Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

مجھے حیرت ہے کہ تم ان کی طرف داری کر رہے ہو. جبکہ تم اچھے سے جانتے ہو کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا….؟؟ حیات نے غصے سے کہتے ہوئے اپنا رخ کھڑکی کی طرف موڑ لیا.
میں ان کی حمایت نہیں کر رہا. میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ غلط کر رہے ہیں. اگر انہوں نے آپ ساتھ اچھا نہیں کیا تھا تو آپ کونسا ان ساتھ “نیکی” کر رہے ہیں…؟
اچھا تو تم اب اتنے بڑے ہو گئے ہو کہ مجھے سمجھانے لگے ہو کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط…..؟؟
میں ان کے ساتھ نیکی ہی کر رہا ہوں مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میری نیکی میں نون نہیں ہے. حیات نے جتلاتے ہوئے جیب سے سگریٹ نکالی.
آپ بے قصوروں کو بھی سزا دے رہیں ہیں. جن کا اس سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا…..؟؟ حدید نے حیات کی ناراضگی جو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی بات کہنا شروع کی.
تمہیں پتہ ہے کسی بھی زی روح کو سب سے زیادہ تکلیف کب پہنچتی ہے. جب اس کی اولاد کو تکلیف پہنچائی جائے، خود کی تکلیف تو ہر کوئی برداشت کر لیتا ہے. حیات نے دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے جواب دیا
مگر یہ غلط ہے. مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا. آپ کی وجہ سے حمنہ اور حارث بہت پریشان ہیں. حدید نے نظر چراتے ہوئے کہا تو حیات کے لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئی.
چلو حمنہ کی بات تو سمجھ آتی ہے. بندے کی محبت میں اسی طرح مت ماری جاتی ہے مگر حارث کو تو میں نہیں چھوڑوں گا. حیات کا لہجہ دو ٹوک تھا.
آپ حارث کے بارے میں اتنا غلط کیوں سوچتے ہیں. اُس کی اِس سارے قصے میں کوئی غلطی نہیں ہے. حدید ایک پر پھر قائل کرنے لگا
مجھے حارث سے شدید نفرت ہے. جب تک حارث گھر میں نہیں آیا تھا. سب ٹھیک ٹھاک تھا مگر حارث کے آتے ہی سب کچھ خراب ہونے لگا حیات نے کہتے ہوئے برے طریقے سے ہاتھ میں پکڑا سگرٹ ایش ٹرے میں مسلا.
مجھے سمجھ نہیں آتی. آپ کو حارث سے اتنی چڑ کیوں ہے…..؟؟ اپنی ماں سے محبت کرنا گناہ تھوڑی ہے. وہ اپنی ماں سے بہت زیادہ اٹیچ تھا اور ابھی بھی ہے. ہر بچے کی اپنی فطرت ہوتی ہے.
آج دوستی کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بول رہی ہے. اتنی زیادہ کہ تمہیں یہ لحاظ بھی نہیں رہا کہ تم کس سے مخاطب ہو…..؟؟ حیات نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
مجھے پتہ ہے کہ میں کس سے بات کر رہا ہوں اور یہ بھی اچھے سے جانتا ہوں کہ کیوں بات کر رہا ہوں. بدلہ لینا اپنے آپ کو خود ہی آگ میں جھونکنے کے برابر ہے.
جو گزر گیا اسے بھول جائیں. وہ تبدیل نہیں ہو سکتا مگر جو گزر رہا ہے اس کو تو انجوائے کریں. یوں جلنے کڑنے سے فائدہ _ حدید نے نرمی سے کہتے ہوئے حیات کی طرف دیکھا بات کیا ہے. تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے……،؟ اب کی بار حیات کا لہجہ بالکل سنجیدہ تھا. نہیں مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا بس عجیب سا گلٹ ہے حدید نے نظر چرائی.
