Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 9

” سلام سرکار ۔۔!”
عباس کو گاڑی سے نکلتا دیکھ کر شہزاد نے فوراً با ادب ہو کر سلام کیا

جبکہ باقی گارڈز اور ملازمین بھی اچانک عباس کی حویلی آمد پر ہڑبڑا گئے اور مؤدب ہو کر کھڑے ہو گئے عباس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور اپنا بیگ اور لیپ ٹاپ گاڑی سے نکالا جسے آگے بڑھ کر شہزاد نے تھام لیا اب وہ اپنے کالے کوٹ کا بٹن کھول کر اپنی سفید شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑتے ہوئے ایک نظر ملازمین اور گارڈز پر ڈالتا قدم قدم چلتا آگے بڑھ رہا تھا
وہ آفس سے سیدھا حویلی کے لیے نکل گیا تھا کل عالیان اور احمد کی باتوں کے بعد وہ بہت بے چین ہو گیا تھا رہ رہ کر حُرّہ کا خیال ستا رہا تھا

” اور شہزاد سب ٹھیک رہا ۔۔؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا ۔۔؟”
اپنے پیچھے چلتے شہزاد سے سرسری سا پوچھا

” جی سرکار سب ٹھیک ہے ۔۔ لیکن ۔۔!”
شہزاد کہتا کہتا جھجھکتے ہوئے رک گیا تو عباس کے قدم رک گئے عباس کے رکنے پر شہزاد بھی رک گیا

” کیا ہوا ۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔ ؟”
عباس ماتھے پر بل ڈالے پوچھ رہا تھا

” صاحب آپ نے کہا تھا کہ ہر ایک پر نظر رکھنی ہے ۔۔ حویلی میں کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے ۔۔ تو ۔۔”
شہزاد کہتے ہوئے پھر سے رک گیا

” آگے بولو شہزاد ۔۔ ؟ کیا بات ہے ۔۔؟”
عباس کے لہجے میں سختی تھی جسے محسوس کر کے شہزاد کانپ گیا

” سرکار آپ جانتے ہیں میری چھوٹی بہن سردار بی بی کی خدمت کرتی ہے وہ بتا رہی تھی کہ چھوٹی بی بی کے ساتھ حویلی میں بہت برا سلوک ۔۔ “
شہزاد پھر بتاتا ہوا خاموش ہو گیا اور سر جھکا لیا جبکہ عباس پورا اس کی جانب متوجہ ہو چکا تھا

” حُرّہ کے بارے میں بات کر رہے ہو تم ۔۔ ؟؟”
عباس نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا

” جج جی سرکار ۔۔ “
شہزاد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” ہاں بولو ۔۔!”
حُرّہ کے ذکر پر عباس کو تشویش ہوئی تھی

اور پھر شہزاد نے ایک ایک بات جو جو حُرّہ کے ساتھ ہو رہا تھا جو حویلی کے مالکان کرتے تھے اور جو ملازمین کرتے تھے سب عباس کے گوش گزار کر دیا کہ کیسے سردار بی بی اور ناہید نے کتنی مرتبہ اس پر تشدد کیا ، اور اس کے ساتھ نوکروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے ، وہ کام جو چار ملازمہ مل کر کرتیں تھیں وہ اکیلی حُرّہ سے کروائے جاتے ہیں ، سٹور کی طرح کے کمرے میں رکھا گیا ہے اسے جہاں بستر تک میسر نہیں ہے ، یہاں تک کہ چوری کا الزام بھی اس پر لگایا گیا ، پھر سزا کے طور پر اس کا کھانا پینا بند کر دیا گیا ، بات بات پر تذلیل کرنا ،
شہزاد نے سب بتا دیا اور جیسے جیسے وہ بتاتا جا رہا تھا عباس کا چہرہ غصے کے باعث سرخ ہو رہا تھا ، گردن کی رگیں تن گئی وہ جبڑے سختی سے بھینچے کھڑا ساری باتیں سن رہا تھا شہزاد نے اپنی بات مکمل کر کے سر اٹھا کر عباس کو دیکھا اور عباس کے چہرے پر سختی دیکھ کر کانپ کر چند قدم پیچھے ہوا

