No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
حرا میں نے سب کچھ سچ سچ حدید کو بتا دیا ہے. وہ کہتا ہے یہ معاملہ بہت سیریس ہے. اس کے لیے ہمیں DM کی لازمی مدد لینی پڑے گی. حمنہ نے آہستہ آواز میں حرا کو اپنی اور حدید کی ساری گفتگو بتائی.
مجھے اس چیز کی پرواہ نہیں ہے کہ تم نے حدید ساتھ میرے بارے میں کیا بکواس کی ہے. مگر مجھے یہ جاننا ہے کہ تم نے اسے اپنے راز کے بارے میں واقعی بتا دیا ہے. اس نے سن کے تمہیں کچھ نہیں کہا. یہ کیسے ہو سکتا ہے ……؟؟ کچھ تو کہا ہوگا. حرا نے تجسس برے انداز میں حمنہ کی طرف دیکھا
وہ سن کے زیادہ حیران نہیں ہوا تھا لیکن اس نے مجھ سے اس شخص کا نام، اس کا ایڈریس اور یہ کہ میں اس سے کہاں ملی تھی ……؟؟ یہ پوچھا تھا. اب کےی بار حمنہ کے انداز میں تھوڑا غرور تھا
ہممممم _ پھر جناب نے اپنی گم آواز میں اس کو کیا جواب دیا کیونکہ میں اندازہ لگا سکتی ہوں کہ اس ساری صورتحال میں تمہارا والیوم تو بالکل سائلنٹ ہو گیا ہوگا. اپنی بات کے آخر میں حرا نے قہقہ لگایا. تو حمنہ نے زور سے اس کی کمر پر ایک تھپڑ رسید کیا جب تم میرا مذاق اڑاتی ہو تو مجھے بہت برا لگتا ہے. میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ یار حدید کے سامنے میری آواز نہیں نکلتی اور حارث کو دیکھ کر میرا بھونکنے کو دل کرتا ہے. ٹی وی لاؤنچ میں انٹر ہوتے ہوئے حارث کو دیکھ کر حمنہ نے اونچی آواز میں جملہ ادا کیا. یقین مانو تمہیں دیکھ کر تو میرا صرف بھوکنے کو نہیں بلکہ کاٹنے کا بھی دل کرتا ہے. حارث نے صوفے سے کشن اٹھاتے ہوئے زور سے حمنہ کو مارا اور خود صوفے پر بیٹھ گیا. تم دونوں بہن بھائی کا پیار مثالی ہے. یقین مانو تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی. حرا نے مصالحہ چھڑکا تو حارث کے چہرے کے تاثرات مزید بگڑ گئے. ویسے تو میری بہن پیدائشی طور پر بھی تھوڑی کھسکی ہوئی تھی. مگر جو کسر تھی وہ تمہاری دوستی کے بعد نکل گئی ہے. مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ تم اپنے گھر کیوں نہیں رہتی ہر وقت ہمارے ہی گھر میں کیوں پائی جاتی ہو …..؟؟ حارث کا لہجہ تلخ تھا. بری بات حارث ایسے نہیں بولتے. حرا تو اتنی پیاری بیٹی ہے. اس کے آنے سے گھر میں رونق لگ جاتی ہے. جس دن یہ نہیں آتی. میں اس کو خود بلوا لیتی ہوں. نتاشہ بیگم نے سیڑھیاں اترتے ہوئے حارث کو تنبہہ کی تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا کیونکہ ان کے پیچھے DM بھی آ رہے تھے. آنٹی آپ بہت اچھی ہیں. بہت زیادہ میں آپ ہی سے ملنے تو آتی ہوں. حرا اور حمنہ نتاشہ کو دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں. بیٹھو بچو بیٹھو!! باتیں کرو کھاؤ پیئو. یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے. جیسے مجھے حمنہ پیاری ہے تم بھی میرے لیے بلکل ویسی ہی ہو. DM نے پیار نے دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا. ہاں جی بالکل سب آپ کو پیارے ہیں. یہ دونوں اور حدید بھی سوتیلا تو صرف میں ہوں. حارث غصے سے ٹی وی آن کرنے لگا
تمہارے اندر سے یہ بچپنا کب جائے گا …..؟؟ تم آج بھی میڈیکل یونیورسٹی نہیں گئے. دیکھو حدید کوئی چھٹی نہیں کرتا اور تم ہر وقت مجھے گھر پر ہی پائے ملتے ہو. DM کی بات پر حارب نے انھیں افسوس بھری نظر سے دیکھا جبکہ حرا، حمنہ دانت نکال رہیں تھیں.
