Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 16

” کیا بکواس ہے یہ ۔۔ ؟ وہ بھاگ کیسے گیا ۔۔ ؟ کیا ہو رہا ہے یہ ۔۔ تو کیا میں یہ سمجھو احمد کہ ۔۔ پولیس ان دونوں کو پکڑنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔۔ ؟ “
وہ دونوں اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود تھے احمد کی جانب سے زیادہ کچھ ان دو قاتلوں کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا تھا بلکہ وہ دونوں قاتل ملک سے بھاگ چکے تھے یہ سن کر عباس یکدم اشتعال میں آیا تھا

” عباس یار کوئی بڑی سپورٹ ہے ان دونوں کو جبھی بار بار ہماری پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں ۔۔ “
احمد بھی پریشانی سے بولا تھا

” احمد مجھے وہ دونوں زندہ سلامت اپنے سامنے چاہیے ۔۔ کیا تم میرا ساتھ نہیں دے سکتے صرف یہ بتاؤ مجھے ۔۔ ؟”
عباس نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا تو احمد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” یار میں تیرے ساتھ ہوں ۔۔ “

” تو پھر ابروڈ کی پولیس سے کنٹیکٹ کرو ۔۔ مجھے وہ دونوں چاہیے تاکہ میں انہیں خود اپنے ہاتھوں سے اذیت ناک سزا دے سکوں ۔۔ “
عباس کے لہجے میں انتقام کی آگ محسوس کرتے ہوئے احمد نے طویل سانس لیا

” اللہ کریں گے جلد ہی وہ مل جائیں گے ہمیں ۔۔ “
احمد کے لہجے میں یقین تھا

“میں ان کا ایسا حال کروں گا کہ سانس لیتے ہوئے بھی موت مانگے گے ۔۔ “
عباس مشتعل ہوتے ہوئے بولا تو احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا

//////////////////////////

دن تیزی سے گزر رہے تھے زندگی دعا کے آنے سے مزید خوشگوار ہو گئی تھی عباس ہفتے میں ایک دو بار حویلی چلا جاتا تھا مگر حُرّہ اور دعا کو اکیلے چھوڑنے پر
کبھی رضامند نہیں ہوا تھا سردار شیر دل کے علاوہ حویلی کا کوئی بھی مکین دعا سے ملنے یا اسے دیکھنے نہیں آیا تھا اس بات کا عباس کو شدید دکھ ہوتا تھا مگر وہ فی الحال اس معاملے میں کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ جب بھی وہ حُرّہ کے حق میں بولتا تھا اس کی ماں کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی بےشک حُرّہ اور دعا بےقصور تھیں مگر وہ اپنی ماں سے بھی عداوت نہیں رکھ سکتا تھا وجہ ماں اور بیوی دونوں میں توازن رکھنا تھا اسے یہی بہتر لگتا تھا کہ کم از کم حُرّہ سکون سے رہتی ہے ہر پریشانی سے دور رہتی ہے
وہ آج آفس سے جلدی نکلا تھا کہ آج اسے حویلی جانا تھا ماں سے ملنے سیدھا وہ ان کے کمرے میں چلا آیا تھا اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح وہ کھل اٹھیں تھیں

” آج تو رک جاؤ ماں کے پاس ۔۔ !”
انہوں نے عباس کی پیشانی پر ہاتھ جماتے ہوئے کہا

” ماں صبح جانا پھر مشکل ہو جاتا ہے ۔۔ جلدی آفس پہنچنا ہوتا ہے ۔۔ “
وہ اصل بات نہ کہہ سکا کہ گھر میں حُرّہ اور دعا کو رات کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ جانتا تھا سردار بی بی کو اس کی بات ہرگز پسند نہ آئے گی

” بس بس یہی بہانے ہیں تمہارے ۔۔ ماں کا بھی دل کرتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کے ساتھ کھانا کھائے ۔۔ “
انہوں نے سر جھٹک کر کہا تو عباس مسکرایا

” ٹھیک ہے میں کل لنچ آپ کے ساتھ کروں گا ۔۔ “
وہ مسکرا کر بولا تو سردار بی بی نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا

” ماں آپ میری بیٹی سے ایک بار بھی نہیں ملیں گیں ۔۔؟؟ وہ بلکل میرے جیسی ہے آپ دیکھیں گیں تو بے اختیار پیار آئے گا آپ کو اس پر ۔۔ “
وہ ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ان کے ہاتھ کو عقیدت سے تھامے شاید ان دو ماہ میں پہلی مرتبہ شکوہ کرتے ہوئے آخر میں مسکرایا تھا دعا کا معصوم خوبصورت چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا کہ اسے اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا جبکہ عباس کے اچانک سوال پر سردار بی بی چونکی تھیں

” میں اس ونی کی بیٹی کو تمہاری اولاد مانتی ہی نہیں ہوں ۔۔ “
وہ کھردرے انداز میں بولیں تھیں کہ کچھ پل عباس ان کا سپاٹ چہرہ ہی تکتا رہ گیا

” و وہ میری اولاد ہے ماں ۔۔ !”
اس مرتبہ وہ ان کی گود سے سر اٹھا کر ان کے سامنے بیٹھتا نہایت سنجیدگی سے گویا ہوا

” ہم نہیں مانتے ۔۔ !”
وہ طنزیہ مسکرا کر بولیں تھیں کہ عباس نے لب بھینچ لیے

” ماں آپ اتنی سخت دل تو کبھی نہیں تھیں ۔۔ “
وہ مدھم آواز میں لہجے میں دکھ لیے بولا تھا

” میری بیٹی مری ہے ۔۔ میرے وجود کا ٹکڑا تڑپ تڑپ کر مرا ہے ۔۔ ظالموں نے میری معصوم بچی سے جانے کون سے بدلے لیے ۔۔ تم اور تمہارے باپ کی طرح سب فراموش نہیں کر سکتی ۔۔ نہیں بھول سکتی اپنی بیٹی کا دکھ ۔۔ جب جب اس دشمن کی بیٹی کو تمہارے ساتھ خوش دیکھتی ہوں ۔۔ میرے دل میں پھانس سی چبھتی ہے ۔۔ “
وہ روندی ہوئی آواز میں کہتی آخر میں رو پڑیں ان کے لہجے کا درد عباس کو بے چین کر گیا وہ خود بھی تو اپنے اوپر مضبوطی کا خول چڑھا چکا تھا کہ مرد تھا سب کے سامنے رو بھی نہیں سکتا مگر دل میں کیسے کیسے درد تھے یہ تو وہی جانتا تھا

” ماں انصاف کریں ۔۔ اس سارے معاملے میں حُرّہ کا کہاں قصور ہے ۔۔ خدا کی قسم اگر آپ ایک جگہ بھی اس کا قصور بھی بتا دیں تو اپنے ہاتھوں سے جان لے لوں ۔۔ مگر آپ سمجھیں نا ماں ظلم اگر ہمارے ساتھ ہوا ہے ہماری عابی کے ساتھ ہوا ہے تو ظالموں نے کیا ہے ۔۔ حُرّہ اس سارے معاملے میں انجان ہے ۔۔ بےقصور ہے ۔۔ میں خدا سے ڈرتا ہوں ماں ۔۔ پہلے ہی کم آزمائش میں نہیں ہیں ہم لوگ۔۔ کہیں حُرّہ کے خاموش آنسو ہمیں مزید آزمائش میں نہ ڈال دیں ۔۔ “
وہ انہیں سمجھاتا ہوا بول رہا تھا

” لگتا ہے تم سب بھول گئے۔۔ محض اس لڑکی کے سوا ۔۔ اپنی بہن تو تمہیں یاد بھی نہیں ۔۔ “
انہوں نے طنزیہ کہا تھا جبکہ عباس نے ان کی بات پر نفی میں سر ہلایا تھا

” کچھ نہیں بھولا ماں ۔۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں اور لوگوں کو انصاف دلواتا ہوں یہی کام ہے میرا ۔۔ تو اپنی بہن کو کیوں نہیں دلواؤں گا انصاف ۔۔ ؟؟”
وہ انہیں یقین دہانی کروا رہا تھا مگر انہوں نے اس کی بات ہوا میں اڑائی

” تو پھر طلاق دے دو اس لڑکی کو اور توڑ دو دشمن کی لڑکی کے ساتھ رشتہ ۔۔ “
وہ اپنی بات پر ہی اڑی ہوئیں تھیں جبکہ ان کا مطالبہ سن کر عباس چند پل ان کو تکتا رہ گیا

” کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں ماں کہ عابی والے معاملے میں حُرّہ بے قصور ہے ۔۔ پھر سزا اسے کیسے دے دوں ۔۔ بلاوجہ کیسے اسے چھوڑ دوں ۔۔ یہ ناانصافی اپنی ہی بیوی کے ساتھ کرنے کے بعد کیا منہ دیکھاؤں گا خدا کو ۔۔ جس نے حساب لینا ہے مجھ سے ۔۔ ؟”
وہ زچ ہو کر لفظ چبا کر ادا کرتا بولا تھا

” کیا مطلب ہے تمہاری ان باتوں کا عباس ۔۔ کہاں ہے تمہاری اور تمہارے باپ کی غیرت ۔۔ آج تم اس لڑکی کو ہی مظلوم کہہ رہے ہو تو کل کو عابی کے قاتلوں کو بھی خدا کے نام پہ معاف کر دو گے ۔۔ “
وہ یکدم آگ بگولہ ہوئیں تھیں

” ہرگز نہیں ماں ۔۔ میں صرف بے قصور کی حمایت کر رہا ہوں ۔۔ قاتلوں کو ان کے انجام تک ضرور پہنچاؤں گا بہت جلد یہ آپ کے بیٹے کا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ “
وہ ان کا ہاتھ تھامتے گویا ہوا

” مجھے ان کے خاندان کی لاشیں دیکھنی ہیں عباس ۔۔ مم مجھے میری بیٹی کے قاتل ہر حال میں تڑپتے ہوئے دیکھنے ہیں ۔۔ “
وہ عباس کا ہاتھ جھٹکتی بولیں تھیں کہ عباس نے اثبات میں سر ہلایا

” بہت جلد ماں ۔۔ بہت جلد وہ اذیت ناک انجام کو پہنچیں گے ماں ۔۔ “
عباس کے چہرے اور لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ سردار بی بی کے دل کو سکون پہنچا

” مجھے اپنے بیٹے پر یقین ہے ۔۔ تم سرداروں کا خون ہو یقیناً تم انہیں خطرناک سزا دلواؤ گے ۔۔ مگر ۔۔ “
وہ فخر سے کہتی آخر میں عباس کی آنکھوں میں دیکھنے لگیں

” مگر ۔۔ ؟؟”
عباس نے ان کے خاموش ہو جانے پر سوالیہ انداز میں ابرو اچکا کر پوچھا

” مگر تم وعدہ کرو اس لڑکی کو چھوڑ دو گے ۔۔ ! میرے دل میں عابی کے قاتلوں کے بعد آخری کانٹا اس لڑکی کی صورت میں چبھتا ہے ۔۔ “
وہ اس بار عباس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دوسرا اس کے چہرے پر جمائے بھرپور مامتا کا لمس بخشتیں بولیں تھیں ان کے لہجے میں مان تھا جسے عباس کبھی نہ توڑتا اگر وہ حق بات کہہ رہی ہوتیں

” بولو میرے شیر ۔۔ ! کیا اپنی ماں کی بات رد کرو گے تم ۔۔ ؟”
چند لمحے عباس جب ہنوز ساکت انہیں دیکھتا رہا تو وہ اس کی ڈاڑھی کو انگوٹھا سے سہلاتے ہوئے بولیں

” مت دیکھیں ماں کہ اس کا تعلق کس خاندان سے تھا ۔۔ صرف یہ دیکھیں کہ وہ میری ۔۔ آپ کے بیٹے کی بیوی ہے ۔۔ اور میری بچی کی ماں ہے ۔۔ میں کسی صورت حُرّہ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔۔ “
عباس اپنے اندر کے اشتعال کو باخوبی قابو کرتا بہت دھیمے انداز میں بولا تھا

” ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔۔ !”
وہ رخ موڑ کر بولیں تھیں

“اس دنیا میں اس کا خدا کی ذات کے بعد واحد میں سہارا ہوں ماں ۔۔ کیسے اسے چھوڑ دوں ۔۔ ؟ کس جرم کی سزا دوں اسے ۔۔ ؟”
عباس ہر پہلو سے انہیں سمجھا چکا تھا ہر بار وہ ٹھانے بیٹھیں تھیں کہ کوئی بات نہ سنیں گی نہ سمجھیں گیں مگر وہ اپنی عادت کے مطابق تحمل سے ہر بار انہیں حقیقت سمجھاتا تھا

” میں نہیں چاہتی تم اس لڑکی سے کوئی تعلق رکھو یا وہ ہمارے خاندان کی بہو کہلائے ۔۔ اور لوگ کہیں کہ سرداروں میں غیرت ہی نہیں رہی ۔۔ کہ بیٹی کے قاتل کے خاندان کی لڑکی کو بہو مان لیا اور نسل آگے بڑھا رہے ہیں ۔۔ ابھی تو صرف یہ معلوم ہے لوگوں کو کہ عابی کا محض قتل ہوا ہے ۔۔ ابھی اس کے ساتھ ہوئے ظلم کا کسی کو نہیں پتہ ۔۔ ورنہ کیا منہ دیکھاتے لوگوں کو ۔۔ “
وہ عباس کی ہر بات رد کرتیں آخر میں روندی آواز میں بولیں تھیں جبکہ عباس نے طویل سانس لیتے ہوئے ایک پل کو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دوبارہ ماں کو دیکھا عابی کے ساتھ ہوئے ظلم کا چند لوگوں کو علم تھا مگر پھر بھی خود عباس کے دل میں بھی پھانس چبھتی تھی

” میری بات کا جواب دو عباس ۔۔ !”
عباس کے خاموش سے انہیں تکتے رہنے پر وہ اپنے آنسو پونچھتی پوچھنے لگیں

” ویسے تو حویلی میں شان و شوکت سے رہنا میری بیوی اور بیٹی کا حق ہے مگر میں اپنی ماں کو بھی اذیت نہیں دے سکتا ۔۔ اسی لیے وہ دونوں ہمیشہ وہیں رہیں گیں ۔۔ مگر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔ “
عباس صاف گوئی سے بولا تھا

” تم میرے وہ بیٹے ہو جس نے کبھی نافرمانی نہیں کی میری مگر صرف ۔۔ صرف اس ونی کے بارے میں تم نے کبھی میری بات نہیں مانی ۔۔ تو کیسے حوالے کر دوں میں اپنے بیٹے کو اس کے ۔۔ ؟؟”
وہ چنگھاڑتی بولیں تھیں

” آپ ماں ہیں میری ۔۔ آپ کی جگہ بھلا کوئی لے سکتا ہے ۔۔ مت پریشان ہوا کریں ۔۔ چھوڑیں یہ سب باتیں ۔۔ جتنی اس بارے میں بات کریں گے معاملات مزید بگڑیں گے ۔۔ “
عباس نے نرم انداز میں کہتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامنے چاہے مگر انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

” ٹھیک ہے میں تمہاری بیٹی کو قبول کر لوں گی ۔۔ مگر تم اسے یہاں لے آؤ ۔۔ !”
وہ اچانک بولیں تو عباس کچھ پل تو سمجھ ہی نہ سکا ان کی بات کو کہ آخر وہ کیا بول رہیں ہیں

” کیا مطلب ماں ۔۔ ؟؟”
وہ دبی آواز میں بولا تھا

” صرف تمہاری بیٹی کو قبول کروں گی ۔۔ اس لڑکی کی یہاں کوئی جگہ نہیں ۔۔ “
ایک پل کو عباس کو ان کی زبان سے اپنی بیٹی کا ذکر سن کر اچھا لگا کہ دعا کو تو کم از کم انہوں نے اپنے بیٹے کی اولاد مانا مگر اگلی بات سے عباس کے لب سکڑے

” دعا بہت چھوٹی ہے اور اولاد کو ہمیشہ ہمہ وقت ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ میں اگلی بار دعا کو آپ سے ملوانے لے آؤں گا ۔۔”
عباس ان کی بات سمجھتا مختصر بولا

” تم سمجھے نہیں شاید ۔۔ میں نے کہا ۔۔ اپنی بیٹی کو یہاں لے آؤ ۔۔ “
سردار بی بی عباس کی بات نظرانداز کرنا محسوس کرتیں اس مرتبہ اپنی بات پر زور دیتا بولا

” اب چلتا ہوں ماں پھر آؤں گا ۔۔ !”
وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اب مزید بحث وہ بھی اپنی ماں سے وہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا

” اپنا خیال رکھئے گا ماں ۔۔ “
وہ ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا تیز تیز چلتا اپنا سیاہ کوٹ اٹھا کر بازو پر دھرتا کمرے سے نکل گیا جبکہ سردار بی بی اس کی عجلت پر سرد آہ بھر کر رہ گئیں

////////////////////////////

وہ حویلی سے نکلا تو صد شکر کہ ابھی شام ہونے میں وقت تھا مگر جب اس کی گاڑی شہر کہ حدود میں داخل ہوئی تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی عباس نے گاڑی کا رخ مسجد کی سمت کیا اور نماز ادا کرنے کے بعد وہ کچھ پل یونہی ساکت سا دو زانو بیٹھا رہا یہ وہ در ہے جہاں وہ ہمیشہ اپنی حاضری دیتا تھا
وہ دعائیں سجدے کی حالت میں مانگتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کے سجدے طویل ہوتے تھے اسی باعث بہت سے نمازی اس کی جانب متوجہ ہوتے تھے اسی دوران ایک بزگ جو کہ عباس سے خاصے متاثر ہوتے تھے وہ عباس سے ہلکی پھلکی بات چیت کر لیتے تھے انہیں عباس کی وجیہ شخصیت اور قیمتی کپڑوں سے ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ وہ دکھنے میں خاصا امیر کبیر لگتا تھا مگر اس کچی گلی کی چھوٹی سی مسجد میں اکثر پایا جاتا تھا اسی دوران انہوں نے عباس سے سلام دعا شروع کہ تھی انہیں وہ اچھا لگنے لگا تھا

” السلام علیکم جوان ۔۔ کیسے ہو ۔۔ ؟”
عباس کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر وہ اسی کے پاس چلے آئے تھے ان کے ہشاش بشاش انداز پر عباس خیالوں کی دنیا سے لوٹا اور ان بزرگ کو بیٹھنے میں مدد دی

” وعلیکم بابا جی ۔۔ الحمداللہ ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔ ؟”
مسکرا کر سلام کا جواب دینے کے بعد عباس نے ان سے پوچھا

” کرم ہے اس پاک ذات کا جس نے اتنے گناہوں کے باوجود پردہ رکھ کر کرم کیا ہوا ہے ۔۔”
وہ بھی جواباً مسکرا کر گویا ہوئے

” آج کچھ پریشان لگ رہے ہو ۔۔ ؟؟”
ان کے پوچھنے پر عباس مسکرایا

” جی بس زندگی میں آزمائشیں تو آتی رہتی ہیں ۔۔ بس دعا ہے خدا کے سامنے سرخرو ہوں ۔۔ “
عباس کے لہجے کی سچائی دیکھ کر وہ بھی مسکرائے

” بے شک لیکن مسلمان بھائیوں کو آپس میں اپنے دکھ بانٹنے چاہیے ۔۔ اگر اور کچھ نہ کر سکا تو دعا تو کر سکتا ہے نا دوسرا مسلمان اس کے لیے ۔۔ “
وہ اس بار سنجیدگی سے بول رہے تھے

” ایک سوال پوچھو آپ سے ۔۔ ؟”
عباس کے لب سکڑے تھے وہ بھی سنجیدہ تاثرات لیے پوچھنے لگا

” بلکل ۔۔ !”
انہوں نے خوش دلی سے اجازت دی

” ز زنا ایک قرض ہے ۔۔ اگر آپ کسی کی بیٹی کو داغدار کرتے ہیں تو اپنی خود کی عزت وہ قرض ادا کرتی ہے ۔۔ یہی سچ ہے نا ۔۔ ؟”
آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتا وہ پوچھ رہا تھا

” ہاں بلکل یہی سچ ہے ۔۔ “
انہوں نے بھرپور توجہ سے عباس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا

” مم مگر ایک شخص جس نے آج تک باخدا کسی لڑکی کو بری نگاہ سے دیکھنا تو دور نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہو ۔۔ مم مگر پھر بھی اس کی عع عزت داغدار ہو جائے تو ۔۔ ؟”
اس سے آگے عباس سے بولا نہ گیا جبکہ اس کی آنکھوں کی نمی ان بزرگ نے باخوبی دیکھ لی

” پھر تو یہ اس شخص کی آزمائش ہے ۔۔ بے شک خدا اپنے بندے کی اتنی آزمائش لیتا ہے جتنے کی سکت وہ رکھتا ہے ۔۔ اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا خدا اپنے بندے پہ۔۔ !”
وہ عقیدت سے کہتے ہوئے عباس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ جما چکے تھے

” مگر کبھی کبھی دل پھٹتا ہے ۔۔ دل کرتا ہے ہر چیز کو آگ لگا دوں ۔۔ !”
عباس کا چہرہ ضبط کرتے ہوئے سرخ ہو چکا تھا اور لہجہ درد بھرا

” صبر کا دامن کبھی مت چھوڑنا ۔۔ “
انہوں نے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے نصیحت کی تو عباس نے چند لمحوں بعد سر ہلایا

///////////////////////////

وہ جب گھر میں داخل ہوا تو رات ہو چکی تھی عموماً وہ شام سے پہلے گھر آ جاتا تھا مگر آج وہ حُرّہ کو آگاہ کر کے گیا تھا کہ حویلی جائے گا اور واپسی پر دیر ہو جائے گی مگر لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اسے دعا کے رونے کی آواز آئی تیز تیز قدم رکھتا وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا جہاں حُرّہ ، دعا کو گود میں لیے بہلاتے ہوئے چکر کاٹ رہی تھی مگر دعا کسی صورت چپ نہیں ہو رہی تھی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عباس ان کی جانب بڑھا عباس کو دیکھ کر حُرّہ کے آنسو بھی چہرے پر گرنے لگے عباس نے نرمی سے دعا کو حُرّہ کی گود سے لیا اور سینے سے لگا کر پیار کرنے لگا

” بس بس میری بیٹی ۔۔ بابا آ گئے نا اپنی بیٹی کے پاس ۔۔ “
عباس ، دعا کو گود میں اٹھائے بولتا پیار کر رہا تھا

” شش شکر ہے آپ آ گئے ۔۔ بہت رو رہی تھی ۔۔ چپ ہی نہیں ہو رہی ۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہے اس کو ۔۔ “
حُرّہ بھیگی آنکھیں ان دونوں باپ بیٹی پر جمائے بولی تھی

” حُرّہ میری جان ۔۔ آپ کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ ؟”
عباس حیرت زدہ بولا تھا

” بب بہت رو رہی تھی دعا ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہوا ہے ۔۔ “
حُرّہ سسکیاں بھرتی عباس کی گود میں دعا کو دیکھتی بول رہی تھی جو کہ اب عباس کی گود میں رو تو نہیں رہی تھی مگر بہت رونے کے باعث بندھی ہچکیاں لے رہی تھی

” حُرّہ میری جان ۔۔ دعا بچی ہے اور بچے تو روتے ہیں ۔۔ مگر آپ کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ کیا ہوا ہے ؟”
اس کی کلائی تھام کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے عباس بولا تو عباس کے سینے سے لگ کر حُرّہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی عباس بےبسی سے کبھی روتی ہوئی حُرّہ کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اب اپنی گود میں سوتی ہوئی دعا کو دیکھ رہا تھا

” حُرّہ پلیز ریلیکس ۔۔ دیکھیں دعا کو نیند آ رہی تھی اس لیے رو رہی تھی ۔۔ اب وہ سو چکی ہے آپ بھی ریلیکس ہو جائیں ۔۔ آئیں یہاں بیٹھیں ۔۔ “
حُرّہ کو ساتھ لگائے وہ بیڈ تک لایا اور دعا کو کاٹ میں لٹانے کے بعد بیڈ پر بیٹھی روتی ہوئی حُرّہ کی جانب بڑھا

” کیا ہوا میری جان ۔۔ آپ تو اتنی بہادر ہیں پھر آج ایسے کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ ؟”
حُرّہ کے برابر بیٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے عباس نے پوچھا

” آآ آپ لیٹ آئے ۔۔۔ مم میں بہت ڈر گئی تھی ۔۔”
حُرّہ سسکتی ہوئی بولی

” جانم میں بتا کر گیا تھا کہ آج حویلی جاؤں گا ۔۔ “
عباس نے یاد دلایا تو حُرّہ نے سر ہلایا

” لیکن رات ہو گئی تھی ۔۔ “
حُرّہ چہرہ بلند کرتی عباس کو دیکھا ل کر بولی تو عباس نے بےساختہ اس کی پیشانی پر محبت سے مہر ثبت کی

” سوری ۔۔ آئندہ دیر نہیں ہوگی ۔۔ “
وہ غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی معافی مانگتا بولا کہ جانتا تھا کہ حُرّہ ایک پل بھی اگر وہ دیر ہو جائے تو ایسے ہی پریشان ہو جاتی ہے

” وعدہ ۔۔ ؟”

” پکا وعدہ جانم ۔۔ !”
لبوں سے اس کی آنکھوں کے آنسو چنتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ اپنے دونوں بازو عباس کے گرد لپیٹتی پرسکون ہو گئی جبکہ عباس ، حُرّہ کی پیش رفت پر کھلے دل سے مسکرایا

///////////////////////////

جاری ہے

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں