No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
ادھر بیٹھو اور بتاؤ کہ تم ٹھیک ہو…..؟ رانا صاحب نے محبت سے حرا کو اپنے پاس صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
میں بلکل ٹھیک ہوں. آپ بار بار یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں. اپنے جذبات کو دباتے ہوئے حرا نے قدرے مسکرا کر رانا صاحب کی طرف دیکھا
شکر ہے. میں تو ڈر ہی گیا تھا. رانا صاحب نے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے جواب دیا.
( ڈر تو میں گئی ہوں. حرا نے دل میں سوچتے ہوئے گردن جھکائی) .
تم پریشان نہ ہو اور اگر حیات میرے بارے میں کچھ بھی غلط کہے تو یقین مت کرنا. وہ بہت دھوکے باز انسان ہے. رانا صاحب کا لہجہ ان کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا.
اتنا بڑا بزنس مین اپنی بیٹی کی نظروں میں گرنے کے ڈر سے کتنا کمزور لگ رہا ہے……؟ حرا نے رانا صاحب کے لڑکھڑاتے لہجہ کو سنتے ہوئے سوچا
آپ کو کیا لگتا ہے. کوئی بھی منہ اٹھا کر، آپ کے بارے میں کچھ بھی بکواس کرے گا _ اور میں یقین کر لوں گی…..؟؟ حرا نے پراعتماد لہجے میں کہتے ہوئے رانا صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا. تو ان کا چہرہ دھمکنے لگا مجھے اپنی بیٹی سے یہی امید تھی. تم نے ایسا بول کر میرا دل ہلکا کر دیا ہے. اب میں بہت اچھا اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں. رانا صاحب نے حرا کا ماتھا چومتے ہوئے کہا اچھا پاپا میں زرا حمنہ سے مل آؤں پھر اکھٹے کھانا کھاتے ہیں. حرا کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی. ٹھیک ہے اور سنو فکر مت کرنا میں تمہیں، زیادہ دن اس کے گھر رہنے نہیں دوں گا. رانا صاحب کی تسلی پر وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی. بوجھل دل ساتھ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی. دروازہ بند کرتے ہی اس کے ساتھ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. موبائل اس کی گود میں بجنے کی وجہ سے بیک گراؤنڈ میوزک دے رہا تھا. سمجھ نہیں آتی کس کو الزام دوں. اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی. عجیب بھنور میں پھنس گئی ہوں. میں پاپا کو سب سچ بتا کر ان کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتی مگر انہوں نے جو میرا دل توڑا ہے اس کے بارے میں کیا…….؟؟ میں نے ابھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا. نہ ہی حیات میرا آئیڈیل ہے. میں تو ابھی زندگی کو بہت انجوائے کرنا چاہتی تھی مگر سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے. پاپا مجھے جتنی مرضی تسلی دیں مگر میں جانتی ہوں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا.حیات اپنی مرضی کے بغیر مجھے طلاق کبھی نہیں دے گا . یہ کیا ہو گیا ہے .مذاق ہی مذاق میں سب بگڑ گیا. حرا نے روتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھاما اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی. میں اور حمنہ کتنا مزہ کرتے تھے. مگر اب سب بدل جائے گا. کاش وقت واپس لوٹ سکتا. حرا نے کہتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے. کچھ بھی ہو جائے مگر میں حیات کے آگے کبھی بھی اپنے پاپا کا سر نیچے نہیں ہونے دوں گی. وہ چاہے سارے زمانے کے لیے برے ہوں مگر میرے لیے وہ بہت اچھے ہیں. میں انہی کی وجہ سے اتنی اچھی زندگی جی رہی ہوں. ان کا نام ہی میری پہچان ہے. میں کبھی بھی نہیں مانوں گی کہ میرے پاپا نے کچھ کیا تھا. حرا خود کو تسلی دیتی اٹھ کھڑی ہوئی. چل حرا بی بی!! اپنا حلیہ تھوڑا درست کر اور جا کے حمنہ کی کہانیاں بھی سن پتہ نہیں اس نے بھی کیا کچھ سن رکھا ہے…..؟؟ حرا نے ہاتھ میں پکڑا موبائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور ہیر برش اٹھا لیا. اس سے پہلے کہ وہ اپنے بال درست کرتی اس کا موبائل بجنے لگا
اب کیا ہے. کوئی بم رہ گیا ہے جسے پھوڑنا باقی ہے……؟؟ حرا نے فون اٹینڈ کرتے انتہائی جلے کٹے لہجے میں پوچھا
تم میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہے. کم از کم کال تو تمیز سے اٹینڈ کرتا ہے. دوسری جانب سے حیات کی آواز سنائی دی.
یہ کال کرنے والے پر منحصر ہے کہ میں نے اس سے کس طرح بات کرنی ہے. بالوں پہ لگا بینڈ اترتے ہوئے حرا نے اپنے بالوں کو جھٹکا دیا.
میرے پاس تمہاری فضول باتوں کے لیے بالکل بھی وقت نہیں ہے اور نہ ہی بیلنس _ میں نے صرف یہ بتانے کے لیے کال کی تھی کہ میں ایک گھنٹے بعد آ رہا ہوں. تم اپنے گیٹ پر تشریف لے آنا. حیات کی بات پر حرا ہنسنے لگی. کیوں ایک گھنٹے بعد میرے گیٹ پر آپ نے شکرانے کی نیاز تقسیم کرنی ہے…….؟؟ حرا کا لہجہ طنزیہ تھا. نیاز کا تو پتہ نہیں مگر جو پیپرز تم نے دیکھے ہیں وہ ضرور تقسیم کر سکتا ہوں. اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے باپ کو ٹارگٹ نہ کروں تو شرافت سے گیٹ پر آ جانا. حیات نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی. مجھے تمیز کا بھاشن دے رہے تھے اور اپنی طرف دیکھو. حرا نے کان سے موبائل ہٹاتے ہوئے سکرین کو گھورا. ہائے حرا!!! اب تو سچ مچ شادی شدہ ہونے کی فیلنگز آ رہی ہیں. یہ منحوس مجھے اپنے روم میں رہنے نہیں دے گا. حرا نے اپنے کمرے پہ نظر دوڑاتے ہوئے حسرت سے کہا ابھی وہ اپنے روم کو دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک بار پھر اس کام موبائل بجنے لگا بولو لہجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا.
حرا میں ہوں. دوسری جانب سے حمنہ کی آواز سنائی دی.
اوہ سوری میں سمجھی کہ حرا نے کہتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا.
تم کیا سمجھی…..؟؟ حمنہ نے معصومیت سے پوچھا
کچھ نہیں میں آ رہی ہوں. ٹیرس کا دروازہ کھولو. حرا نے ٹیبل پر برش رکھتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے.
💰💰💰💰💰
حدید خاموشی سے ریسٹورنٹ میں بیٹھا ٹیبل کو گھور رہا تھا کہ ویٹر نے اس کے آگے کافی رکھی جس پر اس نے ایک نظر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے حیات کو دیکھا.
ٹھیک ہے آپ جائیں اگر کچھ اور چاہیے ہوا تو میں بتا دوں گا.حیات نے اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے ویٹر کو جانے کا کہا تو وہ باادب واپس پلٹ گیا.
پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو…….؟؟ حیات نے اپنی طرف کافی کا کپ کھینچتے ہوئے سنجیدہ لہجہ میں کہا
وہی جو اس دن میں نے فون پر آپ سے پوچھا تھا. حدید نے کہتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا.
اچھا اگر میں کہوں کہ حمنہ کسی شریف اور نیک ماں باپ کی اولاد نہیں ہے تو……؟؟
یا میں نے اسے کسی کوٹھے سے اٹھایا تھا تو……..؟؟
پھر تمہاری محبت مر جائے گی یا تم شادی سے انکار کر دو گے یا تمہیں وہ بری لگنے لگے گی یا حمنہ، حمنہ نہیں رہے گی…..؟؟ حیات نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے مسکرا کر پوچھا
مجھے اس وقت آپ کی مسکراہٹ زہر لگ رہی ہے حالانکہ میں ساری زندگی آپ کے لیے دعا گو رہا ہوں کہ آپ ہمیشہ مسکراتے رہیں. حدید کے جواب پر حیات نے بے ساختہ قہقہ لگایا یہاں تک کہ آس پاس ٹیبل پر موجود لوگوں نے ایک لمحے کے لیے اسے پلٹ کر دیکھا
بتا تو میں دیتا ہوں مگر تمہیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا. بہت ساری باتوں کے بارے میں لاعلم رہنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے. ویسے بھی تم بہت جذباتی ہو حالانکہ ایک ڈاکٹر کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے.
