Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 22
وہ تیز تیز قدم بڑھاتا حویلی کے مردان خانے میں آیا تھا سیل فون ابھی بھی کان سے لگا تھا
” کہاں ہو تم ۔۔ ؟؟”
عالیان کے کال پک کرتے ہی عباس نے پوچھا تو عالیان جوکہ شام کے اس پہر سڑک کے کنارے گاڑی میں بیٹھا سگریٹ نوشی کر رہا تھا عباس کے پوچھنے پر سٹپٹا گیا
” مم میں بس آفس سے گھر جا رہا تھا ۔۔ “
عالیان نے بات گول مول کی
” ہممم ۔۔ تم نے کہا تھا کہ تم نورے کا رشتہ لے کر آنا چاہتے ہو ۔۔ ان سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔ !”
عباس کی بھاری آواز فون سے ابھری تو عالیان اس کی بات سنتا سیدھا ہو بیٹھا
” ہہ ہاں ایسا ہی کہا تھا میں نے مگر تم نے کہا تھا کہ تم اپنے بابا سردار سے پہلے بات کرو گے اس بارے میں پھر جواب دو گے ۔۔ “
عالیان نے دل تھامے بات کی تصدیق کی
” ہاں میری بات ہو گئی ہے بابا سرکار سے ۔۔ ہمیں یہ رشتہ قبول ہے ۔۔ تم ایسا کرو انکل کے ساتھ حویلی آ جاؤ ہم آج ہی نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔۔ رخصتی کچھ عرصے بعد کر لیں گے ۔۔ “
عباس نے جیسے اسے خوشی کی نوید سنائی تھی وہ اپنی جگہ منجمد رہ گیا تھا
” کیا ہوا ۔۔ چپ کیوں ہو گئے۔۔ ؟”
عالیان کی خاموشی محسوس کرتا وہ پوچھ رہا تھا
” نن نہیں ۔۔ کچھ نہیں ۔۔ یہ خبر سنانے پر عباس اگر تم اس وقت میرے سامنے ہوتے تو گلے لگا لیتا تمہیں ۔۔ “
عالیان کے لہجے سے ہی خوشی عیاں تھی عباس نے پرسکون ہوتے ہوئے کال کاٹ دی
اب سب سے بڑا مرحلہ نورے سے بات کرنا تھا وہ جانتا تھا اگر وہ نورے سے بات نہیں بھی کرے گا تب بھی وہ بےضرر سی لڑکی اس کے ایک بار کہنے پر نکاح کے لیے رضامند ہو جائے گی مگر کس دل سے راضی ہو گی وہ یہ بھی جانتا تھا
کچھ انتظام کرنے کے بعد وہ وہیں مردان خانے میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا
” نورے بی بی کو کہو میں نے بلایا ہے انہیں ۔۔ “
پاس کھڑے ملازم کو حکم دیتا وہ موبائل سکرین پر نگاہیں جمائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا
وہ کمرا بند کیے بیڈ پر لیٹی بلند آواز میں سسکیاں بھر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہونے لگی اور ہوتی رہی تنگ آ کر نورے اٹھی اور دروازہ کھولا
” چلی جاؤ یہاں سے مجھے پریشان مت کرو ۔۔ “
سامنے کھڑی ملازمہ پر وہ چلائی تھی جبکہ ملازمہ اس کو روتا چیختا دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی
” و وہ بب بی بی جی ۔۔ سرداد نے آپ کو مردان خانے میں بلایا ہے ۔۔ “
وہ سر جھکائے بولی
” کک کون سے سرداد نے ۔۔ “
یکدم گھبرا کر نورے نے دریافت کیا
” چھوٹے سردار نے ۔۔ “
ملازمہ نے کہا اور اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھیں ساکن ہو چکیں تھیں
” تم جاؤ ۔۔ مم میں آتی ہوں ۔۔ “
” بی بی جی چھوٹے سردار نے حکم دیا ہے ۔۔ آپ کو ساتھ لے کر آؤں ۔۔ “
ملازمہ مزید بولی تو نورے نے آنسو پونچھے اور سر پر دوپٹہ درست کرتی کمرے سے نکلی اس کے قدم دھیمے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے مردان خانے میں داخل ہو کر سیدھا نگاہ عباس پر پڑی جو موبائل پر کسی سے بات کرنے پر مصروف تھا اسے دیکھ کر کال کاٹ کر اٹھ کھڑا ہوا
” آپ سے ایک بات کرنی ہے نورے ۔۔ امید ہے آپ بہتر فیصلہ کریں گی ۔۔ پہلے ہی کہہ دوں کہ آپ کی مرضی میرے لیے بہت اہم ہے ۔۔ “
نورے کی نم آنکھوں سے نگاہیں چرائے وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بول رہا تھا جبکہ نورے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
” آپ سب طے کر تو چکے ہیں ۔۔ پھر بات کرنے کو کیا رہ گیا چھوٹے سردار ۔۔ ؟”
نورے کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی عباس نے لب بھینچے بےشک وہ نورے پر کوئی بھی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسے ایسا کرنا پڑ رہا تھا
” آپ سب سن چکی ہیں نورے ۔۔ مگر پھر بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔ کہ آج عشاء کے بعد ہم نے نکاح رکھا ہے آپ کا ۔۔ ایک جاننے والے ہیں ۔۔ یقیناً ہمارا یہ فیصلہ غلط نہیں ہو گا ۔۔ “
عباس دھیمے انداز میں بولتا رخ دوسری جانب کر چکا تھا جبکہ اس کی بات سن کر کئی پل نورے اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی تھی پھر تلخ سا مسکرائی
” بہت خوب سردار ۔۔ اپنے سر سے بوجھ اتارنے کا بہترین راستہ چنا ہے آپ نے ۔۔ مجھے کسی کے کھونٹے سے باندھنے کا ۔۔ “
وہ لہجے میں تلخی لیے بولی تھی
” آپ کسی پر بھی بوجھ نہیں ہیں نورے ۔۔ آپ کا اس حویلی پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ میرا ۔۔ “
نورے کے تلخ انداز پر بھی عباس کا مخصوص نرم انداز قائم تھا
” ہرگز نہیں چھوٹے سردار ۔۔ میرا کیا مقابلہ آپ سے ۔۔ آپ سردار شیر دل کے اکلوتے وارث ہیں ۔۔ یعنی گاؤں اور حویلی کے سرداد ۔۔ اور میں ۔۔ مم میں تو اس حویلی کی وہ بیٹی ہوں ۔۔ جسے خاندانی اصولوں اور عزت کی خاطر قربان کر دیا جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔۔ “
نورے مزید تلخ ہوئی تھی کس قدر تکلیف دہ تھا اس کے لیے کسی اور کے ساتھ اپنا نام جوڑنا
” ایسا ہرگز نہیں ہے ۔۔ ٹھیک ہے اگر آپ رضامند نہیں ہیں اس نکاح پہ تو ٹھیک ہے یہ نکاح نہیں ہو گا ۔۔ “
عباس کے کہنے پر نورے کی آنکھوں میں نمی اتری تھی
” ہماری کیا مجال چھوٹے سردار کہ آپ کے فیصلے سے بغاوت کریں ۔۔ “
پلکیں جھپکائے وہ آنسوؤں کو بہنے سے روکتی بولی
” زندگی آپ کی ہے ۔۔ فیصلہ بھی آپ کا ہو گا ۔۔ آپ اگر نہیں چاہتی ایسا تو ٹھیک ہے نہیں ہو گا ۔۔ “
نورے کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ وہ نگاہیں جھکا کر بولا تھا
” ہم تیار ہیں نکاح کے لیے ۔۔ “
عباس کے جھکے سر کو دیکھتی وہ لمحے بعد بولی
“کسی قسم کا جبر نہیں کیا جائے گا آپ کے ساتھ ۔۔ آپ سوچ سمجھ لیں ہم نکاح کسی اور دن رکھ لیں گے ۔۔”
نورے کے اچانک بولنے پر عباس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو نورے نے اپنا رخ موڑ لیا
” اگر آپ بڑے سردار کو کہہ چکے ہیں کہ آج ہی نکاح ہوگا میرا تو ۔۔ پھر یہ بات کہنے کا کیا فائدہ ۔۔ جبکہ میں جانتی ہوں ۔۔ سرداد اپنی زبان سے نہیں پھرتا ۔۔ “
نورے طنزیہ انداز میں بولی تھی
” کسی کے احساسات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔ اگر آپ رضامند نہیں ہیں تو میں زبردستی نہیں کر سکتا آپ کے ساتھ ۔۔ “
نورے کے رخ موڑنے پر عباس بے چین ہوا تھا فوراً کہتا ہوا نورے کو منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگا
” میں ایک شرط پر نکاح کے لیے راضی ہوں گی ۔۔ “
وہ ہنوز اسی طرح کھڑی گویا ہوئی آواز بھیگی ہوئی تھی
” جی کہیے ۔۔ “
” آج ہی رخصت ہونا چاہتی ہوں ۔۔ “
چند لمحوں بعد جب وہ بولی تو عباس کو منجمد کر گئی
” نن نورے ۔۔ “
” اگر آج نہیں تو کبھی نہیں ۔۔ “
وہ کہتی ہوئی بھاگتے ہوئے آگے بڑھ گئی
” یا اللہ میری مدد کر ۔۔ “
طویل سانس لیتا وہ حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا
//////////////////////////
کپکپاتے ہاتھوں اور لرزتے دل سے اس نے نکاح نامے پر دستخط کرنے کے لیے قلم پکڑا وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے اپنی زندگی سونپ دی وہ کون ہے کیسا ہے کیا وہ جانتا ہے کہ اس کی بیوی کسی کو پہلے سے دل میں بسائے ہوئے تھی مگر نورے نے بہتے آنسوؤں کو سختی سے پونچھا
” خدا کو حاضر ناظر جان کر آج میں یہ نکاح کرتی ہوں ۔۔ خدا شاہد رہنا آج میں نے عباس نامی شخص سے صرف تیری رضا کی خاطر ہر دلی تعلق منقطع کر لیا ۔۔ تو مجھے اس مقام تک لایا کہ میں جان گئی محبت صرف تیری ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی ۔۔ کسی نامحرم کو دل میں بسانا میری غلطی تھی ۔۔ میرے مالک میں معافی مانگتی ہوں تجھ سے ۔۔ “
دل میں خالق سے مخاطب وہ نکاح نامے پر دستخط کر چکی تھی اور سرد آہ بھرتی آنکھیں میچ گئی
پاس کھڑی ناعمہ بی بی ساکن نگاہوں سے اسے دیکھ رہیں تھیں سفید سادے جوڑے میں سرخ دوپٹہ اوڑھے شفاف چہرہ کسی بھی آرائش و آسائش کے بغیر وہ کتنی سادہ دلہن تھی جس کی آنکھیں اس کے اندر چلتے طوفان کا پتہ دے رہیں تھیں کیا سوچا تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے اور کیا ہو گیا تھا کس حد تک چلی گئیں تھیں وہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کی خاطر کہ کسی بے قصور کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر چکیں تھیں عباس تو ان کی بیٹی کا پھر بھی نہ ہو سکا تھا جانے سردار شیر دل اور سردار بی بی کیوں خاموش تھے انہیں بھی تو عباس نے سرسری سا بتایا تھا کہ نورے کا نکاح کر کے اسے شہر کے لیے رخصت کر رہے ہیں اب سرداروں کے فیصلے کے آگے بولنے کی جرات وہ کہاں کر سکتیں تھیں
مگر ان کا دل عجیب گھٹن کا شکار ہو رہا تھا جیسے حُرّہ کے آنسو ، اس کی آہیں ان کا سانس روک دیں گیں نورے کو مبارک باد دینے کے بجائے انہوں نے باہر کی راہ لی
جبکہ سردار شیر دل نے آگے بڑھ کر نورے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ان کے بیٹے نے خاندان سے بغاوت کر کے یہ فیصلہ کیا تھا مگر وہ بیٹے کی دل دہلا دینے والی بات سے ڈر گئے تھے ایک واحد عباس کا سہارا ہی تو تھا انہیں اگر وہ کچھ لیتا خود کو تو کس سے شکوہ کرتے وہ جانتے تھے کہ عباس پہلے ہی اپنی بیوی اور بیٹی کی وجہ سے پریشان تھا جذبات میں آ کر کہیں کچھ غلط ہی نہ کر لے اسی لیے خاموشی سے عباس کا فیصلہ مان لیا بغیر کچھ کہے وہ بھی کمرے سے نکل گئے
جبکہ سردار بی بی خود بھی صدمے میں تھیں بچپن سے انہوں نے نورے کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھے تھے مگر انسان کے چاہنے نا چاہنے سے کیا ہوتا ہے جو خالق نے جس کے نصیب میں لکھ دیا ہو اسے وہی ملتا ہے پھر انسان کتنی ہی سازشیں ، مکاریاں کرتا رہے اسے حاصل کرنے کے لیے جو اس کی تقدیر میں ہوتا ہی نہیں وہ کبھی بھی نہیں ملتا نورے کو دیکھتی سردار بی بی وہیں کرسی کا سہارا لیے بیٹھ گئیں تھیں
” تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے “
( التکویر 29 )
/////////////////////////
نورے کی شرط کے مطابق وہ نکاح کے بعد اسے رخصت بھی کر چکا تھا مگر دل کو یہ بات اذیت دے رہی تھی کہ نورے کے جذبات کو کسی نے کبھی اہمیت نہیں دی تھی آج بھی اچانک اسے نئے بندھن میں باندھ کر اس نے پھر نورے کے ساتھ بظاہر زیادتی کی مگر وہ جانتا تھا عالیان ، نورے کے دل کو اپنی محبت سے جیت لے گا عالیان میں آتے بدلاؤ کو وہ نوٹ کر چکا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بدلاؤ نورے کی محبت میں آیا ہے
” حُرّہ کہاں ہیں آپ ۔۔ ؟؟ آئی مس یو جانم ۔۔ دعا کیسے رہتی ہو گی ۔۔ کہاں ہیں آپ دونوں ۔۔ پتہ ہے کتنا انتظار کرتا ہوں آپ دونوں کا ۔۔ آپ دونوں زندگی ہیں میری ۔۔ کیوں دور چلی گئیں ہیں مجھ سے ۔۔ کیا میں اچھا شوہر نہیں ہوں آپ کا ۔۔ کیوں حُرّہ کیوں نہیں مل رہیں آپ مجھے ۔۔ میرے خدا میری بیوی اور بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔ میں نے انہیں تیری ضمانت میں دیا ۔۔ میں جانتا ہوں ۔۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ وہ دونوں ٹھیک ہیں کیونکہ میرا دل اپنی رفتار پر چل رہا ہے ۔۔ آپ دونوں میری دھڑکن ہیں ۔۔ “
موبائل کی سکرین پر جگمگاتی کھلکھلاتی حُرّہ اور دعا کی تصویر کو چھوتے ہوئے وہ تخیر میں ان سے مخاطب تھا
” جانم آ جائیں نا ۔۔ اب تو سارے وسوسے دور ہو گئے ۔۔ اب تو کوئی گلٹ نہیں رہا کہ نورے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ نہیں رہا جاتا آپ کے اور دعا کے بغیر ۔۔ پلیز آ جائیں ۔۔ پلیز جانم ۔۔ “
جذبات سے چور انداز میں بولے ہوئے وہ آنکھیں میچ گیا
//////////////////////////
” آج کہاں گئی تھی حُرّہ تم ۔۔ ؟؟”
وہ ابھی کمرے میں داخل ہی ہوئی تھی کہ تہمینہ جو کہ دعا کو گود میں لیے بیٹھی تھی اسے دیکھتے ہی مخاطب کیا
” نوکری تلاش کرنے گئی تھی ۔۔ “
دوسری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے حُرّہ نے عام سے انداز میں جواب دیا
” ہم نے تمہیں منع بھی کیا تھا ۔۔ دعا ابھی چھوٹی ہے ۔۔ ایسے میں تم بچی کو چھوڑ کر نوکری کرو گی ۔۔ ؟؟ ہم ہیں نا ۔۔ اپنا بھی تو گزارا کرتے ہیں نا سلائی کر کے تمہاری روٹی کیا بھاری ہے ہم پہ ۔۔ “
خفگی سے کہتی ہوئی وہ حُرّہ کو بلکل بڑی بہن لگی تھی
” دعا کا مسئلہ نہیں ہے وہ تو آپ سب کے پاس رہ لیتی ہے ۔۔ اب کافی بہتر ہو گئی ہے شکر ہے ۔۔ لیکن میں ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے تو نہیں بیٹھ سکتی ۔۔ اگر آپ لوگوں کا ہاتھ بٹا دوں گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا میری شان میں ۔۔ “
حُرّہ نے بھی اس کو اسی کے انداز میں پچکارا تھا چند دن میں ہی فرحت بی اور تہمینہ کے اچھے اخلاق اور ہمدرد طبیعت نے انہیں آپس میں مانوس کر دیا تھا
” تو پھر کیا بنا نوکری کا ۔۔ ؟”
تہمینہ اندازہ لگا چکی تھی کہ حُرّہ خود دار لڑکی ہے وہ اپنے اخراجات کے لیے ان سے پیسہ نہیں لے گی اس لیے بات بدلتے ہوئے پوچھنے لگی
” ڈوکیومینٹس نہیں ہیں میرے پاس ۔۔ سب کچھ گاؤں میں ہے ۔۔ ظاہر ہے نوکری ملنا اس طرح مشکل ہے ۔۔ مگر ایک سکول میں گئی تھی میں ۔۔ انہوں نے کہا ایک ہفتہ دیکھیں گے پھر بتائیں گے ۔۔تو کل سے جاؤں گی پھر ۔۔ “
تفصیلاً بتاتے ہوئے حُرّہ چارپائی پر چٹ لیٹ گئی مگر اس کی باتوں کی آواز سن کر دعا نے ماں کے پاس جانے کے لیے شور مچا دیا تو تہمینہ اسے لیے حُرّہ کے پاس آئی اور اس کے برابر لٹا دیا
” دیکھو تو ماں کے پاس آ کر کیسے خوش ہو گئی ہے ۔۔ “
دعا کو کھلکھلاتے دیکھ کر تہمینہ مسکراتے ہوئے بولی اور کمرے سے چلی گئی جبکہ حُرّہ نے دعا کو اپنے سینے میں بھینچ لیا کتنی مشکل سے دعا سنبھلی تھی ورنہ کتنا یاد کرتی تھی وہ باپ کو کہ رو رو کر کئی روز بیمار رہی تھی
” میری گڑیا بھی بابا کو مس کرتی ہے نا ۔۔ بس ماما کی طرح آپ نے بھی صبر کر لیا ہے ۔۔ “
دعا کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چومتے ہوئے وہ بول رہی تھی
” بابا بھی مس کرتے ہوں گے۔۔ لیکن ہمیں ان کے لیے ہمیشہ دعا کرنی ہے کہ خدا ان کو خوش رکھیں ۔۔ ان کی حفاظت کریں ۔۔ “
عباس کو عقیدت سے یاد کرتے ہوئے وہ دعا کے ساتھ ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ اس کی باتیں سمجھ رہی ہے وہ ایسے ہی عباس کی باتیں دعا سے کرتی تھی آگے سے دعا کھلکھلاتی تھی
” جن ماؤں کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں نا دعا ۔۔ ان کی بیٹیوں کے نصیب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔!! مگر کہتے ہیں دعائیں تقدیریں بھی بدل دیتی ہیں ۔۔ اور ماں کی دعائیں تو عرش ہلا دیتی ہیں ۔۔ !! خدا کرے تمہارے نصیب بہت اچھے ہوں ۔۔ “
دعا کے بالوں کو سہلاتے ہوئے وہ بولی تو ایک آنسو پلکوں کی باڑ سے جھلک کر بالوں میں جذب ہو گیا
” میرے مالک کیا امتحان محض ہمارے لیے ہیں ۔۔ جو اتنا برا کرتے ہیں دوسروں کے لیے وہ تو اپنی زندگی میں مگن ہیں ۔۔ میں اور میری بچی ۔۔ !!”
بولتے ہوئے وہ سسک اٹھی تھی کہ بات مکمل نہ کر سکی پھر خود کو مضبوط کرتے ہوئے اس نے آنسو پونچھے
” میرے مالک ہر حال میں تیرا شکر ۔۔ “
طویل سانس لیتے ہوئے وہ بولی
” آپ کا صبر کسی کے لیے بددعا ہی ہوتا ہے ۔۔ وقت آنے پر ہر انسان اپنے کیے کا پا لیتا ہے ۔۔
صبر کرنا یا نا کرنا آپ کے اختیار میں ہے ۔۔
معاف کر دینا آپ کے اجر کو بڑھا دیتا ہے اور اس معافی کے بدلے میں ہو سکتا ہے کوئی انعام خالق نے آپ کے لیے رکھا ہو ۔۔
مگر بدلا لینے کا حق بھی آپ کو ہے ۔۔ لیکن اگر آپ صبر کر رہے ہیں تو بےشک وہ زیادہ افضل ہے ۔۔
کسی بھی صابر انسان سے ززیادہ بہادر کون ہو سکتا ہے ۔۔ صبر بذدل انسان کر ہی نہیں سکتا ۔۔ صبر تو بہادر لوگ کرتے ہیں ۔۔ جو خالق کی رضا میں راضی رہنا جانتے ہیں ۔۔
اپنے صبر پر پچھتائیں مت بس خدا پر چھوڑ دیں ۔۔
بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔ “
یہ سب سوچتے ہوئے اس کے دل میں سکون اترا
//////////////////////
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی وہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر اس کی بیوی کی حیثیت سے براجمان تھی خواب ایسے بھی پورے ہوتے ہیں عالیان نے سوچا بھی نہیں تھا سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے سب خواب لگ رہا تھا کہ ابھی آنکھ کھلے گی اور منظر بدل جائے گا مگر یہ حقیقت تھی وہ بہت خوش تھا کہ وہ لڑکی جسے اس نے چاہا وہ آج اسے زندگی میں شامل کر چکا تھا
گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے وہ وقتاً فوقتاً نگاہ نورے پر بھی ڈال لیتا تھا جو گاڑی کے دروازے کے ساتھ چپک کر سر جھکائے بیٹھی تھی دوسری جانب نورے بے حس و حرکت بیٹھی تھی اس کی سوچیں بلکل مفلوج ہو چکیں تھیں اس نے ایک نظر عالیان کو دیکھا تھا وہ پہچان گئی تھی اسے کہ وہ عباس کا دوست ہے مگر کسی طرح کی بات ابھی تک ان دونوں کے درمیان نہیں ہوئی تھی
طویل سفر کے بعد گاڑی ایک خوبصورت بنگلے میں داخل ہوئی عالیان گاڑی سے نکل کر نورے کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر ہاتھ بڑھایا نورے ساکن نگاہوں سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جو اسے منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
گود میں رکھا کپکپاتا ہاتھ عالیان کے ہاتھ پر رکھا ایک دلکش مسکراہٹ نے اس پل عالیان کے لبوں کو چھوا
عالیان کی تقلید میں وہ گھر میں داخل ہوئی سامنے عالیان کے ڈیڈ سوٹ بوٹ پہنے ان سے پہلے گھر پہنچ چکے تھے
” ویک کم میرے بچوں ۔۔ “
نورے کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ خوش دلی سے بولے
” ڈیڈ ۔۔ !”
ان کو پکارتا عالیان آگے بڑھ کر ان کے سینے سے لگ گیا
” جانتے ہو آج تم نے خوش کر دیا مجھے ۔۔ زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے ۔۔ ویل ڈن مائی سن ۔۔ ایسی ہی خاندانی لڑکی کو تمہاری زندگی میں چاہتا تھا میں ۔۔ “
بلند آواز میں بولتے ہوئے انہوں نے عالیان کی پیٹھ تھپکی جبکہ پاس سر جھکائے کھڑی نورے نے عالیان کے ہاتھ میں مقید اپنے ہاتھ کو کھینچنے کی کوشش کی مگر عالیان نے گرفت مزید مضبوط کر لی
” چلو اب بہو کو روم میں لے چلو ۔۔”
ان کے حکمیہ انداز میں کہنے پر عالیان نے سر ہلایا اور نورے کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھا
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جب وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال گلاب کی مہک نے کیا خوبصورت سجاوٹ کو دیکھ کر دونوں نفوس کے دل تیزی سے دھڑکے مڑ کر دروازہ بند کرکے وہ نورے کے قریب ہوا تو اس کی آنکھوں میں جذبات کی چمک دیکھ کر نورے کا ہاتھ جو کہ عالیان کے ہاتھ میں مقیم تھا کپکپا گیا
” جانتی ہو اس پل کا بہت انتظار کیا ہے میں نے ۔۔ !”
خمار آلودہ انداز میں کہتا وہ نورے کی کمر میں بازو حمائل کر چکا تھا جبکہ نورے کا لرزتا وجود اسے مزید بہکا رہا تھا جبکہ نورے بری طرح لرز رہی تھی
” بہت خوبصورت ہو تم ۔۔ بلکل اپنے نام کی طرح ۔۔ !”
اس کے لرزتے لبوں پر جھکتا وہ بوجھل انداز میں بولا
” پلیز اب یہ آنسو تمہاری آنکھوں میں نہ دیکھوں نورے ۔۔ “
لبوں کے بعد وہ اس کی بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو چنتا ہوا نہایت نرمی سے گویا ہوا اور رک کر اس کا سرخ چہرہ دیکھنے لگا
” میں جانتا ہوں سب بہت جلدی میں ہوا ۔۔ تمہارے لیے مشکل ہے سب کچھ قبول کرنا ۔۔ لیکن کوشش ہم دونوں کو کرنی ہے تاکہ ہم ایک کامیاب زندگی گزار سکیں ۔۔ ! “
نورے کے بالوں کو کان سے پیچھے کرتے ہوئے وہ گویا ہوا جبکہ نورے اس کی جسارتوں پر بے حال ہو رہی تھی نگاہیں اٹھانا اس کے لیے محال تھا بلاشبہ سامنے کھڑا شخص اس کے حواسوں پر سوار ہو رہا تھا
” لیکن نئی زندگی کو شروع کرنے کے نام پر میں تم پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کروں گا ۔۔ “
سنجیدہ انداز میں کہتا وہ نورے سے جدا ہو چکا تھا جبکہ اس کے پیچھے ہونے پر نورے نے اسے چونک کر دیکھا بےشک وہ اسے سمجھنے سے قاصر تھی
” تم ریسٹ کرو ۔۔ گڈ نائٹ ۔۔ “
مسکرا کر کہتے ہوئے وہ کوٹ کو اتارتا ٹیرس کی جانب بڑھ گیا جبکہ نورے منجمد وہیں کھڑی رہ گئی
///////////////////////
جاری ہے
