No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
شدید گرمی اور حبس کے موسم میں یہ خبر بارش کی ننھی بوندوں کی طرح میرے موڈ پر پھوار بن کر برس رہی ہے. حمنہ نے خوشی سے سیٹ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا
حمنہ کی بچی گاڑی خراب ہو گئی ہے. تم نے شاید کچھ اور سنا ہے. جو اتنا خوش ہو رہی ہو. حارث نے غصے سے بونٹ بند کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جو اب مزے سے باہر ہاتھ نکالے اسے ہلا رہی تھی.
میں نے بالکل درست سنا ہے کہ ہماری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور اب میں کالج نہیں جا سکوں گی. مطلب آج میری کالج سے چھٹی ہے. حمنہ کہتی ہوئی گاڑی سے باہر آ گئی.
کم از کم آج اس منحوس سر کی شکل نہیں دیکھنا پڑے گی. پتہ نہیں کیوں مگر میں لڑکیوں کی پڑھائی کے سخت خلاف ہوں. یہ کام لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا. حمنہ نے گاڑی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا جب کہ حارث گندے ہاتھ کپڑے سے صاف کرتا ہوا مسلسل مسکرا رہا تھا.
ہیوی بائک چلانا، تیراکی کرنا، پہاڑوں پر چڑھنا، گن شوٹنگ کرنا یہ سب کام تو جیسے لڑکیوں کے لیے ہی بنے ہیں. حارث نے کہتے ہوئے کپڑا سائیڈ پر رکھا اور اپنا موبائل نکالنے لگا
خبردار خبردار! جو تم نے کسی کو کال کی، خاص طور پہ اپنے اس دوست کو حمنہ نے تیزی سے حارث کے ہاتھ سے موبائل چھینا.
تم پاگل ہو گئی ہو ……؟ ہم بے وقوفوں کی طرح کب تک یہاں کھڑے رہیں گے…..؟ حارث نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
جب تک کالج کا وقت ختم نہیں ہو جاتا. حمنہ کا اطمینان قابل دید تھا.
کیا ااااااا……؟؟ حارث نے تقریباً چیختے ہوئے کہا
زیادہ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہے. میرے پاس بہت سارا لنچ ہے. ساتھ میں مزے سے کھائیں گے اور خوب باتیں بھی کریں گے. ویسے بھی کافی دن ہو گے تم نے مجھے اپنا کوئی کارنامہ نہیں سنایا.
تمہاری آفر کا بہت شکریہ حارث نے کہتے ہوئے دوبارہ اپنا موبائل حمنہ کے ہاتھ سے چھین لیا.
تم دنیا کے سب سے برے بھائی ہو. مجھے تم سے نفرت ہے. حمنہ کہتی ہوئی دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گئی جب کہ حارث سر نفی میں ہلاتا DM کو کال ملانے لگا
میری DM سے بات ہو گئی ہے. وہ تھوڑی دیر میں دوسری گاڑی بھیج دیں گے. میں نے لوکیشن سینڈ کر دی ہے. حارث نے حمنہ کے برابر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے بتایا تو وہ اپنا چہرہ پھیر گئی.
ایک تو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جاتی ہو اور لڑنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو. کالج نہیں جانا تھا تو گھر سے نہ آتی. یوں سڑک پر خراب گاڑی کے اندر بیٹھنا کون سی عقل مندی ہے …..؟؟ حارث نے حمنہ کی پونی چھیڑتے ہوئے اسے منانا چاہا
تم بالکل اچھے بھائی نہیں ہو. میری خوشی تم سے برداشت نہیں ہوتی ہے حالانکہ لوگ اپنی بہنوں کی خوشی کی خاطر کیا کچھ نہیں کرتے ……؟؟ کچھ تو سات سمندر پار بھی چلے جاتے ہیں. ہمنہ کی بات پر حارث نے اچھل کر اس کی طرف دیکھا
میں تمہارے لیے اتنا تو کر سکتا ہوں کہ سات سمندر پار چلا جاؤں بلکہ میں یہ کرنے کو تیار ہوں. تم پلیز DM سے بات کر لو. حارث نے حمنہ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی.
تم “کمینے” انسان ہو. حمنہ بڑبڑائی.
“ذلیل” بھی ساتھ لگا لو. یہ لفظ اکیلے اچھا نہیں لگتا. حارث نے فوراً جملہ مکمل کیا اور اپنی بات کو خود ہی انجوائے کرتا ہوا سٹیرنگ پر انگلیاں چلانے لگا
یہ پیانو نہیں ہے حمنہ نے اس کی انگلیوں کو ہلتا ہوا دیکھ کر طنز کیا.
پتہ ہے مگر کیا کروں جب میرے شوق کو تم سب لوگوں نے مل کے دفنا دیا ہے تو کبھی کبھی اس پہ فاتحہ پڑھ لیتا ہوں. حارث نے ایک سرد آہ بھری
تمہارے شوق ہی میراثیوں والے ہیں تو ہم کیا کریں …..؟؟ DM نے تو تمہارے لیے اچھا ہی سوچا ہے کہ تمہیں ڈاکٹر بنا دیں حالانکہ تم اس کے قابل نہیں ہو.
شکر کرو کہ تمہیں ایک اچھا دوست ملا ہے جس کے بل بوتے پر تم یہاں تک پہنچ گئے ہو ورنہ حمنہ نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ سامنے سے وائٹ کرولا آتی ہوئی دکھائی دی. جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر حدید کو بیٹھا دیکھ کر حمنہ کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے. حارث جو اپنی ہی دنیا میں مست پیانو بجا رہا تھا. ہارن کی آواز پر چونکا. حدید گاڑی لایا ہے. حمنہ نے آہستہ سا بتاتے ہوئے اپنی طرف کا دروازہ کھولا شکر ہے کہ تو آگیا ورنہ کچھ دیر میں ہماری لڑائی شروع ہونے والی تھی. حارث، حدید کو شکایت لگاتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا جس پر وہ حسب عادت مسکرایا. سفید شلوار قمیض پہننے وہ حمنہ کو ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت پیارا لگا. تم گاڑی میں بیٹھو میں آتا ہوں. حدید، حمنہ کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود حارث ساتھ کھڑا ہو گیا. سچ بتا کیا معاملہ ہے. گاڑی رات تک تو بالکل ٹھیک تھی …..؟ حدید نے بونٹ پر بیٹھتے ہوئے حارث کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھا پٹرول ختم ہو گیا ہے. حارث کے جواب پر حدید نے سر نفی میں ہلایا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا. مجھے چھوڑ کر کہاں جا رہا ہے …..؟؟ حارث نے حدید کو جاتا دیکھ کر آواز لگائی. حمنہ کو کالج چھوڑنے اور تیرے لیے پٹرول کا بندوبست کرنے حدید کہتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا جب کہ حارث گاڑی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنا موبائل دیکھنے لگا
وہ مجھے آج کالج نہیں جانا. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حمنہ نے مدد طلب نظروں سے حدید کی طرف دیکھا
کیوں …..؟؟ حدید نے نرمی سے پوچھا (یہ ہمیشہ میرے ساتھ کتنی نرمی اور پیار سے بات کرتا ہے اور وہ حارث اسے سوائے لڑنے کے کچھ نہیں آتا. حمنہ دل میں سوچتی اسے دیکھنے لگی)
بتاؤ ناااااا آخر تم نے کالج کیوں نہیں جانا …..؟؟ حدید نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا وہ مجھے بائیو کا ٹیسٹ نہیں آتا. حمنہ نے فوراً جھوٹ بولا اچھا مگر تمہاری بائیو تو بہت اچھی ہے. ہمیشہ ہی اس مضمون میں تم بہت اچھے نمبر لیتی ہو. یہ ماننے والی بات تو نہیں. حدید کو کچھ عجیب سا لگا ہاں مگر اب مجھے اس مضمون کی سمجھ نہیں آتی ہے. حمنہ کو حدید سے باتیں کرنا ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتا تھا مگر وہ بہت مصروف رہتا تھا تو وہ بات نہیں کر سکتی تھی. تم نے یہ بات DM کو بتائی ہے. حدید نے سڑک پر دیکھتے ہوئے پوچھا نہیں حمنہ نے یک لفظی جواب دیا
کیوں تمہیں بتانی چاہیے تھی تاکہ تمہارا مسئلہ حل ہو سکتا. وہ تمہارے لیے کوئی ٹیوشن ارینج کر دیتے. حدید کے جواب پہ حمنہ کی آنکھوں میں ایک عجب سی چمک ابھری.
ہائے یہ آئیڈیا تو مجھے آیا ہی نہیں. میں نے سوچا اگر انہیں بتایا تو وہ مجھے کوئی ٹیوشن لگا دیں گے اور مجھے پڑھنا پڑے گا. حمنہ کے جواب پر حدید نے اسے حیرت سے دیکھا
میں نے بھی یہی کہا ہے پھر ان دونوں باتوں میں کیا فرق ہوا …..؟؟ حدید کی حیرت پر حمنہ کھل کر مسکرائی.
فرق یہ ہوا کہ میں بھول گئی تھی کہ ٹیوٹر آپ جیسا بھی تو ہو سکتا ہے. میرا مطلب ہے کہ آپ بھی تو مجھے پڑھا سکتے ہیں. آخر آپ ڈاکٹر بن رہیں ہیں. آپ کو تو بائیو اچھے سے آتی ہوگی. حمنہ کے جواب پر حدید نے اسے گھورا.
میں تمہیں ہرگز نہیں پڑھاؤں گا. تم پڑھتے وقت بہت زیادہ تنگ کرتی ہو. حدید کے صاف انکار پر وہ ناراضگی کا اظہار کرتی گاڑی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ حدید کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کام بھی اسے ہی کرنا پڑے گا کیونکہ وہ ڈی ایم کو نہ نہیں بول سکتا کم از کم اپنا مطلب پورا ہونے تک تو بالکل بھی نہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا.
💰💰💰💰💰
سر جی یہ رانا صاحب کے کیس کی فائل ہے. فراز نے مودبانہ انداز میں کہتے ہوئے فائل حیات کے سامنے رکھی.
فراز تمہیں میرے ساتھ کام کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے ….؟؟ حیات نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا
سر تقریبا چھ ماہ فراز نے خوشی سے جواب دیا.
تم اتنے گدھے ہو کہ ان چھ ماہ میں یہ نہیں جان سکے کہ میں فائل کبھی نہیں دیکھتا بلکہ _ حیات نے جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے فراز کی طرف دیکھا سر آپ کیس دیکھیں گے تو تبھی پتہ چلے گا نااااااا کہ کیا ڈیمانڈ کرنی ہے …..؟؟ فراز نے فوراً اپنی پوزیشن صاف کی. کیس کیا ہے …..؟؟ حیات نے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے پوچھا جب کہ وہ خود مزے سے کرسی پر جھول رہا تھا. سر ڈبل مرڈر کیس ہے. ایک ڈاکٹر اور اس کی اسسٹنٹ کا قتل ہوا ہے. فراز کے جواب پر حیات کے چہرے پر انتہائی خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی. مطلب اب نئی گاڑی خریدنے کا وقت ہوا چاہتا ہے. حیات نے اپنے کلائی پر بندھی انتہائی مہنگی گھڑی میں ٹائم دیکھا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. چار کروڑ اور وہ جتنی زیادہ بحث کرے گا اتنا پیسہ بڑھتا جائے گا. حیات نے ایش ٹرے میں اپنا سگریٹ مسلا اور موبائل اٹھایا. مگر سر فراز نے بے چینی سے پہلو بدلا
میں کیس کو ایسا رخ دوں گا کہ اس سے کچہری تک کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا.
اسے کہو کہ ایک کروڑ پیشگی دے اور تم رقم وصول ہوتے ہی ایف ائی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹ دینا.
تب تک ایف ائی آر کو روک کر رکھو. حیات کہتا ہوا تھانے سے نکلتا چلا گیا جب کہ وہاں پر موجود سارا عملہ اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھنے لگا
عجیب اس بندے کی قسمت ہے سرعام رشوت لیتا ہے مگر پھر بھی اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور یہ جس پر ہاتھ ڈالے اسے کوئی بچا نہیں سکتا.
میں نے بہت افسروں کے ساتھ کام کیا ہے مگر اس جیسا قسمت کا لکی انسان کبھی نہیں دیکھا. فراز نے اپنے جونیئر کو فائل تھماتے ہوئے تبصرہ کیا جس پر وہ سر ہلانے لگا
💰💰💰💰💰
کیا بات ہے آج گھر میں بڑی خاموشی ہے. آپ کی اولاد گھر پر نہیں ہے کیا …..؟؟ DM نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے نتاشا بیگم سے پوچھا
حمنہ تو حرا ساتھ گئی ہے کہہ رہی تھی کسی دوست کی سالگرہ ہے. ہم جلدی واپس آ جائیں گے اور حارث کو تو آپ جانتے ہی ہیں وہ حدید کے ساتھ ہوتا ہے. نتاشہ بیگم نے سالن کا ڈونگا آگے کرتے ہوئے جواب دیا
بیگم ایک بات ہے یہ جو لڑکا حدید ہے نا یہ مجھے بہت زیادہ پسند ہے. ہم نے اسے اپنے گھر رکھ کر کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا بلکہ سچ پوچھو تو حدید کی وجہ سے ہی آج حارث بھی ڈاکٹر بننے والا ہے.
