Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 21

” میں جانتا ہوں عباس تم اس وقت بھابھی اور دعا کی وجہ سے بہت پریشان ہو مگر مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ پہلے ہی بہت دیر کر چکا ہوں میں ۔۔ مزید دیر کرکے اپنا سب کچھ نہیں کھونا چاہتا ۔۔ !”
وہ دونوں اس وقت عباس کے آفس میں بیٹھے تھے عالیان نے بات کا آغاز کیا تو عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا

” کیا بات ہے عالیان سب ٹھیک ہے نا ۔۔ کہو کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔”
عباس نے پوری طرح عالیان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا

” تمہاری کزن نورے کا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔ شادی کرنا چاہتا ہوں ان سے ۔۔”
عالیان نے عباس کو دیکھتے ہوئے کہا تو عباس کے ماتھے پر بل پڑے جنہیں دیکھ کر عالیان نے تھوک نگلا

////////////////////////

” بی بی جی چھوٹی بی بی کو بہت تیز بخار ہے ۔۔ رو رو کر بچی کا برا حال ہے ۔۔ میرے خیال سے پہلے اسپتال لے چلتے ہیں بچی کو ۔۔ “
ناہید نے حُرّہ کو دعا کو سینے سے لگائے سسکتے دیکھ کر خود بھی روتے ہوئے کہا

” جلدی چلیں پلیز ۔۔ اا اگر مم میری بچی کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ !”
ناہید کی بات پر حُرّہ نے بے بسی سے کہا اور تیز تیز چلنے لگی

شہر جانے والی گاڑی پر سوار وہ سرکاری ہسپتال پہنچی تو دعا کی حالت تشویشناک بتائی گئی فوراً ایمرجنسی میں داخل کیا گیا کوریڈور میں بیٹھی حُرّہ کی سانسیں بھی مدھم ہو رہیں تھی
زیر لب اپنی بیٹی کی زندگی کی دعائیں تھیں آنسو مسلسل چہرے پر بہہ رہے تھے دل میں عجیب وسوسے تھے کہ اگر دعا کو کچھ ہو گیا تو ؟؟ اس سے آگے حُرّہ کی سوچیں ہی مفلوج ہو رہیں تھیں دل اپنی بیٹی کو کھو دینے کے ڈر سے خوفزدہ تھا

” بی بی جی کچھ کھا لیں ۔۔ “
ناہید بسکٹ کا پیکٹ حُرّہ کی جانب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا

” بی بی جی ۔۔ چھوٹی بی بی کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔ “
اس نے حُرّہ کو تڑپتے دیکھ کر تسلی دی

” پلیز دعا کریں ۔۔ میری بچی ٹھیک ہو جائے ۔۔ ۔۔”
حُرّہ نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا

” میں قربان بی بی جی اپنے چھوٹے سردار کی اولاد کے ۔۔ خدا لمبی زندگی دے ہماری دعا بی بی کو ۔۔ “
ناہید عقیدت سے حُرّہ کو دیکھتے دعا دی

“میں نے سب کھو دیا ہے ناہید باجی ۔۔ سب کھو دیا ۔۔ بب بابا ۔۔ مم ماں ۔۔ سرداد کک کو بھی ۔۔ اب دعا کے علاوہ کوئی نہیں میرا ۔۔ دعا میرے جینے کی وجہ ہے ۔۔ ورنہ سرداد کے بعد میرے وجود میں روح کہاں باقی ہے ۔۔ مردہ وجود لیے پھر رہی ہوں ۔۔ صرف اپنی بچی کی خاطر ۔۔ !”
حُرّہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی تھی کہ اس کا انداز اور چہرہ اس پر بیتے ظلم و ستم کی داستان بیان کر رہا تھا

ناہید اس کی تکلیف محسوس کرتی خود بھی چہرہ جھکائے رونے لگی جبکہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک خاتون جو مسلسل اسی کو دیکھ رہیں تھیں حُرّہ کی باتوں اور چہرے سے جھلکتے دکھ کو محسوس کرتی اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چادر کے کونے سے صاف کرتی اٹھیں اور حُرّہ کے برابر آ بیٹھیں

