Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
Surprise 😍❤️🥳
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 27
لاسٹ ایپیسوڈ
آج بھی یہاں مکمل سکوت تھا اس جگہ کی وحشت اپنی جگہ برقرار تھی وہ سر پر دوپٹہ اوڑھے ، اپنے شانوں کے گرد مہرون شال اچھی طرح لپیٹے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی چلتی جا رہی تھی مٹی کی قبریں آج بھی ویسی ہی تھی ہاں اس نے محسوس کیا کہ قبروں میں اضافہ ہو چکا تھا وہ اپنے بابا کی قبر کے پاس جا کر رکی تھی ساتھ ہی ایک اور قبر تھی وہ جانتی تھی یہ اس کی ماں کی قبر ہے پہلی بار وہ اپنی ماں کی قبر دیکھ رہی تھی بے اختیار سسک اٹھی
ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی آنکھیں اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں بھیگ گئی تھی مگر آج پہلے کی طرح وہ اپنے بابا کو زمانے کی ستم ظریفی نہیں سنا رہی تھی بلکہ آج وہ اپنے ماں باپ کو اپنی بیٹی اور شوہر کی باتیں بتا رہی تھی کیونکہ اب اس کے پاس انہیں بتانے کے لیے اچھی یادیں تھیں آنکھیں نم تھی مگر آج اس کے انداز میں اذیت نہیں تھی
/////////////////////////
عباس آج کل زیادہ تر گاؤں میں رہنے لگا تھا حرہ کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ چاہیں تو شہر رہائش پذیر ہو سکتے ہیں مگر سردار شیر دل کی وفات کے بعد ان کی پگ کا وارث چونکہ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے عباس تھا
اس لیے گاؤں کے تمام معاملات کو وہی دیکھنے لگا تھا ایک بار عباس نے سوچا کہ گاؤں چھوڑ کر چلے جائیں لیکن اس کے ضمیر نے اسے اس سوچ پر ملامت کی وہ جانتا تھا اگر اس نے یہ جگہ چھوڑ دی تو کوئی اور اس کی جگہ آ جائے گا اور حقیقتاً وہ بھی روایتی سرداروں کی طرح ظالم اور سفاک ہو گا اور جاہلانہ تصورات اور رسوم کو جاری رکھے گا اس گاؤں کے ساتھ بہت سے چھوٹے گاؤں بھی منسلک تھے بہت سوچنے کے بعد عباس نے فیصلہ کیا کہ گاؤں نہ چھوڑا جائے کہ وہ لوگوں میں شعور لانا چاہتا تھا جو سراسر غلط فیصلوں پر سر جھکا لیتے تھے
آج پنچایت میں ایک اہم مسئلہ آیا تھا قتل کے بعد مقتول کے ورثاء نے قاتل کے خاندان سے خون بہا میں ونی مانگی تھی یہ سن کر جہاں عباس بے سکون ہوا تھا وہیں حرہ کے چہرے کا رنگ سفید پڑا تھا پانچ بجے قاتل اور مقتول کے خاندانوں سمیت گاؤں کا ہر فرد پنچایت میں مدع تھا وہ جانتی تھی عباس کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا مگر صدیوں سے چلی آ رہی یہ رسمیں ختم کرنا بھی تو آسان نہ تھا وہ جانے کی تیاری کر رہا تھا اور حرہ اس کی مدد کر رہی تھی اس کا سر اور نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر عباس اس کی لرزتی پلکیں اور ہاتھ کی لرزش دیکھ کر باخوبی اس کی حالت سمجھ رہا تھا
بے ساختہ عباس نے اسے اپنی جانب کھینچتا جو ڈریسنگ سے اس کا والٹ اور موبائل اٹھانے کے لیے مڑی تھی
” کیوں پریشان ہیں ۔۔ ؟”
اس نے دھیمی آواز میں پوچھا جبکہ جواباً حرہ نے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا
” آپ جانتے ہیں وجہ ۔۔ “
وہ بھی مدھم سا گویا ہوئی تو عباس نے سرد آہ بھری
وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی وجہ اس کے یہاں کی آب و ہوا کے ساتھ بہت سے دکھ جڑے تھے جس کا ذکر اس نے دانستہ عباس سے بھی کیا مگر عباس نے بہت طریقے سے اسے سمجھایا تھا کہ اگر وہ چلے گئے تو یہ ظلم جاری رہے گا چونکہ اب ہر کسی کی ڈور اس کے اپنے ہاتھوں میں آ گئی تھی اس لیے اب کوئی بھی اس کے فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے ہزار بار سوچے گا اور پھر وہ دیکھتی تھی کہ عباس آج کل سکول اور ہسپتال بنوانے میں مصروف تھا اس لیے وہ خاموش ہو گئی تھی بہرحال وہ اس شخص کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان سکتی تھی
” کیا مجھ پر یقین نہیں ۔۔ میں کسی کے ساتھ ظلم ہونے دوں گا ۔۔ “
اس کے سوال پر فوراً حرہ نے نفی میں سر ہلایا
” آپ پر یقین ہے ۔۔ مگر ہر خون بہا میں جانے والی حرہ کو عباس بھی تو نہیں ملتا ۔۔ “
وہ لرزتی آواز میں گویا ہوئی اس کے انداز سے ہی وہ مضطرب لگ رہی تھی
” ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا میں ۔۔ “
اس کے لہجے سے پختہ ارادے جھلک رہے تھے
” سب کے خلاف جانا بہت مشکل ہے ۔۔ !”
وہ شاید مایوس تھی کہ بچپن سےاس نے یہ روایتی نظام دیکھے تھے
” آپ میری ہمت ہیں حرہ ۔۔ اور ہر چیز مشکل ہو سکتی ہے لیکن ناممکن نہیں ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ایک ہاتھ سے اس کے رخسار کو سہلاتا بولا
اسے نرم انداز میں دیکھتے اس نے پھر بات جاری کی
” اس وقت وہ سب روکنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا ۔۔ لیکن اپنی طرف سے میں نے دلی رضامندی سے آپ سے نکاح کیا تھا ۔۔ میں ونی نہیں لایا تھا بلکہ بیوی لایا تھا ۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ جس لڑکی کا نکاح مجھ سے ہو رہا ہے وہ کیسی دکھتی ہے ۔۔ اس کا نام کیا ہے ۔۔ کیا کرتی ہے ۔۔ بس اتنا جانتا تھا کہ وہ میری بہن کے قاتل کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔۔ اور میرے خاندان والے اسے انتقام لینے کی غرض سے میرے ساتھ وابستہ کر رہے ہیں ۔۔ لیکن میرے ضمیر نے مجھے للکارا کہ مرد بنو عباس ۔۔ انصاف کرو کہ تم انصاف کی کتابیں پڑھ چکے ہو ۔۔ قانون کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ ۔۔ جس نے جرم کیا ہو اسے چھوڑ دو اور بے قصور پر ظلم کرو ۔۔ بس پھر سوچ لیا کہ جرم کرنے والے کو ہی سزا ملے گی ۔۔ بے قصور کے ساتھ انصاف کروں گا ۔۔ اور الحمداللہ میں سرخرو ہوں خدا کے آگے کہ میں نے کسی حد تک ایسا ہی کیا ہے ۔۔ “
وہ اسے ہمیشہ کی طرح بنا پلکیں جھپکائے پوری توجہ سے سن رہی تھی بلاشبہ وہ الفاظ سے کھیلنا جانتا تھا اس کے الفاظ دوسرے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے تھے
” سمجھ رہی ہیں نا میری باتیں ۔۔؟”
وہ ہنوز خاموش تھی جب اس نے سکوت توڑا
” جی ۔۔”
زبان کے ساتھ سر بھی ہلاتی وہ یک لفظی بولی
” اب پریشان تو نہیں ہیں نا ۔۔؟”
اس کے سوال کر وہ اس بار ہلکا سا مسکرائی تھی اور نفی میں سر ہلایا تھا
” بلکل نہیں ۔۔ “
” اجازت ہے ۔۔ اب جا سکتا ہوں میں ۔۔”
وہ بھی مدھم سا مسکراتا پوچھ رہا تھا جواباً وہ مڑی اور ہینگر میں لٹکی ہوئی سیاہ رنگ کی چادر اتار کر عباس کے کاندھے پر پھیلائی پھر اس کا والٹ اور موبائل اسے تھمایا
” خیر سے جائیں اور خیر سے آئیں سرکار ۔۔”
وہ احتراماً بولی تو عباس اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا باہر کی سمت بڑھ گیا
////////////////////////
وہ جب اپنے پورے جاہ و جلال اور سحر انگیز شخصیت کے ساتھ پنچایت میں پہنچا تو اس کے احترام میں ہر زی روح جس میں سے معزز شخصیات کرسی اور چارپائی پر بیٹھیں تھیں اور کچھ مٹی پر ، سب ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے وہ اپنی مخصوص نشست تک پہنچ چکا تھا براجمان ہونے کے بعد ایک ہاتھ سے سامنے موجود لوگوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اس کا اشارہ سمجھتے سب بیٹھ گئے
چند لمحوں بعد اس نے فیصلہ سنانا تھا چونکہ اس سے پہلی پنچایت میں جرم مجرم پر ثابت ہو چکا تھا
” ازباز خان تم نے قتل کیا ہے ۔۔ ؟”
عباس نے آخری مرتبہ قاتل سے پوچھا جو پہلے ہی اقبال جرم کر چکا تھا لیکن جانتا تھا کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ اور اس کے بھائی اپنی بہن ونی کرنے کے لیے تیار تھے
” جی سرکار ۔۔ مم مجھ سے غصے میں گولی چل گئی تھی ۔۔”
ارباز خان بہت آرام سے بولا تھا جبکہ عباس کا دل کیا اس کی زبان پر دہکتا ہوا انگارہ رکھ دے جو کسی کا بیٹا ، کسی کا سہاگ ، کسی کا باپ مار کر پر سکون تھا کیونکہ جانتا تھا کہ بہنیں تو بھائی کی زندگی کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں
” محمد بخش ۔۔ !”
عباس کی ٹھٹھرتی پکار پر ہر کوئی لرز اٹھا جو مٹھیاں بھینچے بیٹھا تھا
” حکم سرکار ۔۔ !”
ایک گارڈ فوراً حاضر ہوا اور مؤدب بولا
” سارے گاؤں کو مدع کیا تھا ۔۔ کیا کوئی اپنے گھر تو نہیں ہے ۔۔”
ٹھنڈے ٹھار انداز میں چاروں اطراف میں نگاہیں دوڑا کر پوچھا گیا
” جی سرکار سب آئے ہیں ۔۔ “
محمد بخش نے جواب دیا تو عباس کی نگاہ ارباز خان کے ساتھ بیٹھی چادر میں لپٹی لڑکی پر نگاہ پڑی جو ویران آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی عباس نے فوراً کرب سے آنکھیں میچ لیں یقیناً یہ وہی لڑکی تھی جسے بھینٹ چڑھانے کے لیے لایا گیا تھا
” ہممم ۔۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔۔ چونکہ ارباز خان اپنا جرم قبول کر چکا ہے ۔۔ تو کسی بات کی اب گنجائش نہیں رہی ۔۔ ابھی اسی وقت ازباز خان کو سب کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جائے گا کہ قتل کی سزا یہی ہے ۔۔ “
وہ مضبوط انداز میں حتمی فیصلہ کرتے ہوئے بولا تھا جبکہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہر طرف گہرا سکوت چھا گیا تھا
” یہ کک کیا کہہ رہے ہیں آپ سرکار ۔۔ انہوں نے خون بہا میں ونی مانگی ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں ۔۔ پھر آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ “
ارباز خان زرد پڑتے رنگ کے ساتھ بولا تو عباس نے ملامتی نگاہوں سے اسے دیکھا
” جی سرکار ۔۔ ہمیں خون بہا میں ونی چاہیے ۔۔ “
یہ مقتول کا بھائی تھا جس کے ہر انداز سے ازباز خان اور اس کی بہن کے لیے نفرت جھلک رہی تھی
” یہ میری عدالت ہے جہاں میرے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت فیصلے ہوں گے ۔۔ اور میں کسی کی رائے لینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔ اور میرے اصولوں کے مطابق سزا مجرم کو ہی ملے گی ۔۔ کسی میں اگر ہمت ہے تو وہ سامنے آئے ۔۔ “
عباس کی گرجدار آواز ہر سو گونجی تو ہر کوئی دبک کر بیٹھ گیا وہ بھی جو سرکش اور بغاوت کرنا چاہتے تھے جبکہ وہ لڑکی آنکھوں میں آنسو بھرے مسلسل عباس کو دیکھ رہی تھی جو اسے موت بے بجائے زندگی سنا رہا تھا
” معاف کیجئے گا سرکار ۔۔ یہاں کے قانون صدیوں سے نہیں بدلے ۔۔ باقی سب کی تو الگ بات ہے ۔۔ لیکن آپ بھی خون بہا میں ونی لے کر گئے تھے ہم اس پنچایت میں موجود تھے ۔۔ “
ارباز خان کے بڑے بھائی نے سر جھکائے کہا تو باقی سب کو بھی زرا سی ہمت ملی
” اس وقت یہاں بیٹھے میرے باپ سردار شیر دل نے مجھے حکم دیا تھا ۔۔ سو میں ان کے حکم کا پابند تھا اور آج میں یہاں بیٹھا حکم دے رہا ہوں تو کیا آپ بغاوت کریں گے ۔۔ جانتے ہی ہوں گے بغاوت کی سزا ۔۔ ؟”
ڈھکے چھپے الفاظ میں وہ بولا تو سب کو سانپ سونگھ گیا
” آج کے بعد ۔۔ کسی کی بہن ، بیٹی کا پنچایت آنا تو بہت دور ۔۔ کسی نے نام بھی لیا تو زبان کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔۔ “
سرد انداز میں کہا گیا ہر کوئی دم سادھے اپنے سردار کو دیکھ رہا تھا جبکہ عباس اپنی نشست سے اٹھا اور اس لڑکی کی سمت بڑھا جو اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر کھڑی ہوگئی باقی سب بھی کھڑے ہو چکے تھے
” شکریہ سرکار جی ۔۔ !”
وہ لڑکی تشکرانہ انداز میں کہتی ہاتھ جوڑ گئی جبکہ عباس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے بڑھ گیا جبکہ اس لڑکی کا روم روم عباس کے کیے دعا گو ہوا جو اسے دلدل میں پھنسنے سے بچا گیا بہت سے لوگ آنکھوں میں آنسو لیے اپنے سردار کو دعائیں دینے لگے کہ اس فرسودہ رسم کے باعث بہت سی ماؤں نے اپنی بیٹیاں بھینٹ چڑھتی دیکھی تھیں
پنچایت سے آئی خبر سن کر بے ساختہ حرہ نے تشکرانا انداز میں سر آسمان کی جانب بلند کیا جب عباس اسے اپنی جانب آتا دیکھائی دیا اسے دیکھتے ہی ملازمائیں لاونج سے نکل گئی
” میں نے کہا تھا نا ۔۔ مشکل ہے نا ممکن نہیں ۔۔ اور پھر جب آپ کی نیت صاف ہے ۔۔ آپ حق پہ ہیں تو پھر خدا پہ چھوڑ دیں ۔۔ بےشک وہ بہتر کرنے والا ہے ۔۔ “
اس کے لہجے کی مضبوطی دیکھ کر حرہ اس کی گرویدہ ہو گئی
” میری دعاؤں کا اثر ہے سب ۔۔ “
وہ اتراتے ہوئے بولی تو عباس نے جاندار قہقہہ لگایا
////////////////////////
” یہ ۔۔؟”
حرہ کی حیرت زدہ سی آواز پر عباس جو کہ دعا کو گود میں بیٹھائے سامنے پڑے لیپ ٹاپ پر کارٹون دیکھ رہا تھا نے اسے رخ موڑ کر دیکھا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ہاتھ میں دو بالیاں تھامے کھڑی تعجب سے کبھی ان سونے کی چھوٹی چھوٹی بالیوں کو دیکھ رہی تھی تو کبھی عباس کو دیکھ رہی تھی عباس نے دعا کو بیڈ پر بیٹھایا اور خود حرہ کی جانب بڑھا
” ڈرا میں ایک ہی پڑی تھی ۔۔ مجھے لگا دوسری آپ کی کھو گئی ہے ۔۔ اس لیے اس کے ساتھ کی دوسری بنوا لی ۔۔ سوری جانم آپ کو بتایا یاد نہیں رہا ۔۔ “
وہ کاندھے آچکا کر عام سے انداز میں بولا تھا جبکہ حرہ کی آنکھوں میں اس کے لیے سرشاری تھی یہ شخص ہمیشہ اس کا دل جیت لیتا تھا یہ چھوٹی سی سونے کی بالیاں اس کے ماں باپ نے بچپن میں اسے پہنائی تھی وہ ہر وقت اسے پہنے رکھتی تھی جیسے یہ اس کے وجود کا حصہ ہوں مگر جب اسے حویلی چھوڑنی پڑی تھی تب مجبوراً اسے اپنے ماں باپ کی دی ہوئی آخری نشانی بیچنی پڑی تھی جس سے اس نے دعا کا ہسپتال میں علاج کروایا تھا ایک بالی اس نے بہت سنبھال کر رکھ لی تھی کہ اب ایک تو پہن نہیں سکتی تھی
” تھینک یوز ۔۔ !”
وہ تشکرانہ انداز میں بولی تو عباس نے سر کو ذرا سا خم دے کر اس کا شکریہ وصول کیا اور پھر خود اپنے ہاتھوں سے اسے وہ بالیاں پہنائی
” پرفیکٹ ۔۔ “
وہ اس کا رخ آئینے کے سامنے کرتا مسکراتا بولی تو حرہ کے لب بھی مسکرائے
” آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ “
الفاظ بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلے تھے عباس اس کی بات پر کھل کر مسکراتا اس کے چہرے پر جھکا جب حرہ مزاحمت کرتے کو تھوڑا پیچھے ہوئی اور آنکھوں سے بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ میں مگن دعا کی جانب اشارہ کیا
” چلیں رات کو کنٹینیو کریں گے ۔۔ “
وہ مسکراتا ہوا ذو معنی سے کہتا واپس دعا کی جانب بڑھ گیا جبکہ حرہ اس کی تابعداری پر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی
///////////////////////
وہ اپنا حق ، مقام و حیثیت صبر کے عوض پا چکی تھی یقیناً وقت برا ہو یا اچھا گزر ہی جاتا ہے بات صرف ثابت قدم رہنے کی ہوتی ہے زندگی کی تلخیوں سے ہم اکثر دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور یہی زندگی کی تلخیاں ہماری شخصیت پر اثرات چھوڑتی ہیں وہ اثرات منفی یا مثبت دونوں ہو سکتے ہیں کیونکہ ہم فرشتے نہیں ہیں ہم انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے انسان سے غلطیاں اور گناہ بھی ہوتے ہیں
انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے لیکن ہر انسان ، انسان نہیں ہوتا کچھ انسانوں کے روپ میں حیوان بھی ہوتے ہیں کیونکہ جن میں انسانیت نہیں ہوتی وہ انسانی صورت میں درندے ہوتے ہیں اور ہمیں انسان ہی رہنا ہے درندہ نہیں بننا کہ انسان میں احسان ہوتا ہے جو دوسروں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اور جو بذات خود دوسروں کی تکلیفوں کا سبب بنتے ہیں تو پھر وہ کیا ہوتے ہیں یہ ہم خوب جانتے ہیں
اور ہاں ہم نہیں سمجھ سکتے لیکن ہر کوئی اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے ، کوئی اپنے نفس کو مار کر خدا کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور کچھ لوگ اپنے ضمیر کو مار کر گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں بہرحال کوئی کچھ بھی خواہ وہ نیک کام ہو یا برا ، اس کا جواب اسے اللہ کو دینا ہوتا ہے ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ فلاں نے یہ برا کام کیا ہے سو وہ تو جہنمی ہے
اس کے تایا تائی ، اور حویلی کے مکین خواہ وہ مالک ہوں یا ملازمین ، سب نے ہی اس کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا تھا اس پر زندگی تنگ کر دی تھی ، ونی جیسی فرسودہ رسم کے تحت اسے بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا اگر عباس رحم دل نہ ہوتا باقی سرداروں کی طرح ظالم ہوتا تو کیا وہ ابھی تک زندہ ہوتی ، اور پھر کس بے بسی اور مجبوری میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر اس نے حویلی چھوڑی تھی یہ وہی جانتی تھی گود کی بچی کو لے کر وہ در بدر ہو گئی تھی لیکن ہر دکھ پر یہ دکھ حاوی تھا کہ جانے کس عالم بے بسی میں اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہوئی ہوں گی اسے تو ماں کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا تھا سردار بی بی کی وجہ سے وہ آخری وقت میں اپنی ماں سے نہیں مل سکی تھی
اگر گناہ بڑا ہو نا تو موت بھی آسانی سے نہیں آتی یہ اس نے سنا تھا لیکن وہ اتنی پتھر دل نہیں تھی کی سردار بی بی کو معزوری اور ناعمہ بی بی کو بے سکونی کی کیفیت میں دیکھ کر خوش ہوتی ، دل مضبوط کرتی وہ سب کو معاف کر کے زندگی میں آگے بڑھ گئی تھی کہ اگر اس کے ساتھ انصافیاں ہوئی تھی تو اللہ نے وہ کڑا وقت بھی اس کا کاٹ دیا تھا کہ وہ کہتا ہے مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور عباس کی صورت میں انعام بھی اسے کیا خوب ملا تھا
اچھائی کے لیے لازم نہیں ہوتا کہ لوگوں کے ساتھ اچھا کیا جائے ، اچھائی تو یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ برا نہ کیا جائے اور نورے وہ مضبوط لڑکی ہے جس نے اپنے ہر معاملے کو خدا پر چھوڑ دیا اگر وہ تھوڑا سا بھی اپنی ماں اور سردار بی بی کی سازشوں میں ان کا ساتھ دیتی تو یقیناً آج انہیں کی طرح خدا کے عتاب کا شکار ہوتی مگر اس نے حُرّہ سے حسد نہیں کی یقیناً اپنے محبوب کو کسی دوسرے کی دسترس میں دیکھنا آسان نہیں ہوتا ، جب وہ حُرّہ اور عباس کو ایک ساتھ دیکھتی تھی عباس کا حُرّہ کے حق کے لیے بولنا ، حُرّہ کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھنا اس کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا اس کے دل پر کئی تیر پیوست ہوتے ہیں مگر اس نے صبر کیا اور اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کیا اور پھر اپنے صبر کا پھل عالیان کی صورت میں پایا
یقیناً ہر مرد کا ظرف اتنا اعلی نہیں ہوتا کہ جانتے بوجھتے ہوئے ایسی لڑکی سے محبت کرے جس کے دل پر پہلے سے ہی کوئی دوسرا مرد قابض ہو لیکن عالیان نے ہر بات کو پس پشت ڈال کر بہت محبت سے نورے کی جانب ہاتھ بڑھائے تھے اور پھر نورے کا مثبت انداز اس کے ارادوں کو مزید مضبوط کر گئے تھے دونوں کی کاوشوں نے ایک دوسرے سے محبت کرنے کا ڈھنگ سیکھا دیا
ہر اذیت کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے جس کے گزر جانے کے بعد نہ تو درد کی شدت پہلے جیسی رہتی ہے اور نہ ہی انسان پہلے جیسا رہتا ہے اور حُرّہ نے جس قدر اذیتیں سہی تھیں اس کے بعد اب کی آسانیاں آئیں تھی مگر اب اسے سرداد بی بی یا کوئی بھی وہ شخص جس نے اس کے ساتھ ظلم کیا تھا اسے کسی سے کوئی سروکار نہیں رہا تھا عباس نے اسے اس کے تایا کے انتقال کا بتایا ، یہ بھی بتایا کہ خاور آتا ہے معافی چاہتے ہیں وہ اور اس کی ماں حُرّہ سے تو حُرّہ نے تائی سے ملنے کی حامی بھر لی وہ اس سے رو رو کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہیں تھی اپنے کیے گئے ہر ظلم کی ، حُرّہ نے سنجیدگی سے اس کے ہاتھوں کو تھام کر ان کی معافی قبول کی تھی ایسے اسے قدرے سکون پہنچا تھا یقیناً کسی کو معاف کرکے جو سکون ملتا ہے وہ انتقام لے کر نہیں ملتا اس کی مثال اس کے خود کے سامنے تھی کہ وہ انتقام کی نیت سے حویلی میں لائی گئی تھی ، اتنا ظلم کرکے بھی انتقام لینے والے بے سکون تھے اور وہ اتنی اذیتیں سہہ کر بھی مطمئن تھی
