No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
یونی میں حسب عادت آج بھی کافی چہل پہل تھی. حدید اپنا کام کرنے میں مصروف تھا جب کہ حارث سیڑھیوں پر بیٹھا ہر آنے جانے والے کو دیکھ رہا تھا.
کیا آج جمعرات ہے …..؟؟؟ حدید نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹائے بغیر سوال کیا تو حارث اس کی آواز پر چونکا
نہیں میرے خیال سے آج پیر ہے. لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو. کیا جمعرات کو کوئی خاص بات ہے …..،؟ حارث نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا
تم جو سیڑھیوں میں بیٹھے ہر آنے جانے والوں سے امید لگائے ہو تو مجھے گمان ہوا کہ شاید آج جمعرات ہے. اپنی بات کے آخر میں حدید مسکرایا تو حارث کو اس کی بات سمجھ آئی
بڑا ہی کوئی کمینہ انسان ہے تو _ حارث نے حدید کی کمر پر ایک مکا رسید کیا ایک تو مجھ پر اتنا بڑا ظلم ہوا ہے. اوپر سے تم سب لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہو. چلو باقیوں کی تو خیر ہے مگر مجھے تجھ سے یہ امید نہ تھی. حارث نے سیڑھیوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر پیچھے گراتے ہوئے اک آہ بھری. ایک تو تجھے بیٹھے بٹھائے بغیر کسی محنت کیے، اتنی امیر اور خوبصورت لڑکی مل گئی ہے. اوپر سے تو اتنی ناشکری کر رہا ہے. حدید نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے اس کی طرف رخ کیا اوہ رئیلی حارث کا انداز طنزیہ تھا.
تم ایسا کرو کہ آج حرا کو لنچ پر انوائیٹ کرو اور تمہارے دل میں اسے لے کر جو بھی خدشات ہے بیان کر دو. حدید نے کندھے اچکاتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا تو حارث دانت نکالنے لگا
پہلی بات تو یہ کہ وہ میرے بلانے پر آئے گی نہیں. دوسرا تمہیں لگتا ہے کہ وہ میری بات سیریس ہو کر سنیں گی. جیسے تم اسے جانتے نہیں ……؟؟؟
وہ صرف پیدا اپنے گھر میں ہوئی ہے. پلی بڑھی ہمارے گھر میں ہی ہے اور اس کی عادتیں میری محترمہ بہن سے کسی طور بھی مختلف نہیں. لہٰذا مجھے مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کا کوئی شوق نہیں ہے.
مگر گھر والوں نے تو تمہیں پورے کا پورا مکھیوں کے حوالے کر دیا ہے. حدید کی یاد دہانی پر حارث نے ایک بار پھر منہ بنا لیا.
اب منہ کیوں بنایا ہے. حدید نے حارث کو سیریس ہوتا ہے دیکھ کر دوبارہ پوچھا
ظاہری سی بات ہے مکھیوں کے کاٹنے کے بعد یہ منہ ایسا ہی ہو جائے گا تو میں نے سوچا کہ پہلے ہی پریکٹس کر لوں.
ایک حمنہ تھوڑی تھی جو وہ اپنے جیسی ایک اور لے آئی ہے. حارث تیرے برے دن شروع ہونے والے ہیں حارث ابھی اسمان کی طرف دیکھ کر فریاد ہی کر رہا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا
ڈی ایم کو اس وقت کیا کام ہو سکتا ہے. …؟؟ موبائل سکرین پر ڈی ایم کا نام چمکتا دیکھ کر حارث نے حدید کی طرف دیکھا
ڈی ایم آپ یقین مانیں کہ میں نے آج ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا ہے. بے شک حدید سے پوچھ لیں. حارث نے کال اٹینڈ کرتے فوراً اپنی صفائی پیش کی.
ہر وقت فضول باتیں نہ کرتے رہا کرو. آج یونیورسٹی سے واپسی پر تم اور حدید سائیڈ پر چلے جانا. دیکھو ہسپتال کا کام کہاں تک پہنچا ہے. ڈی ایم کے کہنے پر حارث سر ہلاتا فون بند کر گیا.
چلو جی ایک تو سارا دن یونی میں پروفیسر دماغ خراب کر دیتے ہیں. اوپر سے جو کسر بچ جاتی ہے وہ ڈی ایم نکال دیتا ہے. اتنی گرمی میں “صاحب” فرما رہے ہیں کہ واپسی پہ سائیڈ کا چکر لگا لینا. حارث نے کہتے ہوئے موبائل پاکٹ میں رکھا جبکہ ہسپتال کا نام سنتے ہی حدید کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جسے حارث نے اپنی مصروفیت میں نوٹ نہیں کیا.
