No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
سمجھ نہیں آ رہا کہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں. “ہاں” کروں تب مصیبت “نہ” کروں تب مصیبت _ حیات نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بے چینی سے اپنی گاڑی کے قریب ٹہلتے ہوئے سوچا جس کسی سے کچھ بھی کہہ رہا ہوں. وہ پہلے تو حیرت سے میری شکل دیکھنے لگتا ہے. بعد میں ہنستا ہی چلا جاتا ہے. جیسے میں کارٹون ہوں یا میں نے انہیں کوئی لطیفہ سنایا ہو. میری زندگی کا یہ انتہائی عجیب و غریب “تجربہ” ہے. حیات نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی گاڑی کے ساتھ کوئی تیسرا چکر کاٹتا. جبکہ حدید گاڑی کے بونٹ پر بیٹھا خاموشی سے گردن جھکائے حیات کی باتوں پر مسکرا رہا تھا. تمہیں کس چیز کی ہنسی آ رہی ہے….؟؟ اچانک حدید کی ہنسی کو نوٹ کرتے حیات نے اس کی گردن پر ایک تھپڑ ریسیو کیا. کچھ نہیں اصل میں ہمارے بڑے نہیں ہیں نا تو ہمیں مشکل کا سامنا ہے. ورنہ شاید اتنی مشکل نہ ہوتی. حدید نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے وضاحت دی. میں اچھے سے جانتا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے. نہ تم جذباتی ہو اور نہ میں ہو رہا ہوں. مفت کی مصیبت گلے ڈال لی. حیات نے ایک دفعہ پھر سر نفی میں ہلاتے ہوئے موبائل کی طرف دیکھا. جس پہ کچھ دیر پہلے اس نے اپنے اسسٹنٹ کو گاڑی اور گھر سجانے کا حکم دیا تھا. کیا جواب آیا. یہ سب کچھ ریڈی ہونے میں کتنی دیر لگے گی. مجھے بھی آپ ساتھ لے کر جائیں گے. یا میں لڑکی والوں میں شامل ہوں….،؟ حدید نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اگر کوئی جواب آتا تو میں تمہیں نہ بتاتا. میں اس طرح شکل لٹکا کر یہاں گھوم رہا ہوتا. حیات نے سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ناراضگی سے کہا بھائی آپ تو خوامخواہ ناراض ہو رہے ہیں. آج تو آپ کی شادی ہے. آپ کو خوش ہونا چاہیے. حدید کی بات پر حیات نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا. (جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا میری شادی ہے……؟؟) آپ کو کہا بھی تھا کہ پنگا نہ لے. وہ تو بے وقوف ہے، نہ سمجھ ہے، اس میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں مگر اپ تو ماشاءاللہ سے اتنے پڑھے لکھے، سمجھدار، سینیئر افیسر ہیں. آپ کو یہ حرکتیں زیب نہیں دیتیں. میں تو کہتا ہوں. ابھی بھی وقت ہے. اندر جا کر انکار کر دیں. کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ بچی بیچاری خوش ہو جائے گی. کہ اس نے آپ کو ہرا دیا. حدید کی بات پر حیات نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تمہیں مجھ سے زیادہ اس بچی کی خوشی عزیز ہے. جس نے 15 منٹ کے اندر اندر مجھے گھما کے رکھ دیا ہے. آخر میں حیات نے دانت پیستے ہوئے پوچھا وہ آپ کے ساتھ سوٹ نہیں کرتی. آپ کو اپنی طرح کسی صوبر خاتون سے شادی کرنی چاہیے. حدید نے اب کی بار سنجیدگی سے کہا تیرا مطلب ہے کہ میری عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے اور مجھے کسی عمر رسیدہ عورت سے شادی کرنی چاہیے. حیات نے موبائل پاکٹ میں رکھتے ہوئے سینے پہ ہاتھ باندھے. نہیں میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے. میرا یہ مطلب ہے کہ اس کے ساتھ آپ “پریشان” رہیں گے “خوش” تو ناممکن ہے حدید نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی.
