Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر : 25

گاڑی جب حویلی کی حدود میں داخل ہوئی تو حُرّہ نے بےساختہ چہرے کا رخ عباس کی جانب کیا عباس اسے بغیر دیکھے اب دعا کو گود میں اٹھائے گاڑی سے نکلا اور اس کی جانب بڑھا گاڑی کا دروازہ کھولے اس نے حُرّہ کا گود میں رکھا ہاتھ خود ہی استحقاق سے تھاما اور نرمی سے اسے باہر نکالا اور قدم بڑھانے لگا مگر حُرّہ نے چند قدم چلنے کے بعد اپنے قدم روک لیے

یہ وہ جگہ تھی جہاں ہمیشہ اس کی تذلیل کی جاتی تھی جہاں سے اسے اور اس کی بیٹی کو نکالا گیا تھا کتنی منتیں کیں تھی اس نے حویلی کے مکینوں کی کہ اسے پناہ دے دیں مگر ان سخت دل عورتوں نے اسے جانے پر مجبور کر دیا تھا آنسو پلکوں کی باڑ سے گرے تو وہ ہوش میں آئی

عباس نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا حُرّہ نے عباس کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا عباس نے طویل سانس خارج کیا اور حُرّہ کا ہاتھ چھوڑ کر اپنا بازو اس کے گرد حمائل کیا اور اپنے ہونے کا احساس دلایا نا چاہتے ہوئے بھی حُرّہ کو عباس کے ساتھ قدم ملانے پڑے

یہ حویلی آج بھی اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑی تھی حُرّہ اطراف پر نگاہیں رکھتے سوچ رہی تھی ملازمین ہاتھ باندھے احترام سے کھڑے یکے بعد دیگرے اسے اور عباس کو سلام کر رہے تھے

” سردار ۔۔ رب آپ کو سلامت رکھے ۔۔ حویلی کی رونق واپس لے آئے ۔۔ ہماری چھوٹی بی بی کو واپس لے آئے ۔۔ “
ایک پرانی عمر رسیدہ ملازمہ نے عباس کی گود سے دعا کو لیتے ہوئے دعائیں دیں اور حُرّہ کو بھی سلام کیا جبکہ حُرّہ کی نگاہیں حویلی کے مکینوں کو تلاش کر رہیں تھیں تبھی ناعمہ بی بی اسے اپنے قریب آتی دیکھائی دیں

” شکر ہے آپ آ گئیں ۔۔ شکر ہے خدا کا ۔۔ !”
نم آنکھوں سے حُرّہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے

” روز دعا مانگتی تھی کہ مرنے سے پہلے آپ سے معافی مانگ لوں ۔۔ کیونکہ جب تک آپ معاف نہیں کریں گیں تب تک خدا بھی معاف نہیں کرے گا ۔۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں ۔۔ میری وجہ سے آپ حویلی سے جانے پر مجبور ہو گئیں تھی ۔۔”
ہاتھ جوڑے وہ روتے ہوئے کہہ رہیں تھیں عباس کی نگاہیں حُرّہ کے چہرے پر تھیں جو الجھ کر ناعمہ بی بی کو دیکھ رہیں تھیں

” چھوٹے سردار ۔۔ خدا کے لیے ۔۔ حُرّہ کو بولیں مجھے معاف کر دیں ۔۔ !”
حُرّہ کو حیرت زدہ دیکھ کر وہ اس بار عباس سے سفارش کرتی بولیں تھیں

” حُرّہ ۔۔ !”
عباس کے پکارنے پر وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی

” پلیز بیٹا معاف کر دو ۔۔ !”
وہ حُرّہ کے قدموں کی جانب جھکیں تھیں جب حُرّہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی

” پلیز ۔۔ ایسے نہیں کریں ۔۔ !”
ناعمہ بی بی کو کاندھے سے تھامے وہ بولی تو ناعمہ بی بی رونے لگیں

” میں نے بہت غلط کیا تھا آپ کے ساتھ بیٹا ۔۔ میں نے چھوٹے سردار کو اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے تڑپتا ہوا دیکھا ہے ۔۔ خدا پتہ نہیں مجھے معاف کرے گا بھی یا نہیں ۔۔ “
وہ روتے ہوئے بولیں تو حُرّہ نے عباس کی جانب دیکھا

” پلیز چچی جان روئیں نہیں ۔۔ میں نے کتنی بار آپ سے کہا ہے ۔۔ بھول جائیں اس بات کو ۔۔ اب دیکھیں ہماری دعائیں رنگ لے آئیں ۔۔ حُرّہ اور دعا مل گئیں نا مجھے ۔۔ پھر پرانی باتیں دہرا کر آپ خود کو اذیت دے رہیں ہیں ۔۔ “
عباس ان کے جڑے ہاتھوں کو عقیدت سے تھامتا ہوا کہہ رہا تھا جبکہ حُرّہ ابھی بھی الجھن کا شکار تھی

” آپ دونوں کا دل بہت بڑا ہے چھوٹے سردار ۔۔ “
باری باری حُرّہ اور عباس کے چہرے کو دیکھتی وہ کہنے لگی تو عباس ان کی بات پر محض مسکرایا

” ماشااللہ ۔۔ ہماری چھوٹی بی بی تو بڑی ہو گئی ۔۔ بلکل چھوٹے سردار آپ جیسی ہے دعا ۔۔ “
دعا کی جانب مڑ کر وہ اسے پیار کرتیں محبت سے کہہ رہی تھیں

” حُرّہ ماں جی سے مل لیتے ہیں ۔۔ “
حُرّہ سے کہتے ہوئے اب وہ اسے لیے سرداد بی بی کے کمرے کی جانب بڑھے جبکہ حُرّہ کا دل ان سے ملنے پر ہرگز بھی آمادہ نہیں تھا مگر مجبوراً عباس اسے لیے کمرے میں داخل ہوا

” السلام علیکم ماں جی ۔۔ !”
کمرے میں داخل ہو کر عباس نے باآواز بلند سلام کیا جبکہ حُرّہ کی نگاہیں بستر پر پڑے وجود کو دیکھ کر پھیل گئیں سردار بی بی کے بیمار وجود کو دیکھ کر اس نے تعجب سے عباس کو دیکھا جبکہ سردار بی بی عباس کی آواز سن کر منہ سے عجیب آوازیں نکالنے لگیں چند لمحے لگے تھے حُرّہ کو سردار بی بی کو دیکھ کر سمجھنے میں کہ انہیں کیا بیماری ہے

” یہ دیکھیں ماں ۔۔ کون آیا ہے ۔۔ آپ کی بہو اور پوتی ۔۔ “
خوش دلی سے کہتے ہوئے عباس نے دعا کو ملازمہ کی گود سے لیا اور حُرّہ کا ہاتھ تھامے ان کے بیڈ کے قریب آ رکا جبکہ سردار بی بی کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے وہ بلند آواز میں عجیب کچھ کہہ رہی تھیں انہیں دیکھ کر حُرّہ کو مزید تشویش ہوئی تھی آخر دو سالوں میں یہ ہو کیا گیا تھا مگر درحقیقت ہر کوئی اپنے اچھے برے عمل کا صلہ پا لیتا ہے

” جی جی ماں ۔۔ دونوں بلکل ٹھیک ہیں ماشااللہ سے ۔۔ یہیں رہیں گی اب ۔۔ کہیں نہیں جاتی ۔۔ “
حُرّہ نے دیکھا عباس ان کی آنکھوں کے اشاروں اور عجیب آوازوں کے جواب دے رہا تھا

” حُرّہ ماں آپ سے معافی مانگ رہیں ہیں ۔۔ پلیز ان سے بات کریں ۔۔ ؟”
عباس سنجیدگی سے اس سے مخاطب ہوا تو حُرّہ کے آنسو خودبخود بہنے لگے چند لمحوں میں ہی حُرّہ کا مدھم رونا اب بلند سسکیوں میں بدل گیا تھا

” حُرّہ پلیز روئیں نہیں ۔۔ ٹھیک ہے آپ بات نہ کریں ماں سے مگر پلیز روئیں نہیں ۔۔ آپ کو ایسے روتے دیکھ کر ماں کو برا لگے گا ۔۔ “
حُرّہ کی جانب جھک کر سرگوشی کرتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ عباس کے سینے سے لگ گئی

” مم میں ۔۔ نن نے ۔۔ یی یہ ۔۔ نن نہیں ۔۔ چچ چاہا تھا ۔۔ سرداد ۔۔ “
عباس کے سینے میں منہ چھپائے وہ سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی

” میری جان کس نے کہا کہ آپ نے یہ چاہا ہے ۔۔ “
اس کی کمر سہلاتے ہوئے عباس نے کہا اور اسے لیے کمرے سے نکلا حُرّہ اور دعا کو اپنے کمرے میں لانے کے بعد اس نے دعا کو حُرّہ کی گود میں دیا

” آپ ریلیکس رہیں ۔۔ میں آتا ہوں ابھی ۔۔ پھر ساتھ میں کھانا کھائیں گے ۔۔ “
حُرّہ کی گود میں موجود دعا کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد وہ حُرّہ کے چہرے پر جھکا اور اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرنے جے بعد پیار سے کہہ کر وہ دوبارہ سردار بی بی کے کمرے کی جانب بڑھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی ماں رو رہیں ہو گی
جبکہ حُرّہ نم آنکھوں سے کمرے کو دیکھنے لگی جو آج بھی ویسا ہی تھا اس حویلی میں یہ واحد جگہ تھی جہاں اس کی زندگی کے حسین لمحات بسر ہوئے تھے عباس کے ساتھ گزارے گئے حسین پل آج بھی یہاں زندہ تھے

////////////////////////

” بی بی جی چھوٹے سردار آپ کو باہر بلا رہے ہیں ۔۔ وہ جی نورے بی بی اور عالیان صاحب آئیں ہیں ۔۔ “
وہ اپنی سوچوں میں گم بیٹھی دعا کے سوالوں کے جواب غائب دماغی سے دے رہی تھی جب ایک ملازمہ مؤدب سی آ کر اسے کہہ رہی تھی حُرّہ نے اپنی چادر کو لپیٹا اور دعا کی انگلی پکڑی کمرے سے نکلی

” السلام علیکم حُرّہ کیسی ہو ۔۔ ؟”
جیسے ہی حُرّہ دھڑکتے دل کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوئی اسے دیکھتے ہی نورے لپک کر اس کی جانب بڑھی اور سلام کرتی اسے گلے ملی

” واؤ یہ تو بلکل اپنے بابا جیسی ہے ۔۔ پرنسز بہت مس کیا آپ کو ۔۔ “
حُرّہ کے بعد نورے دعا سے لپٹی جبکہ حُرّہ ، نورے کو دیکھتی رہ گئی جو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی شاید یہ اس کے چہرے پر سجی خوبصورت مسکراہٹ کا کمال تھا ورنہ اس نے نورے کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا

” السلام علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ ۔۔ ؟”
عالیان بھی احتراماً کھڑا ہوا حُرّہ کو سلام کرتا اب وہ دعا کو نورے کی گود سے لے رہا تھا

” ارے عباس دعا تو بلکل تمہاری کاپی ہے نا نورے ۔۔ کیوٹ پرنسز ۔۔ “
دعا کو گود میں لیتے وہ باری باری عباس اور نورے سے مخاطب ہوا

” ہمم میری بیٹی جو ہے ۔۔ مجھ پر ہی جانا تھا اس نے ۔۔ “
عباس بھی مسکراتا ہوا بولا تھا جبکہ ناعمہ بی بی سمیت ملازمہ نے بھی عباس کو اتنے عرصے بعد مسکراتے دیکھ کر شکر ادا کیا ان سب کی مسکراہٹیں دیکھ کر حُرّہ کے لب بھی ہولے سے مسکرائے

” اچھا لگا آپ دونوں کو ایک بار پھر ساتھ دیکھ کر ۔۔ خدا آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھیں ۔۔ “
حُرّہ اور عباس کو دیکھتے ہوئے نورے بولی تو سب نے آمین بولا حُرّہ نے عباس کو دیکھا جو نگاہیں دعا کی جانب رکھتے ہوئے مسکرایا تھا

” نورے ڈیڈ کی کال آ رہی ہے ۔۔”
عالیان کا موبائل بجا تو سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر بولا

” چلیں ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم لوگ کل آئیں گے ۔۔ ابھی چلتے ہیں ۔۔ !”
نورے سر ہلاتی بولی

” ڈنر کر کے جانا ۔۔ “
ان دونوں کو اٹھتا دیکھ کر عباس گویا ہوا

” یار ڈیڈ ویٹ کر رہے ہیں ابھی ۔۔ کل کر لیں گے ڈنر ۔۔ اوکے بھابھی آپ کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا کھائیں گے کیونکہ ۔۔ نورے میڈم کھانا بنانے کے معاملے میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہیں ۔۔ “
عباس کے گلے ملتا وہ حُرّہ کو کہتا آخر میں نورے کو تنگ کر رہا تھا جبکہ نورے اس کی بات پر مسکرائی

” حُرّہ میں بہت اچھا کھانا بناتی ہوں کل جلدی آؤں گی ۔۔ تمہارے ساتھ بنواؤں گی کھانا پھر بتانا کہ میں کیسا کھانا بناتی ہوں ۔۔ “
وہ عالیان کو گھورتی حُرّہ سے مخاطب تھی حُرّہ مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی

” چلیں میڈم ۔۔ “
نورے کی گھوری پر وہ فوراً بولا تو دونوں خدا حافظ کرتے حویلی سے نکل گئے

///////////////////////

” بی بی جی ۔۔ !”
نورے اور عالیان کے جانے کے بعد کھانا کھا کر عباس ، سرداد بی بی کے پاس چلا گیا جبکہ اس نے ناہید کو حُرّہ کے پاس بھیجا تھا تب سے ناہید حُرّہ کو گم صم بیٹھا دیکھ رہی تھی بالآخر اسے پکار بیٹھی

” ہممم ۔۔ !”
حُرّہ نے گود میں لیٹی سوئی ہوئی دعا کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ہنکار بھرا

” آپ مجھ سے ناراض ہیں نا ۔۔ تبھی بات نہیں کر رہیں ۔۔ “
ناہید نے حُرّہ کے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا

” میں نے کیوں ناراض ہونا ہے آپ سے ۔۔ ؟”
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی

” میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ۔۔ چھوٹے سردار سے نہیں ملوں گی ۔۔ لیکن میں ان سے ملنے حویلی آئی اور انہیں آپ کے بارے میں بتایا ۔۔ “
سر جھکائے وہ اعتراف کر رہی تھی جبکہ حُرّہ نے خاموش نگاہوں سے اسے دیکھا

” خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔۔ !”
مختصر کہہ کر حُرّہ نے لب بھینچ لیے

” مجھے معاف کر دیں بی بی جی ۔۔ لیکن میں آپ کی یہ حالت نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔ سارا دن نوکری کرنے کے بعد جب آپ گھر آتی تھی تو مرجھایا ہوا چہرہ ۔۔ اور کیا رات کو آپ کے رونے کی آواز مجھے چین لینے دیتی تھی ۔۔ ہماری دعا بی بی کا حق ہے سردار پہ ۔۔ سوچ سوچ کر ، رو رو کر آپ نے خود کا کیا حال کر لیا سر درد ہوتا تھا تو دوائی بھی نہیں لیتی تھیں ۔۔ بس پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں چھوٹے سردار کے پاس آ گئی ۔۔ “
ناہید کے لہجے میں فکر مندی تھی

” ناہید باجی ۔۔ یی یہ سس سردار بی بی ۔۔ کک کو کک کیا ۔۔ مطلب آپ کو معلوم ہے یہ کک کیسے ہوا انہیں ۔۔ ؟”
بے ربط الفاظ ادا کرتی وہ بمشکل خود کو رونے سے روک پائی تھی کیونکہ جس مغرور سرداد بی نی کو اس نے دیکھا تھا وہ یہ تو بلکل بھی نہیں تھیں کون سوچ سکتا تھا کہ ان کا یہ انجام بھی ہو سکتا تھا

” میں جب گاؤں آئی تو ۔۔ گاؤں والوں سے حویلی کے حالات پوچھے ۔۔ انہوں نے بتایا کہ ۔۔ عابی بی بی کا قاتل خاور نہیں بلکہ شہزاد تھا ۔۔ یہ حقیقت جاننے کے بعد شہزاد کو چھوٹے سردار نے جیل میں ڈلوا دیا ۔۔ اور بی بی جی اس وقت بڑے سردار کو دل کا دورہ پڑا وہ انتقال کر گئے ۔۔ ان سارے صدموں میں سردار بی بی کو فالج ہو گیا ۔۔ چھوٹے سردار نے بڑے علاج کروائے لیکن بستر سے لگ گئیں وہ ۔۔ خدا معاف کرے بی بی جی ۔۔ آپ کے ساتھ تھوڑے ظلم کیے ان لوگوں نے ۔۔ بندے بھول جاتے ہیں لیکن خدا تھوڑی بھولتا ہے اپنے بندے کے ساتھ ہوئی زیادتی ۔۔ میں تو آپ کے ہر پل کی گواہ ہوں بی بی جی ۔۔ سرداد کی بیوی اور بیٹی ہو کر آپ نے اور دعا بی بی نے کیسے کیسے وقت گزارا ۔۔ “
ناہید اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی مگر حُرّہ کے چہرے پر کئی رنگ گزرے

” مم میں نے یہ نہیں چاہا تھا ناہید باجی ۔۔ وو وہ معزور ہو گئیں ۔۔ یہ یہ ۔۔ نہیں چاہا تھا میں نے ۔۔ وہ تکلیف میں ہیں ۔۔ مم میں اتنی پتھر دل نہیں ہوں کہ کسی کو اس حال میں دیکھنے کی خواہش کروں ۔۔ اللہ انہیں شفاء دیں ۔۔ “
وہ سچے دل سے دعا کرتی بولی تھی

” ہاں جی آمین ۔۔ “
ناہید بھی سر ہلاتی بولی اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور عباس اندر داخل ہوا اسے دیکھتے ہی ناہید سلام کرتی کمرے سے نکل گئی جبکہ حُرّہ آنسو پونچھ کر نگاہیں چرانے لگی

” سو گئی میری بیٹی ۔۔ ؟”
حُرّہ کی گود میں سوئی دعا کو دیکھتا وہ پوچھ رہا تھا پھر دروازہ لاکڈ کرنے کے بعد وہ بیڈ پر حُرّہ کے برابر آ کر لیٹ گیا حُرّہ نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا وہ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا

” عالیان اور نورے کل دوبارہ آئیں گے حویلی ۔۔ آج جلدی میں تھے کیونکہ عالیان کے ڈیڈ ویٹ کر رہے تھے ان دونوں کا مگر انہیں آپ سے اور دعا سے ملنے کی جلدی تھی ۔۔ اس لیے پہلے یہاں آئے ۔۔ “
حُرّہ کو سرسری انداز میں مطلع کرنے کے بعد وہ دعا کو بہت نرمی سے اس کی گود سے اٹھا کر اپنے برابر لٹا رہا تھا اب ان دونوں کے درمیان دعا تھی

” آرام کر لیں آپ تھک گئی ہوں گی ۔۔ “
اپنی جانب کا لیمپ آف کرتے ہوئے وہ دعا کو اپنے سینے سے لگاتا آنکھیں موندے نہایت سنجیدگی سے بولا جبکہ عباس کا اسے نظرانداز کرنا حُرّہ کو اضطراب میں مبتلا کر گیا

” سس سنیں ۔۔ !”
بے اختیار اس نے عباس کو پکارا تھا اسے عباس کا رویہ عجیب لگا تھا

” جی حکم ۔۔ ؟”
آنکھیں میچے وہ مدھم آواز میں بولا تو اس کے انداز پر حُرّہ سسک اٹھی

” سس سردار ۔۔ !”
سسکتے ہوئے وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بولی تو عباس نے لمحے سے پہلے آنکھیں وا کیں اور اٹھ کر حُرّہ کی جانب آیا

” میری جان ۔۔ کیا ہوا ۔۔ ؟”
حُرّہ کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتا وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ اس کے گرد اپنے بازو حمائل کرتی لپٹ گئی

” مم مجھ سے ناراض مت ہوں پپ پلیز ۔۔ مم میں ۔۔ اا اس لیے ۔۔ چچ چلی ۔۔ گئی تھی ۔۔ کک کہ اس وقت چلے ۔۔ چچ چلے جانا بب بہتر تھا ۔۔ “
روتے ہوئے وہ بمشکل بولی تھی

” اا اپنے لیے ۔۔ دد دعا کے لیے ۔۔ اا اور آپ کے لیے ۔۔ یہ فیصلہ کک کیا تھا ۔۔ اا اس وقت اور کوئی رر راستہ ۔۔ نہیں تھا مم میرے ۔۔ پپ پاس ۔۔ آپ کو بب بہت پپ پکارا ۔۔ لیکن آپ نہیں آئے ۔۔ “
عباس کو مزید بتاتے ہوئے وہ جیسے اپنی صفائی کے ساتھ شکوہ بھی کر رہی تھی عباس خاموشی سے اسے سن رہا تھا کیونکہ وہ اسے سننا چاہتا تھا جو رب کے سوا کسی کو اپنے دکھ نہیں سناتی تھی

” دعا سے دور رہے اتنا ٹائم ۔۔ آپ ناراض ہیں نا اس لیے میرے ساتھ ۔۔ اا اسی لیے دیکھ بھی نہیں رہے مجھے ۔۔”
وہ اب سوں سوں کرتی شکوہ کر رہی تھی جبکہ عباس کے لپ ہولے سے مسکرائے

” میں آپ سے ناراض ہو سکتا ہوں کبھی ۔۔ ؟”
اسے شانوں سے تھامے وہ سوال کر رہا تھا جبکہ حُرّہ کا سر خودبخود نفی میں ہلا

” تو پھر کیوں رو رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟”

” پپ پھر ابھی ایسے ہی کیوں سونے لگے تھے ۔۔ ؟”

” تو کیا کر کے سوتا ۔۔ ؟”
سنجیدہ تاثرات لیے وہ ذومعنی انداز میں بولا تو اس جی بات سمجھتی حُرّہ کے رخسار سرخ ہوئے وہ خفت مٹانے کو اسی کے سینے میں منہ چھپا گئی

” مم میں نے بہت یاد کیا آپ کو ۔ “
چند لمحے خاموشی کے بعد وہ پھر بولی

” واپس کیوں نہیں آئی پھر ۔ ؟”
عباس کے سوال پر وہ بلکل خاموش ہو گئی اور اس سے نظریں چرانے لگی

” آپ نے سوچا کہ میں آپ کے جانے کے بعد دوسری شادی کر لوں گا ۔۔ !”
وہ حُرّہ کی جھکی آنکھوں پر اپنی آنکھیں جمائے طنز کر رہا تھا اس کے انداز ر حُرّہ کا سر مزید جھک گیا اور عباس جو کہ ہمیشہ کا نرم دل ، جھک کر اس کے رخسار کو لبوں سے چھوا

” ایم سوری ۔۔ جانتا ہوں اس سب میں آپ کا قصور نہیں تھا حالات ہی ایسے تھے ۔۔ یقیناً دوری جتنی میرے لیے تکلیف دہ تھی اتنی ہی آپ کے لیے بھی تھی ۔۔ “
محبت سے کہتے ہوئے وہ باری باری اس کی ہتھیلیاں لبوں سے چھو رہا تھا حُرّہ کو ہمیشہ کی طرح اس کی قربت اور حدت بھرا لمس سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا عباس نے بہت عقیدت سے اسے خود میں بھینچا عباس کا حصار اسے ہمیشہ کی طرح معتبر کر رہا تھا لب قفل تھے مگر دو سالوں کا ہجر ان دونوں کی آنکھوں سے اپنی اذیت کی گواہی بیان کر رہا تھا ایک ایک پل ایک دوسرے کے بغیر کیسے گزارا یہ حُرّہ کے آنسو اور عباس کی آنکھوں کی نمی ایک دوسرے کو آنکھوں سے ہی داستان سنا رہے تھے عباس نے بھی اسے رونے دیا کیونکہ اس کے بعد وہ کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا اس نے خدا سے تہجد میں حُرّہ کی خوشیوں کی دعائیں مانگی تھیں اور اسے یقین تھا کہ اس کی دعاؤں پر ضرور قبولیت کی مہر لگے گی کیونکہ جو خدا پر توکل رکھتے ہیں کامیاب ضرور ہوتے ہیں

/////////////////////////

جاری ہے