کیا ہوا تمہارا کیوں منہ لٹک گیا ہے. اتنی دیر سے میں اپنا دکھ بیان کر رہا تھا. تو تمہارے سر پر جُو بھی نہیں رینگی تھی اور اب کیسے منہ بنا لیا ہے. حارث نے حدید کی طرف دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا جس پر حدید چیزیں سمیٹتا اٹھ کھڑا ہوا.
جلدی کرو کلاس کا وقت ہونے لگا ہے. پھر سائیڈ پر بھی جانا ہے. حدید کہتا ہوا کوریڈور کی طرف چل دیا.
ہائے حرا بی بی!! اتنے سارے لوگ تھے دنیا میں تمہارا پیدا ہونا ضروری تھا کیا _ کسی سیانے نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ دکھ اپنے اپنے ہوتے ہیں. حارث منہ میں بڑبڑاتا ہوا حدید کے پیچھے چل دیا. 💰💰💰💰💰 ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے حیات نے اپنا جائزہ لیا. خوبصورت جسم، دراز قد اس پہ برانڈڈ کپڑے حارث نے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے ایک خوبصورت مسکراہٹ شیشے کی طرف اچھالی اور یہ شرف صرف اس کے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کو ہی حاصل تھا جس کی طرف دیکھ کر حیات مسکراتا تھا.
موبائل پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے وہ قدم قدم سیڑھیاں اتر رہا تھا. جب کہ نیچے نوکر ڈائننگ ٹیبل پر اس کا ناشتہ سجائے با ادب کھڑے تھے. جیسے ہی حیات نے آخری سیڑھی پر قدم رکھا نوکر نے آگے بڑھتے ہوئے حیات کے لیے کرسی نکالی.
ہاں بولو کام کا کیا بنا ….؟؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی حیات نے بے تابی سے پوچھا اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے آگے نپکن درست کرنے لگا
مخالف کے جواب پر حیات کے ہونٹوں کو ایک بار پھر مسکراہٹ چھو گئی. رائل کلر کے بلیک تھری پیس سوٹ میں اس کی پرسنلٹی بہت جذب نظر لگ رہی تھی. فون سائیڈ پہ رکھتے اس نے خانسامہ کی طرف دیکھا.
آج میں بہت خوش ہوں اور اپنی مرضی کا ناشتہ کرنا چاہتا ہوں. لہٰذا یہ بریڈ جیم ٹیبل سے اٹھا لیں. حیات نے اپنی انگلی سے ٹیبل بجایا تو چند منٹوں کے اندر ٹیبل صاف ہو گیا.
بس سرکار کو 15 منٹ انتظار کی زحمت اٹھانا پڑے گی. آپ کی پسند کا ناشتہ حاضر ہو جائے گا. خانسامہ جو سفید ڈریس کوٹ اور سر پر سرخ ٹوپی لیے کھڑا تھا نے انتہائی مؤدب انداز میں حیات کو جواب دیا.
اگر وقت زیادہ بھی لگ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے. آپ آرام سے ناشتہ تیار کریں. میں جلدی میں نہیں ہوں.حیات نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھی تو اس کا جواب اور انداز خانسامہ کو حیران کر گیا.
سرکار مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے ….؟؟ خانسامہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا تو حیات اس کے انداز پر قہقہ لگا گیا.حیات کے یوں قہقہ لگانے پر ارد گرد موجود نوکروں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا.
یا تو واقعی ہی حیات صاحب بہت خوش ہیں اور یا ہم سب کی شامت آنے والی ہے. ایک سینیئر نوکر نے جونیئر کے کان میں پیشنگوئی کی جب کہ خانسامہ تھر تھر کانپ رہا تھا.
آپ پریشان نہ ہوں اور میری پسند کا ناشتہ بنا کر لائیں. ہاں البتہ میں خوش ہوں اور میرے خوش ہونے کی وجہ یہ ہے کہ رات کھانے پر میرا دوست، میرا چھوٹا بھائی آئے گا اور آپ سب جانتے ہیں کہ جب وہ آتا ہے تو میں کتنا خوش ہوتا ہوں. لہذا رات کے کھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو. حیات کی بات پر خانسامہ نے سکھ کا سانس لیا.
