Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 4
جانے رات اس نے کیسے گزاری تھی کب تک روتی رہی تھی ، سسکتی رہی تھی ، کبھی ماں کو پکارتی رہی ، کبھی اپنے بابا کو یاد کر کے دھاڑیں مار کر روتی رہی ، کبھی تایا تائی کی کیں گئیں زیادتی یاد آتی رہیں ، کبھی ہر بار دل مارنا یاد آتا رہا ، کبھی خواہشات کا دل میں دبانا یاد آ رہا تھا تو کبھی خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کا اعزاز یاد آ رہا تھا ، کبھی سردار بی بی کی حقارت اور نفرت انگیز رویہ یاد آ رہا تھا تو کبھی ناہید کا تشدد ، کبھی نورے کی بے چین اور اضطرابی کیفیت یاد آ رہی تھی ، تو کبھی نام کے شوہر کی بے خبری ، کبھی ماں کا بچھڑنا یاد آ رہا تھا تو کبھی ماں کو آخری بار نہ دیکھنے کا افسوس ہو رہا تھا
انسانی فطرت ہے جب ایک دکھ ملتا ہے تو پچھلے سارے دکھ بھی تازے ہو جاتے ہیں کچھ یہی معاملہ حُرّہ کے ساتھ بھی ہوا تھا آج تو ہر تکلیف ، ہر اذیت یاد آ رہی تھی
وجود پر تو زخم تھے ہی اس کے اب روح ہی چھلنی تھی دکھ اتنے تھے کہ کبھی کبھی روتے ہوئے اس کی سانس ہی رک جاتی تھی اس وقت وہ سمجھتی کہ شاید اب مشکل ٹلنے والی ہے مگر پھر سے جب سانسیں بحال ہوتیں تو حُرّہ کو سمجھ نہ آتی کہ زندگی بخشنے پر شکر ادا کرے یا موت نہ واقع ہونے پر افسوس کرے جب کوئی مرتا ہے تو لوگ اس کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہیں اور کوئی گلے لگا کر دلاسہ دیتا ہے تو کوئی صبر کی دعا
مگر ہائے افسوس کہ حُرّہ اپنی زندگی میں اس قدر تکلیفیں ، رنجشیں ، اذیتیں اور محرومیوں سے گزر چکی تھی کہ اب جینے کی آرزو مٹ چکی تھی جہاں اس کی عمر کی لڑکیاں رنگوں سے بھرپور زندگی گزار رہی ہوتی ہیں اس عمر میں وہ فقط زمانے کی ستم ظریفی سہہ رہی تھی
جانے رات کے کس پہر وہ روتی ، سسکتی زمین پر سر رکھے لیٹی تھی اور پھر نیند اس کے حواس پر طاری ہوئی تھی پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا صدمے کے باعث سر میں اور سارا دن مشقت بھرے کام کرنے کی وجہ سے جسم میں شدید درد کی لہریں اٹھ رہیں تھیں پھر اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے ہلا رہا ہے کچھ بول بھی رہا ہے مگر اس نے بہت کوشش کی آنکھیں کھولنے کی اور ہونٹ وا کرنے کی مگر نہ آنکھیں کھولنے کی سکت رہی نہ حلق سے آواز نکلی
معمول کے بر خلاف صبح حُرّہ کو باورچی خانے میں نہ پا کر ناہید نے ملازمہ کو پتہ کرنے کا کہا
” یہ مہارانی ابھی تک آئی کیوں نہیں ۔۔ ؟ لگتا ہے آج پھر اکڑ آ گئی ہے اس میں ۔۔ جا ذرا بولا کر لا اسے ۔۔ آج تو ساری کی ساری اکڑ نکالتی ہوں میں اس کی ۔۔ “
ماتھے پر بل ڈالے ملازمہ کو کہا تو وہ بھاگتی ہوئی حُرّہ کے کمرے میں آئی دروازہ کھول کر دیکھا تو حُرّہ زمین پر سکڑی سمٹی گٹھڑی بنی پڑی تھی ملازمہ نے اسے ہلایا اسے پکارا مگر اس کا بخار میں تپتا وجود بے حس وحرکت تھا ملازمہ فوراً الٹے قدم ہو لی
” وہ ناہید بی ۔۔ وہ لڑکی تو بخار میں تپ رہی ہے ۔۔ بے ہوش پڑی ہے ۔۔ رنگ پیلا زرد ہو گیا ہے جی اس کا ۔۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے مرنے کے قریب ہے ۔۔ “
ناہید حویلی کے صحن کی جانب بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے ہانپتی ہوئی ملازمہ آئی اور حُرّہ کی حالت کی بابت بتانے لگی
” اے کیا بکواس کر رہی ہے کل تک تو بلکل ٹھیک ٹھاک تھی ۔۔ ایک رات میں کیا ہو گیا ۔۔ تو رک میں خود جاتی ہوں ۔۔ بہانے کر رہی ہو گی ۔۔”
ناہید ملازمہ کی بات سنتے ہی اپنی کہتی ہوئی سٹور کی جانب بڑھی جب سردار بی بی کی آواز دینے پر اس کے قدم رک گئے
” رہنے دے ناہید ۔۔ ایک دو دن چھوڑ دے اسے ۔۔ جب ٹھیک ہو جائے تو دوگنا کام کروانا اس سے ۔۔ “
سردار بی بی زینے اترتے ہوئے کرخت آواز میں کہہ رہیں تھیں
” جو حکم بی بی ۔۔”
ان کی بات پر ناہید نے سر ہلایا جب وہ دوبارہ بولیں
” اور یہ بات یاد رکھی ناہید وہ مرنی نہیں چاہیے ۔۔ کیونکہ میں اسے اپنی نظروں کے سامنے سسکتا ہوا ہر پل دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔”
ان کے لہجے میں حقارت اور نفرت جھلک رہی تھی ناہید ان کی بات سمجھتی جی کہتی آگے بڑھ گئی
حُرّہ کے کمرے میں حویلی کی حکیمہ کو لے کر گئی اس نے حُرّہ کی حالت دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا مگر ناہید کے گھورنے پر سر جھکا گئی اور حُرّہ کے ماتھے پر حرارت کم کرنے کی غرض سے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی
مگر دو دن وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ رہی تھی اس دوران وہی حکیمہ اس کا علاج کرتی رہی جب کچھ کھانے پینے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوئی تو حویلی سے بلاوا آ گیا
حُرّہ آنسو دل پر گراتی پھر سے اپنے معمول پر آ گئی یہ بات تو طے تھی اسے اپنے حصے کے غم مکمل کر کے ہی دنیا سے جانا تھا اور وہ بے حس بنی ایک نظر آسمان کی جانب سر اٹھا کر حسرت بھری نگاہ ڈال کر کام میں لگ گئی
//////////////////////////
آج پھر وہ ساری رات بے چین رہا تھا نیند تو اسے اس سانحے کے بعد ویسے بھی نہیں آتی تھی اور پچھلے کچھ دن سے کیس میں الجھنے کے باعث وہ ٹھیک سے سو ہی نہیں پاتا تھا مگر آج حویلی میں تو اس کا دل عجیب طرح بے چین ہو رہا تھا کتنی ہی دیر بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں چکر کاٹتا رہا مگر بے چینی اور بے سکونی بڑھتی ہی جا رہی تھی جب اضطرابی کیفیت برداشت سے باہر ہوئی تو عباس وضو کی غرض سے واشروم کی سمت بڑھا نماز شب پڑھ کر کچھ اضطرابی کیفیت کم ہوئی پھر کپڑے بدل کر اپنا لیپ ٹاپ اور کچھ کیسیز کی فائلز اٹھائیں اور پہلے کمرے سے نکلا پھر تیز تیز قدم اٹھاتا حویلی سے ہی نکل گیا اسے لگا تھا اتنے دن سے جو بے چینی ہے وہ شاید حویلی جا کر کچھ بہتر ہو جائے مگر پتہ نہیں کیوں حویلی میں تو وہ زیادہ بے چین ہو رہا تھا
اپنی گاڑی نکال کر اس نے کسی بھی گارڈ یا شہزاد کو ساتھ لینے کے بجائے خود گاڑی ڈرائیو کی اور شہر پہنچنے تک سورج نکل آیا تھا اپنے بنگلے میں پہنچ کر اس نے تھوڑا آرام کیا پھر فریش ہوکر ایس پی احمد کے پاس جا پہنچا جہاں ایس پی احمد کے علاوہ ان دونوں کا مشترکہ دوست عالیان بھی موجود تھا
” عباس میرے بھائی۔۔ حوصلہ رکھ یار ۔۔ تیرے جیسے صابر بندے کو اس طرح دیکھ کر دکھ ہوتا ہے یار مجھے ۔۔ پلیز خود کو سنبھال ۔۔”
گم سم بیٹھے عباس کو عالیان نے مخاطب کیا تو محض عباس سر ہلا کر پھر سے لیپ ٹاپ پر جھک گیا
احمد اور عالیان نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا
” قاتل جلد مل جائیں گے ہمیں ۔۔!”
احمد نے دھیمی آواز میں اسے تسلی دی
” کاٹ رہی ہے مجھے یہ بات میں اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔۔ “
عباس نے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے قرب کی کیفیت میں کہا جبکہ احمد اور عالیان اس کی آنکھوں کی نمی باخوبی دیکھ چکے تھے
” خود کو قصوروار مت سمجھ یار ۔۔ تجھے ایسے دیکھ کر تکلیف ہو رہی ہے ہمیں ۔۔ تو ہم تینوں میں سب سے زیادہ حوصلے ، ہمت والا ، صبر والا بندہ ہے اور اب تجھے ایسے دیکھنا آسان نہیں ہے ہمارے لئے۔ ۔”
عالیان نے عباس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو عباس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
” یہ دکھ ایسا ناسور ہے میری زندگی کا جو قبر تک میرے ساتھ جائے گا ۔۔”
قرب سے کہتے ہوئے عباس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی
پھر کمرے کی فضاء میں خاموشی چھا گئی وہ دونوں جانتے تھے عباس جیسے غیرت مند مرد کے لیے اپنی بہن کے ساتھ ہوئے ظلم کے بعد کیا گزر رہی ہو گی یا شاید ہر محبت و پیار کرنے والے بھائی کا عباس جیسا ہی حال ہوتا ہو گا
وہ تینوں الگ الگ پیشے سے تعلق رکھتے تھے عباس وکالت ، عالیان بزنس اور احمد ایس پی تھا وہ تینوں کالج کے زمانوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے تینوں میں ایک بات مشترک تھی کہ تینوں محنتی بہت تھے امیر کبیر جاگیردار ہونے کے باوجود عباس تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے پیشے میں آیا جبکہ عالیان بھی رئیس باپ کا بیٹا تھا اور رئیسوں والے کچھ شوق اس میں بھی پائے جاتے جو کہ عباس اور احمد سے دوستی کے باوجود ہنوز قائم تھے احمد ، عباس اور عالیان کی طرح امیر نہیں تھا مگر اپنی محنت کے باعث اچھے عہدے پر تھا
چار پانچ دن گزر گئے تھے اسے شہر آئے ہوئے وہ اپنے آفس میں اپنی کرسی پر براجمان ، کیس کی فائل پر جھکا ملاحظہ فرما رہا تھا جب عالیان اور احمد اسے لنچ پر ساتھ لے جانے کے لیے آ پہنچے
فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانے کے بعد جب تینوں بیٹھے باتوں میں مشغول تھے کہ اچانک عباس نے تھکاوٹ کے باعث کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں مگر اسے معلوم ہی نہیں پڑا اس کی آنکھ لگ گئی عالیان اور احمد ، عباس کو آنکھیں موند کر لیٹا دیکھ کر دھیمی آواز میں باتیں کرنے لگے
بمشکل تین سے چار منٹ بعد عباس یکدم آنکھیں کھول کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
” عباس تو ٹھیک ۔۔؟”
احمد نے بے چینی سے پوچھا
” ہاں ۔۔”
سرسری سا جواب دے کر اب عباس اپنے کالے کوٹ کے بٹن کو بند کرتا اپنا موبائل اور چابیاں میز سے اٹھا کر خود بھی اٹھا اور ان دونوں کو خدا حافظ کرتا ہوٹل سے نکل گیا
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے کچھ سوچ کر گاڑی اسٹارٹ کی اور حویلی کی سمت گاڑی بڑھانے لگا بہت آہستہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے جب وہ حویلی پہنچنا تو ہر سو رات کی تاریکی چھا گئی تھی چوکیدار نے عباس کی گاڑی کو آتے دیکھ کر حویلی کو گیٹ کھول دیا عباس کو گاڑی سے نکلتا دیکھ کر سب گارڈز الرٹ ہو گئے عباس ایک سخت نگاہ گارڈز اور نوکروں پر ڈال کر آگے بڑھنے لگا جب شہزاد سرعت سے اس تک پہنچا
” چھوٹے سرکار میرے لیے کوئی حکم ۔۔؟؟”
عباس کے پیچھے چلتے ہوئے شہزاد نے ہاتھ باندھے مؤدبانہ کہا تو عباس نے ہاتھ کے اشارے سے انکار کیا اور حویلی کے اندر چلا گیا
لاؤنج میں داخل ہوا تو اس وقت تقریباً حویلی کے تمام مکین وہاں موجود تھے چند ایک ملازم بھی سر جھکائے کھڑے تھے عباس کو آتا دیکھ کر سردار بی بی نے اٹھ کر اپنے بازو پھیلا لیے عباس ماں سے مل کر باپ سے ملا اور بلند آواز میں سلام کیا ناعمہ ہمدانی اور نورے نے ہلکا سا مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیا
” بیٹی کی جدائی برداشت کر لی میں نے ۔۔ تمہارا کئی کئی دن حویلی سے دور رہنا نہیں سہا جاتا میرے شیر ۔۔ “
جب وہ سردار بی بی کے ساتھ براجمان ہوا تو وہ اس کے سینے سے لگتیں شکوہ کرنے لگیں
” آپ جانتی ہیں میرے سارے کام ہوتے ہی شہر میں ہیں ۔۔ اس لیے وقت نہیں ملتا ۔۔ “
عباس نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئی
” سچ کہو نا کہ ماں سے زیادہ ۔۔ شہر کی فضاء پسند ہے تمہیں ۔۔ “
سردار بی بی ایک مرتبہ پھر شکوہ کناں تھیں
” ماں مجھے آفس جانا ہوتا ہے ۔۔ اب روز زور تو میں اتنے لمبے سفر طے کرنے سے قاصر ہوں ۔۔”
عباس نے صفائی دیتے ہوئے کہا جبکہ نورے کی دلکش نگاہیں عباس کی سمت ہی تھیں وہ نظروں کے ذریعے جیسے اسے دل میں اتار رہی تھی
” چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب ۔۔ ارے ہمیں کسی چیز کی کمی ہے کیا ۔۔؟ ہماری نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں ہیں اتنے سرمائے تو ہیں ہمارے ۔۔”
اس مرتبہ سردار شیر دل نے بیٹے کو کہا جبکہ ان کی بات پر عباس سرد آہ بھر کر رہ گیا بیشک یہ لمبی بحث تھیں اور عباس کو بحث سے چڑ تھی اسی لیے خاموش ہونے میں ہی بہتری جانی
” اے ناہید ۔۔ دسترخوان لگا ۔۔ پتہ نہیں کچھ کھایا بھی ہے میرے بیٹے نے ۔۔ “
کچھ دیر بعد سردار بی بی نے کچھ فاصلے پر کھڑی ناہید کو مخاطب کیا
” میں کھانا نہیں کھاؤں گا کیونکہ لنچ کافی لیٹ کیا تھا میں نے ۔۔ بس چائے بھجوا دیجئے میرے کمرے میں ۔۔ “
ماں کو دیکھتے ہوئے عباس نے آہستگی سے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا
” ٹھیک ہے میرے شیر تم آرام کرو چائے بھجواتی ہوں میں ۔۔!”
سردار بی بی نے اپنے بیٹے کو دل میں ہزاروں دعائیں دیتے ہوئے کہا جبکہ عباس سر ہلاتا لاؤنج سے نکل کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
” اے ناہید اس لڑکی کو بولا ۔۔”
عباس کے جانے کے بعد سردار بی بی نے پھر سے ناہید کو حکم دیا اور پھر اگلے دو منٹوں میں حُرّہ سر جھکائے ان کے سامنے کھڑی تھی
” اے لڑکی چائے بنا کر لے کر جا سردار کے لیے ۔۔ “
دماغ میں چلتی سازش کے تحت انہوں نے حُرّہ پر حکم صادر کیا جسے سنتے ہی حُرّہ کی آنکھیں خوف کے باعث پھیل گئیں جبکہ نورے نے بےیقینی سے سردار بی بی کو دیکھا
” اسے مت بھیجو ۔۔ ! وہ پہلے ہی آج کل غصے میں رہتا ہے ۔۔ اسے دیکھ کر پتہ نہیں کیا کر بیٹھے ۔۔ “
سردار شیر دل نے حقارت سے چادر میں اچھی طرح لپٹی ہوئی حُرّہ کو دیکھتے ہوئے کہا
سردار بی بی یہی تو چاہتیں تھیں کہ عباس اپنا غصہ اس لڑکی پر نکالے تاکہ ان کے دل کو سکون پہنچے اور شاید عباس بھی اپنی بھڑاس نکالے وہ جانتی تھی عباس کو غصہ بہت کم آتا ہے مگر جب آتا ہے تو وہ کسی کو نہیں بخشتا تھا اور آج کل تو وہ جس ذہنی پریشانی سے گزر رہا تھا اس دوران گارڈز اور ملازمین بھی اس کے عتاب کا شکار ہو رہے تھے پھر یہ لڑکی کیسے بچ سکتی تھی
” ہممم ۔۔”
سردار شیر دل کی بات سے انکار بھی وہ نہیں کر سکتی تھیں اس لیے خاموش ہو گئیں جبکہ سردار شیر دل اٹھ کھڑے ہوئے اور لاؤنج سے نکل گئے
” ناہید تم دے آؤ عباس کو چائے۔۔ اور تم لڑکی پاؤں دباؤ میرے “
ان کے جاتے ہی سردار بی بی نے پہلے ناہید کو کہا اور پھر حُرّہ کو حکم دیا حُرّہ دل میں شکر ادا کرتی سردار بی بی کے پاس آئی اور فرش پر بیٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگی
//////////////////////////
وہ کمرے میں آنے کے بعد اپنا سیاہ کوٹ اتارنے کے بعد صوفے پر ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر بیٹھا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی
” کون ۔۔؟”
آنکھیں بند کیے ہی اس نے سرد انداز میں پوچھا
” مم میں ۔۔ نن ناہید ۔۔ چائے لے کر آئیں ہوں سرکار ۔۔”
عباس کی کرخت آواز سن کر ناہید بمشکل بول سکی
” آ جاؤ ۔۔ !”
ہنوز آنکھیں موندے اس نے اجازت دی جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی ناہید نے عباس کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا وہ جلدی جلدی میز پر چائے کا کپ رکھ کر جانے لگی
” اس لڑکی کو بھیجو میرے کمرے میں۔۔ “
ہنوز آنکھیں بند کیے اس نے کمرے کے وسط میں کھڑی ناہید کو اپنی مخصوص بھاری آواز میں حکم دیا تو ناہید ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
” کک کون سی لڑکی سرکار ۔۔؟؟”
عباس کی بند آنکھوں کو دیکھتی ناہید نے ناسمجھی سے پوچھا اس کی بات پر عباس نے آنکھیں کھولیں اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
” اوہ و وہ خون بہا میں آئی لڑکی ۔۔؟”
عباس کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر ناہید کی زبان سے پھسلا جواباً عباس نے اسے سخت نگاہوں سے دیکھا تو ناہید کانپ گئی
” جج جی جو حکم سرکار ۔۔ مم میں ابھی لے کر آتی ہوں اسے ۔۔”
سر جھکا کر ناہید بولی اور الٹے قدموں کمرے سے باہر نکلی تقریباً بھاگتی ہوئی وہ لاؤنج میں پہنچی جہاں سردار بی بی نورے سے بہت پیار سے بات کر رہیں تھیں
” اے تیرے پیچھے کون لگ گیا جو تو ہانپی پڑی ہے ۔۔ “
ناہید کو لاؤنج میں آتا دیکھ کر سردار بی بی نے قدموں میں بیٹھی حُرّہ کو ٹھوکر مارتے ہوئے پیچھے کیا اور ماتھے پہ بل ڈالے ناہید سے پوچھنے لگیں جو کہ زمین پر بیٹھی حُرّہ کو دیکھ رہی تھی
” وہ سردار بی بی ۔۔ وہ جی اس لڑکی کو ۔۔ چھوٹے سردار نے بلایا ہے ۔۔”
وہ حُرّہ کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولی تو لاؤنج میں سکوت چھا گیا سردار بی بی کے ماتھے پر شکن بڑھے جبکہ حُرّہ نے اپنی چادر کے پلو کو مٹھی میں جکڑ لیا اور نورے کی تو جیسے سانسیں رکنے لگیں
” کیا بکواس کر رہی ہو یہ تم ۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ چھوٹے سردار اس لڑکی کی شکل بھی دیکھنا گوارہ کریں ۔۔ “
نورے دل کو قابو کرتی غصے میں ناہید کو دیکھتی غرائی اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا
” ہماری مجال کہ ہم کچھ اپنے پاس سے کہیں چھوٹی بی بی ۔۔ سرکار کے حکم کے غلام ہیں ہم ۔۔ “
ناہید نے ہاتھ باندھے ہوئے کہا تو ناعمہ ہمدانی نے بیٹی کے ہاتھ کو تھام کر خاموش ہونے کا اشارہ کیا
” نورے سنبھالو خود کو ۔۔ !”
” نورے میری جان ۔۔ خود کو پریشان مت کرو ۔۔ یقیناً عباس اس لڑکی کو اوقات میں ہی رکھے گا ۔۔ خون بہا میں آئی کی حیثیت وہ اچھی طرح جانتا ہے ۔۔ کبھی بیوی کی حیثیت نہیں دے گا اسے ۔۔ یہ مرتے دم تک خون بہا میں آئی لڑکی ہی کہلائے گی ونی ہی رہے گی ۔۔اور بہت جلد تم بنو گی ہمارے بیٹے کی دلہن تمہارے سے نسل بڑھے گی اس کی وہ یہ بات باخوبی جانتا ہے ۔۔ آخر کو سردار ہے وہ ۔۔ “
سردار بی بی ، نورے کا سرخ چہرہ اور آنکھیں دیکھتی ہوئیں باقاعدہ حُرّہ کو جتاتے ہوئے بولیں تو حُرّہ کا جھکا سر مزید جھک گیا جبکہ نورے کو ان کی بات سن کر بھی تسلی نہیں ہوئی وہ تو کسی اور لڑکی کا سایہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی عباس کے ساتھ
” مگر سردار بی بی۔۔”
” نورے یقین رکھو بیٹا ہم پہ ۔۔”
نورے کی بات کاٹ کر پھر سے سردار بی بی گویا ہوئیں تو نورے محض بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گئی
” اے لڑکی سن ۔۔ اپنی حیثیت کبھی نہ بھولی ۔۔ اور اس بات پر زیادہ خوش مت ہو کہ سردار نے تجھے بلوایا ہے ۔۔ کیونکہ ونی مرتے دم تک ونی ہی رہتی ہے بیوی کی حیثیت تجھے کبھی نہیں ملے گی ۔۔ تجھ جیسی خون بہا میں آئی ہوئی کے نصیب میں ایک آدھ رات ہی آتی ہے جو سائیوں کا دل بہلانے یا انتقام کی غرض سے بخشی جاتی ہیں ۔۔ اور فکر نہیں کرو نورے اول تو عباس اس جیسیوں کو منہ ہی نہیں لگاتا اور اگر لگا بھی لے تو اس کی حیثیت رکھیل سے زیادہ نہیں ہوگی اس کی زندگی میں ۔۔”
حُرّہ کو نفرت سے دیکھ کر کہتے ہوئے آخری بات انہوں نے نورے کو مخاطب کر کے کہی اور پھر ناہید کو اشارہ کیا ناہید نے حُرّہ کا بازو جکڑا اور اسے لے کر عباس کے کمرے کی سمت ہو لی جبکہ حُرّہ کپکپاتے ہوئے ناہید کے پیچھے چلنے لگی
” چادر صحیح سے لے اور خبردار اگر اپنی ادائیں دکھائیں تو نے سرکار کو ۔۔ “
تیز تیز چلتے ناہید نے حُرّہ کا بازو سختی سے دبا کر دھمکی دی تو حُرّہ کی خوف کے باعث آنکھیں بھیگنے لگیں
” ان آنسوؤں سے سردار نہیں پگھلنے والے ۔۔ جان سے پیاری بہن مری ہے ان کی ۔۔ قاتل کے خاندان سے نفرت کرتے ہیں وہ ۔۔ ان کے سامنے آنسو بہانے کی غلطی مت کرنا ۔۔ “
اس بار رک کر حُرّہ کے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے اس نے دھمکی دی تو حُرّہ آنسو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی عباس کے کمرے کے دروازے کے سامنے رک کر دستک دینے کے بعد وہ اجازت ملنے کا انتظار کرنے لگی
عباس چائے کے دو گھونٹ بھرنے کے بعد کپ میز پر رکھ کر ایک مرتبہ پھر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر اپنا سر ہاتھ کہ انگلیوں سے ہلکا ہلکا دبانے لگا جب کچھ دیر بعد دستک ہوئی
” آ جاؤ ۔۔”
کرخت آواز میں آنے والے کو اجازت دی تو ناہید ، حُرّہ کا بازو تھام کر اسے اپنے ساتھ لیے کمرے میں داخل ہوئی عباس ہنوز سر دباتے ہوئے آنکھیں بلند کیے بیٹھا تھا
” سرکار یہ آ گئی ہے ۔۔ کوئی اور حکم ۔۔ ؟”
ناہید نے حُرّہ کا بازو چھوڑتے ہوئے نہایت ادب سے پوچھا جبکہ حُرّہ خوف کے مارے سر ہی نہیں اٹھا رہی تھی
” نہیں ۔۔ جاؤ ۔۔!”
عباس کے سرد انداز میں کہنے پر ناہید دروازے کی جانب مڑی اور کمرے سے نکل کر دروازہ بند کر دیا جبکہ حُرّہ کو اپنے جسم سے جان نکلتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا چند پل کمرے میں خاموشی چھائی رہی تو حُرّہ نے لرزتی پلکوں کے جھالر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں سردار عباس ہمدانی آنکھیں بند کیے بیٹھا اپنا سر دبا رہا تھا کالی پینٹ ، سفید شرٹ پہنے آستین کہنیوں تک موڑے ، کسرتی جسامت اور سفید رنگت ، سیاہ بال داڑھی بڑھی ہوئی وہ ایک خوبصورت اور وجہہ مرد تھا ایک پل کو حُرّہ کی نگاہ اس پر ٹھہر سی گئی دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہوئی تھی حُرّہ نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے فوراً نگاہیں جھکا لیں
چند پل سرکے تھے جب عباس نے بوجھل آنکھیں وا کیں اور نگاہوں کا رخ دروازے کے ساتھ چپکی حُرّہ کی جانب کیا
میلے سے کالے جوڑے میں کالی بڑی سی چادر سے اپنے آپ کو چھپائے سر جھکائے کھڑی وہ شاید کانپ رہی تھی چادر نے اس کا آدھا چہرہ بھی احاطے میں لیا ہوا تھا عباس اس کا سرسری سا جائزہ لے رہا تھا جبکہ حُرّہ عباس کی گہری نگاہوں سے مزید گھبرا گئی اور مزید چادر میں سمٹنے لگی
” نام کیا ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ کی لرزتی پلکوں پر اپنی تھکان سے بوجھل آنکھیں جمائے اس نے سرد انداز میں پوچھا
” کک کس کا ۔۔؟”
ہنوز آنکھیں جھکائے حُرّہ نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا اس کے لہجے میں نا سمجھی تھی دراصل عباس کی نگاہیں اسے گھبرانے پر مجبور کر رہیں تھی
” آپ کا ۔۔ !”
ہنوز سرد انداز میں پوچھا گیا حُرّہ کی غائب دماغی پر عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری تھی
” حح حُرّہ ۔۔ “
کپکپاتی آواز میں بولتے ہوئے حُرّہ نے اپنی چادر کو سر سے مزید ماتھے پر کیا عباس اس کی حرکت کو بغور دیکھ رہا تھا
” حُرّہ ۔۔ ! یہ کیسا نام ہے ۔۔؟ کیا مطلب ہے حُرّہ کا ۔۔ ؟”
نام واقعی عباس نے پہلی مرتبہ سنا تھا اس لیے اسے دلچسپی ہوئی جبکہ چند پل حُرّہ خاموش رہی عباس کو لگا اسے اپنے نام کا مطلب نہیں آتا اس لیے خاموش ہو گئی
” آزاد عورت ۔۔ !”
الفاظ ادا کرتے ہوئے حُرّہ کی آواز بھیگ گئی ناہید کی دھمکی یاد کرتے ہوئے اس نے بمشکل آنکھیں جھپکا کر اپنے آنسو نکلنے سے روکے
” حُرّہ مطلب ۔۔ آزاد عورت ۔۔”
عباس نے دہراتے ہوئے تمسخرانہ ہنسی لبوں پر سجائی جبکہ اسی پل حُرّہ نے نگاہیں اٹھا کر عباس کو دیکھا عباس کا یوں ہنسنا وہ سمجھ گئی تھی کیونکہ وہ تو اس کی قید میں تھی اپنے نام کے بلکل الٹ
” عمر کیا ہے ۔۔؟”
حُرّہ کے وجود سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے عباس نے اگلا سوال کیا
” ا انیس سال ۔۔”
جواب دیتے ہوئے حُرّہ نے پھر سے نگاہیں جھکا لیں جبکہ عباس نے پھر سے نگاہوں کا رخ حُرّہ کی جانب کیا اور اسے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا اسے وہ کم عمر لگ رہی تھی
” پڑھتی تھی ۔۔ ؟”
عباس کے’ تھی ‘ کہنے پر حُرّہ نے چونک کر اسے دیکھا
” جج جی ۔۔”
وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا اب کہاں وہ پڑھ سکے گی
” کیا ۔۔ ؟”
” بی اے ۔۔!”
عباس کے اگلے سوال پر حُرّہ نے جواب دیا تو عباس چند پل خاموش رہا جبکہ حُرّہ بھی سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی رہی اسے عباس کا یوں سوال پہ سوال کرنا عجیب لگ رہا تھا اور پھر اس کا انداز اتنا سرد تھا اور نگاہیں اتنی گہری تھیں کہ حُرّہ دل میں خدا سے رحم کی دعائیں مانگنے لگی
” یہاں آئیں ۔۔ !”
عباس نے حکمیہ انداز میں کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں جبکہ عباس کے حکم پر حُرّہ لرز گئی مگر ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اس کے پاس تبھی مردہ چال چلتی عباس کے قریب پہنچی
” بیٹھیں ۔۔!”
ہنوز آنکھیں موندے عباس نے اگلا حکم دیا تو حُرّہ لرزتے ہوئے عباس کے قدموں میں بیٹھ گئی اسی پل عباس نے آنکھیں وا کیں حُرّہ کو اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھ کر ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا اور سرعت سے ہاتھ بڑھا کر حُرّہ کی کلائی اپنے سخت شکنجے میں لی اور اپنی جانب کھینچا اچانک افتاد پر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی عباس کے سینے سے مس ہونے کے بعد وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنے اور عباس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ قائم کر گئی جبکہ لرزتا ہاتھ ابھی بھی عباس کے شکنجے میں تھا عباس ہنوز نگاہیں اس پر جمائے ہوئے تھا جب موبائل کی ٹون بجی
” میں حویلی میں ہوں ۔۔ “
کال اٹینڈ کرتے ہی دوسری جانب سے کچھ پوچھا گیا تھا جس کا جواب عباس نے دیتے ہوئے حُرّہ کو دیکھا جو کہ رخ موڑے شاید رو رہی تھی
” ٹھیک ہوں ۔۔”
دوسری جانب موجود عالیان نے اس کا حال پوچھا تھا یقیناً اسے عباس کی فکر تھی جبکہ عباس ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرے سے حُرّہ کی کلائی جکڑے ہوئے تھا
” دیکھ غم بھلانے کے دو طریقے ہیں ایک شراب اور دوسرا شباب ، اور تو ان دونوں چیزوں سے فاصلہ رکھتا ہے ۔۔ تبھی تیری یہ حالت ہے۔۔ میں نے تو تجھے کہا تھا ایک سپ لے گا تو سب بھول جائے گا ۔۔ یا پھر ششب ۔۔ “
ابھی وہ آگے کچھ بولتا اس سے پہلے عباس نے کال کاٹ دی اور موبائل میز پر پٹخا اس کی اس حرکت پر حُرّہ کانپ گئی اور اپنی کلائی اس کی آہنی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ عباس کے دماغ میں عالیان کی باتیں گردش کر رہیں تھیں
” چچ چھوڑ دیں مجھے ۔۔ “
حُرّہ کی لرزتی آواز پر عباس نے چونک کر اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ دیکھا اگلے پل عباس نے اس کی کلائی چھوڑ دی اور اٹھ کھڑا ہوا دروازے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے وہ اپنی شرٹ کر بٹن کھول رہا تھا جبکہ حُرّہ اپنی کلائی کو سہلاتی ہوئی پھٹی آنکھوں سے عباس کو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ رہی تھی عباس نے دروازہ لاکڈ کیا اور پھر سے حُرّہ کی جانب بڑھا اس دوران وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا صوفے سے چپکی حُرّہ کو اپنی باہوں میں لے کر جب وہ بیڈ پر لایا تو حُرّہ نفی میں سر ہلانے لگی
” نن نہیں ۔۔ پلیزز رر رحم کریں ۔۔ رحم کریں سرکار ۔۔”
عباس کو اپنی چادر کھینچتے دیکھ کر حُرّہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ التجا کرنے لگی
” ششش سکون چاہیے فی الحال مجھے ۔۔ “
حُرّہ کے اپنے سینے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے اس کا چہرہ اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھا
ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی روشنی بھی بند کر دی کمرے میں تاریکی چھا گئی جبکہ حُرّہ نے مزاحمت کرنا بھی چھوڑ دی تو عباس نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے حُرّہ نے ایک ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے عباس کے سینے کے بالوں کو سختی سے پکڑ لیا اتنے دن میں پہلی بار عباس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی
///////////////////////////
جاری ہے
اپنی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں کیا اچھا لگا کیا برا لگا یقین کریں مجھے آپ لوگوں کا تبصرہ کرنا اچھا لگتا ہے
