Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 24
جولائی کی گرمی اپنے جوبن پر تھی سورج گویا آگ برسا رہا تھا یہ حیدرآباد کے ایک عام سے علاقے کا منظر تھا یہاں تقریبا تمام ہی معمولی سے مکانات تھے ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف نظر آ رہا تھا کچھ لوگ درختوں کے سائے تلے کھڑے تھے تو کوئی گنے کے ٹھیلے کے پاس کھڑا اس گرمی سے بچنے کے لیے گنے کے جوس سے لطف اندوز ہو رہا تھا
اس تپتی دھوپ میں وہ تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی معمولی سا ایک سفید رنگ کا لان کا سوٹ پہنے وہ بڑی سی مہرون چادر سر پر سلیقے سے اوڑھے ہوئے تھی وقفے وقفے سے اسی چادر سے چہرے اور گردن پر آیا پسینہ صاف کر رہی تھی عمر لگ بھگ بائیس سال تھی مگر جانے کیوں اس لڑکی کے چہرے پر زمانوں کی تھکن تھی جیسے لمبا سفر طے کر کے آ رہی ہو
وہ چھوٹی تنگ گلی میں داخل ہو کر تیز تیز قدم بڑھاتی ایک ہاتھ میں دوائیوں کا شاپر تھامے کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی تھی
ایک معمولی سے تین کمرے کے مکان کے گھر میں جب وہ داخل ہوئی تو ہمیشہ کی طرح سلائی مشین کی آواز نے اس کا استقبال کیا
کچے پکے مکان کے چھوٹے سے صحن کو عبور کرتی ہوئی وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی جہاں دو چارپائیاں اس طرح پڑیں تھیں کہ ایک کمرے کے وسط میں اور دوسری چارپائی کھڑکی کے پاس تھی کمرے میں مزید کوئی چیز نہ تھی
حرّہ نے کمرے میں داخل ہو کر چادر اتار کر دوائیوں کے شاپر سمیت اسی چارپائی پر رکھی جو کھڑکی کے ساتھ تھی اور خود بھی اب وہ اسی چارپائی پر براجمان ہو چکی تھی بیٹھے سے اب وہ چپل سمیت ہی لیٹ گئی تھی کئی دن سے بے آرامی کے باعث آج وہ اپنے سر میں بھی شدید سر درد محسوس کر رہی تھی لیکن نہیں یہ سر درد تو اسے اب ہمیشہ ہی رہنے لگا تھا بیشک وہ بہت زیارہ خوبصورت نہیں تھی مگر جانے کیا دکھ تھے اسے کہ اچھی خاصی ہونے کے باوجود اپنی حالت یوں بگاڑ کر رکھتی کہ بالوں کی لمبی چٹیا میں سے آدھے بال نکلے رہتے اور آنکھیں ہمہ وقت نم رہتیں
چارپائی پر چت لیٹی وہ آنکھیں میچے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ابھی اس کا پسینہ خشک نہ ہوا تھا کہ چھت پر لگا پنکھا بند ہو گیا مگر حرّہ نے آنکھیں وا نہ کیں اور نہ اس کے وجود نے کوئی حرکت کی جیسے اسے معلوم تھا کہ بجلی بند ہونے والی ہے
” ماما ۔۔ ماما ۔۔”
وہ ہنوز آنکھیں موند کر لیٹی ہوئی تھی جب ایک تین سالہ بچی کی چہکتی آواز نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا حرّہ کے تھکان زدہ چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی آنکھیں کھول کر اس نے اپنے پاس کھڑی بچی کو دیکھا جس کی خوبصورت آنکھیں بھی آج مسکرا رہیں تھی اس بچی کی مسکراہٹ دیکھ کر حرّہ کی ساری تھکاوٹ اور سر درد جیسے دور ہو گیا خود بیٹھ کر اس نے بچی کو اپنی گود میں بیٹھایا اور اس کے چہرے پر بوسا دیتے ہوئے مامتا کی پیاس بجھانے لگی
” ماما کی جان اتنی خوش ہے آج تو لگتا ہے ماسی ماں نے پرنسز کی ساری باتیں مانی ۔۔”
