Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 14
” دیکھ لیا انجام اپنے غصے کا ۔۔ ؟؟ کہا تھا نا تمہیں کہ کچھ عرصہ صبر کر لو ۔۔ لیکن تمہیں بس دشمنی نبھانی تھی ۔۔ اب چلا گیا ہمارا بیٹا ۔۔ “
عباس اور حُرّہ کے جاتے ہی سردار شیر دل سردار بی بی پر دھاڑے تھے یہ بات ان سب کے لیے ناقابل یقین تھی کہ عباس اپنی بیوی کو لے جا چکا تھا
” مم میرا بیٹا ۔۔ !”
سردار بی بی کو حقیقتاً حیرت ہو رہی تھی کہ ان کا بیٹا اتنا بڑا فیصلہ کر سکتا ہے
” کیا پایا ہے تم نے اپنی نفرت کے بعد ۔۔ ؟ بیٹی تو پہلے ہی کھو ہی دی تھی ۔۔ اب بیٹا بھی دور جا چکا ہے ۔۔”
وہ پھر سے دھاڑے تھے بیشک وہ جانتے تھے کہ عباس کبھی بھی اپنے ماں باپ سے نالاں نہیں ہو سکتا یہ فیصلہ اس نے سوچ سمجھ کر کیا ہو گا مگر وہ درحقیقت یہ چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح نورے کے ساتھ شادی پر عباس کو راضی کر لیں
” میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ لڑکی جادوگیرنی ہے ۔۔ اس نے میرے بیٹے پر جادو کیا ہے ۔۔ ورنہ میرا بیٹا مجھے چھوڑ کر تو نہیں جا سکتا ۔۔ “
سردار بی بی کے لہجے میں افسوس تھا جو وہاں موجود باقی تین نفوس نے بھی محسوس کیا
” بکواس بند کرو ۔۔ ! یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ ورنہ میں کسی بھی طرح کر کے عباس کو نورے سے شادی کرنے کو راضی کر لیتا ۔۔ اب وہ خاک راضی ہو گا ۔۔ بے وقوف عورت ۔۔ !”
وہ پھر دھاڑے تھے
” ہاں ہوں بےوقوف میں ۔۔ تبھی تو وہ دو ٹکے کی لڑکی میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر لے گئی ۔۔ “
وہ بھی خاصی گستاخانہ بولی تھی کہ کہ سردار شیر دل نے خونخوار نگاہوں سے انہیں دیکھا
” لگتا ہے تم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہو ۔۔ بات کرنے کی تمیز ہی بھول گئی ہو ۔۔ “
ناعمہ، نورے اور ملازمین کی موجودگی فراموش کیے وہ سردار بی بی کو ڈپٹتے ہوئے بول رہے تھے
” مم میں نہیں چھوڑوں گی اس لڑکی کو ۔۔ میرے بیٹے اور شوہر کو میرے خلاف کر دیا میرے اس نے ۔۔ “
ان کے دماغ میں بس حُرّہ ہی تھی وہ سردار شیر دل کی بات نظرانداز کرتی حُرّہ کو برا کہنے لگی
” تم واقعی اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہو ۔۔ !”
سردار شیر دل غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے
” برباد کرے خدا اس لڑکی کو جس نے میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا ۔۔ “
سردار شیر دل کے جانے کے بعد ہال کا سکوت سردار بی بی کی ہتک آمیز آواز نے توڑا اب وہ مسلسل حُرّہ کو کوسنے دے رہیں تھیں جبکہ نورے ان کو دیکھتی نفی میں سر ہلاتی چلی گئی
” یہ تو سب بگڑ گیا سردار بی بی ۔۔ !”
ناعمہ نے لہجے میں افسوس تھا اب محض وہاں سردار بی بی اور ناعمہ موجود تھی
” تم فکر نہیں کرو ناعمہ ۔۔ دیکھنا میں کیا حال کرتی ہوں اس لڑکی کا ۔۔ کچھ دن عیش کر لینے دو اسے ۔۔ “
چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لائے بولیں تھیں کہ ناعمہ ٹھٹھکیں
” کیا کریں گی آپ ۔۔ ؟؟”
” تم بس دیکھتی جاؤ ۔۔ !”
ناعمہ کے پوچھنے پر سردار بی بی رازداری سے بولیں اور پرسوچ انداز میں غیر مرئی نقطے کو تکنے لگیں
///////////////////////
گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی انہیں سفر کرتے ہوئے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا مگر اس سارے وقت میں ان دونوں کے درمیان مکمل طور پر خاموشی چھائی رہی تھی عباس سپاٹ چہرہ لیے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ حُرّہ سکڑی سمٹی بیٹھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد ترچھی نگاہوں سے عباس کو دیکھ لیتی مگر خاموشی توڑنے کی کوشش اس نے بھی نہیں کی تھی جانے کیوں اسے عباس کی بے حد سنجیدگی سے خوف آ رہا تھا
حُرّہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ اس کا ہمیشہ سے تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ حُرّہ سب کے ساتھ حویلی میں رہے شاید حویلی کے مکین اس کی معصومیت اور اچھائی کی بنا پر اس سے مانوس ہو جائیں مگر سب کچھ اس کی توقع کے برعکس ہوا تھا اس کے گھر والے تو کسی صورت حُرّہ کو قبول کرنے کے در پے نہ تھے بلکہ اگر آج وہ وقت پر نہ پہنچتا تو جانے کیا ہو جاتا یہ تمام باتیں سوچتے ہوئے عباس نے طویل سانس خارج کیا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد حُرّہ کی نگاہیں خود پہ محسوس کر رہا تھا اور سمجھ رہا تھا کہ وہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی مگر اس نے حُرّہ کو مخاطب نہیں کیا تھا کیونکہ وہ حُرّہ سے گھر پہنچ کر بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
مزید ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی ایک خوبصورت وسیع و عریض بنگلے میں داخل ہوئی دو گھنٹے کے سفر میں ہی حُرّہ بہت تھک گئی تھی جب عباس اپنی سیٹ سے نکل کر حُرّہ کی جانب کا دروازہ کھول رہا تھا تو حُرّہ ڈر کر سیٹ کے ساتھ لگ گئی حُرّہ کی اس حرکت پر عباس نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کیں اور گہرا سانس لیا پھر دوبارہ آنکھیں کھول کر حُرّہ کو دیکھا جو نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی ہاتھ بڑھا کر عباس نے اس کی کلائی اپنے شکنجے میں لی اور نرمی سے سیٹ سے اٹھا کر کھڑا کیا اور آہستہ آہستہ چلتا بنگلے میں داخل ہوا
بے حد نفاست سے سجے ہوئے خوبصورت لاؤنج میں سے گزر کر زینے طے کیے اور ایک عالی شان کمرے میں داخل ہوئے حُرّہ مدھم سانس لیتے ہوئے لب بھینچے عباس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی ایک سرسری سی نگاہ کمرے پر ڈال کر حُرّہ نے سر جھکا لیا کیونکہ عباس اب اسے ہی دیکھ رہا تھا
” ناراض ہیں مجھ سے ۔۔ ؟؟”
دھیمی آواز میں پوچھا گیا تو حُرّہ نے چونک کر عباس کو دیکھا
” ججی جی ۔۔؟؟”
ناسمجھی سے پوچھا گیا
” میں نے پوچھا مجھ سے کسی بات پر ناراضگی چل رہی ہے کیا آپ کی ۔۔ ؟؟”
عباس نے اپنی بات پھر سے دہرائی تو حُرّہ اب حیرت زدہ ہوئی
” نن نہیں ۔۔ !”
