Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 2
نورے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی حُرّہ تک پہنچی تو حُرّہ سہم کر اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتی پیچھے کو ہوئی رونے میں مزید شدت آگئی تھی کہ اب بے بسی کی انتہا تھی وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی تھی یہاں تو ہر کوئی ہی ظالموں کی صف میں کھڑا تھا اس وقت سامنے کھڑی اس خوبصورت لڑکی کی آنکھوں میں بے چینی اور اضطراب دیکھ کر حُرّہ کا دل کانپنے لگا
” یقیناً تمہاری حالت اس وقت قابل رحم ہے مگر ۔۔ مگر ۔۔ میرے دل میں بہت چاہ کر بھی تمہارے لئے کبھی بھی نرم گوشہ پیدا نہیں ہو پائے گا ۔۔ “
تھوڑا جھک کر جب نورے جذبات سے عاری انداز میں بولی تو حُرّہ کی آنکھیں ڈگمگا گئیں اور وہ بے آواز رونے لگی
” جاننا چاہو گی کیوں ۔۔؟؟”
نورے نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکا کر پوچھا تو حُرّہ نے سہم کر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھا بیشک وہ اس پل کوئی بھی بات سمجھنے سے قاصر تھی
” تم ہمارے سے پہلے سردار کے نکاح میں آئی ہو ۔۔ جانتی ہو بچپن سے دل میں بستے ہیں وہ اور ۔۔ اور تم نے آج انجانے میں ہی مگر میرا عباس حاصل کر لیا یہ بات نورے ہمدانی کو اندر سے کاٹ رہی ہے ۔۔”
نورے بھیگی آواز میں ہزیانی انداز میں چیخی تو حُرّہ نے خوف سے آنکھیں میچ لیں
” مم مگر ۔۔ مگر ۔۔ عباس کبھی بھی اپنی بہن کے قتل کو فراموش نہیں کریں گے اور اسی بات کی وجہ سے نفرت کریں گے وہ تم سے ۔۔ کک کبھی بھی ۔۔ کبھی بھی اپنی اوقات مت بھولنا ۔۔ اور میرے حق پر پہلے ہی تم نقب لگا چکی ہو مزید اگر اوقات سے باہر ہوئی تم اپنی تو ۔۔ تو تمہیں بھی مار دوں گی اور خخ خود بھی ممم مر جاؤں گی۔۔ “
نورے کے چنگھاڑتے ہوئے کہنے پر حُرّہ حیرت و پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی جو اس وقت شدید صدمے میں لگ رہی تھی حُرّہ کو وہ لڑکی اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی تبھی ایک ملازمہ نورے کے قریب آئی اور اسے تھام لیا
” بی بی آپ کیوں پریشان ہو رہیں ہیں ۔۔ یہ لڑکی آپ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ نہ آپ جتنی خوبصورت ہے اور نہ آپ جیسا خاندانی مرتبہ رکھتی ہے ۔۔ اور سب سے بڑی بات اس کا تعلق قاتل کے خاندان سے ہے ۔۔ چھوٹے سردار تو اس کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں ۔۔ “
ملازمہ نورے کو سنبھالتی بول رہی تھی جس کے لیے عباس کا نکاح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں تھا
بیشک وہ بُری لڑکی نہیں تھی آج تک کبھی بھی حویلی میں اس کی اس قدر بلند آواز نہیں سنی گئی تھی یہاں تک کہ ملازمہ سے بھی نرم اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والی نورے آج پاگلوں کے سے انداز میں رو رہی تھی کہ اسے قرب سے روتے دیکھ کر حُرّہ اپنے وجود کے سارے زخموں کے درد بھول کر ساکت آنکھوں سمیت اسے تکنے لگی وہ کافی حد تک اس کی باتیں اور رونا سمجھ رہی تھی مگر وہ کیا کر سکتی تھی وہ تو سامنے کھڑی اس لڑکی کو اتنا بھی نہ کہ سکی کہ تم کیوں خوفزدہ ہو رہی ہو خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی تو فقط سائیوں کے انتقام کے لیے ہوتی ہے اسے بیوی کون سمجھتا ہے
حُرّہ زمین پر بیٹھی ٹانگوں کے گرد بازو حمائل کیے روتی ہوئی نورے کو دیکھتی دل میں سوچ رہی تھی جب ایک عورت نے آ کر نورے کو گلے سے لگا لیا
” نورے میری بیٹی ایسے کیوں رو کر ماں کو تکلیف دے رہی ہو ۔۔ ؟”
ناعمہ ہمدانی بیٹی کو سینے سے لگائے تڑپ کر کہہ رہیں تھیں
” مم ماں جی ۔۔ ماں جی یہ لڑکی عباس کی بیوی ہے کیسے برداشت کر لوں میں ۔۔ “
نورے روتے ہوئے اب حُرّہ کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولی تو حُرّہ گھبرا گئی اور اپنی چادر کو سر پہ درست کرنے لگی نورے کے اشارہ کرنے پہ انہوں نے فرش پر سمٹی بیٹھی لڑکی کو دیکھا
” بیٹا خون بہا میں آئی لڑکیاں کسی کی بیویاں نہیں ہوتیں ۔۔ وہ صرف ونی ہوتی ہیں ۔۔ اور اس لڑکی کی اوقات کچھ نہیں ہے تمہارے آگے ۔۔ تمہارے تایا سردار تمہاری شادی عباس سے ضرور کروائیں گے تم فکر مت کرو ۔۔ تم بہت عزیز ہو انہیں ۔۔ تم ان کے بھائی کی نشانی ہو ۔۔ وہ زیادتی نہیں کریں گے تمہارے ساتھ ۔۔ اور عباس پر بھی یقین رکھو آج تک ہمیشہ اس نے تمہارا ساتھ دیا ہے ۔۔ جو جگہ تمہاری ہے وہ کوئی نہیں لے سکتا ۔۔ یہ معمولی سی لڑکی تو ہرگز نہیں ۔۔”
نورے کو دونوں بازوؤں سے تھام کر وہ ایک حقارت بھری نگاہ حُرّہ کے سوجے چہرے پر ڈال کر بولی
بیشک سامنے زمین پر بیٹھی لڑکی پر کسی کو بھی ترس آ سکتا تھا اگر انجانے میں اس نے ان کی بیٹی کے حق پر ڈاکا نہ ڈالا ہوتا تو اس وقت وہ اس لڑکی کے ساتھ یقیناً ہمدردی سے پیش آتیں مگر یہی دکھ انہیں بے چین کر رہا تھا کہ بہرحال جو بھی ہے وہ لڑکی عباس کے نکاح میں تھی
” ا اگر ۔۔ اگر عباس نے اسے بیوی مان لیا تو میں مر جاؤں گی ماں جی ۔۔”
نورے بھرائی آواز میں بولتی ہوئی رونے لگی
” کیا تم جانتی نہیں عباس کو ۔۔ سرداروں کا خون ہے وہ ۔۔ اور یہ لڑکی انتقام کی صورت آئی ہے ۔۔ تم دیکھنا یہ لڑکی سونے کی بھی بن جائے مگر حویلی میں کبھی سردار کی بیوی کی حیثیت نہیں مل سکتی اسے ۔۔ “
وہ نورے کو سینے سے لگائے سمجھا رہیں تھیں جب نورے کچھ سنبھلی تو وہ اسے تھام کر ایک حقارت بھری نگاہ حُرّہ پر ڈال کر جا چکیں تھیں اور زمین پر بیٹھی حُرّہ کے دکھوں میں مزید اضافہ ہوا تھا بیشک وہ ان جتنا بلند خاندانی مرتبہ نہیں رکھتی تھی مگر اس قدر ہتک آمیز رویے کی مستحق تو وہ قطعی نہ تھی جو ان سب نے اس سے رواں رکھا تھا
اپنی آنے والی زندگی کو سوچتی وہ رونے لگی کیونکہ اسے دلاسہ دینے والی ماں اس سے بہت دور کر دی گئی تھی یہاں تو کوئی اسے حوصلہ دینے والا نہ تھا فقط زخم دینے والے تھے جن کے لیے اسے نا کردہ گناہوں کی سزا دینا واجب تھا
چند لمحوں بعد کسی نے آ کر اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا تو حُرّہ اپنی چادر سنبھالتی بمشکل چلتی ہوئی ایک کمرے میں داخل ہوئی ملازمہ اسے اس سٹور نما کمرے میں چھوڑ کر جا چکی تھی حُرّہ نے اس نیم اندھیرے نما کمرے کو دیکھا تو وہاں کچھ ٹوٹے ہوئے سامان کے علاوہ ایک چٹائی تھی حُرّہ چٹائی پر آ بیٹھی
پہلے جب وہ تایا کے گھر پر تھی تو بابا کو یاد کر کے روتی تھی آج ماں کی یاد زیادہ ستا رہی تھی مگر بے بس تھی اپنی بے بسی پر آنسو بہانے لگی ایک دن میں ہی اسے اس کی اوقات بتا دی گئی تھی مگر حُرّہ پہلے سے جانتی تھی کہ اس کے ساتھ یہ ظلم ہوں گے اس کا وجود اس وقت زخموں سے چور تھا جسم میں اس قدر درد کی لہریں اٹھ رہیں تھیں کہ حُرّہ شدت درد سے کراہ رہی تھی اس فرش پر لیٹنا اسے مزید تکلیف سے دوچار کر رہا تھا نہ کوئی تکیہ نہ کوئی چادر ، روشنی بھی تو نہ تھی سرد موسم کے باعث کمرے کی فضاء میں ہلکی سی خنکی تھی مسلسل رونے اور چیخنے کے باعث اس کا گلا درد کر رہا تھا آج سب کا رویہ اسے یاد آ رہا تھا اس قدر ذلت ، حقارت اور ظلم یاد کر کے وہ رونے لگی مگر جو چیز حُرّہ کا دل چیر رہی تھی وہ نورے کی باتیں تھیں اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یقیناً چھوٹے سردار کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ تھا اس نے کبھی بھی چھوٹے سردار کو نہیں دیکھا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کس طرح کا انسان ہے مگر اتنا ضرور جانتی تھی کہ نورے کے ساتھ ان کی شادی ضرور ہوگی کیونکہ سردار اپنی زبان کے بہت پکے ہوتے ہیں اگر نورے کے ساتھ رشتہ طے تھا تو اس کا مطلب ہے کہ نورے سردار عباس ہمدانی کی بیوی ضرور بنے گی
“ہاں وہی تو بیوی ہو گی میں تو ونی ہوں نا ۔۔ “
یہ تکلیف دہ سوچ ذہن میں آتے ہی حُرّہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
زندگی پہلے بھی آسان نہیں تھی مگر اب تو دل پہ بوجھ ہی بڑھ گئے تھے
////////////////////////////
شام کے سائے اترے تو سردار شیر دل نے حویلی میں قدم رکھا جب وہ چلتے ہوئے لاؤنج میں آئے تو حویلی کے ماحول میں عابی کی موت کے باعث چھائی افسردگی ابھی بھی تھی صوفے پر براجمان ہونے کے بعد انہوں نے ملازمہ کو سردار بی بی کو بلانے کا حکم دیا ملازمہ تھوڑی دیر بعد ہی سردار بی بی کے پیچھے دوبارہ حاضر ہوئی
سردار شیر دل نے صوفے پر اپنے ساتھ براجمان ہونے والی سردار بی بی کو دیکھا جو بیٹی کی موت کے صدمے میں اس قدر تھیں کہ محض ہر وقت سوگ کے عالم میں رہتیں