میں نے سوچا ہے کہ میں ایک ہسپتال بناؤں گا وہ نام تو حارث کے ہوگا مگر چلائے گا حدید کیونکہ حارث میں اتنی قابلیت نہیں ہے. DM نے پر سوچ انداز میں کہتے ہوئے سالن پلیٹ میں نکالا
آپ جو سوچ رہیں ہیں. وہ میں اچھے سے جانتی ہوں. ہسپتال بنانا آپ کا بہت پرانا خواب ہے لیکن اب یہ حقیقت بننے والا ہے آپ پریشان نہ ہوں. نتاشہ بیگم نے DMکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی.
آپ نے وہ خبر سنی ہے جو صدر میں ایک ڈاکٹر اور اس کی اسسٹنٹ کو کسی نے گولیاں مار دی ہیں. نتاشہ بیگم نے کھانا کھاتے ہوئے ڈی ایم کی طرف دیکھا
ہاں آج آفس میں سرسری سی خبر آنکھوں کے سامنے سے گزری تھی. مگر میں نے زیادہ دلچسپی نہیں لی کیونکہ اس کیس میں رانا صاحب کا بیٹا شامل ہے اور تم تو جانتی ہی ہو کہ ہمارے ان سے کیسے کاروباری تعلقات تھے. لہذا دور رہنا ہی بہتر ہے.
ویسے بھی یہ کیس حیات کے ہاتھ میں ہے. تو سمجھو کہ کیس حل ہی حل ہے. اس کیس میں اب کچھ نہیں بچتا.
ایک تو بیٹا رانا کا ہے اور دوسرا یہ کیس جس تھانے کی حدود میں آ رہا ہے اس کا ایس پی حیات ہے لہذا سب ٹھیک ٹھاک ہے. DM نئے پراسرار سی مسکراہٹ ساتھ نتاشہ بیگم کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا دیں.
💰💰💰💰💰
حرا کی بچی گاڑی آہستہ چلا اگر تو نے کسی کو ٹھوک دیا تو DM ہمیں ٹھوک دے گا. حمنہ پچھلے 15 منٹ سے حرا کو مسلسل گاڑی آہستہ چلانے کی تلقین کر رہی تھی.
یار اتنی زبردست گاڑی ہے تو مجھے اپنے ایمان سے بتا اس کو آہستہ چلانے کا دل کرتا ہے. نہیں نااااااا _ ابھی حرا، حمنہ سے بات کر ہی رہی تھی کہ اچانک گاڑی سامنے آنے پر اس نے بریک لگائی مگر گاڑی اگلی گاڑی ساتھ جا ٹکرائی. میں تجھے کتنی دیر سے منع کر رہی تھی کہ گاڑی آہستہ چلا اور یہ کیا اس پر تو سبز نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے. مطلب کسی سرکاری افسر کی گاڑی ہے اب تو خیر نہیں. حمنہ کا رنگ پیلا پڑنے لگا تھا ایک تو تُو فوراً ڈر جاتی ہے. اتنے بڑے باپ کی بیٹی ہے. اس کے باوجود _ اس سے پہلے کہ حرا مزید کچھ کہہ کر حمنہ کا حوصلہ بڑھاتی کہ ایک یونیفارم میں ملبوس بندے نے اس کی سائیڈ کا شیشہ کھٹکھٹایا
بی بی ذرا باہر تشریف لائیں انداز خاصہ مودبانہ تھا مگر تاثرات بہت سنجیدہ تھے.
آپ بتائیں کیا کہنا ہے. ہم سن رہے ہیں.باہر آنا ضروری ہے کیا …..؟؟ حرا نے اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے سپاہی سے بحث شروع کی.
آپ جانتی ہیں کہ آپ نے کس کی گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے. یہ گاڑی ایس پی حیات عالم کی ہے.
اچھا اور یہ ایس پی حیات عالم کون ہیں …..؟؟ حرا کا لہجہ خاصہ تمسخرا نہ تھا.
آپ ایس پی حیات عالم کو نہیں جانتی. سپاہی کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی جبکہ حرا کے چہرے پر بے شمار مسکراہٹ اور وہ نہ میں سر ہلا رہی تھی.
گاڑی کا نمبر نوٹ کرو اور گاڑی کو جانے دو حیات نے ایک نظر مڑ کر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر دیکھتے ہوئے سپاہی کو حکم دیا.
آپ کی قسمت اچھی ہے. جو صاحب اپے کو جانے کا بول رہے ہیں. سپاہی نے احسان جتلانے والے انداز میں کہتے ہوئے گاڑی کا نمبر نوٹ کیا.
تعریف کا شکریہ __ حرا نے گاڑی کا شیشہ اوپر کرتے ہوئے زن سے گاڑی آگے بھگا دی جبکہ حیات گزرتی گاڑی کو دیکھ کر مسکرانے لگا اور یہ بات خطرناک تھی.
💰💰💰💰