تم تو کہیں سے ڈاکٹر لگتے ہی نہیں. تمہیں کوئی ” شاعر “ہونا چاہیے یا “میوزیشن” ہاں یہ بات تو میں بھول ہی جاتا ہوں کہ حارث تمہارا بہترین دوست ہے.
حارث کو میوزک کا بہت شوق ہے. تو انسان اپنے دوست سے اثر تو قبول کرتا ہے. مجھے کبھی بھی مرد جذباتی اچھے نہیں لگتے. یہ جذباتی پن لڑکیوں میں وہ بھی کم عمر لڑکیوں میں اچھا لگتا ہے. حیات نے دوسرا سیپ بھرتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا.
آپ باتوں کو زیادہ سیر نہ کرائیں اور مجھے بتائیں کہ حمنہ کون ہے. آپ کو وہ کہاں سے ملی تھی اور آپ نے مجھے پہلے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا……؟؟ حدید نے اپنے سامنے رکھے موبائل کو ٹچ کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو سکرین روشن ہو گئی.
تم مجھے اس چیز کا احساس نہ دلاؤ کہ وقت کافی ہو گیا ہے. اپنے بڑوں کے ساتھ چالاکیاں نہیں کرتے. اگر تم بور ہو رہے ہو تو اٹھ کر چلے جاؤ. میں روکوں گا نہیں. حیات نے کافی کا کپ خالی کرتے ٹیبل پر رکھا.
آپ بات سیدھی کیوں نہیں کر رہے…. ؟؟ حدید نے تقریبا چڑتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی.
میں بات بالکل سیدھی کر رہا ہوں کہ تمہیں حمنہ کے ماضی سے کیا لگے. وہ تمہارے سامنے ڈی ایم کے گھر میں بڑی ہوئی ہے. اچھی تعلیم حاصل کی ہے. تم اسے مجھ سے بہتر جانتے ہو کیونکہ تم اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے رہے ہو کہ وہ بچی کیسی ہے…….؟؟
پھر تمہیں اس سے کیا لگے کہ وہ کون ہے. میں اسے کہاں سے لایا تھا…….؟؟
وہ آج بھی ڈی ایم کی ہی بیٹی ہے اور کاغذوں میں ہمیشہ اسی کی بیٹی رہے گی کیونکہ وہ کبھی بھی حمنہ سے دستبردار نہیں ہوں گے. حیات کی بات پر حدید خاموشی سے سر ہلانے لگا. مطلب بات اسے بہت بری لگی تھی.
ٹھیک ہے آپ نہیں بتانا چاہتے تو اپت کی مرضی _ حدید کہتا ہوا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. بیٹھ جاؤ میں نے تمہیں ابھی جانے کے لیے نہیں کہا. حیات کے کہنے پر حدید نا چاہتے ہوئے بھی واپس بیٹھ گیا. میں خود بھی نہیں جانتا کہ حمنہ کون ہے. کس کی بیٹی ہے. اس کا نام کیا تھا……؟؟ بس مسجد کے پاس کوئی اسے چھوڑ گیا تھا. میں نماز پڑھنے گیا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ آج کوئی مسجد کے بعد ایک بچی پھینک گیا ہے. میں نے وہ بچی مولوی صاحب سے لے لی کیونکہ ڈی ایم کی علاقے میں بڑی اچھی پوزیشن تھی. تو انہوں نے مجھے انکار نہیں کیا. میں نے اسے لا کر ڈی ایم کو دے دیا. بس حیات کے جواب پر حدید مطمئن تو نہیں ہوا مگر خاموش ہو گیا.
تمہیں لگ رہا ہوگا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہا. مجھے واقعی ہی نہیں معلوم کہ حمنہ کون ہے…..؟؟
بس یہ مجھے بہت خوبصورت لگی. چھوٹی سی ایسے جیسے خرگوش کا بچہ ہوتا ہے. گوری چٹی پنک پنک، مجھے اس پہ بہت پیار آیا اور میں گھر لے آیا. حیات کے جواب پر حدید نے ایک گہرا سانس خارج کیا.
چلیں میں آپ کی باتوں کو سچ مان لیتا ہوں حالانکہ دل نہیں مانتا. آپ نے مجھے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا…..؟؟ حدید کے اگلے سوال پر حیات ایک بار پھر مسکرانے لگا
تم کیا چاہتے ہو. میں تم سے معذرت کروں. معافی مانگو یا میں کہوں مجھ سے غلطی ہو گئی. مجھے تمہیں اس کے بارے میں بتانا چاہیے تھا.
میں نے ضروری نہیں سمجھا تو نہیں بتایا کہ یہ کوئی اتنی ضروری بات نہیں تھی کہ میں تمہیں بتاتا. حیات کی بات پر حدید نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا. پھر دونوں کے خاموشی چھا گئی.
آپ نے حرا کے بارے میں کیا سوچا ہے….؟؟ حدید کے سوال پر حیات کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی.
میں نے ابھی کچھ سوچا نہیں. فی الحال تو میں اس کے ذریعے صرف رانہا صاحب کو تنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ انہیں احساس ہو کہ جب ایک انسان اپنے اپ کو بے بس محسوس کرتا ہے تو اسے کیسا لگتا ہے……،؟ حیات کے لہجے میں زہر گھلنے لگا تھا.
اور اس سب میں حرا کا قصور حدید کے سوال پر حیات خاموشی سے اپنی چیزیں سمیٹتا اٹھ کھڑا ہوا. تم نے میرا اتنا دماغ خراب کیا ہے کہ اس کافی کا بل اب تم دو گے. حیات کے کہنے پر حدید نے سر ہاں میں ہلایا اور ہاں ” اس” کے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. میں اسے ٹارچر نہیں کروں گا کیونکہ میں عورتوں پر ظلم کرنے کے حق میں نہیں ہوں. حیات نے کہتے ہوئے حدید کا کندھا ٹیپ کیا اور باہر کی طرف جانے لگا پہلے تو اپ ایسے نہ تھے. حدید کی آواز پر حیات رک کر واپس مڑا. ہاں مگر اب میں ایسا ہو گیا ہوں. میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کی عزیز ترین چیز کوئی آپ سے چھین لے. تو آپ بے بسی میں کیا کچھ کر سکتے ہیں…..؟؟ رانا صاحب تو با اختیار ہیں. میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا. ایک “بیٹے” کے لیے جتنی اہمیت اس کی “ماں” کی ہوتی ہے. اتنی اہمیت ہی ایک “باپ” کے لیے اپنی “بیٹی” کی ہوتی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں کی محبت میں کیا کرتا ہے اور ایک باپ اپنی بیٹی کی محبت میں کیا کچھ کرتا ہے یعنی ایک باپ جیتا ہے یا ایک بیٹا حیات نے حدید کے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا تو حدید خاموش ہو گیا.
تم نے ماں دیکھی نہیں اس لیے تمہارے اندر وہ جذبات پیدا نہیں ہو سکتے. جو میرے اندر ہیں.
میں نے ماں کو دیکھا ہے.ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ ماں کا جنازہ بھی دیکھا ہے. میری پوری کوشش ہوگی کہ رانا صاحب اپنی بیٹی کا جنازہ نہ دیکھیں. باقی جو اللہ کا حکم حیات کہتا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا جب کہ حدید گم صم اسے جاتے دیکھتا رہا. 💰💰💰💰💰 حدید خاموشی سے ریسٹورنٹ میں بیٹھا ٹیبل کو گھور رہا تھا کہ ویٹر نے اس کے آگے کافی رکھی جس پر اس نے ایک نظر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے حیات کو دیکھا. ٹھیک ہے آپ جائیں اگر کچھ اور چاہیے ہوا تو میں بتا دوں گا.حیات نے اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے ویٹر کو جانے کا کہا تو وہ باادب واپس پلٹ گیا. پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو…….؟؟ حیات نے اپنی طرف کافی کا کپ کھینچتے ہوئے سنجیدہ لہجہ میں کہا وہی جو اس دن میں نے فون پر آپ سے پوچھا تھا. حدید نے کہتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا. اچھا اگر میں کہوں کہ حمنہ کسی شریف اور نیک ماں باپ کی اولاد نہیں ہے تو……؟؟ یا میں نے اسے کسی کوٹھے سے اٹھایا تھا تو……..؟؟ پھر تمہاری محبت مر جائے گی یا تم شادی سے انکار کر دو گے یا تمہیں وہ بری لگنے لگے گی یا حمنہ، حمنہ نہیں رہے گی…..؟؟ حیات نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے مسکرا کر پوچھا مجھے اس وقت آپ کی مسکراہٹ زہر لگ رہی ہے حالانکہ میں ساری زندگی آپ کے لیے دعا گو رہا ہوں کہ آپ ہمیشہ مسکراتے رہیں. حدید کے جواب پر حیات نے بے ساختہ قہقہ لگایا یہاں تک کہ آس پاس ٹیبل پر موجود لوگوں نے ایک لمحے کے لیے اسے پلٹ کر دیکھا بتا تو میں دیتا ہوں مگر تمہیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا. بہت ساری باتوں کے بارے میں لاعلم رہنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے. ویسے بھی تم بہت جذباتی ہو حالانکہ ایک ڈاکٹر کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے. تم تو کہیں سے ڈاکٹر لگتے ہی نہیں. تمہیں کوئی ” شاعر “ہونا چاہیے یا “میوزیشن” ہاں یہ بات تو میں بھول ہی جاتا ہوں کہ حارث تمہارا بہترین دوست ہے.
حارث کو میوزک کا بہت شوق ہے. تو انسان اپنے دوست سے اثر تو قبول کرتا ہے. مجھے کبھی بھی مرد جذباتی اچھے نہیں لگتے. یہ جذباتی پن لڑکیوں میں وہ بھی کم عمر لڑکیوں میں اچھا لگتا ہے. حیات نے دوسرا سیپ بھرتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا.
آپ باتوں کو زیادہ سیر نہ کرائیں اور مجھے بتائیں کہ حمنہ کون ہے. آپ کو وہ کہاں سے ملی تھی اور آپ نے مجھے پہلے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا……؟؟ حدید نے اپنے سامنے رکھے موبائل کو ٹچ کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو سکرین روشن ہو گئی.
تم مجھے اس چیز کا احساس نہ دلاؤ کہ وقت کافی ہو گیا ہے. اپنے بڑوں کے ساتھ چالاکیاں نہیں کرتے. اگر تم بور ہو رہے ہو تو اٹھ کر چلے جاؤ. میں روکوں گا نہیں. حیات نے کافی کا کپ خالی کرتے ٹیبل پر رکھا.
آپ بات سیدھی کیوں نہیں کر رہے…. ؟؟ حدید نے تقریبا چڑتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی.
میں بات بالکل سیدھی کر رہا ہوں کہ تمہیں حمنہ کے ماضی سے کیا لگے. وہ تمہارے سامنے ڈی ایم کے گھر میں بڑی ہوئی ہے. اچھی تعلیم حاصل کی ہے. تم اسے مجھ سے بہتر جانتے ہو کیونکہ تم اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے رہے ہو کہ وہ بچی کیسی ہے…….؟؟
پھر تمہیں اس سے کیا لگے کہ وہ کون ہے. میں اسے کہاں سے لایا تھا…….؟؟
وہ آج بھی ڈی ایم کی ہی بیٹی ہے اور کاغذوں میں ہمیشہ اسی کی بیٹی رہے گی کیونکہ وہ کبھی بھی حمنہ سے دستبردار نہیں ہوں گے. حیات کی بات پر حدید خاموشی سے سر ہلانے لگا. مطلب بات اسے بہت بری لگی تھی.
ٹھیک ہے آپ نہیں بتانا چاہتے تو اپت کی مرضی _ حدید کہتا ہوا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. بیٹھ جاؤ میں نے تمہیں ابھی جانے کے لیے نہیں کہا. حیات کے کہنے پر حدید نا چاہتے ہوئے بھی واپس بیٹھ گیا. میں خود بھی نہیں جانتا کہ حمنہ کون ہے. کس کی بیٹی ہے. اس کا نام کیا تھا……؟؟ بس مسجد کے پاس کوئی اسے چھوڑ گیا تھا. میں نماز پڑھنے گیا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ آج کوئی مسجد کے بعد ایک بچی پھینک گیا ہے. میں نے وہ بچی مولوی صاحب سے لے لی کیونکہ ڈی ایم کی علاقے میں بڑی اچھی پوزیشن تھی. تو انہوں نے مجھے انکار نہیں کیا. میں نے اسے لا کر ڈی ایم کو دے دیا. بس حیات کے جواب پر حدید مطمئن تو نہیں ہوا مگر خاموش ہو گیا.
تمہیں لگ رہا ہوگا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہا. مجھے واقعی ہی نہیں معلوم کہ حمنہ کون ہے…..؟؟
بس یہ مجھے بہت خوبصورت لگی. چھوٹی سی ایسے جیسے خرگوش کا بچہ ہوتا ہے. گوری چٹی پنک پنک، مجھے اس پہ بہت پیار آیا اور میں گھر لے آیا. حیات کے جواب پر حدید نے ایک گہرا سانس خارج کیا.
چلیں میں آپ کی باتوں کو سچ مان لیتا ہوں حالانکہ دل نہیں مانتا. آپ نے مجھے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا…..؟؟ حدید کے اگلے سوال پر حیات ایک بار پھر مسکرانے لگا
تم کیا چاہتے ہو. میں تم سے معذرت کروں. معافی مانگو یا میں کہوں مجھ سے غلطی ہو گئی. مجھے تمہیں اس کے بارے میں بتانا چاہیے تھا.
میں نے ضروری نہیں سمجھا تو نہیں بتایا کہ یہ کوئی اتنی ضروری بات نہیں تھی کہ میں تمہیں بتاتا. حیات کی بات پر حدید نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا. پھر دونوں کے خاموشی چھا گئی.
آپ نے حرا کے بارے میں کیا سوچا ہے….؟؟ حدید کے سوال پر حیات کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی.
میں نے ابھی کچھ سوچا نہیں. فی الحال تو میں اس کے ذریعے صرف رانہا صاحب کو تنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ انہیں احساس ہو کہ جب ایک انسان اپنے اپ کو بے بس محسوس کرتا ہے تو اسے کیسا لگتا ہے……،؟ حیات کے لہجے میں زہر گھلنے لگا تھا.
اور اس سب میں حرا کا قصور حدید کے سوال پر حیات خاموشی سے اپنی چیزیں سمیٹتا اٹھ کھڑا ہوا. تم نے میرا اتنا دماغ خراب کیا ہے کہ اس کافی کا بل اب تم دو گے. حیات کے کہنے پر حدید نے سر ہاں میں ہلایا اور ہاں ” اس” کے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. میں اسے ٹارچر نہیں کروں گا کیونکہ میں عورتوں پر ظلم کرنے کے حق میں نہیں ہوں. حیات نے کہتے ہوئے حدید کا کندھا ٹیپ کیا اور باہر کی طرف جانے لگا پہلے تو اپ ایسے نہ تھے. حدید کی آواز پر حیات رک کر واپس مڑا. ہاں مگر اب میں ایسا ہو گیا ہوں. میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کی عزیز ترین چیز کوئی آپ سے چھین لے. تو آپ بے بسی میں کیا کچھ کر سکتے ہیں…..؟؟ رانا صاحب تو با اختیار ہیں. میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا. ایک “بیٹے” کے لیے جتنی اہمیت اس کی “ماں” کی ہوتی ہے. اتنی اہمیت ہی ایک “باپ” کے لیے اپنی “بیٹی” کی ہوتی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں کی محبت میں کیا کرتا ہے اور ایک باپ اپنی بیٹی کی محبت میں کیا کچھ کرتا ہے یعنی ایک باپ جیتا ہے یا ایک بیٹا حیات نے حدید کے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا تو حدید خاموش ہو گیا.
تم نے ماں دیکھی نہیں اس لیے تمہارے اندر وہ جذبات پیدا نہیں ہو سکتے. جو میرے اندر ہیں.
میں نے ماں کو دیکھا ہے.ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ ماں کا جنازہ بھی دیکھا ہے. میری پوری کوشش ہوگی کہ رانا صاحب اپنی بیٹی کا جنازہ نہ دیکھیں. باقی جو اللہ کا حکم حیات کہتا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا جب کہ حدید گم صم اسے جاتے دیکھتا رہا. 💰💰💰💰💰 حدید گاڑی پارک کرتا ہے. جیسے ہی لان میں داخل ہوا. اسے سامنے سے حارث آتا دکھائی دیا. جو حدید کی طرف دیکھ کر واپس پلٹنے لگا حارث میری بات سنو حدید کے پکارنے پر وہ رکا مگر پلٹا نہیں.
کیا ہو گیا ہے. اب تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے. تمہیں پتہ ہے میں بہت پریشان ہوں. حدید نے حارث کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھ سے کہا
تو پھر میں کیا کروں…..؟ حارث نے پلٹتے ہوئے حدید کا ہاتھ پیچھے کیا.
تم پہلے کیا کرتے تھے. جب میں پریشان ہوتا تھا. اب کی بار حدید نے سوالیہ نظروں سے حارث کی طرف دیکھا
تب میں اور اپنے بہت فرق ہے. تب میں بےوقوف تھا. حمنہ ٹھیک کہتی ہے. میں تمہیں اپنا بھائی مانتا تھا. یہ ٹھیک ہے کہ میں تمہیں بہت ستاتا تھا. تنگ کرتا تھا مگر میں تم سے محبت بھی بہت کرتا تھا. اپنے جملے کی آخر میں وہ خود ہی مسکرایا.
