Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

تم اس وقت کہاں سے آ رہے ہو…..،؟ حدید جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلا حمنہ فوراً اس کے قریب پہنچی.
آج سے پہلے تو تم نے یہ سوال کبھی نہیں پوچھا وہ بھی اس انداز میں _ حدید نے اسے سر سے پاؤں گھورتے ہوئے کہا آج سے پہلے تم اتنی دیر کے لیے غائب بھی نہیں ہوئے. گھر میں سب تمہارے لیے پریشان ہو رہے ہیں. حمنہ کے جواب پر حدید نے گردن جھکاتے ہوئے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا میرے خیال سے تمہارے جوتے تو کافی پرانے ہیں. پھر تم انھیں اتنا گھور کیوں رہے ہو. کیا یہ اب چبھنے لگے ہیں یا تم نئے خریدنے کا سوچ رہے ہو……؟؟ حدید سے زیادہ حمنہ اس کے جوتوں کو دیکھنے لگی.
کبھی کبھی تم عجیب سی حرکتیں کرنے لگ جاتی ہو. حدید نے کہتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھائے
سیدھا ڈی ایم کے کمرے میں جانا. وہ تم سے ملنے کو بہت بے تاب ہیں. حمنہ کی بات پر حدید پلٹا
کیا انہوں نے میرے لیے کچھ خاص کہا ہے…..؟؟ حدید پر تجسس تھا.
وہ تمہارے لیے کبھی بھی عام نہیں کہتے کیونکہ تم ان کے لیے خاص ہو تو ہمیشہ خاص ہی کہتے ہیں.
مثلاً
حدید نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا جبکہ ہاتھ سینے پر باندھے وہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا.
مثلاً یہی کہ تم ابھی تک کہاں ہو _ کھانا کیوں نہیں کھایا آج وہ بہت تھک گیا ہے _ وہ سارا دن زمین پر تھا وغیرہ وغیرہ اچھا تو یہ سب خاص ہے حدید ہاتھ نیچے کرتا دوبارہ مڑا.
ہاں کیونکہ ہم سے تو کبھی انہوں نے ایسے سوال نہیں کیے. ہم سے پوچھتے ہیں. کالج کیسا جا رہا ہے آج کل کیا کرتے پھر رہے ہو پیپرز کب ہیں اب فیل ہوئے تو جوتے پڑیں گے تم سے گاڑی لے لی جائے گی وغیرہ وغیرہ حمنہ مسلسل حدید کے پیچھے چلتی بول رہی تھی جبکہ وہ بہت سنجیدہ تھا.
کیا اب اندر بھی میرے ساتھ جاؤ گی…..؟؟ حدید نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو حمنہ نہ میں سر ہلانے لگی.
میرا دماغ فی الحال بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے. میں کیوں رات کے اس پہر ڈی ایم کے کمرے میں جاؤں گی جبکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس وقت جانے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا……؟؟
خیر توم مت ڈرو. تمہیں تو وہ کچھ نہیں کہتے. تم تو ان کے لاڈلے ہو. حمنہ نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے طنز کیا.
لاڈلی تو تم بھی بہت ہو. کہتے تو وہ تمہیں بھی کچھ نہیں ہیں. حدید کی بات پہ حمنہ نے مسکرانے لگی.
گویا تمہیں اس بات کا بہت دکھ ہے لیکن میں تمہارے دکھ میں کمی نہیں کر سکتی. ہاں اضافہ ضرور کر دیتی ہوں. اس سے پہلے کہ حدید ہینڈل گھماتا حمنہ نے تیزی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے دروازہ کھول دیا. حدید اس حرکت کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے لڑکھڑاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا.
ڈی ایم دیکھیں میں بڑی مشکل سے اسے پکڑ کے لائی ہوں. یہ آ ہی نہیں رہا تھا. کہہ رہا تھا مجھے نیند آ رہی ہے. صبح ڈی ایم سے مل لوں گا. انتہائی خوبصورتی سے بولے گے جھوٹ پر حدید ہکا بکا حمنہ کو دیکھنے لگا جب کہ کمرے کا ماحول بہت سنجیدہ تھا.
ٹھیک ہے اب تم جاؤ اور حدید تم بیٹھو. ڈی ایم نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ حمنہ کو جانے کا کہا تو وہ مڑتے ہوئے حدید کو چھیڑتی کمرے سے باہر نکل گئی.
حدید کیا تمہیں میں نے کبھی یہ احساس ہونے دیا کہ تم میں یا حارث میں کوئی فرق ہے…..؟؟ حمنہ کے جاتے ہی کمرے میں موت جیسا سکوت چھا گیا جس کو ڈی ایم کی آواز نے توڑا.
حدید کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا. صرف نفی میں سر ہلاتا وہ اپنا سر جھکا گیا.
تم اس بات کو مانو یا نہ مانو مگر میں بہت عرصے سے جانتا ہوں کہ تم اپنے بھائی سے ملتے ہو. جیسے ہی ڈی ایم نے یہ جملہ ادا کیا بجلی کی تیزی سے حدید نے سر اوپر کیا.
حالانکہ مجھے نتاشہ بیگم نے منع کیا تھا لیکن پھر بھی میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا. اب کی بار ڈی ایم نے براہ راست حدید کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا. تو حدید نظریں چرا گیا.
میں نے تمہیں بالکل ویسے ہی پالا ہے. جیسے حارث کو پالا ہے. میں نے کبھی تم دونوں میں فرق نہیں کیا. اب کی بار نتاشا بیگم نے بستر کے کنارے بیٹھتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا.
کیا اب میں یہ امید رکھوں کہ تم میرے برابر کھڑے ہو گے. جبکہ میں نے تمہارے بارے میں بہت کچھ سوچ رکھا ہے اور یہ بات ابھی نہیں بول رہا. میں نے پہلے بھی بولی تھی. اپنے ذہن پہ زور دو میں نے بولا تھا کہ تمہاری سالگرہ پر میں. حمنہ کی منگنی کا اعلان کروں گا
اس کے لیے میں نے بہت پہلے سے لڑکا دیکھ رکھا ہے. کیا تم جاننا چاہو گے کہ وہ لڑکا کون ہے……؟؟ ڈی ایم کے سوالیہ انداز پر حدید نے ان کی طرف دیکھا
وہ لڑکا کوئی اور نہیں. بلک تم ہو. اگر تم میرے داماد ہو. تو اس ساری جائیداد کا والی وارث دو لوگ ہی بنتے ہیں. تم اور حارث کیونکہ میرا جو کچھ بھی ہے وہ میرے بچوں کا ہے.
کیا پھر بھی کسی طرح کا کوئی مقدمہ باقی رہ جاتا ہے. سوچو اور جواب دو. مجھے کہ میں کہاں پر غلط ہوں میری محبت میں کہاں کھوٹ ہے کیا تمہیں ابھی بھی حیات ٹھیک لگتا ہے….؟؟
اس عمر میں جب کہ میرے بال سفید ہو گئے ہیں. تم میرے سر پر خاک ڈالو گے. حدید پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا.
تم تو اتنے چھوٹے تھے کہ تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا…..؟؟
میں نہیں جانتا. حیات نے تمہیں ماضی کے بارے میں کیا بتایا ہے. مگر میں چاہتا ہوں کہ آج میں تمہیں بتا دوں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا. تاکہ تمہارے دل میں جتنے بھی سوال ہیں ان کے جواب تمہیں خود بخود مل جائیں. ڈی ایم نے کہتے ہوئے حدید کی طرف دیکھا جب کہ نتاشہ بیگم نے غصے سے اپنا رخ پھیر لیا
💰💰💰💰💰
موبائل کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی جبکہ حیات شاور لینے میں مصروف تھا.
کس کو اتنی آگ لگی ہوئی تھی کہ آرام سے نہانے بھی نہیں دیا. ٹاول سے اپنے بال خشک کرتا، حیات نے بڑبڑاتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا. اس سے پہلے کہ وہ مسڈ کال چیک کرتا موبائل دوبارہ پوری آب و تاب سے بجنے لگا
زہے نصیب مجھے تو لگا کہ آپ کو دوبارہ یاد کروانا پڑے گا. مگر آپ نے میری امید سے بہت پہلے اور جلدی مجھے کال کر لی ہے. کہیے کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں…..،؟ حیات نے ٹاول بے دردی سے صوفے پہ پھینکتے ہوئے پر اسرار مسکراہٹ ساتھ کہا
ٹھیک ہے مجھے تمہاری آپشن منظور ہے. رانا تنویر کے کہنے حیات کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی.
آپ کو کون سی والی آپشن منظور ہے. پہلی یا دوسری حیات کو پورا یقین تھا کہ وہ دوسری آپشن ہی دے گا. پہلی مجھے تمہاری پہلی آپشن منظور ہے. اگر تم میرے داماد بن جاتے ہو تو کم از کم مجھے قانونی تحفظ تو حاصل ہوگا. تمہاری آنکھ میں بڑوں کے لیے کچھ تو شرم ہوگی. رانا تنویر کے جواب پر حیات کے چہرے پر آئی مسکراہٹ ایک دم سمٹ گئی حیرت ہے آپ نے پہلی آپشن کو سلیکٹ کیا جبکہ مجھے لگتا تھا کہ آپ دوسری آپشن کو ترجیح دیں گے. آپ کی جگہ کوئی بھی صاحب عقل ہوتا تو یقیناً وہ دوسری آپشن کو چنتا. حیات کی بات کے جواب میں رانا تنویر نے قہقہ لگایا میں صاحب عقل نہیں ہوں. اس لیے تم مجھے دوبارہ ایسا کوئی طعنہ دینے کی کوشش مت کرنا. اس ویک اینڈ پہ آجاؤ. میں اپنی بیٹی کی تمہارے ساتھ منگنی کر دیتا ہوں. ویسے بھی اس ویک اینڈ پر میرے گھر بہت بڑی ایک دعوت ہے. رانا صاحب کے بتانے پر حیات نے ٹیبل پہ موجود ٹیبل کلینڈر اٹھایا. ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. حیات نے لاپرواہی سے حامی بھری. ہاں مگر تمہیں رانا خاور کے بیٹے کو بھی چھوڑنا پڑے گا. وہ کیا ہے نا کہ اب تو رشتہ داری ہو گئی ہے. اتنا خیال تو تم رکھو گے اور اس کے لیے تمہیں کوئی قیمت نہیں ملے گی. اب کی بار رانا تنویر کا لہجہ خاصا سخت تھا. میں نے تم جیسا عجیب انسان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا. جو اپنے دوست کو بچانے کے لیے اپنی بیٹی کی قربانی دے رہا ہے. بہرحال مجھ سے کسی طرح کی فالتو امید نہ رکھنا کیونکہ وہ تمہاری بیٹی ہے مگر میری نہیں حیات نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی.
تجھ جیسے کتے انسان کو تو میں اپنے گھر کا کباڑ نہ دوں. تُو بیٹی کی بات کرتا ہے سالے کمینے
فون بند کرتے ہی رانا تنویر نے دل کھول کے حیات کو گالیاں نکالی.
💰💰💰💰💰
دن کے 12 بجے رہے تھے. حراا بی بی ابھی بھی بستر میں لیٹی موسم کے مزے لے رہی تھی.
سردیاں بھی اللہ تعالی کا کتنا بڑا انعام ہے. بستر سے نکلنے کو دل ہی نہیں کرتا. گلاس وارل کے پار میٹھی میٹھی دھوپ کو دیکھتے ہوئے حرا نے دل میں سوچا. تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹیون بجی.
لگتا ہے حمنہ کی صبح ہو گئی ہے. گھڑی پر دیکھتے ہوئے حمنہ نے فون اٹھایا تو خلاف معمول اس کے اوپر حیات کا میسج جگمگا رہا تھا.
اللہ خیر کرے. زوال کا وقت ہے _ حرا نے کہتے ہوئے میسج کھولا گڈ مارننگ میں نے سوچا کہ ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اپنی ذاتی ڈیوٹی ادا کر دوں.
خیریت ہے لگتا ہے اس کے سر پہ کہیں چوٹ لگی ہے. اتنا میٹھا میسج اس کی طرف سے کیسے آ سکتا ہے…..؟؟ کچھ دیکھ سکرین کو گھورنے کے بعد حرا نے گڈ لکھا اور سینڈ کر دیا
بی بی جی رانا صاحب آپ کو نیچے بلا رہے ہیں. اس سے پہلے کہ حرا دوبارہ بستر پر لیٹتی ملازمہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا
میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ بند دروازے کا مطلب ہوتا ہے کہ اندر نہیں آنا اور تم بے دھڑک میرے کمرے میں داخل ہو جاتی ہو. حرا نے ناگواری سے کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو اسے بیک گراؤنڈ میں رانا صاحب بھی کھڑے دکھائی دیے.
پاپا اگر آپ نے خود ہی آنا تھا تو اس کو بھیجنے کا کیا مقصد تھا….؟؟ اب کی بار حرا نے اٹھتے ہوئے بیڈ کراؤنڈ ساتھ ٹیک لگائی.
اتنی دیر تک سونا نحوست ہوتی ہے. رانا تنویر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ملازمہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا.
بیٹی میں نے تمہارے لیے ایک فیصلہ کیا. رانا صاحب نے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے کہا
مگر اس فیصلے کا تمہاری حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے. یوں سمجھ لو کہ یہ بس ایک پلان ہے دشمنوں کے جال سے نکلنے کے لیے
ہم دونوں بہت جلد یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے کیونکہ اب یہاں رہنا ہمارے لیے مناسب نہیں. رانا صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنی بات کس طرح حرا کو بتائیں. پاپا میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں. آپ نے جو بھی کہنا ہے کھل کر کہیں. آپ یقین مانیں میں نہ آپ سے ناراض ہوں گی اور نہ ہی شور مچاؤں گی. حرا نے اپنا رخ رانا صاحب کی طرف کرتے ہوئے بہت لاڈ سے کہا تو وہ مسکرانے لگے دیکھو بیٹا بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہماری دولت یا ہماری شہرت سے حسد کرنے لگتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ تمام چیزیں اسے مل جائیں. بالکل یہی مثال ایس پی حیات کی بھی ہے. اس سے بچنے کے لیے ہمیں بھی اس کی طرح شاطرانہ چالیں چلنی پڑیں گی. ورنہ ہم اس جیسے شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتے. رانا صاحب کے جواب پر حرا ہاں میں سر ہلانے لگی. 💰💰💰💰💰 حمنہ، حمنہ تُو کہاں ہے…..؟؟ ٹیرس کے راستے حرا حمنہ کے کمرے میں داخل ہوئی. میں نے کہاں ہونا ہے. یہاں ہی ہوں. اوندھے منہ بستر پر لیٹی حمنہ نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا. ارے تجھے کیا ہوا ہے. تُوکیوں اس طرح یہاں پڑی ہے….؟؟ حرا نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا پتہ نہیں کل سے اس گھر میں کیا چل رہا ہے. رات کو حدید دیر سے آیا پھر اس کو ڈی ایم نے کیا کہا وہ آج اپنے کمرے سے باہر نہیں نکل رہا. حارث کا الگ منہ بنا ہوا ہے اور میں یہاں پڑی ہوں. ایسے لگتا ہے جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہے. حمنہ نے حرا کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا. نظر تو واقع ہی لگ گئی ہے. حرا نے حمنہ کے برابر بستر پر گرتے ہوئے جواب دیا. کس کی حمنہ نے حیرت سے حرا کی طرف پہلو بدلتے ہوئے پوچھا
ایس پی حیات کی اور کس کی
تو ادھر آڑھی ترچھی پڑی بے. تجھے کیا خبر کہ تُو لٹ گئی ہے. حرا نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے دکھ سے سر نفی میں ہلایا.
اللہ خیر کرے. میں یہاں پڑی ہوں. تو میں لٹ کیسے گئی….؟؟ اب کی بار حمنہ نے اٹھ کے بیٹھتے ہوئے التی پالتی ماری.
بے وقوف لڑکی میں “عزت لوٹنے” کی بات نہیں کر رہی. صرف ” لٹنے” کی بات کر رہی ہوں. تیری چاند جیسے بھابھی کو کوئی لے کر جا رہا ہے. حرا نے اپنے طور پر رازداری ست حمنہ کی طرف جھکتے ہوئے بتایا
میری بھابھی وہ بھی چاند جیسی حمنہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تو حرا نے قریب بڑا تکیہ زور سے اسے مارا بے وقوف لڑکی نہیں بلکہ نند!! میں تیری ہونے والی بھابی نہیں ہوں. مجھے وہ ایس پی دلہن بنا کر لے جا رہا ہے. تیری غیرت بالکل جوش نہیں مارتی. حارث کو بتا اگر اس میں کوئی غیرت ہوئی تو وہ ضرور جوش مارے گی. ابھی وہ دونوں یہ باتیں کر ہی رہی تھی کہ حارث کمرے میں داخل ہوا. حارث تو یقین مان تیری زندگی شیطان جتنی ہے. ابھی میں تجھے یاد کر رہی تھی اور تو آگیا. حرا نے حارث کو اندر آتا دیکھ کر کہا میرے خیال سے تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ میری زندگی بہت لمبی ہے. حارث اس کا جملہ درست کرتا قریب بڑی کرسی پر بیٹھ گیا. ایک ہی بات ہے. حرا نے منہ بناتے جواب دیا جس پر حارث سر نفی میں ہلاتا دیوار کی طرف دیکھنے لگا اگر تم کوئی ضرور بات نہیں کر رہی ہو. تو تھوڑی دیر کے لیے باہر تشریف لے جاؤ تاکہ میں اپنی بہن سے بات کر سکوں. حارث نے کچھ سوچتے ہوئے کہا میں بہت ضروری بات کر رہی ہوں. بے وقوف لڑکے تمہاری چاند جیسی منگیتر کو کوئی دلہن بنا کر لے جا رہا ہے اور تمہاری غیرت سو رہی ہے. حرا نے اسے جوش دلایا میں خود پورے کا پورا سویا ہوا ہوں. تم صرف غیرت کی بات کر رہی ہو. دوسرا یہ کہ مجھے یاد نہیں میری منگیتر کون ہے کیا میری کبھی منگنی ہوئی تھی…..؟؟ حارث نے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو اس نے لاتعلقی کا اظہار کیا.
میرے حساب میں تم دونوں کے دونوں ہی بہت بڑے بے غیرت ہو. میرا دماغ خراب تھا جو یہاں تمہیں بتانے چلی آئی. حرا نے بستر سے اترتے ہوئے ناراضگی سے کہا
حارث تم اس کی بات غور سے سنو. تمہیں پتہ ہے رانا صاحب نے حرا کی منگنی ایس پی حیات سے کر دی ہے. یہ بیچاری اتنی پریشان ہے. حمنہ نے حرا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکا. جب کہ حمنہ کی بات پر حارث کے تاثرات پہلے حیرت اور پھر مسکراہٹ میں بدل گئے.
چلو میری تو جان چھوٹی. اس بات پہ تو مجھے تم لوگوں کو ٹریٹ دینی چاہیے. میں خواہ مخواہ اتنا پریشان ہو رہا تھا. آخر کار جہاں کا خمیر تھا وہاں پہنچا. تم ہمارے گھر سے رخصت ہو جاؤ گی. ہمیں کتنا اچھا محسوس ہوگا. یہ گھر اپنا اپنا لگے گا. حارث کی خوشی دیدنی تھی جبکہ حرا اسے غصیلی نظروں سے گھور رہی تھی.
دیکھو میں تمہیں آج سچے دل سے اپنی بہن تسلیم کرتا ہوں. میں تمہاری شادی میں بھاگ بھاگ کر کام کروں گا. تمہیں بھائی کی کبھی محسوس ہی نہیں ہوگی. تمہارا کوئی بھائی نہیں ہے ناااااا __
بس آج سے میں تمہارا بھائی ہوں. حارث کی خوشی دیدنی تھی. وہ کمرے میں چکر کاٹ رہاتھا.
میرے تو پیر ہی اس خوشی سے زمین پر نہیں ٹک رہے. حارث نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے اظہار کیا جب کہ ہمہ اور ہیرا دونوں اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھیں.
تم دونوں مجھے یوں کیوں دیکھ رہی ہو. مجھے کیوں ایسے لگتا ہے جیسے تم دونوں کچھ کرنے لگی ہو……؟؟
ہم سوچ رہیں ہیں کہ اگر تمہارے پاؤں ٹوٹ جائیں تو یہ بستر پر کافی آرام سے ٹکیں گے. حارث نے ان دونوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر الٹے قدم لیے جس پر حمنہ اور حرا اس کی طرف لپکیں.
💰💰💰💰💰
جاری ہے