Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

حدید کافی دیر سےگم صم بیٹھا حمنہ کو گھورے جا رہا تھا جبکہ وہ الجھی الجھی سی سوال حل کرنے کی کوشش میں لگی تھی.
حمنہ _ کافی دیر بعد حدید کی آواز کمرے میں گونجی. ہممممم بغیر نظر اٹھائے حمنہ نے ہنکار بھری.
سوال حل نہیں ہو رہا یا تم حل کرنا نہیں چاہ رہی کیونکہ سوال بہت آسان ہے اور اس میں اتنا وقت نہیں لگتا جتنا تم لے رہی ہو. حدید کی بات پر حمنہ منہ میں پینسل دبائے اسے دیکھنے لگی.
دونوں باتیں ہی ہیں. کافی سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا تو حدید مسکراتے ہوئے اس کے آگے سے رجسٹر اٹھانے لگا
نہیں ابھی نہیں
ابھی میں حل کر رہی ہوں. حمنہ نے فوراً حدید کا ہاتھ پیچھے کرتے رجسٹر اپنے ساتھ لگایا مجھے پتہ ہے تم یہ سوال حل نہیں کر سکتی. لاؤ مجھے دو میں بتاتا ہوں کہ یہ سوال کیسے حل ہوگا….،؟ حدید نے دوبارہ ہاتھ حمنہ کی طرف بڑھایا تو وہ رجسٹر اپنے پیچھے چھپا گئی. یہ کیا بات ہوئی بھلا حدید نے ناراضگی سے اس کی طرف دیکھا
بس یہی بات ہے. حمنہ نے دوبدو جواب دیا پھر دونوں کے درمیان خاموشی کا ایک وقفہ آ گیا. دونوں کے پاس سے کرنے اور کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا.
(حمنہ کی تاثرات سے تو نہیں لگتا کہ اسے کسی بات کا علم ہے یا حرا نے اس سے کوئی بات کی ہے. حدید نے ہحمنہ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے دل میں سوچا)
(یہ دیکھنے میں تو کسی بھی طرح چالاک یا مکار نہیں لگتا. نہ ہی ایسا لگتا ہے کہ اس کے حیات جیسے انسان ساتھ کوئی تعلقات ہوں گے. حرا نے بھی اپنے دل میں سوچتے ہوئے پینسل ہاتھوں میں گھمائی)
حمنہ تم نے ایک بار بولا تھا کہ تمہیں کوئی پسند ہے یعنی تم کسی لڑکے کو پسند کرتی ہو. حدید کی بات پہ حمنہ نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھا.
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ جس لڑکے کو وہ شروع سے پسند کرتی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ “حدید” ہی ہے.
تم مجھے بتاؤ میں تمہاری مدد کروں گا. حدید نے کھوجتی نظروں سے حمنہ کی طرف دیکھا. جو اب کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی.
دیکھو ڈی ایم نے تمہارے لیے کوئی لڑکا دیکھا ہے اور وہ تمہاری حارث ساتھ ہی شادی کرنا چاہتے ہے. اگر تم اپنے من پسند شخص ساتھ شادی کرنا چاہتی ہو تو اس سلسلے میں، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں. حدید نے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے اسے آفر دی.
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. حمنہ نے صاف انکار کیا اور دوبارہ اپنا رجسٹر نکال کر اس پر سوال حل کرنے لگی.
تم مجھ پہ اعتبار کر سکتی. حدید نے یہ جملہ جان بجھ کر کہا
اچھاااااااا حمنہ نے کچھ سوچتے ہوئے رجسٹر ند کیا اور حدید کی طرف دیکھنے لگی.
آپ ڈی ایم کو کہاں سے ملے تھے. میرا مطلب ہے کہ ڈی ایم آپ کو کہاں سے لائے تھے یا آپ ہمارے گھر کیسے آئے…..؟؟ حمنہ کے سوال پر حدید نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
ظاہری سی بات ہے. آسمان سے سیدھا آپ ہمارے گھر تو نہیں گرے ہوں گے ناااااا
آخر آپ کسی سٹیشن پر تو نازل ہوئے ہوں گے. میرا مطلب ہے کہ کوئی تو آپ کے ماں باپ ہوں گے.