اس بات کا فیصلہ وقت کرے گا کہ کون کس کے ساتھ خوش رہتا ہے اور کس کے ساتھ اداس _ حیات نے گھڑی دیکھتے ہوئے سرسری سا جواب دیا. ویسے ڈئیر برادر!! ہماری پلاننگ میں یہ سب شامل نہیں تھا. اچانک حدید کو غصہ آیا. ہاں اگر تم “عشق” لڑا سکتے ہو. تو کیا میں “شادی” نہیں کر سکتا عشق کرنا بھی ہماری پلاننگ میں شامل نہیں تھا. حیات کے جواب پر حدید خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی. مطلب وہ مذاق نہیں کر رہا تھا.
اپے سیریس ہیں حدید نے آخری دفعہ تصدیق چاہی. ہاں بالکل تمہیں اندازہ نہیں ہو رہا. ہوا میں خنکی محسوس کرتے ہوئے حیات نے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے. مطلب یہ کہ آپ کی شادی پھر decending order میں ہی چلے گی. یعنی “الٹی شادی” حدید نے دوبارہ اندر کی طرف پلٹتے ہوئے رک کر پوچھا جس پر حیات نے کندھے اچکائے.
پتہ نہیں اور کتنا وقت لگے گا. آگے آدھی رات ہو گئی ہے. حیات نے رانا ہاؤس کو باہر سے دیکھتے ہوئے دل میں سوچا جب کہ وہ اندر کے ہنگامے سے بے خبر تھا.
💰💰💰💰💰
زیادہ تر مہمان تو کھا پی کر چلے گئے تھے مگر رانا صاحب کے قریبی دوست، احباب اور چند گنتی کے رشتے دار ابھی بھی ان کے لان میں موجود تھے. جن کو یوں رانا صاحب کی اکلاتی بیٹی کی شادی پر شدید حیرت تھی مگر وہ کچھ پوچھنے اور بولنے سے قاصد تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جواب نہیں ملے گا. لہٰذا وہ خاموشی سے بیٹھے نکاح کا انتظار کر رہے تھے. یہ ان کی مجبوری تھی کیونکہ رانا صاحب کا حکم تھا.
میرے خیال سے اب آپ کا بیٹا بالکل محفوظ ہے. صبح کا سورج نکلتے ہی وہ آپ کے گھر پر ہوگا. لہٰذا اب آپ میرا وقت ضائع نہ کریں اور وعدے کے مطابق جلد نکاح شروع کروائیں. کیونکہ میں بہت تھکا ہوا ہوں اور جلدی سونے کا عادی ہوں. حیات نے انتہائی بیزاری سے اپنے کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے رانا خاور کو مخاطب کیا. جو ہاتھ میں حیات کا موبائل لیے کچھ دیکھ رہے تھے.
ٹھیک ہے اب میں مطمئن ہوں رانا خاور نے بڑے رانا صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے حیات کو اس کا موبائل واپس کیا. تو بڑے رانا صاحب نے بیچارگی سے ڈی ایم کی طرف دیکھا
چلیں مولوی صاحب نکاح شروع کریں. رانا صاحب نے بڑی مجبوری سے یہ جملہ ادا کیا. اس وقت رانا صاحب کے عظیم الشان ڈرائنگ روم میں 20 لوگ ہونے کے باوجود بھی بلا کی خاموشی تھی.
ویسے تو تقریباً سبھی اس نکاح سے ناخوش دکھائی دے رہے تھے مگر سب سے زیادہ جو ہستی نا خوش تھی. وہ نتاشہ بیگم کی تھی. ان کی شکل اور آنکھیں جس طرح حیات کو دیکھ رہی تھیں. اگر حیات خود بھی نوٹس لے لیتا تو اس کی روح کانپ جاتی.
ایک منٹ نکاح شروع کرنے سے پہلے حق مہر تو مقرر کر لیں. حرا رانا صاحب کی بات کے اختتام پر فوراً بول پڑی.
حق مہر کی بات کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ میں جہیز نہیں لے رہا. حیات کا انداز جتلانے والا تھا.
جہیز تو ایک لعنت ہے. اب میرے پاپا اپنے ہونے والے داماد کو لعنت تو نہیں دے سکتے حالانکہ پولیس والوں کو اس کی خاصی عادت ہوتی ہے .حرا کے جواب پر حیات نے اسے انتہائی غصے سے دیکھا جب کہ حمنہ کا منہ حیرت سے کھل گیا.
حرا کچھ تو خیال کرو. اتنے سارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں. حمنہ نے دبی آواز میں سرگوشی کی.
ویسے اگر آپ کسی وکیل کی بجائے اپنی بھتیجی کی خدمات لے لیتے تو آپ کا بچہ بہت پہلے جیل سے باہر نکل آتا. حیات نے طنز کیا تھا یا تعریف مگر حرا کو اچھی لگی.
دیکھو بیٹے حرا کہہ تو ٹھیک ہی رہی ہے. ہمیں اس کی سیکورٹی کے لیے تمہاری طرف سے کچھ تو چاہیے ہوگا. بتاؤ تم حق مہر میں اسے کیا دو گے…..؟؟ ڈی ایم نے بہت سنجیدگی سے حیات کی طرف دیکھا تو اس کے ماتھے پر کئی بل پڑ گئے.
پہلی بات تو یہ کہ میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں. ایس پی حیات ہوں. آپ مجھے میرے نام سے بلائیں. مجھے میرا نام بہت پسند ہے. یہ نام میرا میری “ماں” نے رکھا تھا. حیات نے ماں کے لفظ پر خاصا زور دیتے ہوئے کہا تو حدید کے چہرے پر بھی شکن نمودار ہوئیں.
دوسرا یہ کہ آپ سیدھی طرح بتائیں. آپ کو کیا چاہیے…..؟؟ مجھے یوں گھما پھرا کر بات کرنے کی عادت ہے اور نہ سننے کی حیات کے جواب پہ ڈی ایم نے بڑے رانا صاحب کی طرف دیکھا بیٹی آپ کو کیا چاہیے….؟؟ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا مولوی صاحب نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو حرا کے چہرے میں پر خوشی کے رنگ بکھر گئے. مجھے ایک عدد برینڈ نیو civic گاڑی ایس پی حیات کا کریڈٹ کارڈ چاہیے اور بس حرا نے ایسے بس کہا جیسے کچھ مانگا ہی نہ ہو.
گاڑی تو میں حق مہر میں دے دوں گا مگر کریڈٹ کار بہت مشکل ہے. حیات نے دوبدو جواب دیا.
ٹھیک ہے پھر آپ ایک “معقول رقم” میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیں. معقول رقم کا مطلب آپ پولیس والوں سے زیادہ کون بہتر جانتا ہو گا. حرا کے لہجے میں طنز تھا. جس پہ حیات نے سر ہاں میں ہلایا
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے. اب آپ نکاح شروع کریں. حیات اس وقت شدید بیزار دکھائی دے رہا تھا.
میں نے اپنی زندگی میں اتنا بیزار دولہا نہیں دیکھا. حارث نے پہلی دفعہ حدید کے کان میں سرگوشی کی
اور میں نے ایسی دلہن حدید کا جواب بےساختہ تھا.
چلو شکر ہے ہم دونوں نے اپنی زندگی میں ایسا “کپل” دیکھ لیا. ورنہ اسی طرح اس دنیا سے کوچ کر جاتے. حیات کی بات پر حدید نے اسے مڑ کر ایسی نظروں سے گھورا جس پہ وہ مسکرانے لگا
نکاح ہوتے ہی مولوی صاحب نے مبارک باد دی. وہ واحد آواز تھی. جو پورے کمرے کے پرسکون ماحول میں گونجی. اس کے علاوہ کوئی مبارکباد دینے یا لینے والا نہیں تھا. حیات نکاح ہوتے ہی فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا.
میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیے. حیات نے کہتے ساتھ ہی جیب سے بہت سے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ نکال کر مولوی صاحب کے کی طرف بڑھائے.
بس کچھ دنوں کی بات ہے. سب ٹھیک ہو جائے گا. تم پریشان نہ ہونا. رانا صاحب نے بہت محبت سے حرا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے تسلی دی. جو اس وقت سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھی.
آپ میری فکر نہیں کریں. جس طرح یہ شخص مجھے لے کر جا رہا ہے. بالکل اسی طرح واپس بھی کر کے جائے گا. یہ میرا آپ سے وعدہ ہے. یہ مجھے رکھ نہیں سکتا. مجھے رکھنے کے لیے رانا تنویر جیسا دل اور جگر چاہیے. حرا نے اپنے آپ کو تسلی دی یا اپنے باپ کو مگر محبت سے ان کے گلے لگتے ہوئے کہا. جس پر انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا.
حمنہ فلحال تو میں جا رہی ہوں. لیکن تمہاری ذمہ داری ہے کہ میرے پاپا کا خیال رکھنا اور میرے سے رابطے میں رہنا. تاکہ ہم اگے کی پلاننگ کر سکیں. حرا نے حمنہ کے گلے لگتے ہوئے اسے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلانے لگی. مگر یہ سچ تھا کہ وہ اداس ہو گئی تھی.
میرا کوئی بھائی نہیں ہے. تم کم از کم اس وقت بھائی ہونے کا فریضہ ہی سر انجام دے دو. حرا نے ناگواری سے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سینے پہ ہاتھ رکھتا ہوا جھکا.
میں تمہیں بہن بنانے کو بھی تیار نہیں. میں اگے ہی ایک عدد بہن سے سخت تنگ ہوں. میری طرف سے معذرت قبول کرو. ہاں حدید کو بنا لو. اس کی شکل پہ “انٹرنیشنل بھائی” لکھا ہوا ہے جبکہ حدید نے مسکراتے ہوئے حرا کی طرف ہاتھ بڑھایا
فی الحال تو میں جا رہی ہوں مگر تمہیں واپس آ کر دیکھوں گی. اس بات کا ادھار رہا. حرا نے جاتے جاتے پلٹ کر حارث سے کہا اور حدید کا ہاتھ تھامتی وہ آہستہ آہستہ گاڑی تک آئی. اس سے پہلے کہ حیات گاڑی میں بیٹھتا. حمنہ کو اداس دیکھ کر پلٹا.
تم اداس بالکل اچھی نہیں لگتی ہو. اس لیے اداس مت رہا کرو. حیات نے پیار سے حمنہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور جیب سے چند نوٹ نکالے.
تم خود تو مجھ سے مانگو گی نہیں. میں ہی تمہیں دے دیتا ہوں کیونکہ میری کوئی بہن نہیں ہے تو حیات جملہ ادھورا چھوڑتا اپنی گاڑی کی طرف چل دیا.