ناعمہ بی بی اس سے بہت احترام سے پیش آتیں تھیں کئی مرتبہ وہ اس سے اپنے کیے کی معافی مانگ چکی تھیں دوسری طرف سردار بی بی تھیں جو اسے دیکھتے ہی رونے لگتیں عجیب عجیب آوازیں نکالتیں جیسے بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں مگر بے بس تھیں بول نہیں سکتی تھی انہیں اس بے بسی کے عالم میں دیکھ کر حُرّہ کو ان کا اس کے لیے ہتک آمیز رویہ یاد آتا تھا جب سردار بی بی بہت حقارت اور نفرت سے اسے مخاطب کرتی تھیں بے شک دنیا کھیتی ہے جیسا بیج بو گے ویسا ہی کاٹو گے لیکن حُرّہ نے خدا کے بعد عباس کی وجہ سے انہیں معاف کر دیا کہ اس شخص کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتی تھی
حویلی کی بلند دیواروں کو دیکھ کر آج وہ احتساب کر رہی تھی جب اسے یہاں لایا گیا تھا اسے سب یاد تھا کہ کیا کیا گیا تھا اس کے ساتھ ، آج بھی کسی کی آہنی گرفت ، نفرت بھری آنکھیں اور ہتک آمیز رویہ اسے یاد تھا کیسے یہ بلند و بالا حویلی میں چھوٹے لوگ رہتے تھے اس خوبصورت و قدیم حویلی میں پست اور غلیظ ذہن کے لوگ قیام پذیر تھے
لیکن انہیں لوگوں کے بیچ ایک پاکیزہ نفس اور اعلی ظرف شخص بھی تھا جس نے اس کے وجود کے ساتھ روح پر لگے زخموں پر اپنے بلند اخلاق و کردار سے مرہم رکھے تھے
وہ اکثر سوچتی تھی کہ وہ اتنی نیک تو نہیں تھی نہ اتنی تہجد گزار کہ جس کے ثواب میں اتنا اعلی انسان اس کے نصیب میں لکھا گیا
جنہوں نے خدا کے فیصلوں پر سر جھکا لیا وہ آنے والے وقت میں خودبخود مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن جو چالاکیوں، مکاریوں سے حالات بدلنے کی کوشش کرتے ہیں خدا انہیں زمین پر پٹک دیتا ہے بےشک وہ بہتر کرنے والا ہے
ملے عروج تو انسانیت کی حد میں رہو
یہی وقت ہے قدرت کے آزمانے کا
مکمل کوئی نہیں ہوتا بلکہ کوشش کرتے رہنا چاہیے اپنے کردار میں مزید نکھار لانے کے لیے
خدا کی رضا میں راضی ہو جائیں ، زندگی پر سکون ہو جائے گی
اس کے لکھتے ہاتھ رکے تھے ڈائری کو بند کر کے اس نے گہرا سانس لیا اس کی خوشبو اسے اپنے بہت قریب محسوس ہوئی تھی بلکہ وہ تو پورا کا پورا اس کے دل اور سانسوں میں بس چکا تھا ایک احساس کے تحت کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی ذرا سا رخ موڑا تو وہ سامنے ہی دروازے سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے چہرے پر نہایت نرمی اور اپنی مخصوص مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا ہمیشہ کی طرح وہ اسے نہایت احترام سے دیکھ رہی تھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس تک آیا اور اس کے ہاتھ اپنے شکنجے میں لے کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
” میری جان نے اگر ڈائری لکھ لی ہو تو چلیں اب ۔۔ ؟”
وہ اسے اپنے بے حد قریب کرتا مصنوعی سنجیدگی سے پوچھا
” جی سردار ۔۔ “
وہ مدھم سا بولی تھی جبکہ وہ ہنوز اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
” ویسے میں کچھ سوچ رہا تھا ۔۔ “
وہ بولا تو حرہ نے بے ساختہ اسے دیکھا وہ چہرے پر بھر پور سنجیدگی سجائے ہوئے تھا
” کیا جی ۔۔ ؟”
وہ چہرہ ذرا سا بلند کرتی پوچھ رہی تھی عباس نے قمیض کی جیب سے کچھ نکالا اور حرہ کو تھمایا حرہ نے ناسمجھی سے دیکھا
” ٹکٹس ۔۔ !”
ٹکٹ کو الٹ پلٹ کے بعد وہ بولی تو عباس نے اثبات میں سر ہلایا
“لیکن کیوں ۔۔ ؟”
وہ شاید سمجھہ نا تھی
” ہنی مون سمجھ لیں ۔۔ “
عباس نے عام انداز میں کہتے ہوئے شانے آبنائے
” ایک بیٹی کے بعد آپ کو ہنی مون یاد آ رہا ہے ۔۔ سرکار !”
وہ مسکراہٹ دبائے طنزیہ گویا ہوئی
” ہم یونیک کپل ہیں نا جانم ۔۔ لوگ شادی کے فوراً بعد ہنی مون پہ جاتے ہیں اور ہم بیٹی کو لے کر جائیں گے ۔۔ یونیک لوگوں کا یونیک ہنی مون ۔۔ !”
وہ شرارت سے اس کی جمبات کا جواب دیتا گویا ہوا حرہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی
” ایگری ۔۔ ؟”
اس نے پھر پوچھا تو حرہ نے اثبات میں سر ہلایا
” ویسے میں کچھ اور بھی سوچ رہا تھا ۔۔ !”
وہ پھر سے گویا ہوا
” حکم سرکار ۔۔ “
حرہ نے سر خم کرتے ہوئے پوچھا
” پہلے بتائیں ۔۔ بات مانیں گی میری ۔۔ ؟”
وہ جانے کیا سوچ کر بولا تھا حالانکہ جانتا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی آنکھیں بند کر کے بھی اس کے ہر حکم کی تعمیل کر سکتی ہے یہ الگ بات تھی کہ اس نے کبھی اسے حکم نہیں دیا تھا بلکہ بہت احترام اور محبت سے اس سے بات منواتا تھا
” آپ حکم کریں ۔۔ ؟”
وہ دھیمی آواز میں بولی لہجے میں آنکھوں کی طرح احترام اور عزت تھی
” آپ نے نوٹ کیا کچھ ۔۔ ؟ “
” کیا ؟”
اس کی ادھورہ بات پر وہ فوراً بولی
” دعا اکیلا فیل کرتی ہے ۔۔ “
اس کے معصوم چہرے پر نگاہیں جمائے وہ آنکھوں میں شرارت سموئے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا بولا تھا اور پھر سے اپنی بات جاری کرنے کے لیے لب وا کیے
” کیوں نہ دعا کی دوسری بہن کو لانے کا سوچیں ۔۔ “
اس کی معنی خیز بات کو سمجھنے میں حرہ کو چند لمحے لگے تھے اور جب سمجھ آئی تو
جب سمجھ آئی تو وہ بے ساختہ سر اور چہرہ جھکا گئی
” آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔ “
وہ اپنی بات پر زور دیتا ذرا سا اس کے چہرے پر جھکتا مسکراہٹ دبائے پھر سے گویا ہوا تو حرہ نے اپنی حیا سے جھکی آنکھیں اس کی شرارت بھری نگاہوں پر جمائی اور اس کے سینے پر دھرے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں سمویا جبکہ اس کے نرم و نازک ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے عباس پرسکون ہوا وہ اب اس کا چہرہ اپنے چہرے کے مزید قریب کرتی اس کی پیشانی پر جھکی اور محبت سے مہر ثبت کی پھر دائیں رخسار پر اپنے لب رکھے ، اسی طرح پھر بائیں رخسار پر جھکی وہ سانس روکے اس کی پہلی مرتبہ کی گئی پیش قدمی کو محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ اب اپنے بازو عباس کے چہرے سے ہٹا کر اس کے گرد حمائل کر رہی تھی اور پھر اس کے سینے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی جبکہ عباس نے کھل کر مسکراتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے لیا وہ زبان سے نہ بول کر بھی بہت خوبصورت انداز میں اسے بہت کچھ کہہ گئی تھی
//////////////////////////
ختم شد