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے. آپ کو اپنے گھر ہی دیکھا ہے. ڈی ایم نے ہمیشہ یہی بتایا کہ آپ حارث کے دوست ہیں. حمنہ کی بات پر حدید سر ہلانے لگا
اب ایسی کون سی آفت آن پڑی ہے کہ تمہیں میرے بارے میں جاننا ہے…..؟؟ میرے ماں باپ کے بارے میں جان کر تم کیا کرو گی…..؟؟ حدید نے ہمیشہ کی طرح بہت نرمی اور پیار سے پوچھا
میں ویسے ہی پوچھ رہی تھی. آپ نہیں بتانا چاہتے تو نہ صحیح _ حمنہ کندھے اچکاتی دوبارہ رجسٹر پر کچھ لکھنے لگی. جب کہ حدید 20 سال پیچھے چلا گیا. وہ بھی کیا دن تھا حدید نے زیر لب دہرایا تو حمنہ اسے دیکھنے لگی.
کون سا دن…..؟؟ حمنہ کے پوچھنے پہ حدید ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا.
کچھ نہیں بس ویسے ہی
دکھاؤ سوال حل ہوا یا نہیں…..؟؟ اب کی بار اس سے پہلے کہ حدید رجسٹر پکڑتا حمنہ نے اس کے آگے اپنا رجسٹر کر دیا. دیکھا میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ یہ سوال تم سے حل نہیں ہوگا حدید کہتا ہوا سوال حل کرنے لگا لگتا تو کچھ ایسے ہی ہے کہ یہ سوال مجھ سے حل نہیں ہوگا مگر میں نے اسے حل کرنا ہے. حمنہ اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی. “جواب دیتا ہے میرے ہر ایک سوال کا وہ مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا” 💰💰💰💰💰 مجھے یہ بات کیوں ہضم نہیں ہو رہی کہ ایک چھوٹی سی لڑکی میرے ماضی تک کیسے پہنچ سکتی ہے……؟؟ حیات نے سامنے بیٹھے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا آپ بتا رہے ہیں یا پوچھ رہیں ہیں. تھوڑی وضاحت کر دیں تاکہ مجھے جواب دینے میں آسانی ہو. حدید نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا تو حیات نے کھڑکی سے باہر گرتی بارش کی طرف دیکھا. بھائی میں نے آپ کو پہلی دفعہ اتنا پریشان دیکھا ہے. کیا ہو گیا ہے…..؟؟ وہ لڑکی کچھ نہیں کر سکتی. عجیب بے وقوف ہے وہ اور اس کی دوست صاحبہ _ دو پہاڑا تو آتا نہیں. آپ کو خاک نقصان پہنچائی گی. دونوں ایک نمبر کی بے وقوف ہیں. انہیں ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا کرنے کو ملنا چاہیے. وہ ہر کام بغیر سوچے سمجھے کرتیں ہیں. ان کا ٹائم تھوڑا اچھا گزر جاتا ہے. اور بس، نہ تو ان کے ذہن اور دل میں کوئی چالاکی ہوتی ہے. نہ سازش اور نہ ہی وہ کسی کے خلاف کوئی جال بنتی ہیں. بس اپنی زندگی کو انجوائے کرنا جانتی ہیں. حدید کے جواب پر حیات نے ایک زوردار تالی بجائی اور عجیب نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے دوبارہ باہر کی طرف دیکھنے لگا. کیا میں نے قابل تعریف بات کی ہے……؟؟ حدید کا انداز سوالیہ تھا. ہاں تبھی تو میں نے تمہاری تقریر پر تالی بجائی ہے اور میری تالی بجانے پر کوئی “غلام” یا “جن” تو حاضر ہونے سے رہا کہ بتائیے آقا کیا حکم ہے……؟؟ ابھی حیات نے اتنا ہی کہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی. جس پر دونوں نے حیرت اس طرف دیکھا. آپ خواہ مخواہ اپنے آپ کو degrate کر رہے تھے. دیکھیں کوئی نہ کوئی دروازے پر حاضر ہو گیا ہے. حدید نے کہتے ساتھ ہی اندر آنے کی اجازت دی تو ایک ملازم باآدب انداز میں اندر داخل ہوا. صاحب نیچے حوالدار فراز آیا ہے اور آپ کا پوچھ رہا ہے…؟ ؟ ملازم کے جواب پر حیات نے حیرت سے وال کلاک کی طرف دیکھا. جہاں رات کے نو بج رہے تھے. وہ اس وقت کیوں آیا ہے…..؟؟ فراز کے پوچھنے پر ملازم نے لاعلمی کا اظہار کیا اچھا اسے چائے پانی دو اور ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ. میں ابھی آتا ہوں. حیات کے کہنے پر ملازم سر ہلاتا کمرے سے باہر چلا گیا. حدید تم مجھے پتہ کر کے دو کہ اس لڑکی کو میرے بارے میں اتنی ساری اور سچی معلومات کس نے دی ہیں…..؟؟ مجھے یہ ہر صورت جاننا ہے. حیات کہتا ہوا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. میں کوشش کروں گا. حدید بھی ساتھ ہی کھڑا ہو گیا. تم کوشش نہیں کرو گے. تم مجھے معلوم کر کے دو گے کیونکہ وہ لڑکی اچھی خاصی خطرناک ہے. حیات نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا خیر اب آپ زیادتی کر رہے ہیں. خطرناک تو بالکل بھی نہیں ہے. میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں. ہمارا بچپن ساتھ گزرا ہے. وہ ہمارے ہمسائے میں رہتی ہے. میں نے اس میں کبھی بھی کوئی ایسی چیز نوٹ نہیں کی. جسے ہم خطرناک کہہ سکیں. پتہ نہیں وہ آپ کو کیوں خطرناک لگ رہی ہے…..؟؟ حدید کی بات پر حیات نے اسے آبرو اچکا کر دیکھا خیریت آج بڑی سائیڈ لے رہے ہو. آخر کیا لگتی ہے تمہاری حیات کے تاثرات تنے ہوئے تھے.