” بابا سرکار کو معلوم ہے یہ سب ۔۔؟؟”
عباس نے مٹھیاں سختی سے بھینچے پوچھا

” جج جی سرکار ۔۔ اور ۔۔”
شہزاد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” اور کیا ۔۔ “
اپنے غصے کو ضبط کیے عباس نے پوچھا

” سرکار صبح سویرے چھوٹی بی بی ۔۔ کو حکیمہ کے کمرے سے نکلتے دیکھا ہے میں نے ۔۔ شاید وہ بیمار ہیں ۔۔ “
شہزاد نے آج صبح کا واقعہ بھی بتانا مناسب سمجھا جب اس نے حُرّہ کو سر تھام کر لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے حکیمہ کے کمرے سے نکل کر حویلی کے اندر جاتے دیکھا

” ہممم ۔۔”
عباس نے محض ہنکار بھرا

اور تیز تیز قدم اٹھاتا حویلی کی جانب بڑھ گیا جبکہ شہزاد جانتا تھا کہ عباس کتنے غصے میں گیا ہے

” ظلم کرتے وقت تو یہ بڑے لوگ خدا بن جاتے ہیں ۔۔ کسی غریب کو تو اپنے آگے کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اپنے انجام سے نہیں ڈرتے ۔۔ اب چھوٹے سرکار سبق سکھائیں گے سب کو۔ ۔ “
ایک طرح سے تو وہ ڈر بھی رہا تھا یہ باتیں بتاتے ہوئے ۔۔ جانے سردار کے لیے وہ لڑکی کوئی حیثیت رکھتی بھی ہے یا نہیں ۔۔ مگر عباس کا غصہ دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے عباس کو بتا کر ٹھیک کیا عباس کو یہ سب جاننے کا پورا حق ہے کہ اس کے پیچھے یہاں ہو کیا رہا ہے

///////////////////////////

وہ اپنے اطراف میں دیکھتا ہوا حویلی میں داخل ہوا یقیناً اس کی آنکھیں حُرّہ کی تلاش میں تھیں لاؤنج کی جانب بڑھا تو اسے محسوس ہوا جیسے حویلی کے تمام مکین لاؤنج میں موجود ہیں
عباس جب لاؤنج میں داخل ہوا تو اس کے کانوں میں سردار بی بی کی کرخت آواز پڑی یقیناً وہ کسی کو ڈانٹ رہیں تھیں اور جھٹکا عباس تو تب لگا جب سردار بی بی نے حُرّہ کو سخت سست سناتے ہوئے دھتکارا اس سے پہلے حُرّہ بری طرح زمین پر گرتی عباس نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا کاندھوں سے تھام کر اپنے سہارے کھڑا کیا اور اسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا
وہ کالی چادر کو اچھی طرح اوڑھے ہوئے تھی ،جبکہ رنگت ذرد ، چہرے پر نیل کے نشان ، آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے سارے غموں کی گواہی دے رہے تھے ایک پل کو عباس نے حُرّہ کی حالت دیکھ کر کرب سے آنکھیں میچ لیں لاؤنج میں اس وقت سردار شیر دل، سردار بی بی ،ناعمہ اور نورے سمیت چند ملازمین بھی موجود تھے عباس کو دیکھ کر لاؤنج میں بلکل سناٹا چھا گیا جبکہ حُرّہ بھی چونک کر عباس کو دیکھ رہی تھی

” عع عباس ۔۔ مم میرے بیٹے تت تم۔ ۔ ؟”
سردار بی بی اپنی نشست سے کھڑی ہوتی ہوئیں عباس کی جانب بڑھی جب عباس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں وہیں روک دیا جبکہ حُرّہ نے عباس کے تیور دیکھ کر پیچھے ہونا چاہا مگر عباس نے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ لگا لیا
سردار بی بی اور سردار شیر دل عباس کے سرخ چہرے اور بگڑے تیور دیکھ کر ٹھٹھک گئے

“یہ کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے حُرّہ ۔۔ ؟؟ آپ نے اپنا بلکل بھی خیال نہیں رکھا ۔۔ ؟”
عباس نے سب کو نظرانداز کر کے حُرّہ کے آنسو اپنے ہاتھوں کی پوروں سے صاف کرتے ہوئے نہایت نرمی اور فکرمندی سے پوچھا جبکہ حُرّہ نے جواباً اس کے سینے پر سر رکھ دیا اور بے آواز رونے لگی عباس کو اچانک دیکھ کر مزید اس کا نرم انداز دیکھ کر ہمیشہ کی طرح حُرّہ بکھر گئی
جبکہ حویلی کے مالکان اور ملازمین یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے عباس کا نرم لمس اور انداز وہ بھی حُرّہ کے لیے دیکھ کر نورے کے آنسو بہنے لگے

” آپ کو اس طرح دیکھ کر کتنی اذیت پہنچی ہے مجھے ۔۔؟؟ اور جانتی ہیں اس طرح رو کر مجھے مزید تکلیف دے رہی ہیں آپ ۔۔ “
حُرّہ کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے عباس نرم مگر اتنی بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ وہاں موجود ہر شخص باآسانی سن رہا تھا

” آپ ایک بار مجھے بتا دیتیں حُرّہ ۔۔ کہ یہ سب ہو رہا ہے آپ کے ساتھ ۔۔ مگر نہیں مجھے خود سمجھنا چاہیے تھا کہ ۔۔ جو لوگ انسانوں کی انسانیت کے معیار سے گری ہوئی رسموں کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔۔ وہ کسی بے قصور کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی رواں رکھ سکتے ہیں ۔۔”
حُرّہ کے چہرے پر نیل دیکھ کر وہ بے حد سفاک انداز میں سردار شیر دل کی جانب دیکھتے ہوئے جتا کر کہہ رہا تھا

” عباس ۔۔!”
سردار شیر دل نے اس کی بات پر کچھ کہنا چاہا تھا جب عباس نے ان کی جانب رخ کیا

” میں پوچھ سکتا ہوں یہ کیسا سلوک ہو رہا ہے میری بیوی کے ساتھ ۔۔ ؟؟”
عباس نے بے حد سرد انداز میں پوچھا وہاں موجود تمام ذی روح نہایت توجہ اور حیرانگی سے سب دیکھ اور سن رہا تھا

” عباس تمہیں اس لڑکی کے ساتھ ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ جانتے ہو نا یہ تمہاری بہن کے قاتل کے خاندان سے ہے ۔۔”
مزید سردار بی بی سے برداشت نہیں ہوا تبھی بلند آواز میں دھاڑیں ان کے بیٹے نے ان سے تو ان کا حال بھی نہیں پوچھا تھا اس ونی کے ساتھ ہمدردی دیکھ کر تو جیسے ان کے لیے برداشت کرنا ناممکنات میں سے تھا

” قانون کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ قتل اگر ایک شخص نے کیا ہے تو ۔۔ سزا سارے خاندان کو دو ۔۔؟”
عباس نے سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا تو سردار بی بی پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو اس طرح بات کرتا دیکھ کر جیسے سکتے میں آ گئی

” مت بھولو عباس یہ لڑکی خون بہا میں آئی ہے ۔۔ “
اس مرتبہ سردار شیر دل نے دبی دبی آواز میں بیٹے کو مخاطب کیا

” مجھے محض اتنا پتہ ہے کہ یہ لڑکی میرے نکاح میں آئی ہے ۔۔اور میری بیوی ہے ۔۔ “
عباس نے اب باپ کو دیکھتے ہوئے نہایت سرد انداز میں کہا

” خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی صرف ونی ہوتی ہے ۔۔ بیوی کی حیثیت اسے نہیں دی جاتی ۔۔”
سردار بی بی نے عباس کو دیکھتے لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے کہا

” جس سے نکاح کیا جائے اس کو بیوی کی حیثیت بھی دی جاتی ہے ۔۔ اور اس کے ہر طرح سے حقوق بھی پورے کیے جاتے ہیں ماں جی ۔۔”
عباس نے انہیں کے انداز میں انہیں جواب دیا

” ہم نہیں مانتے اس لڑکی کو تمہاری بیوی ۔۔!”
سردار بی بی غصے میں دھاڑیں تھیں

” اماں جان کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نہیں ہو گا ۔۔ سارے گاؤں کے سامنے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق گواہان کی موجودگی میں نکاح ہوا ہے ۔۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حُرّہ میرے نکاح میں ہیں ۔۔ پھر یہ نکاح چاہے کسی بھی رسم کے تحت ہوا ہو میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اب حُرّہ میری بیوی ہیں ۔۔ “
عباس نے آواز کو اتنا رکھا تھا کہ ہر کوئی سن رہا تھا حُرّہ کے لیے عباس کو ڈھال بنا دیکھ کر نورے سمیت ہر کوئی سانس روکے کھڑا تھا

” یہ دشمنوں کی بیٹی ہے عباس ۔۔ !”
سردار بی بی بلند آواز میں بولیں

” مگر بے قصور ہے ماں جی ۔۔ !”
عباس نے لہجے میں دکھ لیے کہا

” میں جان سے مار دوں گی اس لڑکی کو ۔۔ اس نے جادو کر دیا ہے میرے بیٹے پر ۔۔”
سردار بی بی طیش کے عالم میں غراتی ہوئیں حُرّہ کی جانب بڑھیں جب عباس کے الفاظ نے ان کے قدم وہیں روک دیے

” ذرا سی تکلیف بھی ہوئی اگر حُرّہ کو ماں جی تو یاد رکھئیے گا آپ کا بیٹا پہلے مر جائے گا ۔۔ “
عباس نے اپنے کوٹ کے اندر سے پسٹل نکال کر اپنے ماتھے پر رکھ لی جبکہ حُرّہ یہ منظر دیکھ کر خوف کے مارے کانپنے لگی

” عباس ۔۔!”
سردار بی بی نے عباس کے ماتھے پر پسٹل دیکھ کر بے یقینی سے اسے پکارا

” یہ لیں پہلے اپنے بیٹے کو ماریں پھر کسی کو مارئیے گا ۔۔”
عباس نے پسٹل سردار بی بی کے سامنے کرتے ہوئے پھر سے کہا تو سردار شیر دل نے آگے بڑھ کر عباس کے ہاتھوں سے پسٹل لے لی

” کیا ہو گیا ہے عباس ۔۔ صرف ایک تم کل کائنات ہو ہماری ۔۔ اس طرح کر کے کیوں جان نکال رہے ہو ہماری ۔۔”
سردار شیر دل تڑپ کر آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے بولے

” آپ نہیں جانتے بابا جان ۔۔ مجھے ماں جی کا یہ روپ دیکھ کر کتنا دکھ ہوا ہے ۔۔ آپ جانتے ہیں ساری عمر اب میں حُرّہ سے نظریں نہیں ملا پاؤں گا ۔۔ کہ میری بیوی ہو کر اسے اتنے درد ناک شب و روز گزارنے پڑے ہیں ۔۔ شرم کا مقام ہے میرے لیے بابا جان کہ حویلی کے ملازمین سردار کی بیوی سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ “
عباس کے لہجے اور انداز میں درد بول رہا تھا یقیناً اس کا مان اور بھروسہ ٹوٹا تھا جو اس نے اپنے ماں باپ پے کیا تھا شہزاد کی زبانی حُرّہ پر ہوئے ظلم کی داستان سن کر مزید حُرّہ کی حالت دیکھ کر اس کا دل تڑپ رہا تھا کہ کس حال میں رہی ہو گی

سردار شیر دل نے بیٹے کے الفاظ سن کر ندامت سے سر جھکا لیا جبکہ عباس نے پھر اپنا رخ حُرّہ کی جانب کیا اور اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیے

” مجھے معاف کر دیں حُرّہ ۔۔ آپ کے ساتھ جو بھی ہوتا رہا ہے حویلی میں میری غیر موجودگی میں ۔۔ میں کسی کو قصوروار نہیں کہتا اس کے لیے ۔۔ کیونکہ یہ صرف میری لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔ مجھے اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا کسی پے بھی ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔”
عباس اب حُرّہ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا ہر کسی کی موجودگی کو فراموش کیے معافی مانگ رہا تھا

جبکہ سردار شیر دل اور سردار بی بی حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے تمام ملازمین سکتے کی کیفیت میں یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے یہاں آج تک کسی خاندانی بیوی کو اتنی عزت نہیں دی گئی تھی اور ان کے چھوٹے سردار خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی سے ہاتھ جوڑ کر سب کے سامنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگ رہے تھے

” سس سرکار ۔۔”
حُرّہ نے عباس کے جڑے ہاتھوں کو اپنے نرم ہاتھوں میں لیتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

” نہیں حُرّہ ۔۔ سب کے سامنے آپ کی تذلیل کی گئی ہے اور یہ صرف میری لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے سب کے سامنے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ۔۔”
عباس کے لہجے میں شرمندگی تھی جبکہ حُرّہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے شاید ہی اس نے ایسا مرد دیکھا ہو جسے حقیقتاً مرد ہونا جچ رہا تھا

” عباس تم مرد ہو ۔۔ سب کے سامنے اس لڑکی سے معافی کیوں مانگ رہے ہو ۔ ؟”
اس مرتبہ سردار شیر دل سے برداشت نہیں ہوا تو چیختے ہوئے بولے

” تم مرد ہو ۔۔ تم مرد ہو ۔۔ یہی کہہ کہہ کر تو ہمارے معاشرے نے مرد کو مرد سے درندہ بنا دیا ہے ۔۔ تم مرد ہو تمہیں اپنا سر بلند رکھنا ہے ۔۔ تم مرد ہو تمہیں جھکنا نہیں ہے ۔۔ تم مرد ہو تمہیں عورت کو جوتی سمجھنا ہے ۔۔ تم مرد ہو تمہیں ہر گناہ بنا معافی کے ہی معاف ہے ۔۔ ایم سوری بابا جان مگر میں ایسا ہی ہوں ۔۔ چاہے آپ مجھے سمجھیں یا نہ سمجھیں ۔۔ مرد وہ نہیں جسے اونچی آواز یا ہاتھ کا استعمال کر کے بتانا پڑے کہ میں مرد ہوں ۔۔ بلکہ میری نظر میں درحقیقت مرد تو وہ ہے جسے دیکھ کر عورت کو تحفظ محسوس ہو جس کا ساتھ پا کر عورت سرشار ہو جائے ۔۔ اور اگر غلطی پر ہو تو نا کے انا کی خاطر خاموش ہو جائے بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرے۔۔ “
سردار شیر دل کی بات سن کر تو جیسے عباس اپنا ضبط کھو گیا تھا مگر انداز مضبوط رکھتے ہوئے اتنی آواز میں وہ بول رہا تھا کہ لاؤنج میں موجود سب لوگ باآسانی سن رہے تھے

” ناہید ۔۔ !”
اب عباس نے اپنے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑی ناہید کو بغیر دیکھے پکارا تو وہ ڈر کر دو قدم آگے آئی

” جج جی حکم سرکار ۔۔؟”
ڈرتے ہوئے بمشکل وہ بول پائی

” اس دن کیا کہا تھا میں نے تمہیں ۔۔؟؟”
عباس نے حُرّہ کے کپکپاتے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں مقید کرتے ہوئے ناہید سے پوچھا

” آ آپ نے کک کہا تھا کک کہ بی بی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرنی ۔۔ قسم لے لیں سرکار جو میں نے بی بی جی سے اونچی آواز میں بات بھی کی ہو ۔۔ آپ پوچھ لیں ان سے ۔۔ “
ناہید عباس کی پشت کو تکتی کانپتی ہوئی کہہ رہی تھی اور آخر میں اس نے حُرّہ کی جانب انگلی سے اشارہ کیا جبکہ حُرّہ نے سہم کر عباس کے چہرے کو دیکھا جس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی

” وہ کنگن حُرّہ کی چادر میں رکھنے کو کس نے کہا تھا تم سے ۔۔ ؟”
ناہید کی بات نظرانداز کرکے عباس نے پوچھا تو چند پل کے لیے لاؤنج میں سناٹا چھا گیا

” بولو ۔۔؟؟؟”
خاموشی میں ارتعاش عباس کی دھاڑتی آواز نے پیدا کیا جبکہ حویلی کے در و دیوار اس کی دھاڑ پر کانپ گئی

” سس سرکار وہ ۔۔ “
ناہید نگاہیں سردار بی بی کی جانب کرتے ہوئے کانپتی آواز میں بولی تو عباس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا اور خاموش کھڑیں سردار بی بی کو دیکھا

” مجھے اس طرح کی تربیت میری ماں نے دی ہے ۔۔ پھر میری ماں ایسا سلوک کسی کی بیٹی کے ساتھ کیسے کر سکتی ہیں ۔۔؟”
عباس دھیمی آواز میں بولا تھا کہ چند لوگ ہی سن سکے تھے جبکہ حُرّہ نے عباس کو چونک کر دیکھا

” بلاشبہ وہ اتنا بے خبر نہیں ہے جتنا میں سمجھتی تھی “
حُرّہ ، عباس کو دیکھتی کہہ دل میں سوچ رہی تھی

” جو ہوا ہے نا ماں ۔۔ ساری زندگی مجھے اس کا افسوس رہے گا ۔۔ لیکن اب میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتا ۔۔ “
سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے عباس دھیمی آواز میں بول رہا تھا

” یہاں موجود ہر شخص سن لے ۔۔!! حُرّہ میری بیوی ہیں ۔۔ اور حُرّہ کی حیثیت یہاں ویسی ہی ہے جیسی میری بیوی کی ہونی چاہیے ۔۔ اگر کسی نے حُرّہ سے ذرا سی اونچی آواز میں بات کی یا اپنے الفاظ سے بھی تکلیف دی تو اس کے ساتھ میں وہ کروں گا جو ہر گستاخی کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔ “
عباس نے تمام ملازمین اور حویلی کے تمام افراد کی جانب ایک نگاہ ڈالتے ہوئے حکمیہ انداز میں کہا اور پھر ناہید کی جانب مڑا

” مم مجھے معاف کر دیں سرکار ممم میں حکم کی غلام ہوں ۔۔ جیسا سردار کہتے ہیں میں ویسا ہی کرتی ہوں ۔۔ میری کوئی غلطی نہیں ۔۔ “
عباس کو اپنی جانب مڑتا دیکھ کر ناہید اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور ہاتھ جوڑے کہنے لگی جبکہ عباس اس کی بات سمجھ رہا تھا کہ اس نے جو بھی حُرّہ کے ساتھ کیا وہ سردار بی بی نے اسے کرنے کو کہا تھا

” تم آج سے حُرّہ کے ساتھ ہر وقت رہو گی ۔۔ حُرّہ کو اگر کانٹا بھی چبھا تو اس کا جواب تم دو گی مجھے ۔۔ !!”
عباس نے ناہید کو ہاتھ سے اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا تو سردار بی بی نے ماتھے پر بل ڈال کر ناہید کو دیکھا ناہید نے بھی فوراً سردار بی بی کو دیکھا

ناہید حویلی کی پرانی ملازمہ تھی اور وہ ہمیشہ سے سردار بی بی کی خدمت میں رہی تھی ان سے وفادار اور اب عباس کا حکم سن کر وہ چونک گئی

” جو حکم سرکار آپ کا ۔۔ میں بی بی جی کی ہی خدمت کروں گی ۔۔ اور اب آپ کو اور بی بی کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔ “
سردار بی بی سے نظریں چرا کر ناہید بولی تھی جبکہ اب عباس سب کو نظر انداز کرتا حُرّہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا

” مم مجھے کک کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔”
اس ساری صورتحال میں حُرّہ پہلی بار عباس سے دھیمی آواز میں مخاطب ہوئی تو عباس نے اس کی بات سمجھتے ہوئے سر ہلایا

” میں جانتا ہوں آپ ڈر رہی ہیں اس سے ۔۔ مگر حُرّہ اس کے علاوہ کسی پہ یقین نہیں کر سکتا ۔۔ یقین کریں مجھ پہ وہ اب کبھی آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔۔ “
عباس نے کچھ سوچتے ہوئے حُرّہ کو مطمئن کرنا چاہا جبکہ حُرّہ کو تو عباس مرنے کا بھی کہہ دیتا تو آج حُرّہ آنکھیں موند کر اس کے حکم کی تکمیل کو چل پڑتی جو عزت آج اس نے حویلی میں اسے دی تھی اس کے بعد حُرّہ اپنے مہربان کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی

” مجھے معاف کر دیں بی بی جی آئیندہ کوئی گستاخی نہیں ہو گی ۔۔ اگر آپ جان بھی مانگیں گی تو میں حاضر ہوں ۔۔ بس ایک موقع دیدیں ۔۔ “
حُرّہ کی بات ناہید نے سن لی تھی تبھی ہاتھ جوڑے جھکائے التجا کرنے لگی تو حُرّہ نے عباس کو دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو ناہید نے تشکر بھری نگاہوں سے حُرّہ کو دیکھا

عباس اور حُرّہ کے لاؤنج سے جانے کے بعد ناہید بھی ان کے پیچھے سر جھکائے چل پڑی جبکہ ان کے جانے کے بعد جیسے لاؤنج میں موجود ہر ایک کا سکتہ ٹوٹا تھا سردار بی بی سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئیں جبکہ سردار شیر دل بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ناعمہ بھی روتے ہوئے وہیں بیٹھ گئیں جبکہ نورے کی نگاہیں اسی جگہ پر تھیں جہاں ابھی عباس اور حُرّہ کھڑے تھے

” میں نے منع کیا تھا نا تمہیں کہ اس لڑکی کو عباس سے دور رکھنا مگر تم ۔۔ “
سردار شیر دل ، سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے غرائے مگر وہ خاموش رہیں

” تمہیں یہ بھی کہا تھا کہ اس لڑکی پر ظلم نہیں کرنا ۔۔ مگر تم بعض نہیں آئی ۔۔ اب بھگتو پھر ۔۔!”
سردار بی بی پر دھاڑتے وہ تیز تیز قدم اٹھاتے لاؤنج سے نکل گئے

” مم میرا بیٹا ۔۔ میرے بیٹے پر جادو کر دیا ہے اس نے ۔۔ “
ناعمہ کو دیکھ کر سردار بی بی لہجے میں حُرّہ کے لیے نفرت لیے بولیں جبکہ ناعمہ انہیں نظرانداز کرتیں اٹھیں اور نورے کا بازو تھام کر لاؤنج سے نکل گئیں

///////////////////////////

جاری ہے

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں اور جو دل کھول کر رائے دیتے ہیں ان کا بہت بہت شکریہ