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں ابھی ابھی یونیورسٹی سے ہی آ رہا ہوں. حدید کو کچھ کام تھا تو وہ رک گیا ہے. حارث کے جواب پر ڈی ایم کو حیرت ہوئی.
حدید کو کیا کام تھا …..؟؟ ڈی ایم کے پوچھنے پر حارث کندھے اچکا گیا
آپ دونوں کہاں جا رہے ہیں ……؟؟ حارث نے ڈی ایم اور نتاشہ پر نظر مارتے ہوئے پوچھا جو کہ خاصے تیار لگ رہے تھے
ایک بزنس میٹنگ ہے ادھر جا رہے ہیں. تم اپنی پڑھائی پہ توجہ دو. میں تمہارے لیے ہسپتال بنوا رہا ہوں. لیکن اس کے لیے تمہارا ڈاکٹر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ تمہارے پاس ہونے پر میں تمہیں وہ ہسپتال گفٹ میں دوں گا. جو تمہارے نام سے ہوگا. ڈی ایم کی بات پر حمنہ اور حرا کا منہ کھل گیا جب کہ حارث نے دونوں کی طرف جتلانے والے انداز میں دیکھا
اپ کو کیا ہو گیا ہے اس کے نام پہ ہسپتال بنوا رہے ہیں …..؟؟ حمنہ نے حیرت سے ڈی ایم کی طرف دیکھا
اب تم مت شروع ہو جانا. بھائی ہے تمہارا سمجھ لگی. نتاشا بیگم نے حمنہ کو ٹوکا
ہمیں دیر ہو رہی ہے شام میں ملتے ہیں. ڈی ایم اور نتاشا کہتے ہوئے لاؤنچ سے باہر نکل گئے.
مجھے تمہاری دوست بالکل پسند نہیں اگر ہو سکے تو پہلی فرصت میں اسے تبدیل کر لو. حارث کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
حمنہ مجھے تمہارا بھائی بالکل پسند نہیں اگر ہو سکے تو پہلی فرصت میں اس کی سیل لگا دو.
بھائی برائے فروخت لیکن مجھے امید ہے کہ کوئی نہیں خریدے گا. حرا کی بات پر حارث غصے سے پلٹا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا حدید لاؤچ میں داخل ہوا.
شکر ہے کہ تُو آ گیا ہے. حارث نے حدید کی طرف دیکھ کر بولا جب کہ حمنہ کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے.
جینز کی پینٹ، وائٹ شرٹ اور ہاتھ میں ڈاکٹری وائٹ کوٹ پکڑے وہ ہمیشہ کی طرح بہت جاذب نظر لگ رہا تھا. ہرا نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا جس پر حدید مسکرا دیا.
آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں کیا آ ہماری ایک بات مانیں گے…؟ حرا نے تعریف کے ساتھ کہا
جی آپ کہیے. میں سن رہا ہوں جبکہ حرا کے یوں کہنے پر حمنہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی.
میری گاڑی خراب ہو گئی ہے. کیا آپ تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنی گاڑی دیں گے. بس تھوڑی سی دیر کے لیے _ حرا نے فورا التجاہیہ لہجہ اختیار کیا جس پہ حدید نے مسکراتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی چابی اس کی طرف بڑھا دی. حدید تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے. کس کو چابی دے رہا ہے. اسے یہ آفت کی پڑیا ہے کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کر دیتی ہے. مجھے تو یہ بالکل پسند نہیں ہے بالکل بھی نہیں حارث چلایا
اچھا چھوڑ ان کو اندر چلتے ہیں. میں بہت تھک گیا ہوں اور تم دونوں جلدی آنا. حدید کہتا ہوا حارث کو لے کر اندر کی طرف بڑھ گیا جب کہ حمنہ حیرت سے حرا کی طرف دیکھ رہی تھی.