گیم کھیلنے کا مزہ تب آتا ہے جب سامنے والا بھی گیم کے اصولوں سے واقف ہو. اچھا تو حرا بی بی یہ بات ہے. حیات نے خود کلامی کرتے ہوئے موبائل کو اپنے ہاتھ میں گھمایا اور کچھ سوچنے کے بعد حرا کا نمبر ڈائل کیا.
اپے نے تو کہا تھا کہ آپ کسی کو بغیر مقصد کے فون نہیں کرتے اور جہاں تک مجھے یاد پڑتی ہے. تو مجھے آپ نے ہمیشہ بغیر مقصد کے ہی فون کیا ہے. میں اسے کیا سمجھوں …..؟؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی دوسری طرف سے حرا کی آواز سنائی دی تو حیات مسکراتے ہوئے اپنا پاؤں ہلانے لگا
پہلی ملاقات میں، میں نے آپ کو ایک انتہائی بے وقوف اور چھوٹی سی بچی سمجھا تھا جو کہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی. حیات کے اقرار پر حرا مسکرانے لگی کیونکہ اب مسکرانے کی باری اس کی تھی.
ایک آپ ہی نہیں اکثر لوگ پہلی ملاقات میں میرے بارے میں ایسی ہی رائے قائم کرتے ہیں. مگر دوسری یا تیسری ملاقات تک ان کی رائے اور تاثرات دونوں بدل جاتے ہیں.
خیر آپ کال کرنے کا مقصد بیان کریں کیونکہ اب “مقصد ایپ” والے بھی بغیر مقصد کے میسج نہیں کرتے. اپ تو پھر ایس پی حیات عالم ہیں.
مجھے بہت اچھا لگتا ہے. جب آپ میرا پورا نام اتنی تمیز سے لیتی ہیں. ویسے کال میں نے آپ کو بغیر مقصد کے ہی کی ہے. میرے ناشتے میں دیر تھی تو میں نے سوچا چلیں آپ سے بات کر لوں. حیات نے نوکروں کو ٹیبل پر ناشتہ لگاتا دیکھ کر کہا
آپ کے جواب پر دل کرتا ہے کہ میں اپ کو 21 توپوں کی سلامی دوں. خیر جو لوگ مجھے جانتے ہیں انہیں تو معلوم ہے لیکن آپ کو بتا دیتی ہوں کہ میں صرف ان لوگوں کا نام اتنی تمیز سے لیتی ہوں جنہیں میں عزت نہیں دینا چاہتی. اور اب میں آپ کا نمبر بلاک کر رہی ہوں کیونکہ آپ کو عزت راس نہیں. حرا نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی. جب کہ حیات نے کندھے اچکاتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھا اور مزے سے ناشتہ کرنے لگا
💰💰💰💰💰
کہاں جا سکتا ہے. پورا گھر چھان مارا ہے. ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جن لوگوں کے ایک یا دو بچے ہوتے ہیں انہیں اتنا بڑا گھر بنانے کی کیا ضرورت ہے …..؟؟
مرغی کے کتنے ڈھیر سارے بچے ہوتے ہیں مگر وہ سارے کے سارے ایک ٹوکرے کے نیچے امن اور آتشی سے رہتے ہیں اور ہم لوگ _ حمنہ نے سر جھٹکا اب یہ پانچ کنال کے گھر میں صرف میں اور حارث ہیں. یہ حارث کا بچہ کدھر چلا گیا ہے …..؟؟ حمنہ نے ٹی وی لاؤنچ میں کھڑے ہوتے ہوئے چاروں طرف نظر دوڑائی. میرے خیال سے حدید کے کمرے میں ہوگا. ( یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا. چٹکی بجاتے حمنہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی). حدید کے کمرے کا دروازہ کھلتے ہی خوشبوؤں نے اس کا استقبال کیا. حدید بلیک شلوار قمیض کے اوپر براؤن واسکٹ پہنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا. آؤ اندر آ جاؤ رک کیوں گئی. حدید نے برش ٹیبل پہ رکھتے ہوئے حمنہ کو اشارہ کیا جس پر وہ معذرت کرتی دروازے ساتھ ہی ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی.
کیسا لگ رہا ہوں …..؟؟ حدید نے آبرو اچکاتے ہوئے حمنہ سے پوچھا
میرا نہیں خیال آپ کو میری رائے کی ضرورت ہے. سامنے لگے شیشے میں دیکھ لیں. وہ آپ کو میرے سے بہتر جواب دے گا. حمنہ کے جواب حدید مسکراتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنے جوتے پہننے لگا.
آپ کہیں جا رہے ہیں …..؟؟ کچھ دیر بعد حمنہ کے پوچھنے پر حدید نے ہاں میں سر ہلایا مگر منہ سے کچھ نہ بولا
حارث بھی آپ کے ساتھ جائے گا ….؟؟ حمنہ کو تجسس ہوا.
نہیں بلکہ میں نے تو کافی دیر سے حارث کو دیکھا بھی نہیں ہے. حدید نے ہاتھ میں گھڑی باندھتے ہوئے جواب دیا تو حمنہ کو ٹینشن ہوئی.
آپ کب تک واپس آئیں گے. وہ مجھے کیمسٹری کا ایک ٹاپک سمجھنا تھا. حمنہ نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے سوال کیا.
ایسا کرو آج تم چھٹی کر لو. ٹھیک ہے. مجھے آنے میں دیر ہو جائے گی. حدید نے کہتے ہوئے پرفیوم کی بوتل پکڑی اور اسے خود پر چھڑکنے لگا
کمرہ تو آگے ہی خوشبو سے مہکا ہوا ہے. حمنہ نے پرفیوم کی طرف اشارہ کرتے رائے دی تو حدید نے بوتل واپس ٹیبل پر رکھ دی.
ٹھیک ہے. آپ تیار ہوں. میں ذرا حارث کو تلاش کر لوں. پتہ نہیں کہاں بیٹھا کیا کر رہا ہوگا. …؟؟ حمنہ نے فکر مندی سے کہا اور جانے کے لیے مڑی.
میری مانو تو اپنی دوست کو فون کر لو کیا پتہ اس کے ساتھ بیٹھا ہو….؟؟ حدید نے شرارت سے کہا تو حمنہ اسے گھورتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی
لان میں قدم رکھتے ہی حمنہ کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے چھوا جس پر وہ جھرجھری لے کر بازو سینے پر باندھنے لگی. جبکہ دور کونے میں حارث بیٹھا موبائل پر کچھ کر رہا تھا
تم یہاں بیٹھ کر کیا کر رہے ہو. میں نے پورا گھر چھان لیا ہے. حمنہ نے حارث کے سر پر چلاتے ہوئے پوچھا تو موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا.
ایک دو اس اتنے بڑے گھر میں میری کوئی پرائیویسی ہی نہیں ہے. حدید سے چھپ کر یہاں بیٹھا تھا کہ تم اوپر سے نازل ہو گئی ہو. حارث نے سنبھلتے ہوئے اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالنا چاہا جسے حمنہ نے اچک لیا.
کس سے بات کر رہے تھے ….؟؟ حمنہ نے موبائل سکرین آن کرتے ہوئے تفتیشی انداز میں پوچھا جب کہ موبائل پاسورڈ مانگ رہا تھا
کم از کم تمہاری اس چڑیل دوست سے بات نہیں کر رہا تھا. بلکہ اس سے جان چھڑانے کے طریقے گوگل سے پوچھ رہا تھا. حارث نے حمنہ کے ہاتھ سے اپنا موبائل واپس لیتے ہوئے چڑ کر جواب دیا.
ہائے حارث سچ کہہ رہے ہو. حمنہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
بالکل سچ اگر یہ یقین نہیں تو تم دیکھ لو _ حارث نے موبائل ان لاک کرتے ہوئے حرا کے آگے کیا. جس پر جعلی حروف میں لکھا تھا کہ “منگنی توڑنے کے آسان طریقے” __ حارث نے حمنہ کے آگے فون ہلاتے ہوئے واپس اپنی طرف کیا
تم دنیا کے واحد نمونے ہو جس نے گوگل پر یہ سرچ کیا ہوگا. حمنہ نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا تبھی اندر سے حدید باہر آتا ہوا دکھائی دیا.
یہ اتنا تیار ہو کر کہاں جا رہا ہے. وہ بھی اکیلے _ حارث نے حدید کو دیکھتے ہوئے کہا جب کہ وہ دور سے ہی ہاتھ ویو کرتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا میرے خیال سے حدید صاحب کو عشق کی بیماری لگ گئی ہے اور یہ کسی حسین پری سے ملنے جا رہے ہیں. کیا نصیب ہیں اس بندے کے _ ہر کوئی ہی اسے پیار کرتا ہے اور ایک میں ہوں. حارث نے سرد آہ بھری. جب کہ اس کی بات پر حمنہ کا منہ لٹک گیا.
کیا واقعی ہی حدید کا چکر چل رہا ہے ……؟؟ حمنہ نے سنجیدگی سے حارث کی طرف دیکھا تو حارث نے لاعلمی کا اظہار کیا.
💰💰💰💰💰
جاری ہے.