” سلام ۔۔”
سردار بی بی نے ادب سے نگاہیں جھکا کر کہا تو سردار شیر دل نے سر کو ہلایا
” عباس نہیں آیا آپ کے ساتھ ۔۔؟”
سوال کرتے ہوئے انہوں نے بے چینی سے ادھر ادھر نگاہیں گھمائیں
” بدلے کی آگ میں جل رہا ہے وہ ۔۔ جب تک عابی کے قاتلوں کو اپنے ہاتھوں سے عبرت ناک موت نہیں دے دیتا تب تک چین نہیں آئے گا اسے ۔۔”
سردار شیر دل اپنے دل کے درد کو عشرت ہمدانی سے بیان کر رہے تھے لیکن ان کی تو ایک بات پر سانس ہی رک گئی تھی
” قق قاتلوں ۔۔ اس بات کا کیا مطلب ہے سردار جی ۔۔ کک کتنے لوگ تھے ۔۔”
ماں کا دل تھا تو بیٹی کی بے کسی سنتے ہوئے زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی یہ انکشاف انہیں مزید دکھ سے دوچار کرنے والا تھا سردار شیر دل نے لب بھینچ لیے یقیناً انہیں یہ بات بتانے سے عباس نے منع کیا تھا
” بتائیں نا ۔۔ سردار جی ۔۔”
شوہر کو خاموشی سے خود کو تکتا پا کر سردار بی بی نے بے چینی سے پوچھا
” تت تین لوگ ۔۔”
یہ الفاظ سننے تھے کہ سردار بی بی بلند آواز میں رونے لگیں
” کک کیا بگاڑا تھا میری معصوم بچی نے کسی کا ۔۔ وحشیوں کو رحم نہ آیا ۔۔ “
یزہانی انداز میں رونے چیختے وہ بولیں تو سردار شیر دل نے ناہید کو اشارہ کیا ناہید سردار بی بی کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں دلاسہ دینے لگی کافی دیر بعد لاؤنج میں ناعمہ ہمدانی اور نورے داخل ہوئیں
نورے کا سرخ رویا رویا چہرہ دیکھ کر سردار شیر دل اور سردار بی بی نے ایک دوسرے کو دیکھا بیشک انہوں نے نورے کو ہمیشہ عابی کی طرح سمجھا تھا وہ دونوں سمجھ چکے تھے کہ نورے کا رونا محض عابی کے لیے نہیں ہے بلکہ عباس کے نکاح کی خبر نے اسے رلا دیا
” نورے بیٹا یہاں آؤ ۔۔ “
سردار شیر دل نے نورے کو پیار سے دیکھتے ہوئے اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو نورے دوپٹہ سر پر کرتی سر جھکا کر ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئی
” کسی بھی بات کی وجہ سے پریشان مت ہونا ۔۔ آپ کی اور عباس کی شادی ہم دھوم دھام سے کریں گے اب آپ ہی تو ہماری بیٹی ہیں ۔۔”
سردار شیر دل نے نورے کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو نورے نے سر کو جنبش دی
مگر دل میں اٹھتے قرب کا وہ کیا کرتی جو عباس کو کسی صورت بانٹنے کو تیار نہ تھا اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ خون بہا میں آئی لڑکی کو طلاق بھی نہیں دی جاتی ایک پل کو حُرّہ کا سوجا رویا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا اسے حُرّہ کے لیے برا لگا تھا دکھ ہو رہا تھا مگر اس دل کا کیا کرتی جو عباس کے نکاح کا سنتے رو رہا تھا
///////////////////////////
کوئی زور زور سے اس کا شانہ ہلا کر اسے جگا رہا تھا چند پل میں ہی حُرّہ نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ملازمہ جھکی ہوئی اسے نیند سے جگا رہی تھی حُرّہ نے ہلنے کی کوشش کی مگر جسم بری طرح اکڑا ہوا تھا سارے وجود میں درد کی لہریں اٹھ رہیں تھیں ایک ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے وہ قدرے مشکل سے اٹھی
” جلدی کرو اٹھو اور میرے ساتھ چلو ۔۔ “
ملازمہ اس کی چادر اس کے سر پر دیتی عجلت میں بولی تو حُرّہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
” کک کہاں ۔۔”
بمشکل حلق سے آواز نکلی تھی پیاس کی وجہ سے گلا خشک تھا اور سوجے ہوئے زخمی لبوں میں مزید درد ہوا
” ناہید نے بلایا ہے تمہیں ۔۔ جلدی کرو اگر دیر ہو گئی تو تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی شامت آ جائے گی ۔۔”
اس بار ملازمہ نے کہتے ہوئے حُرّہ کو خود ہی سہارا دے کر اٹھایا اور چلنے لگی اور حُرّہ کے حواس مکمل بیدار ہو چکے تھے اس کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگا جانے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا
جب وہ ملازمہ کے سہارے پر چلتی اس وسیع باورچی خانے میں داخل ہوئی تو اس کی نظر ہال میں لگی گھڑی پر پڑی جہاں صبح کے پانچ بج رہے تھے
” آ گئی مہارانی ۔۔ “
حُرّہ کے آتے ہی ناہید اس کی جانب لپکی جبکہ حُرّہ سہم کر پیچھے ہوئی
” پوری کر لیں نیندیں مہارانی نے ۔۔ اب کام پہ لگو چلو ۔۔ رضیہ اسے سارے کام سمجھا دو ۔۔اگر آگے سے سستی دیکھائی اس نے تو الٹے ہاتھ کا ایک تھپڑ مارنا اسے ۔۔ ساری سستی اتر جائے گی ۔۔ “
ناہید پاس کھڑی ملازمہ کو حکم دیتی آگے بڑھ گئی اور وہ ملازمہ حُرّہ کو سر سے پاؤں تک گھورنے لگی
” یہ چھٹانک بھر کی لڑکی کہاں کر سکے گی اتنے کام ۔۔ اسے تو ہاتھ لگاؤ یہ گرنے کو تیار کھڑی ہے ۔۔ سردار بی بی بھی نا ۔۔”
وہ ملازمہ بڑبڑاتی ہوئی حُرّہ تک آئی
” سن ۔۔ اب سے سارے کام تجھے ہی کرنے ہیں ۔۔ اگر کوئی گڑبڑ کی تو نے تو یہ موٹی جلادنی تجھے بخشے گی نہیں ۔۔”
وہ ملازمہ حُرّہ کو آنکھیں دکھاتے کام بتانے لگی اور حُرّہ کے آنسو دل پر گرنے لگے
اس نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے سرد آہ بھری اور بے حسی سے خود کو کاموں میں لگا دیا اسے پہلے معلوم تھا کہ اس کے ساتھ یہی سب ہوگا مگر افسوس ہو رہا تھا کہ بنا کسی قصور کے اس پر ظلم ہو رہا تھا مگر چاہ کر بھی وہ مزاحمت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ کسی بات سے انکار کرنے یا مخالفت کرنے پر اس کی زندگی مزید مشکل ہو جانی تھی سیاہ چادر کو اچھی طرح اوڑھتے ہوئے اس نے اپنے درد کرتے سر کو نظرانداز کرتی ، بھوک اور پیاس کو پس پشت ڈالتی اس ملازمہ کے حکم کے مطابق سارے کام سر انجام دینے لگی
/////////////////////////
شاید دو ہفتے گزر گئے تھے اسے حویلی میں آئے ہوئے یا اس سے زیادہ مگر اسے ٹھیک طرح دن یاد نہیں تھے کیونکہ اس نے دن رات کا حساب رکھنا ہی چھوڑ دیا تھا
دن بھر اس سے ہر مشقت والا کام کروایا جاتا یہاں تک کہ ملازمہ بھی اکثر اپنے حصے کے کام اسی سے کروانے لگیں تھی وہ بے حس بنی خاموشی سے سب کر دیتی تھی حُرّہ نے ایک بات شدت سے محسوس کی تھی کہ یہاں اس کے ساتھ مالک تو برا سلوک کرتے ہی تھے نوکر بھی اسے حقیر سمجھتے تھے مگر وہ کسی کو کچھ جواب نہ دیتی اس کے باوجود سردار بی بی اور ناہید کا جب دل چاہتا اس پر تشدد کرتی جب دل چاہتا اس کی تذلیل کر دیتی مگر حُرّہ نے صبر کر لیا تھا اور زبان پر قفل لگا لیا تھا
اس کی ماں کہا کرتی تھیں کہ حُرّہ تم بہت صابر ہو مگر تب اس نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا آج جب ماں کی بات یاد آتی تو بے بسی سے ہنسنے لگتی اور تصور میں ماں کو مخاطب کر کے کہتی
” ماں یہ صبر نہیں ہے بلکہ بے حسی ہے ۔۔ آپ کی بیٹی صابر نہیں ۔۔ بے حس بن گئی ہے ۔۔”
وہ خاموش طبیعت تو پہلے بھی تھی مگر اب تو سوائے لفظ ‘ جی ‘ کے کوئی حرف اس کی زبان سے کسی نے نہ سنا تھا
اس دوران نورے سے اس کا سامنا ہوتا رہتا تھا مگر اس دن کے بعد نورے نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ ہمیشہ حُرّہ کو نظرانداز کرتی تھی
حُرّہ بھی اس سے نگاہیں چرائے رہتی تھی ناہید کے ہاتھ نورے کے چند کپڑوں کے جوڑے اسے دیے گئے تھے جسے صبر کا کڑوا گھونٹ سمجھ کر پیتے ہوئے حُرّہ نے لے لیے تھے
اپنی ماں کی طرف سے اس کا دل ہر وقت بے چین رہتا تھا مگر وہ کیسے مل سکتی تھی یہاں تو کوئی ذرا برابر اپنے دل میں اس کے لیے گنجائش نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی اس نے ہمت جمع کر کے سردار بی بی سے التجا کی
” سس سردار بی بی ۔۔ مم مجھے ا ایک بار میری ماں سے مم ملوا دیں ۔۔ “
سردار بی بی کے قدموں میں بیٹھ کر سر جھکائے حُرّہ نے التجا کرتے ہوئے کہا تو ایک ٹھوکر مار کر انہوں نے حقارت سے اسے دیکھا اس کے بعد وہ کافی دیر منتیں کرتی رہی مگر اجازت نہ ملی بلکہ مزید ظلم کے نشان اس کے وجود اور روح پر دیے گئے
” خدا کے لیے اتنے ظالم مت بنیں ۔۔ کچھ رحم کریں ۔۔ خدا کے لیے سردار بی بی میری ماں مر جائے گی میرے بغیر ۔۔”
اس نے روتے ہوئے دہائی دی تو سردار بی بی کے اشارے پر ناہید نے حُرّہ کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا
” ہاں تو مر جائے ۔۔ اور تو لڑکی ہم سے رحم نہ ہی مانگ تو تیرے لیے اچھا ہے ۔۔ “
سردار بی بی رخ موڑتے ہوئے حقارت سے بولیں تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” بس ایک بار ملنے دیں ۔۔ پھر کچھ نہیں مانگوں گی ۔۔ “
اس قدر برے سلوک کے بعد بھی حُرّہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی کہ ناہید اسے بالوں سے گھسیٹتی لاؤنج سے لے گئی وہ چیختی رہی ، دہائیاں دیتی رہی مگر حویلی ہی صرف بڑی تھی یہاں رہنے والوں کے دل بہت قلیل تھے
جبکہ نورے اور ناعمہ ہمدانی خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہیں حُرّہ کے ساتھ جیا جانے والا سلوک انہیں برا لگتا تھا مگر وہ دونوں چاہ کر بھی اس سے ہمدردی نہیں کر سکتی تھیں
///////////////////////////
آج سزا کے طور پر سارا کھانا اکیلے بنانے کی ذمہ داری حُرّہ کی تھی جب کھانا ڈائننگ ہال میں لگا رہی تھی تو آج پہلی مرتبہ سردار شیر دل کے روبرو آئی تھی جو اپنی مخصوص شان و شوکت سے سربراہی کرسی پر براجمان کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے
” یہ آوازیں کیسی آ رہیں ہیں ۔۔ ؟”
ڈائننگ ہال میں اس وقت سردار شیر دل، سردار بی بی ، ناعمہ اور نورے کھانا کھا رہے تھے باقی ملازمین کے ساتھ حُرّہ بھی اپنی سیاہ چادر سے اپنا وجود چھپائے پاس سر جھکائے کھڑی تھی جب کچھ آوازوں پر سردار شیر دل نے نا سمجھی سے سردار بی بی کو دیکھا تو انہوں نے ناہید کو اشارہ کیا اتنے میں ایک ملازمہ ڈری سہمی ہوئی ڈائننگ ہال میں داخل ی
” اے کیا ہوا ۔۔ “
سردار بی بی نے ملازمہ کو اپنی کرخت آواز میں مخاطب کیا تو وہ ہڑبڑا گئی
“وو وہ سردار بی بی وہ ۔۔ چھوٹے سردار ۔۔!”
دوسری ملازمہ ہاتھوں میں ٹوٹی ہوئی ٹرے اور گلاس لیے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تو وہ ملازمہ خاموش ہو گئی
” ارے منہ سے بول بھی دو کیا ہوا ہے ۔۔؟”
سردار شیر دل دھاڑے تو ہال میں موجود سب کانپ گئے حُرّہ سختی سے چادر کا کونا تھامے سہم گئی
” وہ وہ جی ۔۔ سردار جی ۔۔ چھوٹے سردار غغ غصے میں تھے ۔۔ پہلے کبھی بھی وہ غصہ نہیں کرتے تھے آج تو وہ ۔۔۔”
ملازمہ ڈر کی وجہ سے مزید نہ بول سکی تو دوسری ملازمہ کہنے لگی
“وہ جی باہر سب کو چھوٹے سردار مار رہے ہیں ۔۔ یی یہ دیکھ کر اس کے ہاتھ سے گلاس چچ چھوٹ گیا ۔۔”
عباس کے ذکر پر وہاں موجود دو نفوس کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہوئی تھی اور وہ دو نورے اور حُرّہ تھیں
نورے کی اتنے دن بعد عباس کی آمد پر کچھ خوشی میں جبکہ حُرّہ کی خوف و ہراس کی وجہ سے دل کانپنے لگا
ایک یہی سکون تھا اسے کہ کم از کم عباس یہاں نہیں موجود تھا کم از کم وہ کسی کے تو ظلم سے بچی ہوئی تھی مگر اب اس کی حویلی آمد پر حُرّہ کے وجود میں کپکپی طاری ہو گئی تھی سردار شیر دل، سردار بی بی ، ناعمہ ہمدانی اور نورے سمیت سب باہر کی سمت چلے گئے تھے مگر حُرّہ سانس روکے پیچھے کی جانب قدم کرنے لگی یہاں تک وہ دیوار سے جا لگی مگر ملازمہ کے منہ سے ادا ہوئے الفاظ سن کر اس کی خوف و ہراس کے باعث حالت غیر ہونے لگی
////////////////////////
جاری ہے