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں میں پہلی بار اظہار محبت کسی “میل” سے کروں گا.
میں کسی لڑکے سے اظہارِ محبت کر رہا ہوں. اس سے زیادہ برا وقت مجھ پر اور کیا آئے گا کہ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ مجھے تم سے محبت تھی. مجھے تم سے محبت ہے.
میں چاہ کر بھی تم سے نفرت نہیں کر سکتا مگر فی الحال تمہاری شکل دیکھنے کو دل نہیں کر رہا. حارث نے کہتے ہوئے دیوار پر مکا مارا.
ہے تو کافی مزاحیہ خیز مگر مجھے اچھا لگا. مجھ سے بھی زندگی میں پہلی بار کسی لڑکے نے اظہارِ محبت کی ہے. حدید نہیں کہتے ہوئے سنجیدگی سے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیب میں ڈالے.
میرے آگے سے ہٹ جاؤ. اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ تم پر اٹھ جائے. میرا بالکل تمہاری شکل دیکھنے کو دل نہیں کر رہا بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے. اگر تم مجھے بتا دیتے تو مجھے حارث نے کہتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا. اگر میں تمہیں بتا دیتا تو تمہارا دل ٹوٹ جاتا. اول تو میں جانتا ہی نہیں تھا. اس بارے میں کچھ بھی اور جتنا میں جانتا تھا اتنا بھی تمہیں نہیں بتانا چاہتا تھا تاکہ تمہیں دکھ نہ لگے. حدید نے اپنے طور پہ صفائی دی حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس نے جان بوجھ کے اس کو اندھیرے میں رکھا تھا. تمہارے دل میں کبھی یہ سوال نہیں اٹھا کہ تم مجھ جیسے انسان کو دھوکہ دے رہے ہو……،؟ حارث نے اپنے الٹے ہاتھ سے حدید کو پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے پوچھا مگر حدید نے اپنے دفاع میں ہاتھ تک نہیں اٹھایا. اب جھوٹ مت بولو. تم حیات کے بھائی تھے. یہ بات تم مجھے نہیں بتا سکتے تھے اور اگر تمہارا ڈی ایم کے ساتھ کوئی اختلاف تھا یا کوئی جھگڑا لڑائی یا ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس کے بارے میں مجھے کچھ تو بتا سکتے تھے. ہمارا دن رات کا ساتھ تھا. دن اور رات کا سارا دن ہم اکٹھے گھومتے تھے. ایک پلیٹ میں کھاتے تھے اور رات کو ایک بستر پر سوتے تھے. حارث کی بات پر حدید نے خاموشی سے گردن جھکا لی.
میرا دل کرتا ہے کہ میں تمہیں اس گھاس پہ لٹا کر خوب ماروں. اتنا ماروں کہ میرا سارا غصہ نکل جائے.
تم اپنی خواہش پوری کر سکتے ہو. میں تمہیں رکوں گا نہیں. حدید نے جیب سے ہاتھ نکالتے ہوئے اپنے خالی ہاتھ حارث کو دکھائے.
مارو مجھے اب مارتے کیوں نہیں…..؟؟ حارث قریب سے گزرنے لگا تو حدید نے اسے روک لیا.
مصیبت یہ ہے کہ میں تجھ پہ ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتا حالانکہ دل تو کرتا ہے تیری شکل ہی بگاڑ دوں.حارث نے کہتے ہوئے اسے سائیڈ پر کیا.
حارث پلیز ناراضگی چھوڑ دو. اچھا میں تم سے معافی مانگتا ہوں ہر اس بات کی جس پہ تم مجھ سے ناراض ہو کیونکہ میں تمہارے جیسے دوست کو کھونا نہیں چاہتا.
مجھے تیری بکواس سننے کی عادت ہو گئی ہے. کتنے دنوں سے میری طبیعت خراب ہے. صرف اس لیے کہ میں نے تیری فضول قسم کی سٹوریاں اور مستقبل کی پلاننگ نہیں سنی. حدید کے بعد پر حارث جاتے جاتے پلٹا
اچھااااااا حارث اچھا پر زور دیتا رکا. اس سے پہلے کہ حدید کچھ سوچتا سمجھتا حارث نے ایک زوردار مکا حدید کے منہ پر مارا تو وہ اس کے منہ سے خون نکلنے لگا
سوری میں نے تجھے جان بوجھ کر نہیں مارا. میں تو بس ویسے ہی میرا خیال تھا کہ تو ہٹ جائے گا. اس کے ہونٹ سے خون نکلتا دیکھ کر حارث ایک دم اس کے قریب ہوا.
