہے. میں نے بھی یہ بات نوٹ کی ہے کہ تم بہت چڑچڑے ہو گئے ہو. اگر کوئی لڑکی پسند ہے یا عشق محبت کا چکر ہے تو ہمیں بتا دو. ڈی ایم نے ناشتہ ختم کرتے ہوئے سنجیدگی سے حارث کی طرف دیکھا
کیا مطلب ہے آپ کا _ “عشق محبت” _ ایسی کوئی بات نہیں ہے. بے شک حدید سے پوچھ لیں. حارث نے فوراً مدد طلب نظروں سے حدید کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا. ڈی ایم آپ یہاں پر غلطی کر رہے ہیں. میں نے یہ نہیں بولا کہ حارث کا کوئی چکر وکر ہے. یہ تو مکمل طور پر آپ پر انحصار کر رہا ہے. میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کی شکل کے ساتھ ساتھ اس کی حرکتیں تو دیکھی ہیں نااااااا لہذا یہ لڑکی پسند ہے میں بری طرح ناکام ہے. آپ ہی کو اس کے لیے کوئی لڑکی پسند کرنی پڑے گی.
ہاں البتہ حدید کے معاملے میں آپ بے فکر رہیں. اس پر تو پوری یونی کی لڑکیاں فدا ہیں.
ہے ناااااا حدید _ حمنہ نے معصومیت کے رکارڈ توڑتے ہوئے حدید سے پوچھا تو اسے کھانسی ہونے لگی دیکھا دیکھا ہے آپ نے اسے، یہ مجھے کیا کہہ رہی ہے ….؟؟ اچھا خاصا خوبصورت ہوں. ڈاکٹری کورٹ میں تو اتنا پیارا لگتا ہوں کہ لڑکیاں مجھے مڑ مڑ کر دیکھتی ہیں. حارث نے فوراً تب کر جواب دیا لڑکیاں تمہیں اس لیے مڑ مڑ کر دیکھتیں ہیں کہ تمہارے ساتھ حدید ہوتا ہے. اس لیے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو. حمنہ نے منہ چڑایا. خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے. میرا بیٹا بہت پیارا ہے اور لاکھوں میں ایک ہے. نتاشہ بیگم نے فوراً حارث کی سائیڈ لی. میں نے یہ کب کہا کہ یہ لاکھوں میں ایک نہیں ہے. ایسی چیزیں لاکھوں میں ایک ہی ہوتی ہیں. میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اپ اپنے لڑکے کے لیے کوئی لڑکی دیکھیں ورنہ یہ کام اگر کہیں تو میں کر سکتی ہوں. وہ بھی بہت اسانی کے ساتھ اور بالکل مفت حمنہ کی پیشکش پر سب نے اسے مڑ کر دیکھا
جو لڑکی یہ پسند کرے گی اس سے تو میں کسی بھی صورت شادی نہیں کروں گا. حارث نے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے صاف انکار کیا.
اگر تم میری بتائی ہوئی لڑکی سے شادی نہیں کرو گے. تو ڈیئر برادر ساری زندگی کنوارے رہو گے. کیونکہ کوئی لڑکی تمہیں پسند نہیں کرے گی نہیں اور تم میں اتنا ٹیلنٹ نہیں ہے کہ تم کسی لڑکی کو پٹا سکو.
رہی بات ڈی ایم اور ماما کی تو وہ یہ رزق نہیں لیں گے. لہذا جو لڑکی میں پسند کر رہی ہوں اس پر ہی ہاں کر دو اچھے اور مشرقی لڑکوں کی طرح حمنہ کے انداز پر حدید نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا
اچھا بتاؤ کون سی لڑکی تمہاری نظر میں ہے. میں بھی دیکھوں کیا وہ میرے بیٹے کے لائق ہے یا نہیں……؟؟ اب کی بار ڈی ایم نے مکمل سنجیدگی سے حمنہ کی طرف دیکھا.
ڈی ایم آپ کو کیا ہوتا جا رہا ہے. یہ جو بھی بکواس کرتی ہے. آپ اتنا سنجیدہ کیوں ہو جاتے ہیں ……؟؟ حارث نے احتجاج کیا جس پر ڈی ایم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا.
ڈی ایم یہ جو اپنی حرا ہے. کیا خیال ہے ہمارے حارث کے لیے وہ کیسی رہے گی. میرے خیال سے وہ حارث کو بالکل ٹھیک کر دے گی …..؟؟ حمنہ کی خوشی قابل دی تھی جبکہ باقی سب کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا.
کیا ہے. اب آپ سب اس طرح ری ایکٹ کو نہ کریں …..؟؟
حرا اچھی بھلی ہے، اکلوتی ہے، اس کا سٹیٹس بھی ہم سے ملتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ حارث سے زیادہ سمجھدار ہے .حمنہ نے فوراً حرا کی سائیڈ لیتے ہوئے دلائل دیے.
حرا اگر دنیا کی آخری لڑکی بھی ہو تب بھی میں اس سے شادی نہیں کروں گا. حارث نے احتجاج کرتے ہوئے کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا.
حارث یہ آفر محدود مدت کے لیے ہے. اس سے پہلے کہ اسے کوئی اور لے اڑے بہتر ہوگا کہ تم ہاں کر دو. اس سے زیادہ اچھی اور پیاری بیوی تمہیں ملنے والی نہیں. سمجھے حمنہ نے باقاعدہ دھمکی دیتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا. جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا جبکہ حدید دونوں بہن بھائیوں کی تکرار کو انجوائے کر رہا تھا.
ویسے مجھے بھی حرا میں کوئی برائی نظر نہیں آتی. وہ ہمارے گھر میں آتی جاتی رہتی ہے اور میرے خیال سے وہ حارث ساتھ ٹھیک لگے گی. مجھے تو اس رشتے میں کوئی خرابی نظر نہیں آ رہی. نتاشا بیگم نے بھی حمنہ کی سائیڈ لیتے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا جب کہ حارث نے ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے ہاتھ کمر پر رکھے
ماما آپ سے بولنے میں غلطی ہو گئی ہے. وہ آتی جاتی نہیں رہتی بلکہ وہ ہمارے گھر میں ہی رہتی ہے. مجھے اس سے شادی کر کے بالکل بھی اچھا محسوس نہیں ہوگا اور اگر وہ مکمل ہمارے گھر میں آگئی تو میں یہ بتاؤں کہ اس گھر کے امن و مان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا. حارث نے جیسے سب کو وارننگ دی
اوہہییییہہ یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا. حمنہ نے انتہائی مسکین شکل بناتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا تو سب بھی ہنسنے لگے.
میرے خیال سے حمنہ کی بات میں دم ہے. رانا صاحب کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں. اگر حرا اور حارث کا رشتہ ہو جاتا ہے. تو ہمیں بزنس میں بھی بہت مدد ملے گی. ڈی ایم نے اپنا فیصلہ سنایا.
مگر ڈی ایم حارث نے احتجاج کرنا چاہا جسے ڈی ایم نے انگلی کے اشارے سے روک دیا.
یہ لڑکی میرے بہت کام آئے گی. اس کی کوئی بھی بات ڈی ایم رد نہیں کرتے. حدید نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا
💰💰💰💰💰
سیون سٹار ہوٹل کے اس پر آسائش لاؤئچ میں بلیک تھری پیس پہنے، آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے، کلائی میں برینڈ گھڑی باندھے ایس پی حیات عالم انتہائی بوریت سے رانا صاحب کی گفتگو سن رہے تھے. بیزاری چہرے سے عیاں تھی. بالکل ویسے ہی جیسے رانا صاحب کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی.
میں پچھلے دس منٹ سے رانا صاحب آپ کی بات سن رہا ہوں اور میرے خیال سے آپ نے اس دس منٹ میں کوئی نئی بات نہیں کی.
جو بات پہلے کی تھی اسی کو الفاظ کا رد و بدل کر کے دوبارہ بیان کی ہے.
میری شرط اب بھی وہی ہے. جو پہلے تھی. ہاں البتہ اگر آپ میرا ایک کام کر دیں. تو میں بغیر کسی بھی معاوضے اور شرط کے آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ آپ کے بیٹے کو ازاد کروا دوں گا.
جیسے یہ حیات کے منہ سے یہ الفاظ نکلے رانا صاحب اور ان کے ساتھ بیٹھے وکیل صاحب نے چونک کر حیات عالم کی طرف دیکھا یہاں تک کہ حیات عالم کے پیچھے کھڑے فراز کی حالت بھی ان دونوں سے مختلف نہیں تھی.
آپ حکم کریں. جو بھی آپ کا کام ہوگا میں سب سے پہلے اور ہر قیمت پہ وہ کروں گا کیونکہ مجھے اپنے بچے کی جان بچانی ہے. رانا صاحب نے جذبات میں آکر فوراً حیات عالم کے آگے ہتھیار ڈالے تو ایک شاطرانہ مسکراہٹ حیات کے لبوں کو چھو گئ.
میں بات ایک ہی دفعہ کرتا ہوں دہراتا نہیں .اس لیے غور سے سنیے گا.
میں سات سال کا تھا. جب میرے والدین مجھ سے بچھڑ گئے. مجھے کوئی تجربہ نہیں ہے کہ ایسی بات کیسے کرتے ہے …..؟؟
امید ہے کہ آپ کو میری بات ایک ہی دفعہ میں سمجھ آ جائے گی. بات کچھ یوں ہے کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں. مجھے نہیں پتہ رشتہ لے کر کیسے جاتے ہیں اور لڑکی والوں کو کیسے مناتے ہے …..؟؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میری اس بات سے آپ کا کیا لینا دینا.تو عرض ہے کہ آپ کا بہت قریبی لینا دینا ہے.
کیونکہ میں آپ کی بھتیجی ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں. تو یہ کام کیسے ہوگا مجھے نہیں پتا. بس مجھے بارات کا دن بتا دینا. میں بارات لے کر آجاؤں گا.
جیسے ہی آپ کی بھتیجی میرے گھر پہنچے گی. ویسے ہی آپ کا بیٹا آپ کے گھر پہنچ جائے گا. حیات کی بات کسی دھماکے کی طرح رانا صاحب اور فراز کے سر پر پھٹی. ان میں سے کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ حیات یہ کہنے والا ہے.
مگر بات کچھ یوں ہے کہ حرا بچپن سے میرے بیٹے کی منگیتر ہے اور رانا صاحب عجیب شش و پنج کا شکار ہو گے تھے. لیکن رانا صاحب کے جواب نے حیات کو بہت مزہ دیا تھا. اچھاااااااا تو آپ دونوں بھائیوں نے یہ سوچا ہوگا کہ آپ دونوں کی اولاد بھی ایک ہو جائے گی. تو بزنس کہیں نہیں جائے گا اور خوب پھلے پھولے گا.
پلینگ تو آپ کی اچھی تھی مگر کیا کریں بیچ میں میں آگیا. ویسے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کے بزنس کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ پہنچاؤں گا. ہاں آپ کی بھتیجی کو خوش رکھوں گا یا نہیں اس کی میں کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا.
وہ کیا ہے ناااااا _ کہ میری پہلی شادی ہے. مجھے تجربہ نہیں کہ لڑکیوں کو کیسے خوش رکھا جاتا ہے. حیات کے چہرے پر عجیب سا تاثر تھا جسے رانا صاحب کے ساتھ ساتھ باقیوں نے بھی محسوس کیا. میں اب چلتا ہوں. آپ کے جواب کا انتظار رہے گا لیکن یاد رکھیے گا کہ یہ میں نے آپ کو دوسرا چانس دیا ہے. جو کہ میں عموماً دیتا نہیں ہوں. میری طرف سے آپ ہی رشتہ لے کر اپنے بھائی کے گھر چلے جائیے گا. بس مجھے یہ بتا دیجیے گا کہ بارات کس دن لانی ہے.حیات نے کہتے ہوئے کوٹ کا بٹن بند کیا اور باہر کی طرف بڑھ گیا جبکہ رانا صاحب اور اس کا وکیل ہکا بکا اسے جاتا ہوا دیکھنے لگے تم نے تو کہا تھا کہ یہ بندہ لالچی ہے. پیسے کے علاوہ اور کوئی ڈیمانڈ نہیں کرتا. تو پھر اب رانا صاحب نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے فراز کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا.
رانا صاحب آپ میری بات کا یقین کریں. میں نے اج تک حیات عالم کو ایسی بات کرتے ہوئے کسی سے نہیں سنا. وہ تو لڑکیوں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں. پتہ نہیں پھر انہیں آج کیا ہوا …..؟؟ فراز خود بھی انتہائی الجھا ہوا تھا
کیا آپ کی بھتیجی بہت خوبصورت ہے. چند لمحے خاموشی کے بعد وکیل صاحب نے پوچھا تو رانا صاحب انتہائی غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے.
وہ لڑکی میرے بیٹے کی منگیتر ہے اور میری بھتیجی بھی، میں یہ کیسے کر سکتا ہوں. ناممکن …..؟؟ پوری طاقت سے انہوں نے مکہ ٹیبل پر مارا.
فراز مجھے کوئی تیسرا آپشن ڈھونڈ کر دو. ورنہ تمہاری خیر نہیں. رانا صاحب فراز کو وارننگ دیتے نکل گئے جب کہ فراز نے خود کو دو شیروں کے درمیان بری طرح پھنستا ہوا محسوس کیا.
سر اپ کو گاڑی میں بلا رہے ہیں.فراز ابھی اپنی سوچوں میں گم تھا کہ گارڈ نے آ کر فراز کو ہلایا. جس پر وہ مرے مرے قدم اٹھاتا پارکنگ کی طرف چل دیا.
میں نے خوشی سے لوگوں کو روتے دیکھا ہے. ان کی انکھوں سے انسو نکل آتے ہیں لیکن آج پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ خوشی سے کسی کی ٹانگوں سے جان بھی نکل سکتی ہے. حیات نے فراز کو گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر کہا تو وہ خاموشی سے دروازہ بند کرنے لگا
سر بات یہ نہیں ہے کہ آپ شادی کر رہے ہیں. مجھے آپ کی شادی کی خوشی ہے مگر آپ کو اچانک رانا صاحب کی بھتیجی سے شادی کرنی ہے. مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ہی کیوں ….؟؟ فراز نے بالاخر اپنے دل کی الجھن زبان سے بیان کی تو حیات مسکرانے لگا
کیا میں تمہیں کوئی دل پھینک قسم کا انسان لگتا ہوں ….؟ حیات کے پوچھنے پہ فراز نے نہ میں سر ہلایا
کیا آج تک تم نے مجھے کسی لڑکی کو چھیڑتے یا اسے ہراساں کرتے دیکھا ہے ……؟ حیات کے دوسرے سوال پر بھی فراز نے نفی میں سر ہلایا
تو پھر سمجھ لو کہ میری شادی کا وقت ہوا چاہتا ہے. ویسے بھی میں اکیلے رہ رہ کر تنگ پڑ گیا ہوں. میں چاہتا ہوں کہ میرے اتنے بڑے بنگلے میں کوئی چوں چاں ہونی چاہیے.
کیا میں غلط ہوں …..؟؟ اپنی بات کے آخر میں حیات نے انتہائی معصومیت سے فراز کی طرف دیکھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ” ہاں” میں سر ہلایا جس پر حیات ہنسنے لگا
چوں چاں تو بنگلے میں ایسی ہوگی کہ حرا بی بی یاد رکھیں گی. میں نے آج تک کبھی کسی کی دھمکی برداشت نہیں کی اور مجھے دھمکی دینے والا کوئی پیدا بھی نہیں ہوا. حیات نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے خیالوں میں حرا کو مخاطب کیا.
کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی
بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
💰💰💰💰💰
میرے خیال سے حرا اتنی بھی بری لڑکی نہیں ہے جتنا تو ری ایکٹ کر رہا ہے. حدید نے حارث کو کمرے کی چیزیں الٹ پلٹ کرتا دیکھ کر کہا تو حارث نے اپنا ہاتھ روکتے ہوئے اسے مڑ کر دیکھا
اگر وہ اتنی اچھی لڑکی ہے. تو تُو اس سے کیوں نہیں شادی کر لیتے ……؟؟
بیٹھےبیٹھائے امیر ہو جاؤ گے.ویسے بھی تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے .تو میری مانو گھر داماد بن جانا. حارث کے اس انتہائی جلے کٹے جملے پر حدید کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر خاموشی سے دوبارہ لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرنے لگا. دونوں کے درمیان خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا.
سوری میں ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا. بس غصے میں منہ سے نکل گیا. حارث نے حدید کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے معذرت کی. نہیں مجھے برا نہیں لگا. حدید نے کندھے سے حارث کا ہاتھ ہٹایا. اچھا سوری نااااااا اب کی بار حارث نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے حدید کا رخ اپنی طرف کیا.
حارث تو میرے بارے میں کیا جانتا ہے. میرا مطلب ہے کہ تیری میرے بارے میں کیا رائے ہے …….؟؟ اب کی بار حدید نے مکمل سنجیدگی سے حارث سے پوچھا
تو ایک بہت اچھا انسان ہے اور میں تیرے بارے میں بس اتنا ہی جانتا ہوں. حارث نے کہتے ہوئے ٹیبل ساتھ ٹیک لگائی.
نہ میں اتنا اچھا ہوں اور نہ ہی میں اتنا سیدھا ہوں. جتنا تم لوگ مجھے سمجھتے ہو. حدید کے جواب پر حارث خاموشی سے اسے دیکھنے لگا.
یار حرا میں کوئی برائی نہیں ہے مگر نہ تو میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں اور نہ ہی میں فی الحال شادی کرنا چاہتا ہوں. میری بات کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہا. حارث نے بے بسی سے حدید کی طرف دیکھا.