یک لفظی جواب دے کر وہ سوالیہ نگاہوں سے عباس کو تکنے لگی
” پھر بات کیوں نہیں کر رہیں ۔۔ کوئی لڑکی اتنا خاموش کیسے رہ سکتی ہے حُرّہ ۔۔ ؟؟”
ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اس نے نا محسوس انداز میں حُرّہ کو اپنی سمت کھینچا
” و وہ مجھے لگا ۔۔ !”
وہ جھجک کر پھر خاموش ہو گئی تو عباس نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا
” کیا لگا میری جان کو ۔۔ ؟؟”
نگاہیں ہنوز حُرّہ کی جھکی نگاہوں پر جمائے وہ پوچھ رہا تھا
” مم مجھے لگا آپ غصے میں ہیں ۔۔ “
عباس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بولی تو عباس نے طویل سانس لیا
” کس پر غصہ ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگشت شہادت رکھ کر چہرہ ذرا سا بلند کرتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا
” مم مجھ پر ۔۔ !”
وہ ایک نظر عباس کی پر تپش نگاہوں کو دیکھتی پھر سے چہرہ جھکا کر بولی
” میں خود پر تو غصہ ہو سکتا ہوں مگر ۔۔ آپ پر کبھی نہیں میری جان ۔۔ !”
حُرّہ کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے اگلے چند لمحوں میں وہ سسکنے لگی تو عباس نے حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھا
” حُرّہ میری جان ۔۔ ایسے کیوں رو رہیں ہیں آپ ۔۔ میں نے کہا تو ہے میں کبھی بھی آپ پر غصہ نہیں کر سکتا ۔۔ “
حُرّہ کے آنسو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتا وہ لہجے میں فکرمندی لیے گویا ہوا
” پھر آ آپ بب بات کیوں نہیں کک کر رہے تھے مجھ سے ۔۔ ؟”
شاید یہ پہلا شکوہ تھا جو حُرّہ نے عباس سے کیا تھا جبکہ اس کے ہچکیوں کے درمیان بولنے پر عباس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری
” غصہ نہیں تھا بس خاموش ہو گیا تھا اور میں غصہ کس پر ہو سکتا ہوں جانم ۔۔ آپ میری بیوی اور وہ میری ماں ہیں ۔۔ اور آپ دونوں ہی میرے لیے میری زندگی ہیں ۔۔ میرا سب کچھ ہیں ۔۔ “
دھیمی آواز میں بولتے ہوئے وہ اس کی پر نم آنکھیں تکنے لگا جو اس وقت دلکش لگ رہیں تھیں
” آ آپ میری وجہ سس سے پریشان ہیں نا ۔۔؟؟ مم میری وجہ سے آپ سردار بی بی ۔۔ حح حویلی سس سے دور ۔۔!!”
وہ ٹوٹے الفاظ میں روتے ہوئے بمشکل بولی تھی
” حُرّہ میں دور نہیں رہ سکتا اپنی ماں سے ۔۔ میں جاتا آتا رہا کروں گا آپ فکر نہیں کریں اس بات کی ۔۔ “
اس کا تر چہرہ صاف کرتے وہ بولا تھا
” پھر خاموش کیوں ہو گئے تھے آپ ۔۔ ؟ سارے راستے آپ نے مجھ سے بات نہیں کی ۔۔ “
حُرّہ اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی جبکہ عباس کو دلی خوشی ہوئی کہ حُرّہ اس پر حق جما کر شکوہ کر رہی تھی بے ساختہ ہی آنے والی مسکراہٹ کو وہ دبا گیا تھا
” دیکھیں جانم کچھ لوگ اپنا غصہ چیخ چنگھاڑ کر ظاہر کرتے ہیں ۔۔ کچھ لوگ بات چیت بند کر دیتے ہیں ۔۔ عموماً لوگ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔۔ مگر میں عادتاً خاموش ہوجاتا ہوں کیونکہ غصے میں انسان کچھ بھی الٹا سیدھا بول دیتا ہے ۔۔ اور پھر آپ اور ماں تو مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہیں مجھے کبھی بھی آپ دونوں پر غصہ نہیں آ سکتا ۔۔ اور آج جو میں نے آپ کو اپنے ساتھ لے آنے کا فیصلہ کیا ہے وہ بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔۔ “
بے حد سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ حُرّہ کی رونے کے باعث سرخ ہوئی آنکھوں کو تکتا ہوا بول رہا تھا جبکہ حُرّہ ہمیشہ کی طرح بغور اس کی باتیں سن رہی تھی
” اا اگر کبھی مجھ سے غلطی ہو گئی تب بھی کیا آپ مجھ پر غصہ نہیں ہوں گے ۔۔ ؟؟”
حُرّہ نے یقین دہانی چاہی تو عباس کے سنجیدہ چہرے پر تبسم بکھرا
” اگر کبھی آپ سے غلطی ہو گئی تب بھی خود پر تو غصہ کر لوں گا مگر آپ پر غصہ نہیں کروں گا ۔۔ !”
وہ فراخ دلی سے بولا تو حُرّہ نے حیرت زدہ ہوکر اسے دیکھا جو شاید دنیا کا پہلا صابر مرد تھا
” آآ آپ سچ میں کبھی غصہ نہیں کریں گے مجھ پر ۔۔ ؟؟”
حُرّہ ، عباس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے مان سے پوچھ رہی تھی
” کبھی نہیں کروں گا ۔۔ “
حُرّہ کی نازک کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے وہ گویا ہوا
” اتنی فراخ دلی کی کوئی خاص وجہ ۔۔ ؟؟”
وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی جبکہ عباس نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا تو حُرّہ نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
” میرے نزدیک حُرّہ جو محبت کرتے ہیں نا ۔۔ ان کو فراخ دل بھی ہونا چاہیے ۔۔ محبوب کی غلطیوں کو فراموش کر دینا چاہیے ۔۔ اور میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔۔ پھر آپ کے لیے میرا دل بہت وسیع ہے ۔۔ “
اپنے لبوں کو حُرّہ کے رخساروں کے قریب لے جا کر وہ مدھم آواز میں بول رہا تھا آخر میں اس نے حُرّہ کے رخسار پر لمس چھوڑا عباس کی اس کاروائی پر حُرّہ نے آنکھیں سختی سے میچ لیں جبکہ عباس اس کے چہرے پر حیا سے در آئی سرخی دیکھ کر مسکرا رہا تھا
” اا ایک بات بولوں ۔۔ ؟؟ “
تھوڑی خاموشی کے بعد حُرّہ نے نگاہیں جھکائے جھنجکتے ہوئے پوچھا
” جی جانم ۔۔ !”
” مجھے پتہ ہے آپ غصہ نہیں کریں گے میری بات پہ ۔۔ کیونکہ ابھی آپ نے بولا تھا ۔۔ !”
عباس کے اجازت دینے پر حُرّہ حلق تر کرتی بولی تھی جبکہ عباس اس کی بات پر ہنوز مسکرا رہا تھا
” مجھے یقین ہے آپ میری فراخ دلی کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گی ۔۔ “
حُرّہ کو دیکھتے ہوئے وہ شرارت سے بولا تھا مگر حُرّہ کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ہمت مجتمع کرتے ہوئے حُرّہ نے لبوں پر زبان پھیری
” آآ آپ ۔۔ !!”
ایک لفظ بول کر حُرّہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی
” ہممم ؟؟؟”
” آآ آپ نن نورے سے شش شادی کر لیں ۔۔ !”
سر اور آنکھیں جھکائے وہ اٹکتے ہوئے مدھم آواز میں بولی تو یکدم عباس کے چہرے کے تاثرات بے حد سنجیدہ ہوئے پھر ماتھے پر بل پڑے
” کیا بول رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟”
عباس کو لگا شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے تبھی بے حد سنجیدگی سے پوچھنے لگا
” آآ آپ نن نورے سے شش شادی ۔۔ “
اس سے زیادہ وہ بول نہیں پائی تھی عباس نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا
” اگر آپ کو یاد ہو حُرّہ تو میں نے کہا تھا آپ کو کہ میں نہیں چاہتا ہمارے درمیان اس موضوع پر کوئی بات ہو ۔۔ ؟؟”
آواز دھیمی تھی مگر لہجہ سرد تھا حُرّہ نے بے اختیار جھرجھری لی
” سارے مسائل کا حل ہے یہ ۔۔ “
وہ ہمت کر کے بولی تھی مگر یہ بولتے ہوئے اس کے دل میں کس قدر بےچینی ہوئی تھی یہ وہی جانتی تھی
” ایک اچھی بیوی کی طرح آپ نے مجھے مشورہ دیا میں اس بات کی قدر کرتا ہوں ۔۔ مگر میں پھر بھی یہیں کہوں گا حُرّہ کہ آئندہ میں آپ کی زبان سے یہ بات نہ سنوں ۔۔ !”
عباس کا چہرہ سپاٹ اور لہجہ ہنوز سرد تھا مگر آواز دھیمی تھی
” مم میں سچ میں کہہ رہی ہوں ۔۔ “
وہ اس مرتبہ ماتھے پر بل ڈالے بولی تھی
” میں بھی سچ میں کہہ رہا ہوں ۔۔ !”
اس مرتبہ وہ لہجے میں نرمی لیے بولا تھا
” آپ سمجھ نہیں رہے ۔۔ “
آنکھوں میں اتری نمی کو پلکیں جھپک کر چھپاتے ہوئے وہ بولی تھی
” کیا نہیں سمجھ رہا ۔۔ ؟”
ہنوز نرمی سے پوچھا گیا
” نورے آپ سے ۔۔ !”
وہ دھیرے سے بولتے ہوئے خاموش ہو گئی
” آپ اپنی بات کریں ۔۔ !”
لہجے میں نرمی تھی مگر انداز حاکمانہ تھا
” مم میں چاہتی ہوں آپ نورے سے شادی کر لیں ۔۔ “
وہ نگاہیں چرائے بولی تھی
” میں نے کہا آپ اپنی بات کریں ۔۔ !”
حُرّہ کی ہٹ دھرمی پر عباس نے لب بھینچے اور اپنی بات دہرائی
” مم میں ۔۔ دل سے کہہ رہی ہوں ۔۔ “
اس مرتبہ حُرّہ کی آواز بھیگ گئی
” میں بھی دل سے کہہ رہا ہوں ۔۔ “
” ایسے کرنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ؟”
حُرّہ نے اسے اپنی سمجھ کے مطابق قائل کرنے کی کوشش کی
” کیا گارنٹی ہے ۔۔ کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ؟؟”
عباس نے حُرّہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا
” بس میری بات مان لیں پلیز ۔۔ “
عباس کے نرم لہجے پر ہمیشہ حُرّہ کی ہمت بندھتی تھی وہ اس بار التجائیہ بولی
” حُرّہ میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں ۔۔ !”
طویل سانس لینے کے بعد عباس نے حُرّہ کو کرسی پر بیٹھایا اور خود فرش پر گٹنوں کے بل بیٹھ گیا حُرّہ نے سر ہلاتے ہوئے منتظر نگاہوں سے عباس کو دیکھا
” سوچیں جو آپ سوچ رہیں ہیں اگر ویسا ہو بھی گیا تو میں دو بیویوں میں انصاف نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ آپ صرف میری بیوی نہیں ہیں ۔۔ بلکہ میرے دل اور زندگی میں بے حد اہمیت رکھتی ہیں ۔۔ یہ کہہ لیں کہ میری محبوب بیوی ۔۔ جس کے لیے میرے دل میں بے حد گنجائش ہے ۔۔
حُرّہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔۔ میں نہیں جانتا کیا چیز مجھے آپ کی جانب کھینچتی ہے ۔۔ مگر آپ کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا اور یہ بات جانتا ہوں میں کہ آپ بھی مجھ سے محبت کرتیں ہیں اور اسی لیے آپ نے مجھے بانٹنے کا مشکل ترین فیصلہ کیا ہے ۔۔ مگر ایسا ممکن نہیں ۔۔ میرے دل میں نورے کے لیے کوئی جذبات نہیں ہیں ۔۔ میرا ان کے ساتھ گزارا مشکل ہے ۔۔ امید ہے یہ بات میں آخری مرتبہ آپ کو سمجھا رہا ہوں ۔۔ “
عباس اپنے مخصوص دھیمے انداز میں حُرّہ کو سمجھا رہا تھا
” حُرّہ نصیب ہم دونوں کا ساتھ جوڑا ہوا ہے ۔۔ ہمیں ایسے ہی ایک دوسرے کی زندگی میں شامل ہونا تھا ۔۔ چونکہ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اس لیے خدا پر ہر معاملہ چھوڑ دیں ۔۔ اور پلیز نورے کے لیے فکر مند نہ ہوں ۔۔ اس کے لیے اپنی مثال ہی لے لیں ۔۔ آپ ہر معاملے میں بے قصور تھیں بظاہر آپ کے ساتھ ظلم ہوا مگر خدا اپنے بندے کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا تبھی میرا دل آپ کی طرف پھیر دیا ۔۔ اسی طرح نورے بہت اچھی لڑکی ہیں تو پھر ان کے ساتھ ناانصافی تو نہیں نا کرے گا ۔۔ یقیناً کچھ بہترین ملے گا انہیں ۔۔ “
نہایت نرمی سے کہتے ہوئے وہ اب حُرّہ کی دونوں ہاتھوں کی پشت پر اپنے لب رکھ رہا تھا
” مجھے یقین ہےاب اس بارے میں مزید بات نہیں ہو گی ہماری ۔۔ !”
ہنوز خاموشی سے بیٹھی حُرّہ نے اثبات میں سر ہلایا وہ عباس کی باتوں سے کسی حد تک پرسکون ہوئی تھی ورنہ تو بار بار نورے کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا خیال آتا تھا جو اسے بےچین کر دیتا تھا
” ج جی ۔۔!”
ہلکا سا مسکرا کر وہ بولی تھی تو عباس نے بھی اسے مسکرا کر دیکھا اور خود اٹھنے کے بعد اسے بھی ہاتھ تھام کر کھڑا کیا
” آپ کو کسی بھی بات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جانم ۔۔ یہاں آپ سکون سے رہیں کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں ۔۔ ہمارے بےبی کا خیام رکھیں ۔۔ خوش رہیں ۔۔ “
حُرّہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھتا وہ مزید بولا تو حُرّہ نے بھینپ مٹانے کی غرض سے اسی کے سینے میں منہ چھپا لیا
” آپ کا ساتھ میری خوشی ہے سرکار ۔۔ آپ سے ملتی محبت میرے دل میں لگے زخموں کو بھر چکی ہے ۔۔ آپ کا لمس میرے وجود پر لگے زخموں کی دوا ثابت ہوا ۔۔ آپ کی مجھے دی جانے والی عزت مجھے دنیا کے سامنے سر اٹھا کر چلنے میں ہمت دیتی ہے ۔۔ میں دنیا کی خوش قسمت عورت ہوں جسے آپ جیسا ہمسفر ملا ۔۔ “
تھوڑی دیر بعد حُرّہ عباس کے سینے پر سر ٹکائے دھیمی آواز میں گویا ہوئی تو اس کے الفاظ سن کر عباس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور گہری ہوتی گئی
” بس اپنے میرے اور میرے بچے کے بارے میں سوچا کریں ۔۔مجھے ہیلدی بےبی چاہیے ۔۔ !”
محبت سے کہتے ہوئے عباس نے اسے خود میں بھینچ لیا
////////////////////////////
جاری ہے
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں
