Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 15
” یار اگر کوئی لڑکی پسند آ جائے تو کیا کرنا چاہیے ۔۔؟”
عالیان کے اچانک سوال پر احمد نے اسے ناسمجھی سے پوچھا
وہ دونوں اس وقت عباس کا انتظار کر رہے تھے جو کہ آج کل خاصا کم نظر آتا تھا مگر عالیان اور احمد نے کبھی شکوہ نہیں کیا تھا وہ جانتے تھے کہ عباس آفس کے بعد زیادہ سے زیادہ اپنی بیوی کو وقت دیتا ہے آج ان سب کا اکٹھا ہونے کا پلان تھا
” شادی کر لینی چاہیے ۔۔ “
احمد نے کاندھے اچکا کر عام سے انداز میں کہا
” ابے شادی بھی کر لوں گا ۔۔ پہلے تو میرے سوال کو صحیح طرح سمجھ کر جواب دے ۔۔ “
عالیان نے ماتھے پر بل ڈالے کہا
” اچھا اچھا بتا تجھے کون پسند آ گئی ۔۔ ؟”
احمد نے فوراً پوچھا مبادہ عالیان صاحب کا دماغ گھوم جائے اور کچھ بتائے ہی نہ
” یار مجھے عباس کی کزن پسند آ گئی ہے ۔۔ “
عالیان سنجیدگی سے بولا
” کیا واقعی ۔۔ ؟؟ سچ کہہ رہا ہے ۔۔ ؟ یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔ تجھے بھی کوئی پسند آئی ۔۔ عباس آتا ہے تو اس سے بات کرتے ہیں ۔۔ “
احمد نے زندگی میں عالیان کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے کوئی بات کرتے ہوئے دیکھ کر حیرت اور خوشی کے تاثرات لیے کہا
” جتنا سب آسان دیکھائی دے رہا ہے اتنا نہیں ہے ۔۔ “
عالیان ہنوز سنجیدگی سے بولا
” کیا مطلب ۔۔ ؟ مسئلہ کیا آخر ۔۔ ؟ کیا آسان نہیں ہے ۔۔ “
احمد کے پوچھنے پر عالیان نے طویل سانس خارج کیا
” میں نے پتہ کروایا ہے ۔۔ نورے عباس کے ساتھ بچپن سے انگیجڈ ہے ۔۔ “
وہ بظاہر عام سے انداز میں بولا تھا جبکہ احمد نے اس کا چہرہ بغور دیکھا جہاں کیا کچھ نہیں تھا بے چینی ، اضطراب اور شاید سب کچھ کھو دینے کا خوف
” مگر عباس کی تو اب شادی ہو گئی نا ۔۔ اور وہ حُرّہ بھابھی کے ساتھ بہت خوش ہے ۔۔ حُرّہ بھابھی کے لیے محبت عباس کی آنکھوں سے صاف جھلکتی ہے ۔۔ مجھے نہیں لگتا عباس دوسری شادی کا سوچے گا بھی ۔۔ “
احمد بھی معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے بول رہا تھا کیونکہ وہ دونوں ہی کافی حد تک عباس کے خاندانی اصولوں کو جانتے تھے
” ہاں میں یہ جانتا ہوں ۔۔ مگر ۔۔”
عالیان کے خاموش ہونے پر احمد نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا
” سب سے لڑ لوں گا مگر ۔۔ نورے پتہ نہیں میرا ساتھ قبول کرے گی یا نہیں ۔۔ “
بولتے ہوئے عالیان نے نگاہوں کا زاویہ بدل لیا مقصد آنکھوں میں آئی نمی چھپانا تھا مگر احمد دیکھ چکا تھا اور اس کے لیے عالیان کا یہ روپ بلکل نیا تھا کہ عالیان کسی لڑکی کے معاملے میں اس قدر سنجیدہ تھا
” پیار کرتے ہو نورے سے ۔۔ ؟؟”
احمد نے جانچتی نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
” پہلی نظر کی محبت پر یقین نہیں تھا مجھے ۔۔ مگر ۔۔ !”
بولتے بولتے وہ پھر خاموش ہوا تھا
” مگر ۔۔؟؟”
احمد نے خاموشی کو توڑا
” مگر مجھے ہو گئی نورے سے محبت ۔۔ احمد میں اس کی آنکھوں کی اداسی ، اور چہرے کا اضطراب ، ختم کر دوں گا ۔۔ اتنی محبت دوں گا اسے کہ وہ سب بھول جائے گی ۔۔ “
عالیان کی معنی خیز بات پر احمد نے چونک کر اسے دیکھا تھا
” ایسی لڑکی کے ساتھ محبت تکلیف دیتی ہے عالیان جس کی آنکھوں میں پہلے سے ہی کسی اور کے خواب ہوں ۔۔ “
احمد نے اسے حقیقت سے روشناس کروانا چاہا تو عالیان نے نفی میں سر ہلایا
” مجھے فرق نہیں پڑتا اس بات سے ۔۔ میں نورے کو اتنی محبت دوں گا کہ اسے مجھ سے نہ بھی محبت ہوئی لیکن اتنا یقین ہے مجھے کہ میری محبت سے ہی محبت ہو جائے گی ۔۔ “
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ احمد نے مسکرا کر اسے دیکھا جو کہ آج بہت بڑے دل والا ثابت ہو رہا تھا
” عباس کو بتائے گا یہ سب ۔۔ ؟”
” ہاں مگر ابھی نہیں ۔۔ “
” کیوں ۔۔ ؟؟ ابھی کیوں نہیں ۔۔ ؟”
احمد نے ابرو اچکا کر پوچھا
” کیونکہ پہلے میں نورے کو بتانا چاہتا ہوں ۔۔ “
عالیان کے جواب پر احمد نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا
” اگر تیری محبت سچی ہے تو ۔۔ تو ضرور اپنی محبت کو پا لے گا ۔۔ “
احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عالیان نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ایک اداس چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرا تھا جس کے باعث اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
////////////////////////
زندگی عباس جیسے ہمسفر کے ساتھ اس قدر خوبصورت تھی کہ اب تو ہمہ وقت حُرّہ کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رہتی تھی اور حُرّہ کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر وہ خود بھی پرسکون رہتا تھا وہ کافی حد تک حُرّہ کو زندگی کی طرف واپس لے آیا تھا اب حُرّہ کسی بھی ڈر اور خوف کے بغیر اس سے ہمکلام ہوتی تھی اور ڈھیر ساری باتیں کرتی تھی وہ بھی اسے خاموش بیٹھ کر سنتا تھا وہ اس قدر خوبصورت بولتی تھی کہ عباس اس کی باتیں یاد کر کے مسکراتا رہتا تھا
دن ہفتوں میں تبدیل ہو رہے تھے اور ہفتے مہینوں میں بدل رہے تھے حُرّہ کی زندگی کی بہاریں عروج پر تھیں صبح آنکھ عباس کے محبت بھرے لمس سے کھلتی پھر عباس اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر کھلاتا حُرّہ اسے آفس کے لیے مسکراتے ہوئے رخصت کرتی دن گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں میں محبت بڑھتی جا رہی تھی عباس کوئی دکھ ، تکلیف حُرّہ کے پاس سے بھی نہیں گزرنے دیتا تھا اس دوران انہوں نے ڈاکٹر سے حُرّہ کی ہی خواہش پر بچے کا جنس معلوم کیا اور بیٹی کی آمد کا سن کر حُرّہ نے کھوجتی نگاہوں سے عباس کو دیکھا جبکہ عباس کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکراہٹ نے بسیرا کر لیا تھا عباس کی خوشی دیکھ کر حُرّہ بھی ہلکی پھلکی ہو گئی تھی ورنہ اسے یہی خوف تھا کہ اگر بیٹی ہو جاتی ہے تو کیا عباس کی خوشی ہنوز ویسی ہی رہتی ہے
اس دوران وہ ہفتے بعد حویلی چلا جاتا تھا دو تین گھنٹے بعد واپس حُرّہ کے پاس بنگلے میں آ جاتا سردار شیر دل نے اسے اپنے طور پر بہت سمجھایا کہ وہ حُرّہ کو لے کر حویلی آ جائے سردار بی بی کی طرف سے اس مرتبہ کوئی مسلہ نہیں ہو گا مگر عباس مناسب جواب دے کر انہیں انکار کر دیتا سردار بی بی نے بھی کافی جذباتی کر کے عباس کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر عباس جلد آنے کا کہہ کر انہیں ٹال دیتا
حُرّہ کو عباس کے ساتھ شہر میں رہتے ہوئے کافی مہینے گزر گئے چھ مہینے پر لگا کر ایسے گزرے کے معلوم ہی نہ پڑا حُرّہ تو محض عباس کی ہمسفری میں خوشیاں سمیٹتی رہی
” کیا ہوا حُرّہ آج آپ بے چین کیوں ہو رہیں ہیں ۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی ۔۔ ؟؟”
وہ ناشتہ بنا کر حُرّہ کو جگانے کمرے میں گیا تو حُرّہ پہلے ہی بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے اضطرابی کیفیت میں بیٹھی تھی
” مم میں ٹھیک ہوں ۔۔ بس وہ عجیب بے چینی ہونے لگی تو آنکھ کھل گئی ۔۔ “
حُرّہ نے بمشکل مسکراتے ہوئے جواب دیا ورنہ وہ جانتی تھی عباس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس ہی رہ جائے گا جبکہ آج وہ خود بتا رہا تھا کہ اس کے بہت ضروری کیس کی سماعت تھی
” ہمم چلیں فریش ہو کر ناشتہ کریں ۔۔ پھر ڈاکٹر کر پاس چلیں گے ۔۔ “
عباس نے
حُرّہ کی بات پر عباس نے فکرمندی سے کہا
” میں ٹھیک ہوں پھر ہاسپٹل جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ نے احتجاج کرنا چاہا کیونکہ اس کا دل کہیں جانے کو نہ تھا
” حُرّہ میری جان میں آپ کی اور اپنی بچی کی صحت کے معاملے میں لاپرواہی ہرگز نہیں کر سکتا ۔۔ چلیں میری جان اٹھیں ہمت کریں ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کے بھرے بھرے وجود کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہتے ہوئے سہارا دے کر اٹھایا تو حُرّہ مسکراتے ہوئے اٹھ گئی اسے عباس کا اتنا خیال رکھنا ہمیشہ سے سکون دیتا تھا
ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر تسلی کرنے کے بعد عباس نے حُرّہ کو گھر چھوڑا اور خود اپنے آفس چلا گیا پیچھے حُرّہ کی طبیعت کچھ دیر تو بہتر رہی مگر پھر سے عجیب حالت ہونے لگی بار بار دل میں خیال آئے کی عباس کو بلا لے مگر پھر یہ سوچ کر صبر کرنے کی کوشش کرتی کہ عباس پریشانی کے عالم میں گاڑی چلا کر آئے گا یہی سوچتے ہوئے عباس کے آنے کا انتظار کرنے لگی
شام ہونے والی تھی عباس کے آنے کا وقت بھی ہو گیا تھا مگر حُرّہ کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی جب عباس نے کمرے میں قدم رکھا تو حُرّہ کو آڑا ترچھا بیڈ پر لیٹا دیکھ کر پریشانی میں اس کی جانب لپکا
” حُرّہ کیا ہوا ہے میری جان ۔۔ ؟”
حُرّہ کو اپنے سینے سے لگائے وہ اس کے پسینے سے شرابور وجود کو خود میں سمیٹے پوچھ رہا تھا
” و وہ ۔۔ !”
حُرّہ سے کچھ بھی بولا نہیں گیا اس کی حالت تو اچانک ہی بگڑی تھی عباس نے فوراً اسے اپنی باہوں میں بھرا اور باہر کی جانب بڑھا
ہاسپٹل پہنچ کر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حُرّہ کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا پیچھے عباس اضطرابی کیفیت میں کوریڈور کے چکر کاٹ رہا تھا کچھ دیر بعد ڈاکٹر کے باہر آنے پر وہ ان کی جانب لپکا
” ڈاکٹر کیا ہوا ہے اچانک میری وائف کو ۔۔ ؟ وہ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔ ؟؟”
لہجے میں فکرمندی لیے وہ پوچھ رہا تھا
” ایکچولی مسٹر عباس آپ کی وائف کا بی پی شوٹ کر گیا ہے ۔۔ اس لیے ہمیں فوری آپریشن کرنا ہوگا ۔۔ “
ڈاکٹر نے عباس کو دیکھتے ہوئے
” آپریشن ۔۔ ؟؟ مگر اتنی جلدی ۔۔ ؟ ابھی تو کافی وقت ہے ڈاکٹر ۔۔ “
ڈاکٹر کی بات سن کر عباس نے پریشانی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں کہا
” جی میں جانتی ہوں ابھی سیون منتھ ہے آپ کی وائف کا بٹ ۔۔ اگر ابھی آپریشن نہ کیا تو آپ کے بے بی کے ساتھ ساتھ آپ کی وائف کی زندگی بچانا بھی مشکل ہو جائے گا ۔۔”
ڈاکٹر کے انکشاف پر عباس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے
” نن نہیں ۔۔ ! حُرّہ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ڈاکٹر ۔۔ شی از مائی لائف ۔۔ “
وہ بے خودی کے عالم میں بولا تھا
” آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ بس دعا کریں ۔۔ “
ڈاکٹر حُرّہ کے لیے عباس کی محبت جانتی تھی وہ پہلے مہینے سے ہی حُرّہ کو اس کے پاس لاتا تھا اور ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے ہر طرح کے کپلز سے سامنا ہوتا رہتا تھا مگر عباس جیسے شوہر بہت نایاب دیکھنے کو ملتے تھے
ڈاکٹر اسے تسلی دے کر جا چکی تھی جبکہ عباس کو اس وقت کسی اپنے کے سہارے کی اشد ضرورت تھی جو اسے اس نازک صورتحال میں تسلی دیتا مگر خدا کی ذات کے سوا کوئی نہیں تھا بے ساختہ عباس کے قدم ہسپتال میں موجود مسجد کی جانب بڑھے خالق کی بارگاہ میں وہ رو کر حُرّہ اور اپنی ہونے والی اولاد کے لیے دعائیں کر رہا تھا
اور جب کوئی سچی نیت سے دل کی گہرائیوں سے اپنے رب کو پکارتا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ رب جو ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے وہ کیسے نہ اپنے بندے کی سنے
بیٹی کی پیدائش کی خبر جب عباس کو دی گئی تو بے اختیار وہ سجدہ شکر میں جھک گیا
” حُرّہ کیسی ہیں ڈاکٹر اور میری بیٹی ۔۔ ؟؟”
آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی سے صاف کرتے ہوئے وہ آپریشن تھیٹر سے نکلتی ڈاکٹر سے پوچھنے لگا
” آپ کی وائف اب بلکل ٹھیک ہیں ۔۔ لیکن پری میچوئر ڈلیوری کی وجہ سے آپ کی بیٹی کو کچھ دن انڈر ابزرویشن رکھنا پڑے گا ۔۔ “
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تو عباس کو ایک طرف خوشی بھی تھی دوسری طرف اپنی بیٹی کے لیے پریشانی بھی تھی
” میری بیٹی ٹھیک ہے نا ڈاکٹر ۔۔ ؟؟”
لہجے میں کئی ڈر لیے وہ پوچھ رہا تھا کہ اگر حُرّہ کو ہوش آیا اور اپنی بیٹی سے ملنے کا کہا تو کیسے اسے سمجھائے گا
” جی جی مسٹر عباس آپ کی بیٹی ٹھیک ہے لیکن کچھ دن ہاسپٹل میں رکھنا ضروری ہے ۔۔ “
ڈاکٹر نے عباس پریشان ہوتے دیکھا تو فوراً تسلی دیتے ہوئے بولیں
” میں اپنی بیوی اور بیٹی سے مل سکتا ہوں؟؟”
بے چینی سے پوچھا گیا تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
پھر عباس پہلے حُرّہ سے ملا جو بے ہوش لیٹی ہوئی تھی حُرّہ کی پیشانی پر محبت سے لب رکھتے ہوئے وہ اس کے معصومیت سے سجے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا
” تھینکس حُرّہ مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے ۔۔ “
برنولا لگے ہوئے حُرّہ کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے وہ محبت سے چور انداز میں بولا تھا
کچھ دیر حُرّہ کے پاس رکنے کے بعد وہ نرس کے ساتھ نرسری میں آیا جہاں اس کی ننھی سی بیٹی موجود تھی عباس شیشے میں سے اسے دیکھنے لگا جو بلکل اسی کے نین نقش والی تھی اسے دیکھ کر عباس کو اپنے بابا اور ماں کا خیال آیا یقیناً اپنی پوتی کو دیکھ کر ان کے دل میں حُرّہ کے لیے کچھ گنجائش بنے
ہاسپٹل کے کوریڈور میں آ کر عباس نے سردار شیر دل کے نمبر پر کال ملائی پہلی بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی
” السلام علیکم بابا سرکار ۔۔!”
لہجے میں خوشی سموئے اس نے سلام کیا
” وعلیکم السلام میرا شیر بیٹا کیسا ہے ۔۔ ؟”
عباس کے لہجے کی خوشی محسوس کرتے ہوئے وہ بھی مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے
” بابا میں ٹھیک ہوں ۔۔ اور بہت خوش بھی ہوں ۔۔”
خوشی عباس کی آواز دے صاف جھلک رہی تھی جسے محسوس کرتے ہوئے سردار شیر دل کا دل بھی خوش ہو گیا تھا
” خدا میرے شیر کو ہمیشہ خوش ہی رکھے ۔۔ لیکن باپ کو بتاؤ تو سہی کیا وجہ ہے خوشی کی ۔۔ ؟”
وہ اسے دل سے دعا دیتے ہوئے آخر میں پوچھنے لگے
” بابا میری بیٹی ہوئی ہے ۔۔ “
عباس کے بولنے پر ایک پل تو سردار شیر دل کے مسکراتے لب سکڑے مگر دوسرے ہی پل عباس کی خوشی کا سوچ کر وہ بھی مسکرانے لگے
” مبارک ہو میرے بیٹے ۔۔ “
خواہش تو ان کی وارث کی تھی کہ عباس کا بیٹا ہوتا مگر عباس کے لہجے کی خوشی انہیں کوئی بھی بات کرنے سے روک گیا
” آپ کو بھی مبارک ہو بابا ۔۔ آپ دادا بن گئے ۔۔ “
سردار شیر دل کے جانب سے خوشی سے دی گئی مبارک پر عباس کی خوشی میں اضافہ ہوا تھا
“ہاہاہا چلو ہم آتے ہیں اپنے بیٹے کے پاس ۔۔ اپنی پوتی کو دیکھنے ۔۔ “
وہ قہقہہ لگا کر بولے تھے
” بابا وہ بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ اس کی آنکھیں ، اس کی ناک ، اس کے ہونٹ آپ دیکھیں گے تو یہی کہیں گے ۔۔ “
عباس کی آنکھوں کے سامنے اس نازک چھوٹی سی کلی کا نقش ابھرا تھا
” ہاہاہاہا میرا بیٹا اولاد اپنے ماں باپ پہ ہی جاتی ہے ۔۔ جیسے تم اور عابی مجھ پے گئے تھے ۔۔ “
وہ بے اختیار بولے تھے جبکہ ان کی بات پر دونوں اطراف چند پل کے لیے خاموشی چھا گئی عابی کے ذکر پر دونوں باپ بیٹے کے دل میں ٹیس اٹھی تھی
” ماں آئیں گی بابا ۔۔ ؟؟”
عباس نے چند لمحوں بعد استفسار کیا
” ہاں وہ پھر آ جائے گی ۔۔ “
سردار شیر دل نے مختصر جواب دیا
//////////////////////////
حُرّہ کو ہوش آ چکا تھا اور پہلی بات جو اس نے کی تھی وہ یہی تھی کہ اسے اپنی سے ملایا جائے جب نرس سے حُرّہ نہ سمجھی تو وہ ڈاکٹر کے کہنے پر عباس کو بلانے گئی عباس جب کمرے میں داخل ہوا تو حُرّہ کی جانب بڑھا
” سردار مم مجھے میری بیٹی سے کیوں نہیں ملا رہے یہ سب ۔۔ ؟ پلیز مجھے میری بیٹی لا دیں ۔۔ “
عباس کے قریب آنے پر حُرّہ لیٹے سے بیٹھتے ہوئے بولی تو عباس نے اسے سہارا دیا
” حُرّہ ریلیکس میری جان ۔۔ ہماری بیٹی بلکل ٹھیک ہے اور بہت جلد آپ کے پاس ہوگی ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کے چہرے پر خوف کی تحریر پڑھ کر نرمی سے سمجھایا
” مم مگر ابھی کیوں نہیں ۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا ۔۔ ؟”
حُرّہ نے عباس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
” جانم آپ کو پتہ ہے نا پری میچوئر ڈلیوری ہوئی ہے ۔۔ آپ کی اور ہماری بیٹی کی جان بچ گئی یہی بہت ہے ۔۔ اس لیے کچھ دن دعا کو انڈرابزرویشن رکھیں گے ۔۔ “
عباس نے اسے ساتھ لگائے نرمی سے سمجھایا
” د دعا ۔۔ ؟”
حُرّہ نے چونک کر عباس کو دیکھا جو اسی کو دیکھتا اب مسکرا رہا تھا
” پتہ ہے آپ کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی تھی نا ۔۔ میں نے خدا کے سپرد کر دیا آپ کو اور اپنی بیٹی کو ۔۔ یہ شاید مجھ ناچیز پر کرم کیا رب نے کہ میری دعا قبول ہو گئی اور میری بیوی اور بیٹی ٹھیک ہے ۔۔ اسی لیے میں نے ہماری بیٹی کا نام دعا سوچا ہے ۔۔ کیسا لگا آپ کو ۔۔ ؟”
عباس نے حُرّہ کے نقاہت بھری آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے آخر میں سوال کیا
” بہت اچھا ۔۔ “
مسکراتے ہوئے حُرّہ نے مختصر کہا
” سب باہر آئے ہوئے ہیں عالیان ، احمد ۔۔ اور بابا بھی دعا کو دیکھنے آئے تھے ۔۔ پورے ہاسپٹل میں میٹھائی بٹوائی انہوں نے ۔۔ “
عباس کے خوش ہو کر بتانے پر حُرّہ کو بھی خوشی محسوس ہوئی
” میری بیٹی کیسی ہے ۔۔ کس کی طرح ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ نے اشتیاق سے پوچھا
” میری بیٹی بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ “
عباس آنکھوں میں شرارت لیے بولا تھا جبکہ حُرّہ نے پرسکون ہوکر سر عباس کے کاندھے پر ٹکا لیا آنکھیں موند لیں وہ یہی چاہتی تھی کہ ان کا بچہ بلکل اپنے باپ کے جیسا ہو
اگلے دن حُرّہ کے ضد کرنے پر عباس اسے دعا کے پاس لے کر گیا جہاں اپنی بیٹی کو دیکھ کر حُرّہ کی آنکھیں بھیگ گئیں چند دن بعد دعا کو بھی ہسپتال سے چھٹی ہوئی تو عباس اور حُرّہ نے پہلی مرتبہ دعا کو گود میں اٹھایا عباس نرمی سے دعا کو گود میں اٹھائے بار بار اس کے روئی جیسے ہاتھوں پر شفقت بھرا بوسہ دے رہا تھا جبکہ حُرّہ مسکراتے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے انہیں دیکھ رہی تھی اس وقت اسے اپنے ماں باپ کی شدت سے یاد آئی تھی بہتے آنسوؤں کو فوراً صاف کیا کیونکہ وہ جانتی تھی اسے روتا دیکھ کر عباس پریشان ہو جائے گا
دعا کو لے کر جب وہ دونوں گھر پہنچے تو عالیان اور احمد نے ان کے استقبال کے لیے گھر کو بہت اچھے سے سجایا ہوا تھا ڈھیر سارے تحفے تحائف اور کیک دیکھ کر حُرّہ کو بہت اچھا لگا بے اختیار آسمان کی جانب چہرہ بلند کیا اور پرنم آنکھوں سے دل میں ہر نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا
/////////////////////////
جاری ہے
اپنی بے حد قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں
