Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074

Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Last updated: 17 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Hari Piya

By Fatima

وہ سب جب حویلی کے صحن میں پہنچے تو عباس حویلی کے پرانے اور وفادار ملازمین اور گارڈز پر چیخ چنگھاڑ رہا تھا بیشک عباس کا اس طرح بلند آواز میں چلانا حویلی کے مکینوں سمیت نوکروں کو بھی حیرت میں مبتلا کر رہا تھا آج تک کسی نے عباس کو اس قدر طیش میں نہیں دیکھا تھا سردار شیر دل آگے بڑھے اور ایک گارڈ کو عباس کی جارحانہ گرفت سے نکال کر دور کیا

" کیا ہو گیا ہے عباس ۔۔ میرے شیر ۔۔" سردار شیر دل نے بیٹے کو دونوں بازوؤں کے گھیرے میں لیتے ہوئے بلند آواز میں کہا

" ایک ایک کو جان سے مار دوں گا بابا میں ۔۔ اتنے لوگوں کے پہرے کے باوجود میری بہن کے ساتھ یہ سانحہ کیسے ہو گزرا ۔۔ کسی کام کے نہیں ہیں یہ ۔۔" عباس غراتا ہوا ایک نظر تمام ملازمین اور گارڈز پر ڈالتا آخر میں باپ کی گرفت سے نکلا

" کیوں اپنے آپ کو اس انتقام کی آگ میں جلا رہے ہو ۔۔ میں نے کہا تھا نا تمہیں کہ ہم خون کا بدلہ ضرور لیں گے ۔۔ پھر کیوں اذیت دے رہے ہو خود کو ۔۔ " عباس کو دکھ سے دیکھتے وہ بولے

انہوں نے اپنے ٹھنڈے مزاج بیٹے کو اس قدر طیش کے عالم میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا اتنے دن بعد وہ حویلی آیا بھی تو اس قدر عجب حالت میں تھا کہ آنکھیں سوجی ہوئیں تھیں اور داڑھی بڑھی ہوئی سردار بی بی بھی بیٹے کو اس قدر غصے میں دیکھ کر تڑپ گئیں جبکہ نورے کی آنکھیں عباس کی یہ بکھری حالت دیکھ کر بھیگنے لگیں

" بابا ان لوگوں نے اگر اپنا کام صحیح سے کیا ہوا تو ۔۔!!" اس سے آگے عباس بول ہی نہیں سکا اور قرب کے باعث آنکھیں میچ گیا حویلی کے وسیع صحن میں موجود ہر ذی روح سردار کو پہلی مرتبہ اس طرح دیکھ کر رو پڑا جبکہ ملازمین اور گارڈز عباس کے ڈر و خوف کے باعث کانپ رہے تھے

" عباس میرے شیر ۔۔ سمبھالو خود کو ۔۔ تمہاری ماں مر جائے گی تمہیں اس طرح دیکھ کر ۔۔" سردار شیر دل نے عباس کو خود میں بھینچتے ہوئے وہاں کھڑی سردار بی بی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا تو عباس کی نگاہیں اپنی ماں کی جانب اٹھیں جو روتی ہوئی غم کی تصویر بنی کھڑی تھیں انہیں دیکھ کر عباس کا دل مزید تڑپ گیا وہ ماں جنہیں اس نے ہمیشہ سج سنور کر شان و شوکت سے حویلی میں حکمرانی کرتے دیکھا تھا آج اجڑی ہوئی حالت میں دیکھ کر دل کو ٹھیس پہنچی اور قدم ماں کی جانب خودبخود بڑھے

" انہیں رحم کہوں نہیں آیا میری بیٹی پر ۔۔؟؟ "