” بیٹی ہمت کرو ۔۔ تمہیں دیکھ تو ہمارا دل تڑپ رہا ہے ۔۔ خدا تمہاری بیٹی کو صحت دے گا ۔۔ مت رو ۔۔ “
وہ حُرّہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دیتیں گویا ہوئیں تو ناہید اور حُرّہ اس انجان عورت کی جانب متوجہ ہوئیں

اس کی دعائیں دینے پر حُرّہ کو مزید رونا آیا وہ سسک اٹھی تو اس خاتون نے اسے شفقت سے گلے لگا لیا

” کک کتنے گھنٹے ہو گئے ۔۔ مجھے میری بچی سے بھی ملنے نہیں دے رہے ۔۔ پپ پتہ نہیں کیسی ہے ۔۔ پپ پلیز دعا کریں ۔۔ وو وہ بہت چھوٹی ہے ۔۔ ایک سال کی بچی کک کو اتنی مشینوں میں جکڑا ہوا ہے۔۔ “
حُرّہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو وہ خاتون اور ناہید بھی رونے لگیں تھیں

” کچھ نہیں ہوگا بیٹی تمہاری بچی کو ۔۔ “
انہوں نے حُرّہ کے آنسو پونچھتے ہوئے تسلی دی

” بچی کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟؟”
کچھ دیر بعد ان خاتون نے حُرّہ کو دیکھتے پوچھا تو حُرّہ کے چہرے پر اذیت کے کئی رنگ آئے جو ان خاتون نے اپنے تجربے اور عمر کے باعث فوراً محسوس کیا جبکہ ان کے سوال پر ناہید بھی بوکھلا گئی

اس سے پہلے حُرّہ مزید مشکل میں پڑتی ڈاکٹر کے آنے پر تینوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں جبکہ حُرّہ ڈاکٹر کی سمت بڑھی

” میری بیٹی کیسی ہے ڈاکٹر صاحب ۔۔ ؟”
حُرّہ لہجے میں فکرمندی لیے پوچھنے لگی

” جی اب بہتر ہے آپ کی بیٹی کی طبیعت ۔۔ “
ڈاکٹر کے تسلی بخش جواب پر حُرّہ سمیت باقی دونوں نفوس کے بھی رکے سانس بحال ہوئے

” میں مل لوں ۔۔ “

” جی ۔۔”
ڈاکٹر کے اجازت دینے پر حُرّہ کمرے کی جانب لپکی

دو دن میں دعا کی طبیعت کچھ بہتر تھی مگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ابھی کچھ دن اسے انڈرابزرویشن رکھنا تھا مگر حُرّہ مزید ہسپتال کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی تھی اسی لیے دو دن بعد ہی اپیل کر کے حُرّہ دعا کو لیے ہسپتال سے نکلی

وہ خاتون جو کہ اپنی دل کے مرض کی دوائیاں لینے آئی تھی وہ حُرّہ کو اس دن کے بعد آج پھر باہر نکلتے ہوئے ملی

” ارے تم جا رہی ہو بچی کو لے کر بیٹی ۔۔ ؟”
وہ حُرّہ کے سامنے آتی پوچھنے لگیں تو حُرّہ نے اثبات میں سر ہلایا

” کیسی ہے اب تمہاری بیٹی ۔۔ ؟؟”
انہوں نے حُرّہ کی گود میں دوائیوں کے زیر اثر سوئی خوبصورت مگر مرجھائی ہوئی بچی کے رخسار پر پیار کرتے ہوئے پوچھا

” اب بہتر ہے ۔۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔۔ “
اس انجان عورت کو اپنی بچی کے لیے پریشان دیکھ کر حُرّہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں جواب دیا

” کہاں گھر ہے تمہارا ۔۔ ؟؟”
اثبات میں سر ہلاتے انہوں نے عام سے انداز میں پوچھا مگر حُرّہ اور ناہید کا رنگ زرد پڑا

” کیا ہوا ۔۔ ؟”
باری باری دونوں کے چہرے دیکھ کر فرحت بی بی نے دوبارہ پوچھا اور کھوجتی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی

” آؤ میرے ساتھ ۔۔ “
فرحت بی بی نے کچھ سوچ کر حُرّہ کا ہاتھ تھاما اور چلنے لگی جبکہ حُرّہ نے بے بسی سے ناہید کو دیکھا

” جانتی ہوں تم مشکل میں ہو بیٹا مگر ۔۔ اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ تمہیں اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔ “
رش سے ایک طرف ہوتے ہوئے وہ بولیں تو ناہید نے کچھ کہنا چاہا جب حُرّہ نے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روکا

” پتہ ہے کتنے حالات خراب ہیں آج کل کے ۔۔ !”
انہوں نے مزید کہا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا

” یہ کیا لگتی ہیں تمہاری ۔۔ ؟”
انہوں نے ناہید کے جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا

” بڑی بہن ۔۔ “
ناہید کو دیکھتے ہوئے حُرّہ نے جواب دیا تو سرشاری کے احساس کے تحت ناہید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ حُرّہ اسے بہن کہہ رہی تھی

” بتاؤں ذرا ساری بات ۔۔ تم دونوں اکیلی بچی کو لے کر دو دن سے اسپتال میں ہو ۔۔ کیا اور کوئی نہیں ہے تمہارا ۔۔ ؟”
انہیں نے اگلا سوال کیا تو حُرّہ نے انہیں دیکھا

” ہم چلتے ہیں ۔۔ “
اس سے پہلے کہ وہ خاتون مزید کوئی سوال کرتیں حُرّہ جانے کے لیے مڑی

” رکو بیٹا ۔۔ “
انہوں نے حُرّہ کا بازو تھام لیا

” میری بھی ایک بیٹی ہے ۔۔ مجھے بیٹیوں کا احساس ہے ۔۔ اور آج کل کے حالات کے مطابق میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گی ۔۔ چلو میرے ساتھ ۔۔ “
انہوں نے رکشے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جبکہ وہ حُرّہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں

” مم مگر ۔۔ !”
ان کے ساتھ چلتے ہوئے حُرّہ نے کچھ بولنا چاہا کہ انہوں نے اس کی بات کاٹی

” جب خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے نکلی ہو تو یقین رکھو خدا پر ۔۔ یقیناً اس نے وسیلہ بنایا ہے ۔۔”
ان کے جواب پر حُرّہ خاموش ہو گئی یقیناً اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑا ہوا تھا وہی اس کی مشکلات آسان کرے گا ابھی بھی خدا کے بھروسے پر وہ اس انجان خاتون کے ساتھ ہو لی

طویل مسافت طے کرنے کے بعد وہ خاتون انہیں لیے حیدرآباد کے ایک عام علاقے میں آئی پھر ایک خستہ حال مکان کے دروازے کو بجایا کچھ دیر بعد ایک چوبیس پچاس برس کی لڑکی نے دروازہ کھولا اپنی ماں کے ساتھ دو انجان نفوس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے جبکہ فرحت بی بی نے حُرّہ اور ناہید کو اندر آنے کا اشارہ کیا اور ایک کمرے میں لیے داخل ہوئی جس میں دو چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں انہوں نے ایک پر حُرّہ کو دعا کو لٹانے کا کہا اور دوسری پر ناہید کو بیٹھنے کا کہا

” تہمینہ پانی اور کھانا لاؤ ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔ “
فرحت بی بی نے سفید چادر کو اتار کر دوپٹہ اچھی طرح لیتے ہوئے بیٹی کو کہا جو کہ نئے چہرے دیکھ کر پہلے ہی حیرت زدہ تھی ماں کے حکم پر سر ہلاتی کمرے سے نکلی

” لیٹ جاؤ آپ دونوں ۔۔ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو ۔۔ آرام کرو ۔۔ جب تک کھانا آتا ہے “
فرحت بی بی نے باری باری حُرّہ اور ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا جو گم سم سی بیٹھیں تھیں ان کے پکارنے پر چونکی مگر بے حرکت رہیں

” ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہیں ۔۔ ہم دونوں ماں بیٹی اکیلی رہتی ہیں ۔۔ “
ان دونوں کی جھجھک دیکھتے ہوئے فرحت بی بی نے بتایا مگر وہ دونوں ہنوز ساکت بیٹھیں تھیں

” ہم دونوں ماں بیٹی کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔ کوئی بھی نہیں ۔۔ ہم دونوں کئی سالوں سے اکیلے رہتی ہیں ۔۔ میری بیٹی کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اس وقت سے یہ میرے ساتھ رہتی ہے ۔۔ “
فرحت بی بی کے بتانے پر حُرّہ دکھ سے انہیں دیکھنے لگی جو اب اداس سی بیٹھیں تھیں

/////////////////////

” آ جائیں ۔۔ !”
دروازے پر ہوتی مسلسل دستک پر عباس نے نماز سے فارغ ہو کر آنے والے کو اجازت دی اور خود ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا موبائل فون اٹھا کر چیک کرنے لگا جب سردار شیر دل اور سردار بی بی کمرے میں داخل ہوئیں

” بابا سرکار ۔۔ مجھے بلوا لیتے آپ ۔۔ “
ماں باپ کو دیکھتے عباس نے موبائل قمیض کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا

” ایسے سمجھو کہ آج ہم تمہارے پاس التجا لے کر آئیں ہیں ۔۔ امید ہے تم ہماری بات پوری کرو گے ۔۔ “
سردار شیر دل عباس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اسے لیے صوفے پر آ بیٹھے جبکہ سردار بی بی بیڈ کے ایک کونے پر ٹک گئیں

” اگر میں استطاعت رکھتا ہوا تو ضرور پورا کروں گا بابا سرکار ۔۔ “
عباس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا جو کافی خوش دیکھائی دے رہے تھے

” ہم نے جمعہ کو نورے اور تمہارا نکاح رکھا ہے ۔۔ “
سردار شیر دل کی بات عباس کو سن کر گئی وہ چند پل تو کچھ بول ہی نہ سکا

” کتنے دن ہو گئے اس لڑکی کو گئے ہوئے ۔۔ اب اس دھوکے باز لڑکی کی یادوں سے نکالو خود کو ۔۔ آگے بڑھو زندگی میں ۔۔ ہم تمہیں پھر سے مسکراتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ “
وہ مزید بولے تو عباس نے بے تاثر چہرہ لیے انہیں دیکھا

” جب میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ لوگ بار بار کیوں زور دیتے ہیں ۔۔ “
وہ لفظ چبا کرادا کرتا بولا تھا

” تو ابھی وہ بدکردار لڑکی تمہارے حواسوں پر سوار ہے ۔۔ “
سردار بی بی دل میں حُرّہ کو کوسنے دیتی عباس سے مخاطب ہوئیں

” ماں جی وہ لڑکی صرف میرے حواسوں پر نہیں سوار بلکہ ۔۔ میرے دل و دماغ میں بس چکی ہے ۔۔ اور ہمیشہ رہے گی ۔۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دن وہ مجھے مل جائے گی ۔۔ “
ان کے چہرے کو دیکھتا وہ بولا تو اس کے لہجے سے یقین جھلک رہا تھا

” اس لڑکی کو چھوڑ کر اپنے باپ کی عزت کا بھی سوچ لو ۔۔ سارے گاؤں میں یہ خبر پھیل چکی ہے ۔۔ اگر جمعے کو نکاح نہ ہوا تمہارا اور نورے کا تو کیا عزت رہ جائے گی ہماری ۔۔ دنیا کہے گی سرداد شیر دل اپنی بھتیجی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا ۔۔ “
سردار شیر دل رخ عباس کی جانب کرتے ہوئے دبے دبے غصے سے بول رہے تھے

” تو کریں نا انصاف اپنی بھتیجی کے ساتھ ۔۔ میرے ساتھ نکاح کروا کر تو ظلم کریں گے آپ نورے کے ساتھ ۔۔ میں حُرّہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔۔ اپنی زندگی میں شامل کرنا تو بہت دور کی بات ۔۔ “
عباس تحمل سے انہیں جواب دیتا کہہ رہا تھا

” میں نے کہا تھا نا آپ کو سردار جی ۔۔ وہ بدکردار لڑکی اتنی آسانی سے نہیں بھولے گی ہماری بیٹی کو ۔۔ “
سردار بی بی کے بولنے پر عباس نے آنکھیں میچے سر جھٹکا جبکہ سردار شیر دل نے انہیں خونخوار نگاہوں سے گھورا

” تم خاموش رہو ۔۔ اگر اب بیچ میں بولی تو بھول جائیں گے تم ہمارے وارث کی ماں ہو ۔۔ “
وہ غصے میں چیخے تھے جبکہ سردار بی بی ان کے چنگھاڑنے پر کانپ گئی

” بابا سرکار پلیز ۔۔ !”
عباس کو ماں کی توہین برداشت نہ ہوئی تو سردار شیر دل کا ہاتھ تھامتا انہیں مزید غصہ کرنے سے روک گیا

” تمہاری انہیں گھٹیا باتوں کی وجہ سے عباس کو ضد چڑھ گئی ہے ۔۔ ورنہ ہمارا بیٹا ہماری کوئی بات نہیں ٹالتا ۔۔ “
وہ اس بار دبی دبی آواز میں غرائے تھے

” دیکھو عباس ہمیں یا ناعمہ کو یا نورے کو ۔۔ کسی کو بھی تمہاری پہلی بیوی سے کوئی سروکار نہیں ۔۔ تم اسے بےشک تلاش کرو ۔۔ وہ مل جاؤ تو اسے ویسے ہی رکھو اپنے پاس مگر ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ نورے سے شادی کر لو ۔۔ اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ تمہارے اگر نورے سے شادی کرنے سے نورے کی زندگی سنور جاتی ہے تو کیوں نہیں ہماری بات مان لیتے ۔۔ “
وہ اپنی باتوں پر زور دیتے ہوئے گویا ہوئے تھے

” بے شک اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ بابا اس بات پر کہ بیویوں میں مساوی سلوک رکھا جائے ۔۔ انصاف کیا جائے ان میں ۔۔ مگر میں پہلے بھی آپ کو یہ بات کہہ چکا ہوں ۔۔ میں نورے کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ حُرّہ صرف بیوی نہیں ہیں میری ۔۔ بلکہ میری محبت ہیں ۔۔ وہ میرے دل میں خاص مقام رکھتی ہیں ۔۔ وہ مقام میں کسی اور کو نہیں دے سکتا ۔۔ کسی کو بھی نہیں ۔۔ “
عباس نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا تھا جبکہ سرداد بی بی نے عباس کی دیوانگی دیکھ کر غصے سے سر جھٹکا

“مگر اب تو وہ لڑکی یہاں نہیں ہے نا ۔۔ “
عباس کی تمام باتوں پر ضبط کرتے ہوئے سردار شیر دل نے کہا تو عباس کے لب مسکرائے

“میں پھر بھی بےوفائی نہیں کر سکتا ان کے ساتھ ۔۔ ان کی غیر موجودگی تو میری محبت کا امتحان ہے ۔۔ “
اپنے باپ کے ضبط کے مارے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا وہ بڑے آرام سے بولا تھا

” تم سمجھتے کیوں نہیں ہو عباس ۔۔ تمہارے علاوہ نورے کی کسی سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔ “
وہ اس بار چیخے تھے

” کیوں نہیں ہو سکتی بابا سرکار ۔۔ “
عباس نے حیرت سے انہیں دیکھتے پوچھا

” تم بہتر جانتے ہو ہمارے خاندان کا اصول ہے ایک بار جس لڑکی کا نام کسی سے جڑ جائے پھر ساری عمر اسی کے نام پر گزارتی ہے ۔۔ چاہے وہ شخص اسے اپنائے یا نہ اپنائے ۔۔ یاد رکھو اگر نورے کو نہیں اپناؤ گے تو وہ ساری زندگی ایسے ہی تمہارے نام پہ گزارے گی ۔۔ “
بولتے ہوئے وہ اسے پتھردل سردار لگے

” میں نے بہت انتظار کیا کہ شاید آپ خود انصاف کریں بابا سرکار ۔۔ نورے کو اس خاندانی پست اصولوں سے آزاد کر دیں ۔۔ مگر افسوس آپ ایک سنگدل سردار کی حیثیت سے سوچتے رہے ۔۔ جس لڑکی کے سر پر باپ کے بعد ہاتھ رکھا تھا ۔۔ اسی کو اپنے اصولوں کے تحت زندہ درگور کر رہے ہیں ۔۔ “
عباس کے لہجے سے ہی افسوس عیاں تھا جبکہ سردار بی بی خاموش بیٹھی دونوں باپ بیٹے کو دیکھتی ان کی گفتگو سن رہیں تھیں

” ہاں کر رہا ہوں کیونکہ مجھے اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھنی ہے ۔۔ نورے سے تمہارا نکاح کروا کر ۔۔ “
وہ سر اکڑا کر بولے تھے

” اگر ایسی بات ہے بابا سرکار تو میں ان خاندانی اصولوں کے خلاف جاؤں گا ۔۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ۔۔ آپ کو اپنی بھتیجی سے زیادہ یہ ناپید خاندانی اصول پیارے ہیں ۔۔ آپ نورے سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے بلکہ آپ صرف اس لیے میری شادی نورے سے کروانا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کا خاندانی اصول ہے ۔۔ تو پھر ٹھیک ہے میری ایک بات بھی سن لیں اب میں نورے کی شادی خاندان سے باہر کرواؤں گا ۔۔ اور ضرور کرواؤں گا ۔۔ اور جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ “
عباس مضبوط انداز میں کہتا بالوں میں انگلیاں پھیرتا ان کے برابر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا

” کیا بکواس کر رہے ہو یہ تم ۔۔ “
وہ بھی دھاڑتے ہوئے اٹھے

” جو آپ سن رہے ہیں وہی کہہ رہا ہوں ۔۔ میں نورے کی شادی اس سے کرواؤں گا جو اسے خوش رکھنے کی ضمانت لے ۔۔ جس کے ساتھ نورے حقیقتاً خوش رہ سکے ۔۔ “
دونوں باپ بیٹے کو مقابل دیکھ کر سرداد بی بی دل میں حُرّہ کو بددعائیں دیتیں خود بھی کھڑی ہوئیں

” تم میں غیرت نہیں رہی ۔۔ اپنے سے منسوب لڑکی کی شادی کسی اور سے کرواؤ گے اب ۔۔ “
سردار شیر دل حقیقتاً صدمے سے دوچار چیخے تھے

” بے غیرت میں تب ہوتا جب نورے کا میرے ساتھ شرعی رشتہ ہوتا ۔۔ تب ان کا نام کسی اور کے ساتھ جوڑ کر واقعی میں بےغیرتی کرتا مگر ۔۔ نورے باقیوں کی طرح نامحرم ہیں میرے لیے ۔۔ چچا کی بیٹی کی حیثیت سے میں ان کا نکاح جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ “
باپ کو اطلاع دیتا وہ آگے بڑھنے لگا

” اگر تم نے جمعے کو نورے سے نکاح نہ کیا تو میرا مرا منہ دیکھو گے ۔۔ پھر اٹھانا باپ کا جنازہ ۔۔ کیونکہ اپنے عزت کا جنازہ تو تمہیں نہیں نکالنے دوں گا میں ۔۔ “
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولے تو عباس کے بڑھتے قدم رکے

” کیا معلوم آپ سے پہلے مجھے موت آ جائے بابا سرکار ۔۔ بیٹے کا جنازہ اٹھانا کافی کٹھن ہوتا ہے ۔۔ “
عباس جس انداز میں بولاتھا سردار شیر دل اور سردار بی بی ساکت ہو گئے جبکہ عباس کے لب مسکرائے

” جمعہ دو دن بعد ہے بابا سرکار ۔۔ نورے کا نکاح آج ہی ہو گا ۔۔ آپ اپنی بھتیجی کو رخصت کرنے کی تیاری کریں ۔۔ “
موبائل پر نمبر ڈائل کرتا وہ ماں باپ کو سکتے میں چھوڑ کر کمرے سے نکلا مگر دروازے پر نورے کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھکا نورے کے بہتے آنسو بیان کر رہے تھے کہ وہ اندر ہوتی گفتگو سن چکی ہے اس سے نگاہیں چرائے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ نورے نے شکوہ کناں نگاہیں اس کی پشت پر ڈالیں

////////////////////

” آ آپ سے ایک بات پوچھوں ۔۔ ؟؟”
وہ چاروں عشاء کی نماز پڑھ کر اسی کمرے میں اپنے اپنے بستر پر آ بیٹھیں تھیں ایک چارپائی پر حُرّہ ، دعا کو پہلو میں لیے بیٹھی تھی اور دوسری پر فرحت بی بی لیٹیں ہوئیں تھیں جبکہ ناہید اور تہمینہ کا بستر فرش پر تھا وہ دونوں بھی بیٹھی ہوئیں تھیں انہیں یہاں رہتے کافی زیادہ دن گزر گئے تھے مگر فرحت بی بی اور تہمینہ نے اس سے کوئی سوال نہ کیا تھا اب حُرّہ کی آواز کی جانب ان سب کی توجہ مبذول ہوئی جبکہ حُرّہ فرحت بی بی سے مخاطب تھی

” ہممم ۔۔ “
ہنکار بھرتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھیں اور چادر سر پر درست کرتی حُرّہ کو دیکھنے لگی

” آ آپ تو کہہ رہیں تھیں کہ حالات بہت خراب ہیں آج کل کے پھر آپ نے ہم پر بھروسہ کیسے کر لیا اور ہمیں اپنے گھر لے آئیں ۔۔ جبکہ ہم تو آپ کے لیے بلکل انجان ہیں ۔۔ آپ ہمیں دھوکے باز بھی سمجھ سکتی تھیں ۔۔ “
وہ پوچھ رہی تھی جبکہ حُرّہ کی بات پر فرحت بی بی کے لب مسکرائے

” زندگی سے اتنے تجربات حاصل ہوئے ہیں کہ انسان کے چہرے دیکھ کر اس کی سچائی محسوس ہو جاتی ہے ۔۔ اور تم ہمیں دھوکے باز نہیں لگی ۔ “
سنجیدہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں وہ پھر سے مسکرائیں ان کی بات کو حُرّہ نے بہت غور سے سنا ناہید اور تہمینہ بھی ان کو خاموشی سے سن اور دیکھ رہیں تھیں ان چند دن میں ہی تہمینہ اور فرحت بی بی دعا سے بہت مانوس ہو گئیں تھیں

” اس کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟”
کچھ دیر خاموشی کے بعد فرحت بی بی کی آواز کمرے میں گونجی تو جہاں حُرّہ چونکی وہیں ناہید نے بھی حُرّہ کو دیکھا تہمینہ اور فرحت بی بی حُرّہ کے جواب کی منتظر تھی

” یہاں نہیں ہیں وہ ۔۔ !”
حُرّہ نے دعا کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے ہوئے نگاہیں جھکائے کہا

” اس نے تمہیں چھوڑا یا تم نے ۔۔ ؟”
حُرّہ کی گول مول بات پر فرحت بی بی نے دوبارہ استفسار کیا

” مم میں نے ۔۔ !”
حُرّہ کی زبان لڑکھڑائی تھی اور ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی

” کیا بہت مارتا پیٹتا تھا ۔۔ “
ان کے اگلے سوال پر حُرّہ تڑپ گئی اور نفی میں سر ہلایا

” نن نہیں بلکل نن نہیں ۔۔ “
بے ساختہ عباس کا نرم انداز اسے یاد آیا تھا ایک آنسو بہتا ہوا کپڑوں میں جذب ہو گیا تھا

” خرچہ نہیں دیتا تھا ۔۔ ؟؟”
انہوں نے مزید پوچھا

” دیتے تھے ۔۔ “
دو لفظی جواب دے کر حُرّہ نے آنسو پونچھے عباس تو دنیا کی ہر چیز اس کے قدموں میں لا رکھتا تھا

” بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟ کیا اسے بیٹی نہیں چاہیے تھی ۔۔ ؟؟”
سوال کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی جانب اشارہ کیا

” بب بہت پیار کرتے ہیں وہ بیٹی سے ۔۔ !”
روندی آواز میں جواب دیتے ہوئے اس نے دعا کی پیشانی پر مامتا بھرا لمس چھوڑا

” پھر تم سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید پوچھا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا اب وہ انہیں کیا بتاتی اس شخص کی عنائتیں کہ جہاں باقی حویلی والوں کی طرح عباس کو اس سے نفرت کرنی چاہیے تھی وہیں اس شخص کی محبت کا آغاز ہوا تھا

” ایسی خالص محبت کرتے تھے کہ ۔۔ جس کی پاکیزگی کی گواہ میں خود ہوں ۔۔ !”
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی جبکہ فرحت بی بی سمیت باقی دونوں نفوس نے بھی اس کے چہرے پر آئے محبت بھرے رنگ کو دلچسپی سے دیکھا

” کیا تم پیار نہیں کرتی ہو اس سے ۔۔ ؟؟”

” پیار چھوٹا لفظ ہے میرے احساسات کے آگے ۔۔ پیار سے اگلی منزل طے کر چکی ہوں کہ ان کی خاطر خود کو ان سے جدا کر دیا ۔۔ یوں کہہ لیں کہ اپنی ہی روح کو وجود سے کھینچ نکالا ۔۔”
بات کرتے ہوئے وہ اذیت سے مسکرائی

” تو پھر وہ یقیناً ناجائز تعلقات رکھتا ہو گا غیر عورتوں کے ساتھ ۔۔ ؟؟”
ان کے سوال پر حُرّہ نے فوراً سر نفی میں ہلایا

” نن نہیں ۔۔ بلکل ایسے نہیں وہ ۔۔ ان کی شرافت ۔۔ ان کا شفاف کردار ۔۔ مجھ سے بہتر خدا جانتا ہے ۔۔ “
وہ مضبوط انداز میں بولی تھی

” مارتا بھی نہیں تھا۔۔ خرچہ بھی دیتا تھا ۔۔ بیٹی سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ اور تم سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ تم بھی اس سے پیار کرتی ہو ۔۔ ناجائز تعلقات بھی نہیں تھے ۔۔ جب اتنا اچھا تھا تو کیوں چھوڑا تم نے اسے ۔۔ ؟؟”
فرحت بی بی نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا جبکہ ان کی بات پر حُرّہ نے ایک سرد آہ بھری

” حالات کا تقاضا یہی تھا ۔۔ !”
وہ بولی گو اس کی آنکھیں اس کا درد بیان کرنے لگیں جبکہ زبان سے اپنے دکھ کیسے وہ بیان کرتی کہ قدم قدم پر اتنی ستم ظریفی ہوئی تھی کہ اب تو آنکھوں سے ہی دکھ عیاں تھے

فرحت بی بی کو سب بتاتے ہوئے وہ کئی باتوں پر کرب سے آنکھیں میچ گئی اس کے خاموش ہونے پر ناہید نے بات کو جاری کیا

” ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سے زیادہ تکلیف میں تو اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں ۔۔ اللہ سے شکوہ کرتی تھی کہ ہمیں ہی ہر آزمائش سے گزارنا تھا ۔۔ مگر دیکھو ذرا تمہاری آزمائشوں کے آگے تو میری اور میری بیٹی کی تکلیفیں کچھ بھی نہیں ۔۔ “
حُرّہ پر بیتی ستم ظریفی سن کر وہ لہجے میں دکھ لیے بولیں تھیں

” تمہاری تو ایک سال کی بچی بھی آزمائش سے گزر رہی ہے ۔۔ “
وہ مزید بولیں تو حُرّہ نے دعا کا مرجھایا سا چہرہ دیکھا

” مجھ بد نصیب کا سایہ میری بچی پر پڑ گیا ۔۔”
حُرّہ ، دعا کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ چومتی بولی

” ایسے مت کہو بیٹی۔۔ تم تو وہ خوش نصیب ہو جسے خدا نے آزمائش کے لیے چنا ہے ۔۔ جو لوگ دکھ میں ، اذیت میں ہوتے ہیں ہم لوگ انہیں بدنصیب تصور کرتے ہیں ۔۔ کہ دیکھو کتنا بدنصیب ہے کہ اس کے ساتھ یہ ہوا ۔۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ خدا تو انہیں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جو اس کے قریب تر ہوتے ہیں ۔۔ جو اسے عزیز ہوتے ہیں ۔۔ سنا نہیں کے خدا بہترین سے نوازنے سے پہلے آپ کو بدترین سے گزارتا ہے ۔۔ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔۔ تمہیں اور تمہاری بیٹی کو دیکھ کر تو مجھے اور میری بیٹی کو ہمت ملی ہے ۔۔ ورنہ ہم تو شکوے ہی کرتے تھے خدا سے ۔۔ اب تم بھی میری بیٹی ہو یہیں رہو گی اب تم ۔۔ “
فرحت بی بی اٹھ کر حُرّہ کے پاس آئیں اور اسے گلے لگا لیا

” ہاں دعا کے آنے سے تو ہمارے ویران گھر میں رونق آ گئی ہے ۔۔ “
تہمینہ بھی اٹھ کر دعا کے پاس آئی اور اسے پیار کرنے لگی

” دیکھا چھوٹی بی بی خدا ایسے وسیلے بناتا ہے ۔۔ کہ ہماری سوچ بھی وہاں تک نہیں جاتی ۔۔”
ناہید بھیگی آواز میں بولی تو حُرّہ نے اس کی بات پر نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر سر ہلایا

/////////////////////////

جاری ہے