اپنا خیال رکھیے گا حدید نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے حیات سے کہا تو اس نے حیرت سے حدید کی طرف دیکھا. آج سے پہلے تم نے کبھی مجھے ایسے نہیں بولا. حیات کے جواب پہ حدید دھیما سا مسکرایا آج سے پہلے آپ کو اس جملے کی ضرورت نہیں تھی مگر اب ہوگی. حدید نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ ہوا میں ہلایا. جبکہ حیات نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا. مجھے اپنی “دوستی” اور اپنے ” بھتیجے” کو بچانے کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ہے اور یہ بات میں کبھی بھولوں گا نہیں. رانا صاحب نے ڈی ایم اور رانا خاور کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی دکھی لہجے میں کہا جس پر ڈی ایم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں تسلی دی. 💰💰💰💰💰 گاڑی کے چلتے ہی حیات ماضی کے جھروکوں میں پہنچ گیا. ابھی وہ اپنے گھر کے کچے آنگن میں بھائی ساتھ کھیل ہی رہا تھا کہ اچانک گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی. کیا ہوا……؟؟ حیات نے سیٹ سے سر اٹھاتے ہوئے پوچھا سر ابھی چیک کرتے ہیں. ڈرائیور اور برابر سیٹ پر بیٹھے گارڈ نے ایک ساتھ باہر نکلتے ہوئے جواب دیا. میرے خیال سے گاڑی کی “سروس” نہیں ہوئی. حرا نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی رائے دی. جبکہ میرے خیال سے تمہاری “سروس” ہونے والی ہوئی ہے. حیات کے جواب پر حرا منہ بناتی باہر دیکھنے لگی. شادی کا اتنا شوق چڑھا ہوا تھا. تو کم از کم گاڑی کو ہی چیک کروا لیتے. یوں بیچ سڑک میں خوار تو نہ ہونا پڑتا. حرا نے اونچی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے کہا. تبھی ڈرائیور نے دوبارہ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی گاڑی. باقی کا سفر حرا نے خاموشی سے طے کیا. گاڑی کشادہ سڑکوں پر گھومتی ہوئی اچانک ایک عالی شان بنگلور سامنے رکی. جسے رنگ برنگی لائٹوں سے سجایا گیا تھا اور حرا کو یاد آیا کہ وہ پہلے بھی اس جگہ آ چکی ہے. پہلے ہارن پر ہی گیٹ کھول دیا گیا اور گاڑی پورچ میں جا رکی. نیچے اترو اور خاموشی سے چلتے ہوئے میرے پیچھے آؤ. ورنہ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے جہاں میں تمہارا لحاظ کروں گا. حیات نے گاڑی سے نیچے اترتے ہوئے انتہائی آہستہ آواز میں کہتے ہوئے حرا کی طرف دیکھا. تو وہ خاموشی سے نیچے اتر گئی مگر اترتے ہی اتنی زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا کہ ایک دفعہ وہاں پہ موجود ہر شخص نے پلٹ کر اسے دیکھا جبکہ حیات اپنی کنپٹی سہلانے لگا کمرے میں داخل ہوتے ہی حیات کا ضبط جواب دے گیا. اس نے ایک جھٹکے سے حرا کا بازو کھینچے ہوئے اسے دیوار ساتھ لگایا اور پاؤں کی مدد سے دروازہ بند کیا. تمہیں بکواس کرنے کی بہت عادت ہے. اب تم میری ایک کہانی غور سے سنو. مجھے امید ہے کہ اس کے بعد تم بکواس کرنے کے قابل نہیں بچو گی. حیات نے حرا کو چھوڑتے ہوئے کوٹ کے بٹن کھلے. یہ کہانی سنانے کا کون سا طریقہ ہے…..؟؟ حرا نے اپنا بازو سے سہلاتے ہوئے صوفے کی طرف قدم بڑھائے تو اس کے ری ایکشن پر حیات نے اپنا کوٹ اتارتے ہوئے بیڈ پر پھینکا میں تمہیں بتاتا ہوں. ایک عورت تھی. جو اپنے دو بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتی تھی مگر ابھی حیات نے اتنا ہی کہا تھا کہ حرا بول پڑی.
نہ مجھے عورت سے دلچسپی ہے. نہ اس کے دو بچوں سے میں نے یہ کہانی نہیں سننی. یہ تو شروع دے ہی بور لگ رہی ہے. اچھی کہانی ہیرو ہیروئن سے شروع ہوتی ہے. حرا کے ٹوکنے پر حیات نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے ٹائی ڈھیلی کی. اگر تم نے خاموشی سے میری بات نہ سنی تو میں تمہارے منہ پر ٹیپ لگا دوں گا. حیات وارننگ دیتا بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھ گیا. اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسے اس کے باپ کے کالے کرتوت کن الفاظ میں بتائے. جو بھی تھا ماضی میں جو بھی ہوا تھا. اس سب میں حرا کا کوئی قصور نہ تھا. کیا کہانی بھول گئے ہیں…..؟؟ حیات کو خاموشی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا دیکھ کر حرا نے پوچھا تو حیات نے لال آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا نہیں یہ کہانی میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا. حیات جواب دیتا کف کے بٹن کھولنے لگا بڑا پکا رٹا ہے آپ کا میں تو جب بھی لگاتی ہوں. پیپر میں بھول جاتا ہے. حرا کے جواب پر حیات نے خاموشی سے اپنے کف فولڈ کیے اور جوتے اتارنے لگا. جب کہ حرا کمرے کا جائزہ لینے لگی. جس کی ایک دیوار پر سوائے ایک بڑی سی تصویر کے اور کچھ قابل دید نہ تھا.
