Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 12
وہ اپنے آفس میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب سے وہ عباس کے ولیمے کی تقریب سے آیا تھا تب سے اس لڑکی کی سرخ آنکھیں وہ اداس چہرہ اسے نہیں بھول رہا تھا آسمانی رنگ کے ہلکے کام والے جوڑے میں دوپٹہ سر پر اوڑھے وہ سرخ و سفید رنگت والی لڑکی جو جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی اداس بھی تھی عالیان نے کبھی لڑکی کے بارے میں اتنا نہیں سوچا تھا جتنا وہ اس اداس خوبصورت چہرے والی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اسے محض چند لمحوں کے لیے دیکھائی دی تھی پھر تو وہ ساری تقریب میں اسے ڈھونڈتا رہا تھا مگر وہ اسے پھر نظر نہیں آئی تھی مگر کل سے وہ جانے کیوں بے چین ہو رہا تھا
اس کی زندگی میں لڑکی صرف ایک صورت میں آتی تھی وہ بھی گرل فرینڈ کی حیثیت سے ورنہ اسے تو اپنی ماں کی شکل بھی یاد نہیں تھی بچپن سے اسے صرف باپ کا رشتہ ملا تھا یا پھر اس کی زندگی میں عباس اور احمد جیسے دوست تھے جو بھائیوں سے بھی بڑھ کر تھے عباس اور احمد کی اچھی صحبت کا اثر تھا کہ اب عالیان کم ہی برے کاموں میں پڑتا تھا بلکہ اب تو اپنے باپ کے بزنس کو ہینڈل کر رہا تھا
” حسین مگر اداس لڑکی ۔۔!”
آنکھیں میچے ہی عالیان کے لبوں نے حرکت کی تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے کیا نام ہے اس لڑکی کا مگر عالیان نے اسے یہی نام دے دیا تھا اور اب وہ اپنی اس حرکت پر مسکرایا تھا جب تک اس اداس لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ نہ دیکھ لیتا اس کے بے چین دل کو قرار نہیں آنا تھا کچھ سوچتا ہوا وہ اپنا کوٹ اٹھا کر اپنے آفس سے نکلتا چلا گیا
عباس کافی دنوں سے شہر نہیں آیا تھا کال پہ اس نے کچھ دن حویلی رہنے کا بتایا تھا عالیان نے کچھ سوچتے ہوئے گاڑی کا رخ عباس کے گاؤں کی سمت کیا سارے راستے وہ اسی اداس لڑکی کو سوچتا رہا مگر جب حویلی پہنچ کر وہ گاڑی سے نکلا تو اب یہ پریشانی ہوئی کہ عباس سے اس لڑکی کے بارے میں کیسے پوچھے گا وہ تو اس لڑکی کا نام بھی نہیں جاتا تھا جانے عباس اس لڑکی کو جانتا بھی ہوگا یا نہیں اور وہ عباس سے اس لڑکی کا کس طرح پوچھے گا
” صاحب آپ مردان خانے میں بیٹھیں ۔۔ سرکار کو پیغام بھیجوا دیا ہے وہ آتے ہی ہوں گے ۔۔”
ایک ملازم نے نہایت مؤدب ہو کر عالیان کو کہا تو عالیان بغیر کوئی جواب دیے اس وسیع و خوبصورت قدیم حویلی کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگا جب اس کی نگاہ اوپر ایک کھڑکی کے کھلے پٹ پر پڑی اور عالیان کے قدم وہی زمین میں جم گئے مگر عالیان کو کھلی کھڑکی کے پاس کھڑی اس اداس لڑکی کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی بے اختیار اس کے لب مسکرائے مگر وہ لڑکی پردے برابر کر کے وہاں سے اوجھل ہو چکی تھی اور یکدم عالیان کو بے چینی نے آن گھیرا ابھی تو وہ اسے ملی تھی اور ایک لمحے بعد ہی پھر سے کھو گئی
” صاحب چلیں ۔۔؟؟”
ملازم نے اسے ایک ہی سمت کھڑے دیکھ کر ذرا سی بلند آواز میں پکارا تو عالیان نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر بند کھڑکی کو دیکھا مگر وہاں اب وہ موجود نہیں تھی مایوسی سے عالیان نے سر جھٹکا اور حویلی کے اندر جانے کے بجائے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا وہ ملازم حیرت زدہ اسے گاڑی حویلی سے لے جاتا دیکھتا رہ گیا
////////////////////////////
” یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا سرکار آپ ۔۔ ؟؟ “
سردار شیر دل کی بات سنتے ہی عباس نے افسوس سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ دونوں اس وقت حویلی کی بیٹھک میں موجود تھے ملازم نے اسے عالیان کی آمد کی خبر دی تھی تبھی وہ یہاں آیا تھا مگر عالیان ملے بغیر واپس چلا گیا تھا اور اب بابا جان نے اسے جو بات بولی تھی اسے سن کر عباس بے یقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا
” عباس میں پھر سے اپنی بات دہرا دیتا ہوں ۔۔ “
سردار پر سکون انداز میں بولے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے عباس ان کا فرمانبردار بیٹا ہے وہ کبھی ان کی بات سے انکار نہیں کرے گا
” ہم چاہتے ہیں تمہاری اور نورے کی شادی مزید تاخیر کے بغیر جلد از جلد ہو جانی چاہیے ۔۔ “
وہ عباس کے حیرت زدہ تاثرات دیکھتے ہوئے پھر سے بولے جبکہ عباس نے ان کی بات سن کر نفی میں سر ہلایا
” بابا سرکار میری شادی ہو چکی ہے ۔۔ “
عباس نے دھیمے انداز میں جتاتے ہوئے کہا تو سردار شیر دل مسکرائے
” ہم جانتے ہیں بیٹے ۔۔ وہ تمہاری نظر میں شادی ہے مگر ہماری نظر میں کوئی حیثیت نہیں اس رشتے کی ۔۔ “
حتمی انداز میں وہ بولے تھے جبکہ عباس کو شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ ان سب کی سوچ نہیں بدل سکتا
” کسی کی نظر میں میرے اور حُرّہ کے رشتے کی حیثیت ہو یا نہ ہو میرے خدا کے نزدیک بہت ہے ۔۔ اس لیے مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔”
عباس نے خفا سے لہجے و انداز میں کہا
” آپ جتنے بھی دلائل دے دیں مگر یہ بات فراموش نہیں ہو سکتی کہ وہ لڑکی خون بہا میں آئی ہے ۔۔ “
سردار شیر دل نے اس مرتبہ ذرا بلند آواز میں کہا جبکہ ان کے الفاظ عباس کے دل میں چبھے تھے حُرّہ کے لیے ایسے الفاظ سننا بلاشبہ اس کے لیے مشکل تھا
” بابا پلیز ۔۔ !”
” عباس اس لڑکی کی کبھی بھی نورے جتنی حیثیت نہیں ہو سکتی ۔۔ نورے ہمارا خون ہے ۔ ہمارے چھوٹے بھائی کی اکلوتی بیٹی ۔۔ بچپن سے تمہارے نام کے ساتھ منسوب ہے وہ بچی ۔۔ دشمن کی بیٹی کے ساتھ انصاف کرتے کرتے کیا تم اس لڑکی کے ساتھ ناانصافی کرو گے جس نے بچپن سے تمہارے علاوہ کسی کو سوچا تک نہیں ۔۔”
سردار شیر دل کی آواز کرخت تھی جبکہ ان کے لہجے میں نورے کے لیے دکھ تھا
” یہ آپ کو پہلے سوچنا چاہئے تھا بابا سرکار ۔۔ حُرّہ کے ساتھ آپ نے ہی میرا نکاح کروایا تھا ۔۔ اس وقت آپ کو اپنے بھائی کی اولاد کا خیال نہیں تھا ۔۔ “
نا چاہتے ہوئے بھی عباس تلخ ہو گیا تھا
” مجھے نہیں معلوم تھا تم اس دو ٹکے کی لڑکی کو بیوی مان لو گے ۔۔ “
وہ خاصی حقارت سے بولے تھے جبکہ عباس نے بمشکل ان کے الفاظ برداشت کیے تھے
” بابا سرکار جب نکاح ہوا ہے تو بیوی تو وہ بن گئیں نا میری ۔۔ اگر ان کے حقوق میں کوتاہی کروں تو خدا کے آگے جوابدہ ہوں میں ۔۔ “
الفاظ چبا کر ادا کرتا وہ مٹھیاں بھینچے گویا ہوا تھا
” تو نورے کا کیا عباس ۔۔؟؟۔ اس کو ٹھکرا کر کیا خدا کے آگے جوابدہ نہیں ہو گے تم ۔۔؟”
وہ اس کا چہرہ دیکھتے سوال کر رہے تھے
” نورے چچا سرکار کے بعد آپ کی ذمہ داری ہیں بابا سرکار ۔۔ میرا نورے کے ساتھ اگر نکاح ہوا ہوتا تو بیشک وہ میری ذمہ داری ہوتیں مگر حُرّہ میری ذمہ داری ہیں کیونکہ حُرّہ میری بیوی ہیں ۔۔ اس لیے میں حُرّہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کا خدا کے آگے جوابدہ ہوں ۔۔ کسی اور کی وجہ سے میں اپنی بیوی کی حق تلفی نہیں کر سکتا ۔۔ “
عباس جیسے جیسے بول رہا تھا سردار شیر دل کا غصہ بڑھتا گیا
” کیسی حق تلفی ۔۔؟ اتنا تو سر چڑھا لیا ہے تم نے اس لڑکی کو ۔۔ “
وہ پھر دھاڑے تھے
” میں نے انہیں سر نہیں چڑھایا ۔۔ بلکہ میں جو بھی کرتا ہوں ان کے لیے ۔۔ وہ میرا فرض اور ان کا حق ہے ۔۔ “
عباس ہنوز سنجیدگی سے ان کی بات کا دھیمی آواز میں جواب دے رہا تھا
” تو عباس آپ میرے فیصلے سے انکار کر رہے ہیں ۔۔ ؟؟”
دبے دبے غصے سے وہ بولے
” میں آپ کی کسی حق بات سے انکار نہیں کر سکتا بابا سرکار ۔۔ مگر میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔”
عباس ان کے غصے کو دیکھتا نہایت پر سکون ہو کر گویا ہوا تھا
” آخر مسئلہ کیا ہے دوسری شادی میں ۔۔ ؟؟ میں کون سا تمہیں اس لڑکی کو چھوڑنے کو کہہ رہا ہوں ۔۔ !”
اس بار وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئے تھے کیونکہ عباس کے ارادے انہیں پختہ لگ رہے تھے
” مگر میں پھر بھی نہیں کر سکتا ۔۔ بابا سرکار “
عباس نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دھاڑے
” وجہ ۔۔؟؟”
” بس نہیں کرنا چاہتا ۔۔!”
عباس نے چند الفاظ میں ہی بات ختم کی
” تم خاندانی اصولوں کو جانتے ہو نا نورے کی تمہارے علاوہ کسی سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔ “
اپنے فرمانبردار بیٹے کو دیکھتے وہ بہت کچھ یاد کرواتے ہوئے بولے
” میں محض آپ لوگوں کے پست اور بے بنیاد بنائے گئے اصولوں کو مانتے ہوئے تو ہرگز نہیں آپ کی بات مانوں گا ۔۔ “
عباس صاف گوئی سے بولا تھا جبکہ سردار شیر دل نے عباس کے پر سکون چہرے کو دیکھا
” تو ٹھیک ہے پھر نورے تمہارے نام سے ساری زندگی حویلی میں بیٹھی رہے گی اور تم اپنی بیوی بچوں کے ساتھ انصاف کرتے رہنا ۔۔!”
وہ خاصے جتاتے ہوئے بولے تھے جبکہ عباس نے نفی میں سر ہلایا
” بابا سرکار آپ بے بنیاد باتوں کو اپنے خاندان کے اصول کی شکل دے کر مجھے نورے سے شادی کرنے کے لیے اکسا کر غلط کر رہے ہیں ۔۔ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔۔ بلکہ آپ اپنے بھائی کی بیٹی کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں انہیں خاندانی اصولوں کی بھینت چڑھا کر ۔۔ “
بلاشبہ وہ نرم دل انسان تھا نورے کے لیے دل میں کبھی خاص جذبات تو نہیں رکھتا تھا مگر اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی بھی نہیں ہونے دے سکتا تھا
” اگر فکر ہے نورے کی تو شادی کیوں نہیں کر لیتے تم اس سے ۔۔ کیونکہ اب خاندان میں تمہارے علاوہ کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا ۔۔ اور خاندان سے باہر تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔ “
عباس کو نورے کی فکر میں بولتا دیکھ کر وہ پوچھنے لگے تو عباس نے لب بھینچ لیے
” آپ کے بنائے گئے اصولوں کی داستان سن کر تو اب میں کبھی بھی ان سے شادی نہیں کروں گا ۔۔ “
بات کرتے ہوئے عباس اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ اس کا جذبات سے عاری انداز دیکھ کر سردار شیر دل ٹھٹھک گئے
” تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ۔۔؟؟”
سرد انداز میں پوچھا گیا
” جی ۔۔۔!”
عباس یک لفظی جواب دے کر آگے بڑھ گیا تھا مگر سردار شیر دل کے الفاظ سن کر عباس کے قدم تھم گئے
” یہ بات یاد رکھنا ۔۔ ! نورے کے ساتھ ہوئی زیادتی کے ذمے دار پھر عباس تم ہو گے۔۔!”
عباس کی پشت کو دیکھتے وہ تلخ انداز میں گویا ہوئے
” مجھے یقین ہے بابا سرکار آپ اپنے بھائی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے ۔۔ “
عباس بغیر مڑے بولا تھا اور اپنی بات مکمل کرتا وہ آگے بڑھ گیا جبکہ پیچھے کھڑے سردار شیر دل نے اپنے لب بھینچ لیے
//////////////////////////
بہت دنوں سے عباس اس کے پاس حویلی میں ہی تھا اور کس قدر اس کا خیال رکھتا تھا حُرّہ کو اپنی خوش نصیبی پر قطعی یقین نہیں آتا تھا کیا اتنے دکھوں کے بدلے ایسا صلہ بھی ملتا ہے عباس سے ملی اتنی محبت اور عزت کی وجہ سے حُرّہ عباس سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی وہ اب عباس سے اپنا ہر دکھ بانٹنے لگی تھی جس کے بعد عباس محض اسے گلے لگا لیتا اور اسے رونے دیتا جب وہ خاموش ہوتی تو عباس محض مسکرا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا
اب عباس کی بدولت ہر طرح سے اسے حویلی میں آسائشیں مل رہی تھی حویلی کے ملازم سے لے کر سردار بی بی تک کوئی اسے منہ پر برا نہ کہہ سکتا تھا مگر حُرّہ جانتی تھی سردار بی بی کا دل اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا اور پھر ناعمہ بھی زبان سے تو کچھ نہ بولتی مگر اس کی آنکھوں کی چبھن حُرّہ کو محسوس ہوتی تھی زندگی کی اتنی تلخیاں سہنے کے بعد وہ لوگوں کے چہرے پڑھنا سیکھ چکی تھی جانتی تھی کہ حویلی کے تمام مکین دل میں اس کے لیے قطعی گنجائش نہیں رکھتے یہ صرف عباس کا ساتھ ہے جس وجہ سے کوئی اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا
” حُرّہ بی بی یہ پھل کھا لیں ۔۔ سردار نے سختی سے کہا ہے اس وقت آپ کو پھل دینے ہیں ۔۔ “
وہ اس وقت عباس کا انتظار کرتے کرتے کمرے سے باہر نکل آئی تھی جب ناہید مؤدب سی ٹرے میں ایک باؤل رکھے اس کے سامنے کھڑی تھی جس میں چار پانچ طرح کے پھل کیوبز کی شکل میں کٹے ہوئے تھے حُرّہ نے ایک نظر باؤل کو دیکھا اور ایک نظر ناہید کو دیکھا وہ پہلے کتنا ظلم کرتی تھی اس پہ اور اب ایسے خیال رکھتی تھی اس کا جیسے اس کے علاوہ اس کا کوئی کام ہی نہ ہو اسی طرح کبھی کچھ لے کر حاضر ہو جاتی تھی تو کبھی کچھ لے کر آ جاتی تھی اور اتنے مؤدب ہو کر کہتی کہ اب حُرّہ کا دل اس کی طرف سے بلکل صاف ہو چکا تھا
” سرکار کہاں ہیں ۔۔ ؟”
حُرّہ نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے اپنا سوال پوچھا
” وہ جی بڑے سرکار کے ساتھ ہیں ۔۔ “
ناہید نے با آدب کہا تو حُرّہ نے سر ہلایا
” بب بی بی آپ کمرے میں چل کر یہ کھا لیں ۔۔ ورنہ سرکار میرے پہ غصہ ہونگے ۔۔”
نورے کو حُرّہ کی سمت آتا دیکھ کر ناہید نے اپنی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے حُرّہ کو کمرے میں بھیجنا چاہا کیونکہ نورے اگر حُرّہ کو کچھ برا بولتی تو عباس نے اس پر غصہ کرنا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے حُرّہ کو ہر طرح کی پریشانی سے دور رہنے کا سختی سے کہا تھا مگر اس سے پہلے حُرّہ کمرے میں جاتی نورے اس کے قریب پہنچ گئی
” سردار بی بی کے کمرے میں چائے دو جا کر تم ۔۔!”
حکمانہ انداز میں ناہید کو دیکھ کر کہتی اب نورے ، حُرّہ کی جانب مڑی حُرّہ بھی اس کی جانب متوجہ ہو چکی تھی
” بب بی بی وہ میں حُرّہ بی بی کو کمرے میں چھوڑ آؤں پھر دے آتی ہوں ۔۔ “
ناہید نے سر جھکا کر کہا
” آپ جائیں میں چلی جاؤں گی روم میں ۔۔ !”
ناہید کی بات سن کر حُرّہ نے فوراً کہا اور نورے کو دیکھنے لگی جو خود بھی اسی کی جانب متوجہ تھی جبکہ ناہید فوراً جی کہتی وہاں سے جانے لگی جب نورے نے اسے پکارا
” سنو ۔۔!”
” جی بی بی ۔۔ ؟”
ناہید نے سر جھکائے کہا
” چھوٹے سردار کہاں ہیں ۔۔ ؟
نورے نے ناہید سے پوچھا تو بے ساختہ حُرّہ کے بڑھتے قدم تھمے وہ اک پل کو وہیں کھڑی ہو گئی
” بی بی وہ بڑے سردار کے ساتھ ہیں ۔۔”
ناہید نے چند قدموں کے فاصلے پر خاموش کھڑی حُرّہ کی جانب چور نگاہوں سے دیکھا
” ہمم ۔۔!”
نورے ، حُرّہ کو نظرانداز کرتی آگے بڑھ گئی مگر حُرّہ وہیں بے حس و حرکت کھڑی تھی جب ناہید نے اسے پکارا
” حُرّہ بی بی ۔۔ !”
ناہید کے پکارنے پر حُرّہ چونکی اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
” وہ بی بی جی کمرے میں چلیں ۔۔؟”
ناہید نے حُرّہ کے بے چین چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
حُرّہ دور جاتی نورے کو دیکھتی غائب دماغی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
///////////////////////////
” یار تو حویلی آیا تھا اور ملے بغیر ہی واپس چلا گیا سب خیریت تھی نا ۔۔ ؟؟”
عباس آہستہ آہستہ چلتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب اس نے عالیان کو کال ملا کر فون کان سے لگا لیا عالیان کے کال پک کرتے ہی عباس نے سوال کیا اک پل کو تو عالیان بوکھلا گیا
” یار تو اتنے دن سے آیا نہیں تو تیری یاد آ گئی تھی ۔۔ لیکن پھر کال آ گئی ڈیڈ کی ۔۔ تو بس آفس پہنچنا تھا ۔۔”
جلدی میں بہانہ بناتے ہوئے عالیان نے کہا تو عباس خاموش ہو گیا
” احمد سے کوئی بات ہوئی ہے کیا تمہاری کیس کے بارے میں ۔۔ ؟؟ “
عباس کو عالیان کا بات بنانا محسوس ہوا تھا تبھی تشویش ہونے پر پوچھا
” نہیں میری کیس کے بارے میں احمد سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔ سب ٹھیک ہے نا کچھ پتہ چلا ہے کیا ۔۔ ؟”
عباس کی بات پر عالیان چونکا اور پھر پریشانی سے پوچھنے لگا
” نہیں وہ ایکچولی میری کافی دن سے احمد سے عابی کے کیس کے متعلق بات نہیں ہوئی اس لیے تم سے پوچھا ۔۔ ” عابی کے ذکر پر عباس کے دل میں پھانس سی چبھی وہ بوجھل قدم اٹھاتا یکدم رک گیا کیونکہ نورے اسے اپنے قریب آتی دیکھائی دی تھی
” ہمم چل بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔ “
الوداعی کلمات ادا کرتا وہ کال کاٹ چکا تھا
” السلام علیکم !”
نورے کے سلام کرنے پر عباس نے سر ہلایا اور نگاہیں کا رخ دوسری سمت کر لیا
” وہ مجھے آپ سے ایک ایمپورٹنٹ بات کرنی ہے !’
نورے عباس کو دیکھتی پھر گویا ہوئی
” جی جی بولیں ۔۔؟”
عباس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے اجازت دی
” مجھے ماسٹرز میں ایڈمیشن لینا ہے ۔۔ تایا سردار نہیں مانیں گے ۔۔ آپ کی ہیلپ کی ضرورت ہے ۔۔”
نورے نے دوپٹہ سر پر درست کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا عباس کی مدد سے ہی اس کی پڑھائی جاری تھی ورنہ خاندان کی لڑکیوں کو کہاں اجازت تھی ہمیشہ وہ عباس سے کہتی تھی پھر وہ سردار شیر دل سے اجازت لے دیتا تھا ابھی بھی سارے مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے نورے نے عباس سے مدد لینے کا سوچا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی عباس کی سپورٹ کے بعد کوئی کچھ نہیں کے گا
” آپ بے فکر رہیں میں فارم لے آؤں گا ۔۔ بابا سرکار منع نہیں کریں گے ۔۔ “
عباس نے نرمی سے کہتے ہوئے سرسری نگاہ نورے پر ڈالی
” تھینکس ۔۔!”
نورے شکریہ ادا کرتی آگے بڑھ گئی تو عباس بھی قدم بڑھانے لگا
عباس کمرے میں داخل ہوا جہاں حُرّہ کمرے میں تیز تیز چکر کاٹ رہی تھی حُرّہ کی اس حرکت پر عباس کے ماتھے پر بل پڑے وہ موبائل جیب میں رکھتا حُرّہ کی جانب بڑھا
” حُرّہ میری جان کیا ہو گیا ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ کی کلائی تھام کر اسے روکنے کو آگے بڑھا مگر حُرّہ اچانک آواز پر ڈر پر پیچھے ہونے لگی جب اس کا پاؤں مڑا اس سے پہلے وہ گرتی عباس نے اس کی کمر نرمی سے اپنے شکنجے میں لی اور نہایت نرمی سے پوچھا جبکہ حُرّہ یکدم عباس کی آمد پر بوکھلا گئی
” آ آپ ۔۔!”
عباس کے سوال پر حُرّہ خاموش ہو گئی اسے اب احساس ہوا کہ عباس کے اتنا خیال رکھنے اور احتیاط کے باوجود وہ ابھی کیا لاپرواہی کر چکی تھی ندامت کے باعث اس نے سر جھکا لیا
” ایٹس اوکے جانم ریلیکس رہیں ۔۔ !”
ہنوز لہجہ اور انداز نرمی لیے ہوئے تھا عباس کے اس قدر نرم رویے پر بے ساختہ آنسو حُرّہ کی آنکھوں سے بہنے لگے
” جانم اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ یہ سوچا کریں آپ کے وجود میں بہت ننھی سی جان ہے ۔۔ بس خیال کیا کریں ۔۔ !”
لہجہ اور انداز ہنوز نرمی لیے ہوئے تھا مگر اس مرتبہ عباس کی آواز تھوڑی بلند تھی
” اا ایم سوری ۔۔”
حُرّہ نے ہچکیاں بھرتے ہوئے کہا تو عباس نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ لیے تو حُرّہ اس کی گرفت میں ذرا سی کسمائی تھی
” اب کیا ہوا ۔۔؟”
عباس نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا
” آپ کی مونچھیں چبھی ہیں ۔۔ “
حُرّہ نے بے اختیار منہ بسور کر کہا تو عباس کا جاندار قہقہہ فضاء میں بلند ہوا حُرّہ بھینپ گئی اور خفت مٹانے کو منہ عباس کے کشادہ سینے میں چھپا گئی
” اب بتائیں میری جان کو کیا پریشانی تھی ۔۔ ؟”
حُرّہ کو نرمی سے کاندھوں سے تھام کر عباس نے سنجیدگی سے پوچھا تو حُرّہ کے لب کاٹے
” کیا بات ہے حُرّہ ۔۔؟”
حُرّہ کے سرخ لبوں پر اپنے ہاتھ کا انگوٹھا پھیرتے ہوئے عباس نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا
” آپ اتنے اچھے کیسے ہیں ۔۔ کیا کوئی اتنا اچھا بھی ہو سکتا ہے ۔۔ آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا ۔۔ ؟”
عباس کے چہرے کو قریب سے دیکھتی وہ بھیگی آواز میں پوچھ رہی تھی
ایسا نہیں ہے کہ حُرّہ نورے کی وجہ سے پریشان ہو گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی عباس کبھی اس کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا ہاں بے چین ہوئی تھی مگر عباس کے اتنے نرم رویے پر وہ چاہ کر بھی کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتی تھی جو اس کے اور عباس کے درمیان کشیدگی پیدا کرے
” اب میں اپنی تعریف اپنی زبان سے کیسے کروں ۔۔ جانم آپ نے کر دی اتنا بہت ہے ۔۔ “
عباس نے چہرے پر شرارت سجائے کہا تو حُرّہ مسکرانے لگی
” خیر یہ بتائیں سیدھی طرح کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نا ۔۔ ؟ کسی بات کی پریشانی ۔۔؟”
عباس جانتا تھا حُرّہ کا اس کے سوا دنیا میں کوئی نہیں ہے وہ ہر طرح سے حُرّہ کا خیال رکھتا تھا تاکہ حُرّہ بے جھجک کوئی بھی بات یا اپنی پریشانی اس سے بانٹ سکے تبھی نہایت نرمی سے دوبارہ پوچھا
” جس لڑکی کے نصیب میں آپ جیسا ہمسفر ہو ۔۔ اس کا ہر درد و دکھ کا مداوا ہو جاتا ہے ۔۔ جانتے ہیں کیوں ۔۔ ؟”
عباس کے وجود سے اٹھتی خوشبو کو محسوس کرتی حُرّہ بے خودی میں بول رہی تھی جبکہ عباس چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائے حُرّہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا حُرّہ کے سوال کرنے پر عباس نے بھویں اور کاندھے اچکائے
” کیونکہ آپ خوبصورت ثواب ہیں جو خدا نے امتحانوں کے ثمر کے طور پر مجھے دیے ہیں ۔۔ “
عباس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی حُرّہ خوش دلی سے بولی جبکہ عباس مسکراتے چہرے سمیت اسے دیکھ رہا تھا
” مجھے خدا سے بہت شکوے تھے ۔۔ میرے بابا اور ماں جب مجھے چھوڑ کر گئے تو میں اپنے مرنے کی دعا بھی کرتی تھی ۔۔ “
روندی آواز میں بولتے ہوئے حُرّہ چند لمحوں کے لیے رکی جبکہ عباس کے مسکراتے لب سکڑے
” مم مگر اب خدا کا بے انتہا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی آخری سانس تک آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ۔۔ “
کہتے ہوئے حُرّہ نے سر عباس کے کاندھے پر ٹکا لیا عباس کو پل پل احساس ہوتا تھا کہ حُرّہ نے کس قدر محرومی اور سختی کی زندگی گزاری تھی
” حُرّہ میری جان کبھی بھی خود کو اکیلا مت سمجھیے گا ۔۔ میں ہر اچھے برے وقت میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کے گرد اپنے بازو حمائل کرتے ہوئے محبت سے کہا
” آپ کے بغیر مر جاؤں گی میں ۔۔ “
حُرّہ نے بھی اپنے بازو عباس کے گرد حائل کرتے ہوئے کہا تو عباس نے تڑپ کر اسے دیکھا جو آنکھیں موندے اس کے کاندھے پر سر رکھے کھڑی تھی
” پلیز حُرّہ ۔۔ ایسے نہیں کہیں ۔۔ !”
عباس نے خفگی سے کہا تو حُرّہ کے لب مسکرائے
” جو حکم سرکار ۔۔!”
ذرا سا چہرہ بلند کر کے عباس کو دیکھتے ہوئے حُرّہ نے مسکرا کر کہا تو عباس نے بھی مسکراتے ہوئے اسے خود میں مزید بھینچ لیا
///////////////////////
جاری ہے