وہ میری سالی لگتی ہے. حدید نے شرارتی انداز میں جواب دیا جس پر حیات نے سر نفی میں ہلایا اور باہر کی طرف جانے لگا پھر کسی خیال کے تحت پلٹا
کبھی سالے کی بھی خبر لے لیا کرو کہ وہ کیا کرتا پھرتا ہے…..؟؟ حیات کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا.
سالا مطلب حارث اب اس نے کیا کیا ہے…..؟؟ حدید نے پیچھے سے آواز لگائی مگر تب تک دروازہ بند ہو گیا تھا. مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ میں کہاں پھنس گیا ہوں لگتا ہے میں ایک شادی شدہ ” عورت” ہوں.
یہ میرا “میکہ” ہے اور وہ ” سسرال” میکے والوں کی سسرال سے نہیں بنتی اور سسرال والوں کی میکہ سے حدید کہتا ہوا دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا اور چائے کے ساتھ پڑے لوازمات ساتھ انصاف کرنے لگا. تبھی اس کا موبائل بجا کہاں مر گیا ہے….؟؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی ہر اس کی غصیلی آواز سپیکر سے ابھری فلحال تو زندہ ہوں. ابھی میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں. آخر میں نے تیری شادی بھی تو دھوم دھام سے ہوتے ہوئے دیکھنی ہے. حدید نے طنز کرتے ہوئے بسکٹ پلیٹ سے اٹھایا یقین مان اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ تیرے جیسے دوست ہوں نا تو دشمن کی ضرورت ہی نہیں پڑتی. میں اس وقت اتنی تیز طوفانی بارش میں یہاں بیٹھا تیرا شدت سے انتظار کر رہا ہوں. فرض کر کہ اگر مجھے بارش میں سردی لگ جائے اور میں بیمار پڑ جاؤں تو پھر تو کیا کرے گا…..؟؟ حارث کے سوال پر حدید نے سر ہلایا میں کیا کروں گا میں صرف فاتحہ ہی پڑھ سکتا ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہوگا. حدید نے چہکتے ہوئے جواب دیا. تو اس وقت کیا کر رہا ہے …..؟؟ حارث نے تپ کر پوچھا ایک دفعہ مشتاق یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ ” ہم اپنا شمار ان نارمل افراد میں کرتے ہیں. جن کو کھیل کے وقت کھیل اور کام کے وقت بھی کھیل ہی اچھا لگتا ہے.” حدید نے موسم کو انجوائے کرتے ہوئے جواب دیا سچ بتا نا ناااااا کہاں ہے….؟؟ حرا گھر آئی ہوئی ہے اور وہ مجھ سے بات بھی کرنا چاہتی ہے. میں چاہتا ہوں کہ تو بھی آ جا حارث کی بات پر حدید کو پھندا لگتے لگتے بچا میں تم دونوں مستقبل کے میاں بیوی کے درمیان کیا کروں گا…..؟؟ حدید نے بمشکل چائے کا گھونٹ نیچے اتارتے ہوئے پوچھا تو میری مدد کرے گا اور کیا کرے گا اور یہ تو کہاں پر ہے…..؟؟ حارث نے کوئی تیسری بار پوچھا تو حدید نے چائے کا کپ خالی کرتے ٹیبل پر رکھا. میں اپنے ایک دوست کے پاس آیا تھا. بارش بہت طوفانی ہے تو یہیں پر رک گیا ہوں. شاید میں آج رات گھر نہ آؤں. حدید نے موسم کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا. جس پر حارث نے غصے سے کال کاٹ دی. سب کے سب بے غیرت دوست ہیں خاص طور پر وہ جنھیں آپ خود پالتے ہیں ابھی حدید موبائل سکرین کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اس پر حارث کا میسج جگمگانے لگا
جانا ہی پڑے گا. محبوبہ کی طرح بلیک میل کر رہا ہے. حدید نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی چیزیں ٹیبل سے اٹھائیں.