ہو سکتا ہے شادی کی بات تیرے سارے مسئلے حل ہو جائیں. وہ جس لڑکی کا نام ” حرا احمد” ہے نا اچھی خاصی مددگار ثابت ہو سکتی ہے. حدید کے جواب بے حارث پھیکا سا مسکرایا
بقول تیرے وہ جس لڑکی کا نام ” حرا احمد” ہے ناااااا _ وہ مسئلے حل نہیں کر سکتی. ہاں البتہ مسئلے پیدا کر سکتی ہے. سائنس اور ڈاکٹری روح سے فی میل صرف چیزیں پیدا کر سکتی ہیں. انہیں حل نہیں. حارث کے جواب پر حدید مسکرانے لگا تبھی دروازے پر دستک ہوئی. کیا ہم دونوں “اپنے” ہی گھر میں موجود ہیں ……؟؟ دستک کی آواز سنتے ہی حارث نے حیرت سے حدید کی طرف دیلھا جس نے ہاں میں سر ہلایا تو پھر ہمارے گھر میں اتنا تمی، دار کون ہے جو دستک دے کر اندر آنے کی اجازت لے ……؟؟ ابھی چند منٹ پہلے تک تو اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق موجود نہیں تھی. جو اتنی تمیزدار ہو. حارث کے جواب حدید نے دوبارہ دروازے کی طرف دیکھا جہاں مستقل دستک ہو رہی تھی. آجاؤ حارث نے باآواز بلند کہا
صاحب جی نیچے ڈرائنگ روم میں حمنہ بی بی آپ کو بلا رہی ہیں. دروازہ کھلتے ہی ایک ملازم اندر داخل ہوا.
ابے تیری ایسی کی تیسی، اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی. جیسے روز اپنا منہ اٹھا کے ہمیں ڈرانے آ جاتا ہے. چپ کر کے آج بھی آجاتا. حارث نے اسے دیکھتے ہی غصے سے کہا
حمنہ بی بی نے کہا تھا کہ دستک دے کر اندر جانا. ملازم نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بتایا.
نیچے ڈرائنگ روم میں حمنہ بی بی کے ساتھ کون ہے …..،؟ اب کی بار حدید نے سوال کیا.
ان کی دوست حرا بی بی ہیں. دونوں کسی بات پر بحث کر رہی ہیں. ملازم کے بتانے پر حارث نے بے دلی سے حدید کی طرف دیکھا
میرے خیال سے موقع اچھا ہے. تجھے اپنے دل کی تمام باتیں حرا سے کہہ دینی چاہیے. ہو سکتا ہے کہ تجھے ” نہ” کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور وہ “نہ” کر دے. حدید کی بات پر حارث کے تیور بگڑ گئے.
میرے ” نہ” کرنے کی تو سمجھ آتی ہے. مگر اس کے “نہ” کرنے کی تک نہیں بنتی. مجھ جیسا لڑکا اسے کہاں ملے گا …..؟؟ حارث نے کہتے ہوئے باہر کا قدم بڑھائے پھر کچھ سوچ کر پلٹا
تو یہاں اکیلا بیٹھ کر کیا کرے گا. چل تو بھی میرے ساتھ چل. حارث نے پلٹتے ہوئے حدید کی طرف ہاتھ بڑھایا.
میں وہاں بیٹھ کے کیا کروں گا. میرا کیا کام حدید نے انکار کیا. اچھا اب تو بھی مجھے نخرے دکھائے گا. حارث نے رک کر اس کی طرف دیکھا لہجہ ناراض ناراض ساتھ تھا. ایک تو تُو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ناراض ہو جاتا ہے. حدید نے کہتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا. جس پر حارث مسکرا دیا. مجھے تمہارا وہ لنگور جیسا بھائی بالکل پسند نہیں. کوئی پرسنلٹی نہیں ہے. اس بندے کی __ حرا یہ خوبصورت جملہ ادا کر رہی تھی جب حدید اور حارث ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے.
محترمہ آپ کی انفارمیشن میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ میں آپ کے لیے مرا نہیں جا رہا. مجھے صرف قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے. ورنہ میرا بس چلے تو تمہیں کسی ایسے سیارے پہ چھوڑ آؤں کہ تم تو تم تمہاری آواز بھی اس گھر تک نہ پہنچے. حارث نے آتے ہی جارحانہ انداز میں حرا کو جواب دیا. جب کہ حدید نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