حُرّہ دُعا کو پیار کرتی ہوئی مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی جب اسے آدھے ٹوٹے پھوٹے فرش پر کسی بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی یہ آواز اس کے دل کو شدت سے دھڑکنے پر مجبور کر گئی ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی ہونٹ کپکپا گئے دل نے بس اُسی کی آمد کی گواہی دی جس سے وہ ہمیشہ سے بھاگ رہی تھی مگر شاید آج وہ وقت آن پہنچا تھا جس سے وہ فرار چاہ رہی تھی رکی ہوئی سانس کو بحال کرتی وہ خشک ہونٹوں پر لب پھیرتی اٹھی اس نے دعا پر گرفت سخت کی جیسے آنے والا اس سے اس کی دعا کو چھین لے گا
عباس نے خستہ حال دروازے پر ہلکی سی دستک دی جیسے اپنے آنے کا احساس دلایا ہو مگر وہ جانتا تھا کہ حُرّہ تو دور سے ہی اس کی خوشبو پہچان گئی ہوگی دستک دے کر وہ چند پل وہیں کھڑا رہا جبکہ اس کی جائزہ لیتی نگاہیں اس کمرے سے ہوتی ہوئیں حُرّہ پر جا ٹہریں جو رخ موڑے یوں بے حرکت کھڑی تھی جیسے پتھر کی ہو عباس نے اپنے سیاہ کوٹ کے بٹن کو کھول دیا شاید اسے گرمی کا احساس ہوا تھا پینٹ کی جیب سے رمال نکال کر پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کر کے وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا حُرّہ تک پہنچ چکا تھا دعا ، حُرّہ سے خود کو چھڑوا کر لپک کر عباس کی ٹانگوں سے آ لپٹی جبکہ عباس نے لمحہ ضائع کیے بنا دعا کو اپنی گود میں اٹھا کر پیار کیا اب حُرّہ بھی مڑ چکی تھی جھکی نگاہوں سے بھی وہ عباس کی شخصیت کے سحر میں جکڑ چکی تھی جبکہ عباس کی نگاہیں حُرّہ کے وجود کو یوں تکنے لگی جیسے صدیوں کی پیاس بجھا رہیں ہوں حُرّہ کو اس طرح عجیب حالت میں دیکھ کر عباس کے دل پر جانے کیوں بوجھ سا محسوس ہوا اپنے تڑپتے دل کو مضبوط کرتے ہوئے عباس نے بھاری آواز میں اسے پکارا جو سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی جیسے سانسیں بھی روکے کھڑی تھی
” کیسی ہیں حُرّہ ۔۔؟”
دعا کو گود میں اٹھائے عباس بولا تو پہلی مرتبہ حُرّہ نے پلکوں کے گھنے جھالڑ اٹھا کر اس مہرباں کو دیکھا یقیناً وہ اس سوال کی توقع تو ہرگز نہیں کر رہی تھی دونوں کی آنکھیں ملیں تو دل بے قابو ہو گئے عباس اور اس کی گود میں دعا کو دیکھ کر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی سسکی نکلی جس کا منہ پر ہاتھ رکھ کر حُرّہ نے گلا گھونٹ دیا جبکہ عباس نے تڑپ کر حُرّہ کو دیکھا وہ جو سوچ رہا تھا آج ہر سوال کا جواب لے گا حُرّہ سے ہر حساب برابر کرے گا مگر ہونٹ قفل ہو گئے تھے
” کیوں اتنا بڑا ظلم کیا حُرّہ آپ نے ۔۔ آپ اتنی ظالم کیسے ہو سکتیں ہیں ۔۔ کس چیز کی سزا دی آپ نے مجھے ۔۔؟”
یہ وہ سارے سوال تھے جو وہ حُرّہ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر وہ یہ سوال کر کے حُرّہ کو اذیت نہیں دے سکتا تھا اس لیے
کچھ پل گزرے تھے کہ عباس نے بولنے کی ہمت جمع کی
” بات نہیں کریں گی کیا ۔۔؟ “
عباس کے دھیمے لہجے اور محبت بھرے انداز پر حُرّہ کا دل تڑپ اٹھا
” آج بھی غصہ نہیں آ رہا اس شخص کو ۔۔ ؟؟ نفرت کیوں نہیں کرتا یہ شخص مجھ سے ۔۔؟”
عباس کے سینے سے لگی دعا کو دیکھتی وہ دل میں سوچ رہی تھی
جب عباس کی پینٹ کی جیب میں موجود موبائل بج اٹھا عباس سیل فون نکال کر ہاتھ میں لیتے سکرین پر موجود نام دیکھ کر ٹھٹھکا اور حُرّہ اس کے چہرے کو دیکھ کر پہچان گئی کہ کال کرنے والی ہستی کون ہے
” میں کبھی بھی نورے اور آپ کے درمیان نہیں آ سکتی چھوٹے سرکار ۔۔ آپ بات کر لیں ان سے ۔۔”
عباس کو کال کاٹ کر موبائل واپس جیب میں رکھتے دیکھ کر حُرّہ نگاہیں چرا کر بولی اور ساتھ ہی وہ دُعا کو اپنی گود میں لے چکی تھی
” آپ آج بھی غلطی پر ہیں حُرّہ ۔۔ “
حُرّہ کی بات پر عباس مٹھیاں سختی سے بھینچتا سرد مہری سے بولا
” میں ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی تمام غلطیاں قبول کرتی ہوں ۔۔ سرکار “
وہ آنسو حلق میں اتارتی دھیمی آواز میں بولی
” دُعا کے ساتھ ظلم کر رہیں ہیں آپ ۔۔ “
وہ ملامت بھری نگاہوں سے حُرّہ کی جھکی آنکھوں میں دیکھتا شکایت کر رہا تھا جبکہ دعا اپنی جانب کسی کو متوجہ نہ پا کر ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو لے کر کمرے سے بھاگتی ہوئی چلی گئی
” ظلم تو قسمت نے کیا ہے ہم پر ۔۔عباس ہمدانی صاحب ۔۔ “
پہلی بار وہ عباس کی آنکھوں میں اپنی نم آنکھوں سے دیکھتی دبی دبی آواز میں غرائی تھی جب عباس نے حُرّہ کی جانب قدم بڑھائے ہوش حُرّہ کو تب آیا جب عباس نے اس کے قریب جا کر اس کی پیشانی پر اپنے گرم لبوں کا لمس چھوڑا
” حُرّہ میری جان ۔۔ !”
سختی سے حُرّہ کو خود میں بھینچے وہ اس کو مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا جبکہ حُرّہ دم سادھے اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی
” کیوں حُرّہ کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔ اتنے بڑی بڑی آزمائشوں میں اتنا صبر کیا آپ نے ۔۔ پھر کیوں حالات سے فرار چاہی آپ نے ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کو خود سے جدا کیے اب وہ اس کے چہرے کو والہانہ انداز میں تکتا پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے سوال پر حُرّہ سسک اٹھی تھی سوچتی تھی کہ اب وہ مضبوط ہو گئی ہے مگر اس مہرباں کو دیکھ کر جیسے ہجر کی اذیت کی آنکھیں گواہی دے رہیں تھی
” تت تھک گئی میں ۔۔ سس سرداد ۔۔ تت تھک گگ گئی تت تھی ۔۔ “
وہ عباس کی شرٹ کے کالر کو مٹھیوں میں دبوچے شدت سے روتے ہوئے بےربط الفاظ ادا کر پائی
” میں آپ کی ہمت نہیں تھا کیا ۔۔ ۔؟؟ ہمارا رشتہ ڈھال نہیں تھا کیا ۔۔ ؟؟”
عباس اس کے ہاتھوں کو اپنے شکنجے میں لیتے ہوئے آنچ دیتی نگاہوں سے اسے تکتا لہجے میں شدت لیے بولا
” کیوں خاموش ہیں اب ۔۔ ؟؟ حُرّہ مم میری بیٹی ۔۔ ہماری بیٹی ۔۔ ہمارے رشتے کی مضبوط ضمانت ہے ۔۔ کیوں پھر اپنے حق سے پیچھے ہٹیں تھیں آپ ۔۔ “
حُرّہ کی خاموشی پر وہ مشتعل ہوا اس کے ہاتھوں پر ذرا سا دباؤ ڈالتا ہوا وہ دبی دبی آواز میں بولا
” میرا پیچھے ہٹنا حالات کا تقاضا تھا سردار ۔۔ “
چہرے کو ذرا سا موڑتے ہوئے وہ خود کو مضبوط کرتی بولی تھی مگر عباس کی والہانہ نگاہیں اس کے وجود کو لرزنے پر مجبور کر رہیں تھیں
” حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔۔ !”
عباس نے اس کے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا اس کے انداز میں شدت و اذیت تھی
” میں کمزور تھی ۔۔ ننن نہیں کر سکی مقابلہ ۔۔ !”
اپنے چہرے پر عباس کی گرم سانسوں کو محسوس کرتی وہ نگاہیں جھکائے سرد انداز میں بولی
” با خدا عورت جتنا مضبوط میں نے کسی کو نہیں پایا ۔۔ اور پھر آپ تو ماں ہیں میری بیٹی کی ۔۔ ماں کمزور نہیں ہو سکتی ۔۔ پھر دعا کی خاطر ہی تھوڑا سا اور لڑ لیتی حالات سے ۔۔ “
عباس کے لہجے میں دو سالوں میں سہی گئی اذیت کی آمیزش تھی
” آپ پلیز چلے جائیں یہاں سے ۔۔ نورے بی بی کے ساتھ خوش رہیں ۔۔ خدارا میری قربانی رائیگاں مت جانے دیں ۔۔ “
وہ دل برداشتہ ہو کر بولی تھی اس شخص کی قربت اسے بےحال کر رہی تھی
” خودی سے ہر چیز کا حساب لگا لیتیں ہیں آپ ۔۔ ؟؟”
اس بار عباس نے افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
” پپ پلیز جائیں چھوٹے سردار ۔۔ نورے انتظار کر رہیں ہوں گی آپ کی ۔۔ !”
وہ اس سے نگاہیں چرائے خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی بھرپور کوشش میں تھی جبکہ اس کی بات پر عباس نے لب بھینچے
” آپ کے انہیں غلط اندازوں کی وجہ سے دعا اور آپ سے دو سال دور رہا ہوں میں ۔۔ “
وہ اس سے اس انداز میں شکوہ کر رہا تھا کہ حُرّہ اسے دیکھتی رہ گئی آواز دھیمی اور انداز میں بچوں جیسی ضد تھی
” مم میں معافی چاہتی ہوں آپ سے سردار ۔۔ “
وہ فوراً بولی تو اس کے انداز میں طنز کی آمیزش تھی جبکہ عباس نےابرو اچکائے
“میری وجہ سے آپ اپنی بیٹی سے دور رہے مگر مم میں ایک معمولی لڑکی ہوں میری اولاد بھی عام سی ہے ۔۔ مجھے لگا ہماری کسی کو کیا ضرورت ۔۔ !”
وہ مزید بولی تھی جیسے وہ خود نہیں عباس نے اسے دور کیا ہو دو سال پہلے جبکہ عباس اس کے شکایت کرتے ہوئے انداز پر سرد نگاہوں سے اسے گھورنے لگا
” جتنا عرصہ آپ میری دسترس میں رہیں ۔۔ ایک بار بھی آپ کو محسوس ہوا کہ آپ محض میری ضرورت ہیں ۔۔ ؟؟”
وہ سپاٹ انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ نے اس مرتبہ شرمندگی سے سر جھکا لیا وہ کتنی پاگل تھی جو عباس سے ہی شکوے کر رہی تھی جبکہ دوری کا فیصلہ تو اس کا اپنا تھا
” آپ میری بیوی ہیں حُرّہ ۔۔ میری بیٹی کی ماں ۔۔ میں نے اپنی بیوی سے محبت کی یعنی آپ سے ۔۔ اور بے حد کی ۔۔ ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔۔ میں وہ مرد نہیں ہوں جن کے لیے بیوی محض ضرورت ہوتی ہے ۔۔ میرے لیے میری فیملی ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔۔ “
شدت جذبات سے بولتا ہوا وہ یکدم خاموش ہو گیا اور حُرّہ سے جدا ہوا رخ دوسری جانب پھیر لیا جبکہ حُرّہ اسے دیکھتی گھبرا گئی
” مم می میں نے صرف آپ کا سکون چچ چاہا تھا ۔۔ جو کہ بڑے سردار اور سردار بی بی کی بات ماننے میں تھا ۔۔ “
عباس کی پشت کو دیکھتی اس بار اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا
” میرا سکون آپ ہیں حُرّہ ۔۔ کتنی بار یہ بات میں نے اپنے عمل اور باتوں سے جتائی آپ کو ۔۔ کیوں نہیں سمجھیں آپ ۔۔ جانتیں ہیں ۔۔ آپ کے بغیر ۔۔ دعا کے بغیر کس طرح دو سال ۔ حُرّہ دو سال ۔۔ کس طرح رہا ہوں میں ۔۔ پل پل آپ کو یاد کیا ۔۔ دعا کو یاد کیا ۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا آپ کو ۔ اگر ناہید مجھے نہ ملتی اور مجھے سب کچھ نہ بتاتی تو ۔۔ جانے اور کتنے عرصے مزید امتحان لیتی آپ میرا ۔۔ “
وہ شکوہ کرتے ہوئے بولا تھا حُرّہ نے سر جھکا لیا
” مم میں آپ کو اپنی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔ ہمارا ایک دوسرے سے دور رہنا بہتر ہے سردار ۔۔”
وہ نگاہوں کا رخ دوسری سمت کرتے ہوئے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بولی جبکہ عباس نے افسوس سے اس بے رحم لڑکی کو دیکھا جو ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی
” حُرّہ میں اپنی بیٹی سے دو سال تک دور رہا ہوں ۔۔ آپ ابھی بھی اتنے آرام سے دور ہونے کی بات کر رہیں ہیں ۔۔ جانتی ہیں بہت ظط ظالم ہیں آپ ۔۔ !”
وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتا بولا
” حُرّہ کیا یہ معمولی بات ہے ۔۔ میں نے وہ وقت نہیں دیکھا جب میری بیٹی نے پہلا قدم خود اٹھایا تھا ۔۔ اور ۔۔ اور جب میری بیٹی نے پہلا لفظ بولا تھا ۔۔ دو سال میں اپنی بیٹی سے دور رہا ۔۔ کیا آپ کو ذرا ترس نہیں آیا مجھ پر ۔۔ “
حُرّہ کی ہنوز خاموشی پر وہ اس کے چہرے کو ہاتھ میں تھامے رنج و غم کی کیفیت میں پوچھ رہا تھا
” معاف کیجئے گا سردار مگر ۔۔ دعا صرف میری بیٹی ہے ۔۔ سردار شیر دل اور سرداد بی بی کی خواہش آپ کی خاندانی بیوی سے اولاد ہونا ہے نا تو میری یا میری اولاد کی اوقات تو آپ کی خاندانی بیوی اور اولاد کے آگے کچھ بھی نہیں ۔۔ خدا کا واسطہ ہے چھوٹے سردار مم مجھے اور میری بیٹی کو اکیلا چھوڑ دیں ۔۔ نورے بی بی کے پاس چلے جائیں پپ پلیز ۔۔ “
دوندی ہوئی آواز میں کہتی حُرّہ نے خود کو اس کے حصار سے نکالا
” نورے کا نام بار بار میرے ساتھ جوڑ کر آپ توہین کر رہیں ہیں ہمارے مابین رشتوں کی ۔۔ “
حُرّہ کی باتیں کسی بھی مخلص شخص کو اشتعال میں لا سکتیں تھیں مگر عباس کے لیے حُرّہ وہ ہستی تھی جس سے وہ ذرا سی بھی بلند آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا
” میں اپنے ہر کہے گئے لفظ کی معافی چاہتی ہوں ۔۔ پلیز چلے جائیں یہاں سے ۔۔ “
سفاکیت سے کہتے ہوئے وہ عباس کا مزید دل دکھا رہی تھی
” نورے کی شادی دو سال پہلے ہی عالیان سے ہو چکی ہے ۔۔ وہ الحمداللہ اس وقت سے امریکہ میں خوش حال زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ “
عباس کے الفاظ کئی پل کے لیے حُرّہ کو سکتے میں لے گئے وہ ہونق بنی پھٹی آنکھوں سے عباس کو تک رہی تھی جب عباس نے چند قدم بڑھا کر بے حد نرمی سے اسے اپنے حصار میں لیا
” بھلا اپنی بیوی سے بےوفائی کر سکتا تھا میں ۔۔ آپ کے علاوہ کسی لڑکی کو آنکھ بھر کے دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔۔ “
اپنے چہرے کو حُرّہ کے چہرے کے قریب کر کے وہ ذرا سا جھکا تھا اور مدھم آواز مگر مضبوط انداز میں بولا تھا حُرّہ ساکت نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
” عالیان نے نورے کا رشتہ بہت محبت سے مانگا تھا اور نورے نے بھی خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا ۔۔ وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی ۔۔ حالات کے مطابق ڈھل گئی ۔۔ اور آج اپنے صبر کا پھل بھی پا چکی ہے ۔۔ ابھی اس لیے نورے کی کال آ رہی تھی کہ وہ دونوں پاکستان آنے والے تھے ۔۔ اور مجھے ان دونوں کو ریسیو کرنے جانا تھا مگر مجھے آپ کے پاس اور اپنی بیٹی کے پاس آنا تھا کیونکہ پہلا حق آپ دونوں کا ہے مجھ پہ ۔۔ “
وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولتا اسے تفصیلی جواب دے کر چپ ہوا اور اب حُرّہ کا پر سوچ چہرہ تکنے لگا
” یی یہ کیا ہو گیا مم مجھ سے ۔۔ ؟؟”
بے ربط الفاظ ادا کرتی وہ خود سے مخاطب تھی جبکہ عباس نے سرد آہ بھری
کئی لمحے وہ اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا تھا مگر وہ جیسے گہرے صدمے میں کھڑی تھی یقیناً اگر عباس نے اسے کمر سے جکڑا ہوا نہ ہوتا تو ضرور گر جاتی
” حُرّہ ۔۔ !”
کمرے کی خاموشی میں عباس کی بھاری آواز گونجی مگر حُرّہ ساکن کھڑی تھی اس کی نگاہوں میں اب ندامت کے اثرات ابھرے تھے
” حُرّہ جانم پلیز کچھ بولیں ۔۔ “
حُرّہ کی پتھرائی ہوئی نگاہوں میں دیکھتا وہ لہجے میں صدا کی نرمی و فکر لیے پوچھ رہا تھا مگر حُرّہ کے حلق سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے
” چلیں گھر چلیں ۔۔ !”
حُرّہ کے گرد حصار بنائے وہ بولا اور اسے لیے کمرے سے نکلا جبکہ حُرّہ بے جان وجود کی طرح اس کے ساتھ ہو لی
باہر آ کر اس نے فرحت بی کا شکریہ ادا کیا اور دعا کو گود میں اٹھائے حُرّہ اور ناہید جو ساتھ لیے چل دیا
گاڑی دعا کو اس نے اپنی گود میں بیٹھائے ڈرائیور کی دعا ایک دن میں ہی اس سے اس قدر مانوس ہو گئی تھی کہ عباس کے دل نے گواہی دی خون کی کشش ضرور ہوتی ہے مگر ایک طرف اس کے دل میں ٹیس بھی اٹھی تھی کہ اس کی بیٹی اتنے عرصے تک اپنے باپ کے پیار سے محروم رہی تھی
////////////////////////
جاری ہے