💰💰💰💰
ٹھیک ہے پہلے تم بولو. میں سن رہا ہوں. حارث نے حرا کے آگے ہار مانتے ہوئے کہا تو حرا نے خوش ہو کر حمنہ کی طرف دیکھا.
دیکھو اگر تم چاہتے ہو کہ ہماری زندگی خوشگوار گزرے تو تمہیں میری کچھ باتوں پر عمل کرنا ہوگا.
اب تم انہیں بے شک ” شرائط” سمجھو یا جو بھی حرا نے اپنی پونی ہلاتے ہوئے کہا یہ شرائط کتنے صفات پر مشتمل ہیں. میرا مطلب ہے کہ آپ کی یہ شرائط کتنے نکات رکھتی ہیں. کیا یہ 14 نکات سے زیادہ ہیں. کیا یہ تاریخی اہمیت بھی رکھتی ہیں….؟؟ حارث کے پوچھنے پر حمنہ نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی جبکہ حرا نے اسے غصے سے گھورا. نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے.حرا نے صاف انکار کیا. ٹھیک ہے تم بولو میں سن رہا ہوں. حارث نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا صرف سننا نہیں ہے بلکہ نوٹ بھی کرنا ہے. ٹھیک ہے
اپنی بات کے آخر میں حرا نے تصدیق چاہی.
تم بولو میں نوٹ کر رہا ہوں….؟؟ حارث بیزار بیزار سا دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا.
کہاں نوٹ کر رہے ہو. مجھے تو تمہارے ہاتھ میں کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی….؟؟ حرا نے حارث کے خالی ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو بادل نا خواستہ حارث نے قریب پڑا اپنا فون اٹھایا اور اس پہ ٹائپ کرنے لگا
ہاں ٹھیک ہے یہ چلے گا. تم سکرین شاٹ لے کر مجھے بھی سینڈ کر دینا. حرا کے کہنے پرحارث نے سر ہلایا
دیکھا تم نے میرا بھائی کتنا فرمانبردار ہے. تمہیں میرے بھائی جیسا شوہر دنیا میں کہیں نہیں مل سکتا. کتنی فرمانبرداری سے وہ تمہارے آگے سر ہلا رہا ہے ایسا تو ہمارا ” ٹونی” بھی نہیں کرتا. حارث جو دل ہی دل میں حمنہ کی بات پر خوش ہو رہا تھا اس کی آخری جملے پر تپ گیا.
تمہیں شرم نہیں آتی. مجھے ” کتے” ساتھ ملا دیا ہے. حارث نے ایک دم موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے . اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگا.
تمہیں تو خوامخواہ غصہ آگیا ہے. میں تو تمہاری تعریف کر رہی تھی. حمنہ نے صوفے پہ چڑھتے ہوئے دفاعی پوزیشن اپنائی.
حمنہ بی بی!! ابھی میری اوپر کی منزل خالی نہیں ہوئی کہ میں تمہاری بات سمجھ نہ سکوں. حارث نے قریب پڑا کشن زور سے حمنہ کی طرف اچھالا جو بد قسمتی سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے حدید کے جا لگا
میں سوچ رہا تھا کہ اتنی خوبصورت گرتی بارش میں یہاں کوئی رومینٹک سا ماحول بنا ہوگا مگر یہاں تو _ حدید نے ایک ہاتھ سے کشن کو پکڑے ہوئے کمرے میں نظر دوڑائی. یہ دونوں بہن بھائی ھو غلطی سے ایک ناں باپ کے گھر پیدا ہو گئے ہیں. رومینٹک ماحول بننے ہی کہاں دیتے ہیں….؟؟ حرا نے حارث اور حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کمنٹس دیے. جس پر حدید سر ہلاتا حارث کے قریب آن کھڑا ہوا. اس نے مجھے “کتے” سے ملا دیا ہے. حارث نے فوراً حمنہ کی شکایت لگائی. جی نہیں میں نے کہا ہے کہ یہ ہمارے ” ٹونی” سے زیادہ فرمانبردار ہے. حمنہ نے بھی اپنی بات دہرائی. پلیززززز تم دونوں خاموش ہو جاؤ. میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. حرا نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے دونوں سے کہا تو حارث طنزاً ہنسنے لگا
ہر وقت تو تم ہمارے گھر میں پائی جاتی ہو. یہی تمہارا سب سے ضروری کام ہے. حارث کہتا ہوا دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا.