چل تھانے چلتے ہیں _ حرا کے چہرے پر ایک عجیب طرح کی خوشی تھی جب کہ اس کی بات سن کر حمنہ نے اپنا ہاتھ چھڑایا. میں آج تک کبھی تھانے نہیں گئی. حمنہ نے احتجاج کیا. اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ آج تجھے تھانہ دکھا دیتی ہوں تاکہ تیری حسرت نہ رہے. حرا کہتی ہوئی حمنہ کو اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی. 💰💰💰💰💰 یار تو کمال حرکت کرتا ہے. تو نے کیوں اپنی گاڑی کی چابی اس لڑکی کو دی ہے ……؟؟ تو جانتا نہیں ہر وقت الٹے کام کرتی ہے اور حمنہ کو بھی اپنے ساتھ لگا لیتی ہے. حارث نے کمرے میں آتے ہی غصے سے حدید کی طرف دیکھا حارث تیرا مسئلہ کیا ہے. تو کیوں ہر وقت ان دونوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے ……؟؟ انہیں اپنی زندگی جینے دے اور خود بھی اپنی زندگی خوشی سے انجوائے کر حدید کہتا اپنے شوز اتارنے لگا
انجوائے کرنے کے سارے راستے تو بند ہیں. میں پیانو ماسٹر بننا چاہتا تھا. ڈی ایم نے زبردستی مجھے ڈاکٹری میں ڈال دیا. ڈاکٹری کی مجھے ذرا سمجھ نہیں آتی. اس لیے سٹوڈنٹ لائف برباد ہو گئی.
گھر آؤ تو ہر وقت حمنہ تنگ کرتی رہتی ہے. اوپر سے تجھ جیسا ایک پڑھاکو دوست مل گیا ہے. جسے سوائے پڑھنے اور کام کے کچھ بھی نہیں سوجھتا. حارث نے حدید پر ایک افسوس بری نظر ڈالتے ہوئے دیوار سا ٹیک لگائی
اچھا بتا تو کیا چاہتا ہے. میں ڈی ایم سے تیرے لیے بات کروں کہ وہ تجھے باہر بھیج دیں. پھر تو اپنی لائف انجوائے کر سکے گا. حدید نے بستر پر نیم دراز ہوتے ہوئے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا حارث منٹوں میں اس کے قریب پہنچا
مرشد اگر تو میرا یہ کام کر دے تو میں ساری زندگی تیرا احسان مند رہوں گا. حارث نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
زیادہ مسکین شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے. میں تجھے اچھے سے جانتا ہوں کہ تو کیا چیز ہے.
میں تیرے لیے DM سے بات کروں گا مگر تیری میڈیکل ڈگری مکمل ہونے کے بعد حدید کہتا ہوا آٹھ بیٹھا مرشد یہ ناانصافی ہے مرشد یہ ہمارے اوپر ظلم ہے. حارث نے دہائی دی
اچھا مجھے یہ بتا تیرا حرا ساتھ کیا لینا دینا ہے. ہر وقت اس کے پیچھے پڑا رہتا ہے. حدید نے واش روم جاتے ہوئے اچانک پلٹ کر حارث سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگا
وہ مجھے اچھی نہیں لگتی. حمنہ کو بگاڑنے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے. حمنہ معصوم ہے. حارث کے جواب پر حدید نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا
اگر حمنہ تیری رائے سن لے تو مجھے پورا یقین ہے کہ وہ خوشی سے بے ہوش ہو جائے. اس وقت بہن کے لیے بڑی محبت ٹپک رہی ہے. حدید نے طنز کیا.
اس وقت سے کیا مراد ہے …..؟؟ مجھے اپنی بہن سے بہت محبت ہے. حارث نے بیٹھتے ہوئے اقرار کیا.
جی جی وہ تو اٹھتے بیٹھتے میں دیکھتا ہی رہتا ہوں. حدید کہتا ہوا واش روم میں چلا گیا جب کہ حارث بند دروازے کو دیکھنے لگا
💰💰💰💰💰
حرا مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم یہاں اس ریسٹورنٹ میں کیا کرنے آئے ہیں ….؟؟ حمنہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
نہانے حرا جواب دیتی ہوئی مینیو دیکھنے لگی. نہانے حمنہ نے دبی آواز میں دہرایا.
کھانا کھانے ائے ہیں اور کیا بندہ ریسٹورنٹ کیوں آتا ہے …..؟؟
تو نے اپنے گھر تو مجھے کھانے کا نہیں پوچھا تو میں نے سوشا کیوں نہ پہلے کچھ کھا پی لیا جائے. حرا نے کہتے ہوئے ویٹر کو اشارہ کیا.
مگر ہم تو تھانے جانے والے تھے. حمنہ نے جیسے یاد دلایا.
حمنہ بی بی!! میری یاداشت بالکل ٹھیک ہے میں نے کہا نا مجھے بھوک لگ گئی ہے اور میں سب برداشت کر سکتی ہوں یہاں تک کہ تمہارا بھائی بھی برداشت کر سکتی ہوں مگر بھوک برداشت نہیں کر سکتی. حرا نے آڈر نوٹ کرایا جس پر ویٹر سر ہلاتا چل دیا.
ارے واہ یہ تو کمال ہوگیا ہے. زرا پیچھے دیکھ حمنہ جو ابھی کچھ کہنے کو سوچ رہی تھی حرا کی بات پر پلٹی.
(تھانے کے قریب یہ سب سے اچھا ریسٹورنٹ تھا. جہاں حیات عالم عموماً آتا تھا. اس کے گارڈ اس کے ساتھ تھے جب کہ پروٹوکال گاڑی اور سپاہی ریسٹورنٹ سے باہر پارکنگ میں موجود تھے. )
یہ کون ہے ……؟؟ حمنہ نے نا سمجھی سے حرا کی طرف دیکھا
یہ وہی شاہکار ہے جس کا ہمیں انتظار تھا. حمنہ اور حرا کی آنکھیں حیات پر لگی ہوئی تھیں. جو کارنر پر موجود ایک ٹیبل پر بیٹھ چکا تھا.
بندے کے پاس کچھ اور ہو یا نہ ہو مگر اتنا پروٹوکال تو ہونا چاہیے. اچھا لگتا ہے. دیکھ کس طرح ایک بندے کے آگے پیچھے کتنے لوگ ہو رہے ہیں. حیات کے بیٹھتے ہی مینیجر خود بھاگا بھاگا اس کی ٹیبل کے قریب آیا.
جب تک ہمارا آرڈر آتا ہے. اس سے بات کرتے ہیں.حرا نے کھڑے ہوتے ہوئے حمنہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا
مگر حرا _ حمنہ نے احتجاج کرنا چاہا. اسکیوز می!! سر کیا ہم آپ سے بات کر سکتے ہیں. ہمیں آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے. حرا نے ٹیبل بجاتے ہوئے حیات کی توجہ اپنی طرف کی جو موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا. جی فرمائیں حیات نے دونوں کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھیں.
بات کچھ یوں ہے کہ حرا نے کہنا شروع کیا. ایک منٹ پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ دونوں کالج سے بھاگی ہوئی ہیں. آپ کو شرم نہیں آتی یوں کرتے ہوئے. حیات نے افسوس بھری نظروں سے انھیں دیکھا آپ کو ہم کالج یونیفارم میں نظر آ رہیں ہیں اور یہ 3 بجے کونسا کالج لگتا ہے …..؟؟ حرا کو غصہ آیا. سوری مگر مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے. حیات نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کندھے اچکائے آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ یہ آج کل کا فیشن ہے. سادہ سوٹ اور رنگین دوپٹے کیا آپ کی بیگم فیشن نہیں کرتی ….؟؟ حرا نے ناگواری سے پوچھا
سوری مگر میری بیگم نہیں ہے. حیات نے صاف گوئی سے کام لیا.
اوہہہہہہ _ افسوس ہوا. کب فوت ہوئیں وہ …….؟؟ حمنہ نے فورا ہمدردی کی میری بیگم فوت نہیں ہوئیں ہیں. حیات کو غصہ آیا مگر وہ کنٹرول کر گیا. اچھا پھر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہوگی. ایک تو ہمارے معاشرے میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے لوگ آپس میں کمپرومائز نہیں کرتے. حرا نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی رائے دی. دیکھیں میں نے انہیں طلاق نہیں دی ہے. اب کی بار قدرے اونچی آواز میں حیات نے آگے کی طرف جھکتے ہوئے کہا تو گارڈز اس کے قریب آنے لگی جنہیں حیات نے ہاتھ سے دور رہنے کا ہی اشارہ کیا. اچھا میں سمجھ گئی پھر وہ آپ کو چھوڑ گئی ہوں گی. بس جی کیا کہہ سکتے ہیں ……؟؟ تبھی میں کہوں اپ اتنے غصیلے کیوں ہیں. زندگی میں ایسے حادثات ہو تو بندے کو نفسیاتی طور پر فرق پڑتا ہے. حرا کے چہرے پر حیات کے لیے ہمدردی ہی ہمدردی تھی. آپ دونوں کون ہیں اور کیوں میرا دماغ خراب کرنے آگئی ہیں. …..؟؟ میری شادی ہی نہیں ہوئی ہے تو حیات نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا.
اچھاااااااااا _ حمنہ نے حرا کی طرف دیکھا پھر میرا آپ کے لیے ایک مشورہ ہے. کہ جہاں اتنی زندگی گزر گئی ہے جو تھوڑی ہے وہ بھی گزر جائے گی. اب آپ برائے مہربانی شادی نہ کرنا. پھر چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو آپ کے بچوں کی زندگی بڑی مشکل ہو جائے گی. حرا کے مشورے پر حیات نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا اس سے پہلے کہ میں اپنی گارڈز کو کچھ کہوں آپ یہاں سے چلی جائیں. میں صرف آپ کا اس لیے لحاظ کر رہا ہوں کہ آپ لڑکیاں ہیں وہ بھی چھوٹی حیات کے لہجے میں وارننگ تھی.
ہمارے خاندان میں قدرتی طور پر پہلے بچے چھوٹے ہی پیدا ہوتے ہیں. پھر آہستہ آہستہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں. آپ کے ہاں کیا ایسا نہیں ہوتا ……؟؟ حرا نے حیرت سے پوچھا
میں گارڈز کو آواز دینے لگا ہوں. حیات کی اب بس ہو گئی تھی. وہ یہاں ریلیکس ہونے کے لیے آیا تھا مگر ان دونوں نے اس کا دماغ گھما دیا تھا.
دیکھیں میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں تھانے جا کے برباد کروں. اس لیے آپ مجھے یہاں نظر آئے تو میں نے سوچا کہ خوشگوار ماحول میں ہی بات کر لیتے ہیں.
میں نے آپ کی گاڑی کو کوئی ٹکر نہیں ماری. بلکہ آپ نے بریک لگائی تھی تو میری گاڑی آپ کی گاڑی ساتھ ٹکرا گئی. لہذا میری کوئی غلطی نہیں ہے. حرا اب سیدھا مدعا پہ آئی تو حیات کے چہرے پر جو ناگوار تاثرات تھے وہ یک دم حیرت میں تبدیل ہوئے.
آپ حیات نے کچھ سوچتے ہوئے حرا کی طرف اپنی انگلی.
میرا نام حرا ہے. حرا احمد رانا گروپ آف انڈسٹری کے مالک کی اکلوتی بیٹی _ جسے آپ نے صبح گڈ مارننگ کال کی تھی. یاد آیا. حرا کے جواب پر حیات کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے. بیٹھیں حیات نے دونوں کو اپنے بیٹھنے کا اشارہ کیا.
کیا آپ ہمیں کھانے کی آفر کر رہے ہیں ……؟؟ حرا نے فوراً پوچھا
نہیں میں کسی کو اپنے ساتھ کھانے یا چائے کی آفر نہیں کرتا. آپ کافی دیر سے کھڑی ہیں تو بیٹھ کے بات کر لیں. حیات نے کلائی پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا
کیوں آپ کو کوئی بیماری ہے کیا …….؟؟؟ حمنہ نے پریشانی سے پوچھا تو حیات کا صبر جواب دے گیا
آپ لوگ ڈیلی روٹین میں ایسی ہی ہیں کیا …..؟؟ حیات کو دونوں کی ذہنی حالت پر شک ہوا
ایسے ہی ہیں سے آپ کی کیا مراد ہے …..؟؟ حرا نے ناسمجھی سے حیات کی طرف دیکھا
ان کا مطلب ہے کہ ہم ” خوبصورت” ہیں. حمنہ کی تشریح پر حیات کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے.
دیکھیں بی بی فلحال آپ یہاں سے تشریف لے جائیں. یہی آپ کے اور میرے حق میں بہتر ہے. حیات نے صبر سے ایک ایک لفظ ٹہر کر ادا کیا
میں جا رہی ہوں میرا ٹائم بہت قیمتی ہے. بس میں نے آپ کو یہ بتانا تھا کہ میں نے آپ کی گاڑی کو نہیں بلکہ آپ نے ہمیں ٹکر ماری تھی. حرا کہتے ہوئے جانے کے لیے پلٹی
جی نہیں یہ غلط ہے. میری گاڑی تو کھڑی تھی.آپ نے ٹکر ماری تھی. حیات کی آواز پر حرا پلٹی.
اچھااااا ایسا ہے کیا …..،؟ حرا کا انداز اتنا مختلف تھا کہ چند لمحے حیات اسے دیکھتا رہ گیا.
ایسا نہیں ہے جب میں کہہ رہی ہوں کہ ہم نے ٹکر نہیں ماری تو مطلب نہیں ماری اور زیادہ بلیک میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ میرے باپ کو نہیں جانتے.
پہلے وہ آپ کی شکایت پر میری اچھی خاصی عزت افزائی کریں گے مگر پھر جو وہ آپ ساتھ کریں گے وہ سوچ ہے آپ کی _ وارننگ دیتی حمنہ ساتھ اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گئی جب کہ حیات ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