اگر ان چند خون کی بوندوں کے بدلے تو مجھ سے ہمیشہ کے لیے راضی ہو جائے. تو مجھے ان کا ذرا افسوس نہیں. حدید نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنا منہ صاف کرتے حارث کی طرف دیکھا. جس پر وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی کن پٹی دبانے لگا.
سالے حارث بس اتنا ہی کہہ پایا بہنوئی میں نے تجھے کتنی دفعہ کہا ہے. حدید کی تصحیح پر حارث مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گیا.
💰💰💰💰💰
اچھا تو یہ بات ہے. حمنہ نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلانے لگی
پھر اب تو کیا کرے گی…..؟؟ حمنہ نے گود میں کشن رکھتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا جو نیم دراز تھی.
میں نے کیا کرنا ہے. فلحال تو میں صرف تماشہ دیکھنے والوں میں ہوں. ایک طرف حیات ہے اور دوسری طرف پاپا میں تو درمیان میں ہوں. پتہ نہیں کون مجھے استعمال کر رہا ہے اور میں کس کے کام آ رہی ہوں. حرا کو اداس ہوتا دیکھ کر حمنہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا. میری طرف دیکھ، میں تجھ سے زیادہ پریشان ہوں مگر پھر بھی تیرے جتنی دکھی نہیں. تیرے بابا ہیں. کم از کم تیرے پاس تیری پہچان تو ہے. میرے پاس تو میری پہچان بھی نہیں ہے. پھر بھی میں خوش ہوں کیونکہ ڈی ایم مجھے بہت پیار کرتے ہیں. حممہ نے کہتے ہوئے اپنی گود میں رکھے کشن کی طرف دیکھا تو حرا اس کا ہاتھ پکڑتی اٹھ بیٹھی. تیرے خیال سے نتاشا آنٹی نے مارا ہوگا حیات کی ماں کو حرا نے کافی رازداری سے پوچھا.
میں اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں. ڈی ایم نے ہمیں پوری بات نہیں بتائی. حمنہ نے لاعلمی کا اظہار کیا.
مجھے تجسس ہے کہ کیا ہوا ہوگا مگر میں یہ بات پاپا سے پوچھ کے انہیں دکھی نہیں کرنا چاہتی. میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا ہے. اس بات سے بہت ڈرتے ہیں کہ مجھے ان کے ماضی کے بارے میں کچھ بھی پتہ چلے.
ویسے میں نے سوچا تھا کہ جب میں گھر جاؤں گی. تو پاپا سے بات کروں گی مگر پھر ان کی حالت دیکھ کر میں خاموش ہو گئی. حرا کی بات پر حمنہ اسے دیکھنے لگی.
یوں کیوں دیکھ رہی ہے. مجھے ڈر لگ رہا ہے کچھ تو منہ سے بول. حرا نے حمنہ کے آگے ہاتھ لہرایا.
یار میں سوچ رہی تھی اگر حدید سے پوچھا جائے تو _ حمنہ کی بات پر حرا نے اسے چونک کر دیکھا
ہاں اس بات کا تو مجھے خیال ہی نہیں آیا. حیات نے اپنے بھائی کو تو سب بتایا ہی ہوگا. اسے بلاتے ہیں. وہ اس وقت کہاں ہو گا….؟؟ حرا نے بستر سے اٹھتے ہوئے پوچھا
اتنی جلدی کیا ہے……؟؟ حرا کو یوں اٹھتا دیکھ کر حمنہ نے کشن بیڈ پر پھینکا
جلدی ہے کیونکہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. وہ آتا ہی ہوگا. اس سے پہلے کہ وہ آ کر کوئی تماشہ لگائے. ہمیں حدید سے بات کرنی ہے.
کون آتا ہوگا…..؟؟ حمنہ نے نا سمجھی سے حرس کی طرف دیکھا
تو چھوڑ ان ساری باتوں کو، چل حدید سے بات کرتے ہیں. شاید بات بن جائے. حرا، حمنہ کو گھسیٹتی کمرے سے باہر لے گئی.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