کیسا گلٹ……؟؟
اتنا عرصہ میں نے ڈی ایم کا نمک کھایا ہے. انہوں نے مجھے سردی گرمی سے بچایا. اپنے بیٹے کے برابر اعلیٰ تعلیم دلوائی. بڑا عجیب سا لگ رہا ہے. اس طرح تو لوگ مجھے احسان فراموش کہیں گے. میں آستین کا سانپ کہلاؤں گا. سب سے بڑھ کر یہ کہ حارث اور حمنہ کی نظر میں برا بن جاؤں گا.
میں انہی کے ساتھ کھیل کود کر بڑا ہوا ہوں. ہم اکٹھے روئے اور ہنسے ہیں. بہت ہی عجیب لگ رہا ہے حدید نے نظر جھکاتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا.
اچھا تو یہ بات ہے. تمہیں ان کے احسانات یاد ا رہے ہیں مگر ان کے ظلم نہیں
اگر انہوں نے تمہیں اچھی تربیت دی یا تمہیں سکون اور آرام مہیا کیا تو اس میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے. یہ سب ہماری ماں کی جائیداد کا کمال ہے. تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے. حیات نے یاد دہانی کراتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا.
روپیہ، پیسہ یا جائیداد آپ کا دکھ، بیماری، خوشی اور غم میں ساتھ نہیں دے سکتے. میں آپ کے پاس پیسوں کی بوری رکھ دیتا ہوں. کیا وہ بیماری میں آپ کو دوا پلا سکتی ہے کیا وہ آپ کی خوشی میں اپ کے ساتھ ناچ کود سکتی ہے _ کیا وہ آپ کے دکھ میں آپ کا ساتھ دے سکتی ہے کیا وہ آپ کو سردی میں گرم لحاف اوڑھا سکتی ہے کیا گرمی میں آپ کو ٹھنڈا مہیا کر سکتی ہے……؟؟ میں جانتا ہوں. نتاشا بیگم اچھی خاتون نہیں ہے. انہوں نے ہماری امی کے ساتھ اچھا نہیں کیا. مگر پھر بھی وہ میری تکلیف پہ تڑپ اٹھتی تھی. مجھے ان کے احسانات یاد ہیں. جب میں بیمار ہوتا تو وہ رات کو دو تین بار میرے کمرے کا چکر ضرور لگاتیں کہ میری طبیعت کیسی ہے. حارث کو میرے بارے میں ہدایت دیتیں. کسی بھی جھگڑے کی صورت میں وہ ہمیشہ میرا ساتھ دیتیں. اپنی بات کے آخر میں حدید نے خاموشی سے سر کو جھکا لیا جیسے وہ مزید بول نہ پا رہا ہو. اچھا اگر تمہیں نتاشہ بیگم اور ڈی ایم سے اتنی ہمدردی ہو گئی ہے. تو آج کے بعد تم میرے پاس مت آنا. نصیحت تو مجھے بالکل بھی مت کرنا کیونکہ میں نصیحت کسی کی نہیں لیتا اور معافی کا لفظ میری ڈکشنری میں موجود نہیں. میں وہ سب کروں گا جس کا میں نے سوچا تھا. ہاں تمہارے لیے صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ اب میں اپنے پلان میں تمہیں شامل نہیں کروں گا. میری کوشش ہوگی کہ تم “اپنوں” کی نظر میں برے مت بنو. حیات نے اپنوں پر زور دیتے ہوئے کہا اپ میرے اپنے ہیں. حدید نے سر اٹھاتے ہوئے اقرار کیا نہیں میں تمہارا اپنا نہیں. میں تمہارا صرف بھائی ہوں. تمہارے اپنے وہ ہیں جنہوں نے تمہیں پالا ہے اس لیے چپ چاپ ان کی طرف لوٹ جاؤ اور مجھے بھول جاؤ اور یہ بات میں تمہیں غصے یا طنز سے نہیں کہہ رہا. یہ بات میں تمہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے تمہارے لہجے میں ان کے لیے محبت بولتی ہوئی محسوس ہوئی ہے اور میں اپنی لڑائی میں تمہیں زبردستی شامل نہیں کرنا چاہتا جو جانا چاہے وہ میدان چھوڑ کے جا سکتا ہے. حیات کی بات پر حدید چپ چاپ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا. جیسا آپ کو ٹھیک لگے آپ ویسا ہی کریں اور اگر میری ضرورت پڑی تو مجھے ضرور بتائیے گا. ہاں مگر یہ سچ ہے کہ مجھے ان کی تکلیف سے تکلیف پہنچے گی مگر میں یہ بھی کبھی نہیں چاہوں گا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں. حدید کہتا ہوا دروازے کی طرف مڑا اپنے اپ کو دو کشتیوں کا مسافر مت بناؤ. ورنہ میری طرح تم بھی تکلیف میں رہو گے. مجھے آج اپنے فیصلے پہ شدید افسوس ہو رہا ہے. کاش اس دن میں نے نتاشا بیگم کی بات مان لی ہوتی اور تمہیں بھی اپنے ساتھ لے آتا. تو آج تم یوں مخالفین کی صف میں میرے سامنے کھڑے نہ ہوتے. حیات کی بات پر حدید لمحہ بھر رکا اور پھر تیزی سے نکلتا چلا گیا. بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے
بڑی غلطی، بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے حیات نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا.
چھوڑوں گا تو میں پھر بھی نہیں ڈی ایم کو، کسی بھی صورت نہیں کیونکہ میں نے یہ اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا. حیات نے دیوار پہ لگی ہوئی تصویر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے.
💰💰💰💰💰
حدید ڈرائیونگ کرتا ہوا مسلسل ماضی میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک اس کا موبائل بچنے لگا جس سے وہ اپنے حال میں واپس لوٹا.
کدھر ہو _ کب سے فون کر رہا ہوں. نہ کال اٹھاتے ہو، نہ میسج کا جوا دے رہے ہو. پتہ میں کتنا پریشان ہوں…….؟؟ گھر میں سب ہی تمہارا پوچھ رہیں ہیں. ڈی ایم بھی دو دفعہ تمہارا پوچھ چکے ہیں. حدید نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی حارث کی بے تاب آواز اسے سنائی دی. (یہ لوگ میرے لیے کتنا پریشان ہوتے ہیں میں انہیں کیسے پریشان کر سکتا ہوں کاش یہ بات حیات بھائی کو سمجھ آ جائے) آ رہا ہوں. ذرا گاڑی خراب ہو گئی تھی. موبائل کی بیٹری کافی لو تھی تو میں اس لیے اسے استعمال نہیں کر رہا تھا. حدید نے بے تکا سا بہانہ بنایا. موبائل کی بیٹری کا تو پتہ نہیں مگر سالے تیری بیٹری بہت لو ہے. حارث کی بات پر حدید پھیکا سا مسکرایا. کم از کم تیرا مجھے سالا کہنا نہیں بنتا حدید نے ٹوکا
تو بھی تو مجھے ایسے بولتا ہے حارث نے فوراً یاد کرایا. مگر میرا کہنا تو بنتا ہے حدید اپنی بات کے آخر میں خود ہی مسکرایا.
میں نے پوچھا کہاں ہے….؟؟ حارث نے بات کو اگنور کرتے ہوئے دوبارہ سوال کیا.
ایسے ہی بے مقصد سڑک پر گاڑی چلا رہا ہوں. اب کی بار حدید نے سچ بولا
کیوں خیر ہے. کس کی یاد ستا رہی ہے یا کہیں سے پٹرول فری میں ملا ہے. ویسے تیرے مزے ہیں. ڈی ایم کم از کم تجھ سے نہیں پوچھتے کہ اتنی دیر سے تو کہاں تھا. میں تو یہاں سے چوک تک چلا جاؤں تو مجھ سے پورا حساب لیا جاتا ہے. حارث نے آخر میں آہ بھری
ہمممم تیرے کرتوت بھی تو ایسے ہیں. میں فضول میں کبھی پٹرول ضائع نہیں کرتا. حدید کی بات پر حارث نے قہقہ لگایا اچھا تو تم رات کے اس پہر کونسا رفاعی کام سرانجام دے رہے ہو. جو گاڑی کو اس طرح سڑکوں پر دوڑایا جا رہا ہے. ویسے تو اکیلا ہی ہے یا فرنٹ سیٹ پہ تیرے ساتھ کوئی حور، پری بھی موجود ہے. ڈیئر رات کے اس پہر فرینڈ سیٹ پہ کم از کم حور، پری نہیں ہو سکتی. ہاں البتہ چڑیل یا کوئی بھٹکتی روح کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا. حدید کے جواب پر حارث نے ادھر اُدھر دیکھا اتنا خوفناک جواب دینے کی کیا ضرورت تھی. میں اس وقت تنِ تنہا تجھ سے بات کرنے کے لیے لان کے بیچوں بیچ کھڑا ہوں. اگر مجھے کوئی چیز چمٹ گئی تو حارث نے ارد گرد دیکھتے ہوئے جھرجھری لی.
تُو اس چیز سے بالکل مطمئن ہو جا کہ تجھے کوئی چیز چمٹے گی. حدید نے پر اعتماد لہجے میں اسے یقین دلایا.
خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے. میں اچھا خاصا خوبصورت ہوں. اگر اس وقت کوئی بھی چیز ہوا میں اِدھر اُدھر اڑ پھر رہی ہوئی تو مجھ پر ضرور عاشق ہو جائے گی. حارث نے آسمان کی طرف نظر دوڑاتے ہوئے جواب دیا.
ہوا میں اس وقت صرف “مچھر” اڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ کبھی بھی خوبصورت اور بدصورت انسان نہیں دیکھتے بلکہ مچھروں میں “مساوات” کا سبق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے.
وہ چھوٹے بڑے، کالے گورے، موٹے پتلے، غریب امیر، سب کو بلا امتیاز چومتے ہیں. حدید کی بات پر حارث نے مصنوعی قہقہہ لگایا
میں نے آپ کی بات کو بہت انجوائے کیا ہے. ڈاکٹر حدید آپ نے انتہائی تھرڈ کلاس گفتگو کی ہے. جسے کوئی بھی ذوق والا شخص سراہ نہیں سکتا. اب برائے مہربانی گھر کا گیٹ کراس کر لیں اس سے پہلے کہ میں اندر جاؤں اور دوبارہ ڈی ایم مجھ سے آپ کے بارے میں سوال کریں. مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے تم میرے “گھر والے” ہو. ہر کوئی تمہارے بارے میں مجھ سے ہی پوچھتا ہے. آخر کیوں…..؟؟ حارث کا لہجہ احتجاج بھرا تھا. سوچنے والی بات ہے. گھر آ کر اس مسئلے پر بات کرتے ہیں. میں تمہیں کبھی بھی اپنی ” بیوی” کا درجہ نہیں دے سکتا. ہاں البتہ “سالے” کے درجے سے کبھی نہیں ہٹاؤں گا. یہ میرا تم سے وعدہ ہے. حدید نے کہتے ہوئے گاڑی موڑی. 💰💰💰💰💰 تم اس وقت یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو……؟؟ اس سے پہلے کہ حارث موبائل پاکٹ میں رکھتا. حمنہ کی آواز پر چونکا تم نے مجھے ڈرا ہی دیا ہے. میں سمجھا کہ آدھی رات کو کہیں سے کوئی چڑیل آ گئی ہے. ابھی ابھی حدید مجھے یہی کہہ رہا تھا کہ مجھے کوئی چیز نہیں چمٹ سکتی. مگر تم
حارث نے اسے سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑی.
ایک تو میں ویسے ہی بہت پریشان ہوں. اوپر سے تم نے مجھے چڑیل کہہ دیا ہے. تم کیسے بھائی ہو، کبھی تو محبت سے بات کر لیا کرو. حمنہ کے لہجے میں ناراضگی تھی.
یہ محبت سے کیسے بات کرتے ہیں. محبت کسی انسان کا نام تو ہے نہیں، جس کو میں سامنے بیٹھا کر پھر اس سے بات کروں. تم ایسا کرو اپنا نام محبت رکھ لو. پھر میں تم سے بات کر لیا کروں گا. حارث نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ حمنہ کے آگے کیا. جیسے اس سے داد لینا چاہ رہا ہو.
انتہائی فضول بکواس تھی. حمنہ نے شال لپیٹتے ہوئے کہا.
اگر تمہیں اتنی سردی لگ رہی ہے تو اندر جاؤ. یہاں پر کیوں کھڑی ہو….،؟
کیونکہ میرا دماغ خراب ہے. میں نے سوچا چلو کچھ دیر تم سے بات کر لیتی ہوں. مگر نہیں یہاں تو دماغ نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے. حمنہ نے پاؤں پٹکتے ہوئے اپنا رخ لاؤنچ کی طرف کیا تو حارث نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا.
دیکھو میرے پاس دماغ نہیں ہے بقول تمہارے اور تمہارا دماغ خراب ہے وہ بھی بقول تمہارے _ تو ہم دونوں کا سٹیٹس سیم ہوا. کیونکہ ہم دونوں بہن بھائی ہیں. اس سے ثابت ہوتا ہے کہ L. H. S برابر ہے R. H. S کے حارث نے حمنہ کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے کہا
حارث تم اتنی بے تکی بکواس کیسے کر لیتے ہو…..؟؟ حمنہ نے سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
بالکل ویسے ہی جیسے تم میری بے تکی بےعزتی کر لیتے ہو حارث کے جواب پر حمنہ نے سر ہاں میں ہلایا. ویسے تمہارا وہ دوست کہاں ہے. کتنی دیر سے نظر نہیں آ رہا. ڈی ایم اور ماما کتنی دفعہ اس کا پوچھ چکے ہیں. یہ آج کل کرتا کیا پھر رہا ہے….،؟ حمنہ نے ایک ساتھ بہت سے سوال پوچھے تو حارث اپنا سر کھجانے لگا میرا خیال ہے کہ جتنی حدید سے سوال پوچھنے کی مجھے آزادی حاصل ہے. اتنی ہی تم لوگوں کو بھی ہے. اس لیے تم یہاں کھڑی ہو. وہ ابھی آتا ہی ہوگا. اس سے آتے ہی سارے سوالوں کے جواب لے لینا اگر اس نے تمہیں دیے تو
مجھے فلحال نیند آ رہی ہے. حارث نے حمنہ کا منہ گیٹ کی طرف کرتے ہوئے خود اندر کی طرف قدم بڑھا دیے.
حارث میری بات سنو!! میں بہت سیریس ہوں اور پریشان بھی _ حمنہ نے اسے پیچھے سے چیخ کر پکارا. میں یہ بات بہت پہلے سے جانتا ہوں. بہت پہلے سے حارث نے بہت پر زور دیا اور خود لاؤنچ میں داخل ہو گیا جبکہ حمنہ نے پریشان سی صورت بناتے ہوئے اپنے برابر والے بنگلے کی کھڑکی کو دیکھا جس سے پیلی روشنی باہر آ رہی تھی.
حرا سو گئی وہ بھی اتنی جلدی
حمنہ نے کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے سوچا
یہ آج کل سب کچھ اتنا عجیب کیوں ہو رہا ہے. ہر کوئی عجیب ہی حرکتیں کر رہا ہے. حمنہ کی سوچ میں گاڑی کے ہارن نے خلل ڈالا
💰💰💰💰💰
جاری ہے.