Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 1

جولائی کی گرمی اپنے جوبن پر تھی سورج گویا آگ برسا رہا تھا یہ حیدرآباد کے ایک عام سے علاقے کا منظر تھا یہاں تقریبا تمام ہی معمولی سے مکانات تھے ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف نظر آ رہا تھا کچھ لوگ درختوں کے سائے تلے کھڑے تھے تو کوئی گنے کے ٹھیلے کے پاس کھڑا اس گرمی سے بچنے کے لیے گنے کے جوس سے لطف اندوز ہو رہا تھا

اس تپتی دھوپ میں وہ تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی معمولی سا ایک سفید رنگ کا لان کا سوٹ پہنے وہ بڑی سی مہرون چادر سر پر سلیقے سے اوڑھے ہوئے تھی وقفے وقفے سے اسی چادر سے چہرے اور گردن پر آیا پسینہ صاف کر رہی تھی عمر لگ بھگ بائیس سال تھی مگر جانے کیوں اس لڑکی کے چہرے پر زمانوں کی تھکن تھی جیسے لمبا سفر طے کر کے آ رہی ہو
وہ چھوٹی تنگ گلی میں داخل ہو کر تیز تیز قدم بڑھاتی ایک ہاتھ میں دوائیوں کا شاپر تھامے کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی تھی
ایک معمولی سے تین کمرے کے مکان کے گھر میں جب وہ داخل ہوئی تو ہمیشہ کی طرح سلائی مشین کی آواز نے اس کا استقبال کیا
کچے پکے مکان کے چھوٹے سے صحن کو عبور کرتی ہوئی وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی جہاں دو چارپائیاں اس طرح پڑیں تھیں کہ ایک کمرے کے وسط میں اور دوسری چارپائی کھڑکی کے پاس تھی کمرے میں مزید کوئی چیز نہ تھی

حرّہ نے کمرے میں داخل ہو کر چادر اتار کر دوائیوں کے شاپر سمیت اسی چارپائی پر رکھی جو کھڑکی کے ساتھ تھی اور خود بھی اب وہ اسی چارپائی پر براجمان ہو چکی تھی بیٹھے سے اب وہ چپل سمیت ہی لیٹ گئی تھی کئی دن سے بے آرامی کے باعث آج وہ اپنے سر میں بھی شدید سر درد محسوس کر رہی تھی لیکن نہیں یہ سر درد تو اسے اب ہمیشہ ہی رہنے لگا تھا بیشک وہ بہت زیارہ خوبصورت نہیں تھی مگر جانے کیا دکھ تھے اسے کہ اچھی خاصی ہونے کے باوجود اپنی حالت یوں بگاڑ کر رکھتی کہ بالوں کی لمبی چٹیا میں سے آدھے بال نکلے رہتے اور آنکھیں ہمہ وقت نم رہتیں
چارپائی پر چت لیٹی وہ آنکھیں میچے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ابھی اس کا پسینہ خشک نہ ہوا تھا کہ چھت پر لگا پنکھا بند ہو گیا مگر حرّہ نے آنکھیں وا نہ کیں اور نہ اس کے وجود نے کوئی حرکت کی جیسے اسے معلوم تھا کہ بجلی بند ہونے والی ہے

” ماما ۔۔ ماما ۔۔”
وہ ہنوز آنکھیں موند کر لیٹی ہوئی تھی جب ایک تین سالہ بچی کی چہکتی آواز نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا حرّہ کے تھکان زدہ چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی آنکھیں کھول کر اس نے اپنے پاس کھڑی بچی کو دیکھا جس کی خوبصورت آنکھیں بھی آج مسکرا رہیں تھی اس بچی کی مسکراہٹ دیکھ کر حرّہ کی ساری تھکاوٹ اور سر درد جیسے دور ہو گیا خود بیٹھ کر اس نے بچی کو اپنی گود میں بیٹھایا اور اس کے چہرے پر بوسا دیتے ہوئے مامتا کی پیاس بجھانے لگی

” ماما کی جان اتنی خوش ہے آج تو لگتا ہے ماسی ماں نے پرنسز کی ساری باتیں مانی ۔۔”
حُرّہ دُعا کو پیار کرتی ہوئی مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی جب اسے آدھے ٹوٹے پھوٹے فرش پر کسی بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی یہ آواز اس کے دل کو شدت سے دھڑکنے پر مجبور کر گئی ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی ہونٹ کپکپا گئے دل نے بس اُسی کی آمد کی گواہی دی جس سے وہ ہمیشہ سے بھاگ رہی تھی مگر شاید آج وہ وقت آن پہنچا تھا جس سے وہ فرار چاہ رہی تھی رکی ہوئی سانس کو بحال کرتی وہ خشک ہونٹوں پر لب پھیرتی اٹھی اس نے دعا پر گرفت سخت کی جیسے آنے والا اس سے اس کی دعا کو چھین لے گا

عباس نے خستہ حال دروازے پر ہلکی سی دستک دی جیسے اپنے آنے کا احساس دلایا ہو مگر وہ جانتا تھا کہ حُرّہ تو دور سے ہی اس کی خوشبو پہچان گئی ہوگی دستک دے کر وہ چند پل وہیں کھڑا رہا جبکہ اس کی جائزہ لیتی نگاہیں اس کمرے سے ہوتی ہوئیں حُرّہ پر جا ٹہریں جو رخ موڑے یوں بے حرکت کھڑی تھی جیسے پتھر کی ہو عباس نے اپنے سیاہ کوٹ کے بٹن کو کھول دیا شاید اسے گرمی کا احساس ہوا تھا پینٹ کی جیب سے رمال نکال کر پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کر کے وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا حُرّہ تک پہنچ چکا تھا دعا ، حُرّہ سے خود کو چھڑوا کر لپک کر عباس کی ٹانگوں سے آ لپٹی جبکہ عباس نے لمحہ ضائع کیے بنا دعا کو اپنی گود میں اٹھا کر پیار کیا اب حُرّہ بھی مڑ چکی تھی جھکی نگاہوں سے بھی وہ عباس کی شخصیت کے سحر میں جکڑ چکی تھی جبکہ عباس کی نگاہیں حُرّہ کے وجود کو یوں تکنے لگی جیسے صدیوں کی پیاس بجھا رہیں ہوں حُرّہ کو اس طرح عجیب حالت میں دیکھ کر عباس کے دل پر جانے کیوں بوجھ سا محسوس ہوا اپنے تڑپتے دل کو مضبوط کرتے ہوئے عباس نے بھاری آواز میں اسے پکارا جو سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی جیسے سانسیں بھی روکے کھڑی تھی

” کیسی ہیں حُرّہ ۔۔؟”
دعا کو گود میں اٹھائے عباس بولا تو پہلی مرتبہ حُرّہ نے پلکوں کے گھنے جھالڑ اٹھا کر اس مہرباں کو دیکھا یقیناً وہ اس سوال کی توقع تو ہرگز نہیں کر رہی تھی دونوں کی آنکھیں ملیں تو دل بے قابو ہو گئے عباس اور اس کی گود میں دعا کو دیکھ کر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی سسکی نکلی جس کا منہ پر ہاتھ رکھ کر حُرّہ نے گلا گھونٹ دیا جبکہ عباس نے تڑپ کر حُرّہ کو دیکھا وہ جو سوچ رہا تھا آج ہر سوال کا جواب لے گا حُرّہ سے ہر حساب برابر کرے گا مگر ہونٹ قفل ہو گئے تھے

” کیوں اتنا بڑا ظلم کیا حُرّہ آپ نے ۔۔ آپ اتنی ظالم کیسے ہو سکتیں ہیں ۔۔ کس چیز کی سزا دی آپ نے مجھے ۔۔؟”
یہ وہ سارے سوال تھے جو وہ حُرّہ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر وہ یہ سوال کر کے حُرّہ کو اذیت نہیں دے سکتا تھا اس لیے
کچھ پل گزرے تھے کہ عباس نے بولنے کی ہمت جمع کی

” بات نہیں کریں گی کیا ۔۔؟ “
عباس کے دھیمے لہجے اور محبت بھرے انداز پر حُرّہ کا دل تڑپ اٹھا

” آج بھی غصہ نہیں آ رہا اس شخص کو ۔۔ ؟؟ نفرت کیوں نہیں کرتا یہ شخص مجھ سے ۔۔؟”
عباس کے سینے سے لگی دعا کو دیکھتی وہ دل میں سوچ رہی تھی
جب عباس کی پینٹ کی جیب میں موجود موبائل بج اٹھا عباس سیل فون نکال کر ہاتھ میں لیتے سکرین پر موجود نام دیکھ کر ٹھٹھکا اور حُرّہ اس کے چہرے کو دیکھ کر پہچان گئی کہ کال کرنے والی ہستی کون ہے

” میں کبھی بھی نورے اور آپ کے درمیان نہیں آ سکتی چھوٹے سرکار ۔۔ آپ بات کر لیں ان سے ۔۔”
عباس کو کال کاٹ کر موبائل واپس جیب میں رکھتے دیکھ کر حُرّہ نگاہیں چرا کر بولی اور ساتھ ہی وہ دُعا کو اپنی گود میں لے چکی تھی

” آپ آج بھی غلطی پر ہیں حُرّہ ۔۔ “
حُرّہ کی بات پر عباس مٹھیاں سختی سے بھینچتا سرد مہری سے بولا

” میں ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی تمام غلطیاں قبول کرتی ہوں ۔۔ سرکار “
وہ آنسو حلق میں اتارتی دھیمی آواز میں بولی

” دُعا کے ساتھ ظلم کر رہیں ہیں آپ ۔۔ “
وہ ملامت بھری نگاہوں سے حُرّہ کی جھکی آنکھوں میں دیکھتا شکایت کر رہا تھا جبکہ دعا اپنی جانب کسی کو متوجہ نہ پا کر ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو لے کر کمرے سے بھاگتی ہوئی چلی گئی

” ظلم تو قسمت نے کیا ہے ہم پر ۔۔عباس ہمدانی صاحب ۔۔ “
پہلی بار وہ عباس کی آنکھوں میں اپنی نم آنکھوں سے دیکھتی دبی دبی آواز میں غرائی تھی جب عباس نے حُرّہ کی جانب قدم بڑھائے ہوش حُرّہ کو تب آیا جب عباس نے اس کے قریب جا کر اس کی پیشانی پر اپنے گرم لبوں کا لمس چھوڑا

////////////////////////

وہ قبرستان میں ایک قبر کے قریب بیٹھی آنسو بہا رہی تھی جب ماں نے اس کا شانہ ہلا کر اپنی جانب متوجہ کیا تو سیاہ چادر سے آنسو صاف کرتی حُرّہ نے چہرہ بلند کیا اور ماں کو اپنی پرنم آنکھوں سے دیکھنے لگی جن کی خود کی بھی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئیں تھیں حُرّہ نے ماں کے چہرے کی اذیت دیکھ کر پھر سے آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسو ہاتھوں کی پشت سے صاف کیے اور پھر سے قبر کی مٹی پر ہاتھ رکھتی شدت سے رونے لگی

” آپ جانتے تھے نا کہ یہ معاشرے ہمیں جینے نہیں دے گا پھر کیسے آپ نے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا ۔۔ کیوں بابا کیوں چھوڑ کر چلے گئے آپ ہمیں ۔۔ جانتے ہیں ایک مرد کے بغیر اکیلی دو عورتوں کا یہ معاشرہ کس طرح جینا محال کرتا ہے ۔۔ آپ کے بغیر ان سات سالوں میں یہ امی اور میں جان گئے ہیں ۔۔ پل پل یاد آتی ہے بابا آپ کی ۔۔ اگر آپ ہوتے تو آج یہ ظلم نہ ہوتا مجھ پہ ۔۔”
قبرستان کے سناٹے میں حُرّہ کی دبی دبی سسکیاں گونج رہی تھیں وہ سسکتے ہوئے ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے باپ کی قبر کے قریب بیٹھ کر زمانے کی ستم ظریفی سنا رہی تھی اس کی ماں سینے پر ہاتھ رکھے قریب کھڑی اپنی بیٹی کے دکھ سن رہی تھی مگر ان میں سکت نہیں تھی کہ وہ آج اسے خاموش کروا کر دلاسہ دے سکتیں آخر آج تو ان دونوں پر ظلم کی انتہا ہی ہو گئی تھی

دس سال کی عمر میں حُرّہ نے اپنے شفیق باپ کو کھو دیا تھا اور اس وقت سے زندگی ان دونوں ماں بیٹی پر تنگ کر دی گئی تھی جیٹھ اور جیٹھانی کے در پر انہوں نے اور حُرّہ نے کیسے سات سال اذیت اور ذلت بھرے گزارے تھے یہ وہ دونوں ماں بیٹی جانتی تھیں یا ان کا خدا جانتا تھا جو سب کے دلوں کے حال جانتا ہے

” بابا مجھے اپنے پاس بلا لیں نا ۔۔ مجھے اس ظالم دنیا میں مزید نہیں رہنا ۔۔ مجھے مزید نہیں جینا ۔۔ ممم میں مر کیوں نہیں جاتی بابا ۔۔ کیا میرے اللہ میں اتنی بری ہوں کہ میں موت مانگ رہی ہوں اور تو وہ بھی نہیں دے رہا مجھے ۔۔ “
حُرّہ نے اپنے آنسوؤں سے بھرے چہرے کو اب چادر میں چھپا کر بلند آواز میں رونا شروع کر دیا

” حُرّہ میری جان میرا کلیجہ پھٹ جائے گا ۔۔ خدا کے لیے مت رو میری بچی ۔۔ یہ خدا کی طرف سے آئی آزمائش سمجھ کر صبر کر لے ۔۔ “
راحت بی بی نے حُرّہ کے برابر بیٹھتے ہوئے اسے سینے سے لگاتے ہوئے رو کر کہا تو حُرّہ کی سسکیوں میں مزید شدت آ گئی

” صبر ۔۔؟؟ ماں صبر کروں ۔۔؟ پلیز آج آپ مجھے صبر کا نہ کہیں پلیز آج میری بات مان لیں ۔۔ مم مجھے ۔۔ مم مجھے مار دیں ماں ۔۔ ویسے بھی پل پل مرنے سے بہتر ہے ایک بار ہی ختم ہو جاؤں ۔۔ “
حُرّہ شدت سے روتے ہوئے پاگلوں کے سے انداز میں اپنی ماں کے ہاتھ اپنی گردن پر رکھ کر کہنے لگی تو انہوں نے فوراً اسے سینے میں بھینچتے ہوئے اپنا ہاتھ حُرّہ کے لبوں پر رکھ دیا آخر کو ماں تھیں اپنی اکلوتی اولاد کو یوں سسکتے دیکھ تڑپ رہیں تھیں
وہ حُرّہ جس نے کبھی ماں کے سامنے بلند آواز میں بات تک نہ کی تھی وہ حُرّہ جس نے باپ کے بعد ماں سے کوئی خواہش کرنا ہی چھوڑ دی تھی کہ ماں کو تکلیف نہ ہو وہ حُرّہ جس نے تایا اور تائی کی ہر ظلم و زیادتی کو ماں کی صبر و تحمل کے درس پر خاموشی سے برداشت کیا تھا آج اس حُرّہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا
بہت دیر رونے کے بعد راحت بی بی نے حُرّہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر ایسے تکنے لگیں جیسے آخری مرتبہ دیکھ رہیں ہوں ہاں شاید آخری مرتبہ ہی تو دیکھ رہیں تھیں وہ اپنی بیٹی کو
حُرّہ ان کی اتنی صابر شاکر بیٹی تھی کہ انہیں اس پر فخر محسوس ہوتا تھا اتنی چھوٹی سی عمر میں بنا کہے وہ ماں کو سمجھتی تھی کبھی کوئی خواہش تک نہ کی تھی اس نے کبھی شکوہ تک نہ کیا تھا جانتی تھی مجبور ماں ضرورتیں پوری نہیں کر سکتیں تھی پھر خواہشات کیسے پوری کرتیں مگر آج پنچایت میں ہوئے فیصلے کو سن کر وہ اس قدر دل برداشتہ ہو گئی تھی کہ باپ کی قبر پر بیٹھی خدا سے موت مانگ رہی تھی

” حُرّہ میری جان آج آخری مرتبہ میری بات مان لوں صبر کرو ۔۔ اور اٹھو جلدی یہاں سے نکاح کا وقت ہو رہا ہے ۔۔ مزید تاخیر ہوئی تو سردار شیر دل کے آدمی بے رحمی سے پیش آئیں گے ۔۔ “
اپنے سینے سے لگی حُرّہ کو سہارے سے کھڑا کرتے ہوئے انہوں نے اس کا ماتھا چوم کر کہا اور چند پل حُرّہ کا بے بسی کی تصویر بنا چہرہ دیکھتی رہیں اور پھر سہارا دیے قبرستان سے باہر آہستہ آہستہ قدم بڑھائے اور حُرّہ اب ساکت آنکھیں لیے مردہ ہوتے وجود کو گھسیٹتی چلنے لگی جہاں سردار شیر دل کے آدمی ان کے منتظر تھے

////////////////////////////

پورے گاؤں میں ایک عجیب سوگ کی کیفیت تھی گاؤں کے سردار شیر دل کی بیٹی کی لاش کو زیادتی کے بعد بڑی نہر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا سردار شیر دل نے جب اپنی اکلوتی بیٹی کی برہنہ لاش دیکھی تو سارا گاؤں ان کے غم وغصے کا شکار ہوا تھا تفتیش پر معلوم ہوا کہ گاؤں کے رہائشی خاور کو عابی کے ساتھ واقعہ سے پہلے دیکھا گیا تھا اور اس بات کی تصدیق خاور کی گمشدگی نے کر دی تھی جو اس الم ناک واقعہ کے بعد ایسا غائب ہوا تھا کہ پھر کسی کو اس کی خبر ہی نہ ہوئی تھی
بیٹی کو دفنانے کے بعد آج چوتھے دن انہوں نے پنچایت بیٹھائی تھی جس کا فیصلہ خون کے بدلے خون ، زمین یا زر یا پھر زن کے مطابق طے پانا تھا اور زمانے کی رسوم کے مطابق سردار شیر دل نے زن کا مطالبہ کیا تھا جسے رشید ( حُرّہ کے تایا ) کو ہر حال میں ماننا تھا چونکہ خاور ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور کوئی بیٹی نہ تھی اور رہا زن کا مطالبہ تو حُرّہ کی کفالت چونکہ اس کے تایا کی ذمہ داری تھی اس لیے فیصلے کے مطابق خون بہا میں حُرّہ کا نکاح سردار شیر دل ہمدانی کے بیٹے سردار عباس ہمدانی کے ساتھ ہونا طے پایا یہ خبر گاؤں میں آگ کی مانند پھیلی جسے سنتے ہی حُرّہ اور راحت بی بی کے اوسان خطا ہو گئے کیونکہ وہ دونوں ماں بیٹی بہت اچھے سے جانتی تھیں کہ خون بہا میں جانے والی لڑکی کے ساتھ کتنا وحشانہ سلوک رواں رکھا جاتا ہے اس لڑکی کو انتقام کی بھینٹ چڑھا کر نہ صرف اس کی نسوانیت تباہ کی جاتی ہے بلکہ غیر انسانی سلوک رکھنے میں کوئی آڑ نہیں محسوس کی جاتی

سردار عباس ہمدانی بہن کی موت کی خبر سن کے شہر سے جب سے واپس آیا تھا بپھرے ہوئے شیر کی مانند خاور کو ڈھونڈ رہا تھا مگر پنچایت میں باپ کے فیصلے پر بے یقینی کے عالم میں باپ کو دیکھتا رہ گیا

” کیا میری بہن اتنی بے مول ہے جس کے بے رحمانہ قتل پر آپ سودے بازی کر رہے ہیں بابا جان ۔۔ ؟ “
وہ باپ کے سامنے نگاہیں نیچی کیے دھیمی آواز مگر سرد انداز میں لفظ چبا چبا کر ادا کرتے ہوئے گویا ہوا

