Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 6
” نورے اور ناعمہ کہاں ہیں ۔۔ ؟؟ کھانے کے لیے کیوں نہیں آئیں ابھی تک ۔۔؟؟ سب خیر ہے نا ۔۔؟”
سردار شیر دل نے سربراہی کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے نورے اور ناعمہ کی کرسیاں خالی دیکھ کر سردار بی بی سے استفسار کیا
” ناعمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔”
سردار بی بی نے شوہر کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے کہا
” کیوں کیا ہوا ہے ۔۔؟”
سردار شیر دل نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا
” بیٹی کی پریشانی کھائے جا رہی ہے اسے ۔۔ یہ سوچ کر پریشان ہے کہ عباس کے نکاح میں پہلے سے ہی کوئی لڑکی موجود ہے ۔۔ “
سردار بی بی اب اپنی پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے گویا ہوئیں
” تو تم نے کہنا تھا کہ وہ لڑکی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہمارے اور ہمارے بیٹے کے لیے ۔۔ ہماری بہو نورے ہی بنے گی ۔۔ “
سردار شیر دل نے کھانا کھاتے ہوئے حتمی انداز میں کہا
” کہا ہے میں نے مگر ۔۔ پریشانی کم نہیں ہوئی اس کی ۔۔ بس آپ اب جلدی کریں عباس اور نورے کی شادی میں ۔۔ !”
سردار بی بی اس بار سنجیدگی اور پریشانی سے بولیں
” ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔۔ جلد ہی عباس سے شادی کی بات کرتا ہوں ۔۔ “
انہوں نے سردار بی بی کی بات سے متفق ہوتے ہوئے کہا تو سردار بی بی نے اثبات میں سر ہلایا
” اور نورے کہاں پر ہے ۔۔؟”
سردار شیر دل نے انہیں دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھا
” وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔ “
سردار بی بی نے دھیمی آواز میں کہا
” جاؤ نورے بی بی کو بولو ۔۔ ہم نے بلوایا ہے انہیں ۔۔!”
سردار شیر دل نے ناہید کی جانب دیکھتے ہوئے اسے حکم دیا تو وہ جی کہتے ہوئے نورے کے کمرے کی جانب بڑھ گئی
” کافی دن ہو گئے عباس نہیں آیا ۔۔ “
اس مرتبہ سردار بی بی نے بے چینی سے کہا
” ہاں بات ہوئی تھی میری اس سے ۔۔ مصروف ہے بہت ۔۔ مگر جلد آنے کے لیے کہا ہے میں نے اسے ۔۔ “
سردار شیر دل نے سرسری سا بتایا انہیں تو سردار بی بی سرد آہ بھر کر رہ گئیں
” السلام علیکم تایا سردار ۔۔!”
نورے نے ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر سردار شیر دل کو سلام کیا
” وعلیکم السلام میری بیٹی آؤ بیٹھو ۔۔ کھانا کھاؤ ۔۔!”
انہوں نے نورے کو دیکھتے ہوئے سلام کا جواب دی اور کرسی کی سمت اشارہ کر کے بیٹھنے کا حکم دیا نورے دوپٹہ درست کرتی کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ سردار بی بی نورے کو بغور دیکھنے لگیں خوش باش ہنسنے مسکرانے والی نورے کس قدر مرجھا گئی تھی کہ سفید خوبصورت چہرے کی رونق مانند پڑ گئی تھی آنکھیں شاید رونے کے باعث سرخ تھیں نورے کو اس طرح دیکھتے ہوئے انہوں نے دل میں عہد کیا کہ جلد سے جلد نورے کے اداس چہرے پر مسکراہٹ لانے کا سامان ضرور کریں گی
” نورے میری جان ۔۔ صحیح طرح کھانا کھاؤ ۔۔ دیکھو اتنی کمزور ہو گئی ہو ۔۔ !”
سردار بی بی نورے کو ایسے ہی سر جھکائے بیٹھا دیکھ کر محبت سے بولیں تو نورے بمشکل مسکرا کر کھانا کھانے لگی اسی وقت حُرّہ کچن سے سویٹ ڈش لا کر میز پر رکھ رہی تھی جب سردار شیر دل کے خوف کے باعث اس کے ہاتھ کپکپائے اور اسی وقت کھیر کا ڈونگا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گیا اس کے کچھ چھینٹے سردار شیر دل کی سفید شلوار پر بھی گر گئے
” لڑکی کیا اندھی ہو تم ۔۔ ؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے اب !”
وہ حُرّہ کو دیکھتے دھاڑے تھے جبکہ حُرّہ ان کی دھاڑ پر مزید سہم گئی اور چند قدم پیچھے ہوئی پھر دونوں ہاتھ لبوں پر رکھتے روتے ہوئے کچن کی جانب بھاگی
” یہ تو کسی کام کی نہیں ہے بس ۔۔ مفت کی دوٹیاں توڑتی ہے ۔۔ حرام خور ۔۔”
سردار شیر دل کو اٹھتا دیکھ کر سردار بی بی حُرّہ کو لعن طعن کرتی ان کے پیچھے ڈائننگ ہال سے نکل گئیں جبکہ نورے کو ہمیشہ کی طرح آج بھی حُرّہ کے ساتھ ہوتے سلوک پر دکھ ہوا
” ناہید یہ صاف کرو ۔۔ !”
ناہید کو حکم دے کر وہ کچن کی جانب بڑھی جہاں حُرّہ چادر سے چہرہ چھپائے شدت سے رو رہی تھی اس کے رونے میں اتنا درد تھا کہ نورے کو اس پر بے تحاشہ ترس آیا
” سنو ۔۔ !”
بے اختیار ہی نورے نے اسے پکارا جبکہ حُرّہ نے چونک کر سامنے کھڑی نورے کو دیکھا
” جج جی ۔۔ ؟”
اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے حُرّہ نے نگاہیں چرا کر پوچھا مگر نورے ہنوز خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی اس کے دیے ہوئے گلابی سادہ سے جوڑے میں بڑی سی کالی چادر اوڑھے وہ دبلی پتلی سی لڑکی جس کا رونے کے باعث چہرہ اور آنکھیں سرخ تھیں اسے دیکھ کر نورے کو جانے کیوں افسوس ہوا اسے ہمیشہ اس لڑکی کے لیے برا لگتا تھا مگر اس لڑکی کے عباس سے رشتے کے باعث ہمیشہ وہ اسے نظرانداز کرتی تھی
” آ آپ کو کک کچھ چاہیے ۔۔ ؟؟”
نورے کو اپنی جانب تکتا پا کر حُرّہ گھبرائی ہوئی بولی
” میں جانتی ہوں تم بےقصور ہو ۔۔ پھر بھی سزا تمہیں مل رہی ہے ۔۔ “
نورے نے آہستگی سے کہا تو حُرّہ نے دکھ سے سر جھکا لیا مگر خاموش رہی
” تت تم کیسے سہہ لیتی ہو اتنا کچھ ۔۔ ؟ مجھ سے تو یہ برداشت نہیں ہو رہا کہ تم عباس کے نکاح میں ہو ۔۔ “
یہ کہتے ہوئے نورے کی آنکھیں بھیگنے لگیں جبکہ نورے کا جھکا سر اس بار شرمندگی سے مزید جھک گیا
” کہتے ہیں اگر آپ پہلے دوسروں کے لیے دعا کرو تو آپ کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے ۔۔ میں دعا کرتی ہوں کہ خدا تمہاری مشکلات آسان کریں ۔۔ “
بھیگی آواز میں کہتے ہوئے نورے سسک کر واپس مڑ گئی جبکہ حُرّہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی
” فرش صاف کرو باہر کا جا کر ۔۔ خود کو مالکن سمجھ کر یہاں آ گئی ہے ۔۔ “
نورے کو باورچی خانے سے نکلتا دیکھ کر ناہید غصے سے حُرّہ کو دیکھتی پھنکاری
جبکہ حُرّہ آنسو پیتی ہوئی ڈائننگ ہال میں چلی گئی سارے کام ختم کر کے جب وہ اپنے سٹور نما کمرے میں داخل ہوئی تو کافی رات ہو چکی تھی دروازہ بند کر کے چٹائی پر آ لیٹی اور چادر اتار کر سر کے نیچے رکھ لی تھکان اتنی تھی کہ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سو جاتا مگر اسے ابھی اپنی قسمت پر آنسو بہانے تھے ہمیشہ کی طرح سارے دن میں ہوئے واقعات یاد کرنے لگی سردار شیر دل اور سردار بی بی کے ہاتھوں اپنی توہین یاد آئی تو آنسو خودبخود آنکھوں کے راستے بہنے لگے پھر نورے کے الفاظ یاد آئے تو نئے سرے سے ملال ہونے لگا مالکان سے لے کر ملازمین تک کا برا اور ہتک آمیز رویہ اس نے دیکھا تھا مگر نورے نے کبھی توہین نہیں کی تھی اس کی نہ باقیوں کی طرح کبھی تشدد کیا تھا مگر آج اس کا رونا اور اس کے الفاظ حُرّہ کے دل پر بوجھ ڈال رہے تھے
” نورے میں بھی آپ کے لیے دعا کے سوا کچھ نہیں کر سکتی ۔۔ کچھ بھی نہیں کر سکتی ۔۔ خدا کی قسم اگر مجھے اس حویلی کے علاوہ کوئی ہمدرد چھت میسر ہوتی تو آپ کی اور سردار کی زندگی سے بہت دور چلی جاتی ۔۔ کم از کم اپنی وجہ سے آپ کو کوئی دکھ نہ دیتی ۔۔ مگر ۔۔ مگر میں کیا کروں ۔۔ میرا کوئی نہیں ہے ۔۔ مرد کے بغیر زندگی گزارنے میں جتنی مشکلات پیش آتیں ہیں عورت کو وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی ہوں میں ۔۔ باہر درندے ہیں بہت جو ہمہ وقت نوچنے کو تیار کھڑے رہتے ہیں ۔۔ کیا کروں آپ کے لیے ۔۔ کچھ نہیں کر سکتی ۔۔ بے شک حویلی میں غلامی کی زندگی گزارنا نا قابل برداشت ہے ۔۔ مگر بےبس ہوں میں ۔۔ کم از کم حویلی میں مجھے اپنی آبرو ریزہ ریزہ ہونے کا ڈر نہیں ہے ۔۔ پھر یہ غلامی کا سودا برا نہیں ہے میرے لیے ۔۔ میں یہ چھت نہیں چھوڑ سکتی ۔۔ مگر آپ ڈر کیوں رہیں ہیں نورے ۔۔ سردار تو آپ کے ہی ہیں میں تو کچھ بھی نہیں آپ کے آگے ۔۔ کوئی اوقات نہیں میری ۔۔ “
کمرے کی چھت کو خالی آنکھوں سے تکتے ہوئے وہ دکھ سے بڑبڑا رہی تھی زندگی میں تکلیفیں بڑھتی ہی جا رہیں تھیں یا یوں کہنا بہتر تھا کہ اس نے شاید ہی کوئی خوشی دیکھی ہو
حُرّہ جیسی خود دار لڑکی کے لیے حویلی میں اس طرح زندگی گزارنے سے بہتر موت تھی مگر افسوس کہ اپنے حصے کی سانسیں اسے ہر حال میں پوری کرنی تھیں اس رات کے بعد عباس حویلی نہیں آیا تھا وہ جلد آنے کا کہہ کر گیا تھا مگر بہت سارے دن گزر گئے تھے نامحسوس انداز میں وہ اس کا انتظار کرتی تھی مگر پھر اپنی بےوقوفی پر خود کو پچکارتی
” سب اپنے پرائیوں نے تو غلط کیا تمہارے ساتھ حُرّہ اب خود اپنے دل کو مزید تکلیف سے دوچار مت کرو ۔۔ وہ گاؤں کا سردار ہے ۔۔ اور تم کیا ہو ۔۔؟ ۔۔ صحیح کہا تھا سردار بی بی نے خون بہا میں آئی ہوئیں کے حصے میں فقط ایک آدھ رات آتی ہے ۔۔ انہیں کوئی بیوی کی حیثیت تھوڑی دیتا ہے ۔۔ وہ تو دل بہلانے کے لیے ۔۔ “
اور اب پھر وہ شدت سے رو دی تھی کی فقط آنسوؤں پر اختیار تھا
جیسے جیسے رات بڑھ رہی تھی کمرے میں خنکی بھی بڑھ رہی تھی روتے ہوئے جب وہ سو گئی تو نیند میں ہی سر کے نیچے رکھی چادر اٹھا کر اپنے وجود پر ڈال دی
////////////////////////
کچھ عابی کے کیس کی وجہ سے اور کچھ دوسرے کیسز کی وجہ سے وہ اس قدر مصروف رہا تھا کہ کوشش کے باوجود بیس بائیس دنوں سے حویلی جا ہی نہیں سکا تھا سارے دن مصروفیت کے باعث جب وہ سونے کے لیے لیٹتا تو حُرّہ کا خیال اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتا وہ ڈری سہمی سمٹی ہوئی لڑکی اسے اپنی جانب جیسے کھینچ رہی تھی میلے کالے کپڑوں میں چھپی ہوئی ، بار بار چادر سے خود کو چھپانا ، یکدم سہم جانا ، اس سے نگاہیں نہ ملانا ، بے آواز رونا ، اس کی شرارت پر خفت کے مارے رخ موڑنا ، ایک ملاقات میں ہی وہ اس کی قربت سے اس قدر سرشار ہوا تھا کہ اس کا خیال اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتا تھا آج اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ بے شک کام چھوڑ کر ہی جانا پڑے مگر وہ آج حویلی ضرور جائے گا مزید حُرّہ سے دوری اسے برداشت نہیں ہو رہی تھی اس دوران اسے بابا سرکار کی بھی کال آئی تھی کچھ ان کا سوچتا وہ جلدی سے کام نبٹا کر حویلی کی جانب روانہ ہوا مگر موسم کی وجہ سے گاڑی آہستہ چلانی پڑی جب وہ حویلی پہنچا اس وقت گھڑی کی سوئیاں رات کے دس بجا رہیں تھیں حویلی کے تمام مکین خنکی کے باعث اپنے اپنے کمروں میں لحاف اوڑھے آرام کر رہے تھے
عباس آس پاس جائزہ لیتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا کمرے کی لائٹ آن کرنے کے بعد چونک کر ایک نظر کمرے پر ڈالی مگر کمرا ویسا ہی تھا جیسا ہمیشہ ہوتا تھا مگر اس مرتبہ وہ حُرّہ کا وجود اس کمرے میں چاہتا تھا اس کے خیال کے بر خلاف کمرہ خالی تھا
” حُرّہ کا کمرا کون سا ہے ۔۔ ؟”
دل میں سوچتے ہوئے اس نے اپنے لیپ ٹاپ والا بیگ میز پر رکھا
” بہت خوب عباس ہمدانی ۔۔ لاپرواہی کی انتہا ہے ۔۔ تمہیں یہ ہی نہیں معلوم کہ تمہاری بیوی کس کمرے میں رہتی ہے ۔۔ تف ہے مجھ پہ ۔۔ “
اپنی لاپرواہی پر دل میں شرمندہ ہوتا وہ بڑبڑاتے ہوئے اب حُرّہ کی تلاش میں کمرے سے نکلا
جب اسے گرم چادر میں لپٹی ہوئی نورے کچن سے نکلتی ہوئی نظر آئی شاید وہ پانی لینے آئی تھی اس کے ہاتھ میں موجود جگ دیکھ کر عباس کو اندازہ ہو گیا نورے بھی عباس کو دیکھ چکی تھی یقیناً وہ ابھی ہی حویلی پہنچا تھا کیونکہ اس نے اپنا وکیلوں والا کالا کوٹ ابھی تک پہنا ہوا تھا
” السلام علیکم !”
جب وہ نورے کے قریب پہنچا تو سنبھتے ہوئے نورے نے سلام کیا
” وعلیکم السلام ۔۔ “
عباس نے نگاہیں ادھر ادھر کرتے ہوئے جواب دیا
” کیسی ہیں ۔۔”
عباس نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا تو نورے نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا جتنی سامنے کھڑے شخص کی وجہ سے وہ اذیت میں رہتی تھی اب اس کو سامنے دیکھ کر جیسے ہر تکلیف پل میں ختم ہوئی تھی
” ٹھیک ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔؟”
عباس کے ہاتھ میں تھامے موبائل کو تکتے ہوئے اس مرتبہ نورے نے پوچھا جبکہ نورے کے نگاہیں چرانے پر عباس نے اپنی جھکی نظریں بھی اپنے موبائل کی جانب کیں
” ہمم ٹھیک ۔۔”
” چچی کیسی ہیں ۔۔؟”
عباس نے سرسری نظر میسیجز پر ڈالتے ہوئے پوچھا تو اس بار پھر نورے نے اس کے وجاہت سے بھرپور چہرے کو دیکھا
” ٹھیک ہیں ۔۔ “
وہ دھیمی آواز میں بولی
” چلیں کافی رات ہو گئی ہے ۔۔ آپ آرام کریں ۔۔ پھر بات ہوگی ۔۔ “
عباس دھیمی آواز میں کہتا آگے بڑھ گیا جبکہ نورے اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی پھر شکستہ قدموں سے چلتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی جانے یہ شخص اس کا کبھی ہو سکتا تھا بھی یا نہیں
//////////////////////////
وہ بارش آنے پر دھلے ہوئے کپڑے حویلی کے پیچھلے حصے سے لا رہی تھی جب دور سے عباس اور نورے اسے بات کرتے نظر آئے عباس کو دیکھ کر تو جیسے اس کی سانسیں ہی رک گئیں تیز تیز قدم اٹھاتی وہ چل رہی تھی کہ ناہید سے بری طرح ٹکرا گئی
” ہائے ہائے بیڑا غرق ہو تیرا ۔۔ مار دیا ۔۔ “
ناہید سر پہ ہاتھ رکھتی غرائی جبکہ حُرّہ بھی سر پہ ہاتھ رکھتی ڈر کے پیچھے ہوئی اس کا سر بری طرح چکرایا تھا جبکہ ناہید خونخوار نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی
” اندھی ہے کیا ۔۔ ؟ کوئی کام جو تیرا سیدھا ہو ۔۔ منحوس ہے پوری ۔۔ سر پھاڑ دیا میرا ۔۔”
ناہید اسے مزید گالیوں سے نواز رہی تھی وہ لب بھینچے کھڑی رہی
” ایسی کیا آفت آ گئی تھی جو بھاگی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔ ؟”
حُرّہ کا بازو زور سے دباتے ہوئے وہ پھر سے غرائی
” کیا ہو رہا ہے یہ ۔۔؟؟”
عباس آواز سن کے اس سمت آیا تھا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس نے سختی سے مٹھیاں بھینچی جبکہ عباس کی دھاڑتی آواز سن کر ناہید کانپ گئی اور حُرّہ کا بازو چھوڑ دیا حُرّہ اب اپنا بازو دوسرے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے عباس کو طیش میں اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر سہم کر چند قدم پیچھے ہوئی
” کس انداز میں بات کر رہی تھی میری بیوی سے ۔۔ ؟ ہوش میں ہو ۔۔ ؟؟ “
حُرّہ کے برابر میں کھڑے ہو کر وہ اس قدر بری طرح جھڑکتا ہوا پوچھ رہا تھا کہ ناہید جی جان سے کانپ گئی زبان تالو سے لگ گئی اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا کہے تبھی سر جھکا لیا جبکہ حُرّہ آنکھیں پھیلائے عباس کو دیکھ رہی تھی جس کا غصے کے باعث چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں
“سر اٹھاؤ اور اچھی طرح دیکھو ۔۔ یہ لڑکی بیوی ہے میری ۔۔ خبردار آئیندہ اس انداز میں بات کرنا تو دور ذرا سی بلند آواز میں بات کی حُرّہ سے تو تم مجھے اچھی طرح جانتی ہو ۔۔ “
وہ پھر سے دھاڑا تھا جبکہ اس کی آواز کی کرختی ناہید اور حُرّہ دونوں کو کانپنے پر مجبور کر گئی ناہید اپنے تحمل مزاج سردار کو اس قدر طیش میں دیکھتی باقاعدہ کانپنے لگی حواس بحال ہونے پر عباس کے قدموں میں بیٹھ گئی
” مم مجھے معاف کر دیں سرکار ۔۔ آئیندہ ایسی گستاخی نہیں ہوگی ۔۔ بس ایک مرتبہ معاف کر دیں مجھے ۔۔”
عباس کے قدموں میں بیٹھی وہ بلند آواز میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ عباس دو قدم پیچھے ہوا
” حُرّہ سے معافی مانگیں ۔۔ ! اگر وہ معاف کرتیں ہیں تو ٹھیک ۔۔”
حکمانہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے کھڑی گم سم سی حُرّہ کی کلائی تھام کر اپنے برابر کیا جبکہ ناہید ایک پل کو عباس کا حکم سن کر ٹھٹھک گئی
” مم مجھے معاف کر دیں ۔۔ “
حُرّہ کے سامنے جھکی وہ ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہی تھی جبکہ حُرّہ بے یقینی کی کیفیت میں عباس کے ساتھ لگ گئی عباس نے بھی اس کی کلائی چھوڑ کر اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر لیے
” معاف کردیں جانم ۔۔ معاف کرنا اچھی بات ہوتی ہے ۔۔ !”
حُرّہ کی سہمی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے عباس نے اس بار لہجے میں نرمی لیے کہا تو حُرّہ کبھی عباس کا چہرہ دیکھے تو کبھی ناہید کا مسکینوں والا چہرہ اور بندھے ہاتھ دیکھنے لگی پھر محض سر ہلایا
” دور ہو جاو اب میری نظروں سے ۔۔ جب میں حویلی میں موجود ہوں تو بھول کے بھی میرے سامنے مت آنا ۔۔ گٹ لاسٹ ۔۔ “
درشتی سے کہتے ہوئے اب عباس نے اسے جانے کا اشارہ کیا ناہید جان بخشی جانے پر سر جھکا کر الٹے قدموں بھاگی
جبکہ ناہید کے جاتے ہی عباس نے حُرّہ کو خود سے جدا کیا اور سخت نگاہوں سے دیکھنے لگا عباس کے دور کرنے پر حُرّہ گرتے گرتے بمشکل بچی اور عباس کی سرد نگاہیں خود پر محسوس کرتی ڈر کے پیچھے ہوئی
” فوراً کمرے میں آئیں ۔۔ !!”
سرد انداز میں حکم دیتا وہ تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا جبکہ حُرّہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی کانپتی ٹانگوں سے عباس کے پیچھے چلنے لگی جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو عباس کمرے میں تیز تیز چکر کاٹ رہا تھا حُرّہ کو آتا دیکھ کر اس کی جانب بڑھا اور ہاتھ سے پکڑ کر اسے دروازے کے پاس سے ہٹایا اور دروازہ لاکڈ کرتا پھر سے کمرے میں چکر لگانے لگا جبکہ حُرّہ دیوار سے چپک گئی عباس کے خطرناک تیور دیکھ کر اس کے وجود سے جیسے جان نکل رہی تھی
” آئی کانٹ بیلیو اٹ ۔۔ وہ کیسے آپ سے اس انداز میں بات کر سکتی ہے ۔۔ “
چکر لگاتے ہوئے وہ حُرّہ کے قریب آ کر بے یقینی سے بولا تھا اسے واقعی حیرت ہو رہی تھی
” آپ کس طرح خاموشی سے کھڑی اس کی بدتمیزی برداشت کر سکتی ہیں ۔۔ چلیں میں مانتا ہوں آپ بہت انوسینٹ ہیں مگر یہ کیا کوئی طریقہ ہے حُرّہ کہ آپ خاموشی سے سنتی رہیں ۔۔ میں نے ویٹ کیا کہ مے بی آپ کچھ بولیں ۔۔ لیکن نہیں ۔۔ اگر کوئی آپ سے اتنی بدتمیزی کر رہا ہے وہ بھی ملازم ۔۔ تو کیسے آپ خاموش رہ سکتی ہیں ۔۔ “
عباس دیوار سے چپکی حُرّہ کو دیکھتا سرد انداز میں خاصا بلند آواز میں پوچھ رہا تھا جبکہ دونوں کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ تھا حُرّہ سانسیں روکے کھڑی رونے کو تیار تھی مگر عباس کے ڈر کی وجہ سے رو بھی نہیں پا رہی تھی
” آپ نے مجھے بہت مایوس کیا ہے حُرّہ ۔۔ “
عباس کے لہجے میں واقعی مایوسی تھی جسے حُرّہ نے محسوس کی
“وہ ملازمہ ہے اور آپ مالکن ہیں ۔۔ پھر اس کی اتنی ہمت کیسے ہوئی کی وہ اس طرح آپ سے بات کرے ۔۔ جانم میں خود کو اجازت نہیں دیتا کہ میں خود اپنی بیوی سے اس قدر بدتمیزی سے بات کروں پھر وہ تو میری ملازمہ ہے ۔۔ کیسے کر سکتی ہے وہ ۔۔ “
عباس کو دلی دکھ پہنچا تھا یہ سب دیکھ کر مگر مایوسی حُرّہ کی خاموشی سے ہوئی تھی وہ سر کو نفی میں ہلاتا اپنی ہی دھن میں بول رہا تھا جب حُرّہ دل برداشتہ ہوتی اس کے سینے لگ کر رونے لگی صحیح معنوں میں تو اب عباس گھبرایا تھا حُرّہ کو اس قدر شدت اور دکھ سے روتا دیکھ کر
” اب آپ اس طرح مجھے ایموشنل کر کے میری ڈانٹ سے نہیں بچ سکتیں ۔۔ “
خود بھی حُرّہ کی کمر کے گرد دونوں بازو حمائل کرتے ہوئے وہ نرمی سے بولا تو حُرّہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی وہ جب تک اچھی طرح آنسو نہ بہا چکی تب تک عباس خاموشی سے اس کا رونا سنتا رہا جب کافی دیر بعد حُرّہ کچھ سنبھلی تو خود ہی عباس سے فاصلہ قائم کرتی اپنی چادر سے چہرہ صاف کرنے لگی
” رو لیا جنتا رونا تھا ۔۔ اب وہیں سے اسٹارٹ کرتے ہیں ۔۔”
حُرّہ کو پیچھے ہٹتا دیکھ کر عباس بھویں اچکا کر سنجیدگی سے کہنے لگا تو حُرّہ نے سرخ آنکھوں سے ناسمجھی سے اسے دیکھا
” خود کو اتنا مضبوط کریں حُرّہ کہ کسی کی ہمت ہی نہ ہو آپ سے اس طرح بات کرنے کی ۔۔ “
حُرّہ کو دیکھتے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو حُرّہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سرد آہ بھری اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ وہ کس کس حال سے گزری تھی بغاوت کرنے پر کس طرح تشدد کیا جاتا تھا تبھی اس نے خدا پر ڈور چھوڑتے ہوئے صبر کر لیا تھا
” سمجھ رہیں ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں ۔۔ ؟”
حُرّہ کو خاموش دیکھ کر عباس نے اسے اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے پوچھا
” جج جی ۔۔ “
عباس کی قربت کو محسوس کرتی وہ نگاہیں شرم و حیا کے باعث جھکاتے ہوئے بولی اس کی چادر سر سے سرک کر کاندھے پر آ گئی تھی مگر عباس کے مکمل حصار میں وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی کجا کہ چادر کو درست کرتی
” میں نے بہت مس کیا آپ کو ۔۔ جانتا ہوں آپ نے بھی مجھے مس کیا ہو گا ۔۔ “
حُرّہ کے چہرے پر جھکتا اپنے لبوں کو اس کے نقوش سے مس کرتا وہ سرگوشی میں بولا جبکہ حُرّہ آنکھیں سختی سے میچے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچے لرز رہی تھی
” آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں ۔۔ “
حُرّہ کے گھنے لمبے بالوں میں انگلیوں سے حرکت دیتے ہوئے وہ اس کے بالوں کو لبوں سے چھونے لگا
” مم مجھے نن نیند آ رر رہی ہے ۔۔ “
عباس کی بڑھتی جساتیں محسوس کرتی وہ آنکھیں بند کیے بولی تو عباس کی نگاہ اس کے لرزتے لبوں پر ٹھہر گئی
” مضبوط بہانہ بنائیں ۔۔ تو شاید میں پیچھے ہو جاؤ ۔۔ “
دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ سخاوت سے بولا تو حُرّہ نے بےبسی آنکھیں وا کیں بلاشبہ عباس کی قربت اس کے حواسوں پر سوار ہو رہی تھی عباس نے اس کے دیکھنے پر کاندھے اچکائے تو حُرّہ نے سر اس کے سینے سے ٹکا لیا یوں عباس نے اسے مزید خود میں بھینچ لیا
////////////////////////////
جاری ہے
آپ سب پڑھنے والے ناول کے متعلق اپنی قیمتی رائے ضرور دیا کریں
☺❤❤❤