سنو اگر میں تم سے یہ کہوں کہ تمہارا باپ ایک اچھا انسان نہیں ہے. میرے کہنے کا مطلب ہے کہ اس نے جوانی میں کسی عورت ساتھ زیادتی کی ہے. تو تم کیا کہو گی….؟؟ حیات ننگے پاؤں چلتا ہوا اس کے قریب آ کھڑا ہوا.
میں ایک دم آپ کی بات پہ یقین کر لوں گی کیونکہ دادو بتاتی ہیں. کہ میرے پاپا جوانی میں بہت خوبصورت تھے. جب انسان بہت خوبصورت ہو اور مال و دولت بھی رکھتا ہو تو سونے پہ سہاگہ ہو جاتا ہے.
ویسے بھی جوانی میں انسان تھوڑی بہت غلطی کر ہی جاتا ہے. میرے پاپا نے کسی ایک عورت ساتھ زیادتی نہیں کی ہوگی. وہ تو جہاں بھی جاتے تھے. ہر عورت سے وعدہ کر لیتے تھے کیونکہ انہیں ہر عورت سے عشق ہو جاتا تھا. یہ میں نہیں کہتی دادو کہتی تھیں. اچھے خاصے ٹھرکی تھے. حرا نے حیات کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا تو وہ اسے خاموشی سے گھورنے لگا
مجھے تو حیرت ہے کہ آپ بھی دیکھنے میں اچھے خاصے خوبصورت ہیں اور پیسہ آپ پولیس والوں سے زیادہ کس کے پاس ہوگا. پھر بھی آپ کا کوئی افیئر نہیں ہے. اس بات پہ مجھے خاصی حیرت ہے. حرا نے افسوس بری نظروں سے حیات کو دیکھا
اس کی بس دو ہی وجہ ہو سکتی ہیں یا تو آپ کو زندگی میں کبھی کوئی خوبصورت لڑکی نہیں ملی اور یا پھر حرا کی مسکراہٹ گہری ہوئی. یا پھر اب کی بار حیات نے حرا کی طرف ایک اور قدم بڑھایا
یا پھر آپ کو کوئی میڈیکلی ایشو ہوگا. اج کل نیو جنریشن میں یہ مسئلہ آ رہا ہے. حرا کے جواب پر حیات کا منہ کھل گیا.
لڑکی تم میں شرم نام کی کوئی چیز ہے یا بالکل بیچ کھائی ہے. حیات نے قدم واپس لیے.
خیر میں یہ کہہ رہا تھا کہ تمہارے باپ نے جوانی میں ایک عورت ساتھ بہت زیادتی کی ہے. جس کی وجہ سے اس کے گھر کا پورا شیرازہ بکھر گیا. حیات نے قدر تحمل سے مناسب الفاظ میں حرا کو بتانے کی کوشش کی.
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی باتوں کی وجہ سے میں اپنے باپ سے نفرت کرنے لگوں گی. تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے. مجھے جتنی اپنے باپ سے پہلے محبت تھی. اس سے کئی گناہ زیادہ اب محبت ہے.
رہی بات کہ انہوں نے ماضی میں کیا کیا تھا. تو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں. میں نے کہا نا غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں اور سب سے زیادہ غلطیاں انسان اپنی جوانی میں کرتا ہے. حرا کے جواب پر حیات نے اسے بہت غور سے دیکھا
یہ لڑکی دیکھنے میں جتنی بے وقوف اور لاابالی دکھائی دیتی ہے اتنی ہے نہیں _ حیات نے دل میں اس چیز کا اقرار کیا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