اچھا چھوڑو!! حرا تم بتاؤ کہ تمہاری پہلی شرط کیا ہے….؟؟ حمنہ نے فوراً بات کو ختم کرتے ہوئے کہا تو حدید نے حیرت سے تینوں کی طرف دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ کیسی شرط…..؟؟
بھائی بیٹھ جا
ابھی یہاں بہت تماشا ہونے والا ہے. تسلی رکھ حارث نے حدید کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنے برابر بٹھایا
میری پہلی شرط یہ ہے کہ تم مجھے اپنے گھر آنے جانے سے کبھی نہیں روکو گے…..؟؟ ہحرا نے اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے شرط بتائی
جیسے آگے تو آپ ہمارے گھر آنے جانے کے لیے باقاعدہ ویزہ لگواتی ہیں. جب دل کرتا ہے ٹیرس سے پھلانگ کر ادھر آ جاتی ہیں اور جب دل کرتا ہے اُدھر چلی جاتی ہیں.
اللہ جانتا ہے مجھے تو کبھی پتہ ہی نہیں چلا کہ تم اپنے گھر ہوتی کب ہو. کتنی دیر کے لیے جاتی ہو…..؟؟ پھر بھی تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں روکوں گا. حارث کے پوچھنے پر سب نے اپنی مسکراہٹ کو روکا
نہیں تم کھل کر ہنسو اور خوب ہنسو _
یہی بغیرت ہونے کی نشانی ہوتی ہے. حارث نے تپتے ہوئے کہا
مسٹر حارث ایک تو آپ اپنی زبان درست کریں. آپ کے اخلاق انتہائی گرے ہوئے ہیں. حرا نے جیسے ہی اپنی دوسری شرط بتائی حارث نے ادھر اُدھر زمین پر دیکھنا شروع کر دیا.
مجھے تو کچھ کہیں گرا دکھائی نہیں دے رہا. حارث نے زمین پہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا تو حمنہ نے اسے غصے سے دیکھا
دیکھو حارث. ماحول خراب نہیں کرو اور حرا کی بات غور سے سنو. حمنہ کی بات پر ایک بار پھر دونوں لڑنے کے لیے تیار کھڑے تھے.
آج تم مجھے بتا ہی دو کہ تم میری بہن ہو یا اس حرا کی….؟؟ حارث نے غصے سے پوچھا
بہن تو میں تمہاری ہی ہوں. اسی لیے مجھے تمہاری فکر رہتی ہے. تمہارے مستقبل کی فکر میں ہی میں یہ سب کر رہی ہوں. حمنہ کے جواب پر حارث نے منہ بناتے ہوئے اسے دیکھا
تم دونوں بس کر دو اور مجھے بات کرنے دو. حرا نے دونوں کو چپ کراتے ہوئے کہا تبھی نتاشا بیگم اور ڈی ایم اندر داخل ہوئے.
دیکھا تمہارے شور کی وجہ سے یہ لوگ بھی ڈسٹرب ہو گئے ہیں. حمنہ نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ نتاشہ بیگم اور ڈی ایم بہت سنجیدہ لگ رہے تھے. جسے حدید نے واضح محسوس کیا.
حرا بیٹے آپ کے لیے اچھی خبر نہیں ہے. کچھ دیر خاموشی کے بعد ڈی ایم نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو سب کے چہرے پر تجسس چھا گیا.
آپ کے گھر ابھی ابھی پولیس نے چھاپہ مارا ہے اور آپ کے بابا کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں مگر تم فکر نہیں کرو.
میں کچھ کرتا ہوں. ڈی ایم کی بات پر حرا نے نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھا جیسے ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو.
چلیں ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں. حارث اور حدید نے ڈی ایم کے ساتھ کمرے سے باہر جانے لگے. جب کہ نتاشا بیگم حرا کو پیار سے دلاسا دینے لگی
حیرت ہے مجھے کیوں نہیں پتہ چلا کہ پولیس ہمارے گھر آئی ہے….؟؟ تھوڑی دیر بعد حرا نے کہا تو حارث نے اس کی طرف جاتے جاتے مڑ کر دیکھا
تمہیں کیسے پتہ چلتا. تم نے تو یہاں بندر کا تماشہ شروع کیا ہوا تھا…..؟؟ حارث کہتا ہوا دوبارہ ان کے پیچھے چل دیا
اگر یہ حرکت ایس پی حیات عالم تمہاری ہے تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں حرا نے دل میں سوچتے ہوئے حمنہ کی طرف دیکھا
💰💰💰💰
جاری ہے