” یہ سودے بازی نہیں ہے عباس ۔۔ یہی ہوتا آیا ہے ہمیشہ سے اور اب بھی یہی ہوگا ۔۔ “
سردار شیر دل نے بیٹے کی دھیمی آواز پر فخر سے سر بلند کرتے ہوئے جواب دیا بیشک ان کا بیٹا ہر حال میں ان سے ادب سے مخاطب ہوا کرتا تھا

” مگر مجھے خون کے بدلے خون چاہیے بابا ۔۔ “
عباس نے شولے برساتی آنکھوں سے زمین کو گھورتے ہوئے اس مرتبہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا

” تم بے فکر رہو عباس ۔۔ خون کا بدلہ خون ہی ہو گا ۔۔”
سردار شیر دل نے عباس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے یقین دہانی کروائی اور پھر سے اپنی بات جاری رکھی

” لڑکی کا اس لیے مطالبہ کیا ہے کہ فی الوقت ہمیں یہی مناسب لگ رہا ہے ۔۔”

” مگر میں نکاح نہیں کرو گا ۔۔ مجھے محض اپنی بہن کا قاتل چاہیے ۔۔ لڑکی نہیں چاہیے ۔۔”
عباس نے صاف الفاظ میں انکار کیا تھا اس کا دل و دماغ ہرگز یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا

” عباس ۔۔ اگر لڑکی کے ساتھ نکاح نہیں کرو گے تو بھی ہم خون بہا میں لڑکی ہی لیں گے چاہے نکاح حویلی کے کسی ملازم کے ساتھ ہی کیوں نہ کروانا پڑا اس لڑکی کا ۔۔”
سردار شیر دل نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے گردن اکڑا کر کہا تو عباس نے بے یقینی سے باپ کو پکارا

” بابا جان ۔۔!”

” پھر کیا فیصلہ ہے تمہارا ۔۔”
انہوں نے بات سمیٹتے ہوئے نگاہیں اب عباس کی جھکی آنکھوں پر جمائے پوچھا

” آ آپ جانتے ہیں میری نسبت نورے کے ساتھ طے ہے ۔۔ “
عباس نے نگاہیں اب باپ کے چہرے پر رکھتے ہوئے ان کو یاد دلایا مبادہ وہ بھول تو نہیں رہے

” اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ یہ نکاح محض انتقام ہے ۔۔ جبکہ تمہاری شادی میں خود شان و شوکت سے نورے سے کرواؤں گا ۔۔ “
سردار شیر دل نے رخ مکمل عباس کی جانب کرتے ہوئے کہا

” بہرحال میں یہ نکاح نہیں کر سکتا ۔۔”
عباس اپنی بات پر قائم تھا

” وجہ ۔۔؟؟”

” مجھے اپنی بہن کے قاتل کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا بابا ۔۔ “
عباس کے لہجے میں جھلکتی نفرت کو سردار شیر دل نے باخوبی محسوس کیا

” کون کہہ رہا ہے تعلق رکھنے کو ۔۔ میں خود بھی نہیں چاہتا کہ تم اس لڑکی سے کوئی تعلق رکھو۔۔”
انہوں نے عباس کے کاندھوں کے گرد اپنا بازو حمائل کیا

” کیا یہ سب ضروری ہے ۔۔ ؟؟”
عباس نے جھنجھلا کر پوچھا تو سردار شیر دل نے اپنے فرمانبردار ، بہادر اور پروقار بیٹے کو دیکھتے ہوئے سرد آہ بھری

” اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں اور تم دو پہ انکار کر رہے ہو ۔۔”
انہوں نے اب التجائیہ انداز میں کہا

” چار شادیاں جائز ہیں مگر اس کے بھی اصول ہیں ۔۔ برابر کا انصاف رکھنا پڑتا ہے ۔۔ اور یہ بہت نازک معاملہ ہوتا ہے ۔۔”
عباس نے باپ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معاملے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا

” میرے اکلوتے بیٹے ہو تم عباس ۔۔ سرداد ہو تم گاؤں کے ۔۔ سرداروں کی طرح بات کرو ۔۔ بتاؤ نکاح کرو گے یا لوگ اسے تمہاری رکھیل سمجھیں ۔۔؟”
سردار شیر دل کی بات پر عباس نے جبڑے سختی سے بھینچ لیے یقیناً لفظ رکھیل سننا اس جیسے غیرت مند مرد کے لیے خاصا اذیت ناک تھا اپنے غصے پر قابو پانے کے لئے عباس نے کرسی کے ہینڈل پر اپنی گرفت سخت سے سخت کر لی یہاں تک کہ اس کا ہاتھ بے تحاشہ سرخ ہو گیا سردار شیر دل نے جب بیٹے کا ضبط کے باعث سرخ ہوا چہرہ دیکھا تو فاتحانہ انداز میں مسکرائے

” ہاں تو سردار عباس ہمدانی کیا فیصلہ ہے اب آپ کا ۔۔ ؟؟”
سردار شیر دل نے چند لمحوں بعد عباس کو پھر مخاطب کیا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا اور پھر کچھ دیر بعد نکاح شروع ہوا

//////////////////////////

” مم میں نن نہیں کروں گی نکاح ۔۔ !”
حُرّہ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہونے تھے کہ ایک تیس پینتیس سال کی کرخت عورت جو کہ سردار شیر دل کی حویلی کی ملازمہ تھی کے زوردار طمانچے نے حُرّہ کے وجود کو زمین بوس کر دیا

” کے کہا تو نے ۔۔؟ اک بار پھر سے بول ۔۔!”
ناہید جھک کر حُرّہ کے بالوں کو اپنے شکنجے میں سختی سے لیتے ہوئے غرائی کہ شدت درد سے بلکتی حُرّہ کراہنے لگی

” شکر کر لڑکی بڑے سردار کا کہ چھوٹے سردار کو راضی کر لیا انہوں نے ۔۔ نہیں تو حویلی میں چھوٹے سردار کی رکھیل بن کے رہ جاتی تو ۔۔ اور نخرے تو یوں کر رہی ہے تو جیسے آسمانوں سے اتری ہوئی حور ہے ۔۔ خبردار اگر مولوی صاحب کے سامنے نکاح کے لیے انکار کیا تو نے ۔۔ اتنا ماروں گی نا تجھے کہ ساری اکڑ ختم ہو جائے گی تیری ۔۔”
ناہید مسلسل حُرّہ کو جھنجوڑتی ہوئی غرا رہی تھی اور حُرّہ جیسی دبلی پتلی سی نازک لڑکی اس وقت ناہید کی بے رحمی کا شکار بنی ہوئی تھی وہاں موجود ایک دوسری ملازمہ ناہید کو چاہ کر بھی نہیں روک سکتی تھی جانتی تھی کہ یہ حکم بڑے سردار کا ہوگا

” مم میری جج جان لے لو مم مگر مم میں نکاح نہیں کروں گی ۔۔ “
ناہید کے بے رحمانہ تشدد کے بعد بھی حُرّہ کی زبان پر یہی الفاظ سن کر ناہید کا غصہ مزید بڑھ گیا

” ٹھیک ہے ۔۔ میں بڑے سردار کو پیغام بھجواتی ہوں کہ یہ لڑکی انکار کر رہی ہے ۔۔ اور تو سوچ نہیں سکتی اس کے بعد تیرا کیا حال ہوگا ۔۔ ارے سزا کے طور پر تجھے وحشیوں کے آگے نہ ڈلوا دیا تو میرا نام بدل دینا ۔۔ “
ناہید نے حُرّہ کے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے دھمکی دی اور اس کی معنی خیز بات سن کر حُرّہ نے اس پل اپنے لیے موت کی دعا کی
کوئی روشنی کی کرن نظر نہ آتے دیکھ حُرّہ نے خاموشی سے نکاح کر لیا بہرحال جو بھی تھا چاہے زندگی مزید کتنی ہی مشکل ہو گی مگر وہ کسی کی رکھیل نہیں بن سکتی تھی

کالے جوڑے میں نکاح کے بعد حُرّہ کو ناہید ہی گھسیٹتی ہوئی گاڑی تک لائی اور کب حویلی کی حدود میں گاڑی داخل ہوئی کب حُرّہ کو گھسیٹتے ہوئے حویلی میں لے جایا گیا ہوش اسے تب آیا جب سردار بی بی کے قدموں میں اسے کسی بے کار شے کی طرح پھینکا گیا بے تحاشہ درد کرتے وجود سے جان نکلتی محسوس کرتی حُرّہ نے جب سر اٹھایا تو سردار بی بی کی زوردار ٹھوکر سے ایک مرتبہ پھر دور جا گری

” ری ناہید اٹھا اس کو ۔۔!”
سردار بی بی ( سردار شیر دل کی زوجہ اور سردار عباس کی ماں) اپنے کاندھے پر پھیلائی ہوئی چادر کو درست کرتی ہوئیں دھاڑی وہاں موجود ہر ملازم ان کی دھاڑ پر کانپ گیا ناہید نے فوراً درد سے تڑپتی حُرّہ کو سختی سے بازو سے پکڑتے ہوئے سردار بی بی کے سامنے کھڑا کیا مگر جسم میں اٹھتی ٹیسوں سے حُرّہ کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ترین تھا اسی لیے ایک مرتبہ پھر سردار بی بی کے قدموں میں گر پڑی سردار بی بی نے حُرّہ کے کاندھوں سے پکڑتے ہوئے اپنے سامنے کیا اور اسے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگی
کالے منجھے ہوئے لباس میں بڑی سی کالی چادر جو کہ اس ساری کاروائی میں سر سے اتر کر کاندھوں پر آ گئی تھی لمبی چٹیا سے آدھے بال نکلے ہوئے تھے مار پیٹ کے باعث چہرہ اور ہاتھ سرخ ہو رہے تھے مسلسل بہتے آنسو ، سردار بی بی کو وہ لڑکی بمشکل سترہ اٹھارہ سال کی لگی تھی ایک پل کو اس لڑکی کی اجڑی بکھری حالت دیکھ کر ان کا ہاتھ اپنے دل پر گیا مگر وہ ان لڑکی ان کی بیٹی کے قاتل کے گھر سے آئی تھی یہ سوچ آتے ہی سردار بی بی نے حُرّہ کے رخسار پر زور سے طمانچہ رسید کیا

” تت تو ایک بات اپنے ذہن میں بیٹھا لے ۔۔ تو میرے بیٹے کے نکاح میں ضرور ہے مگر اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں کہ تو خون بہا میں آئی ہوئی ہے ۔۔ تو محض انتقام ہے ہمارا ۔۔ جس طرح ظالموں نے میری بیٹی کو مارا ہے نا اس سے برا حال کرے گا میرا عباس تیرا ۔۔ “
سردار بی بی حُرّہ کے رخساروں پر پے در پے طمانچہ رسید کرتی دھاڑ رہیں تھیں جب چیختی چنگھاڑتی اس کا گلا بیٹھ گیا تو انہوں نے روتی بلکتی حُرّہ کو اسی نا پسندیدہ چیز کی طرح زمین پر دے مارا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی

سردار بی بی کے جانے کے بعد ہر کوئی وہاں سے بوتل کے جن کی طرح غائب ہوا تھا مگر حُرّہ نے اپنے قریب آتے کسی کو محسوس کیا جب درد کرتے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر تھوڑا بلند کیا تو آنسوؤں کے باعث دھندلائی ہوئی آنکھوں سے سامنے کھڑی ایک نہایت خوبصورت لڑکی کو دیکھنے لگی جو گہرے رنگ کے جوڑے میں سر پر دوپٹہ لیے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی بے تاثر چہرہ لیے حُرّہ کے زخمی وجود کو دیکھ رہی تھی

///////////////////////
جاری ہے
ہاں جی تو کیسی لگی پہلی قسط
تفصیلی بتائیں گے تو زیادہ اچھا لگے گا مجھے
جتنا اچھا رسپونس دیں گے اتنی جلدی اگلی قسط ملے گی